جمعہ, اکتوبر 2, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 105

ڈی یوایس یو انتخابات میں اے بی وی پی نے تین اور این ایس یو آئی نے ایک عہدے پر جیت درج کی

0
ڈی-یوایس-یو-انتخابات-میں-اے-بی-وی-پی-نے-تین-اور-این-ایس-یو-آئی-نے-ایک-عہدے-پر-جیت-درج-کی

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے ہفتہ کو دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈی یو ایس یو) کے انتخابات میں صدر سمیت تین عہدوں پر کامیابی حاصل کی، جب کہ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین (این ایس یو آئی) نے ایک عہدہ جیتا۔

قابل ذکر ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ڈی یو میں تین سال بعد طلبہ یونین کے انتخابات ہوئے ہیں۔ بی جے پی رہنما نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں اے بی وی پی کی زبردست جیت پر پریشد کے تمام کارکنوں کو دلی مبارکباد۔ یہ جیت قومی مفاد کو اولین ترجیح ماننے والے نظریے میں نوجوان نسل کے یقین کی عکاسی کرتی ہے۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ پریشد کے کارکنان نوجوانوں میں سوامی وویکانند جی کے نظریات اور قوم پرستی کے جذبے کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل عزم کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے پارٹی کے تمام کارکنوں کو مبارکباد دی۔‘‘

ڈی یو ایس یو انتخابات میں اے بی وی پی کے تشار ڈیڑھا نے صدر کے عہدے پر کامیابی حاصل کی۔ ڈیڑھا کو 23 ہزار 460 ووٹ ملے ہیں، جب کہ دوسرے نمبر پر رہے این ایس یو آئی کے ہتیش گلیا کو 20 ہزار 345 ووٹ ملے ہیں۔ وہیں وائس پریزیڈنٹ کے عہدے پر این ایس یو آئی کے ابھی دہیا نے جیت حاصل کی ہے۔ انہیں 22331 ووٹ ملے ہیں، جب کہ دوسرے نمبر پر رہے اے بی وی پی کے سوشانت دھنکھر کو 20502 ووٹ ملے۔ سکریٹری کے عہدے پر اے بی وی پی کی ارپیتا نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہیں 24534 ووٹ ملے، جبکہ دوسرے نمبر پر این ایس یو آئی کی یکشنا شرما کو 11597 ووٹ ملے۔ اے بی وی پی کے سچن بینسلا کو جوائنٹ سکریٹری کا عہدہ حاصل ہوا ہے۔ انہیں 24955 ووٹ ملے، جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والے این ایس یو آئی کے شبھم کمار کو 14960 ووٹ ملے۔

رمیش بدھوڑی کے غیر پارلیمانی بیان پر ہنگامہ جاری، عارف نسیم خان نے بھی لوک سبھا اسپیکر کو لکھا خط

0
رمیش-بدھوڑی-کے-غیر-پارلیمانی-بیان-پر-ہنگامہ-جاری،-عارف-نسیم-خان-نے-بھی-لوک-سبھا-اسپیکر-کو-لکھا-خط

بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے ذریعہ لوک سبھا میں بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف دیے گئے انتہائی متنازعہ، قابل اعتراض اور غیر پارلیمانی بیان کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں کی ناراضگی کم نہیں ہو رہی ہے۔ لگاتار رمیش بدھوڑی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور بی جے پی کو سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلے دانش علی نے خود لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر یہ معاملہ خصوصی استحقاق کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ بدھوڑی کے خلاف رول 222، 226 اور 227 کے تحت نوٹس دینا چاہتے ہیں۔ اب کانگریس رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری اور سابق وزیر عارف نسیم خان نے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر بی جے پی لیڈر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھیر رنجن چودھری نے 22 ستمبر کو لکھے گئے خط میں بی جے پی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نفرت پھیلانے کا کام کرتی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو تحریر کردہ خط میں ادھیر رنجن چودھری نے کہا ہے کہ ’’پارلیمنٹ کی تاریخ میں کبھی ایسے الفاظ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ اس عمل کے لیے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔‘‘

اس تعلق سے مغربی بنگال میں کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’یہ (متنازعہ بیان) ثابت کرتا ہے کہ بی جے پی نفرت کی سیاست کرتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے لیڈروں نے جس طرح کے دعوے نئی پارلیمنٹ کو لے کر کیے تھے، اس کے پیچھے کی اصلیت پتہ چل گئی۔‘‘

دوسری طرف کانگریس کے سابق وزیر اور سینئر لیڈر عارف نسیم خان نے لوک سبھا اسپیکر کو 23 ستمبر کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ’’جس بنیادی اصول پر ہمارا ملک کھڑا ہے، وہ سیکولرزم ہے، جو سبھی مذاہب اور عقیدوں کے لیے احترام کو فروغ دیتا ہے اور تنوع میں اتحاد کو فروغ دیتا ہے۔‘‘ اس خط میں عارف نسیم خان یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’بدھوڑی کا تبصرہ بدقسمتی سے اس کے بالکل برعکس ہے اور یہ ہماری جمہوری روایات کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ یہ بہت افسوسناک ہے کہ وہ زبان جو پہلے آر ایس ایس اور وی ایچ پی جیسی تنظیموں سے جڑے لوگوں میں سڑک پر بحث تک ہی محدود تھی، اب بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے ذریعہ سے پارلیمنٹ میں داخل ہو گئی ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر کا مطالبہ ہے کہ’’بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کو فوراً (لوک سبھا سے) معطل کیا جائے۔ بدھوڑی نے جمہوریت کے پاکیزہ مندر کی بے حرمتی کی ہے۔ ایسے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا خاموش کیوں ہیں؟‘‘

مودی حکومت کے ذریعہ بغیر سوچے سمجھے آناً فاناً میں لایا گیا خاتون ریزرویشن بل: کانگریس

0
مودی-حکومت-کے-ذریعہ-بغیر-سوچے-سمجھے-آناً-فاناً-میں-لایا-گیا-خاتون-ریزرویشن-بل:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے خاتون ریزرویشن بل معاملے پر آج مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پر خواتین کو دھوکہ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ کانگریس نے کہا کہ خاتون ریزرویشن ملک کی نصف آبادی کی سیاسی شراکت داری اور ان کی خود مختاری کا سب سے ضروری ذریعہ ہے۔ کانگریس پارٹی خاتون ریزرویشن کی پرزور حمایت کرتی ہے۔ یہ بل پاس ہو گیا، لیکن یہ نافذ کب ہوگا اس کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں ہے۔

نئی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے مودی حکومت پر خاتون ریزرویشن بل جلد بازی میں پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’خاتون ریزرویشن بل آناً فاناً میں بغیر سوچے سمجھے لایا گیا ہے۔ حکومت کے وزرا اور اراکین پارلیمنٹ کے مطابق یہ 2039 تک نافذ ہوگا۔ مردم شماری اور حد بندی سے خاتون ریزرویشن بل کو جوڑ کر خواتین کو طویل انتظار کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ ایسے میں ملک کی نصف آبادی خود کو ٹھگا محسوس کر رہی ہے۔‘‘

سپریا شرینیت کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی اگر اس قانون سے خواتین کو واقعی طاقت اور شراکت داری دینے کی منشا ہے تو پھر کس بات کی دیری کی جا رہی ہے۔ او بی سی خواتین کو لے کر حکومت ایک لفظ بھی نہیں بول رہی ہے۔ ریاستوں میں اپنی شکست، انڈیا اتحاد کی طاقت اور اڈانی معاملے پر جانچ نہ ہو جائے، اسے دیکھ کر ہی مودی حکومت نے انڈیا بمقابلہ بھارت کا شگوفہ بھی چھوڑا ہے۔ جب اس کے خلاف لوگوں کی ناراضگی دکھائی دی تو بغیر سوچے سمجھے خاتون ریزرویشن بل لایا گیا۔ اب اسے نافذ کرنے کے لیے 12-10 سال کا انتظار کرنا پڑے گا۔

کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے پریس کانفرنس میں سوال کیا کہ ہر اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے، سالانہ دو کروڑ روزگار، کسانوں کی دوگنی آمدنی، 100 اسمارٹ سٹی، روپے ڈالر کی ایک قیمت، 40 روپے لیٹر فروخت ہونے والا پٹرول، چین کو دکھائی جانے والی لال آنکھ جیسی تمام چیزوں کی طرح یہ بھی محض جملہ تو نہیں ہے؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ جب خاتون ریزرویشن بل پاس ہوا تو بی جے پی کی تمام خاتون اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم مودی سے مل کر ان کا استقبال کیا اور تصویر کھنچوائی۔ یہ ہندوستان کی سب سے مضبوط خواتین ہیں۔ لیکن اتنی طاقتور خواتین کی خواتین کے خلاف ہو رہے جرم پر لگاتار خاموشی دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی ہاتھرس سے لے کر کٹھوا، اتراکھنڈ سے لے کر منی پور میں ہوئی درندگی کو لے کر ایک لفظ نہیں کہا۔ اگر آپ نصف آبادی کی نمائندگی کر رہے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو نصف آبادی کی سیکورٹی اور ان کے خلاف ہو رہے مظالم پر بولنا پڑے گا۔ ان کے خلاف جرم کرنے والوں کو مل رہے سیاسی تحفظ کے خلاف آواز اٹھانی پڑے گی۔

اچھوت ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ کی سنگ بنیاد تقریب میں سابق صدر کووند کو نہیں بلایا گیا تھا: کھڑگے

0
اچھوت-ہونے-کی-وجہ-سے-پارلیمنٹ-کی-سنگ-بنیاد-تقریب-میں-سابق-صدر-کووند-کو-نہیں-بلایا-گیا-تھا:-کھڑگے

راجستھان میں رواں سال اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیاں راجستھان میں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سمیت کئی لیڈران آج راجستھان پہنچے۔ اس دوران کھڑگے نے جئے پور میں کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

کانگریس صدر نے اپنی تقریر کے دوران نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کے لیے اس وقت کے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو مدعو نہیں کیے جانے پر سوال اٹھایا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کے لیے اس وقت کے صدر رام ناتھ کووند کو مدعو نہیں کیا گیا تھا کیونکہ وہ اچھوت ہیں۔‘‘

کھڑگے نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’ہم صرف بی جے پی سے نہیں لڑ رہے ہیں۔ انتخاب میں بی جے پی ہمارے خلاف 4 امیدوار اتارتی ہے۔ ایک ان کا اپنا امیدوار، دوسرا ای ڈی کا امیدوار، تیسرا سی بی آئی کا امیدوار، چوتھا انکم ٹیکس کا امیدوار۔ ہمیں ان سب کو شکست دے کر جیتنا ہے، کیونکہ وہ جب چاہیں تب ای ڈی لگا دیں گے، سی بی آئی لگا دیں گے، جب بھی ہمارے سمیلن ہوتے ہیں، اس کے دوسرے دن یا اسی دن چھاپہ ماری ہو جاتی ہے۔‘‘

پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’یہ ملک کو بنانے کا وقت ہے، جمہوریت کو بچانے کا وقت ہے، آئین کو بچانے کا وقت ہے… اس لیے ہم سب کو اٹھنا ہے۔ یہ لڑائی کسی ایک کی نہیں ہے۔ مودی حکومت کے خلاف یہ لڑائی 140 کروڑ لوگوں کے حقوق کو محفوظ کرنے کی لڑائی ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا بحث کرنے کی جگہ ہیں، وہ جگہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کی ہیں… وہ نمائش کرنے کی جگہ نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کہتی ہے ہم جمہوری ہیں، لیکن کیا یہ جمہوریت ہے؟

9 وندے بھارت ایکسپریس کو کل پی ایم مودی دکھائیں گے ہری جھنڈی، 11 ریاستوں کو ملے گا فائدہ

0
9-وندے-بھارت-ایکسپریس-کو-کل-پی-ایم-مودی-دکھائیں-گے-ہری-جھنڈی،-11-ریاستوں-کو-ملے-گا-فائدہ

24 ستمبر یعنی اتوار کے روز ہندوستان کو 9 نئی وندے بھارت ایکسپریس ٹرینیں ملنے والی ہیں۔ ان ٹرینوں کو پی ایم مودی دوپہر 12.30 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ یہ نئی وندے بھارت ٹرینیں 11 ریاستوں کی عوام کو مستفید کریں گی۔ ان میں سے کچھ وندے بھارت ٹرینیں پوری، مدورئی اور تروپتی جیسے ہندو عقیدے کے لیے اہم مقامات سے بھی گزریں گی۔ جن راستوں پر یہ وندے بھارت ٹرینیں چلیں گی ان راستوں پر سب سے تیز ٹرینین ہوں گی۔ یعنی مسافروں کے وقت میں بہت بچت ہوگی۔

یہ 9 وندے بھارت ٹرینیں 11 ریاستوں راجستھان، تمل ناڈو، تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، بہار، مغربی بنگال، کیرالہ، اڈیشہ، جھارکھنڈ اور گجرات کی عوام کو فائدہ پہنچائیں گی۔ ان 9 ٹرینوں کے روٹ اس طرح ہیں: اودے پور-جئے پور، ترونیلویلی-مدورئی-چنئی، حیدر آباد-بنگلورو، وجئے واڑا-چنئی (بذریعہ رینیگونٹا)، پٹنہ-ہوڑہ، کاسرگوڈ-ترووننت پورم، راؤرکیلا-بھونیشور-پوری، رانچی-ہوڑہ، جام نگر-احمد آباد۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں ریلوے ذرائع کے حوالے سے ہی خبریں سامنے آ گئی تھیں کہ ملک کو 9 نئی وندے بھارت ٹرینیں ملنے والی ہیں۔ ریلوے ذرائع نے مطلع کیا تھا کہ وندے بھارت ٹرین بنانے والی چنئی کی انٹیگرل کوچ فیکٹری میں کم از کم 9 ٹرینیں بن کر تیار ہیں۔ ان 9 ٹرینوں میں سب سے زیادہ تین ٹرینیں جنوبی ریلوے کو الاٹ کی گئی ہیں۔ تین وندے بھارت ٹرینیں پہلے سے ہی اس زون میں چل رہی ہیں۔

وَن نیشن، وَن الیکشن کے لیے کمیٹی کی میٹنگ ختم، آگے کا ایجنڈا تیار!

0
وَن-نیشن،-وَن-الیکشن-کے-لیے-کمیٹی-کی-میٹنگ-ختم،-آگے-کا-ایجنڈا-تیار!

وَن نیشن، وَن الیکشن کو حقیقت کا جامہ پہنانے کے لیے تیار کمیٹی کی آج پہلی باضابطہ میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین رام ناتھ کووند نے کی۔ دہلی کے جودھپور آفیسرز ہاسٹل میں ہوئی اس میٹنگ میں کمیٹی کے اراکین مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال اور سابق رکن پارلیمنٹ غلام نبی آزاد وغیرہ بھی شامل ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وَن نیشن، وَن الیکشن یعنی ایک ملک، ایک انتخاب کو لے کر ہوئی یہ میٹنگ ختم ہو چکی ہے اور میٹنگ میں آگے کے لیے ایجنڈا تیار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں آئندہ ہونے والی میٹنگوں کو لے کر ایجنڈا تیار ہوا ہے اور ساتھ ہی ایک ملک، ایک انتخاب کے لیے تشکیل کمیٹی نے سب سے پہلے اس بات پر غور و خوض کیا کہ ایک ساتھ انتخاب کے راستے میں کیا رخنات ہیں اور انھیں کس طرح سلسلہ وار طریقے سے ختم کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی کمیٹی ایک ساتھ انتخاب کرانے کے لیے تمام سیاسی پارٹیوں، مختلف ریاستوں، انتخابی عمل سے منسلک انتخابی کمیشن سے مشورہ لے کر ضروری ترکیبوں کی سفارش حکومت سے کرے گی۔ ایک ملک، ایک انتخاب کمیٹی کے چیئرمین رام ناتھ کووند کی صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، سابق حزب مخالف لیڈر راجیہ سبھا غلام نبی آزاد، 15ویں مالیاتی کمیشن کے سابق صدر این کے سنگھ، سابق لوک سبھا جنرل سکریٹری سبھاش کشیپ، سینئر وکیل ہریش سالوے، سابق چیف وجلنس کمشنر سنجے کوٹھاری بھی شامل ہوئے۔

واضح رہے کہ ہندوستان میں فی الحال ریاستی اسمبلیوں اور ملک کے لوک سبھا انتخاب الگ الگ وقت پر ہوتے ہیں۔ وَن نیشن، وَن الیکشن کا مطلب ہے پورے ملک میں ایک ساتھ ہی لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخابات ہوں۔ یعنی ووٹرس لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے اراکین کو منتخب کرنے کے لیے ایک ہی دن، ایک ہی وقت پر یا سلسلہ وار طریقے سے اپنا ووٹ ڈالیں گے۔

حالانکہ آزادی کے بعد 1952، 1957، 1962 اور 1967 میں لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہی ہوتے تھے، لیکن 1968 اور 1969 میں کئی اسمبلیاں وقت سے پہلے ہی تحلیل کر دی گئیں۔ اس کے بعد 1970 میں لوک سبھا بھی تحلیل کر دی گئی۔ اس وجہ سے ایک ملک، ایک انتخاب کی روایت ٹوٹ گئی۔

’یہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی انتہا ہے‘ دانش علی کے ساتھ توہین آمیز سلوک پر مولانا ارشدمدنی کا بیان

0
’یہ-مسلمانوں-کے-خلاف-نفرت-کی-انتہا-ہے‘-دانش-علی-کے-ساتھ-توہین-آمیز-سلوک-پر-مولانا-ارشدمدنی-کا-بیان

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں ایک مسلم رکن پارلیمان کے ساتھ توہین آمیز سلوک اور دہشت گرد کہے جانے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشدمدنی نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک شرمشار کردینے والا پہلا واقعہ ہے۔

انہوں نے آج یہاں جاری اپنے ایک بیان میں کہاکہ گزشتہ روز پارلیمنٹ میں حکمراں پارٹی کے ایک ممبرکے ذریعہ جس طرح ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ کے لئے غیر پارلیمانی زبان کا استعمال ہوا یہاں تک کہ اسے کھلے عام دہشت گرد اور دیگر انتہائی قابل اعتراض الفاظ کا استعمال اور پارلیمنٹ کے باہر دیکھ لینے کی دھمکی دی گئی یہ شرمناک اور جمہویت پر دھبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی بہت سے ایشوز پر پارلیمنٹ میں انتہائی گرماگرم اورتلخ بحثیں ہوتی رہی ہیں لیکن کسی منتخب نمائندہ کے خلاف کسی دوسرے ممبر نے ایسے ناپاک اور غیر جمہوری الفاظ کا استعمال کبھی نہیں کیا۔

مولانا مدنی نے کہا کہ یہ جو کچھ ہوا اسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف یہ نفرت کی انتہاہے جو اب جمہوریت کے ایوان تک جا پہنچی ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جب مذکورہ ممبر ایسی ناپاک اور غیر پارلیمانی زبان بول رہا تھا تو حکمراں جماعت کے کسی ممبر نے اسے نہیں روکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہیٹ اسپیچ نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ تھی اور ایوان کے اسپیکر کو فورا اس کا نوٹس لینا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ اگر اپوزیشن کے کسی ممبر نے ایوان میں ایسی زبان کا استعمال کیا ہوتا تو اسے اسی وقت ایوان سے باہر نکال کر اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جاتا اور الیکٹرانک میڈیا اس پر ایک طوفان کھڑا کر دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ کے خلاف اس طرح کی زبان کا استعمال یہ باور کراتا ہے کہ عام مسلمانوں کو تو جانے دیں اب مسلمانوں کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ اگر آج کے نئے ہندوستان کی یہی تصویر ہے تو یہ بہت خطرناک اور مایوس کن ہے۔ سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقریر کے خلاف از خود نوٹس لیکر کارروائی کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں اور اس کی بنیاد پر بعض معاملوں میں کارروائی بھی ہوئی ہے لیکن چونکہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کا ہے اس لئے کارروائی کا مکمل اختیار اسپیکر کے پاس ہے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ اسپیکر کی یہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ مذکورہ ممبر کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیں۔

غازی آباد میں 2 منزلہ مکان تیز دھماکہ کے بعد منہدم، 1 شخص کی موت اور 6 داخل اسپتال

0
غازی-آباد-میں-2-منزلہ-مکان-تیز-دھماکہ-کے-بعد-منہدم،-1-شخص-کی-موت-اور-6-داخل-اسپتال

غازی آباد کے لونی کوتوالی علاقہ واقع روپ نگر انڈسٹریل ایریا میں دو منزلہ مخدوشم مکان دھماکہ کے ساتھ گر گیا۔ پولیس نے ملبہ میں دبے 7 لوگوں کا ریسکیو کیا ہے۔ ان میں سے ایک کی موت اسپتال میں ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والی ایک لڑکی ہے۔

ڈی سی پی وویک چندر یادو نے بتایا کہ ہفتہ کے روز صبح تقریباً 11 بجے مکان منہدم ہونے کی اطلاع ملی تھی۔ فوری طور پر پولیس فورس بھیج کر ریسکیو کا عمل شروع کیا گیا۔ اس میں آس پاس کے لوگوں کا بھی تعاون لیا گیا۔ کچھ ہی دیر میں ملبہ سے 7 لوگ باہر نکال لیے گئے۔ ان میں خاتون، مرد اور بچے سبھی تھے۔ انھیں نزدیکی اسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا۔ یہاں سے کچھ کو ہائر سنٹر بھی ریفر کیا گیا۔ ہائر سنٹر سے ایک لڑکی کی موت ہو جانے کی خبر ملی ہے۔ واقعہ کے اسباب کی جانچ کرائی جا رہی ہے۔

ڈی سی پی نے بتایا کہ آس پاس کے لوگوں سے پوچھ تاچھ کرنے پر پتہ چلا کہ انھیں تیز دھماکے کی آواز سنائی دی تھی جو اس حادثے کا سبب بنا۔ ابھی تک ملی جانکاری کے مطابق شکیل نامی شخص نے مکان کرایہ پر لیا تھا۔ اس میں شکیل کا پورا کنبہ رہتا تھا۔ آس پاس کے بھی خواتین و بچے روزانہ یہاں پر کام کرنے کے لیے آتے تھے۔ کیا کام کیا جاتا تھا، اس بارے میں کسی کو زیادہ جانکاری نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہاں پٹاخہ بنانے کا کام ہوتا تھا۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

کانگریس کارکن ببر شیر ہیں، بی جے پی گھبرا گئی ہے: راہل گاندھی

0
کانگریس-کارکن-ببر-شیر-ہیں،-بی-جے-پی-گھبرا-گئی-ہے:-راہل-گاندھی

جے پور: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے ہفتہ (23 ستمبر) کو راجستھان میں ورکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت کے ساتھ جے پور میں کانگریس کے نئے دفتر کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

مرکز کو نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ پہلے وہ (مرکزی حکومت) خواتین کے ریزرویشن کی بات نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے انڈیا یا بھارت نام کے تنازعہ پر بحث کے لیے خصوصی اجلاس کا اعلان کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اس معاملے پر متفق نہیں ہیں تو وہ گھبرا گئے۔ کیونکہ خصوصی اجلاس کا اعلان ہو چکا تھا۔ اسی لیے وہ خاتون ریزرویشن بل لے آئے۔

کانگریس لیڈر نے مزید کہا ’’ہم نے بل کی حمایت کی۔ بی جے پی کہہ رہی ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنے کے لیے نئی مردم شماری اور حد بندی کی ضرورت ہے لیکن حقیقت میں 33 فیصد ریزرویشن آج بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ بی جے پی ریزرویشن میں 10 سال کی تاخیر کرنا چاہتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اسے فوری طور پر لاگو کیا جائے۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ او بی سی خواتین کو بھی اس کا فائدہ ملے۔‘‘

کانگریس کے سابق صدر نے کہا ’’یہ کارکنوں کی کانفرنس ہے۔ لوگ دور دور سے آئے ہیں۔ راجستھان میں رنتھامبور ہے اور وہاں شیر دیکھنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں، جبکہ شیر ایک جھلک دکھا کر بھاگ جاتا ہے۔ اسی طرحھ میں نے پہلی بار دیکھا ہے، یہاں ہزاروں ببر شیر ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔ یہاں نفرت کا بازار نہیں ہے، محبت کی دکان ہے۔‘‘

کانفرنس کے دوران راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا ’’آج پورا کانگریس خاندان جے پور میں بیٹھا ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار ریاستی کانگریس کمیٹی کی عمارت بن رہی ہے۔ آج راجستھان اقتصادی ترقی کی شرح میں شمالی ہندوستان میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ بڑے فخر کی بات ہے۔ راجستھان میں بہتر حکمرانی ہے۔ ہمارا عزم یہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی قیمت پر اس بار پھر سے ہماری حکومت بننی چاہیے۔‘‘

منی پور: تشدد کے درمیان 4.5 ماہ بعد انٹرنیٹ خدمات بحال کرنے کا اعلان

0
منی-پور:-تشدد-کے-درمیان-4.5-ماہ-بعد-انٹرنیٹ-خدمات-بحال-کرنے-کا-اعلان

منی پور میں گزشتہ ساڑھے چار ماہ سے تشدد کا دور جاری ہے۔ حالات کے تشویشناک ہونے کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریاست میں تشدد شروع ہونے کے بعد سے اب تک انٹرنیٹ خدمات پر پابندی عائد ہے۔ حالانکہ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے آج سے، یعنی 23 ستمبر سے انٹرنیٹ خدمات کو بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ منی پور میں 3 مئی کو تشدد شروع ہوا تھا جس کے بعد سے ریاست میں انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئی تھیں۔ تشدد کو پیش نظر رکھتے ہوئے پہلے پانچ دنوں کے لیے انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی، لیکن بعد میں اسے پھر 5 دنوں کے لیے بڑھا دیا گیا تھا، اور پھر اسی طرح پابندی میں توسیع ہوتی رہی۔ بہرحال، وزیر اعلیٰ کی ٹیم کے ایک رکن نے میڈیا کو بتایا کہ انٹرنیٹ خدمات بحال کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کی جانکاری متعلقہ ٹیموں کو بھیج دی گئی ہیں۔ یعنی کچھ ہی گھنٹوں میں ریاست میں موبائل انٹرنیٹ خدمات پھر سے شروع ہو جائیں گی۔

منی پور میں موبائل انٹرنیٹ خدمات پچھلے ساڑھے چار ماہ سے بند تھیں، حالانکہ گزشتہ 25 جولائی کو ایک سرکاری حکم کے بعد براڈبینڈ خدمات کو کچھ شرطوں کے ساتھ بحال کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ منی پور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو الگ الگ معاملوں کی بنیاد پر مرحلہ وار طریقے سے موبائل نمبروں کو فہرست بند کر کے موبائل انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی۔