مودی کے بیان کے بعد ’دماغی نکسلی پارٹی‘ انسٹاگرام پیج کے 24 گھنٹوں میں 1.6 لاکھ فالوورز ہونے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم ملکیت واضح نہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یومِ آزادی کی تقریر میں ”دماغی نکسلی“ کی اصطلاح استعمال کیے جانے کے بعد اسی نام سے منسوب ایک انسٹاگرام پیج کے 24 گھنٹوں میں 1.6 لاکھ سے زیادہ فالوورز حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں پیش کی گئی اکاؤنٹ کی معلومات کے مطابق، مذکورہ پیج پر 62 پوسٹس موجود تھیں اور وہ تقریباً 35 اکاؤنٹس کو فالو کر رہا تھا۔ انسٹاگرام کے ”اس اکاؤنٹ کے بارے میں“ حصے میں مبینہ طور پر درج تھا کہ اکاؤنٹ اگست 2026 میں بنایا گیا اور اس کا صارف نام ایک مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ تاہم، اکاؤنٹ چلانے والے فرد یا گروہ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
فالوورز کی موجودہ تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی
خبر کی اشاعت کے وقت 1.6 لاکھ سے زیادہ فالوورز کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ تلاش کے دوران ملتے جلتے ناموں والے متعدد انسٹاگرام اکاؤنٹس سامنے آئے، جن کے فالوورز، پوسٹس اور سرگرمی کے اعدادوشمار ایک دوسرے سے مختلف تھے۔
اس لیے یہ واضح نہیں کہ رپورٹ میں مذکور اصل اکاؤنٹ نے اپنا صارف نام تبدیل کر لیا، غیر فعال ہوگیا، اس پر پابندی عائد ہوئی یا رپورٹ کسی دوسرے اکاؤنٹ کے متعلق تھی۔
اکاؤنٹ بنائے جانے کی تاریخ اور صارف نام کی تبدیلی جیسی معلومات سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسے کس شخص یا تنظیم نے قائم کیا اور کون اس کا انتظام کر رہا ہے۔
سیاسی جماعت ہونے کا کوئی مصدقہ ثبوت نہیں
نام میں ”پارٹی“ کا لفظ شامل ہونے کے باوجود، اس بات کا کوئی تصدیق شدہ ثبوت موجود نہیں کہ یہ پیج کسی رجسٹرڈ سیاسی جماعت، انتخابی تنظیم یا باقاعدہ سیاسی تحریک کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس اکاؤنٹ کا کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی یا کسی دوسری تسلیم شدہ سیاسی جماعت سے بھی کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس کا نام آن لائن سیاسی طنز یا ڈیجیٹل برانڈنگ کی ایک شکل معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی باقاعدہ سیاسی جماعت کے قیام کا ثبوت۔
مودی کا ’دماغی نکسلیوں‘ سے متعلق انتباہ
یہ اصطلاح 15 اگست کو وزیراعظم مودی کی لال قلعہ سے کی گئی تقریر کے بعد موضوعِ بحث بنی۔ مودی نے کہا تھا کہ اگرچہ حکومت نے متعدد جنگلاتی علاقوں میں مسلح نکسلی تحریک کو کمزور کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اس کے نظریاتی حامی اب بھی معاشرے اور اداروں میں موجود ہیں۔
انہوں نے ایسے افراد کے لیے ”دماغی نکسلی“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے شہریوں سے ان لوگوں کی نشاندہی اور انہیں الگ تھلگ کرنے کی اپیل کی جو، ان کے مطابق، تشدد اور بدامنی کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مودی کے بیان کا مزید پس منظر اس ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں پڑھا جا سکتا ہے۔
اصطلاح آن لائن سیاسی شناخت میں کیسے بدلی؟
مودی کے بیان کے بعد یہ اصطلاح سوشل میڈیا پر سیاسی ردعمل، طنز، میمز اور تنقیدی تبصروں کا موضوع بن گئی۔ پیج کی مبینہ تیز رفتار مقبولیت سے عندیہ ملتا ہے کہ بعض صارفین نے اس اصطلاح کو طنزیہ انداز میں اختیار کیا یا اسے حکومت کے ناقدین کے لیے استعمال ہونے والے لیبل کے طور پر دیکھا۔
تاہم، کسی اکاؤنٹ کے فالوورز میں اضافہ خود بخود ماؤ نواز تشدد کی حمایت، کسی تنظیم کی رکنیت یا کسی سیاسی جماعت کی مقبولیت ثابت نہیں کرتا۔ لوگ تجسس، مزاح، اختلافِ رائے یا مواد پر نظر رکھنے سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر متنازع سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے یومِ آزادی کی تقریر میں ’دماغی نکسلی‘ کی اصطلاح استعمال کیے جانے کے بعد اسی نام سے منسوب ایک انسٹاگرام پیج کے 24 گھنٹوں میں 1.6 لاکھ سے زیادہ فالوورز حاصل کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ تاہم، اکاؤنٹ کے منتظمین اور موجودہ اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اکاؤنٹ کی ملکیت اور اصلیت پر سوالات
اکاؤنٹ کے منتظمین کی شناخت سامنے آنے یا انسٹاگرام کی جانب سے وضاحت فراہم کیے جانے تک کئی اہم سوالات جواب طلب رہیں گے:
- اکاؤنٹ کس نے بنایا اور اس کا انتظام کون کر رہا ہے؟
- کیا رپورٹ میں بیان کردہ فالوورز کی تعداد درست اور حقیقی تھی؟
- کیا یہ کسی پہلے سے موجود پروفائل کا تبدیل شدہ نام ہے؟
- کیا اسے طنز، سیاسی اظہار یا آن لائن سامعین جمع کرنے کے لیے بنایا گیا؟
- کیا اس کا کسی تسلیم شدہ سیاسی یا سماجی تنظیم سے تعلق ہے؟
پیج کی مبینہ تیز رفتار مقبولیت یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی اصطلاحات سوشل میڈیا پر کس تیزی سے آن لائن رجحان میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ تاہم، صرف فالوورز کی تعداد کسی نئی سیاسی جماعت یا منظم نظریاتی مہم کے قیام کی تصدیق نہیں کرتی۔
اکاؤنٹ کے منتظمین، انسٹاگرام یا اس کی مالک کمپنی میٹا کی جانب سے قابلِ تصدیق وضاحت سامنے آنے پر رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
اصل رپورٹ Hams Live News میں شائع ہوئی تھی۔
