ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 121

بھارت جوڑو یاترا کانگریس کی سیاست کا اہم موڑ، بی جے پی لیدروں میں گھبراہٹ: پون کھیڑا

0
بھارت-جوڑو-یاترا-کانگریس-کی-سیاست-کا-اہم-موڑ،-بی-جے-پی-لیدروں-میں-گھبراہٹ:-پون-کھیڑا

حیدرآباد: لوک سبھا انتخابات 2024 کے سلسلے میں نو تشکیل شدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی پہلی میٹنگ آج حیدرآباد میں شروع ہو رہی ہے۔ جس کے دوران پارٹی کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز تنظیم پانچ ریاستوں میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے بات چیت کر کے حکمت عملی تیار کرے گی۔

سی ڈبلیو سی میٹنگ سے پہلے کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ آپ میں سے بہت سے لوگوں کو کانگریس پارٹی کے خلاف شکایت تھی کہ ہم ملک کی سڑکوں پر نہیں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اب شکایت ختم ہو گئی ہے۔ راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا پر 4000 کلومیٹر کا سفر کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاست کرنے کے انداز میں یہ ایک اہم موڑ ہے۔ بھارت جوڑو یاترا نے پی ایم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ان حقیقی مسائل پر لا کھڑا کیا ہے جن کا ملک کو سامنا ہے۔

انڈیا اتحاد کی جانب سے متعدد ٹی وی نیوز اینکرز کے بائیکاٹ کے اعلان پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا ’’م نے کسی پر پابندی نہیں لگائی، نہ بائیکاٹ کیا اور نہ کسی کو بلیک لسٹ ہی کیا ہے۔ یہ عدم تعاون کی تحریک ہے، معاشرے میں نفرت پھیلانے والوں سے ہم تعاون نہیں کریں گے کیونکہ وہ ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہوتی، اگر کل انہیں یہ احساس ہو گیا کہ وہ جو کر رہے ہیں وہ بھارت کے لیے اچھا نہیں ہے تو ہم دوبارہ ان کے شوز میں جانا شروع کر دیں گے۔‘‘

ایک سروے میں عالمی رہنماؤں کی درجہ بندی میں وزیر اعظم نریندر مودی کو سرفہرست قرار دئے جانے پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ جب کوئی پارٹی ان حربوں کا استعمال کرتی ہے تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

کھیڑا نے سوال کیا کہ وہ ایک عالمی لیڈر بن گئے ہیں، جو انہوں نے برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے؟ آپ کو رشی سنک کے ساتھ الیکشن نہیں لڑنا ہے۔ آپ امریکی صدر جو بائیڈن اور برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سنک سے کیوں مقابلہ کر رہے ہیں؟ اس سے ان کی گھبراہٹ ظاہر ہوتی ہے۔

جموں و کشمیر: اننت ناگ کے کوکر ناگ جنگل علاقے میں انکائونٹر چوتھے روز میں داخل

0
جموں-و-کشمیر:-اننت-ناگ-کے-کوکر-ناگ-جنگل-علاقے-میں-انکائونٹر-چوتھے-روز-میں-داخل

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکرناگ کے جنگل علاقے میں ہفتے کو مسلسل چوتھے روز بھی سیکورٹی فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق طرفین کے درمیان رات بھر شدید گولیوں کا تبادلہ جاری رہا جس سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔

معلوم ہوا ہے کہ فوج کمین گاہ کو تباہ کرنے کی خاطر موٹار شیلوں، راکٹ لانچروں اور ڈرون کا استعمال کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے جبکہ گڈول پہاڑی علاقے کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات کی اور منتقل کیا گیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وجے کمار نے جمعہ کی شام ایک ٹوئٹ کہا کہ جنگل میں پھنسے دو یا تین جنگجوئوں کو مار گرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن ایک مخصوص ان پٹ کی بنیاد پر لانچ کیا گیا تھا۔

دفاعی ذرائع نے بتایا کہ محصور ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کی خاطر جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کارلایا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ساخت کے ڈرونز کی بھی خدمات حاصل کی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملی ٹینٹوں کو کمین گاہ سے باہر آتے ہوئے صاف دیکھا جاسکتا ہے۔

بتادیں کہ سیکورٹی فورسز نے بدھ کے روز ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تھا جس دوران تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی ہمایوں بٹ، کرنل منپریت سنگھ اور میجر آشیش دھونک سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔

دریں اثنا پولیس سربراہ دلباغ سنگھ، اے ڈی جی پی وجے کمار ، کور کمانڈر کوکر ناگ میں خیمہ زن ہیں اور وہ آپریشن کی از خود نگرانی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس فوج اور پولیس کے سینئر آفیسران گراونڈ پر موجود سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہدایات دے رہے ہیں۔

اعظم خان پر انکم ٹیکس کا چھاپہ: ’وقت نہیں لگتا وقت کے بدل جانے میں، تخت کے پلٹ جانے میں!‘ اکھلیش یادو کا ردعمل

0
اعظم-خان-پر-انکم-ٹیکس-کا-چھاپہ:-’وقت-نہیں-لگتا-وقت-کے-بدل-جانے-میں،-تخت-کے-پلٹ-جانے-میں!‘-اکھلیش-یادو-کا-ردعمل

لکھنؤ: محکمہ انکم ٹیکس نے سماج وادی پارٹی لیڈر محمد اعظم خان کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہوں نے تقریباً 60 گھنٹے تک کارروائی انجام دی گئی۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد گزشتہ تمام انکم ٹیکس افسران اور سیکورٹی اہلکار اعظم خان کے گھر سے نکل گئے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس پر ردعمل ظاہر کر کے کہا ہے کہ یہ حکومت کے ظلم کی داستان ہے اور تخت کے الٹ جانے میں وقت نہیں لگتا!

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں لکھا ’’آج تین دن گزرنے کے بعد اعظم خان صاحب پر چھاپے ختم ہوئے۔ اسے ظلم کی ایک اور داستان کہہ سکتے ہیں! عوام سمجھ رہے ہیں کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہو رہا ہے وہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

اکھلیش نے مزید لکھا ’’جو حکمران یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ جبر سے جیتیں گے انہیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ہندوستان ایک منفرد ملک ہے جو دشمن کے ساتھ بھی ناانصافی برداشت نہیں کرتا اور وقت آنے پر ہی سچ کا ہی ساتھ دیتا ہے۔ ہر مذہب سے اوپر اٹھ کر سچے دل والوں کی اتحاد اور امن کی طاقت ہی آخرکار فتح یاب ہوتی رہی ہے اور آئندہ بھی فتح یاب ہوتی رہے گی۔ وقت نہیں لگتا وقت کے بدل جانے میں، تخت کے پلٹ جانے میں!‘‘

خیال رہے کہ گزشتہ روز اعظم خان کے گھر سے محکمہ انکم ٹیکس کا چھاپہ مکمل کرنے کے بعد افسران اور سیکورٹی اہلکار وہاں سے روانہ ہو گئے۔ تقریباً 60 گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں محکمہ انکم ٹیکس نے اعظم خان اور ان کے خاندان سے محمد علی جوہر ٹرسٹ سے متعلق لین دین کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس کے ساتھ ان کی جائیدادوں کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی گئیں۔ اس دوران اعظم خان کی اہلیہ اور ان کے بیٹوں سے بھی محکمہ انکم ٹیکس کے افسران نے پوچھ گچھ کی۔ اس انکوائری میں محکمہ انکم ٹیکس کو کیا ملا، اس سوال کے جواب میں ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مکمل معلومات ہیڈ کوارٹر سے دی جائیں گی۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی ترقی کا نیا باب لکھنے کے لیے تیار: سونیا گاندھی

0
کانگریس-ورکنگ-کمیٹی-ترقی-کا-نیا-باب-لکھنے-کے-لیے-تیار:-سونیا-گاندھی

حیدرآباد: کانگریس لیڈر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) تلنگانہ اور ہندوستان کے تمام لوگوں کے لیے وقار کے ساتھ ترقی کا ایک نیا باب لکھنے کے لیے تیار ہے۔ حیدرآباد میں ہفتہ یعنی آج شروع ہونے والی سی ڈبلیو سی میٹنگ سے قبل کانگریس کے سابق صدر نے کہا، ’’ہم نے تلنگانہ کے لوگوں سے ایک وعدہ کیا تھا، ہم نے اس وعدے کو پورا کیا ہے۔ کانگریس ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور میں لے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی تلنگانہ اور ہمارے ملک کے تمام لوگوں کے لیے وقار کے ساتھ ترقی کا ایک نیا باب لکھنے کے لیے تیار ہے۔

دریں اثنا، آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی پارٹی کو جیت کی طرف لے جانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کرے گی۔

انہوں نے کہا، ’’کانگریس نے ہمارے عظیم ملک میں جمہوریت، سماجی انصاف، ترقی اور مساوات کے لیے جدوجہد کی اور اسے نافذ کیا۔ ہم قومی سالمیت اور تنوع میں اتحاد کے لیے لڑتے رہیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارے دیرینہ فلسفے کے مطابق کانگریس ورکنگ کمیٹی پارٹی کو فتح کی طرف لے جانے اور ہمارے ملک اور اس کے لوگوں کے مستقبل کو مضبوط کرنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کرے گی۔‘‘

خیال رہے کہ ملکارجن کھڑگے حیدرآباد کے ایک ہوٹل میں آج سے شروع ہونے جا رہی سی ڈبلیو سی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ کھڑگے کی صدارت میں نو تشکیل شدہ سی ڈبلیو سی کی یہ پہلی میٹنگ ہوگی۔ پارٹی کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بات چیت اور حکمت عملی تیار کرے گا۔

سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سمیت سی ڈبلیو سی کے تمام 84 ارکان میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ سی ڈبلیو سی اتوار کو تمام پی سی سی صدور اور سی ایل پی لیڈروں کے ساتھ ایک توسیعی اجلاس منعقد کرے گی۔ اتوار کی شام حیدرآباد کے مضافات میں تکو گوڑا میں ایک عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جہاں پارٹی تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے لیے اپنی چھ ضمانتوں کو واضح کرے گی۔

گجرات کے کھیڑا میں فرقہ وارانہ تصادم، تین ایف آئی آر درج، 11 افراد گرفتار

0
گجرات-کے-کھیڑا-میں-فرقہ-وارانہ-تصادم،-تین-ایف-آئی-آر-درج،-11-افراد-گرفتار

گاندھی نگر: گجرات کے کھیڑا ضلع کے ٹھاسرا میں ایک مندر سے نکالی جا رہی ’شیو یاترا‘ کے دوران تشدد کی آگ بھڑک اٹھی۔ پولیس نے دونوں فرقوں کے علاوہ کانسٹیبل کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی ہیں، جبکہ 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ’امر اجلالا‘ پورٹل پر شائع رپورٹ کے مطابق حالات پر قابو پانے کے لیے اضافی فورسز کو طلب کیا گیا ہے اور ان کی شہر میں بڑی تعاد میں تعیناتی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس سپرنٹنڈنٹ گڑھیا نے بتایا کہ علاقہ میں قیام امن کی کوششوں کے تحت دونوں فرقوں کے لیڈران سے بات کی جا رہی ہے۔ واقعہ کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے اور اس کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ پتھراؤ اور توڑ پھوڑ میں شامل لوگوں کی شناخت کر کے ان کی گرفتاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

’انڈیا ٹی وی‘ پورٹل کی رپورٹ کے مطابق کھیڑا کے ٹھاسرا میں ہونے والے تشدد کے سلسلہ میں اب تک تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ رپورٹ ہندو فرقہ کی جانب سے، ایک مسلم فرقہ کی جانب سے اور ایک پولیس کانسٹیبل کی شکایت پر درج کی گئی ہے۔ جبکہ تاحال 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلمانوں نے جو ایف آئی درج کرائی ہے، اس کے مطابق یاترا میں شامل 1000 سے 1500 افراد نے ان کی املاک اور مذہبی مقامات پر حملہ کیا۔ ہندوؤں کی ایف آئی آر میں مسلم طبقہ کے 50 لوگوں کے ہجوم کی جانب سے پتھربازی کیے جانے الزام عائد کیا گیا ہے۔ جبکہ کانسٹیبل کی شکایت کی بنیاد پر 70 افراد کے خلاف ایف آئی درج کی گئی ہے۔

نپاہ وائرس کی وجہ سےکوزی کوڈ میں تعلیمی ادارے 24 ستمبر تک بند

0
نپاہ-وائرس-کی-وجہ-سےکوزی-کوڈ-میں-تعلیمی-ادارے-24-ستمبر-تک-بند

نپاہ وائرس کے چھ تصدیق شدہ کیسوں کے ساتھ، کیرالہ نے مہلک وباء پر قابو پانے کے لیے کنٹرول کے اقدامات کو تیز کر دیا ہے۔  انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کوزی کوڈ میں تمام تعلیمی ادارے 24 ستمبر تک بند کر دئے گئے ہیں۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے جمعرات کو ریاست کی طرف سے وائرس سے نمٹنے کے لیے درخواست کی گئی اینٹی باڈی فراہم کی، جبکہ ایک موبائل لیبارٹری کو بھی موقع  پر بھیج دیا گیا تاکہ ریاست کو نمونوں کی جانچ کے قابل بنایا جا سکے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی سی ایم آر کے ڈی جی نے جمعہ کو کہا کہ نپاہ وائرس کے معاملات میں اموات کی شرح کووڈ کے معاملات کے مقابلے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اموات کی شرح 40 – 70 فیصد  ہے۔

ریاستی حکومت کو ایک بڑی راحت میں، جانچ کے لیے بھیجے گئے 11 نمونوں کے وائرس کے منفی نتائج آئے۔ نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول، آر ایم ایل ہسپتال اور نمہانس  کے ماہرین پر مشتمل ایک پانچ رکنی مرکزی ٹیم صورتحال کا جائزہ لینے اور نپاہ انفیکشن کے انتظام میں ریاستی حکومت کی مدد کرنے کے لیے کیرالہ میں تعینات ہے۔ آئی سی ایم آر  کی mBSL-3، جنوبی ایشیا میں پہلی بایو سیفٹی لیول-  3 ، کنٹینمنٹ موبائل لیبارٹری، ضلعی سطح پر ہی انفیکشن کی جلد جانچ اور پتہ لگانے میں مدد کرے گی۔

وکلا کی ہڑتال کا اثر: ہاپوڑ کے اے ایس پی اور سی او کے تبادلے کے احکامات جاری

0
وکلا-کی-ہڑتال-کا-اثر:-ہاپوڑ-کے-اے-ایس-پی-اور-سی-او-کے-تبادلے-کے-احکامات-جاری

لکھنؤ۔ اتر پردیش کے ہاپوڑ میں وکلاء اور پولیس کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور سرکل آفیسر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مکیش چندر مشرا کو بریلی دیہات کا اے ایس پی مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بریلی دیہات کے اے ایس پی راج کمار کو ہاپوڑ کا اے ایس پی بنایا گیا ہے۔

سی او اشوک کمار سسودیا کا سہارنپور تبادلہ کیا گیا ہے۔ کوتوالی انچارج ستیندر پرکاش سنگھ کا تبادلہ ضلع سے باہر کیا گیا ہے۔ پلاکھوا پولیس اسٹیشن میں تعینات انسپکٹر نیرج کمار کو کوتوالی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

قبل ازیں، ہاپوڑ میں وکلاء پر لاٹھی چارج کے خلاف اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سمیت ریاست بھر میں جاری ہڑتال ختم ہو گئی۔ جمعرات کی شام اتر پردیش بار ایسوسی ایشن اور سرکاری عہدیداروں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں حکومت نے پانچ نکاتی مطالبات پر اتفاق کیا۔

کونسل کے عہدیداروں اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان بات چیت ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ کونسل کے شریک چیئرمین پرشانت سنگھ اتل نے کہا کہ حکومت نے ہاپوڑ کے اے ایس پی کو ہٹانے، سی ای او اور پولیس انسپکٹر کو معطل کرنے اور ایڈوکیٹ پروٹیکشن ایکٹ کو لاگو کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا یقین دلایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 29 اگست کو پولیس نے ایک خاتون ایڈوکیٹ اور اس کے والد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلاء پر مبینہ طور پر لاٹھی چارج کیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف ریاست کے وکلا 30 اگست سے ہڑتال پر تھے۔

کرناٹک میں بی جے پی-جے ڈی ایس کو جھٹکا، دونوں کے 15 سے زیادہ لیڈر کانگریس میں شامل

0
کرناٹک-میں-بی-جے-پی-جے-ڈی-ایس-کو-جھٹکا،-دونوں-کے-15-سے-زیادہ-لیڈر-کانگریس-میں-شامل

بنگلورو: کرناٹک میں انتخابی شکست کے بعد بی جے پی اور جے ڈی ایس کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا لگا ہے۔ جمعہ کو بنگلورو میں منعقدہ ایک پروگرام میں نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی موجودگی میں دونوں پارٹیوں کے 15 سے زیادہ سرکردہ لیڈران اور سابق کونسلروں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس تقریب کا اہتمام کانگریس دفتر کے ’بھارت جوڑو آڈیٹوریم‘ میں کیا گیا تھا۔

کانگریس میں شامل ہونے والے اہم لیڈران میں سابق ڈپٹی میئر ایل سرینواس، پرساد بابو اور سابق تعلقہ پنچایت رکن انجین اپا شامل تھے۔ شیوکمار نے انہیں کانگریس کا پرچم دیا اور پارٹی میں ان کا استقبال کیا۔ کانگریس میں شامل ہونے کے بعد سرینواس نے کہا کہ انہوں نے 33 سال تک بی جے پی کے لیے کام کیا لیکن پارٹی میں عزت نہیں ملی اور اب وہ کانگریس کو مضبوط کریں گے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ بی جے پی اور جے ڈی ایس کے رہنما پدمنابھ نگر حلقہ سے، جنہوں نے بنگلورو میونسپل کارپوریشن میں اقتدار حاصل کرنے کے پیچھے ایک بڑی طاقت کے طور پر کام کیا، اب کانگریس کے ساتھ ہیں۔ بی جے پی لیڈروں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور اب وہ ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔

شیوکمار نے کھل کر کہا کہ وہ پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ وہ آنے والے بروہت بنگلورو میونسپل کارپوریشن (بی بی ایم پی) کے انتخابات اور لوک سبھا انتخابات جیتنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بنگلورو کے یشونتھ پور اور آر آر نگر حلقوں سے بی جے پی اور جے ڈی ایس لیڈروں کو شامل کرنے کے بعد کانگریس کی طرف سے یہ تیسرا بڑا آپریشن ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی کے شیوکمار بی جے پی اور جے ڈی ایس کے 20 سے زیادہ ایم ایل اے سے بات کر رہے ہیں اور بہت جلد یہ لیڈر کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

موسم کا حال: دہلی-این سی آر سمیت ملک کی 10 ریاستوں میں شدید بارش کا الرٹ

0
موسم-کا-حال:-دہلی-این-سی-آر-سمیت-ملک-کی-10-ریاستوں-میں-شدید-بارش-کا-الرٹ

نئی دہلی: ملک بھر کی کئی ریاستوں میں بارش کے بعد موسم تبدیل ہو گیا ہے۔ دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ تیز بارش کے بعد لوگوں کو گرمی سے راحت ملی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج یعنی ہفتہ (16 ستمبر) کو بارش کے حوالے سے کئی ریاستوں میں الرٹ جاری کیا ہے۔ دریں اثنا، جنوب مغربی مدھیہ پردیش کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، جہاں اگلے 3 دنوں تک شدید بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، دہلی-این سی آر میں ہفتہ (16 ستمبر) کو مطلع دن بھر ابر آلود رہنے کا امکان ہے اور کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔ وہیں، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری اور کم سے کم درجہ حرارت 25 ڈگری رہ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق دہلی میں اگلے پانچ دنوں تک مطلع ابر آلود رہنے اور ہلکی بارش ہونے کا امکان ہے۔

یوپی کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں شدید بارش کے بعد ریاست کا موسم تبدیل ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے ریاست میں ہفتہ کو بھی بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اتراکھنڈ میں بھی بارش کے بعد لوگوں کو دھوپ اور مرطوب گرمی سے راحت ملی۔ ہفتہ (16 ستمبر) کو ریاست کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ جبکہ 5 اضلاع میں شدید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے مہاراشٹر اور گجرات کے کئی علاقوں میں بھی بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، مغربی مدھیہ پردیش ریڈ الرٹ پر ہے کیونکہ 17 ستمبر تک مختلف مقامات پر بھاری سے بہت زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ اور جموں ڈویژن میں 17 ستمبر تک ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ڈی نے راجستھان، گجرات، گوا، کرناٹک، کیرالہ اور انڈمان اور نکوبار میں بھی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ مدھیہ پردیش میں بارش نے کافی تباہی مچائی ہے۔ سڑکوں سے لے کر گھروں تک ہر طرف سیلاب جیسی صورتحال ہے۔ ندیا بھی اپھان پر ہیں اور بیتول میں ایک آٹو ندی میں سما گیا۔ آٹو میں 4 افراد سوار تھے جن کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

راہل نوین ای ڈی کے قائم مقام ڈائریکٹر بن گئے، سنجے کمار مشرا کی میعاد ختم

0
راہل-نوین-ای-ڈی-کے-قائم-مقام-ڈائریکٹر-بن-گئے،-سنجے-کمار-مشرا-کی-میعاد-ختم

ای ڈی چیف سنجے کمار مشرا کی میعاد کل  یعنی 15 ستمبر کو ختم ہوہو گئی۔ اب ای ڈی کے اسپیشل ڈائرکٹر راہل نوین کو ای ڈی کا قائم مقام ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق سرکاری حکم نامے میں جمعہ کو کہا گیا کہ آئی آر ایس افسر راہل نوین کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا ڈائریکٹر انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ سنجے کمار مشرا نے تقریباً 4 سال 10 ماہ تک ای ڈی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

راہل نوین 1993 بیچ کے آئی آر ایس افسر ہیں۔ اسپیشل ڈائریکٹر ہونے کے علاوہ راہل نوین، جو بہار سے تعلق رکھتے ہیں، ای ڈی ہیڈکوارٹر کے چیف ویجیلنس آفیسر کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ نئے ڈائریکٹر کی باقاعدہ تقرری تک قائم مقام ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

سنجے کمار مشرا کو 2018 میں ای ڈی کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کا دور نومبر 2020 میں ختم ہونا تھا۔ مرکز کی طرف سے انہیں تین بار سروس میں توسیع دی گئی۔ اس اقدام کو اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

سنجے کمار مشرا کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے سی وی سی ایکٹ میں بھی ترمیم کی گئی تھی۔ گزشتہ جولائی کے مہینے میں سپریم کورٹ نے سنجے کمار مشرا کی تیسری توسیع کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ جن کا شیڈول 18 نومبر 2023 تک تھا۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں 31 جولائی تک اپنا عہدہ چھوڑنا ہوگا۔ تاہم، مرکزی حکومت نے تب سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ انہیں 15 ستمبر تک اس عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت دی جائے۔ جس پر عدالت نے انہیں 15 ستمبر تک عہدے پر رہنے کی اجازت دے دی۔