جمعہ, اکتوبر 2, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 106

نینی تال پولیس نے یوپی پولیس کانسٹیبل سمیت 3 اسمگلروں کو ایک کروڑ کی اسمیک کے ساتھ کیا گرفتار

0
نینی-تال-پولیس-نے-یوپی-پولیس-کانسٹیبل-سمیت-3-اسمگلروں-کو-ایک-کروڑ-کی-اسمیک-کے-ساتھ-کیا-گرفتار

ہلدوانی: نینی تال پولیس نے اتراکھنڈ میں اب تک کی سب سے بڑی مقدار میں نشیلی اشیا اسمیک برآمد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پولیس نے تین اسمگلروں کو گرفتار کیا جن سے ایک کلو 75 گرام اسمیک برآمد کی گئی۔ اسمیک کی قیمت ایک کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

تین گرفتار ملزمان میں سے ایک رویندر سنگھ (27 سال) اتر پردیش پولیس میں کانسٹیبل ہے اور بریلی میں تعینات ہے۔ ایک طالب علم بھی اس گینگ کا رکن ہے اور اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسمیک اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی اسپلنڈر موٹر سائیکل بھی قبضے میں لے لی گئی ہے۔

کوتوالی لال کنواں کے ایس آئی گورو جوشی نے سبھاش نگر بیریئر پر چیکنگ کرتے ہوئے ایک موٹر سائیکل پر سوار تین نوجوانوں کے قبضے سے 1075.1 گرام اسمیک برآمد کی۔ پولیس نے انسداد منشیات قانون کی دفعہ 8، دفعہ 21، دفعہ 60 کے تحت مقدمہ درج کر کے تینوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایس ایس پی پرہلاد نارائن مینا نے بتایا کہ پہلی بار اتنی بڑی مقدار میں اسمیک برآمد ہوئی ہے۔ مخبر کی اطلاع پر پولیس ٹیم نے ایک موٹر سائیکل کو روکا، جس پر تین افراد سوار تھے۔ وہ پولیس کو دیکھ کر بھاگنے لگے۔ پولیس نے تینوں کو پکڑ کر تلاشی لی تو ان سے ایک کلو سے زائد سماک برآمد ہوئی جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں موجودہ قیمت ایک کروڑ روپے ہے۔

ایس ایس پی نینی تال نے بتایا کہ ملزم مورپال (20 سال) سے 420.9 گرام، ارجن پانڈے (21 سال) سے 439.9 گرام اور رویندر سنگھ سے 214.3 گرام اسمیک برآمد کی گئی۔

ترشول جیسی فلڈ لائٹس، گھاٹ جیسی سیڑھیاں اور ڈمرو جیسا پویلین، پی ایم مودی نے رکھا وارانسی اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد

0
ترشول-جیسی-فلڈ-لائٹس،-گھاٹ-جیسی-سیڑھیاں-اور-ڈمرو-جیسا-پویلین،-پی-ایم-مودی-نے-رکھا-وارانسی-اسٹیڈیم-کا-سنگ-بنیاد

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی کے گنجاری میں انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس تقریب میں یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ ابق کرکٹر کپل دیو، سنیل گاوسکر، سچن تندولکر، روی شاستری، دلیپ وینگسرکر اور بی سی سی آئی صدر روجر بنی، بی سی سی آئی سکریٹری جئے شاہ سمیت کئی بڑی ہستیاں بھی موجود تھیں۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ بنارس آ کر جو احساس ہوتا ہے، اس کی تشریح نہیں کی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ 23 اگست کو ہمارا چندریان چاند پر لینڈ ہوا۔ وہاں بھی ایک جگہ شیو شکتی ہے اور یہاں بھی ایک جگہ شیو شکتی ہے۔ کاشی میں آج انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، یہ کرکٹ اسٹیڈیم کسی وَردان (تحفہ) سے کم نہیں ہوگا۔ اسٹیڈیم کے ڈیزائن کا تذکرہ کرتے ہوئے پی ایم مودی کہتے ہیں ’’آج کرکٹ کے ذریعہ دنیا ہندوستان سے جڑ رہی ہے۔ اس اسٹیڈیم کا ڈیزائن مہادیو کو وقف ہے۔‘‘ دراصل اس اسٹیڈیم میں پویلین ڈمرو کی طرح ہے اور اس کی سیڑھیاں گھاٹ کی سیڑھیوں جیسا ہے۔ علاوہ ازیں یہاں لگے فلڈ لائٹس ترشول جیسے معلوم پڑتے ہیں۔

پی ایم مودی نے کھیل کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے کھیل کو بس ایکسٹرا ایکٹیویٹی مانا جاتا تھا۔ لیکن اب اسکولوں میں باقاعدہ کھیل کو بطور سبجیکٹ پڑھانے پر فیصلہ ہوا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ پہلے لوگ اپنے بچوں کو پڑھائی کے لیے کہتے تھے۔ بچوں پر پڑھائی کا دباؤ ہوتا تھا۔ آج ملک کا ماحول بدل گیا ہے۔ لوگ اپنے بچوں کو اب کھیل کود میں بھی بھیجتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ جب کوئی کرکٹ اسٹیڈیم بنتا ہے تو اس کا صرف کھیل پر ہی نہیں بلکہ معیشت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ وارانسی کے نوجوانوں کو اعلیٰ سطحی کھیل کی سہولت حاصل ہو، اس لیے اسٹیڈیم پر 450 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

ضرورت سے زیادہ بارشوں سے فصلیں برباد، کسانوں کو معاوضہ دیا جائے، کمل ناتھ

0
ضرورت-سے-زیادہ-بارشوں-سے-فصلیں-برباد،-کسانوں-کو-معاوضہ-دیا-جائے،-کمل-ناتھ

بھوپال: مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے آج کہا کہ ریاست کے مختلف حصوں میں کم بارش اور پھر ضرورت سے زیادہ بارش کی وجہ سے فصلیں برباد ہو گئی ہیں اور حکومت کو فوری طور پر ان کسانوں کو معاوضہ دینا چاہیے۔ کمل ناتھ نے ایکس پر پوسٹ کیا، ‘مالوا اور نیماڑ سمیت ریاست کے بیشتر حصوں میں کم بارش اور پھر ضرورت سے زیادہ بارش کی وجہ سے سویا بین کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ اس تباہی سے کسانوں کی مالی حالت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اپوزیشن میں تھے تو وہ کسانوں کو نقصان کے لیے 40 ہزار روپے فی ہیکٹر معاوضہ دینے کا مطالبہ کرتے تھے۔ اب حکومت کو کسانوں کو یہ معاوضہ دینے سے کون روک رہا ہے؟ کمل ناتھ نے الزام لگایا کہ کسان قرض معافی اسکیم کو روک کر حکومت نے کسانوں کے پیٹ میں لات ماری ہے۔

بیتے دنوں کی بات: جو دیکھا ہے ان کا تو اب تصور بھی نہیں کیا جا سکتا

0
بیتے-دنوں-کی-بات:-جو-دیکھا-ہے-ان-کا-تو-اب-تصور-بھی-نہیں-کیا-جا-سکتا

کسی اونچی جگہ پر آگ کے ذریعہ، کسی بلند اواز والے شخص کے ذریعہ، گھڑ سوار کے ذریعہ پیغام، ٹیلی گرام کے ذریعہ پیغام، فون پار بات چیت، آواز کی ترسیل، ٹیلی ویژن کے ذریعہ آواز کے ساتھ تصویر یعنی انسان اپنے پیغامات پہنچانے کے لئے کوئی نہ کوئی جدید طریقہ ایجاد کرتا رہا ہے۔ اب تو یہ اتنا عام اور تیز ہو گیا ہے کہ منہ سے نکلنے بھر کی دیر ہے کہ پوری  دنیا اس کو سن لیتی  ہے اور وہ اس کی ملکیت ہو جاتی ہے۔ اور وہ دن دور نہیں جب انسان صرف سوچے گا اور لوگوں کو اس کا پتہ لگ جائے گا۔

موبائل فونز، ایل ای ڈی ٹیلی ویژن، ٹیبلیٹ، لیپ ٹاپ وغیرہ ایسی ایجادات ہیں جس نے انسان کے سامنے پوری دنیا کو رکھ دیا ہے۔ لیکن جب ابتداء میں اس  سمت میں سائنسدانوں نے کام شروع کیا ہوگا اس وقت سب انہیں بے وقوف سمجھتے ہوں گے اور کسی کے ذہن میں نہیں آیا ہوگا کہ ایک دن پوری دنیا انسان کے سامنے رکھی ہوئی ہوگی اور وہ اس کی مرضی ہو گی کہ اس کو سننا چاہتا ہے یا دیکھنا۔

1927 میں پہلی مرتبہ بلیک اینڈ وہائٹ یعنی کالا سفید ٹیلی ویژن ایجاد ہوا تھا اور جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھا ویسے ویسے اس میں نئے  پہلو جڑتے گئے اور دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ کالا سفید ٹیلی ویژن مغرب کے ہر بڑے گھر کی رونق بن گیا تھا۔ پھر ایک دور آیا کہ ٹیلی ویژن نے بلیک سفید کا چولا اتار کر رنگین چولا پہن لیا یعنی ہر چیز ویسی دکھائی دینے لگی جیسے وہ ہوتی تھی۔ اس کے بعد اس میں جدت پیدا ہوتی گئی اور اب کھولنے سے لے کر اس میں کیا دیکھنا ہے اس کو صرف بولنا ہے اور وہ آپ کے سامنے حاضر ہے۔ اور وہ دن دور  نہیں جب بولنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی صرف سوچنا بھر کافی ہوگا۔

بہرحال جب ہندوستان میں امراء کے گھر سے اس ٹیلی ویژن نے مڈل کلاس گھرانوں میں قدم رکھا تو ایک انقلاب آ گیا اور اس انقلاب کو 1950 سے 1970 کے درمیان پیدا ہونے والوں نے اپنے آنکھو سے خوب دیکھا ہے۔ محلے میں جس کے گھر میں ٹیلی ویشن ہوا کرتا تھا اس کی یہ اخلاقی مجبوری بن جاتی تھی کہ وہ جب خود کوئی پروگرام ٹیلی ویژن پر دیکھے تو اس کے محلے سے آنے والے لوگوں کو گھر میں آنے سے نہ روکے۔ ویسے تو وہ خود بھی چاہتا تھا کہ لوگ آئیں اور دیکھیں کے اس کے پاس ٹیلی ویژن یعنی ٹی وی ہے۔ کچھ گھرانوں میں یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ آنے والوں کے لئے چائے بھی بنواتے تھے۔

اتوار کی فلم ہو، بدھ کو گانوں کا پروگرام ہو یا پھر انتخابی نتائج کے درمیان  دوردرشن پر فلم پیش کرنا ہو سب دن ٹی وی والے گھروں کے لئے خاص دن ہوتا تھا۔ بڑی تعداد میں لگ ان پروگراموں کو بہت دلچسپی کےساتھ دیکھا کرتے تھے اور اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کے پاس تفریح کا یہی واحد ذریعہ ہوتا تھا۔

اب تو شائد ہی نئی نسل کو معلوم ہو کہ ٹی وی والے گھر پر ایک تین لمبی لمبی المونئم کی راڈوں کا انٹینا لگا ہوا کرتا جو تار کے ذریعہ ٹی وی سے جڑا ہوا کرتا تھا اور اس انٹینا کے ذریعہ ہی تصویر اور آواز ٹی وی میں آیا کرتی تھی۔ اگر تیز ہوا کی وجہ سے یا کسی اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ٹی وی میں آواز یا تصویر صاف نہیں آ یا کرتی تھی تو ایک شخص اوپر جاکر ٹی وی کے انٹینا کے رخ کو تبدیل کرتا تھا اور ٹی وی کے پاس بیٹھے شخص سے چیخ چیخ کر پوچھا کرتا تھا ’اب صاف ہے‘ اور جب تصویر اور آواز صاف ہو جاتی تھی تو یہ شخص اوپر سے نیچے اتر کرآ تا تھا ۔ یہ پریشانی عام اور مستقل تھی۔

نئی نسل نے اس سفر کے نہ مزے لئے ہیں اور نہ ان کو اس کا کوئی علم ہے بس انہیں تو بولنا بھر ہے اور ان کے  سامنے تصویر بمع آواز آ جاتی ہے۔ اب تو نئی نسل اپنے بنائے ہوئے پرگرام بھی اس ٹی وی پر دیکھ لیتی ہے۔ کثیر منزلہ عمارتوں میں تو ایرئل کا تصور بھی  کرنا مشکل ہے لیکن آج جو ہمارے سامنے ہے وہ ایک لمبے سفر کے بعد ہمارے سامنے آ یا ہے۔ یہ بیتے دنوں کی ہی بات ہے جب ٹی وی والے گھر میں سب رامائن دیکھنے جع ہوتے تھے اور شہر میں کرفیو جیسا ماحول ہوا کرتا تھا۔

عوام ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور خواتین مخالف بی جے پی-جے ڈی ایس اتحاد کی خبر لیں! پی چدمبرم

0
عوام-ایس-سی،-ایس-ٹی،-او-بی-سی-اور-خواتین-مخالف-بی-جے-پی-جے-ڈی-ایس-اتحاد-کی-خبر-لیں!-پی-چدمبرم

نئی دہلی: کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کمارسوامی کے مرکزی وزیر امت شاہ اور بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا سے ملاقات کے بعد کانگریس نے ہفتے کے روز کہا کہ جس کا طویل عرصے سے خدشہ تھا آخر کار وہ راز سامنے آ ہی گیا ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے ایکس پر لکھا، ’’دیرینہ مشتبہ راز ظاہر ہو گیا ہے۔ بی جے پی نے سرکاری طور پر جے ڈی ایس کا این ڈی اے میں خیرمقدم کیا ہے۔ کرناٹک کی ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، اقلیتی اور خواتین کو اس قدامت پسند، رجعت پسند اور خواتین مخالف پارٹیوں کی خبر لینی چاہئے جو پرانے نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔‘‘

جے ڈی ایس جمعہ کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیرقیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا حصہ بن گئی۔ اس سال مئی میں کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے بی جے پی اور جے ڈی ایس کو شکست دے کر وہاں حکومت بنائی تھی۔

گھر بیٹھے کمائی کا جھانسہ! سافٹ ویئر انجینئر سے 6.80 لاکھ روپے کی ٹھگی

0
گھر-بیٹھے-کمائی-کا-جھانسہ!-سافٹ-ویئر-انجینئر-سے-6.80-لاکھ-روپے-کی-ٹھگی

نوئیڈا: سائبر جعلسازوں نے پارٹ ٹائم جاب کر کے گھر بیٹھے لاکھوں روپے کمانے کا جھانسہ دے کر سافٹ ویئر انجینئر سے 6 لاکھ 80 ہزار روپے کی ٹھگی کر لی۔ متاثرہ نے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں اس معاملے کی شکایت درج کرائی۔ پولیس نے نامعلوم جعلساز کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

گریٹر نوئیڈا کے نیرالا اسٹیٹ کے رہائشی اجیت سنگھ راگھو نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ان کے موبائل پر پارٹ ٹائم جاب کر کے لاکھوں روپے ماہانہ کمانے کا پیغام آیا تھا۔ پیغامات کے ذریعے بات کرنے پر جعلساز نے انجینئر سے کہا کہ انہیں انسٹاگرام پر پروفائلز کو فالو کرنا ہوگا۔ شکایت کنندہ کو ایک فالو کر نے پر 50 روپے منافع کے طور پر دینے کا لالچ دیا گیا۔

اس کے بعد شکایت کنندہ کو الاس نام کی ٹیلی گرام آئی ڈی سے جوڑ دیا گیا۔ ابتدائی مرحلے میں کچھ منافع دینے کے بعد، ٹھگوں نے پری پیڈ ٹاسک کا حوالہ دیتے ہوئے متاثرہ کو سرمایہ کاری پر تین گنا منافع دینے کا وعدہ کیا۔ ایک ہزار روپے کی سرمایہ کاری کے بعد یہ رقم 30 فیصد منافع کے ساتھ متاثرہ کو واپس کر دی گئی۔ اس کے بعد متاثرہ نے متعدد بار مجموعی طور پر 6 لاکھ 80 ہزار روپے کی سرمایہ کی۔ اس میں انہوں نے رشتہ داروں سے بھی لی ہوئی رقم لگا دی۔ جب انجینئر پر 6 لاکھ روپے مزید سرمایہ کاری کے لیے دباؤ ڈالا گیا تو انہیں دھوکہ دہی کا احساس ہوا لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔

جیل میں قید چندرابابو سے سی آئی ڈی کے عہدیداروں کی ٹیم نے کی پوچھ گچھ

0
جیل-میں-قید-چندرابابو-سے-سی-آئی-ڈی-کے-عہدیداروں-کی-ٹیم-نے-کی-پوچھ-گچھ

حیدرآباد: اسکل ڈیولپمنٹ معاملہ میں گرفتار تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر و آندھرا پردیش کے سابق وزیراعلی این چندرابابو نائیڈو سے سی آئی ڈی کے 12 عہدیداروں پر مشتمل ٹیم راجہ مہندرا ورم جیل میں پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ جمعہ کو شروع ہونے والی یہ پوچھ گچھ اتوار کو بھی جاری رہی۔

چندرابابو کے وکیل سرینواس کی موجودگی میں یہ پوچھ گچھ کی گئی۔ جیل حکام نے چندرا بابو سے پوچھ گچھ کے لیے کانفرنس ہال تیار کیا تھا جس میں یہ پوچھ گچھ کی گئی۔ قبل ازیں چندرا بابو کا طبی معائنہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ وجے واڑہ کے اے سی بی کورٹ نے جمعہ کو چندرابابو کو دو دن کے لئے سی آئی ڈی کی تحویل میں بھیجنے کے احکامات دیئے تھے۔

عدالت نے کہا کہ چونکہ چندرابابو عدالتی تحویل میں ہیں، اسی لئے راجہ مہندرا ورم سنٹرل جیل میں ہی ان سے پوچھ گچھ کی جانی چاہئے۔ عدالت نے ہدایت دی تھی کہ وکیل سے مشورہ کرنے کے لیے چندرابابو کو ہر گھنٹے میں پانچ منٹ کا وقفہ دیا جائے۔ اے سی بی کورٹ کی مجسٹریٹ ہیمابندو نے یہ احکامات دیئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ چندرابابو پر کوئی تھرڈ ڈگری نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت نے کہا تھا کہ صرف سی آئی ڈی کے ویڈیوگرافر سے اس کی ریکارڈنگ کی جائے اور پوری ویڈیو مہر بند لفافے میں عدالت میں پیش کی جائے۔

دانش علی سے بدھوڑی کی گالی گلوچ: سپریہ سولے کا تحریکِ مراعات شکنی پیش کرنے کا اعلان

0
دانش-علی-سے-بدھوڑی-کی-گالی-گلوچ:-سپریہ-سولے-کا-تحریکِ-مراعات-شکنی-پیش-کرنے-کا-اعلان

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کی ملک بھر میں سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں ملزم بی جے پی ایم پی کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں کیونکہ حزب اختلاف ان کے خلاف مراعات شکنی کی تحریک پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریہ سولے نے جانکاری دی۔

این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریہ سولے نے کہا ’’وہ (رمیش بدھوڑی) ایک مجرم ہیں اور میں نے ٹی ایم سی لیڈر کے ساتھ مل کر اسپیکر کو خط لکھا ہے۔ ہم ان کے خلاف مراعات شکنی کی تحریک پیش کریں گے۔ یہ حسن سلوک نہیں ہے۔ دو دن پہلے بھی ایک سینئر رکن اسمبلی کے ساتھ ان کی ہاتھا پائی ہوئی تھی۔ کیا یہی جمہوریت ہے؟ میں ایسے کسی بھی بے قابو رویے کی مذمت کرتی ہوں اور ایک مراعات شکنی کی تحریک پیش کی جانی چاہیے اور میں نے ایسا کیا ہے۔‘‘

ادھر، بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی رمیش بدھوڑی کے اس رویے پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ بی ایس پی لیڈر اور لوک سبھا ایم پی دانش علی نے ایک بار پھر بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو وہ لوک سبھا کی رکنیت چھوڑنے پر غور کریں گے۔ دانش علی نے کہا ’’یہ پہلا موقع ہے کہ کسی منتخب رکن پارلیمنٹ کے خلاف اس طرح کی غیر پارلیمانی زبان استعمال کی گئی ہے۔‘‘ دانش علی نے کہا ’’مجھے نیند نہیں آ رہی، میری روح کانپ گئی ہے۔‘‘

خیال رہے کہ لوک سبھا میں 21 ستمبر کو رات تقریباً 11 بجے چندریان 3 کی کامیابی پر بحث ہو رہی تھی اور جنوبی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی ایوان میں بول رہے تھے؟ اس دوران جب بی ایس پی ایم پی دانش علی نے ان سے اختلاف کیا تو بدھوڑی نے اپنا آپا کھو دیا اور ان کے خلاف گالی گلوچ پر اتر آئے۔

وزیراعظم آج کریں گے وارانسی کا دورہ، انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کا رکھیں گے سنگ بنیاد

0
وزیراعظم-آج-کریں-گے-وارانسی-کا-دورہ،-انٹرنیشنل-کرکٹ-اسٹیڈیم-کا-رکھیں-گے-سنگ-بنیاد

وارانسی۔ وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کو اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی کے گنجاری میں تعمیر ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی وارانسی سمیت اتر پردیش کے 16 اٹل رہائشی اسکولوں کا بھی افتتاح کریں گے۔ وہ خواتین کے علاوہ اسپورٹس فیسٹیول کے فاتحین سے الگ الگ بات چیت کریں گے۔ اس موقع پر کرکٹ کے نامور کھلاڑی بھی موجود ہوں گے۔

وزیر اعظم ہفتہ کو ریاست کے لوگوں کو 1565 کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا تحفہ دیں گے۔ وارانسی خطے کے صدر دلیپ سنگھ پٹیل نے کہا کہ وزیر اعظم پہلے گنجاری میں بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس کے بعد سمپورنانند سنسکرت یونیورسٹی میں پانچ ہزار سے زیادہ خواتین سے بات چیت بھی کریں گے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعظم کے استقبال کے ساتھ تمام پروگراموں میں موجود رہیں گے۔

وزیر اعظم راجتالاب گنجاری پہنچنے کے بعد 450 کروڑ روپے کی لاگت سے 30 ایکڑ پر تعمیر ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس دوران 1983 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے فاتح کھلاڑی اور دیگر مشہور کرکٹ کھلاڑی بھی موجود ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 30 ہزار کی گنجائش والے اسٹیڈیم کا طرز تعمیر کاشی اور سناتن دھرم ہوگا، جس میں دیوتا شیو کی شان نظر آئے گی۔ ہلال کی شکل کی چھت، ترشول کی شکل کی فلڈ لائٹس، گھاٹ کی سیڑھیوں پر مبنی بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

موسم کا حال: 25 ستمبر سے مانسون کی واپسی اور گرمی سے راحت کا امکان

0
موسم-کا-حال:-25-ستمبر-سے-مانسون-کی-واپسی-اور-گرمی-سے-راحت-کا-امکان

نئی دہلی: دہلی، یوپی اور ہریانہ سمیت شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں لوگ اس وقت گرمی سے پریشان ہیں۔ دریں اثنا، ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے کہا ہے کہ 25 ستمبر مانسون کے واپس لوٹنے کا امکان ہے۔ اس خبر سے لوگوں کو گرمی سے نجات ملنے کی امید ہے۔

خیال رہے کہ جنوب مغربی مانسون یکم جون تک کیرالہ سے ٹکراتا ہے اور 8 جولائی تک پورے ملک میں پھیل جاتا ہے۔ اس کی واپسی 17 ستمبر کے آس پاس شمال مغربی ہندوستان سے شروع ہوتی ہے اور 15 اکتوبر تک مکمل ہو جاتی ہے۔ آئی ایم ڈی نے کہا، ’’شمال مغرب اور ملحقہ مغربی وسطی ہندوستان میں اگلے دنوں تک بارش نہیں ہونے کا امکان ہے۔ تاہم 25 ستمبر کے آس پاس مغربی راجستھان کے کچھ حصوں سے جنوب مغربی مانسون کی واپسی کے لیے حالات سازگار ہو جائیں گے۔‘‘

اس سال مانسون کی تاخیر سے واپسی مسلسل 13ویں تاخیر ہے۔ شمال مغربی ہندوستان سے مانسون کی واپسی برصغیر سے کی واپسی کے آغاز کی علامت ہوتی ہے۔ مانسون کی واپسی میں کسی بھی تاخیر کا مطلب طویل بارش کا موسم ہے، جو زرعی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر شمال مغربی ہندوستان میں جہاں منسون کی بارشیں ربیع کی فصل کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اس بار منسون کا موڈ اچھا نہیں رہا البتہ اس کی توقع نہیں تھی۔ ہندوستان میں اس مانسون سیزن میں اب تک 780.3 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے، جبکہ عام طور پر 832.4 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ طویل مدتی اوسط (ال پی اے) کے 94 فیصد اور 106 فیصد کے درمیان بارش کو معمول کی بارش سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر، ملک میں چار ماہ کے مانسون سیزن (جون تا ستمبر) کے دوران اوسطاً 870 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

مانسون سے پہلے منعقدہ پریس کانفرنس میں آئی ایم ڈی نے ہندوستان کے لیے معمول کے مانسون کی پیش گوئی کی تھی۔ تاہم، اس نے خبردار کیا تھا کہ ‘ایل نینو’ جنوب مغربی مانسون کو متاثر کر سکتا ہے۔ ‘ایل نینو’ جنوبی امریکہ کے قریب بحرالکاہل میں پانی کا گرم ہونا ہے اور یہ ہندوستان میں کمزور مانسونی ہواوؤں اور خشک حالات پیدا کرتا ہے۔