ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 119

ہماچل میں آفت زدگان کے لیے وزیر اعلیٰ سکھو کا امدادی قدم

0
ہماچل-میں-آفت-زدگان-کے-لیے-وزیر-اعلیٰ-سکھو-کا-امدادی-قدم

شملہ: ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے ریاست میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آفت سے متاثرہ افراد کو مفت ایل پی جی کٹس اور راشن دیا جائے گا۔ مفت ایل پی جی کٹ میں دیگر چیزوں کے علاوہ ایک ایل پی جی سلنڈر، پریشر ریگولیٹر اور ایک ہاٹ پلیٹ شامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آفت سے متاثرہ خاندانوں تک بنیادی خوراک کی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مفت راشن کی فراہمی کو 31 مارچ 2024 تک بڑھا دیا جائے گا۔

اس آفت سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ ایسے میں بے گھر خاندانوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ایک اور امدادی قدم اٹھایا ہے۔ حکومت ان لوگوں کو مالی امداد فراہم کرے گی جو کیمپوں سے نکل کر کرائے کے مکانوں میں رہنا چاہتے ہیں۔ سی ایم سکھو نے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں کے لیے بالترتیب5000 روپے اور 10000 روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کا عمل شروع کی گئی ہیں۔

وزیر اعلی ہماچل آفت کو قومی آفت قرار دینے کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔ سی ایم سکھو نے کہا کہ وہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے پی ایم مودی کو لکھے اپنے خط میں آفت سے متاثرہ ریاست کی پرزور وکالت کی۔ ہماچل پردیش میں شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی کو 2013 کے کیدارناتھ سانحہ کی طرح قومی آفت قرار دینے کے لیے پی ایم مودی سے اپیل کرنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

ہماچل پردیش میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے تقریباً 12000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ سیلاب، بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے تقریباً 13000 مکانات کو نقصان پہنچا، قومی شاہراہوں اور سڑکوں پر نقل و حرکت متاثر ہوئی اور سرکاری و نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آفت کی وجہ سے کسانوں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے کیونکہ ریاست میں زرعی اراضی کا بڑا حصہ زیر آب آ گیا ہے۔

میکسیکو کی کانگریس میں خلائی مخلوق کی طرح دکھنے والی لاشوں کی نمائش، دنیا بھر کے لوگ تجسس میں مبتلا

0
میکسیکو-کی-کانگریس-میں-خلائی-مخلوق-کی-طرح-دکھنے-والی-لاشوں-کی-نمائش،-دنیا-بھر-کے-لوگ-تجسس-میں-مبتلا

میکسکو سٹی: میکسیکو کی گانگریس میں حال ہی میں خلائی مخلوق کی طرح نظر آنے والی دو لاشوں کی نمائش کی گئی جس سے دنیا بھر کے لوگ حران و ششدر رہ گئے۔ ماہرین کی جانب سے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ لاشیں ہزاروں سال پرانی ہیں جنہیں پیرو کے شہر کوسکو سے دریافت کیا گیا ہے۔ نمائش کے دوران سائنسدان اور امریکن فار سیف ایرو اسپیس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور امریکی بحریہ میں سابق پائلٹ ریان گریوز بھی موجود تھے۔

اس موقع پر صحافی جیمی موسسان نے امریکی حکام اور میکسیکو کے حکومتی اراکین کو کچھ ویڈیوز دکھائیں جس میں اجنبی لاشیں ملنے کا بھی انکشاف کیا گیا۔ انہوں نے گانگریس میں حلف لیتے ہوئے کہا کہ یہ لاشیں ہمارے زمینی ارتقا سے تعلق نہیں رکھتیں، یہ یو ایف او کے ملبے سے نہیں ملیں بلکہ قدیم سرنگوں سے دریافت ہوئی ہیں۔

برطانوی میڈیا ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق یوولوجسٹ نے ایسے دعوے کیے ہیں جو ابھی تک درست ثابت نہیں ہوئے، یہ بات قابل غور ہے کہ ماضی میں دریافتوں کے بارے میں ان کے کچھ پچھلے دعوے بعد میں غلط ثابت ہوئے تھے۔ جیمی موسسان نے مزید بتایا کہ میکسیکو کی خود مختار نیشنل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ان مبینہ لاشوں پر ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے ڈی این اے کا تجزیہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میکسیکن میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان لاشوں کے ڈی این اے کا تقریباً ایک تہائی حصہ ابھی تک معمہ ہے۔ سماعت کے دوران مبینہ لاشوں کے ایکسرے بھی پیش کیے گئے، ماہرین نے دعویٰ کیا کہ لاشوں میں سے ایک میں ’انڈے‘ موجود تھے، اس کا مطلب مبینہ طور پر اس اجنبی مخلوق میں جنم دینے کی صلاحیت ہے۔

اس کے علاوہ مبینہ طور پر ان لاشوں میں انتہائی غیر معمولی دھاتوں سے بنے امپلانٹس پائے گئے تھے، جیسا کہ اوسمیم جو ایک قسم کی نیلی سفید دھات ہے جو فاؤنٹین پین، سوئیاں اور الیکٹرک جیسی اشیاء کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ اس مبینہ دریافت کے بعد دنیا بھر کے لوگ تجسس میں مبتلا ہوگئے ہیں اور زمین سے باہر کی زندگی کے حوالے سے انسانی معلومات اور سمجھ سے معتلق کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

منموہن حکومت میں پیش ’خاتون ریزرویشن بل‘ آج بھی زندہ، اسے خصوصی اجلاس میں منظور کیا جائے: کانگریس

0
منموہن-حکومت-میں-پیش-’خاتون-ریزرویشن-بل‘-آج-بھی-زندہ،-اسے-خصوصی-اجلاس-میں-منظور-کیا-جائے:-کانگریس

حیدرآباد: کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران ایک قرارداد منظور کر کے مرکز کی مودی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خاتون ریزرویشن بل کو پارلیمنٹ سے منظور کرائے۔ پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے اتوار کو سی ڈبلیو سی اجلاس کے دوران منظور کی گئی قرارداد پر معلومات دیتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ کی حکومت میں جو بل پیش کیا گیا تھا وہ آج تک زندہ ہے، مودی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ پالیمنٹ کے آئندہ اجلاس کے دوران اسے منظور کرائے۔

حیدرآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران پون کھیڑا نے کہا کہ سال 1989 میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کو یقینی بنایا تھا۔ اس کے بعد کانگریس کی حکومتوں نے لگاتار کوشش کی کہ خواتین ریزرویشن کے لیے قانون سازی کی جائے۔ یہ بل کبھی راجیہ سبھا میں تو کبھی لوک سبھا میں منظور ہوا لیکن دونوں ایوان سے ایک ساتھ منظور نہیں کیا گیا۔

پھر یہ بل منموہن سنگھ کی حکومت میں آیا جو آج تک زندہ ہے۔سی ڈبلیو سی میٹنگ میں منظور کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خواتین کے ریزرویشن بل کو آئندہ خصوصی اجلاس میں منظور کیا جائے۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے بھی اس سلسلے میں وزیر اعظم کو خط بھی لکھا تھا۔

دریں اثنا، ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پون کھیڑا نے ذات پر مبنی ریزرویشن کی بھی حمایت کی اور کہا کہ اگر یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ کس ذات کی کتنی آبادی ہے تو لوگوں کو منصفانہ ریزرویشن کس طرح فراہم کیا جا سکتا ہے۔ پون کھیڑا نے کہا ’’راہل گاندھی کی کولار میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ریزرویشن کو لوگوں کی آبادی کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہئے۔ حکومت ذات پر مبنی ریزرویشن سے کیوں شرما رہی ہے؟‘‘

وزیر اعظم مودی کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر نائب صدر دھنکھڑ اور راہل گاندھی سمیت اہم شخصیات کی مبارکباد

0
وزیر-اعظم-مودی-کی-73ویں-سالگرہ-کے-موقع-پر-نائب-صدر-دھنکھڑ-اور-راہل-گاندھی-سمیت-اہم-شخصیات-کی-مبارکباد

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی سمیت متعدد اہم شخصیات نے مبارکباد پیش کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ملک کے 14ویں وزیر اعظم نریندر 17 ستمبر 1950 کو مہسانہ ضلع کے وڈنگر میں پیدا ہوئے تھے۔

اپنی ایکس پوسٹ میں کہا ’’بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو یوم پیدائش کی دلی مبارکباد۔ آپ کی دوراندیش قیادت، جذبہ سخاوت اور مثالی نفاذ نے بھارت کو بے مثال ترقی اور عہد کی تبدیلی کی طرف گامزن کیا ہے۔ آپ کی میراث ہمارے ملک کی تاریخ میں کندہ ہے۔ ایشور آپ کو اچھی صحت اور خوشیاں عطا کرے تاکہ آپ آنے والے سالوں میں ہندوستان کی خدمت کرتے رہیں۔‘‘

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد دی اور ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی کو سالگرہ کی مبارکباد۔‘‘ وزیر اعظم مودی کی سالگرہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مختلف طریقوں سے منا رہی ہے۔

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد دی۔ اتوار کو اپنے ٹویٹ میں نتیش کمار نے کہا، ’’وزیراعظم نریندر مودی کو ان کی سالگرہ پر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔‘‘ میں اس کی صحت مند اور لمبی زندگی کی خواہش کرتا ہوں۔”

دریں اثنا، دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) وی کے سکسینہ نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کی سالگرہ پر مبارکباد دی۔ کیجریوال نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ’’وزیراعظم نریندر مودی کو سالگرہ مبارک۔ میں آپ کی اچھی صحت اور لمبی عمر کے لیے دعا گو ہوں۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے سوشل میدیا پر لکھا، ’’ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کو سالگرہ کی مبارکباد اور نیک خواہشات، جنہوں نے ہندوستان کو عالمی سطح پر عزت بخشی۔ ایشور آپ کو بہتر صحت اور لمبی عمر عطا کرے تاکہ قوم آپ کی رہنمائی سے مستفید ہوتی رہے۔‘‘

وادی کشمیر: کوکر ناگ میں جاری انکاؤنٹر پانچویں روز میں داخل، سرچ آپریشن کا دائرہ مزید وسیع

0
وادی-کشمیر:-کوکر-ناگ-میں-جاری-انکاؤنٹر-پانچویں-روز-میں-داخل،-سرچ-آپریشن-کا-دائرہ-مزید-وسیع

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکرناگ کے جنگل علاقے میں اتوار کو مسلسل پانچویں روز بھی سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اتوار کی صبح تصادم کی جگہ متعدد آئی ای ڈی دھماکے ہوئے جس وجہ سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے کمین گاہ کو پوری طرح سے تباہ کیا۔ پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ تصادم آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گڈول کوکر ناگ میں پانچویں روز بھی سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنگلی علاقے میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہ ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ کمین گاہ کو مارٹر شیلوں سے تباہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چونکہ یہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے لہذا آپریشن میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون کے کیمرا کے ذریعے تصادم کی جگہ تین لاشوں کو دیکھا گیا ہے تاہم سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہاں پر مزید ملی ٹینٹ موجود ہیں۔

بتادیں کہ سیکورٹی فورسز نے بدھ کے روز ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا جس دوران تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی ہمایوں بٹ، کرنل منپریت سنگھ اور میجر آشیش دھونک سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔

دریں اثنا پولیس سربراہ دلباغ سنگھ، اے ڈی جی پی وجے کمار ، کور کمانڈر کوکر ناگ میں خیمہ زن ہیں اور وہ آپریشن کی از خود نگرانی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس فوج اور پولیس کے سینئر آفیسران گراونڈ پر موجود سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہدایات دے رہے ہیں۔

منی پور تشدد: چوراچاندپور سے ہتھیاروں کا ذخیرہ برآمد

0
منی-پور-تشدد:-چوراچاندپور-سے-ہتھیاروں-کا-ذخیرہ-برآمد

امپھال: مرکزی اور ریاستی سیکورٹی فورسز کی ایک مشترکہ ٹیم نے ہفتہ کو منی پور کے چورا چند پور ضلع کے کھوڈانگ گاؤں میں 15 ہتھیار برآمد کیے، جن میں 14 جدید ترین مارٹر، ایک سنگل بیرل بندوق اور دیگر جنگی اسٹورز شامل ہیں۔

منی پور، ناگالینڈ اور جنوبی اروناچل پردیش کے دفاعی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل امت شکلا نے بتایا کہ فوج، آسام رائفلز، دیگر مرکزی فورسز اور منی پور پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے مخصوص خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع چورا چند پور کے گاؤں کھوڈانگ میں آپریشن شروع کیا اور اسلحہ و جنگی مواد برآمد کیا۔

تھوبل ضلع میں اسی طرح کی کارروائی میں، آسام رائفلز اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کواروک مارنگ میں تلاشی آپریشن کیا اور ایک 9 ایم ایم کاربائن اور دیگر جنگی مواد برآمد کیا۔ برآمد شدہ اسلحہ اور گولہ بارود مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ منی پور میں نسلی تشدد سب سے پہلے 3 مئی کو اس وقت شروع ہوا تھا جب میتئی برادری کو شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) میں شامل کرنے کے کے خلاف پہاڑی اضلاع میں ‘قبائلی یکجہتی مارچ’ نکالا گیا تھا۔ تشدد میں اب تک 150 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ میتئی کمیونٹی منی پور کی آبادی کا تقریباً 53 فیصد ہے اور وہ زیادہ تر وادی امپھال میں رہتے ہیں۔ کوکی اور ناگا برادریوں کی آبادی 40 فیصد سے زیادہ ہے، یہ لوگ پہاڑی اضلاع میں رہتے ہیں۔

خاتون پہلوانوں کی ہراسانی کا معاملہ: دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا، ‘نگرانی کمیٹی نے برج بھوشن کو الزامات سے بری نہیں کیا‘

0
خاتون-پہلوانوں-کی-ہراسانی-کا-معاملہ:-دہلی-پولیس-نے-عدالت-کو-بتایا،-‘نگرانی-کمیٹی-نے-برج-بھوشن-کو-الزامات-سے-بری-نہیں-کیا‘

نئی دہلی: سابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف درج کیے گئے مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں دہلی پولیس نے ہفتہ کو یہاں ایک عدالت کو بتایا کہ الزامات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی نگرانی کمیٹی نے انہیں بری نہیں کیا ہے۔

ہفتہ کو برج بھوشن اور ڈبلیو ایف آئی کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر دونوں عدالت میں موجود تھے۔ پولیس نے راؤز ایونیو کورٹ کے ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ (اے سی ایم ایم) ہرجیت سنگھ جسپال کے سامنے یہ دلیل پیش کی۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اتل سریواستو نے عدالت کو بتایا، ’’نگرانی کمیٹی نے برج بھوشن سنگھ کو الزامات سے بری نہیں کیا ہے۔ کمیٹی نے سفارشات دی تھیں، فیصلہ نہیں۔ کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ یہ الزامات مصدقہ نہیں ہیں یا جھوٹے ہیں۔‘‘

انہوں نے عدالت سے سنگھ کے خلاف الزامات طے کرنے کی بھی درخواست کی اور کہا کہ محض ایک اشارہ بھی تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 354 کے تحت جرم کے مترادف ہو سکتا ہے۔ پچھلی سماعت کے دوران بھی شکایت کنندہ خواتین پہلوانوں نے کہا تھا کہ ان پر لگائے گئے الزامات کے لیے ان کے خلاف فرد جرم عائد کرنا ضروری ہے۔ عدالت کیس کی اگلی سماعت 23 ستمبر کو کرے گی۔

خواتین پہلوانوں کے وکیل نے یکم ستمبر کو استدلال کیا تھا کہ سنگھ اور تومر کو نگرانی کمیٹی نے کبھی بری نہیں کیا، انہوں نے مزید کہا کہ پینل، جس کی سربراہی ٹاپ باکسر ایم سی میری کام کر رہی ہیں، وہ صرف جذبات کو پرسکون کرنے کا ایک دکھاوا تھا۔

پہلوانوں کی طرف سے پیش ہونے والی سینئر وکیل ربیکا جان نے کہا تھا ’’ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات جس کا آپ نے نوٹس لیا ہے، اس نوعیت کے ہیں کہ ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ نگرانی کمیٹی تشکیل جنسی ہراسانی کی روک تھام (پی او ایس ایچ ) ایکٹ کے قواعد کے مطابق نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے دلیل دی تھی، ’’کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جذبات کو پرسکون کرنے کا ایک ڈھونگ تھا۔‘‘

دہلی پولیس نے 11 اگست کو اے سی ایم ایم جسپال کی عدالت کو بتایا تھا کہ اس کے پاس بی جے پی ایم پی برج بھوشن کے خلاف کیس کو آگے بڑھانے کے لیے کافی ثبوت ہیں اور شریک ملزم تومر کے خلاف کیس بھی واضح ہے۔

کئی مودی آئیں گے اور چلے جائیں گے، اس بار بہار کی عوام جواب دے گی: رابڑی دیوی

0
کئی-مودی-آئیں-گے-اور-چلے-جائیں-گے،-اس-بار-بہار-کی-عوام-جواب-دے-گی:-رابڑی-دیوی

امت شاہ کے ذریعہ لالو یادو اور نتیش کمار پر کیے گئے زبانی حملے کا اب بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے سخت جواب دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں کتنے مودی آئیں گے اور چلے جائیں گے۔ کیا پورے ملک کے لوگ ان کی مٹھی میں ہیں؟ رابڑی نے ساتھ ہی کہا کہ وہ روزگار نہیں دیں گے اور مہنگائی نہیں روکیں گے۔ انھیں سخت جواب بہار کی عوام دے گی۔ کیا صرف ان کے کہنے سے مودی آ جائے گا، کیا لوگ ان کے مٹھی میں ہیں؟

رابڑی دیوی نے کہا کہ ملک میں لڑائی جھگڑا ہو رہا ہے، کشمیر میں قتل ہو رہا ہے۔ کشمیر میں انتخاب کیوں نہیں کرائے جا رہے؟ ہمت ہے تو جموں و کشمیر میں انتخاب کرائے جائیں۔ خوف کی وجہ سے انتخاب نہیں کرائے جا رہے وہاں۔ منی پور میں تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں، اس پر روک کیوں نہیں لگ رہی؟ بہار اور ملک کی عوام ان کو اب سبق سکھائے گی۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں 14 نکاتی قرارداد پاس، مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا

0
کانگریس-ورکنگ-کمیٹی-کی-میٹنگ-میں-14-نکاتی-قرارداد-پاس،-مرکزی-حکومت-کو-کٹہرے-میں-کھڑا-کیا

کانگریس ورکنگ کمیٹی نے حیدر آباد میں ہفتہ کو شروع ہوئی اپنی دو روزہ میٹنگ کے پہلے دن 14 نکاتی قرارداد پاس کیا ہے۔ اس قرارداد کی شروعات جموں و کشمیر میں دہشت گردوں سے تصادم کے دوران شہیدوں ہوئے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے ہوئی۔ بعد ازاں بطور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے ایک سال کی کارگزاریوں اور راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کی تعریف کی گئی۔ قرارداد میں اپوزیشن اتحاد انڈیا کے اس عزم کو بھی دہرایا گیا کہ اس پیش قدمی کو نظریاتی اور انتخابی شکل میں کامیاب بنانے کے لیے کانگریس ملک کو توڑنے والی اور پولرائزیشن کی سیاست سے پاک کرنے، سماجی برابری اور انصاف میں یقین رکھنے والی طاقتوں کو مضبوط کرنے اور لوگوں کو ایک ذمہ دار، حساس، شفاف، جوابدہ اور ذمہ دار مرکزی حکومت دینے کے لیے متحد ہے۔ نیچے پیش ہیں 14 نکاتی قرارداد کے اہم حصے:

1. سب سے پہلے کانگریس ورکنگ کمیٹی جموں و کشمیر میں شہید ہوئے ہمارے بہادر فوجی افسران اور فوجی اہلکاروں کے کنبوں کے تئیں گہری ہمدردی ظاہر کرتی ہے۔ جب یہ افسوسناک خبر سامنے آ رہی تھی اور ملک غم منا رہا تھا تب بی جے پی اور وزیر اعظم کے ذریعہ خود کو جی-20 کی مبارکباد دینے کے لیے قومی راجدھانی میں جشن منانا نہ صرف بے شرمی کا عروج ہے بلکہ جوانوں کی شہادت کی بے عزتی بھی ہے۔

2. کانگریس ورکنگ کمیٹی گزشتہ ایک سال میں کانگریس صدر کی شکل میں اہم کارگزاریوں کے لیے ملکارجن کھڑگے جی کی تعریف کرتی ہے۔ وہ ایک قابل ترغیب لیڈر کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف اور خود مختاری کی مضبوط آواز رہے ہیں۔ وہ بے خوفی کے ساتھ مودی حکومت کے حملوں سے آئین کو بچانے کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ وہ لگاتار وزیر اعظم کو ان کی عوام مخالف پالیسیوں اور پروگراموں کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔

3. کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) راہل گاندھی کی قیادت میں کنیاکماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو یاترا کی پہلی سالگرہ پر خوشی ظاہر کرتی ہے۔ یاترا ملک کی سیاست میں ایک انقلابی واقعہ تھا۔ جس کا مقصد ہندوستان کو توڑنے والی طاقتوں کے خلاف لوگوں کو متحد کرنا، بڑھتی نابرابری، گھٹتی آمدنی، بڑھتی بے روزگاری اور ضروری چیزوں کی آسمان چھوتی قیمتوں کے خلاف لوگوں کی آواز اٹھانا، اور بڑھتی تاناشاہی، جمہوری اداروں پر قبضے اور ہمارے وفاقی ڈھانچے پر ہو رہے حملوں کی مخالفت کرنا تھا۔

4. کانگریس ورکنگ کمیٹی منی پور میں آئینی نظام کے پوری طرح سے منہدم ہونے اور وہاں جاری تشدد پر گہرا افسوس ظاہر کرتی ہے۔ چار ماہ سے زیادہ وقت سے ریاست میں تشدد اور بدامنی کا دور جاری ہے۔ اتنے دنوں میں بی جے پی کی پولرائزیشن کی پالیسیوں کی وجہ سے ریاست بری طرح سے تقسیم ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم کی خاموشی اور نظر اندازی، وزیر داخلہ کی ناکامی اور وزیر اعلیٰ کے ضدی رویہ نے بے حد ہی خطرناک حالت پیدا کر دی ہے۔ جہاں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے درمیان اور فوج/آسام رائفلز اور ریاستی پولیس کے درمیان بار بار تصادم کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ منی پور سے جو چنگاری نکلی ہے، اب اس کے بڑے پیمانے پر شمال مشرقی علاقوں میں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ سی ڈبلیو سی وزیر اعلیٰ کو فوراً ہٹانے اور صدر راج لگانے کی کانگریس پارٹی کے مطالبہ کو دہراتی ہے۔ سی ڈبلیو سی اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ حکومت لوٹے گئے اسلحوں اور گولہ بارود کو برآمد کرنے، پبلک آرڈر بحال کرنے، ہزاروں متاثرین اور ریاست کے پناہ گزینوں کے لیے اس بے حد سنگین انسانی بحران کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ ساتھ ہی مختلف گروپوں کے درمیان بات چیت کے لیے ایک خاکہ تیار ہو۔

5. کانگریس ورکنگ کمیٹی یاد دلانا چاہتی ہے کہ لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے موقع پر اپنی پہلی تقریر میں وزیر اعظم نے نسل پرستی، فرقہ پرستی اور علاقائیت پر 10 سال کے لیے روک لگانے کا عزم ظاہر کیا تھا، افسوس یہ ہے کہ بی جے پی اور اس حکومت کے ذریعہ اپنائی گئی تخریب کاری اور تفریق سے بھری پالیسیوں اور وزیر اعظم کے ذریعہ لوگوں کو متحد کرنے کی جگہ چنندہ معاملوں پر اپنی خاموشی کی وجہ سے گزشتہ 9 سالوں میں یہ تینوں ہی مسائل کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ ان کی حکومت نے غریبوں اور کمزور لوگوں، خصوصاً خواتین، اقلیتوں، دلتوں اور قبائلیوں پر مظالم کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بی جے پی لیڈروں کی سیاسی تقریر سماج میں زہر گھولنے والے ہوتے ہیں۔ ان کے بیان نفرت پھیلانے والے اور تشدد کو فروغ دینے والے ہوتے ہیں۔ وہ تخریب کار قوتوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور سماج کا پولرائزیشن کرتے ہیں۔ بی جے پی کے لیڈروں اور ترجمانوں نے گزشتہ وزرائے اعظموں، خصوصاً جواہر لال نہرو کے تعاون کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی ان کی شبیہ کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیاسی لیڈروں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف سیاسی بدلہ کے لیے جانچ ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

6. کانگریس ورکنگ کمیٹی مودی حکومت کو ایم ایس پی اور دیگر مطالبات کے ایشوز پر کسانوں اور کسان تنظیموں سے کیے گئے وعدوں کی یاد دلاتی ہے۔ کسان بڑھتے قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ زراعت اور دیہی معیشت گہرے بحران میں ہے۔ نوٹ بندی کی مار اور حکومت سے کسی بھی طرح کی حمایت نہ ملنے کے سبب ایم ایس ایم ای سب سے خراب دور میں ہیں۔ ایکسپورٹ مارکیٹ سکڑ گیا ہے اور ایکسپورٹ میں گراوٹ آئی ہے۔ سرمایہ کاری اور صارفیت کا انجن سست پڑا ہوا ہے۔ حکومت متعیشت کو از سر نو زندہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ معاشی منظرنامہ مایوس کن بنا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس حکومت کی واحد فکر صرف ہیڈلائن مینجمنٹ ہے۔

7. کانگریس ورکنگ کمیٹی بڑھتی بے روزگاری اور خاص طور سے ضروری سامانوں کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ پر سنگین فکر ظاہر کرتی ہے۔ وعدے کے مطابق ہر سال دو کروڑ ملازمت دینے میں ناکام رہنے کے بعد وزیر اعظم کا نام نہاد روزگار میلہ تماشہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ پورا عمل صرف اور صرف دھوکہ ہے۔ 2021 میں ہونے والے دس سالہ مردم شماری کروانے میں ناکام ہونا شرم کی بات ہے۔ اس کے سبب اندازاً 14 کروڑ ہندوستانیوں کو اپنے کھانے کے حق سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ 2011 کی مردم شماری کے حساب سے جاری راشن کارڈ پر ہی ابھی لوگ راشن لے پا رہے ہیں۔

اتراکھنڈ کے بدری ناتھ دھام میں دو فریقین کے درمیان تصادم، فائرنگ سے علاقے میں دہشت

0
اتراکھنڈ-کے-بدری-ناتھ-دھام-میں-دو-فریقین-کے-درمیان-تصادم،-فائرنگ-سے-علاقے-میں-دہشت

بدری ناتھ دھام سے ایک حیران کرنے والا واقعہ سامنے آ رہا ہے۔ بدری ناتھ دھام ہندوؤں کے عقیدے کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے، لیکن یہاں کی پرامن فضاؤں میں بھی زہر گھلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ جمعہ کی دیر شب یہاں دو فریقین کے درمیان تصادم کا معاملہ پیش آیا جس کے بعد فائرنگ نے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔

فائرنگ اور تصادم کی اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچی پولیس نے واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ بدری ناتھ کوتوالی میں تعینات سینئر پولیس ڈپٹی انسپکٹر لکشمی پرساد بلجوان نے بتایا کہ جمعہ کی دیر شب شراب کے نشے میں لامبگڑ باشندہ انوج اور کلدیپ بدری ناتھ دھام میں کپڑوں کا کاروبار کرنے والے ونیت سینی کی دکان میں گھسے۔ اس کے بعد ونیت سے گالی گلوج کرنے لگے جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا۔ اتنے میں ونیت سینی نے جھگڑے کے درمیان پستول سے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ ہوتے ہی انوج اور کلدیپ بھاگ کھڑے ہوئے۔

واقعہ کی خبر ملنے کے بعد موقع پر پہنچی پولیس نے دونوں فریقین کے درمیان ہوئے جھگڑے کو ختم کروایا۔ اس معاملے میں انوج کی طرف سے دی گئی تحریر کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ ونیت سینی کی پستول کی جانچ کے لیے ہریدوار ضلع مجسٹریٹ کے دفتر سے جانکاری حاصل کی جا رہی ہے۔ جانچ کے بعد آگے کی کارروائی کی جائے گی۔ دیر رات ہی انوج اور کلدیپ کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا اور پھر انھیں گھر والوں کے سپرد کر دیا گیا تھا۔