ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 113

اسدالدین اویسی نے کی ’خاتون ریزرویشن بل‘ کی مخالفت، لیکن کیوں!

0
اسدالدین-اویسی-نے-کی-’خاتون-ریزرویشن-بل‘-کی-مخالفت،-لیکن-کیوں!

خاتون ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے چیف اسدالدین اویسی نے اس پر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس بل کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور خاتون ریزرویشن بل میں موجود خامیوں کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں اس بل کی مخالفت کر رہا ہوں۔ اس بل کو لے کر یہ دلیل دی گئی ہے کہ اس سے مزید خواتین پارلیمنٹ اور اسمبلی میں منتخب ہو کر آئیں گی۔ اس میں او بی سی اور مسلم خواتین کے لیے انتظام کیوں نہیں کیا گیا ہے؟ ان کی نمائندگی پارلیمنٹ میں بہت کم ہے۔‘‘

حیدر آباد سے رکن پارلیمنٹ اویسی نے کہا کہ ملک میں 7 فیصد مسلم خواتین ہیں، لیکن اس ایوان میں ان کی نمائندگی صرف 0.7 فیصد ہی ہے۔ مسلم لڑکیوں کا ڈراپ آؤٹ 19 فیصد ہے، جبکہ دیگر طبقات میں یہ صرف 12 فیصد ہے۔ اتنا ہی نہیں، نصف مسلم خواتین ناخواندہ ہیں۔ اویسی نے بی جے پی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت اعلیٰ ذات کی خواتین کی نمائندگی بڑھانا چاہتی ہے۔ یہ مسلم اور او بی سی خواتین کی نمائندگی نہیں بڑھانا چاہتی۔ 17ویں لوک سبھا تک مجموعی طور پر 690 خاتون اراکین پارلیمنٹ منتخب کی گئیں۔ ان میں سے صرف 25 خواتین ہی مسلم طبقہ سے تھیں۔‘‘

اویسی نے لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’وہ (حکومت) کہتے ہیں کہ ایوان میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی سہولت نہیں ہے۔ یہ صرف بڑے لوگوں کو پارلیمنٹ میں لانا چاہتے ہیں۔ یہ چھوٹے لوگوں کو پارلیمنٹ میں نہیں چاہتے۔ یہ بل پارلیمنٹ اور اسمبلی میں او بی سی اور مسلم خواتین کے لیے راستے بند کرتا ہے۔‘‘

راکیش ٹکیت کا مطالبات پورے نہ ہونے پر احتجاج کا انتباہ

0
راکیش-ٹکیت-کا-مطالبات-پورے-نہ-ہونے-پر-احتجاج-کا-انتباہ

لکھنؤ: بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے رہنما راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ اگر کسانوں کے مطالبات بشمول آبپاشی کے لیے مفت بجلی اور گنے کے لیے اعلیٰ ایس اے پی کو پورا نہیں کیا گیا تو وہ حکومت کے خلاف اپنا احتجاج تیز کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

راکیش ٹکیت نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ لکھنؤ میں کسانوں کا حالیہ احتجاج اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر کسی سیاسی ایجنڈے سے متاثر نہیں تھا۔ راکیش ٹکیت نے کہا کہ جہاں حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے تئیں لاتعلق ہے وہیں اپوزیشن انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان میں ناراضگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسان اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ نہ ملنے پر حکومت سے بے حد ناخوش ہیں۔ گنے کے کاشتکاروں کو ان کے واجبات وقت پر نہیں مل رہے۔ بی کے یو آنے والے دنوں میں ہر ضلع میں کسان احتجاج کرے گی۔

بی کے یو لیڈر نے غریب کسانوں کی قیمت پر کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مرکز پر بھی تنقید کی۔ ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی حکومت سیاسی فائدے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کے اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

ٹکیت نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس مسئلہ کو حل نہیں کرنا چاہتی۔ ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی اپنے انتخابی منشور میں کسانوں سے کئے گئے وعدوں میں ناکام رہی ہے، چاہے وہ لوک سبھا ہو یا اسمبلی انتخابات۔

غازی آباد میں ’مڈ ڈے میل‘ کا دودھ پینے سے 25 بچے بیمار، اسپتال میں داخل

0
غازی-آباد-میں-’مڈ-ڈے-میل‘-کا-دودھ-پینے-سے-25-بچے-بیمار،-اسپتال-میں-داخل

غازی آباد کے لونی کوتوالی علاقہ کے پرائمری اسکول، پریم نگر میں مڈ ڈے میل کا دودھ پینے سے 25 بچے بیمار ہو گئے ہیں۔ دودھ پیتے ہی طلبا کو سر اور پیٹ میں درد کے ساتھ ساتھ الٹی کی شکایت ہونے لگی۔ بچوں کی خراب ہوتی طبیعت کو دیکھتے ہوئے انھیں فوراً لونی سی ایچ سی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس واقعہ کی خبر ملتے ہی سی ایم او غازی آباد فوراً اسپتال پہنچے اور بیمار بچوں سے ملاقات کی۔ سبھی بچوں کا علاج جاری ہے اور وہ خطرے سے باہر بتائے جا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرائمری اسکول، پریم نگر، لونی میں 513 بچے پڑھتے ہیں۔ پریم نگر اور آس پاس کی کالونی کے بچے بھی اس اسکول میں پڑھنے کے لیے آتے ہیں۔ اسکولی طلبا کا کہنا ہے کہ صبح تقریباً 10 بجے مڈ ڈے میل کا دودھ آیا تھا۔ اسکول اسٹاف نے بچوں کو دودھ پینے کے لیے کہا۔ کچھ بچوں نے جب یہ دودھ پیا تو انھوں نے اس کا مزہ کڑوا ہونے کی شکایت کی۔ بچوں نے اس دودھ کو پینے سے منع بھی کیا، لیکن پھر بھی انھیں دودھ پلایا گیا۔ کچھ بچوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اسکول اسٹاف کے ذریعہ پٹائی ہونے کے خوف سے کڑوا دودھ پی لیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ دودھ پیتے ہی کچھ بچوں کو الٹی ہونے لگی۔ کچھ بچے سر میں درد اور پیٹ درد کی شکایت کرنے لگے۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی بچے سر اور پیٹ درد سے رونے لگے۔ بچوں کی طبیعت اچانک خراب ہونے کی خبر ملتے ہی آس پاس کے لوگ جمع ہو گئے۔ بیمار بچوں کو ایمبولنس کے ذریعہ لونی کمیونٹی ہیلتھ سنٹر میں داخل کرایا گیا۔ اس واقعہ کی خبر ملتے ہی ایس ڈی ایم ارون دیکشت بھی موقع پر پہنچے۔ انھوں نے بیمار بچوں کے اہل خانہ سے بات کی۔ لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے پر پولیس فورس بلایا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے بھی اس اسکول کا کھانا کھانے سے کچھ بچے بیمار ہوئے ہیں۔ اس کی شکایت متعلقہ افسروں سے کی بھی گئی تھی۔

تناؤ کے درمیان وزارت خارجہ نے کینیڈا میں مقیم طلبا اور ہندوستانیوں کے لیے جاری کیں سفری ہدایات

0
تناؤ-کے-درمیان-وزارت-خارجہ-نے-کینیڈا-میں-مقیم-طلبا-اور-ہندوستانیوں-کے-لیے-جاری-کیں-سفری-ہدایات

نئی دہلی: کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے بیان کے بعد کینیڈا میں مقیم ہندوستانیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ دریں اثنا، بدھ (20 ستمبر) کو وزارت خارجہ نے ہندوستانی شہریوں اور طلبا کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں اور طلبا سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ وہاں بڑھتی ہوئی ہندوستان مخالف سرگرمیوں اور مجرمانہ تشدد کے پیش نظر انتہائی احتیاط برتیں۔ اس کے علاوہ کینیڈا جانے والے شہریوں کو بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کینیڈا میں ان علاقوں اور ممکنہ مقامات کا سفر کرنے سے گریز کریں جہاں اس طرح کے واقعات دیکھے گئے ہوں۔ حال ہی میں، ان دھمکیوں نے خاص طور پر ہندوستانی سفارت کاروں اور ہندوستانی کمیونٹی کے ان حصوں کو نشانہ بنایا ہے جو ہندوستان مخالف ایجنڈے کی مخالفت کرتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ ہمارا ہائی کمیشن/قونصلیٹ کینیڈا میں ہندوستانی کمیونٹی کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کینیڈین حکام کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔

تلنگانہ: وزیر اعلیٰ چندرشیکھر راؤ نے مسلم دھوبیوں کو ماہانہ 250 یونٹ مفت بجلی دینے کا کیا اعلان

0
تلنگانہ:-وزیر-اعلیٰ-چندرشیکھر-راؤ-نے-مسلم-دھوبیوں-کو-ماہانہ-250-یونٹ-مفت-بجلی-دینے-کا-کیا-اعلان

تلنگانہ میں اسمبلی انتخاب کے دن قریب آ رہے ہیں، اور اس سے ٹھیک پہلے وزیر اعلیٰ کے. چندر شیکھ راؤ (کے سی آر) نے مسلم دھوبیوں کے حق میں ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ مسلم طبقہ کے جو بھی لوگ لانڈری چلاتے ہیں یا پھر دھوبی گھاٹ پر کام کرتے ہیں، انھیں ہر ماہ 250 یونٹ بجلی مفت دی جائے گی۔ تلنگانہ حکومت نے اس کے لیے ایک سرکلر بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری سرکلر میں مسلم طبقہ کے ایسے لوگوں کو مدد پہنچانے کی ہدایت دی گئی ہے جو دھوبی کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ پہلے یہ فائدہ صرف پسماندہ طبقہ کے دھوبیوں کو دیا جاتا تھا۔ ریاست میں پسماندہ طبقہ کے دھوبیوں کے لیے یہ منصوبہ 2021 سے ہی نافذ ہے، اور یہ فائدہ مسلم دھوبیوں کو بھی مل سکے گا۔

حال ہی میں حیدر آباد سے لوک سبھا رکن اسدالدین اویسی نے کہا تھا کہ مسلم طبقہ سے جڑے کئی لوگ دھوبی ہیں، انھیں بھی پسماندہ طبقہ سے جڑے منصوبے کا فائدہ ملنا چاہیے۔ اب جبکہ مسلم دھوبیوں کو ماہانہ 250 یونٹ بجلی مفت دینے کا اعلان وزیر اعلیٰ کے ذریعہ کر دیا گیا ہے تو یقیناً اویسی کو خوشی ہوئی ہوگی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخاب رواں سال کے آخر میں ہونا ہے، اور کانگریس نے پہلے ہی تلنگانہ میں ’گرہ جیوتی یوجنا‘ کے تحت ہر ماہ 200 یونٹ بجلی مفت دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ ریاست میں کانگریس کو بی جے پی کے ساتھ ساتھ بی آر ایس سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔ مقابلہ سہ رخی ہونے کا پورا امکان ہے، حالانکہ کانگریس لگاتار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ کے سی آر اور بی جے پی دونوں ملے ہوئے ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کر کے 46 لاکھ اموات ہونے سے روک سکتا ہے ہندوستان: ڈبلیو ایچ او

0
ہائی-بلڈ-پریشر-کو-کنٹرول-کر-کے-46-لاکھ-اموات-ہونے-سے-روک-سکتا-ہے-ہندوستان:-ڈبلیو-ایچ-او

نئی دہلی: عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کر کے 2040 تک 4.6 ملین اموات کو روک سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس کے دوران ہائی بلڈ پریشر کے تباہ کن عالمی اثرات پر اپنی پہلی رپورٹ جاری کی۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں 30-79 سال کی عمر کے 188.3 ملین بالغ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں۔ 50 فیصد کنٹرول کی شرح حاصل کرنے کے لیے، ہائی بلڈ پریشر والے 67 ملین سے زیادہ لوگوں کا مؤثر طریقے سے علاج کرنے کی ضرورت ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق، ہائی بی پی کا مسئلہ کل 37 فیصد ہندوستانیوں میں پایا گیا ہے۔ 32 فیصد مرد اور 42 فیصد خواتین اس مرض میں مبتلا ہیں۔ کل متاثرین میں سے صرف 30 فیصد ہی علاج کر پاتے ہیں۔ 35 فیصد خواتین اور 25 فیصد مرد اس علاج سے شفایاب ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الحال صرف 15 فیصد لوگوں (19 فیصد خواتین اور 11 فیصد مرد) کا ہائی بلڈ پریشر کنٹرول میں ہے۔

بے قابو ہائی بی پی ہارٹ اٹیک، فالج اور ناگہانی موت کا سبب بنتا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں دل کی بیماریوں سے ہونے والی 52 فیصد اموات کی وجہ ہائی بی پی ہو سکتی ہے۔

عالمی سطح پر، ہائی بلڈ پریشر دنیا بھر میں تین میں سے ایک بالغ کو متاثر کرتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہر پانچ میں سے چار افراد کا مناسب علاج نہیں کیا جاتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ممالک کوریج میں اضافہ کریں تو 2023 سے 2050 کے درمیان 76 ملین اموات کو روکا جا سکتا ہے۔

انتخابات کے پیش نظر خواتین ریزرویشن بل کو فروغ دینے والی حکومت کا ارادہ کچھ اور ہے! کھڑگے

0
انتخابات-کے-پیش-نظر-خواتین-ریزرویشن-بل-کو-فروغ-دینے-والی-حکومت-کا-ارادہ-کچھ-اور-ہے!-کھڑگے

نئی دہلی: لوک سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پر بحث سے پہلے کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کو حکومت کے ارادوں پر سوال اٹھایا اور کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ حکومت انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسے فروغ دے رہی ہے۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے تیسرے دن خواتین ریزرویشن بل سے قبل اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا، ’’2010 میں ہم نے راجیہ سبھا میں بل پاس کیا تھا لیکن لوک سبھا میں اسے پاس نہیں کیا جا سکا، تو یہ کوئی نیا بل نہیں ہے۔ اگر وہ اسی بل کو آگے بڑھاتے تو یہ کام جلد ہو گیا ہوتا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ وہ انتخابات کے پیش نظر اس کی تشہیر کر رہے ہیں لیکن درحقیقت حد بندی یا مردم شماری ہونے تک، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ وہ پہلے والے کو بھی جاری رکھ سکتے تھے لیکن ان کے ارادے مختلف ہیں۔ ہم اصرار کریں گے کہ خواتین کے ریزرویشن کو لانا پڑے گا اور ہم مکمل تعاون کریں گے لیکن خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کیا جانا چاہیے۔‘‘

ان کا یہ بیان آئین (128 ویں ترمیم) بل 2023 کے لوک سبھا میں کاروبار کی ضمنی فہرست میں پیش کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ خاتون ریزرویشن بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ ریزرویشن 15 سال کی مدت تک جاری رہے گا اور خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کے اندر درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے کوٹہ ہوگا۔ تاہم ذرائع نے بتایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اس قانون کے لاگو ہونے کا امکان نہیں ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اسے حد بندی کا عمل ختم ہونے پر ممکنہ طور پر 2029 کے بعد ہی نافذ کیا جائے گا، میں۔

حد بندی کے عمل کے آغاز کے بعد ریزرویشن نافذ ہو جائے گا اور 15 سال تک جاری رہے گا۔ بل کے مطابق خواتین کے لیے مخصوص نشستیں ہر حد بندی کے بعد تبدیل کی جائیں گی۔ حکومت نے کہا کہ خواتین پنچایتوں اور میونسپل اداروں میں نمایاں طور پر حصہ لیتی ہیں لیکن اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی ابھی تک محدود ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خواتین مختلف نقطہ نظر لاتی ہیں اور قانون سازی کی بحث اور فیصلہ سازی کے معیار کو تقویت دیتی ہیں۔ کانگریس نے اس بل کو ’انتخابی جملہ‘ قرار دیتے ہوئے اسے ملک کی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ دھوکہ بھی قرار دیا ہے۔

‘سوشل میڈیا کے عادی ہو رہے بچے، استعمال کے لیے کم از کم عمر مقرر کی جائے’ کرناٹک ہائی کورٹ

0
‘سوشل-میڈیا-کے-عادی-ہو-رہے-بچے،-استعمال-کے-لیے-کم-از-کم-عمر-مقرر-کی-جائے’-کرناٹک-ہائی-کورٹ

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل (19 ستمبر) کو ایک اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوانوں اور خاص طور پر اسکول کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جائے تو یہ ملک کے لیے اچھا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی تجویز کیا کہ جب انہیں ووٹ کا حق ملے تب ہی انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ عمر 21 یا 18 سال ہو سکتی ہے۔

ٹی او آئی کی رپورٹ کے کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے یہ تبصرہ اس وقت کیا گیا جب جسٹس جی نریندر اور جسٹس وجئے کمار اے پاٹل کی ڈویژن بنچ ایکس کارپ (سابقہ ​​ٹوئٹر) کی اپیل پر سماعت کر رہی تھی۔ ڈویژن بنچ نے کہا، ’’اسکول جانے والے بچے سوشل میڈیا کے عادی ہو چکے ہیں اور اگر ان پر پابندی لگائی جائے تو یہ ملک کے لیے اچھا ہو گا۔‘‘

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق عدالت نے مزید کہا، ’’بچے 17 یا 18 سال کے ہو سکتے ہیں لیکن کیا ان میں یہ فیصلہ کرنے کی پختگی ہے کہ کیا ملک کے مفاد میں ہے اور کیا نہیں؟ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ انٹرنیٹ سے بھی ان چیزوں کو ہٹایا جانا چاہئے جو جو دماغ میں زہر بھرتی ہیں۔ حکومت کو سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔‘‘

کرناٹک ہائی کورٹ کے یہ تبصرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی طرف سے دائر اپیل کی سماعت کے دوران سامنے آئے ہیں جس میں سنگل جج بنچ کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے، جس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69اے کے تحت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے احکامات جاری کیے تھے۔ منظور شدہ حکم پر سوال اٹھانے والی ان کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے کمپنی پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالت نے کمپنی سے کہا تھا کہ وہ اپنی صداقت ظاہر کرنے کے لیے جرمانے کی رقم کا 50 فیصد جمع کرے۔ کمپنی نے دلیل دی کہ یہ جرمانہ بہت زیادہ ہے اور غیر منصفانہ بھی۔

کیس کی سماعت بدھ (20 ستمبر) تک ملتوی کر دی گئی۔ عدالت نے کہا کہ وہ ‘ایکس کارپ’ کی طرف سے مانگی گئی عبوری راحت پر بدھ کو فیصلہ کرے گی اور اس کی اپیل پر بعد میں سماعت کی جائے گی۔

سونیا گاندھی نے کی خاتون ریزرویشن بل کی حمایت، تمام رکاوٹوں کو دور کر کے فوری نافذ کرنے کا مطالبہ

0
سونیا-گاندھی-نے-کی-خاتون-ریزرویشن-بل-کی-حمایت،-تمام-رکاوٹوں-کو-دور-کر-کے-فوری-نافذ-کرنے-کا-مطالبہ

نئی دہلی: ملک کی نئی پارلیمنٹ میں آج کارروائی کا دوسرا دن ہے اور خواتین ریزرویشن بل پر لوک سبھا میں بحث ہو رہی ہے۔ کانگریس لیڈر سونیا گاندھی نے اعلان کیا کہ کانگریس خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کرا کے اس بل میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی ریزرویشن کا بندوبست کیا جانا چاہئے۔ انہوں کہا کہ تمام رکاوٹوں کو دور کر کے اس بل کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہئے کیونکہ مزید تاخیر ہندوستانی خواتین کے لیے بہت ناانصافی کی بات ہوگی۔

سونیا گاندھی کی مکمل تقریر

لوک سبھا اسپیکر کا شکریہ ادا کرنے کے بعد سونیا گاندھی نے کہا، انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے میں ناری شکتی وندن قانون کی حمایت میں کھڑی ہوئی ہوں۔ دھوئیں سے بھری ہوئی رسوئی سےے لے کر روشنی سے جگمگاتے ہوئے اسٹیڈیم تک بھارت کی خواتین کا سفر بہت لمبا ہے لیکن آخرکار اس نے منزل کو چھو لیا ہے۔ اس نے جنم دیا، اس نے پریوار چلایا، اس نے مردوں کے بیچ تیز دوڑ لگائی اور بے مثال صبر و تحمل کے ساتھ اکثر خود کو ہارتے ہوئے لیکن آخری بازی میں جیت کو دیکھا۔ بھارت کی خواتین کے دل میں وسیع سمبر جیسا صبر ہے اور اس نے خود کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی شکایت نہیں کی اور صرف اپنے فائدے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ اس نے ندیوں کی طرح سب کی بھلائی کے لیے کام کیا ہے اور مشکل وقت میں ہمالیہ کی طرح ڈٹی رہی۔

خاتون کے صبر کا اندازہ لگانا ناممکن ہے، وہ آرام کو نہیں جانتی اور تھک جانا بھی نہیں جانتی۔ ہمارے عظیم ملک کی ماں ہے خاتون لیکن خاتون نے ہمیں صرف جنم ہی نہیں دیا ہے، اپنے آنسوؤں، خون پسینہ سے سینچ کر ہمیں اپنے بارے میں سوچنے لائق عقلمند اور طاقتور بھی بنایا ہے۔

خاتون کی محنت، خاتون کی حرمت اور خاتون کی قربانی کی شناخت کر کے ہی ہم لوگ انسانیت کے امتحان میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ جنگ آزادی اور جدید ہندوستان کی تعمیر کے ہر محاذ پر خاتون مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر لڑی ہے۔ وہ امیدوں، توقعات، تکلیفوں اور گھرستی کے بوجھ تلے نہیں دبی۔ سروجنی نائیڈو، سوچیتا کرپلانی، ارونا آصف علی، وجے لکشمی پنڈت، راجکماری امرت کور اور ان کے ساتھ تمام لاکھوں خواتین سے لے کر آج کے آج کی تاریخ تک خاتون نے مشکل وقت میں ہر بار مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، بابا صاحب امبیڈکر اور مولانا آزاد کے خوابوں کو زمین پر اتار کر دکھایا ہے۔ اندرا گاندھی جی کی شخصیت اس سلسلہ میں بہت ایک بہت روشن اور زندہ مثال ہے۔

خود میری زندگی کا یہ بہت جذباتی لمحہ ہے۔ پہلی مرتبہ مقامی بلدیہ میں خواتین کی شراکت طے کرنے والی آئینی ترمیم میرے شریک حیات راجیو گاندھی جی لائے تھے، جو راجیہ سبھا میں 7 ووٹوں سے گر گیا تھا۔ بعد میں پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت میں کانگریس پارٹی نے ان سے یہ کام کرایا۔ آج اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک بھر کے مقامی بلدیہ کے ذریعے ہمارے پاس 15 لاکھ منتخب شدہ خواتین لیڈر ہیں۔ راجیو گاندھی جی کا خواب ابھی تک نصف ہی پورا ہوا ہے، اس بل کے منظور ہونے کے ساتھ ہی وہ پورا ہو جائے گا۔

کانگریس پارٹی اس بل کی حمایت کرتی ہے۔ ہمیں اس بل کے منظور ہونے سے خوشی ہے مگر ایک تشویش بھی ہے میں سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ گزشتہ 13 برسوں سے ہندوستانی خواتین اپنی سیاسی ذمہ داری کا انتظار کر رہی ہیں اور اب انہیں کچھ سال اور انتظار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ کتنے سال 2 سال، 4 سال، 6 سال، 8-10 کیا؟ کیا ہندوستان کی خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک مناسب ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کا مطالبہ ہے کہ اس بل کو فوراً عمل میں لایا جائے اور اس کے ساتھ ہی ذات پر مردم شماری کرا کر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کی خواتین کے ریزرویشن کا بھی انتظام کیا جائے۔ حکومت کو اس کے لیے جو قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وہ اٹھانے چاہئیں۔

خواتین کو شکریہ کے تعاون کا اعتراف کرنے اور انہیں شکریہ کہنے کا یہ سب سے مناسب وقت ہے۔ اس بل میں اور تاخیر کرنا ہندوستانی خواتین کے ساتھ بہت ناانصافی ہوگی۔ انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ناری شکتی وندن کو اس کے راستہ کی تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اسے فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

خاتون ریزرویشن بل: نئی پارلیمنٹ میں حکومت نے عظیم جھوٹ سے اپنی اننگ شروع کی! اکھلیش یادو

0
خاتون-ریزرویشن-بل:-نئی-پارلیمنٹ-میں-حکومت-نے-عظیم-جھوٹ-سے-اپنی-اننگ-شروع-کی!-اکھلیش-یادو

لکھنؤ: خاتون ریزرویشن بل یعنی ناری شکتی وندن قانون لوک سبھا میں پیش کیا جا اور آج پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے تیسرے دن اس پر بحث کی جائے گی۔ دریں اثنا، اس معاملہ پر یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے مرکزی حکومت نو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نئی پارلیمنٹ میں اپنی اننگ کے پہلے ہی دن عظیم جھوٹ بولا ہے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ’’نئی پارلیمنٹ میں پہلے ہی دن بی جے پی نے عظیم جھوٹ سے اپنی اننگ شروع کی ہے۔ جب مردم شماری اور حدبندی کے بغیر خاتون ریزرویشن بل نافذ ہی نہیں ہو سکتا، جس میں کئی سال گزر جائیں گےے، تو بی جے پی حکومت کو آپا دھاپی میں خواتین سے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘

اکھلیش یادو نے مزید کہا ’’بی جے پی حکومت نہ تو مردم شماری کے حق میں ہے اور نہ ہی ذات پر مبنی مردم شماری کے حق میں، اس کے بغیر تو خواتین کا ریزرویشن ممکن نہیں۔ ’خاتون ریزرویشن‘ جیسے سنجیدہ موضوع پر یہ آدھا ادھورا بل مضحکہ خیز ہے، جس کا جواب خواتین آئندہ انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈال کر دیں گی۔‘‘

قبل ازیں، اکھلیش یادو نے خاتون ریزرویشن بل میں پسماندہ، دلت اور اقلیتی خواتین کو شامل نہ کرنے پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ایک پر اپنی کل کی ایک پوسٹ میں اکھلیش یادو نے لکھا، ’’خاتون ریزرویشن میں صنفی انصاف اور سماجی انصاف کا توازن ہونا چاہئے۔ اس میں پسماندہ، دلت، اقلیتی، قبائلی طبقات کی خواتین کا ریزرویشن مقررہ فیصد کے طور پر صاف ہونا چاہئے۔‘‘

دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی نے بھی اس بل پر مرکز سے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں۔ منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا بل لایا جا رہا ہے، بی ایس پی جس کے حق میں ہے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ اس بار خواتین ریزرویشن بل ضرور پاس ہو جائے گا، جو کافی عرصے سے معلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی خواتین کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن دینے کے بجائے اگر ان کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے 50 فیصد ریزرویشن دیا جاتا ہے تو ہماری پارٹی اس کا تہہ دل سے خیر مقدم کرے گی، جس کے بارے میں حکومت ضرور نوٹس لیں۔

مایاوتی نے کہا ’’ہماری پارٹی اس بل کی حمایت ضرور کرے گی لیکن اس میں ایس سی، ایس ٹی خواتین کے علاوہ او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن ملنا چاہئے۔ اسے پہلے سے مقررہ کوٹے میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے۔‘‘ او بی سی خواتین کے حوالہ سے سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی یکجا نظر رہی ہیں لیکن بی ایس پی نے اقلیتی طبقہ کی خواتین کے لیے ریزرویشن کی بات نہیں کی ہے۔