ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 115

خاتون ریزرویشن بل پر کیا کہتی ہیں ملک کی سرکردہ خاتون سیاسی لیڈران؟

0
خاتون-ریزرویشن-بل-پر-کیا-کہتی-ہیں-ملک-کی-سرکردہ-خاتون-سیاسی-لیڈران؟

خاتون ریزرویشن بل 19 ستمبر کو ہنگامہ کے درمیان لوک سبھا میں پیش کر دیا گیا۔ اس بل کا مسودہ بھی سامنے آ گیا ہے جس کے بعد کئی طرح کے اعتراضات اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ حالانکہ برسراقتدار طبقہ خاتون ریزرویشن بل لوک سبھا میں پیش کیے جانے کو تاریخی اور مودی حکومت کی ایک بہت بڑی حصولیابی ٹھہرا رہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ملک کی سرکردہ خاتون سیاسی لیڈران خاتون ریزرویشن بل کے تعلق سے کیا نظریہ رکھتی ہیں۔

اوما بھارتی (بی جے پی):

مجھے خوشی ہے کہ خواتین کو ریزرویشن مل رہا ہے۔ لیکن اس بات کی کسک بھی ہے کہ یہ (خاتون ریزرویشن بل) بغیر او بی سی ریزرویشن کے آیا ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے او بی سی خواتین کی شراکت داری نہیں کی تو جو سماج ہمیشہ سے ہم پر بھروسہ کرتے آیا ہے، اس کا بھروسہ ٹوٹ جائے گا۔

سپریا شرینیت (کانگریس):

خاتون ریزرویشن کو لے کر مودی جی کی پالیسی اور نیت دونوں میں کھوٹ ہے۔ مودی حکومت کے خاتون ریزرویشن بل میں صاف لکھا ہے کہ خاتون ریزرویشن مردم شماری اور حد بندی کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ مطلب 2029 سے پہلے خاتون ریزرویشن ممکن نہیں ہے۔

رابڑی دیوی (آر جے ڈی):

خاتون ریزرویشن کے اندر محروم، نظر انداز، زرعی اور محنت کش طبقات کی خواتین کی سیٹیں محفوظ ہوں۔ مت بھولو، خواتین کی بھی ذات ہے۔ دیگر طبقات کی تیسری/چوتھی نسل کی جگہ محروم طبقات کی خواتین کی ابھی پہلی نسل ہی خواندہ ہو رہی ہے، اس لیے ان کا ریزرویشن کے اندر ریزرویشن ہونا لازمی ہے۔

آتشی (عآپ):

عام آدمی پارٹی نے اس بل کا استقبال کیا ہے۔ حالانکہ بل کے التزامات 2024 میں نافذ نہیں ہوں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی کو خواتین کے فلاح میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ خاتون ریزرویشن بل نہیں، بلکہ خواتین کو بے وقوف بنانے والا بل ہے۔

ڈمپل یادو (سماجوادی پارٹی):

میں خاتون ہوں اور اس بل کی حمایت کرتی ہوں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ جو آخری صف میں کھڑی خواتین ہیں، اس کو بھی اس کا حق ملنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن ملے۔

محبوبہ مفتی (پی ڈی پی):

مردوں پر مشتمل سیاسی منظرنامہ کے مشکل مرحلہ کو خود پار کرنے کے بعد مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ آخر کار خاتون ریزرویشن بل حقیقت بن جائے گا۔ نصف آبادی ہونے کے باوجود ہماری نمائندگی بے حد کم ہے۔ یہ ایک بہترین قدم ہے۔

این ڈی اے کی حکومت کو 10 سال ہونے والے ہیں۔ اگر انھوں نے یہ پہلے ہی طے کیا ہوتا تو 2024 کے انتخاب میں خواتین کو بڑی تعداد میں حصہ لینے کا موقع ملتا، لیکن دیر آئے درست آئے۔ اچھی بات ہے۔ ملک کی ترقی میں یہ ایک اہم قدم ہوگا۔

مایاوتی (بی ایس پی):

ملک کی خواتین کو لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں میں ریزرویشن 33 فیصد دینے کی جگہ اگر ان کی نصف آبادی کو بھی دھیان میں رکھ کر 50 فیصد دیا جاتا تو اس کی ہماری پارٹی پورے دل سے استقبال کرتی، جس کے بارے میں حکومت کو ضرور غور و خوض کرنا چاہیے۔ لیکن بی ایس پی کے ان مطالبات پر حکومت کی طرف سے عمل نہیں کیا جاتا ہے تب بھی ہماری پارٹی پارلیمنٹ میں اس خاتون ریزرویشن بل کو حمایت دے گی اور اسے پاس کرانے میں پوری مدد کرے گی۔

پرینکا چترویدی (شیوسینا-یو بی ٹی):

یہ 30 سالوں پر مشتمل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ہمارے آئین نے برابری کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بل ضروری تھا۔ کئی پارٹیوں نے بی جے پی کو ساڑھے نو سال پہلے جاری ہوئے اس کے انتخابی منشور کا وعدہ یاد دلایا۔ یہ دیر سے آیا لیکن مجھے امید ہے کہ جلد ہی عمل میں آئے گا۔ بل میں لکھا تھا کہ یہ فوراً نافذ نہیں ہوگا کیونکہ حد بندی ہونے کے بعد ہی اس کا نفاذ ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ 2029 تک یہ ریزرویشن نافذ نہیں ہوگا۔ انھوں نے دروازے تو کھول دیے ہیں، لیکن اب بھی خواتین کے لیے داخلہ ممنوع ہے۔

کانگریس نے خاتون ریزرویشن بل کو بتایا ایک بڑا ’انتخابی جملہ‘، پی ایم مودی کے ’دھوکہ‘ کو سمجھیے

0
کانگریس-نے-خاتون-ریزرویشن-بل-کو-بتایا-ایک-بڑا-’انتخابی-جملہ‘،-پی-ایم-مودی-کے-’دھوکہ‘-کو-سمجھیے

لوک سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پیش کر دیا گیا ہے۔ اسے مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے پیش کیا۔ اس کا مسودہ سامنے آنے کے بعد فوراً کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’یہ بل سب سے بڑے انتخابی جملوں میں سے ایک ہے۔ کروڑوں ہندوستانی خواتین اور لڑکیوں کی امیدوں کے ساتھ یہ بہت بڑا دھوکہ ہے۔‘‘

دراصل کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’انتخابی جملوں کے اس موسم میں یہ سبھی جملوں سے بڑا ہے۔ کروڑوں ہندوستانی خواتین اور لڑکیوں کی امیدوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے۔‘‘ جئے رام رمیش نے حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا ہے کہ ’’جیسا ہم نے پہلے بتایا تھا، مودی حکومت نے ابھی تک 2021 کی دہائی کی مردم شماری نہیں کرائی ہے، جس سے ہندوستان جی-20 میں واحد ملک بن گیا ہے جو مردم شماری کرانے میں ناکام رہا۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راجیہ سبھا رکن جئے رام رمیش کہتے ہیں کہ ’’اس (بل) میں کہا گیا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کے ایکٹ بننے کے بعد کرائی جانے وال پہلی ڈیکیڈ مردم شماری کے بعد ہی خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ ہوگا۔ یہ مردم شماری کب ہوگی؟‘‘ کانگریس لیڈر مزید کہتے ہیں کہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریزرویشن اگلی مردم شماری کی اشاعت اور اس کے بعد ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام پانے کے بعد ہی اثر انداز ہوگا۔ کیا 2024 کے انتخاب سے پہلے مردم شماری اور ڈیلمیٹیشن کا عمل انجام دیا جائے گا؟ جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ بل اپنے نفاذ کی تاریخ کے بہت غیر واضح وعدے کے ساتھ آج سرخیوں میں ہے۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ ایونٹ مینجمنٹ ہے۔

محض 15 سال کے لیے ہے خاتون ریزرویشن بل، آئیے اہم نکات پر ڈالیں نظر

0
محض-15-سال-کے-لیے-ہے-خاتون-ریزرویشن-بل،-آئیے-اہم-نکات-پر-ڈالیں-نظر

خاتون ریزرویشن بل آج لوک سبھا میں مرکزی وزیر قانون ارجن رامی میگھوال کے ذریعہ پیش کر دیا گیا۔ اس بل کو پیش کیے جانے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ خاتون ریزرویشن بل کا نام ’ناری شکتی وندن‘ (قوتِ نسواں کو سلام) ہوگا۔ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ اس بل کے نافذ ہونے کے بعد ہماری جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔ ہماری حکومت اس بل کو قانون بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

بہرحال، خاتون ریزرویشن بل کا جو مسودہ سامنے آیا ہے اس میں کچھ اہم نکات ہیں جس پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کی مدت کار محض 15 سال ہوگی۔ یعنی اگر لوک سبھا میں بحث کے بعد خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دیے جانے والا بل پاس ہو گیا تو ایسا نہیں ہے کہ یہ ہمیشہ کے لیے رہے گا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ نکات ہیں جو بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ آئیے ان نکات پر ڈالتے ہیں ایک نظر۔

  • مرکزی وزیر قانون نے کہا کہ خاتون ریزرویشن بل کے پاس ہونے کے بعد لوک سبھا میں خواتین کے لیے مختص سیٹوں کی تعداد 181 ہو جائے گی۔ لوک سبھا میں فی الحال خاتون اراکین کی تعداد 82 ہے۔

  • مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال کا کہنا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کی مدت کار 15 سال ہوگی۔ حالانکہ اس مدت کار کو بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ کے پاس حق موجود ہوگا۔

  • بل کے مسودہ میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ڈیلمٹیشن یعنی نئی حد بندی کے بعد ہی ریزرویشن نافذ ہوگا۔ مسودہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیلمٹیشن کے لیے ایک کمیشن بنایا جائے گا۔ ڈیلمٹیشن کا عمل پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ ریاستی اسمبلیوں کے لیے بھی ہوگی۔ ڈیلمٹیشن کے بعد تقریباً 30 فیصد سیٹیں بڑھنے کا امکان ہے۔

  • خاتون ریزرویشن بل کے مسودہ کے مطابق پارلیمنٹ اور دہلی سمیت سبھی ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد سیٹیں خواتین کے لیے محفوظ ہوں گی۔ بڑی بات یہ ہے کہ ایس سی-ایس ٹی طبقہ کے لیے کوٹہ کے اندر کوٹہ نافذ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 33 فیصد ریزرویشن کے اندر ایس سی-ایس ٹی میں شامل ذاتوں کو بھی ریزرویشن دینے کا انتظام ہوگا۔

حیرت ہے کہ مودی جی نے خاتون ریزرویشن بل لانے کے لیے 10 سال انتظار کیا: کپل سبل

0
حیرت-ہے-کہ-مودی-جی-نے-خاتون-ریزرویشن-بل-لانے-کے-لیے-10-سال-انتظار-کیا:-کپل-سبل

خاتون ریزرویشن بل لوک سبھا میں پیش کر دیا گیا ہے اور 20 ستمبر کو اس بل پر ایوان زیریں میں بحث ہوگی۔ اس بل کو لوک سبھا میں پیش کیے جانے کی قیاس آرائیاں گزشتہ کچھ دنوں سے چل رہی تھیں اور 18 ستمبر کو مرکزی کابینہ کی ہوئی میٹنگ کے بعد تو ایک طرح سے یہ طے ہی ہو گیا تھا کہ آج لوک سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پیش کر دیا جائے گا۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کے اس قدم پر راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔

دراصل خاتون ریزریوشن بل لوک سبھا میں پیش کیے جانے کی قیاس آرائیوں کے درمیان کپل سبل نے 19 ستمبر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ٹوئٹ کیا جس میں انھوں نے سوال اٹھایا کہ جب سبھی پارٹیاں بل کی حمایت میں تھیں، تو پھر 10 سال تک انتظار کرنے کی کیا ضرورت پڑی؟ سبل کا کہنا ہے کہ ایسا 2024 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کو توجہ میں رکھ کر کیا گیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کپل سبل نے عوام سے اس بات پر غور کرنے کی اپیل کی ہے کہ مودی جی نے خاتون ریزرویشن بل لانے کے لیے 10 سال کا انتظار کیوں کیا۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے ’’خاتون ریزرویشن بل: حیرانی ہو رہی ہے کہ پی ایم مودی نے اس بل کو پیش کرنے کے لیے 10 سال کا انتظار کیوں کیا، جبکہ سبھی پارٹیاں اس کی حمایت میں رہی ہیں؟ شاید 2024 اس کی وجہ ہے۔ لیکن اگر حکومت او بی سی خواتین کو کوٹہ مہیا نہیں کراتی ہے تو بی جے پی 2024 میں یوپی میں بھی ہار سکتی ہے۔ ذرا اس بارے میں سوچیے گا!‘‘

وزیر اعظم مودی نے پرانے پارلیمنٹ ہاؤس کا نام ’سمودھان سدن‘ رکھنے کی تجویز پیش کی

0
وزیر-اعظم-مودی-نے-پرانے-پارلیمنٹ-ہاؤس-کا-نام-’سمودھان-سدن‘-رکھنے-کی-تجویز-پیش-کی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو مشورہ دیا کہ جس دن تمام قانون سازی کے کام پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں منتقل ہو جائیں گے، پارلیمنٹ کی پرانی عمارت کو ’سمودھان سدن‘ (آئین ساز ایوان) کے نام سے جانا جانا چاہیے۔

پارلیمنٹ کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر سینٹرل ہال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا، ’’میری ایک تجویز ہے۔ اب جب کہ ہم نئی پارلیمنٹ میں جا رہے ہیں، پرانی عمارت کا وقار کبھی کم نہیں ہونا چاہیے۔ اسے چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ اگر آپ اتفاق کرتے ہیں تو اسے ‘سمودھان سدن‘ کے نام سے جانا چاہیے۔

اپنے 40 منٹ کے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ’’یہیں 1947 میں انگریزوں نے اقتدار منتقل کیا اور ہمارا سینٹرل ہال اس تاریخی لمحے کا گواہ ہے۔‘‘

پرانے پارلیمنٹ ہاؤس میں منظور کیے گئے کئی اہم قوانین کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہیں پر ‘تین طلاق’ کے خلاف متحد ہو کر احتجاج کیا گیا، جو کہ شاہ بانو کیس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا تھا اور آخر کار طویل انتظار کے بعد ہماری مسلمان ماوؤں اور بہنوں کو اس پارلیمنٹ کی وجہ سے اس وقت انصاف ملا جب قانون سازی کی گئی۔

انہوں نے کہا، ’’گزشتہ برسوں میں پارلیمنٹ نے خواجہ سراؤں کو انصاف فراہم کرنے والے قوانین بھی پاس کیے ہیں۔ ہم نے متحد ہو کر ایسے قوانین پاس کیے جو خاص طور پر معذور افراد کے روشن مستقبل کی ضمانت دیں گے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا موقع ملا۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’اب تک لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے 4000 سے زیادہ قوانین پاس کیے ہیں۔ جب ضرورت پڑی تو بلوں کو پاس کرنے کے لیے حکمت عملی بنانے کے لیے مشترکہ اجلاس منعقد کیے گئے۔ یہ پارلیمنٹ ہی تھی جس نے ہمیں اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی اجازت دی۔ اور ہم نے تین طلاق کے خلاف قانون پاس کیا۔‘‘

منی پور: خاتون تنظیم نے گرفتار 5 نوجوانوں کی رِہائی کا کیا مطالبہ، 48 گھنٹے کے لیے امپھال بند کا اعلان

0
منی-پور:-خاتون-تنظیم-نے-گرفتار-5-نوجوانوں-کی-رِہائی-کا-کیا-مطالبہ،-48-گھنٹے-کے-لیے-امپھال-بند-کا-اعلان

منی پور میں حالات جیسے ہی کچھ بہتر ہوتے ہیں، کوئی نیا معاملہ سامنے آ جاتا ہے۔ اب منی پور کی وادی امپھال میں میتئی خواتین کی تنظیم ’میرا پیبی‘ اور دیگر مقامی کلب نے پیر کی نصف شب سے 48 گھنٹے کے لیے بند کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ بند ہتھیار لے جانے اور وردی پہننے کے الزام میں گرفتار کیے گئے پانچ نوجوانوں کی رِہائی کے لیے بلایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح بازار اور دکانیں بند رہنے کے سبب معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر رہا۔ حالانکہ سڑکوں پر کچھ گاڑیاں چلتی ہوئی ضرور دکھائی دیں، لیکن بند کا خطارہ خواہ اثر بھی ہے۔ پیر کے روز مشرقی امپھال کے کھرئی اور کونگبا، بشنوپور ضلع کے نامبول، مغربی امپھال کے کاکوا اور تھوبل ضلع کے کچھ علاقوں میں میرا پیبی نے سڑکوں کو رخنہ انداز کر دیا تھا۔ منی پور پولیس نے ہفتہ کو پانچ نوجوانوں کو وردی پہن کر اسلحہ لے جانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان پانچوں کو جیوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد انھیں پولیس حراست میں بھیجا گیا۔

آئل لینتھابل سنٹر یونائٹیڈ کورڈنیٹنگ کمیٹی کے صدر یمنام ہٹلر نے کہا کہ گرفتار کیے گئے پانچوں نوجوان یہاں کے شہری اور گاؤں کے سویم سیوک ہیں۔ وہ سبھی اپنے گاؤں کو کوکی-زو شورش پسندوں کے حملے سے بچانے کے لیے رکھوالی کر رہے تھے۔ ہم ان کی رِہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر حکومت انھیں رِہا کرنے میں ناکام رہی تو یہ تحریک مزید تیز ہوگی۔ ہفتہ کو مظاہرین نے پورومپت پولیس اسٹیشن کے سامنے نوجوانوں کی رِہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ بھی کیا تھا۔ اس دوران کچھ مظاہرین اور آر اے ایف کے جوان کو معمولی چوٹیں بھی آئی تھیں۔

خواتین کے لیے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن کا بل پارلیمنٹ میں پیش

0
خواتین-کے-لیے-لوک-سبھا-اور-ریاستی-اسمبلیوں-میں-33-فیصد-ریزرویشن-کا-بل-پارلیمنٹ-میں-پیش

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوسرے دن مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے خاتون ریزرویشن بل پیش کر دیا۔ حکومت نے اس بل کو ناری شکتی وندن (نسوانی قوت کو سلام) بل نام دیا ہے۔ اس بل کو پیش کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی ہے اور اب اس پر کل بحث کی جائے گی۔

خیال رہے کہ خاتون ریزرویشن بل کے تحت لوک سبھا اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کی 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی۔ لوک سبھا میں موجودہ سیٹوں کے حساب سے 181 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔ مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال بل پیش کرتے وقت کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق ہے۔

بل میں ایس سی اور ایس ٹی کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کا انتظام کیا گیا ہے لیکن اس میں او بی سی خواتین کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کوٹا راجیہ سبھا یا ریاستوں کی قانون ساز کونسلوں میں بھی لاگو نہیں کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ’’اٹل جی کے دور میں کئی بار خواتین ریزرویشن بل پیش کیا گیا لیکن ہم اسے منظور کرانے کے لیے ضروری اعداد حاص نہیں کر سکے، اس کی وجہ سے یہ خواب ادھورا رہ گیا۔ خدا نے مجھے خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی طاقت کو تشکیل دینے کا کام کرنے کے لیے چنا ہے۔‘‘

وہیں، لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا ’’ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں راجیہ سبھا میں پاس ہونے والا خواتین ریزرویشن بل ابھی زندہ ہے۔ ہماری سی ڈبلیو سی میٹنگ میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کو پاس کیا جائے۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے بھی خواتین ریزرویشن بل کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا۔ ہم خاتون ریزرویشن بل کو پاس کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔‘‘

قبل ازیں، بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بھی خاتون ریزرویشن بل کی حمایت کی۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی پارٹی خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ ہے۔ لیکن ایس سی، ایس ٹی/ او بی سی کوٹہ کو یقینی بنایا جائے۔ آبادی کے حساب سے 50 فیصد ریزرویشن ہو تو اچھا ہو گا۔ پہلے ایس سی، ایس ٹی اور اب او بی سی ریزرویشن کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ امید ہے اس بار یہ بل پاس ہو جائے گا۔ میں مرکزی حکومت کی جانب سے خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت کرتی ہوں۔‘‘

غورطلب ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب خواتین ریزرویشن بل ایوان کی میز پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ اہم مسئلہ 1996 سے لے کر اب تک کے 27 سالوں میں متعدد بار پارلیمنٹ میں اٹھایا جا چکا ہے لیکن یہ دونوں ایوانوں میں منظور نہ ہو سکا۔ 2010 میں اسے راجیہ سبھا پاس کیا گیا تھا لیکن یہ لوک سبھا سے پاس نہیں ہو سکا تھا۔‘‘

کشمیر: کوکر ناگ کے گڈول جنگل علاقے میں آپریشن ساتویں روز بھی جاری

0
کشمیر:-کوکر-ناگ-کے-گڈول-جنگل-علاقے-میں-آپریشن-ساتویں-روز-بھی-جاری

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکرناگ کے جنگل علاقے میں منگل کو مسلسل ساتویں روز بھی آپریشن جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے کمیں گاہ کو پوری طرح سے تباہ کر دیا ہے اوروسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے کمیں گاہ میں چھپے ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کے لئے مارٹر، گرینیڈ لانچر،مشین گن وغیرہ کے علاوہ اسرائیلی ساخت کے جدید سامان کا بھی استعمال کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے پیر کی شام ایک فوجی جوان کی لاش بر آمد کی جو گذشتہ 6 روز سے لاپتہ تھا۔اس فوجی جوان کی شناخت پردیپ سنگھ کے بطور ہوئی ہے جو فوج کی 19 آر آر سے وابستہ تھا۔

ذرائع کے مطابق فوج نے ایک جھلسی ہوئی لاش بھی بر آمد کی ہے جس کی شناخت معلوم کی جا رہی ہے۔13 ستمبر کو شروع ہونے والے اس آپریشن کے آغاز میں ہی ڈی ایس پی ہمایوں بٹ، کرنل منپریت سنگھ اور میجر آشیش دھونک جاں بحق ہوئے تھے۔معلوم ہوا ہے کہ اتوار کواحتیاطی طور پر سیکورٹی محاصرے کو پوش کریری علاقے تک وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ پھنسے ہوئے ملی ٹینٹ فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپندرا دیویدی نے ہفتے کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکر ناگ جنگل علاقے میں جاری انکائونٹر کی آپریشنل صورتحال کا جائزہ لیا۔

علاوہ ازیں جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار و دیگر افسران آُپریشن پر کی کڑی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔

خصوصی اجلاس: نئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے وزیر اعظم اور دیگر ارکان، تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی اپیل

0
خصوصی-اجلاس:-نئے-پارلیمنٹ-ہاؤس-پہنچے-وزیر-اعظم-اور-دیگر-ارکان،-تلخیوں-کو-بھلا-کر-آگے-بڑھنے-کی-اپیل

نئی دہلی: نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں لوک سبھا کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ آج خصوصی اجلاس کا دوسرا دن ہے اور آج کی کارروائی نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہو گئی۔

نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا، ہندوستان کو چندریان -3 کی کامیابی پر فخر ہے۔ ہم ایک نئے عزم کے ساتھ نئے پارلیمنٹ ہاؤس آئے ہیں۔ ہمیں تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا ہے۔ یہ عمارت نئی ہے۔ تمام انتظامات نئے ہیں۔ سب کچھ نیا ہے، لیکن کل اور آج کو جوڑنے والا ایک بہت بڑا ورثہ ہے جو نیا نہیں، پرانا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’میری طرف سے آپ سبھی کو مچھامی دوکڑم‘۔ آج سموتسری بھی منائی جا رہی ہے، یہ ایک شاندار روایت ہے۔ آج وہ دن ہے جب ہم ‘مچھامی دُکڑم’ کہتے ہیں، یہ ہمیں کسی ایسے شخص سے معافی مانگنے کا موقع فراہم کرتا ہے جسے ہم نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر تکلیف پہنچائی ہو۔ میں پارلیمنٹ کے تمام ارکان اور ملک کے عوام کو بھی ‘مچھامی دوکڑم’ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘ جین مت کے مطابق مچھامی کا مطلب ہے معافی اور دوکڑم کا مطلب ہے غلطیاں۔ اس کا مطلب یہ ہے ’’میری جانب سے کی گئیں دانستہ یا غیر دانستہ غلطیوں کے لئے مجھے معاف کر دیں۔‘‘

رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ حکومت لوک سبھا کی آج کی کارروائی میں ہی خاتون ریزرویشن بل پیش کرنے جا رہی ہے۔ اس بل کو وزیر قانون ارجن رام میگھوال کی جانب سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ ۔اس کے بعد بل کو ایوان سے منظور کرانے کے لئے کل 20 ستمبر کو بحث ہوگی اور 21 ستمبر کو اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔

قبل ازیں، نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں خصوصی اجلاس شروع ہوا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان کا مشترکہ فوٹو شوٹ پرانی پارلیمنٹ میں صبح 9:30 بجے ہوا۔ تصاویر تین گروپوں میں لی گئیں۔ پہلی تصویر میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان موجود تھے اور دوسری تصویر میں راجیہ سبھا کے سبھی ممبران موجود تھے۔ جبکہ تیسری تصویر میں صرف لوک سبھا کے ممبران تھے۔ پی ایم مودی صبح 11 بجے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال پہنچے۔

وزیر اعظم مودی سنٹرل ہال سے آئین کا نسخہ لے کر پیدل ہی نئے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ اس دوران نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، سونیا گاندھی اور ملکارجن کھڑگے سمیت لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے دیگر ارکان موجود تھے۔ این ڈی اے کے تمام ارکان پارلیمنٹ وزیر اعظم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ اور اپوزیشن کے دیگر ارکان پارلیمنٹ بھی نئی عمارت میں داخل ہوئے لیکن وہ علیحدہ گروپ میں وہاں پہنچے۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری، رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، گورو گگوئی اور دیگر نے ایک ساتھ پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں داخلہ لیا۔

مودی حکومت نے گزشتہ 9.5 سالوں میں ریزرویشن بل پر کوئی قدم نہیں اٹھایا: کانگریس

0
مودی-حکومت-نے-گزشتہ-9.5-سالوں-میں-ریزرویشن-بل-پر-کوئی-قدم-نہیں-اٹھایا:-کانگریس

نئی دہلی: مرکزی کابینہ کی جانب سے خواتین ریزرویشن بل کی منظوری کے بعد کانگریس نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے اس سمت میں تاخیر سے کارروائی کی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ساڑھے 9 سالوں میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے کئی خطوط کے باوجود مودی حکومت نے اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا ’’خواہ بی جے پی نے اس میں بہت تاخیر کی ہے لیکن یہ بہتر ہے دیر سے ہی سہی۔ بل آخرکار دن کی روشنی دیکھ رہا ہے!‘‘

ایکس سابقہ (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے کہا، ’’1989 میں راجیو گاندھی جی نے پہلی بار بلدیاتی اداروں کے لیے یہ تصور پیش کیا تھا۔ راجیو گاندھی کے وژن کو 1993 میں نافذ کیا گیا۔ 2010 میں سونیا گاندھی کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دوران، ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے خواتین کے ریزرویشن بل کو پاس کیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’ساڑھے 9 سالوں میں، سونیا گاندھی، راہل گاندھی جی اور خود کانگریس پارٹی کے کئی خطوط کے باوجود، مودی حکومت نے اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ بھلے ہی بی جے پی نے اس میں کافی تاخیر کی ہے، لیکن یہ کبھی نہ ہونے سے بہتر ہے کیونکہ بل آخرکار دن کی روشنی دیکھ رہا ہے۔

وینوگوپال کا ردعمل وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ کی طرف سے پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ میں خواتین کے لیے ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے آئینی ترمیمی بل کو منظوری دینے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، اس طرح پارلیمنٹ کے جاری خصوصی اجلاس میں تاریخی بل کے پیش ہونے کی راہ ہموار ہو گئی۔‘‘

کانگریس نے حال ہی میں پارٹی کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے حیدرآباد میں اختتام پذیر دو روزہ اجلاس ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خاتون ریزرویشن بل کو منظور کیا جائے۔ پیر کو کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے، این سی پی لیڈر سپریہ سولے اور لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے بھی خصوصی اجلاس میں بل کو پاس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔