جمعہ, اکتوبر 2, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 104

آسٹریلیا کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ، ٹیم انڈیا کی بہتر شروعات، بارش نے روکا کھیل

0
آسٹریلیا-کا-ٹاس-جیت-کر-فیلڈنگ-کا-فیصلہ،-ٹیم-انڈیا-کی-بہتر-شروعات،-بارش-نے-روکا-کھیل

اندور: آسٹریلیا نے اتوار کو اندور کے ہولکر کرکٹ اسٹیڈیم پر کھیلے جانے والے دوسرے ونڈے میں ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان نے رتوراج گائیکواڑ کے طور پر پہلا وکٹ جلدی گنوانے کے بعد بہتر شروعات کی ہے۔ تاہم 10 اوور مکمل ہونے سے قبل ہی بارش کی سبب کھیل روک دینا پڑا۔

ٹاس ہار کر پہلے بلے بازی کرنے اتری ٹیم انڈیا کے سلامی بلے باز شبھمن گل 27 گیندوں میں 32 رن بنا کر جبکہ شرئیس ایر 20 گیندوں میں 34 رن بنا کر کھیل رہے ہیں۔ بارش کے سبب کھیل روکے جانے تک ہندوستان نے 9.5 اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر 79 رن بنا لئے تھے۔ آسٹریلیا کے لیے واحد وکٹ جوش ہیزل ووڈ نے حاصل کیا۔

خیال رہے کہ تین میچوں کی سیریز میں ہندوستان موہالی میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں فتح حاصل کر چکا ہے۔ اگر ہندوستان آج کا میچ جیت جاتا ہے تو اسے سیریز میں ناقابل تسخیر برتری حاصل ہو جائے گی۔

ٹاس کے لیے آئے اسمتھ نے ٹاس جیتنے کے بعد کہا کہ ہم پہلے بالنگ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بہت گرمی ہے لیکن پچ بیٹنگ کے لیے بہت اچھی ہے۔

وہیں راہل نے کہا کہ یہ ایک اچھی وکٹ ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک اچھا چیلنج ہوگی۔ کسی بڑے ٹورنامنٹ سے پہلے یہ ہمارے لیے اچھی پریکٹس ہے۔

ٹیمیں درج ذیل ہیں:-

ہندوستانی ٹیم:

شبھمن گل، رتوراج گائیکواڑ، شریس ایر، کے ایل راہل (کپتان)، وکٹ کیپر، ایشان کشن، سوریہ کمار یادو،رویندرا جڈیجہ، روی اشون، شاردول ٹھاکر، محمد سمیع، پرسدھ کرشنا۔

آسٹریلیا کی ٹیم:

ڈیوڈ وارنر، میتھیو شارٹ، اسٹیو اسمتھ (کپتان)، مارنس لیبوشین، جوش انگلز، الیکس کیری، کیمرون گرین، شان ایبٹ، ایڈم زمپا، جوش ہیزل ووڈ، اسپینسر جانسن۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

رکن پارلیمنٹ دانش علی سے بدسلوکی پر دیوبند سے بریلی تک ناراضگی، علمائے کرام کا سخت اعتراض

0
رکن-پارلیمنٹ-دانش-علی-سے-بدسلوکی-پر-دیوبند-سے-بریلی-تک-ناراضگی،-علمائے-کرام-کا-سخت-اعتراض

پارلیمنٹ میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش ودھوڑی کے ذریعہ لوک سبھا رکن کنور دانش علی بدسلوکی پر مسلم طبقہ اور علمائے کرام میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اس شرمناک واقعے کے بعد ایک طرف مسلم طبقہ صدمے میں ہے تو دوسری طرف علمائے کرام نے اس پر کڑی تنقید کی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ میں ایک مسلم رکن پارلیمنٹ کے ساتھ ایسا سلوک ملک کے تمام مسلمانوں کی حالت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس ایک واقعے نے مسلمانوں کی حالت زار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس واقعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس واقعہ سے مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ایوان کے اندر کہے گئے الفاظ گالی سے بھی بدتر ہیں اور یہ مسلمانوں کے تئیں جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔

بریلی کے مولانا انجم علی نے بھی رکن پارلیمنٹ دانش علی کی توہین پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی جے پی رکن اسمبلی رمیش ودھوڑی نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ نہ صرف دانش علی کے خلاف ہیں بلکہ پورے مسلم طبقہ کے خلاف ہیں۔ رمیش ودھوڑی اپنے اندر کا زہر باہر پھینک رہے تھے۔ یہ وہی زہر ہے جو ایک دہائی سے مسلسل انسانیت کا خون بہا کر عام لوگوں میں بھر دیا گیا ہے۔ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ ایوان میں بی جے پی کے اس رکن پارلیمنٹ کے خلاف فوری طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور بی جے پی کے دو دیگر ارکان پارلیمنٹ، جو وزراء بھی ہیں، برابر میں بیٹھے ہنس رہے تھے! یہ تصویر حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک رکن اسمبلی کا یہ حال ہے تو اندازہ لگائیں کہ عام مسلمانوں کو کتنی پریشانیوں سے گزرنا پڑتا ہے!

دانش علی کے خلاف استعمال کیے گئے انتہائی قابل اعتراض الفاظ کے خلاف زمینی سطح پر بھی ہلچل نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے عام مسلمانوں میں کافی مایوسی پھیل رہی ہے۔ مظفر نگر کے مکینک عارف قریشی کا کہنا ہے کہ وہ رکن پارلیمنٹ کے خلاف کہے گئے الفاظ سن کر حیران ہیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ سب سے بری بات یہ ہے کہ بی جے پی کے ایم پی رمیش ودھوڑی کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ لوگ ان کی حمایت میں بول رہے ہیں، سب جانتے ہیں کہ ان سے غلطی ہوئی ہے لیکن کچھ لوگ ودھوڑی کے حق میں کھڑے ہیں۔ عارف کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے کنور دانش علی کے گھر جا کر بہت اچھا کیا۔ اس کے علاوہ تمام اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی لیکن ’سب کا ساتھ سب کا وشواس ‘ کا نعرہ والی والی بی جے پی اس معاملے پر ملزمان کے ساتھ کھڑی ہے۔

دریں اثنا، ہاپوڑ کے لوگوں نے بھی دانش علی کے ساتھ کئے گئے سلوک کی بھی سخت تنقید کی ہے۔ دانش علی کا آبائی گھر ہاپوڑ میں ہی ہے۔ ان کا تعلق معروف سیاسی گھرانے سے ہے۔ 2019 میں وہ بی ایس پی کے ٹکٹ پر امروہہ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ الیکشن جیتنے کے بعد انہیں بی ایس پی کی پارلیمانی پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا، تاہم بعد میں ہٹا دیا گیا۔ دانش علی کے کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ کماراسوامی سے قریبی تعلقات ہیں اور پہلے وہ جے ڈی ایس کا حصہ بھی تھے۔

ہاپوڑ کے ڈاکٹر ایوب کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے وہ حیران رہ گئے۔ کوئی سڑک چھاپ بھی ایسی بات نہیں کرتا۔ جس طرح سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ایوان میں بات کی، وہ اپنی اور اپنی پارٹی دونوں کی اقدار کو ظاہر کر رہے تھے لیکن جس طرح اکثریتی برادری کے کافی لوگوں نے رمیش ودھوڑی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دانش علی کی حمایت کی وہ دیکھ کر دل کو سکون پہنچا۔ خاص طور پر راہل گاندھی کا دانش علی کے گھر جانا خوش آئند اقدام ہے۔

کانگریس کی حکومت بنتے ہی خواتین ریزرویشن بل کو فوراً نافذ کیا جائے گا: راہل گاندھی

0
کانگریس-کی-حکومت-بنتے-ہی-خواتین-ریزرویشن-بل-کو-فوراً-نافذ-کیا-جائے-گا:-راہل-گاندھی

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے خواتین ریزرویشن بل کو فوری طور پر نافذ کرنے کے اپنے مطالبہ کا اعادہ کیا۔ گزشتہ روز راجستھان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت مردم شماری اور حدبندی کا بہانہ بنا رہی ہے جبکہ حقیقتاً خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فور طور پر بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

راہل گاندھی نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب ناری شکتی وندن ایکٹ پاس ہو چکا ہے تو خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر لاگو کیا جانا چاہیے۔ کانگریس اس ریزرویشن سسٹم کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن مرکزی حکومت مردم شماری اور حد بندی کے بہانے بنانے میں مصروف ہے۔ اگر کانگریس اتحاد اقتدار میں آتا ہے تو ہماری حکومت فوری طور پر خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرے گی۔‘‘

دریں اثنا، راہل گاندھی نے ایک بار پھر اڈانی اور مودی حکومت کے درمیان تعلقات پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بڑی صنعتیں اڈانی کو دے دی گئی ہیں۔ ملک کے عوام مہنگائی سے پریشان ہیں لیکن مرکزی حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کا بدھوڑی کا بیان ہو یا انڈیا بمقابلہ بھارت کا مسئلہ، یہ تمام بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے حوالہ سے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور میڈیا اپوزیشن کے پیغام کو صحیح طریقے سے لوگوں تک نہیں پہنچنے دیتے۔ ایسے میں انہوں نے لوگوں تک پہنچنے کے لیے بھارت جوڑو یاترا کا سہارا لیا۔ حکومت نے اس میں بھی کئی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں سے براہ راست ملنا بہتر ہے۔

مہاراشٹر کے ناگپور میں شدید بارش سے تباہی، بیمار خاتون سمیت چار افراد ہلاک

0
مہاراشٹر-کے-ناگپور-میں-شدید-بارش-سے-تباہی،-بیمار-خاتون-سمیت-چار-افراد-ہلاک

ناگپور: مہاراشٹر کے ناگپور میں جمعہ کی رات سے ہو رہی بارش نے شہر میں معمولات زندگی درہم برہم کر دئے ہیں۔ صرف 4 گھنٹے میں 100 ملی میٹر بارش ہوئی اور شہر کے کئی رہائشی علاقے زیر آب آگئے۔ محکمہ موسمیات نے ناگپور اور آس پاس کے علاقوں میں اگلے کچھ وقت کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اسکولوں اور کالجوں میں تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ ناگپور میں شدید بارش کے بعد سیلاب کی وجہ سے ایک 53 سالہ خاتون سمیت چار افراد کی موت ہو گئی۔ پولیس نے ہفتہ کو یہ جانکاری دی۔

نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کل کی موسلادھار بارش سے پانی جمع ہونے اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے آج ناگپور پہنچے اور بارش سے سب سے زیادہ متاثر امبازری جھیل کے کے علاقے کا دورہ کیا۔ اس دوران مقامی لوگوں نے باہر سے دیکھنے کے بجائے گھروں کے اندر آ کر دیکھنے کا مطالبہ کیا۔ عوام کے مطالبے پر دیویندر فڑنویس نے کچھ گھروں کے اندر جا کر نقصان کا جائزہ لیا اور لوگوں کی شکایات سنیں۔

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ہفتہ کی دیر رات ہر مرنے والوں کے لواحقین کو 4 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا۔ ایک پولیس اہلکار کے مطابق سیلاب کا پانی سریندر گڑھ کی رہائشی سندھیا دھورے (53) اور اس کی ماں سیابائی دھورے (72) کے گھر میں داخل ہو گیا۔ اس دوران دیگر رشتہ دار گھر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن فالج کی شکار سندھیا دھورے کو گھر میں ہی رہ گئیں کیونکہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھیں۔

پولیس افسر نے بتایا، "سندھیا دھورے کمرے میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد ڈوب گئی۔ ایک ریسکیو ٹیم نے ہفتے کی صبح ان کی لاش برآمد کی۔‘‘ عہدیدار نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات 2 بجے سیلابی پانی 70 سالہ میرا بائی کپسوامی کے کمرے میں داخل ہوا، جو گٹی کھڈن میں اکیلی رہتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرابائی کی لاش کو رشتہ داروں نے صبح چھ بجے باہر نکالا۔

افسر کے مطابق، سنیچر کی شام کو دھنتولی تھانہ علاقے کے تحت پنچ شیل چوراہے کے قریب ایک ‘نالے’ سے ایک نامعلوم لاش برآمد ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ چوتھے معاملے میں ایودھیا نگر کے رہنے والے چائے بیچنے والے سنجے شنکر گڈیگاؤنکر (52) کی جمعہ کی درمیانی رات 3 بجے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال کے احاطے میں ایک گڑھے میں ڈوبنے سے موت ہو گئی۔ ہفتہ. افسر نے بتایا کہ سنجے ایک رشتہ دار سے ملنے اسپتال آیا تھا۔ اجنی پولیس نے حادثاتی موت کا معاملہ درج کر لیا ہے۔

گزشتہ چند گھنٹوں سے جاری موسلادھار بارش کی وجہ سے ناگپور کے بیشتر علاقے زیر آب آ گئے ہیں جس کے بعد ایک اسکول کے 70 طلبہ سمیت 400 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ موسلا دھار بارش کے باعث امبازری جھیل پوری طرح بھر گئی ہے۔ اس سے آس پاس کے نشیبی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ شہر کے دیگر علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

لوٹے گئے ہتھیاروں کی بازیابی منی پور حکومت کے لیے بڑا چیلنج

0
لوٹے-گئے-ہتھیاروں-کی-بازیابی-منی-پور-حکومت-کے-لیے-بڑا-چیلنج

امپھال: لوٹے گئے ہتھیاروں کی بازیابی منی پور حکومت کے لیے ایک چیلنج بن رہی ہے۔ نسلی تشدد سے متاثرہ منی پور میں لوٹی گئی ہزاروں بندوقوں اور گولہ بارود کی بازیابی اب حکام کی اولین ترجیح ہے کیونکہ پچھلے 115 دنوں میں اس طرح کے ایک تہائی سے بھی کم ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔

کئی سینئر حاضر سروس، ریٹائرڈ پولیس اور فوجی افسران نے بھی کہا ہے کہ لوٹے گئے اسلحے کی بڑی تعداد کی بازیابی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ایل نشی کانت سنگھ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ نسلی دشمنی کو ختم کرنے کے لیے میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان ہتھیاروں کی بازیابی اور مذاکرات بہت اہم ہیں۔

مختلف رپورٹس کے مطابق 3 مئی کو شروع ہونے والے نسلی تشدد کے دوران ہجوم، حملہ آوروں اور عسکریت پسندوں نے پولیس اسٹیشنوں اور پولیس چوکیوں سے 4000 سے زیادہ مختلف قسم کے جدید ترین ہتھیار اور لاکھوں کی تعداد میں گولہ بارود لوٹ لیا تھا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منی پور کے اپنے چار روزہ دورے کے دوران ان لوگوں سے اپیل کی تھی کہ جن کے پاس لوٹے گئے ہتھیار ہیں، وہ انہیں واپس کر دیں ورنہ سکیورٹی فورسز مناسب کارروائی کریں گی۔ امت شاہ 29 مئی سے یکم جون تک منی پور کے دورے پر تھے۔

منی پور حکومت نے بھی کئی مواقع پر لوگوں سے ایسی ہی اپیل کی ہے۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق ریاست کے مختلف حصوں سے اب تک 1365 جدید ترین ہتھیار اور 15100 مختلف قسم کے گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔

منی پور حکومت نے جمعہ کی رات اپنی تازہ ترین ہدایت میں ہتھیار لوٹنے والے لوگوں کو 15 دنوں کے اندر ہتھیار واپس کرنے کی تنبیہ کی تھی۔ کہا گیا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے دفتر سے جاری ریاستی حکومت کے حکم نامے میں کہا گیا ہے، ’’ریاستی حکومت 6 اکتوبر تک ایسے ہتھیار جمع کرنے والے افراد پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘

ہدایت میں کہا گیا کہ 6 اکتوبر کے بعد مرکزی اور ریاستی سکیورٹی فورسز لوٹے گئے ہتھیاروں کی بازیابی کے لیے ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کریں گی اور کسی بھی غیر قانونی ہتھیار سے وابستہ تمام افراد کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق منی پور میں نسلی تشدد پھوٹنے کے بعد سے کم از کم 175 افراد ہلاک، 1108 زخمی اور 32 لاپتہ ہو چکے ہیں۔

دہلی میں شدید بارش کے سبب اسکول کی دیوار منہدم، 11 گاڑیوں کو نقصان پہنچا

0
دہلی-میں-شدید-بارش-کے-سبب-اسکول-کی-دیوار-منہدم،-11-گاڑیوں-کو-نقصان-پہنچا

نئی دہلی: قومی راجدھانی میں ہفتہ کو شدید بارش کے دوران ایک اسکول کی پچھلی دیوار گرنے سے کل 11 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

پولیس نے بتایا کہ شدید بارش کی وجہ سے دلشاد گارڈن علاقے میں ایس جی پاکٹ کے قریب واقع مکھرجی اسکول کی پچھلی دیوار گر گئی۔ واقعے میں 11 گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ خیال رہے کہ دہلی کے کچھ حصوں میں سنیچر کو شدید بارش ہوئی، جس کی وجہ سے شہر بھر میں کئی مقامات پر پانی جمع ہو گیا۔ بعض مقامات پر درختوں کے اکھڑنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

شاہدرہ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس روہت مینا نے بتایا کہ مکھرجی اسکول کی پچھلی دیوار گر گئی، یہ دیوار دلشاد گارڈن کے ایس جی پاکٹ سے متصل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دیوار کے ساتھ ریلنگ اور کچھ درخت بھی گر گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایس جی پاکٹ کے لوگوں کی طرف سے دیوار کے ساتھ کھڑی کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ مجموعی طور پر 11 گاڑیوں کو معمولی اور بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

مینا نے بتایا کہ اس کے علاوہ شمال مغربی دہلی کے مغربی شالیمار باغ، شالیمار باغ کے بلاک بی ایف اور شمالی دہلی کے ماڈل ٹاؤن علاقے کے گوجرانوالہ ٹاؤن میں درخت گرنے کے دیگر واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ فائر ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے مطابق ان واقعات میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے مطابق، شمال مغربی دہلی میں کانجھا والا روڈ پر ٹاٹا پاور لمیٹڈ کے دفتر کے قریب پانی جمع ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ حکام نے بتایا کہ دہلی کے کچھ حصوں میں ہفتہ کو تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی، جس سے قومی دارالحکومت کے لوگوں کو مرطوب موسم سے راحت ملی۔

ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق ہفتہ کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو موسم کی اوسط سے تین ڈگری زیادہ ہے۔ مشرقی دہلی، شاہدرہ، شمال مشرقی دہلی اور جنوبی سمیت شہر کے کئی حصوں میں دن کے وقت بارش ہوئی۔ بارش کی وجہ سے دہلی-گڑگاؤں سرحد سمیت قومی راجدھانی کے کئی حصوں میں ٹریفک متاثر ہوا۔

نفرت انگیز تقریر معاملہ: آسام مہیلا کانگریس نے وزیر اعلیٰ سرما کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی

0
نفرت-انگیز-تقریر-معاملہ:-آسام-مہیلا-کانگریس-نے-وزیر-اعلیٰ-سرما-کے-خلاف-پولیس-میں-شکایت-درج-کرائی

گوہاٹی: آسام پردیش مہیلا کانگریس نے ہفتہ کے روز وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے خلاف مدھیہ پردیش میں حالیہ انتخابی مہم کے دوران نفرت انگیز تقریر کرنے پر پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔

مہیلا کانگریس کی صدر میرا برٹھاکر گوسوامی کی طرف سے دیسپور پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، سرما نے مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر کمل ناتھ کو دہلی میں 10، جن پتھ کو آگ لگانے کا چیلنج دیا، جس طرح ہنومان نے لنکا میں آگ لگائی تھی! خیال رہے کہ 10، جن پتھ کانگریس لیڈر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ ہے۔

مدھیہ پردیش کے ودیشا ضلع میں 19 ستمبر کو بی جے پی کی ’ن آشیرواد ریلی‘ سے خطاب کرتے ہوئے سرما نے کہا تھا کہ اپوزیشن انڈیا الائنس کے ارکان نے ہند ومت (سناتن دھرم) کو ملیریا سے تشبیہ دینے والے بیانات دیے ہیں۔

سرما نے کہا تھا، ’’میں کمل ناتھ کو چیلنج کرنا چاہتا ہوں، جو سچے ہنومان کے عقیدت مند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہنومان نے لنکا کو جلایا تھا، آپ بھی 10، جن پتھ کو جلا دیں۔ جو لوگ ہندو مذہب کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، آپ ایسے لوگوں کو ہٹا دیں، ورنہ آپ 10 جن پتھ کو جلا دیں۔‘‘

میرا برٹھاکر نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ 10، جن پتھ کو جلانے کی تجویز عوام کو ہندو مذہبی جذبات کا استعمال کرتے ہوئے آتش زنی اور فسادات میں ملوث ہونے کی کھلی دعوت تھی۔ انہوں نے کہا، "اگرچہ یہ بیان مدھیہ پردیش میں دیا گیا تھا لیکن اسے آسام میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔‘‘

شکایت میں کہا گیا ہے کہ "فرقہ وارانہ نفرت اور پرتشدد سرگرمیوں کو بھڑکانے کا اثر یقینی طور پر آسام کے لوگوں کے جذبات کو متاثر کرے گا اور مذہب کے نام پر ریاست کے ساتھ پورے ملک کے پرامن ماحول کو متاثر کرے گا۔‘‘

دریں اثناء دیسپور پولیس اسٹیشن کے انچارج روپم ہزاریکا نے کہا کہ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہے اور وہ بعد میں فیصلہ کریں گے کہ ایف آئی آر درج کی جائے یا نہیں۔ آسام اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، کانگریس کے دیبابرتا سائکیا نے بھی جمعرات کو، ہمنتا کے خلاف شیو ساگر ضلع کے ناظریہ پولیس اسٹیشن میں 10، جن پتھ پر تبصروں کے خلاف شکایت درج کروائی تھی لیکن پولیس نے تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی ہے۔

ملک کی 22 ریاستوں میں بارش کا الرٹ، ناگپور میں 22 ہزار گھر سیلاب سے متاثر

0
ملک-کی-22-ریاستوں-میں-بارش-کا-الرٹ،-ناگپور-میں-22-ہزار-گھر-سیلاب-سے-متاثر

نئی دہلی: ملک کے بعض علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کی کئی ریاستوں میں 30 ستمبر تک بارش کا امکان ہے۔ کئی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کا بھی امکان ہے۔ راجدھانی دہلی میں آج یعنی 24 ستمبر کو مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے اور بعض مقامات پر ہلکی بارش کا امکان ہے۔ آج آئی ایم ڈی نے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، یوپی، بہار سمیت دیگر ریاستوں میں بارش کے امکان کی پیش گوئی کی ہے۔

دہلی-این سی آر میں ہفتہ کو بارش کے بعد گرمی اور نمی سے راحت ملی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دارالحکومت میں ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بونداباندی کا امکان ہے۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری اور کم سے کم درجہ حرارت 25 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہے گا۔

وہیں، مہاراشٹر کے ناگپور میں سیلاب کے بعد صورتحال قابو سے باہر ہے جس کی وجہ سے 10 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ آئی ایم ڈی نے ناگپور کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار (24 ستمبر) کو اتر پردیش، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، شمال مشرقی راجستھان، شمالی مدھیہ پردیش، وسطی کرناٹک اور آندھرا پردیش میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال، سکم، بہار، جھارکھنڈ کے کچھ حصوں، مہاراشٹرا اور جزائر انڈمان اور نکوبار میں درمیانی سے بھاری بارش کا امکان ہے۔

آئی ایم ڈی کی پیشن گوئی کے مطابق مغربی آسام، میگھالیہ، جنوبی مدھیہ پردیش، مشرقی گجرات، جنوب مشرقی راجستھان اور لکش دیپ میں کچھ مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ شمال مشرقی ہندوستان، اڈیشہ، چھتیس گڑھ، پنجاب، تلنگانہ اور تمل ناڈو کے کچھ حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش کے ساتھ ایک یا دو مقامات پر شدید بارشیں ہو سکتی ہیں۔

جماعت اسلامی ہند  نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کی نااہلی کا مطالبہ کیا

0
جماعت-اسلامی-ہند- نے-بی-جے-پی-رکن-پارلیمنٹ-کی-نااہلی-کا-مطالبہ-کیا

جماعت اسلامی ہند نے بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے خلاف پارلیمنٹ میں بی جے پی ایم پی رمیش بڈھوری کی جانب سے استعمال کی گئی غلیظ، جارحانہ زبان کی مذمت کی ہے۔

میڈیا کے لئے جاری ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نیشنل میڈیا سکریٹری کے کے سہیل نے کہاکہ "لوک سبھا میں بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے خلاف بی جے پی کے ایم پی رمیش بڈھوری کی طرف سے استعمال کی گئی جارحانہ اور غلیظ زبان سے ہر مہذب ہندوستانی کو تکلیف ہوئی ہے اور پارلیمنٹ کے معیار اور وقار کو پست کیا ہے۔

جماعت اسلامی نے کہا کہ ایک رکن پارلیمنٹ کے خلاف نسلی گالیاں اور اس کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنانا اوران کے لئے توہین آمیز زبان استعمال کرنا ہندوستان میں پوری مسلم کمیونٹی سے نفرت کا واضح ثبوت ہے اور اس کا مقصد اسے نیچا دکھانا ہے۔

بڈھوری نے ایک ایسا جرم کیا ہے جس نے ایوان کے وقار کو مجروح کیا ہے۔جبکہ یہ جان کر راحت ملی ہے کہ بڈھوری کے توہین آمیز ریمارکس کو ریکارڈ بک سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ایوان زیریں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اس طرح کے رویے کو دہراتے ہیں تو سخت کارروائی کی جائے گی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’میں اس رکن کے بیان سے اپوزیشن کو تکلیف پہنچنے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ تاہم، جماعت اسلامی اسلامی ہند کو لگتا ہے کہ ایوان زیریں کے فلور پر بدھوڑی کی کارروائی محض ایک تضحیک نہیں ہے جسے ہلکی سی سرزنش کے ساتھ معاف کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہماری پارلیمنٹ کی نئی عمارت جس نے لوگوں کے منتخب کردہ قانون سازوں کے اس قدر گھٹیا اور شرمناک رویے کا مشاہدہ کیا ہے۔

دانش علی کو پارلیمنٹ میں گالی دینے والے بی جے پی کے ایم پی کو برخاست کیا جائے:مولانا اجمل

0
دانش-علی-کو-پارلیمنٹ-میں-گالی-دینے-والے-بی-جے-پی-کے-ایم-پی-کو-برخاست-کیا-جائے:مولانا-اجمل

آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل نے بی ایس پی سے رکن پارلیمنٹ دانش علی کو لوک سبھا میں توہین آمیز سلوک کرنے والے بی جے پی کے ایم پی کو لوک سبھا سے برخاست کرنے کی مانگ کی ہے۔

انہوں نے جاری ایک ریلیز میں کہا کہ یہ صرف دانش علی کی بے عزتی نہیں ہے بلکہ بی جے پی کہ ایم پی نے پوری مسلم قوم کو گالی دی ہے اور دہشت گرد کہا ہے اور چونکہ یہ لوک سبھا میں بحث کے درمیان ہوا ہے اس لئے یہ پارلیمنٹ کی بھی توہین ہے، اسلئے اس ایم پی کو فورا برخاست کیا جانا چاہئے تاکہ یہ دوسروں کے لئے سبق بنے اور آئندہ کوئی اس طرح کی حرکت نہ کرے۔

لوک سبھا کے اسپیکر کو اس نفرتی ایم پی پر کاروائی کرنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اُس نے پارلیمنٹ جیسی جگہ میں جہاں قانون سازی ہوتی ہے اسی جگہ قانون اور ملک کے آئین کی دھجیاں اڑائی ہے جو انتہائی شرمناک ہے، اسلئے پارلیمنٹ کے احترام اور اس کے وقار کو باقی رکھنے کے لئے اس گالی باز ایم پی کے خلاف سخت کاروائی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس شرمناک واقعہ پر جس نے دنیا بھر میں پارلیمنٹ کی مٹی پلید کردی،وزیر اعظم خاموش ہیں اور بی جے پی دباؤ میں آنے کے بعد صرف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرر ہی ہے۔ مولانا نے کہا کہ یوں تو بی جے پی کے لوگ مسلمانوں کو رات دن گالیاں، اور ان کو دھمکیا دیتے ہی رہتے ہیں مگر پارلیمنٹ کے اندر جب کاروائی چل رہی تھی اُس وقت کسی رکن پارلیمنٹ کو اس طرح کی گالی دینا اور اس کی پوری قوم کو گالی دینا یہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایسے تو بی جے پی کے اس ایم پی کی تاریخ ہی گالی گلوج والی رہی ہے مگر اس واقعہ کا شرمناک پہلو یہ تھا کہ جب یہ گالی بک رہا تھا، مسلمانوں کی توہین کر رہا تھا اور پارلیمنٹ کے وقار کو اپنے پاؤں تلے روند رہا تھا، اُس وقت ٹھیک ان کے ساتھ بیٹھے بی جے پی کے دو سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزراء روی شنکر پرساد اور ڈاکٹر ہرش وردھن ہنس رہے تھے۔مولانا نے کہا کہ دانش علی ایک سینئر اور باعزت لیڈر ہیں اُن کی یہ بے عزتی ناقابل معافی ہے۔انہوں نے کہا کہ دانش بھائی کی اس لڑائی میں ہم سب ان کے ساتھ ہیں کیوں کہ یہ صرف ان کی نہیں بلکہ ہندوستان کے آئین کو بچانے کی لڑائی ہے۔میں اس سلسلہ میں اسپیکر کو بھی خط لکھ رہا ہوں۔