ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 120

تمل ناڈو اور تلنگانہ میں 31 مقامات پر این آئی اے کی چھاپہ ماری، قابل اعتراض مواد برآمد

0
تمل-ناڈو-اور-تلنگانہ-میں-31-مقامات-پر-این-آئی-اے-کی-چھاپہ-ماری،-قابل-اعتراض-مواد-برآمد

جنوبی ہند کی ریاستوں تمل ناڈو اور تلنگانہ میں این آئی اے نے آج 31 مقامات پر چھاپہ ماری کی۔ اس چھاپہ ماری میں دہشت گردی سے متعلق قابل اعتراض مواد برآمد ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس سے متاثر بھرتی مہموں کو ناکام کرنے کے لیے جانچ ایجنسی نے یہ چھاپہ ماری کی تھی۔ چھاپہ ماری کے دوران برآمد مواد سے پتہ چلتا ہے کہ آئی ایس آئی ایس ہندوستان بھی معصوم نوجوانوں کو گمراہ کر انھیں کٹر پسندی کے راستے پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

این آئی اے کے مطابق آئی ایس آئی ایس کی بھرتی مہم اور اس کے مستقبل کے منصوبوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہفتہ کے روز تمل ناڈو اور تلنگانہ میں 31 مقامات پر چھاپہ ماری کی گئی۔ چھاپہ ماری میں ملکی و غیر ملکی کرنسی کے ساتھ ساتھ کئی ڈیجیٹل اشیا اور دستاویزات برآمد کیے گئے ہیں۔ دہشت گردی مخالف ایجنسی نے تمل ناڈو اور تلنگانہ میں موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک برآمد کی ہے۔ اس میں موجودہ ڈاٹا کی جانچ کی جا رہی ہے۔ تلاشی کے دوران ہندوستانی کرنسی میں 60 لاکھ روپے اور 18200 امریکی ڈالر کے علاوہ مقامی اور عربی زبانوں میں کئی قابل اعتراض کتابیں بھی ضبط کی گئی ہیں۔

موصولہ خبروں کے مطابق کوئمبٹور میں 22 مقامات پر، چنئی میں 3 مقامات پر اور تمل ناڈو کے تینکاسی ضلع کے کدیانلور میں ایک مقام پر چھاپہ ماری کی گئی ہے۔ دیگر پانچ مقامات پر تلنگانہ ریاست کے حیدر آباد/سائبر آباد میں چھاپے مارے گئے ہیں۔ این آئی اے چنئی کے ذریعہ آئی پی سی کی دفعہ 120 بی، 121 اے اور غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) ایکٹ، 1967 کی دفعہ 13، 18، 18 بی کے تحت درج معاملے کے تحت یہ کارروائی ہوئی ہے۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں مرکزی حکومت پر خوب برسے ملکارجن کھڑگے

0
کانگریس-ورکنگ-کمیٹی-کی-میٹنگ-میں-مرکزی-حکومت-پر-خوب-برسے-ملکارجن-کھڑگے

حیدر آباد میں آج نوتشکیل کانگریس ورکنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو پرزور انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس صدر نے جی-20 کے انعقاد پر ہوئے خرچ کو لے کر سوال اٹھائے اور ساتھ ہی کہا کہ ’’روٹیشن کے طور پر ملی جی-20 کی صدارت سے متعلق تقریب میں 4 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے اور اب روٹیشن سے اس کی صدارت برازیل کو مل چکی ہے۔‘‘

کانگریس صدر نے اپوزیشن لیڈران کے خلاف مرکزی جانچ ایجنسیوں کے ذریعہ کی جا رہی کارروائی پر بھی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ انڈیا اتحاد کی میٹنگوں کی کامیابی کے بعد حکومت نے جانچ ایجنسیوں کو اپوزیشن پارٹیوں سے بدلہ لینے کے لیے لگا دیا ہے۔ اس کے علاوہ کھڑگے نے کہا کہ منی پور اور نوح کے واقعہ سے ملک کی شبیہ پر داغ لگا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’منی پور کے دل دہلا دینے والے واقعہ کو پوری دنیا نے دیکھا۔ وہاں 3 مئی 2023 سے لے کر آج تک تشدد جاری ہے۔ منی پور کی آگ کو مودی حکومت نے ہریانہ میں نوح تک پہنچنے دیا۔ یہاں تشدد کی وارداتیں ہوئیں، جس وجہ سے راجستھان، اتر پردیش اور دہلی میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلی۔‘‘

ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت پر ڈاٹا میں ہیرا پھیری کا بھی الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت ڈاٹا کی ہیرا پھیری کر رہی ہے۔ 2021 کا مردم شماری نہ کرانے سے 14 کروڑ لوگ فوڈ سیکورٹی ایکٹ سے اور تقریباً 18 فیصد لوگ منریگا سے باہر ہو گئے ہیں۔ منریگا کی مزدوری مہینوں زیر التوا رہتی ہے۔‘‘ ذات پر مبنی مردم شماری کرائے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے کہ 2021 مردم شماری کا عمل فوراً شروع کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ذات پر مبنی مردم شماری بھی کرائی جائے تاکہ سماج کے ضرورت طبقہ کو صحت، تعلیم، ملازمت اور فوڈ سیکورٹی سمیت دوسرے حقوق مل سکیں۔‘‘

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران پارٹی صدر کھڑگے نے مرکزی حکومت پر کئی سخت الزامات عائد کیے۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد بنی ملک کی بیش قیمتی پی ایس یو کو مودی حکومت چند سرمایہ کار متروں کے حوالے کر رہی ہے، ان کے فائدے کے لیے پالیسیاں بدلی جا رہی ہیں اور ان کے حق میں قانون بن رہے ہیں۔ کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ دنوں پی ایم کے قریبی کاروباری کی کمپنیوں میں 20 ہزار کروڑ روپے کی شیل کمپنیوں کے ذریعہ سرمایہ کاری ہوئی۔ اس کا پردہ فاش ہونے پر بھی مودی حکومت جانچ نہیں کرا رہی ہے۔ سارے بڑے گھوٹالوں پر حکومت خاموش ہے اور پردہ ڈال رہی ہے۔

کھڑگے کا کہنا ہے کہ جب بھی اپوزیشن پارٹیاں بنیادی مسائل کو اٹھاتی ہیں تو حکومت جواب دینے کی جگہ نئے نئے ہتھکنڈے اپناتے ہوئے نئے خود کفیل ہندوستان، 5 ٹریلین اکونومی، نیو انڈیا 2022 اور امرت کال کا نعرہ دیتی ہے۔ آج کل سرکار تیسری سب سے بڑی معیشت کا خواب فروخت کر رہی ہے۔ ان نعروں سے ملک کی ترقی نہیں ہوگی۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ’’ہمیں عوام کو سمجھانا ہوگا کہ یہ ناکامیوں کو چھپانے والے نعرے ہیں۔ حکومت سوچتی ہے کہ ایونٹ اور اشتہار پر کروڑوں روپے خرچ کر ہمالیہ جیسی ناکامیوں کو وہ چھپا لے گی۔‘‘

انڈیا اتحاد کا تذکرہ کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’وزیر اعظم اور بی جے پی لیڈروں کے حملوں سے ہمارے انڈیا اتحاد کی 3 میٹنگوں کی کامیابی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارا کارواں جیسے جیسے آگے بڑھے گا، ان کے حملے تیز ہوں گے۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں کہ ’’ممبئی میں ہوئی میٹنگ کے بعد ای ڈی، آئی ٹی، سی بی آئی کو حکومت نے اپوزیشن لیڈروں سے سیاسی بدلہ لینے کے لیے لگا دیا ہے۔ یہ صحت مند جمہوریت کے جذبہ کے خلاف ہے، لیکن افسوس کہ یہی حقیتق ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی چھتیس گڑھ آئے اور جھوٹ بول کر چلے گئے: بھوپیش بگھیل

0
وزیر-اعظم-مودی-چھتیس-گڑھ-آئے-اور-جھوٹ-بول-کر-چلے-گئے:-بھوپیش-بگھیل

رائے پور: چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل حیدرآباد کا دو روزہ دورہ کرنے جا رہے ہیں، جہاں وہ نوتشکیل شدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے حیدرآباد روانگی سے قبل میڈیا سے بات کی۔ اس دوران انہوں نے اپنے دورے کے بارے میں جانکاری دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پی ایم مودی اور بی جے پی پر بھی حملہ کیا اور کہا کہ پی ایم مودی نے یہاں آکر جھوٹ بولا۔ انہوں نے رائے پور میں جھوٹ بولا کہ وہ چاول خریدتے ہیں جبکہ چاول چھتیس گڑھ حکومت خریدتی ہے۔

سی ایم بگھیل نے ’گئودھن نیائے یوجنا‘ کو لے کر بھگی پی ایم کو نشانہ بنایا۔ سی ایم بگھیل نے کہا، ’’مودی یہاں آئے اور جھوٹ بول کر چلے گئے۔ ہم نے 265 کروڑ روپے کا گوبر خریدا ہے اور وہ 1300 کروڑ روپے کا الزام لگا رہے ہیں۔ جبکہ پی ایم مودی نے کئی پلیٹ فارمز پر ہماری اسکیم کی تعریف کی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’نیتی آیوگ کی میٹنگ میں بھی ہمارے منصوبے کی تعریف کی گئی تھی۔ وہ صرف الزامات لگا رہے ہیں۔ وہ یہ سب اڈانی کے لیے کرنے آئے ہیں۔ وزیر اعظم جیسے باوقار عہدے پر بیٹھے ہیں اور جھوٹ بول کر چلے جائیں تو اس پر حیرت ہوتی ہے۔‘‘

سی ایم بھوپیش بگھیل نے کہا ’’بی جے پی کو چھتیس گڑھ اور چھتیس گڑھ کے لوگوں سے مسئلہ ہے۔ انہوں نے اپنے رتھ پر مجبوری میں چھتیس گڑھ مہتاری کی تصویر لگائی ہے لیکن جہاں سیڑھیاں چڑھتے ہیں وہاں کی تصویر لگائی ہے۔ عادت سے باز نہیں آ رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ چھتیس گڑھ کے لوگوں کو اپنے پیروں تلے روندتے رہے ہیں۔‘‘

منی پور تشدد: مختلف اسپتالوں میں 96 لاشیں اب بھی لاوارث پڑی ہیں!

0
منی-پور-تشدد:-مختلف-اسپتالوں-میں-96-لاشیں-اب-بھی-لاوارث-پڑی-ہیں!

منی پور تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد 175 تک پہنچ گئی ہے اور سینکڑوں افراد رواں سال مئی ماہ میں شروع ہوئے اس تشدد میں زخمی ہوئے ہیں۔ تشدد شروع ہونے کے تقریباً ساڑھے چار ماہ بعد بھی حالات قابو میں نہیں ہیں۔ رہ رہ کر تشدد کے واقعات سامنے آتے ہیں اور ہلاکتوں و زخمیوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ منی پور کے اسپتالوں میں 96 ایسی لاشیں رکھی ہوئی ہیں جنھیں لینے کے لیے ابھی تک کوئی نہیں آیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق راجدھانی امپھال میں دو اسپتال اور تشدد متاثرہ چراچندپور کے ایک اسپتال میں لاشوں کو رکھا گیا ہے۔ ان تین اسپتالوں مین مجموعی طور پر 96 لاوارث لاشیں رکھی ہوئی ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیشتر لاوارث لاشیں پہاڑی ضلعوں میں رہنے والے لوگوں کی ہیں۔ ایسا اس لیے کہا جا رہا ہے کیونکہ پہاڑی علاقوں سے بہت کم لوگ اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی تلاش میں امپھال وادی، چراچندپور یا اکثریتی میتئی طبقہ کے علاقوں میں آئے ہوں گے۔ دراصل پہاڑی علاقوں میں رہنے والے بیشتر لوگ کوکی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ وادی والے علاقے سے خوف کھاتے ہیں، انھیں لگتا ہے کہ کہیں ان کے خلاف بدلے کی کارروائی نہ ہو۔

قبائل طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ 4 مئی کو امپھال میں اس کی بیٹی کا قتل کر دیا گیا۔ اس کی لاش امپھال کے اسپتال میں موجود ہے، لیکن وہ لاش لینے نہیں جا رہا کیونکہ سفر سے ڈر لگ رہا ہے۔ سائیکول میں موجود ایک راحتی کیمپ میں مقیم متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی اور اس کی سہیلی کی لاش سونپنے کے لیے حکومت سے کئی بار درخواست کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ امپھال نہیں جا سکتا ور اب بھی اپنی بیٹی کی لاش ملنے کا انتظار کر رہا ہے۔

بہرحال، بتایا جاتا ہے کہ لاوارث لاشوں میں سے 28 امپھال کے ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں اور 26 امپھال کے ہی جواہر لال نہرو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں رکھی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ باقی 42 لاوارث لاشیں چراچندپور ڈسٹرکٹ اسپتال میں رکھی ہوئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مئی میں شروع ہوئے اس تشدد میں اب تک 1108 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ لاپتہ ہوئے لوگوں کی تعداد 32 ہے۔

اس بار ٹوٹ گئے اعظم خان، آئی ٹی کے چھاپے کے بعد تڑپ کر روئے!

0
اس-بار-ٹوٹ-گئے-اعظم-خان،-آئی-ٹی-کے-چھاپے-کے-بعد-تڑپ-کر-روئے!

رام پور: محمد علی جوہر ٹرسٹ کو لے کر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے تین دن تک جاری رہنے والے چھاپے نے سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر اعظم خان کو بری طرح توڑ کر رکھ دیا ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ اعظم خان اپنے اہل خانہ اور صحافیوں کے سامنے زار و قطار رو پڑے۔ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی سے وابستہ ٹرسٹ کے ارکان سمیت اعظم خان کے قریبی رشتہ داروں کے یہاں تین دن تک جاری رہنے والے اس چھاپے میں مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم برآمد ہوئی، جبکہ ان پر 800 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا الزام بھی عائد کر دیا گیا۔ جیل سے باہر آنے کے بعد اعظم خان کے لیے یہ ایک مشکل وقت نظر آتا ہے۔

جنتا پارٹی سیکولر کے ٹکٹ پر 1980 میں رام پور سے ایم ایل اے منتخب ہو کر پہلی بار اسمبلی میں پہنچنے والے اعظم خان اس سے زیادہ مشکل دور میں کبھی نہیں گزرے۔ وہ اتر پردیش حکومت میں چار بار وزیر، 9 بار ایم ایل اے اور راجیہ سبھا کے رکن بھی بنے لیکن 2019 میں رام پور سے ایم پی بننے کے بعد انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اعظم خان نے مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) سے ایل ایل بی کرنے کے بعد زمانہ طالب علمی سے سیاست کا آغاز کیا۔ وہ ایم ایم یو میں اسٹوڈنٹس یونین کے جنرل سکریٹری بنے، جس کے بعد وہ 1976 میں جنتا پارٹی میں شامل ہوئے اور 1977 میں رام پور سے اسمبلی الیکشن لڑا لیکن ہار گئے۔

چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے رام پور کی سیاست پر یکطرفہ طور پر غلبہ حاصل کرنے والے اعظم خان کے لیے یہ پہلا موقع ہے جب ان کے خاندان کا کوئی فرد ایوان کا رکن نہیں ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہیں سپر سی ایم کہا جاتا تھا لیکن آج وہ کسی ایوان کے رکن تک نہیں ہیں اور اب ان سے ان کا خواب جوہر یونیورسٹی بھی چھینی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری اعظم خان نفرت انگیز تقریر کیس میں تین سال سے زیادہ کی سزا سنائے جانے کے بعد رکن اسمبلی کا عہدہ کھو چکے ہیں، جس کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں ضمنی انتخاب کرایا گیا تھا۔ انہیں اب تک رام پور کورٹ نے دو معاملوں میں مجرم قرار دیا ہے لیکن ایک کیس میں سیشن کورٹ نے انہیں بری کر دیا۔ یوپی حکومت اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں چھجلیٹ معاملہ میں مرادآباد کی عدالت نے بھی مجرم قرار دیا ہے اور دو سال کی سزا سنائی ہے۔ فی الحال کئی مقدمات کی سماعت آخری مراحل میں ہے۔ ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کی اسمبلی کی رکنیت بھی دو بار منسوخ کی جا چکی ہے۔

انکم ٹیکس کی تازہ چھاپہ ماری کے بعد اعظم خان کو اپنا جوہر یونیورسٹی کا خواب بکھرتا ہوا محسوس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ڈیری کی بھینسوں کا دودھ بیچ کر گزارا کر رہے ہیں اور ان پر جو ظلم کیا جا رہا ہے وہ اب حد سے پار ہو چکا ہے۔ ان کی ہمت ٹوٹ رہی ہے اور صبر جواب دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد غریبوں، کمزوروں اور اقلیتی برادری کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنا تھا لیکن کوئی چاہتا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے قابل نہ رہے۔

خیال رہے کہ ایس پی لیڈر اعظم خان کے گھر پر آئی ٹی کا چھاپہ 60 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران ان کے گھر، جوہر یونیورسٹی، ہمسفر ریزورٹ، ایس پی ایم ایل اے نصیر خان کے گھر اور فارم ہاؤس، ادیب اعظم کے شو روم، ڈی سی بی کے سابق چیئرمین سلیم قاسم اور ان کے کئی قریبی رشتہ داروں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ صرف اتنا ہی نہیں سہارنپور میں ان کے قریبی سی اے کے کاغذات کی بھی تلاشی لی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ جب یہ آئی ٹی ٹیم واپس گئی تو 25 بیگ اپنے ساتھ لے گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ان تمام تھیلوں میں دستاویزات ہیں جن میں 15 سال پرانے کنٹریکٹ پیپرز شامل ہیں۔

چھاپے کے بعد اعظم خان نے کہا ہے کہ دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ 60 گھنٹوں میں کوئی ایسی چیز نہیں ملی جسے ضبط کیا جا سکے۔ مجھ سے ساڑھے تین ہزار روپے برآمد ہوئے، عبداللہ کے پاس 10 اور میری بیوی سے سوا تولہ کی انگوٹھی برآمد ہوئی ہے۔ میں نے یونیورسٹی کو کمزور طبقے کے لیے بنایا تھا، کیا اسے تعلیم کا مندر نہیں کہا جاتا؟

وَن نیشن، وَن الیکشن معاملے پر کمیٹی کی پہلی میٹنگ 23 ستمبر کو: رامناتھ کووند

0
وَن-نیشن،-وَن-الیکشن-معاملے-پر-کمیٹی-کی-پہلی-میٹنگ-23-ستمبر-کو:-رامناتھ-کووند

وَن نیشن، وَن الیکشن یعنی ایک ملک ایک انتخاب کو لے کر بنائی گئی کمیٹی کی پہلی باضابطہ میٹنگ ایک ہفتہ بعد یعنی 23 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کمیٹی کے چیئرمین رامناتھ کووند نے ایک میڈیا ادارہ سے بات چیت کرتے ہوئے جانکاری دی۔ سابق صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ کمیٹی کی پہلی میٹنگ 23 ستمبر 2023 کو ہوگی۔

قابل ذکر ہے کہ ایک ملک، ایک انتخاب کو لے کر سرگرمیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔ مرکزی حکومت نے سابق صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ایک ساتھ انتخاب کرانے کے لیے خاکہ طے کرے گی۔ کمیٹی میں چیئرمین کے علاوہ 7 اراکین کو شامل کیا گیا ہے جن کے نام ہیں امت شاہ، ادھیر رنجن چودھری، غلام نبی آزاد، این کے سنگھ، سبھاش کشیپ، ہریش سالوے اور سنجے کوٹھاری۔ حالانکہ ادھیر رنجن چودھری نے اس کمیٹی سے خود کو الگ کرنے کا پہلے ہی اعلان کر دیا ہے۔

اس درمیان انتخاب سے متعلق ایک اسٹڈی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے تینوں ٹائر یعنی لوک سبھا سے لے کر پنچایت سطح تک کا انتخاب کرانے میں مجموعی طور پر 10 لاکھ کروڑ روپے کا خرچ آ سکتا ہے۔ اگر سبھی انتخاب ایک ساتھ یا ایک ہفتہ کے اندر کرایا جائے تو اس خرچ میں 3 سے 5 لاکھ کروڑ روپے تک کی گراوٹ ہو سکتی ہے۔

کانگریس کے اعلیٰ قائدین سی ڈبلیو سی اجلاس میں شرکت کے لئے حیدرآباد پہنچے

0
کانگریس-کے-اعلیٰ-قائدین-سی-ڈبلیو-سی-اجلاس-میں-شرکت-کے-لئے-حیدرآباد-پہنچے

حیدرآباد: کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سمیت پارٹی کے سرکردہ رہنما کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے اجلاس میں شرکت کے لیے ہفتہ کو حیدرآباد پہنچے۔ سرکردہ رہنما ایک ساتھ شہر پہنچ گئے۔ یہاں سے وہ سیدھے تاج کرشنا ہوٹل پہنچے، جہاں سی ڈبلیو سی کی میٹنگ ہو رہی ہے۔

راجیو گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کی آمد پر ملکارجن کھڑگے اور گاندھی خاندان کا اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، تلنگانہ کے اے آئی سی سی انچارج مانیک راؤ ٹھاکرے، ریاستی کانگریس کے سربراہ ریونت ریڈی اور دیگر قائدین نے پرتپاک استقبال کیا۔

نو تشکیل شدہ سی ڈبلیو سی کی پہلی میٹنگ دوپہر کو شروع ہوئی۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے علاوہ تمام سی ڈبلیو سی ممبران میٹنگ میں شرکت کر رہے ہیں۔

اس میٹنگ میں پانچ ریاستوں بشمول تلنگانہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے پارٹی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ سی ڈبلیو سی اتوار کو پی سی سی کے تمام صدور اور سی ایل پی لیڈروں کے ساتھ ایک توسیعی میٹنگ کرے گی۔

اتوار کی شام حیدرآباد کے مضافات میں ایک میگا عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا جس سے پارٹی کے اعلیٰ قائدین خطاب کریں گے۔ پارٹی تلنگانہ کے لیے اپنی چھ ضمانتوں کا انکشاف کرے گی۔

اندور میں بارش نے مچائی تباہی، کئی بستیاں غرقاب، تیرتی نظر آئیں گاڑیاں

0
اندور-میں-بارش-نے-مچائی-تباہی،-کئی-بستیاں-غرقاب،-تیرتی-نظر-آئیں-گاڑیاں

مدھیہ پردیش کے ضلع اندور میں موسلادھار بارش کے بعد تباہی کا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کئی علاقوں میں تو ایک ہنگامے کا عالم برپا ہے اور لوگوں کو رات گزارنے کے لیے مناسب ٹھکانہ تک نصیب نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ہی دن میں 7 انچ پانی کی بارش ہوئی ہے جس سے ندی اور نالوں میں طغیانی بڑھ گئی ہے۔ سڑکیں بھی پوری طرح ڈوب چکی ہیں اور کچھ مقامات پر تو گاڑیاں پانی میں تیرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔

موصولہ اطلاع کے مطابق پاتال پانی اور چورل وغیرہ مقامات پر ندیاں خطرناک شکل اختیار کیے ہوئی ہیں۔ یشونت ساگر کے چار دروازے صبح ہی کھول دیے گئے ہیں۔ موسلادھار بارش کے سبب شہر کے سبھی تالاب پوری طرح بھر چکے ہیں۔ کھنڈوا روڈ پر نرمدا کا مورٹکا پل خطرے کو دیکھتے ہوئے بند کر دیا گیا ہے۔ تازہ بارش کو اس موسم کی سب سے تیز بارش بتایا جا رہا ہے۔ 24 گھنٹے میں 7 انچ بارش کے ساتھ شہر کی اس سیزن میں درکار بارش کا کوٹہ پورا ہو گیا ہے، لیکن مزید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 39 انچ سے زیادہ بارش ہو چکی ہے۔ یہ معمول سے 2 انچ زیادہ ہے۔ دوسری طرف دیپال پور میں ایک دن میں ریکارڈ 10 انچ بارش درج کی گئی ہے۔

اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ سپر کاریڈور پر ہفتہ کی صبح ایک منی بس پانی میں بہہ گئی۔ اس میں 15 افراد سوار تھے جنھیں بڑی مشکل سے بچایا جا سکا۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے کلکٹر ڈاکٹر الیا راجہ ٹی نے آج ضلع کے سبھی سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے موسلادھار بارش کا الرٹ جاری کر دیا ہے جس کے بعد سبھی ریسکیو ٹیمیں بھی الرٹ پر ہیں۔

اندور کی بیشتر بستیاں پوری طرح سے پانی میں ڈوب گئی ہیں اور حالات خوفناک دکھائی دے رہے ہیں۔ کلکٹر الیا راجہ بارش کے دوران لگاتار مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ میئر پشیہ متر بھارگو نے کارپوریشن کے اعلیٰ افسران اور سبھی زون کے افسران کو الرٹ پر رہنے کی ہدایت دے دی ہے۔ وہ خود بھی شہر میں دورے پر نکل گئے ہیں۔ کرشنا پوری چھتری والے علاقے میں سبھی جگہ نالے طغیانی پر ہیں۔ نالے کا پانی آس پاس کی چھوٹی بستیوں میں بھی گیس گیا ہے۔ شہر کی چھوٹی بستیوں کی حالت زیادہ خراب ہے۔ ایک مسجد میں تو اندر تک پانی بھر گیا ہے اور کئی گھروں میں بھی پانی داخل کر چکا ہے۔ اس درمیان انتظامیہ ضرورت مندوں کے درمیان فوڈ پیکٹ کی تقسیم کر رہی ہے۔ کئی ادارے بھی لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئے ہیں۔

شاہ رخ خان کی فلم ’ڈنکی‘ کرسمس کے موقع پر ریلیز ہوگی

0
شاہ-رخ-خان-کی-فلم-’ڈنکی‘-کرسمس-کے-موقع-پر-ریلیز-ہوگی

ممبئی: بالی ووڈ کے کنگ خان شاہ رخ خان کی فلم ڈنکی کرسمس کے موقع پر ریلیز ہو سکتی ہے۔ شاہ رخ خان کی اس سال پٹھان اور جوان جیسی سپرہٹ فلمیں ریلیز ہوئی ہیں۔ شاہ رخ کی اگلی فلم ڈنکی ہوگی۔ راج کمار ہیرانی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ڈنکی میں شاہ رخ کے ساتھ تاپسی پنو کا اہم کردار ہے۔

شاہ رخ خان نے کہا، ماشااللہ، بھگوان پٹھان کے ساتھ بہت مہربان رہے ہیں اور اس سے زیادہ جوان کے ساتھ۔ ہم نے 26 جنوری یوم جمہوریہ سے پٹھان کے ساتھ شروعات کی، پھر جنم اشٹمی کے موقع پر ہم نے فلم جوان ریلیز کی۔ اب نیا سال اور کرسمس آنے والا ہے، اس میں ہم ڈنکی لے کرآئیں گے۔ میں تمام مذاہب کو مانتا ہوں۔ ویسے بھی میری فلم جب ریلیز ہوتی ہے تو اس دن توعید ہوتی ہے۔ میں سخت محنت کر رہا ہوں، کافی دنوں سے بحث ہے کہ شاہ رخ خان کی ’ڈنکی‘ 22 دسمبر کو ریلیز ہو سکتی ہے۔

لکھنؤ میں مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی موت

0
لکھنؤ-میں-مکان-کی-چھت-گرنے-سے-ایک-ہی-خاندان-کے-پانچ-افراد-کی-موت

لکھنؤ: اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے عالم باغ علاقے میں ہفتہ کو ایک خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے تین بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی موت ہو گئی۔ حادثے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے متاثرہ خاندان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ آنند نگر علاقہ میں واقع ریلوے کالونی میں صبح 4 بجے سے 5 بجے کے درمیان ایک خستہ حال مکان کی چھت گر گئی۔ اس حادثے میں ستیش چندر (40)، ان کی بیوی سروجنی دیوی (35)، بیٹا ہرشیت (13)، انش (5) اور بیٹی ہرشیتا (10) ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر ڈپارٹمنٹ اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور راحت اور بچاؤ کام شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ملبے سے نکال کر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مکان ریلوے کے ایک ریٹائرڈ ملازم کا تھا اور اس کی موت کے بعد اس کا خاندان وہاں مقیم تھا۔ریلوے حکام کے مطابق مکان کو خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا تھا۔