ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 114

کیا خواتین ریزرویشن بل کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ آسان نہیں ہے؟

0
کیا-خواتین-ریزرویشن-بل-کے-لیے-آگے-بڑھنے-کا-راستہ-آسان-نہیں-ہے؟

کل  حکومت نے ناری شکتی وندن ایکٹ بل  کے نام سے خواتین ریزرویشن بل پیش کیا اور کہا کہ اس سے لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھے گی۔ پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے ایک تہائی کوٹہ بنانے کی کوششیں 1996 سے جاری ہیں۔ مارچ 2010 میں، راجیہ سبھا نے آئین (108 ویں ترمیم) بل، 2008 منظور کیا، لیکن یہ قانون لوک سبھا میں پیش نہیں کیا جا سکا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ بل دونوں ایوانوں میں منظور ہو جاتا ہے تو  کیا یہ سال 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں لاگو ہوگا یا نہیں ؟

بل میں خواتین کو دیئے جانے والے 33 فیصد ریزرویشن میں سے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن دینے کی تجویز ہے۔ تاہم، او بی سی کمیونٹی کی خواتین کے لیے ریزرویشن کی کوئی تجویز نہیں ہے، جس کا مسئلہ آر جے ڈی اور ایس پی مسلسل اٹھا رہے ہیں۔ جب بھی یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا دونوں جماعتوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار ان کا کیا موقف ہے کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں I.N.D.I.A اتحاد کا حصہ ہیں جب کہ کانگریس سمیت اتحاد میں شامل دیگر پارٹیاں بل کی حمایت میں ہیں۔واضح رہے  آر جے ڈی اور ایس پی او بی سی طبقے کی سیاست کرتے رہے ہیں۔

اب غور طلب بات یہ ہے کہ مخصوص نشستوں کی نشاندہی کیسے کی جائے گی۔ بل میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔ تاہم اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ سیٹوں کی نشاندہی کیسے کی جائے گی۔ یہاں تک کہ 2010 میں جب یہ بل پیش کیا گیا تو اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خواتین کے لیے کون سی نشستیں الگ رکھی جائیں گی۔ تاہم، حکومت نے تجویز پیش کی تھی کہ خواتین کے لیے مخصوص حلقے قرعہ اندازی کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لگاتار تین انتخابات میں ایک سے زیادہ نشستیں محفوظ نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ہی منگل کو پیش کیے گئے بل میں مخصوص نشستوں کو گھمانے کی تجویز بھی ہے۔ تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ خواتین کے لیے 33 فیصد مخصوص نشستوں کی نشاندہی کیسے کی جائے گی۔ بل پر آج  سے بحث شروع ہو گی۔

خواتین کے ریزرویشن بل کے پاس ہونے پر جن آئینی ترامیم کی ضرورت ہو گی، ان میں حد بندی کے لیے آرٹیکل 82 اور 170(3) میں بھی ترمیم ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کو حد بندی کے بعد ہی لاگو کیا جائے گا۔ ہر مردم شماری کے بعد، حد بندی ایکٹ آرٹیکل 82 کے تحت لاگو کیا جاتا ہے، جس میں مردم شماری کے بعد علاقائی حلقہ بندیوں کی نئی تعریف کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی آرٹیکل 170(3) کا تعلق اسمبلیوں کی تشکیل سے ہے۔ اگر خواتین ریزرویشن بل منظور ہوتا ہے تو یہ 15 سال کے لیے لاگو ہوگا۔ تاہم 15 سال کی مدت پوری ہونے کے بعد اس میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے جس کے لیے بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہوگا۔ ایک اور بات قابل غور ہے کہ بل کے ذریعے خواتین کو صرف لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں ریزرویشن ملے گا۔ یہ راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسلوں میں لاگو نہیں ہوگا۔

یہاں تک کہ اگر خواتین ریزرویشن بل منظور ہو جاتا ہے، تو یہ آئندہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں لاگو نہیں ہوگا کیونکہ حد بندی کا کام مکمل نہیں ہوا ہے۔ حلقہ بندیوں کا کام 2026 میں شروع ہو گا، حلقوں کی تقسیم کے بعد ہی فیصلہ کیا جا سکے گا کہ خواتین کے لیے کون سی نشستیں مختص ہوں گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً حلقہ بندیوں کا از سر نو تعین کیا جاتا ہے تاکہ جمہوریت میں آبادی کی صحیح نمائندگی ہو اور سب کو یکساں مواقع مل سکیں۔

مرکز کو ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، خواتین کوٹہ کے لیے آئین میں ترمیم کرنی چاہیے: اسٹالن

0
مرکز-کو-ایس-سی،-ایس-ٹی،-او-بی-سی،-خواتین-کوٹہ-کے-لیے-آئین-میں-ترمیم-کرنی-چاہیے:-اسٹالن

تمل ناڈو کے وزیر اعلی اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے 2015 میں کی گئی ذات پات کی مردم شماری کو جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مرکز سے کہا کہ ایس سی / ایس ٹی کے لئے ریزرویشن کو صحیح طریقے سے نافذ کیا جانا چاہئے اور اوبی سی اور ایم بی سی کے لئے مناسب کوٹہ ہونا چاہئے اور اس کی قومی سطح پر نگرانی کی جانی چاہئے۔

منڈل کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کے زبردست حامی مسٹر اسٹالن نے کل رات دہلی میں منعقد تقریب میں کہا کہ سماجی انصاف کی معاشرے کو بہت سخت ضرورت ہے ۔سماجی انصاف کے لیے ہندوستان پر دوسری قومی کانفرنس سے ورچوئل طور پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماجی انصاف کسی خاص ریاست تک ہی محدود نہیں ہے،بلکہ جب بی جے پی برسراقتدار تھی تو یہ پورے ہندوستان کا معاملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ منڈل کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔

انہوں نے کہا ’’ ذاتوں اور برادریوں کی گنتی کا پیمانہ الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ ہوسکتا ہے۔ تمل ناڈو 69 فیصد ریزرویشن پر عمل کرتا ہے۔ اگرچہ دیگر ریاستوں میں یہ فیصد مختلف ہے، لیکن ریزرویشن کا مسئلہ ہر جگہ ایک جیسا ہے اور اسے نظرانداز کیا جاتاہے۔

ہمیں آئین کا جو نسخہ دیا گیا اس میں ’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ الفاظ نہیں ہیں! ادھیر رنجن چودھری کا بیان

0
ہمیں-آئین-کا-جو-نسخہ-دیا-گیا-اس-میں-’سوشلسٹ‘-اور-’سیکولر‘-الفاظ-نہیں-ہیں!-ادھیر-رنجن-چودھری-کا-بیان

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا آج تیسرا دن ہے اور خاتون ریزرویشن بل یعنی ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ لوک سبھا میں پیش کیا جا چکا ہے، جس پر آج ہی بحث ہوگی۔ اس سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف ادھیر رنجن چودھری نے نئی پارلیمنٹ میں دئے جانے والے آئین کے نسخے پر پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آئین میں ’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ الفاظ نہیں ہیں!

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ادھیر رنجن چودھری نے کہا، ’’آئین کے جو نئے نسخے آج (19 ستمبر) ہمیں دئے گئے، جنہیں ہاتھوں میں پکڑ کر ہم پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں داخل ہوئے، ان کی تمہید میں ‘سوشلسٹ سیکولر’ الفاظ نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ الفاظ 1976 میں ترمیم کے بعد شامل کیے گئے تھے لیکن اگر آج کوئی ہمیں آئین دیتا ہے اور یہ الفاظ نہیں ہیں تو یہ تشویشناک بات ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے مزید کہا، ’’ان کے ارادے مشکوک ہیں۔ یہ بہت چالاکی سے کیا گیا ہے۔ یہ میرے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ میں نے اس مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن مجھے یہ مسئلہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا گیا۔‘‘

نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں لوک سبھا کی کارروائی خاتون ریزرویشن بل کے ساتھ شروع ہوئی۔ لوک سبھا میں اس بل کو مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے پیش کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ بل اب ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کے نام سے جانا جائے گا۔ اس کے بعد جب اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن چودھری بولنے کے لیے اٹھے تو انہوں نے کہا کہ یہ بل کانگریس حکومت کے دوران پیش کیا گیا تھا اور یہ راجیہ سبھا میں پاس ہو گیا تھا اور لوک سبھا میں پاس نہیں ہو پایا تھا۔

حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی نے اس پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد ادھیر رنجن چودھری نے وزیر اعظم مودی سے کہا کہ ’’ان کے رویے سے پتہ چل جائے گا کہ ایوان میں ہر شخص کے خیالات کیا ہیں۔ ذرا ان لوگوں کو دیکھو۔ وہ آپ کی باتوں کا بھی احترام نہیں کر رہے۔ اس قسم کا رویہ براہ راست وزیراعظم کی توہین ہے۔‘‘

ہندوستان-کینیڈا کشیدگی: 30 ہندوستانی کمپنیوں کے 40 ہزار کروڑ روپے داؤ پر، کینیڈا کی معیشت پر بھی خطرہ!

0
ہندوستان-کینیڈا-کشیدگی:-30-ہندوستانی-کمپنیوں-کے-40-ہزار-کروڑ-روپے-داؤ-پر،-کینیڈا-کی-معیشت-پر-بھی-خطرہ!

نئی دہلی: ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث کاروباری دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے۔ دراصل، بڑے تجارتی شراکت دار ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر جاری تنازعہ کینیڈا میں کام کرنے والی ہندوستانی فرموں کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے اور ان کی طرف سے وہاں کی گئی ہندوستانی سرمایہ کاری پر اثر پڑ سکتا ہے۔ صرف ہندوستانی کمپنیوں پر ہی نہیں بلکہ کینیڈا کی معیشت پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے، کیونکہ ان کمپنیوں میں ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں۔

کینیڈا کے لیے ہندوستانی کمپنیوں کی کیا اہمیت ہے اور وہاں ان کمپنیوں کی کتنی بڑی سرمایہ کاری ہے؟ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر اس حوالہ سے رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار کے ساتھ یہ معلومات اس سال مئی 2023 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں شیئر کی گئی تھیں۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کی جانب سے ‘فراہم انڈیا ٹو کینیڈا: اکنامک امپیکٹ اینڈ انگیجمنٹ (اقتصادی اثرات اور مشغولیت) کے عنوان سے رپورٹ جاری کی گئی تھی اور یہ رپورٹ ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب مرکزی وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل ٹورنٹو کے دورے پر تھے۔

سی آئی آئی کی اس رپورٹ میں اعدادوشمار کے ساتھ اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ ہندوستان نہ صرف سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور خلیجی ممالک بلکہ کینیڈا جیسے ممالک کے لیے بھی کتنا اہم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کینیڈا کی معیشت میں ہندوستانی ہنرمندوں کی شراکت اور کینیڈا میں ہندوستانی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کینیڈا میں ہندوستانی صنعت کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور ایف ڈی آئی اور روزگار پیدا کرنے میں وہاں موجود ہندوستانی کمپنیوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا تھا۔

سی ای ای کی رپورٹ پر نظر ڈالیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جاری کشیدگی کا کاروباری شعبے پر کیا اثر پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق 30 ہندوستانی کمپنیوں کی کینیڈا میں موجودگی ہے اور ان کی طرف سے ملک میں کی گئی سرمایہ کاری کی مالیت 40446 کروڑ روپے ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، دونوں ممالک کے درمیان اس تازہ تناؤ سے پہلے تجارتی تعلقات کے بارے میں ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہاں موجود ان ہندوستانی کمپنیوں میں سے 85 فیصد نے مستقبل میں اختراع کے لیے فنڈنگ ​​میں اضافے کی امید ظاہر کی ہے۔

کینیڈا میں کاروبار کرنے والی ہندوستانی کمپنیوں کے ذریعے 17000 سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ ان کمپنیوں کے تحقیق و ترقی کے اخراجات بھی 700 ملین کینیڈین ڈالر بتائے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کینیڈا میں ہندوستانی کاروبار بڑھ رہا ہے جو دونوں ممالک کی معیشت کے لیے بہتر ہے۔ اب جب کہ ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان کشیدگی زور پکڑ رہی ہے، وہاں کمپنیوں کے کاروبار متاثر ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت میں آسانی اور بہتر تعلقات کی وجہ سے ہندوستان نے وہاں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ کینیڈا کے پنشن فنڈز نے بھی ہندوستان میں 55 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کا کینیڈا میں بڑا کاروبار ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی کمپنیاں سافٹ ویئر، قدرتی وسائل اور بینکنگ کے شعبوں میں سرگرم ہیں۔ ان میں وپرو اور انفوسس جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال 2022 میں ہندوستان کینیڈا کا 10 واں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا۔ مالی سال 2022-23 میں ہندوستان نے کینیڈا کو 4.10 بلین ڈالر کا سامان برآمد کیا۔ جبکہ کینیڈا نے 2022-23 میں ہندوستان کو 4.05 بلین ڈالر کا سامان برآمد کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2021-22 میں سات بلین ڈالر تھی جو سال 2022-23 میں بڑھ کر 8.16 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

نوئیڈا میں انسانیت شرمسار، بقایا قرض واپس نہ کرنے پر سبزی فروش کو ننگا کیا، مارا پیٹا گیا

0
نوئیڈا-میں-انسانیت-شرمسار،-بقایا-قرض-واپس-نہ-کرنے-پر-سبزی-فروش-کو-ننگا-کیا،-مارا-پیٹا-گیا

اتر پردیش کے گوتم بدھ نگر ضلع سے انسانیت کو شرمسار کر دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک سبزی فروش کو قرض لینا اتنا مہنگا پڑ گیا کہ اسے ننگا کر  مارا پیٹا گیا اور بازار میں گھمایا گیا۔ درحقیقت، پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق، نوئیڈا میں ایک 35 سالہ لہسن بیچنے والے کو قرض دینے والے اور اس کے ساتھیوں نے اس وقت مارا پیٹا جب وہ 5,600 روپے کے کل قرض کا ایک حصہ ادا کرنے سے قاصر تھا۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق ایڈیشنل ڈی سی پی (سنٹرل نوئیڈا) راجیو ڈکشٹ نے کہا کہ اس معاملے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ معلومات کے مطابق، تقریباً ایک ماہ قبل قرض لینے والے لہسن بیچنے والے نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ لہسن کا ٹھیلا لگانے  کے علاوہ سیکٹر 88 کی پھل سبزی منڈی میں کام کرتا ہے۔

پریشان بیچنے والے کے مطابق، پیر کو وہ 5,600 روپے کے قرض میں سے 2,500 روپے واپس کرنے گیا اور درخواست کی کہ وہ بالآخر باقی قرض بھی واپس کر دے گا۔ مین پور، اتر پردیش کے رہنے والے سبزی فروش نے کہا، "قرض دینے والے نے اپنے اکاؤنٹنٹ اور دو مزدوروں کو دکان پر بلایا۔ انہوں نے مجھے دکان کے اندر پکڑا،  میرے کپڑے اتارے، لاٹھیوں سے مارا اور مجھے گالی دی۔

اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہے جس میں مبینہ طور پر بیچنے والے کو اس کے کپڑے اتارنے پر مجبور کرتے ہوئے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد برہنہ شخص کو بغیر کپڑوں کے دکان سے کھلے میں بھیج دیا جاتا ہے۔

ایڈیشنل ڈی سی پی دکشت نے کہا کہ پیر کو ہی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ دکشت  نے کہا، "مرکزی ملزم سندر سنگھ اور اس کے ساتھی بھگنداس سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فرار ہونے والوں کو بھی جلد پکڑا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

حکومت ایک طرف خواتین کے لئے بل لا رہی ہے، دوسری طرف برج بھوشن کا تحفظ :ونیش پھوگاٹ

0
حکومت-ایک-طرف-خواتین-کے-لئے-بل-لا-رہی-ہے،-دوسری-طرف-برج-بھوشن-کا-تحفظ-:ونیش-پھوگاٹ

ملک کے معروف پہلوان  ساکشی ملک اور ونیش پھوگاٹ نے ایک فحش ویڈیو وائرل ہونے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں ایک خاتون پہلوان شامل ہیں اور یہ ویڈیو جعلی ہے۔  ونیش پھوگاٹ نے منگل  یعنی 19 ستمبر کو لوک سبھا میں پیش کیے گئے خواتین کے ریزرویشن بل کا بھی ذکر کیا۔

واضح رہے کہ ویڈیو میں جس اولمپین پہلوان کا نام شامل کیا گیا تھا اس پہلوان  نے خود  منگل 19 ستمبر کو کہا ہے  کہ اسے  بدنام کرنے کی ایک بڑی سازش کا شکار بنایا گیا ہے۔ پہلوان ساکشی ملک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنا ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے جس میں  اس نے کہا ہے کہ ملزم برج بھوشن کے لوگ مسلسل کسان برادری اور ہریانہ کی بیٹیوں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس  کا کہنا تھا کہ ‘کچھ دن پہلے میرے بارے میں بھی افواہ پھیلائی جارہی تھی کہ میں نے ملزمان سے معاہدہ کرلیا ہے جو سراسر جھوٹ ہے۔’ اسی ملزم پارٹی کا آئی ٹی سیل تین چار دنوں سے ایک فحش ویڈیو وائرل کر رہا ہے…” ساکشی ملک نے کہا کہ خاتون ریسلر نے ویڈیو میں ہونے  کے دعوے کو غلط قرار دیا ہے  اور کہا ہے کہ اس ویڈیو سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ادھر پہلوان کے گاؤں میں جہاں غم  ہے وہیں غصہ بھی زبردست نظر آ رہا ہے۔ گاؤں کے پردھان اور لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کھلاڑیوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

ساکشی ملک نے کہا کہ ‘ہم نے جو لڑائی شروع کی تھی وہ انصاف کے لیے تھی اور ملزمان کی جانب سے لوگ ہمیں کتنا ہی بدنام کرنے کی کوشش کریں، جب تک ہمیں انصاف نہیں مل جاتا ہماری لڑائی جاری رہے گی۔’

ونیش پھوگاٹ نے ‘X’ پر اپنی پوسٹ میں لکھا، "آج وزیر قانون شری ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن بل کو پیش کیا۔ اس بل کے دونوں ایوانوں میں منظور ہونے کے بعد لوک سبھا میں خواتین ارکان کی تعداد 181 ہو جائے گی۔ اس بل کو لانے پر حکومت کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایک طرف حکومت خواتین کو عزت دینے کے لیے یہ بل لا رہی ہے تو دوسری طرف خواتین کے جنسی استحصال کے الزام میں برج بھوشن جیسے شخص کو تحفظ دے رہی ہے۔”

ونیش پھوگاٹ نے مزید لکھا، ’’دو دن پہلے سوشل میڈیا پر ملک کی ایک خاتون ریسلر کے نام سے ایک فرضی ویڈیو اپ لوڈ کیا گیا تاکہ اسے بدنام کیا جا سکے۔ حکومت کہاں سو رہی ہے؟ کیا حکومت اس خاتون پہلوان کو انصاف فراہم کر پائے گی؟ حکومت نہ صرف برج بھوشن جیسے شخص کو بچا رہی ہے بلکہ اسی طرح کی ذہنیت والے لوگوں کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ بل کے آنے کے بعد مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ میں جو 181 خواتین ارکان پارلیمنٹ  بیٹھیں گی وہ خواتین کے احترام کے لیے لڑیں گی اور خواتین کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔‘‘

واضح رہے  کہ وائرل ویڈیو معاملے میں 18 ستمبر کو ہریانہ پولیس نے حصار سے ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا اور بتایا تھا کہ پہلوان کی تصویر سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے کہا کہ 30 سیکنڈ کے ویڈیو کلپ کا خاتون ریسلر سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس کا نام ویڈیو میں ملزم نے استعمال کیا تھا۔

خاتون ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث کل، انڈیا اتحاد کی قیادت کریں گی سونیا گاندھی!

0
خاتون-ریزرویشن-بل-پر-لوک-سبھا-میں-بحث-کل،-انڈیا-اتحاد-کی-قیادت-کریں-گی-سونیا-گاندھی!

20 ستمبر نئی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا کے لیے تاریخی ثابت ہونے والا ہے۔ کل خاتون ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث ہوگی اور کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی انڈیا اتحاد کی طرف سے اس بل پر بحث کی قیادت کریں گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سونیا گاندھی کانگریس اور اپوزیشن کی طرف سے خاتون ریزرویشن بل پر اپنی بات رکھیں گی اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بل کے مسودہ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کریں گی۔

قابل ذکر ہے کہ خاتون ریزرویشن بل 19 ستمبر کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا جس پر کل بحث ہونی ہے۔ کانگریس پارٹی اس بل کی حمایت کرتی رہی ہے اور لوک سبھا میں آج خاتون ریزرویشن بل پیش کیے جانے سے قبل جب میڈیا نے سونیا گاندھی سے ان کا رد عمل مانگا تھا تو انھوں نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ ’’یہ تو اپنا ہے۔‘‘ حالانکہ بل کا مسودہ سامنے آنے کے بعد کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے اور مودی حکومت کو دھوکہ باز تک کہہ ڈالا ہے۔

دراصل یو پی اے حکومت میں جو خاتون ریزرویشن بل راجیہ سبھا سے پاس ہوا تھا وہ موجودہ بل سے بہت مختلف تھا۔ مثلاً یو پی اے کے ذریعہ راجیہ سبھا سے پاس کرائے گئے بل میں خواتین کو ریزرویشن فوراً مل جاتا، جبکہ بی جے پی حکومت کے بل میں مردم شماری کرائے جانے اور ڈیلمٹیشن کا عمل انجام دیے جانے کے بعد ہی بل نافذ کرنے کا التزام ہے۔ یعنی 2029 کے لوک سبھا انتخاب میں ہی اس کا نفاذ ممکن ہو پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس خاتون ریزرویشن بل کی مخالفت تو نہیں کرے گی، لیکن مودی حکومت پر حملہ ضرور کرے گی۔

یو پی اے اور مودی حکومت کے بل میں ایک اور فرق ہے۔ راجیہ سبھا سے پاس یو پی اے کے بل میں راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل میں بھی خواتین کو ریزرویشن دینے کا انتظام تھا، لیکن بی جے پی حکومت نے تیار بل میں راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل میں خواتین کو ریزرویشن نہیں دیا گیا ہے۔ یہ دونوں نکات بہت اہم ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ سونیا گاندھی جب انڈیا اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے خاتون ریزرویشن بل پر اپنی بات رکھیں گی تو مضبوطی کے ساتھ معاملہ اٹھائیں گی۔

خاتون ریزرویشن بل کی راہ میں ہیں کئی رخنات، پیش ہے سرسری جائزہ

0
خاتون-ریزرویشن-بل-کی-راہ-میں-ہیں-کئی-رخنات،-پیش-ہے-سرسری-جائزہ

خاتون ریزرویشن بل 19 ستمبر کو لوک سبھا میں پیش کر دیا اور اب 20 ستمبر کو ایوانِ زیریں میں اس پر بحث ہونی ہے۔ اس بل کے پاس ہونے اور قانون بننے کے بعد لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں میں بہت کچھ بدل جائے گا۔ حالانکہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن یقینی بنانے والے اس بل کے قانون بننے کی راہ میں کئی رخنات بھی ہیں۔ آئین پر گہری نظر رکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ بل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کئی رکاوٹوں کو پار کرنا ہوگا اور اس میں سب سے پہلا رخنہ تو فوری مردم شماری اور ڈیلمٹیشن کا عمل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بل (آئین کی 128ویں ترمیم) کے ضابطوں میں یہ صاف درج ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کے قانون بننے کے بعد تب نافذ ہوگا جب آئندہ مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حد بندی (ڈیلمٹیشن) یا انتخابی حلقوں کی از سر نو تعین کا عمل انجام دیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے بل کے پاس ہونے کے بعد اسے قانون بننے کے لیے کم از کم 50 فیصد ریاستی اسمبلیوں سے بھی منظوری لینی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ریاستوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 2002 میں کی گئی آئین ترمیم کے بعد آئین کے آرٹیکل 82 کے مطابق 2021 میں ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کے حساب سے حد بندی کا عمل 2026 میں ہونا تھا۔ پھر 2026 کے بعد پہلی مردم شماری 2031 میں کی جانی ہے، جس کے بعد انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ 2021 میں مردم شماری کا عمل شروع ہونا تھا جسے کورونا وبا کے سبب ملتوی کر دیا گیا تھا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ 2029 کے لوک سبھا انتخاب سے پہلے خاتون ریزرویشن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے حکومت کو تیزی سے کام کرنا ہوگا، جو ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔

سیاسی ماہرین نے ایک اور بڑی فکر کا اظہار کیا ہے۔ ان کا سوال ہے کہ کیا خواتین اپنے شوہروں کے پاس حقیقی طاقت ہونے کے بعد بھی ترجیح حاصل کر سکتی ہیں؟ مشہور وکیل شلپی جین کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ اگر کوٹہ کے تحت منتخب نمائندہ انہی کنبوں سے ہوں گے جہاں مرد رشتہ دار سیاست میں ہیں تو ایسے میں خواتین کے فروغ کے لیے بنائے گئے اس قانون کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس بل میں ان خواتین کو انتخاب لڑنے کے لیے حوصلہ دینے کا التزام ہو سکتا ہے جو سیاسی پس منظر سے نہیں ہیں۔ ورنہ ریزرویشن کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

مودی حکومت نے 2029 تک خاتون ریزرویشن کے دروازے بند کر دیے: کھڑگے

0
مودی-حکومت-نے-2029-تک-خاتون-ریزرویشن-کے-دروازے-بند-کر-دیے:-کھڑگے

منگل کے روز نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا کے لیے پہلا کام کا دن رہا۔ نئی پارلیمنٹ میں راجیہ سبھا کے پہلے اجلاس میں پی ایم مودی نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ (خاتون ریزرویشن بل)، جی-20، ملک کی نئی پارلیمنٹ اور پرانی پارلیمنٹ جیسے اہم موضوعات کا تذکرہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں آج یہاں راجیہ سبھا کے سبھی ساتھیوں سے گزارش کرنے آیا ہوں کہ جب بھی خاتون ریزرویشن بل ہمارے سامنے آئے تو آپ سب متفقہ طور پر اس معاملے میں فیصلہ کریں۔

اس کے بعد راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ خاتون ریزرویشن بل کی ہم نے ہمیشہ حمایت کی ہے۔ 2010 میں راجیہ سبھا میں کانگریس-یو پی اے حکومت نے خاتون ریزرویشن بل پاس کروایا تھا۔ کھڑگے نے کہا کہ سیاست میں جس طرح ایس سی/ایس ٹی طبقہ کو آئینی موقع ملا ہے، اسی طرح او بی سی طبقہ کی خواتین سمیت سبھی کو اس بل سے یکساں موقع ملنا چاہیے۔

حزب مخالف لیڈر نے کہا کہ مودی حکومت جو بل لائی ہے، اس کو غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بل کے موجودہ مسودہ میں لکھا ہے کہ یہ 10 سالہ مردم شماری اور ڈیلمیٹیشن کے بعد ہی نافذ کیا جائے گا۔ کھڑگے نے کہا کہ اس کا مطلب صاف ہے کہ مودی حکومت نے شاید 2029 تک خاتون ریزرویشن کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ بی جے پی کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے بھی خاتون ریزرویشن بل کو لے کر حکومت پر حملہ کیا اور کہا کہ یہ بل سب سے بڑے انتخابی جملوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’انتخابی جملوں کے اس موسم میں یہ سبھی جملوں سے بڑا ہے۔ کروڑوں ہندوستانی خواتین اور لڑکیوں کی امیدوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے۔‘‘ جئے رام رمیش نے حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا ہے کہ ’’جیسا ہم نے پہلے بتایا تھا، مودی حکومت نے ابھی تک 2021 کی دہائی کی مردم شماری نہیں کرائی ہے، جس سے ہندوستان جی-20 میں واحد ملک بن گیا ہے جو مردم شماری کرانے میں ناکام رہا۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راجیہ سبھا رکن جئے رام رمیش کہتے ہیں کہ ’’اس (بل) میں کہا گیا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کے ایکٹ بننے کے بعد کرائی جانے وال پہلی ڈیکیڈ مردم شماری کے بعد ہی خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ ہوگا۔ یہ مردم شماری کب ہوگی؟‘‘ کانگریس لیڈر مزید کہتے ہیں کہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریزرویشن اگلی مردم شماری کی اشاعت اور اس کے بعد ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام پانے کے بعد ہی اثر انداز ہوگا۔ کیا 2024 کے انتخاب سے پہلے مردم شماری اور ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام دیا جائے گا؟ جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ بل اپنے نفاذ کی تاریخ کے بہت غیر واضح وعدے کے ساتھ آج سرخیوں میں ہے۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ ایونٹ مینجمنٹ ہے۔

’ہم ہندوستان کو اُکسانے کی کوشش نہیں کر رہے‘، کناڈا کے وزیر اعظم ٹروڈو کا تیور ہوا نرم!

0
’ہم-ہندوستان-کو-اُکسانے-کی-کوشش-نہیں-کر-رہے‘،-کناڈا-کے-وزیر-اعظم-ٹروڈو-کا-تیور-ہوا-نرم!

کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے علیحدگی پسند سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے پیچھے حکومت ہند کی سازش کا الزام لگایا تھا جس کے بعد ہندوستان نے اپنا سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔ اب جسٹن ٹروڈو کا تیور کچھ نرم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ انھوں نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم ہندوستان کو اکسانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ ہم بس اتنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان اس معاملے کو سنجیدگی سے لے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ رواں سال جون میں کناڈا کے ایک اہم خالصتانی لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ کناڈا کے سرے میں واقع گرو نانک سکھ گرودوارے کے نزدیک دو نامعلوم حملہ آوروں نے نجر پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں اس کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے پر گزشتہ روز کناڈا کے وزیر اعظم ٹروڈو نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کے پیچھے حکومت ہند کی سازش ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کناڈائی سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس یہ ماننے کی وجہ ہے کہ حکومت ہند کے ایجنٹوں نے ہی نجر کا قتل کیا۔ کناڈائی ایجنسیاں نجر کے قتل میں ہندوستان کی سازش کے امکانات کی جانچ کر رہی ہیں۔ ٹروڈو نے یہ بھی زور دیا کہ کناڈا کی زمین میں کناڈائی شہری کے قتل میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ان الزامات کے بعد ہندوستان کی طرف سے سخت اعتراض ظاہر کیا گیا۔ ہندوستانی وزارت کارجہ نے کناڈا کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ ہندوستان نے کہا کہ اس طرح کا الزام صرف ان خالصتانی دہشت گرد اور شدت پسندوں سے دھیان ہٹانے کے لیے ہے جنھیں طویل مدت سے کناڈا میں پناہ دی جا رہی ہے اور جو ہندوستان کی علاقائی اتحاد و سالمیت کے لیے لگاتار خطرہ بنے ہوئے ہیں۔