اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 138

مجھے بھارت اور انڈیا میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

0
مجھے-بھارت-اور-انڈیا-میں-کوئی-فرق-نظر-نہیں-آتا-ہے:-ڈاکٹر-فاروق-عبداللہ

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ ہمارے آئین میں بھارت اور انڈیا دونوں نام درج ہیں اور مجھے ان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے۔ انہوں نے جی ٹونٹی کو ایک اچھا فورم قرار دیا اور کہا کہ یہ بیس ممالک اپنے مشکلات سامنے رکھ کر ان کا ازالہ تلاش کرتے ہیں۔

موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔انڈیا اور بھارت ناموں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘آپ آئین پڑھیں اس میں بھارت اور انڈیا دونوں لکھے ہیں اور مجھے ان دونوں ناموں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہوں’۔

جی ٹونٹی کو ایک اچھا فورم قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھا فورم ہے جو اپنے مشکلات سامنے رکھتے ہیں اور ان کا ازالہ تلاش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس باقی ممالک میں بھی ہوتا ہے اور اگلے سال اس کا اجلاس برازیل میں ہوگا۔لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل انتخابات کے بارے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ انتخابات اکتوبر میں منعقد ہوں گے۔

ون الیکشن ون نیشن کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘پارلیمنٹ میں دیکھیں گے کہ اس کا کیا ہوگا’۔

جی-20 سربراہی اجلاس: وزیراعظم 15 عالمی لیڈروں کے ساتھ کریں گے دو طرفہ ملاقات

0
جی-20-سربراہی-اجلاس:-وزیراعظم-15-عالمی-لیڈروں-کے-ساتھ-کریں-گے-دو-طرفہ-ملاقات

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی جی 20 چوٹی کانفرنس سے پہلے اور اس کے دوران عالمی لیڈروں کے ساتھ 15 دو طرفہ میٹنگیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم جمعہ کو اپنی لوک کلیان مارگ رہائش گاہ پر ماریشس، بنگلہ دیش اور امریکہ کے رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ میٹنگیں کریں گے، جو یہاں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔

جمعہ کو وزیراعظم جی 20 میٹنگ کے موقع پر برطانیہ، جاپان، جرمنی اور اٹلی کے لیڈروں سے دو طرفہ میٹنگ کریں گے۔ چوٹی کانفرنس کے آخری دن وزیر اعظم مودی فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے لنچ پر ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وزیراعظم کینیڈین رہنما سے بھی بات چیت کریں گے۔

وہ کوموروس، ترکی، متحدہ عرب امارات، جنوبی کوریا، یورپی یونین، برازیل اور نائیجیریا کے رہنماؤں کے ساتھ بھی دو طرفہ میٹنگیں کریں گے۔ واضح رہے کہ جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے عالمی رہنماؤں کے یہاں آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن جمعرات کو ہی یہاں پہنچ گئے تھے۔

خاتون نے روزگار کا مطالبہ کیا تو چندریان-4 میں بھیجنے کی بات کرنے لگے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر!

0
خاتون-نے-روزگار-کا-مطالبہ-کیا-تو-چندریان-4-میں-بھیجنے-کی-بات-کرنے-لگے-وزیر-اعلیٰ-منوہر-لال-کھٹر!

چنڈی گڑھ: ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے ’عوامی ڈائیلاگ پروگرام‘ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جو بات کی اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ حصار میں منعقدہ تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے روزگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے خاتون کو چندریان-4 پر بھیجنے کی بات کی۔ کھٹر اس ویڈیو کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں کی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حصار کے عوامی مکالمے کے پروگرام کے دوران ایک خاتون نے مطالبہ کیا کہ وہ یہاں ایک فیکٹری لگانے کی کوشش کریں تاکہ خواتین کام کر سکیں، انہیں روزگار ملے۔ خاتون کے بیان پر وزیر اعلیٰ کھٹر نے کہا کہ اگلی بار چندریان-4 چاند کے اوپر جائے گا، تمہیں اس میں بھیجیں گے! سی ایم کھٹر کا جواب سن کر وہاں موجود لوگ ہنسنے لگے۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ نے خاتون کو بٹھا دیا۔ وزیر اعلیٰ کھٹر کے اس بیان کی اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے کافی تنقید ہو رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ کھٹر کو عام آدمی پارٹی کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر ٹویٹ کر کے گھیرا گیا۔ ٹوئٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’اگلی بار چندریان جائے گا تو اس میں تمہیں بھیج دیں گے۔ شرم آتی ہے ایسے وزیر اعلیٰ پر، جنہیں عوام نے خدمت کے لیے منتخب کیا تھا آج وہی عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں مطالبہ اگر مودی جی کے ارب پتی دوستوں نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے کیا ہوتا تو کھٹر صاحب انہیں گلے لگا کر پوری حکومت کو ان کی خدمت میں لگا دیتے۔

ہریانہ کے عام آدمی پارٹی کے رہنما انوراگ ڈھانڈا نے بھی سی ایم کھٹر کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’’خاتون: فیکٹری لگوا دیجئے تاکہ ہمیں روزگار مل سکے۔ وزیر اعلیٰ کھٹر: اگلی بار چندریان-4 جائے گا تو اس میں اتم ک بھیجیں گے۔‘‘ واقعی یہ ہریانہ کی بدقسمتی ہے کہ یہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔

موہن بھاگوت پر لالو پرساد یادو کا حملہ، کہا ’وہ ریزرویشن کے خلاف ہیں‘

0
موہن-بھاگوت-پر-لالو-پرساد-یادو-کا-حملہ،-کہا-’وہ-ریزرویشن-کے-خلاف-ہیں‘

پٹنہ: راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ اور سابق مرکزی وزیر لالو پرساد نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ریزرویشن کے خلاف ہیں۔ لالو پرساد نے کہا ’’گرو گولوالکر نے اپنی کتاب ‘بنچ آف تھاٹ’ میں جو بھی ذکر کیا ہے، موہن بھاگوت اور نریندر مودی وہی کر رہے ہیں۔ وہ ریزرویشن کے خلاف ہیں۔‘‘

لالو پرساد نے جنم اشٹمی کے موقع پر بھگوان کرشن کی پوجا کرنے کے لیے جمعرات کی شام یہاں بانکے بہاری مندر کا دورہ کیا تھا۔

اپوزیشن کے انڈیا اتحاد پر انہوں نے کہا ’’ہم نے انڈیا اتحاد بنایا ہے اور ہم لوک سبھا انتخابات جیتیں گے۔ رام اور رحیم کے لیے بھگوان ایک ہے، بھگوان کرشن ہمارے بھگوان ہیں۔ میں بانکے بہاری مندر اور اسکان مندر میں گیا اور ملک میں امن کے لیے دعا کی۔ میں پیر کو شیو کی پوجا کرنے دیوگھر جا رہا ہوں۔‘‘

قبل ازیں، آر جے ڈی کے نائب صدر شیوانند تیواری نے بھی ریزرویشن معاملے پر بھاگوت کے ارادوں پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موہن بھاگوت ہی تھے جنہوں نے ملک میں ریزرویشن ختم کرنے کی وکالت کی تھی۔

جی-20 سربراہی اجلاس پر کورونا کا سایہ! جل بائیڈن کے بعد اسپین کے صدر متاثر

0
جی-20-سربراہی-اجلاس-پر-کورونا-کا-سایہ!-جل-بائیڈن-کے-بعد-اسپین-کے-صدر-متاثر

نئی دہلی: دہلی میں ہونے جا رہے جی-20 سربراہی اجلاس پر کورونا وائرس کا سایہ منڈلانے لگا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن کے کورونا مثبت پائے جانے کے بعد اب اسپین کے صدر پیڈرو سانچیز بھی کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں۔ اس کی جانکاری انہوں نے خود سوشل میڈیا پر دی ہے۔

سانچیز نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا ’’میں ٹھیک محسوس کر رہا ہوں لیکن میں ہندوستان کا دورہ نہیں کر سکوں گا۔ جی-20 سربراہی اجلاس میں اسپین کی نمائندگی قائم مقام نائب صدر نادیہ کالوینو اور وزیر خارجہ جوز مینوئل البیریس کریں گے۔‘‘

وہیں، امریکی صدر جو بائیڈن آج ہندوستان پہنچ رہے ہیں۔ بائیڈن کو اپنی اہلیہ جل کے ساتھ جی-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے 7 اگست کو دہلی آنا تھا لیکن اس سے پہلے جِل اور جو بائیڈن کا کووِڈ ٹیسٹ کیا گیا تھا، جس کی رپورٹ 5 اگست کو آئی تھی۔ جو بائیڈن کی رپورٹ منفی آئی لیکن جِل کی کووِڈ رپورٹ مثبت آئی۔ بائیڈن کے دفتر کے مطابق ان میں کورونا کی کوئی علامت نہیں ہے۔

جِل کورونا سے متاثر ہونے کے بعد اپنی ڈیلاویئر رہائش گاہ پر موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جو بائیڈن جی-20 اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان روانہ ہو گئے ہیں۔

موسم کا حال: مدھیہ پردیش، مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں موسلادھار بارش کا الرٹ

0
موسم-کا-حال:-مدھیہ-پردیش،-مہاراشٹر-سمیت-کئی-ریاستوں-میں-موسلادھار-بارش-کا-الرٹ

نئی دہلی: مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا اور گجرات میں اگلے تین دن تک موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دوسری جانب اگر مانسون کی صورتحال کی بات کریں تو محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق مانسون شمالی جزیرہ نما، وسطی اور مشرقی ہندوستان کی ریاستوں میں اگلے تین سے چار روز تک سرگرم رہے گا۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کے ان حصوں میں بارش کی سرگرمیاں نظر آئیں گی۔

محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں آج یعنی 08 ستمبر کو کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ آج نئی دہلی۔ دوسری جانب 09 اور 10 ستمبر کی بات کریں تو نئی دہلی کے علاقوں میں ہلکی بارش یا بوندا باندی دیکھی جا سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں آج کم سے کم درجہ حرارت 25 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ وہیں آج لکھنؤ میں ایک یا دو بار گرج چمک کے ساتھ بارش کی سرگرمیاں بھی دیکھی جائیں گی۔ غازی آباد کی بات کریں تو آج یہاں کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 34 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آج آسمان صاف رہے گا۔

موسم کی پیش گوئی کرنے والی ایجنسی اسکائی میٹ کے مطابق، ودربھ، کونکن اور گوا، کیرالہ، چھتیس گڑھ کے کچھ حصے، تلنگانہ، شمالی ساحلی آندھرا پردیش، لکشدیپ اور اڈیشہ میں کچھ مقامات پر موسلادھار بارش کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے۔ جبکہ بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، مشرقی اور وسطی اتر پردیش، مشرقی راجستھان، گجرات خطہ، مراٹھواڑہ، شمال مشرقی ہندوستان، ساحلی کرناٹک، شمالی داخلہ کرناٹک اور جزائر انڈمان اور نکوبار میں ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے۔ مغربی اتر پردیش، اتراکھنڈ، تمل ناڈو اور رائلسیما میں 1 یا 2 مقامات پر ہلکی بارش کا امکان ہے۔

ریزرویشن پر بھاگوت کا بیان آئین کی روح پر حملہ ہے: کانگریس

0
ریزرویشن-پر-بھاگوت-کا-بیان-آئین-کی-روح-پر-حملہ-ہے:-کانگریس

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے ریزرویشن پر بیان کے بعد کانگریس نے کہا کہ یہ آئین کی روح پر سیدھا حملہ ہے۔ ریزرویشن کو آئین میں بہت واضح مقام حاصل ہے۔

یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا ’’یہ بابا صاحب امبیڈکر کے لکھے ہوئے آئین کی روح پر حملہ ہے، جس میں ریزرویشن کے لیے بہت واضح مقام ہے۔ جب اسے چیلنج کیا گیا اور انہیں بتایا گیا، اس کے بعد یہ وضاحت دینے پر مجبور ہوئے لیکن ان کے دماغ میں ایک سازش چل رہی ہے اور یہ سازش آج سے نہیں چل رہی، یہ سازش اس وقت سے چل رہی ہے جب آئین لکھا جا رہا تھا۔‘‘

خیال رہے کہ بھاگوت نے مہاراشٹر کے ناگپور میں بدھ کو کہا تھا کہ جب تک سماج میں امتیازی سلوک موجود ہے، ریزرویشن جاری رہنا چاہیے۔ کھیڑا نے کہا، ’’یہ سب چیزیں انہوں نے اس ہفتے شروع کیں۔ یہ آئین کے فن تعمیر پر حملہ ہے، یہ ریزرویشن پر سیدھا حملہ ہے۔ پورا ملک سمجھ رہا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ آپ کو اور ہمیں یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ ‘بھارت’ اور ‘انڈیا’ کا یہ تنازع کیوں پیدا ہوا، حکومت کے دانشوروں کی طرف سے آرٹیکل کیوں لکھے جا رہے ہیں کہ آئین کو دوبارہ لکھا جائے، بنیادی ڈھانچے پر کیوں؟ آئین پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے رکن نے مزید کہا ’’وہ سب سے پہلے یہ بتائیں کہ وہ کون ہیں؟ انہیں ہر جگہ یہ کیوں کہنا پڑتا ہے؟‘‘

کانگریس لیڈر نے کہا، "پہلے انہیں اپنی تنظیم کو رجسٹر کرنا چاہیے۔ یہ ‘ایک خریدیں، ایک مفت پائیں’ کیا ہے؟ بی جے پی کو ووٹ دیں، آپ کو سنگھ مفت میں ملے گا۔ ایسا کیوں ہے؟‘‘

آر ایس ایس پر طنز کرتے ہوئے کھیڑا نے مزید کہا، ’’تقسیم ہند میں ایم ایس گولوالکر کا کیا کردار تھا؟ ہم بھاگوت کو مدعو کرتے ہیں کہ وہ آئیں اور بحث کریں کہ ان کے نظریاتی جد امجد بی ایس مونجے اور ہندو مہاسبھا کے کیا کردار تھے؟‘‘

انہوں نے کہا کہ 1942 کی ہندوستان چھوڑو تحریک کے بعد جب وہ حکومتوں کا حصہ بنے تو ان کا کیا کردار تھا، ملک کو بتایا جائے۔

کھیڑا نے کہا ’’آپ آج ہندوستان میں 15-16 فیصد مسلمانوں کو برداشت نہیں کر سکتے، وہ اکھنڈ بھارت میں 45 فیصد ہوں گے، پھر آپ کیا کریں گے؟ تو بغیر سوچے سمجھے بولنا ان کی پرانی عادت ہے۔ اکھنڈ بھارت پر رام مادھو کچھ اور کہتے ہیں، اکھنڈ بھارت پر آر ایس ایس خود منقسم ہے۔ آپ خود متحد نہیں ہیں تو ہندوستان کو متحد کیسے رکھیں گے؟ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نظریات کے لیے نہیں بلکہ پروپیگنڈے کے لیے جانا جاتا ہے۔

6 ریاستوں کی 7 اسمبلی سیٹوں پر گنتی شروع

0
6-ریاستوں-کی-7-اسمبلی-سیٹوں-پر-گنتی-شروع

6 ریاستوں کی 7 اسمبلی سیٹوں پر منگل کو ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج آج آ جائیں گے۔ ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے شروع ہو گئی ہے۔ ان انتخابات کے نتائج کو سال کے آخر میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ ’انڈیا‘ اتحاد لوک سبھا کے لئے ہے۔ منگل کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں زیادہ تر نشستوں پر بھاری ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔

تریپورہ کے سپاہیجالا ضلع میں، دھن پور میں 89.20 فیصد اور باکسن نگر حلقہ میں 83.92 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ مغربی بنگال کے دھوپگوری اور کیرالہ کے پوتھوپلی میں، ‘انڈیا’ کی اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہیں۔ دھوپگوری میں تقریباً 76 فیصد اور پوتھوپلی میں تقریباً 73 فیصد ووٹنگ ہوئی۔

یوپی کے گھوسی حلقے کے ضمنی انتخاب میں سماجوادی امیدوار کے خلاف کسی بھی حزب اختلاف کی پارٹی نے امیدوار کھڑا نہیں کیا ۔ گھوسی اور جھارکھنڈ کے ڈمری میں صرف 50.30 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی جہاں کل 2.98 لاکھ ووٹروں میں سے 64.84 فیصد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اتراکھنڈ کے باگیشور میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہوا جہاں 55.44 فیصد ووٹنگ ہوئی۔

گھوسی سیٹ 2022 کے اسمبلی انتخابات کے دوران ایس پی کے ٹکٹ پر جیتنے والے او بی سی (دیگر پسماندہ طبقات) کے ایک ممتاز رہنما دارا سنگھ چوہان کی وجہ سے خالی ہوئی ہے، جو حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہوئے اور پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے دارا چوہان کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ ایس پی نے سدھاکر سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ گھوسی اسمبلی حلقہ کا ضمنی انتخاب اپوزیشن جماعتوں کے گروپ ‘انڈیا’ کے قیام کے بعد ریاست میں ہونے والا پہلا انتخاب ہے، اس لیے اسے اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کی ریہرسل کے طور پر بھی سمجھا جا رہا ہے۔ بی ایس پی نے اس الیکشن میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے۔ کل 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

ڈمری اسمبلی سیٹ پر اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ کی امیدوار بے بی دیوی کا براہ راست مقابلہ این ڈی اے کی امیدوار یشودا دیوی سے ہے۔ جے ایم ایم کے دعوےکے ساتھ کہ ‘انڈیا’ اپنی فتح کا سفر ڈمری سے شروع کرے گا، یہ سیٹ دونوں اتحادوں کے لیے وقار کا مسئلہ بن گئی ہے۔

این ڈی اے نے یقین ظاہر کیا ہے کہ یہ سیٹ جے ایم ایم سے چھیننے کے لیے تیار ہے۔ اپریل میں سابق وزیر تعلیم اور جے ایم ایم کے ایم ایل اے جگرناتھ مہتو کی موت کے بعد اس سیٹ پر ضمنی انتخاب کرانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ مہتو 2004 سے اس سیٹ کی نمائندگی کر رہے تھے۔

اس سال اپریل میں کابینہ کے وزیر چندن رام داس کی بیماری کی وجہ سے موت ہو جانے کی وجہ سے اس سیٹ پر ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ ضمنی انتخاب میں ریاست میں دو سیاسی جماعتوں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ بی جے پی نے چندن رام داس کی اہلیہ پاروتی داس کو جبکہ کانگریس نے بسنت کمار کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ کچھ دوسری جماعتوں نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

بھارت میں جی 20 کے انعقاد پر وزیر اعظم مودی کا بلاگ

0
بھارت-میں-جی-20-کے-انعقاد-پر-وزیر-اعظم-مودی-کا-بلاگ

دنیا کے اہم بیس ملکوں کے گروپ جی 20 کے سربراہی اجلاس شروع ہونے سے قبل، جس میں عالمی رہنما دنیا کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، میزبان بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے میٹنگ کے حوالے سے اپنے عزائم اور مقاصد کے متعلق ایک بلاگ تحریر کیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ بھارت کی جی 20 کی صدارت کس طرح عالم انسانیت پر مرکوز اپروچ پر مبنی ہے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جاسکے کہ گلوبلائزیشن کے فوائد آخری فرد تک پہنچ سکیں۔

انہوں نے لکھا، "ایک زمین کے باسی کے طورپر ہم اپنے سیارہ کو بہتر بنانے کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔ ایک خاندان کے طورپرہم ترقی کی جستجو میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ اور ہم ساتھ مل کر ایک مشترکہ مستقبل کی طرف بڑھتے ہیں۔ ایک مستقبل، جو اس باہم مربوط زمانے کی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔”

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے دنیا کو، کیا نہیں کرنا ہے جیسے، سخت پابندی والے رویے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لکھا، "ہم سمجھتے ہیں کہ کیا نہیں کیا جانا چاہئے، جیسے سخت پابندی والے رویے سے ہٹ کر ایک ایسے زیادہ تعمیراتی رویہ کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے، جس میں موسمیاتی تبدیلی کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے پر توجہ مرکوز کی جائے۔”

نئی دہلی جی 20 سربراہی اجلاس کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنا رہا ہے۔ اس اجلاس میں عالمی رہنما عالمی سیاسی کشیدگیوں، اقتصادی سست رفتاری اور خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کی فہرست میں امریکی صدر جو بائیڈن، برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سمیت متعدد عالمی رہنما شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب بھارت دنیا بھر کے رہنماوں کے اتنے طاقت ور گروپ کی میزبانی کررہا ہے۔ مودی نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ یہ بھارت کے لیے صرف ایک اعلیٰ سطحی سفارتی کوشش نہیں ہے بلکہ ملک کے تنوع کو ظاہر کرنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔”

انہوں نے لکھا، "بھارت کے لیے جی 20کی صدارت صرف ایک اعلیٰ سطحی سفارتی کوشش نہیں ہے۔ جمہوریت کی ماں اور تنوع کی مثال کے طورپر ہم نے اس تجربے کے دروازے دنیا کے لیے کھول دیے ہیں۔”

وزیر اعظم مودی نے لکھا،” آج کسی بھی چیز کو بہت وسیع پیمانے پر انجام دینا ایک خوبی ہے، اور بھارت اس خوبی سے مزیّن ہے۔ جی 20 کی صدارت بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہے۔ یہ ایک عوامی تحریک بن چکی ہے۔ ہماری صدارت کی مدت کے اختتام تک بھارت کے طول و عرض میں 60شہروں میں 200سے زائد میٹنگوں کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں دنیا کے 125ملکوں سے تقریباً ایک لاکھ مندوبین کی میزبانی کی جائے گی۔ جی 20کی صدارت حاصل کرنے والے کسی بھی ملک نے اب تک اس قدر وسیع اور متنوع جغرافیائی وسعت کا احاطہ نہیں کیا ہے۔”

منی پور حقوق انسانی کمیشن نے ریاستی حکومت کو بھیجا نوٹس

0
منی-پور-حقوق-انسانی-کمیشن-نے-ریاستی-حکومت-کو-بھیجا-نوٹس

منی پور حقوق انسانی کمیشن نے مبینہ طور پر ریاستی افسران کے ذریعہ حال ہی میں امپھال سے کوکی طبقہ کے کنبوں کو جبراً دوسری جگہ منتقل کیے جانے کے خلاف از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ کمیشن کے ذرائع نے جمعرات کو کہا کہ کمیشن کے سربراہ جسٹس اتپلیندو بکاس ساہا اور رکن کے کے سنگھ نے حالیہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔

منی پور حقوق انسانی کمیشن نے چیف سکریٹری، کمشنر (داخلہ)، پولیس ڈائریکٹر جنرل اور امپھال مشرقی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس بھیج کر میڈیا رپورٹ میں تفصیلی جانکاری سے متعلق ایک اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حقوق انسانی کمیشن نے کہا ہے کہ ’’مدعا علیہ 3 اکتوبر کو یا اس سے پہلے اسٹیٹس رپورٹ پیش کریں گے۔ منی پور حکومت کے کمشنر (داخلہ) ان کوکی کنبوں کے گھروں کی سیکورٹی کے لیے ڈی جی پی کو ہدایت دیں گے جنھیں مبینہ طور پر امپھال وادی سے جبراً منتقل کر دیا گیا ہے۔ سیکورٹی تب تک دی جائے گی جب تک کہ اپنے دم پر ریاستی حکومت کے ذریعہ امپھال میں ان کی بازآبادکاری نہیں ہو جاتی۔‘‘

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں نصف شب کے بعد ایک فوری آپریشن میں منی پور حکومت نے امپھال کے وسط میں رہنے والے آخری بقیہ کوکی کنبوں کو نکالا، جنھوں نے لگاتار دھمکیوں اور بڑھتے فرقہ وارانہ تشدد کے سامنے بے پناہ بہادری دکھائی تھی اور گزشتہ چار ماہ سے نیو لامبولین علاقے میں اپنے گھروں میں ٹکے ہوئے تھے۔

اس ہفتہ کے شروع میں کانگریس لیڈر پی چدمبرم کے ذریعہ اس معاملے کو اٹھانے پر منی پور کے بی جے پی رکن اسمبلی راج کمار ایمو سنگھ نے ان کی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ریاست کے اصل ایشوز کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ ’’امپھال میں آخری پانچ کوکی کنبوں کو افسران نے جبراً ان کے گھروں سے نکال دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ میتئی اثرات والی امپھال وادی میں نسلی صفایہ پورا ہو گیا ہے۔ ایک ریاستی حکومت ’نسلی صفایہ‘ کی قیادت کرتی ہے اور مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ریاست کی حکومت آئین کے مطابق چل رہی ہے۔ اس واقعہ سے زیادہ شرمناک کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ ہندوستان کی انارکی کی طرف گراوٹ کی نئی ذیلی سطح ہے۔‘‘

چدمبرم کے تبصروں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایمو سنگھ نے کہا تھا کہ ’’یکطرفہ نمائندگی کبھی بھی کسی مسئلہ کا حل نہیں کر سکتا ہے، اور کسی کو حقیقت پر مبنی اور پوری کہانی بتانے کے لیے ضروری ہمت رکھنی چاہیے اور کانگریس کے ایک تجربہ کار سیاسی لیڈر کے ایسے بیان یقینی طور سے مناسب نہیں ہیں۔‘‘