کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے وزیراعظم نریندر مودی کے ’دماغی نکسلیوں‘ سے متعلق انتباہ پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ’دماغی نکسلی‘ ہونے پر فخر ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے وزیراعظم نریندر مودی کے ’دماغی نکسلیوں‘ سے متعلق بیان پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہ سیاسی لقب قبول کرنے پر فخر ہے۔
چدمبرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”مجھے دماغی نکسلی ہونے پر فخر ہے۔“ ان کا یہ مختصر ردعمل وزیراعظم مودی کے 15 اگست 2026 کو لال قلعے سے کیے گئے یوم آزادی کے خطاب کے ایک دن بعد سامنے آیا۔
مودی نے اپنے خطاب میں ’دماغی نکسلی‘ کی اصطلاح ایسے لوگوں کے لیے استعمال کی جو ان کے بقول ماؤ نواز نظریات کی حمایت کرتے اور تشدد یا بدامنی پیدا کرنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں۔
مودی نے نظریاتی خطرے سے خبردار کیا
وزیراعظم مودی نے کہا کہ حکومت جنگلات میں سرگرم مسلح نکسلی گروہوں کو بڑی حد تک کمزور کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، لیکن ان کے نظریاتی حامی اب بھی معاشرے اور مختلف اداروں میں موجود ہیں۔
مودی کے مطابق، ”جنگلات میں مسلح نکسلیوں سے نجات حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے، لیکن دماغی نکسلی تشدد اور بدامنی پیدا کرنے کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔“
انہوں نے شہریوں سے ایسے عناصر کی شناخت کرکے انہیں الگ تھلگ کرنے کی اپیل کی۔
وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ ماؤ نواز ذہنیت رکھنے والے افراد برسوں تک اقتدار کے ایوانوں میں موجود رہے، سرکاری کمیٹیوں میں مشیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور عوامی پالیسیوں پر اثرانداز ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ مسلح ماؤ نواز سرگرمیوں میں کمی کے باوجود اس نظریاتی چیلنج کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
چدمبرم کے طنزیہ جواب کا مطلب کیا ہے؟
چدمبرم نے اپنی مختصر پوسٹ میں نہ تو ’دماغی نکسلی‘ کی اصطلاح کی تفصیلی تشریح کی اور نہ ہی مسلح ماؤ نواز تحریک سے متعلق اپنے مؤقف پر کوئی نیا بیان دیا۔
اس لیے ان کی پوسٹ کو مسلح نکسلواد کی حمایت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے سیاسی سیاق سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ مودی کی استعمال کردہ وسیع اصطلاح پر طنز کر رہے تھے۔ تاہم یہ ایک سیاقی تشریح ہے، چدمبرم کی جانب سے دیا گیا تفصیلی مؤقف نہیں۔
چدمبرم کا ردعمل اس لیے بھی سیاسی اہمیت رکھتا ہے کہ متحدہ ترقی پسند اتحاد کی حکومت میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے انہوں نے خود ماؤ نواز گروہوں کے خلاف سکیورٹی حکمت عملی اور کارروائیوں کی نگرانی کی تھی۔
ماؤ نواز تشدد کے اثرات پر مودی کا مؤقف
مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کئی دہائیوں پر محیط نکسلی اور ماؤ نواز تشدد نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل اور خواہشات کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تنازع کے دوران 3,500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار مارے گئے۔ ان کے مطابق نکسلواد نے ایک وقت میں بھارت کے وسیع علاقوں اور بڑی آبادی کو بندوق کے زور پر اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نکسلواد کے خاتمے کو ترجیح دی اور متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی کارروائیوں کو ترقیاتی پروگراموں کے ساتھ آگے بڑھایا۔
مودی کے خطاب اور بھارت میں ماؤ نواز تحریک کے تاریخی پس منظر سے متعلق مزید تفصیلات Associated Press کی رپورٹ میں دستیاب ہیں۔
حکومت کا نکسلی تشدد میں نمایاں کمی کا دعویٰ
مودی نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی گولیاں چلنا اور خونریزی معمول کی بات تھی، وہاں اب ترقیاتی سرگرمیاں، عوامی اعتماد اور سرکاری خدمات کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی کارروائیوں، سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی توسیع اور فلاحی منصوبوں نے ماؤ نواز گروہوں کے جغرافیائی اثر کو محدود کرنے میں مدد دی ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ بھی نکسلواد کے خلاف مہم میں بڑی کامیابی کا دعویٰ کر چکی ہے۔ حکومت کا سرکاری مؤقف پریس انفارمیشن بیورو کے بیان میں پڑھا جا سکتا ہے۔
تاہم سرکاری دعوؤں کے باوجود وسطی اور مشرقی بھارت کے بعض حصوں میں سکیورٹی کارروائیاں اور ماؤ نواز گروہوں سے منسلک واقعات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
اختلاف رائے اور قومی سلامتی کے درمیان بحث
اس تنازع کا بنیادی سوال یہ ہے کہ تشدد کی نظریاتی حمایت اور جائز جمہوری اختلاف کے درمیان حد کہاں مقرر کی جائے۔
مودی کے بیان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں کو فکری یا ادارہ جاتی مدد فراہم کرنے والے افراد خود ہتھیار اٹھائے بغیر بھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کو خدشہ ہے کہ ’اربن نکسلی‘ یا ’دماغی نکسلی‘ جیسی غیر واضح اصطلاحات صحافیوں، دانش وروں، وکلا، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہوسکتی ہیں، خواہ وہ تشدد کی حمایت نہ کرتے ہوں۔
’دماغی نکسلی‘ کوئی باقاعدہ قانونی اصطلاح نہیں ہے۔ صرف اس سیاسی لیبل کی بنیاد پر یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی شخص مسلح تشدد کا حامی ہے یا محض حکومتی پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہے۔
جے رام رمیش نے بھی مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا
کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بھی وزیراعظم کی اصطلاح کو سیاسی بیان بازی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مودی اور بی جے پی پہلے مخالفین کے لیے ’اربن نکسلی‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے اور اب انہیں ’دماغی نکسلی‘ کہا جا رہا ہے۔
رمیش نے الزام عائد کیا کہ حکومت حزب اختلاف کی بعض تجاویز کو ابتدا میں انتہاپسند قرار دیتی ہے، لیکن بعد میں انہی میں سے کچھ کو قبول کر لیتی ہے۔ انہوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو اس کی مثال قرار دیا۔
یہ الزامات جاری سیاسی بحث کا حصہ ہیں اور کسی قانونی نتیجے کی نمائندگی نہیں کرتے۔
تازہ صورتِ حال
17 اگست 2026 تک چدمبرم کی جانب سے اپنی مختصر ایکس پوسٹ کی مزید تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ مودی کی اصطلاح پر کانگریس کے دیگر رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین نے ردعمل دیا ہے، لیکن کوئی نئی حکومتی پالیسی یا قانونی تعریف جاری نہیں کی گئی۔
اس لیے فی الحال تنازع سیاسی زبان، قومی سلامتی اور جمہوری اختلاف کے درمیان تعلق پر مرکوز ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ مسلح ماؤ نواز گروہوں سے منسلک نظریاتی نیٹ ورک بدستور خطرہ ہوسکتے ہیں۔ حزب اختلاف سوال اٹھا رہی ہے کہ آیا ’دماغی نکسلی‘ جیسا وسیع لیبل حکومت سے اختلاف رکھنے والے لوگوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ بحث ایک بڑے جمہوری سوال کو سامنے لاتی ہے: بھارت تشدد کی حمایت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی اختلاف کے اظہار کے درمیان واضح فرق کیسے قائم کرے؟
اصل رپورٹ Hams Live News میں شائع ہوئی تھی۔
