جمعرات, جون 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 65

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر: قصوروار عارض خان کو سزائے موت دینے سے دہلی ہائی کورٹ نے کیا انکار

0
بٹلہ-ہاؤس-انکاؤنٹر:-قصوروار-عارض-خان-کو-سزائے-موت-دینے-سے-دہلی-ہائی-کورٹ-نے-کیا-انکار

بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر معاملہ میں آج دہلی ہائی کورٹ نے انتہائی اہم فیصلہ صادر کیا۔ عدالت نے قصوروار عارض خان کے لیے سنائی گئی سزائے موت کے فیصلہ کو بدل دیا ہے اور اب اسے عمر قید کی سزا بھگتنی ہوگی۔ یہ فیصلہ جسٹس سدھارتھ مردُل کی بنچ نے سنایا ہے۔ دراصل بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے دوران دہلی پولیس کے انسپکٹر موہن چند شرما کا قتل کر دیا گیا تھا جس کا قصوروار عارض خان کو ٹھہرایا گیا ہے۔

عارض خان کے لیے موت کی سزا سے متعلق فیصلہ سنائے جانے کے بعد مخالفت میں ایک عرضی داخل کی گئی تھی۔ اس عرضی پر سماعت کے دران عارض کے وکیل نے سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ ان کے موکل عارض خان کی اصلاح نہیں کی جا سکتی، اور اگر اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو بھی عمر قید کی سزا کا اصول ہے۔

دہلی پولیس کی طرف سے پیش اسپیشل پبلک پرازیکیوٹر راجیش مہاجن نے اس معاملے میں دلیل دی کہ ایک وردی پہنے پولیس افسر کا قتل غیر معمولی واقعہ ہے۔ ایسے میں قصوروار کو سزائے موت ملنی چاہیے۔ عارض کی سماجی جانچ اور نفسیاتی تجزیہ کی رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ جیل میں عارض خان کا رویہ غیر اطمینان بخش رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ساکیت کورٹ نے 8 مارچ 2021 کو عارض خان کو قصوروار ٹھہرایا تھا اور 15 مارچ 2021 کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد سزائے موت کی تصدیق کے لیے معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا۔ حالانکہ اب عدالت نے واضح کر دیا کہ عارض کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔

گنگا جل پر 18 فیصد جی ایس ٹی! کھڑگے کی پی ایم مودی پر تنقید، لوٹ مار اور منافقت کی انتہا قرار دیا

0
گنگا-جل-پر-18-فیصد-جی-ایس-ٹی!-کھڑگے-کی-پی-ایم-مودی-پر-تنقید،-لوٹ-مار-اور-منافقت-کی-انتہا-قرار-دیا

نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کو مقدس گنگا کے پانی پر مبینہ طور پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی لوٹ مار اور منافقت کی انتہا ہے۔

کھڑگے نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ہندی میں ایک پوسٹ میں کہا ’’مودی جی! ایک عام ہندوستانی کے جنم سے لے کر زندگی کے آخر تک موکش فراہم کرنے والی ماں گنگا کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ آپ آج اتراکھنڈ میں ہیں لیکن آپ کی حکومت نے مقدس گنگا کے پانی پر ہی 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کر دیا!‘‘

انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ گنگا کا پانی گھروں تک پہنچانے والوں پر کتنا بوجھ پڑے گا، یہ آپ کی حکومت کی لوٹ مار اور منافقت کی انتہا ہے۔ کانگریس لیڈر نے یہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا ہے جب وزیر اعظم مودی اتراکھنڈ کے دورے پر ہیں۔

ایودھیا کے دھنّی پور میں بننے والی مسجد کے لیے ممبئی سے بھیجی جائے گی پہلی اینٹ!

0
ایودھیا-کے-دھنّی-پور-میں-بننے-والی-مسجد-کے-لیے-ممبئی-سے-بھیجی-جائے-گی-پہلی-اینٹ!

بابری مسجد انہدام معاملہ میں سپریم کورٹ نے مسلم فریق کو جو 5 ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ سنایا تھا، اس جگہ پر مسجد بنانے سے متعلق سرگرمیاں تیز ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایودھیا کے دھنّی پور گاؤں میں ملک کی سب سے بڑی مسجد بنانے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے لیکن کچھ کاغذی کارروائی میں تاخیر کی وجہ سے اب تک مسجد تعمیر کا کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ممبئی میں ہو رہی ایک اہم میٹنگ میں مسجد تعمیر سے متعلق کچھ بڑے فیصلے لیے جا سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آج ممبئی واقع رنگ شاردا ہال میں ہو رہی میٹنگ کی صدارت حاجی عرافات شیخ کر رہے ہیں اور سنی وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر فاروقی بھی اس میٹنگ کا حصہ ہیں۔ میٹنگ میں دھنّی پور میں تعمیر ہونے والی مسجد کا خاکہ، اس کا نام اور دیگر امور پر فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ میٹنگ میں بڑی تعداد میں علماء حضرات شریک ہیں جو کہ مختلف امور پر اپنی بات رکھیں گے۔

موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ کئی گھنٹوں تک چلنے والی اس میٹنگ کے بعد ایودھیا میں بننے والی مسجد کی پہلی جھلک سامنے آ سکتی ہے۔ حالانکہ مسجد کے ماڈل کی تصویر بہت پہلے ہی سامنے آ چکی ہے۔ ممکن ہے اس میں کچھ رد و بدل بھی کیا جائے۔ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا جائے گا کہ مسجد تعمیر کے لیے پہلی اینٹ ممبئی سے بھیجی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ دھنّی پور گاؤں ایودھیا کے شری رام مندر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایودھیا میں شری رام مندر تو بن کر تقریباً تیار ہے، لیکن مسجد تعمیر کا کام ابھی تک شروع بھی نہیں ہو سکا ہے۔ اب ممبئی میں ہو رہی میٹنگ کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسجد تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا۔

ایم پی اسمبلی انتخابات: ’بی جے پی حکومت صرف لوٹ مار میں مصروف‘، پرینکا گاندھی نے شیوراج حکومت پر بولا حملہ

0
ایم-پی-اسمبلی-انتخابات:-’بی-جے-پی-حکومت-صرف-لوٹ-مار-میں-مصروف‘،-پرینکا-گاندھی-نے-شیوراج-حکومت-پر-بولا-حملہ

بھوپال: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعرات کو انتخابی مدھیہ پردیش کے منڈلا ضلع میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا اور بی جے پی پر سخت حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی روایت دیکھیں، جنگلات کے حقوق کا قانون آپ کے لیے بنایا تاکہ جنگلات پر پہلا حق آپ کا ہو کیونکہ یہ آپ کی ثقافت ہے۔ اس کی حفاظت اور اسے مضبوط کرنا حکومت کا فرض ہے۔ یہاں آنے والا ہر لیڈر تین الفاظ استعمال کرتا ہے- جل، جنگل، زمین لیکن اس کے بنیادی معنی کو سمجھنا ضروری ہے کہ لیڈر کوچھ معنی خیز باتیں کر رہا ہے یا پھر جملہ بازیی کر رہا ہے!

جن آکروش ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ لوگ روزگار کے لیے ریاست چھوڑ رہے ہیں۔ وہ یہاں آپ کے لیے روزگار کے مواقع پیدا نہیں کر رہے ہیں۔ بی جے پی 18 سال سے اقتدار میں ہے اور روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوئے، وہ صرف لوٹ مار میں مصروف ہیں اور ہر طرف گھوٹالے ہو رہے ہیں۔ الیکشن کے وقت ایسی باتیں کرنے لگتے ہیں جن کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ وہ آپ کے جذبات سے کھیلنے کے لیے یہ ایشوز انتخابات سے پہلے لاتے ہیں۔ اس لیے آپ کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی نے گزشتہ 18 سالوں میں مدھیہ پردیش کے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا، وہ انہیں صرف انتخابات کے دوران ہی یاد کرتی ہے۔ بی جے پی کے تقریباً 225 مہینوں کے دور میں مدھیہ پردیش میں 250 سے زیادہ گھوٹالے ہوئے۔ ذات پر مبنی مردم شماری کی وکالت کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اس سے ملک میں او بی سی، درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کو انصاف ملے گا۔

مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’میں شیوراج سنگھ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ریاست کے لوگوں کو کیا دیا؟ انہوں نے مہنگائی، بدعنوانی اور بے روزگاری دی، میں وعدہ کرتی ہوں کہ ہم بھرتیوں کا بیک لاگ پُر کریں گے۔ مدھیہ پردیش میں سب سے بڑا چیلنج ہمارے نوجوانوں کا مستقبل ہے، ہماری ترجیح ان آسامیوں کو پُر کرنا ہوگی تاکہ نوجوانوں کو روزگار ملے۔ روزگار ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘

خیال رہے کہ منگل کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش کے شہڈول ضلع کے بیوہاری میں ایک ریلی سے خطاب کیا۔ مدھیہ پردیش کی تمام 230 سیٹوں پر ایک ہی مرحلے میں 17 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 3 دسمبر کو ہوگی۔

تمل ناڈو کے وزیر سینتھل بالاجی کی ضمانت کی عرضی 16 اکتوبر تک ملتوی

0
تمل-ناڈو-کے-وزیر-سینتھل-بالاجی-کی-ضمانت-کی-عرضی-16-اکتوبر-تک-ملتوی

چنئی: مدراس ہائی کورٹ نے حکمراں ڈی ایم کے لیڈر اور بغیر پورٹ فولیو والے تمل ناڈو کے وزیر وی سینتھل بالاجی کی ضمانت کی عرضی 16 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔ انہیں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا تھا اور فی الحال عدالتی حراست میں ہے۔

پرنسپل سیشن کورٹ کی طرف سے دو بار ان کی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد، وزیر کے وکیل این آر ایلانگو نے اپنی کورونری بائی پاس سرجری کا حوالہ دیتے ہوئے، مکمل طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا رخ کیا۔

کل شام کیس درج ہونے کے بعد جسٹس جی جے چندرن نے ای ڈی کو نوٹس کا حکم دیا اور کیس کی مزید سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

سینتھل بالاجی کو 14 جون کو منی لانڈرنگ کیس میں 2011-2016 کے اے آئی اے ڈی ایم کے کے دور حکومت کے دوران ٹرانسپورٹ کے وزیرکی حیثیت سے ملازمت کے بدلے نقد رقم کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایک نجی اسپتال میں ان کی بائی پاس سرجری ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ نے مہاراشٹر کے سابق وزیر نواب ملک کی عبوری ضمانت میں کی تین ماہ کی توسیع

0
سپریم-کورٹ-نے-مہاراشٹر-کے-سابق-وزیر-نواب-ملک-کی-عبوری-ضمانت-میں-کی-تین-ماہ-کی-توسیع

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو منی لانڈرنگ کے ایک مبینہ کیس میں مہاراشٹر کے سابق وزیر نواب ملک کو طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت دینے کے اپنے پہلے حکم میں تین ماہ کی توسیع کر دی۔ جسٹس انیرودھا بوس اور دیپانکر دتا کی بنچ نے میڈیکل رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد حکم دیا، ’’درخواست گزار کو دی گئی عبوری ضمانت میں تین ماہ کی توسیع کی جاتی ہے۔‘‘

بنچ کو بتایا گیا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سینئر رہنما گردے کی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان کا بایاں گردہ مکمل طور پر فیل ہو چکا ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے ملک کی جانب سے کی گئی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور کہا کہ عبوری ضمانت میں توسیع کی ان کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کر سکتا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے حکم دیا، ’’درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار اب بھی گردے کی دائمی بیماری میں مبتلا ہے اور اس کی طبی حالت بہتر نہیں ہوئی ہے۔ مذکورہ بالا کے پیش نظر درخواست گزار کو دی گئی عبوری ضمانت میں مزید تین ماہ کی توسیع کی جاتی ہے۔‘‘

نارتھ ایسٹ ایکسپریس حادثہ: آٹھ ٹرینیں منسوخ، 33 ٹرینوں کے روٹ تبدیل

0
نارتھ-ایسٹ-ایکسپریس-حادثہ:-آٹھ-ٹرینیں-منسوخ،-33-ٹرینوں-کے-روٹ-تبدیل

حاجی پور: آنند وہار سے کامکھیا جانے والی نارتھ ایسٹ ایکسپریس کے ایسٹ سنٹرل ریلوے (ای سی آر) کے پٹنہ۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے ریلوے لائن پر رگھوناتھ پور کے قریب کل رات 23 بوگیاں پٹری سے اترنے کے بعد، اس روٹ پر چلنے والی آٹھ ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا، جبکہ 33 ٹرینوں کا رخ موڑ دیا گیا۔

ای سی آر کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر وریندر کمار نے جمعرات کو کہا کہ مسافروں کی سہولت اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے 12 اکتوبر کو کل آٹھ ٹرینوں کے آپریشن کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان ٹرینوں میں ٹرین نمبر 03230 پٹنہ-پوری اسپیشل، 03247 داناپور-بنگلور، 03225 داناپور-سکندرآباد، 13424 اجمیر-بھگلپور، 03620 پٹنہ-ساسارام ​​پیسنجر اسپیشل، 03617 آرا-بھبھوا روڈ پیسنجر، 03203 پٹنہ- پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن (ڈی ڈی یو) پیسنجر اور 03375 پٹنہ-بکسر پیسنجر اسپیشل شامل ہیں۔

کمار نے کہا کہ 11 اکتوبر کو شروع ہونے والی ڈاؤن سمت کی 21 ٹرینوں کے روٹس کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان میں ٹرین نمبر 15548 لوک مانیہ تلک ٹرمینس (ایل ٹی ٹی) – ریکسول ایکسپریس کو ڈی ڈی یو-ساسارام -آرا کے راستے، 15945 ایل ٹی ٹی-ڈبروگڑھ ایکسپریس کو ڈی ڈیو-گیا-آسنسول-انڈال، 20802 مگدھ ایکسپریس کو ڈی ڈی یو-گیا-پٹنہ، 19483 احمدآباد-برونی ایکسپریس کو ڈی ڈی یو-ساسارام-آرا، 12362 سی ایس ایم ٹی-آسنسول ایکسپریس کو ڈی ڈی یو-گیا-دھنباد اور 22450 نئی دہلی-گوہاٹی ایکسپریس کو ڈی ڈی یو-گیا-آسنسول کے راستے چلایا جارہا ہے۔

چیف پبلک ریلیشن آفیسر نے بتایا کہ اسی طرح ٹرین نمبر 19313 اندور-پٹنہ ایکسپریس کو ڈی ڈی یو- گیا- پٹنہ، 15657 نئی دہلی- کامکھیا ایکسپریس کو ڈی ڈی یو- گیا- کیول، 12791 سکندرآباد- دانا پور ایکسپریس کو ڈی ڈی یو- ساسارم- آرا، 13240 کوٹا-پٹنہ ایکسپریس کو ڈی ڈی یو-گیا-پٹنہ، 11123 گوالیار-برونی ایکسپریس کو ڈی ڈی یو-ساسارام-آرا-پاٹلی پترا، 05216 یشونت پور-برونی اسپیشل کو ڈی ڈی یو-گیا-پٹنہ، 13414 دہلی -مالدا ٹاؤن فرکا ایکسپریس کو ڈی ڈی یو۔ گیا کیول، 13202 لوک مانیہ تلک-پٹنہ ایکسپریس کو ڈی ڈی یو- گیا پٹنہ کے راستے منزل کی طرف روانہ کی گئی ہے۔

‘ریلوے اور مرکز کا احتساب ہونا چاہیے’، بہار ٹرین حادثے پر کھڑگے کا بیان

0
‘ریلوے-اور-مرکز-کا-احتساب-ہونا-چاہیے’،-بہار-ٹرین-حادثے-پر-کھڑگے-کا-بیان

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو بہار کے بکسر میں آنند وہار-کاماکھیا نارتھ ایسٹ ایکسپریس حادثے میں مسافروں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور ریلوے اور مرکز سے جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی حادثے میں مسافروں کی موت پر غم کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں کھڑگے نے کہا، ’’بکسر، بہار میں نئی ​​دہلی سے آسام جانے والی نارتھ ایسٹ ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کی خبر بہت افسوسناک ہے۔ اس ہولناک حادثے میں کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور 100 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔‘‘

کھڑگے نے کہا، ’’ہم مرنے والوں کے خاندانوں کے تئیں اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ کانگریس کارکنوں سے درخواست ہے کہ وہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کریں۔‘‘

انہوں نے 2 جون کو بالاسور، اڈیشہ میں پیش آنے والے ٹرپل ٹرین حادثے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’جون 2023 کے بالاسور ٹرین حادثے کے بعد یہ دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ ریلوے کی وزارت اور مرکزی حکومت کا احتساب کیا جانا چاہئے۔‘‘

دریں اثنا، راہل گاندھی نے فیس بک پر ہندی میں ایک پوسٹ میں کہا، "دہلی-کاماکھیا نارتھ ایسٹ ایکسپریس حادثے میں کئی لوگوں کی موت کی خبر افسوسناک ہے۔ سوگوار کنبہ کے افراد سے میری تعزیت اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ میں کانگریس کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بچاؤ اور راحت کے کاموں میں انتظامیہ کی مدد کریں۔‘‘

واضح رہے آسام کے بکسر میں رگھوناتھ پور میں کاماکھیا جانے والی آنند وہار-کاماکھیا شمال مشرقی ایکسپریس کے 21 ڈبے پٹری سے اترنے سے کم از کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

اے ایم یو کے اقلیتی کردار پر سپریم کورٹ کے 7 ججوں کی آئینی بنچ آج کرے گی سماعت

0
اے-ایم-یو-کے-اقلیتی-کردار-پر-سپریم-کورٹ-کے-7-ججوں-کی-آئینی-بنچ-آج-کرے-گی-سماعت

علی گڑھ: سپریم کورٹ میں 7 ججوں کی بنچ آج (12 اکتوبر) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر سماعت کرے گی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی درجہ سے متعلق معاملہ اے ایم یو بمقابلہ ڈاکٹر نریش اگروال اور دیگر کے درمیان سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی صدارت میں آج 7 رکنی بنچ اس کی سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ نے فروری 2019 میں اے ایم یو کو اقلیتی ادارے کا درجہ دینے کا معاملہ 7 ارکان کی آئینی بنچ کو سونپ دیا تھا۔

دراصل یو پی اے کی مرکزی حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ کے 2006 کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ اسی کو لے کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو الگ سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سال 2004 میں منموہن سنگھ کی حکومت کے ایک خط میں کہا گیا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک اقلیتی ادارہ ہے، اس لیے وہ اپنی داخلہ پالیسی میں تبدیلی کر سکتی ہے۔ اس وقت کی مرکزی حکومت کی اجازت کے بعد، یونیورسٹی نے داخلہ پالیسی میں تبدیلی کی اور ایم ڈیی اور ایم ایس کے طلباء کے لیے ریزرویشن فراہم کیا۔

ڈاکٹر نریش اگروال اور دیگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اس فیصلے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ گئے جہاں بنچ کا فیصلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے خلاف آیا۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں یہ حکم دیا گیا کہ فیصلہ آنے تک جمود برقرار رہے گا۔

’ہمیں سزا نہ دیں، متاثرین کو معاوضہ دیں‘ مسلم نوجوانوں کو کوڑے مارنے والے پولیس اہلکاروں کی گجرات ہائی کورٹ سے استدعا

0
’ہمیں-سزا-نہ-دیں،-متاثرین-کو-معاوضہ-دیں‘-مسلم-نوجوانوں-کو-کوڑے-مارنے-والے-پولیس-اہلکاروں-کی-گجرات-ہائی-کورٹ-سے-استدعا

گجرات ہائی کورٹ نے مسلم نوجوانوں کو سرعام کوڑے مارنے والے چار پولیس اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔ بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملہ میں بدھ کے روز ملزم پولیس اہلکاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں سزا دینے کے بجائے، ان پانچ مسلم مردوں کو معاوضہ دینے پر غور کیا جائے، جنہیں انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں سرعام مارا تھا۔

چار افسران اے وی پرمار، ڈی بی کماور، کنک سنگھ لکشمن سنگھ اور راجو رمیش بھائی ڈابھی نے سینئر ایڈوکیٹ پرکاش جانی کے ذریعے جسٹس اے ایس سپیہیا اور گیتا گوپی کی بنچ کو بتایا کہ وہ توہین عدالت کے الزام پر فیصلہ کرنے سے پہلے ان کی خدمات پر غور کریں۔

جانی نے بنچ سے کہا، ’’ہم نے ریاستی پولیس میں 10 سے 15 سال سے زیادہ کی سروس دی ہے۔ فوری کارروائی کے بعد اگر عدالت ہمیں قصوروار قرار دیتی ہے، تو ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ براہ کرم ہمیں سزا نہ دیں کیونکہ اس سے ہمارا خدمات کا ریکارڈ بہت زیادہ متاثر ہوگا۔ ہماری درخواست ہے کہ براہ کرم شکایت کنندگان کو معاوضے کا حکم دینے پر غور کریں۔‘‘

اس کے بعد ڈویژن بنچ نے شکایت کنندہ یا واقعے کے متاثرین سے جواب طلب کیا اور کیس کی اگلی سماعت پیر 16 اکتوبر کو مقرر کی۔

خیال رہے کہ اوندھیلہ گاؤں میں نوراتری پروگرام کے دوران ہجوم پر مبینہ طور پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں کھیڑا ضلع کے ماٹر تھانے کے پولیس اہلکاروں نے پانچ متاثرین کو زدوکوب کیا تھا۔ مار پیٹ کے واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی۔

متاثرین کے لواحقین نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں ڈی کے باسو بمقابلہ ریاست مغربی بنگال کے معاملے میں جاری کردہ سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کی گئی تھی، جس میں کسی بھی شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں مناسب عمل کی تعمیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

درخواستیں سینئر ایڈوکیٹ آئی ایچ سید کے ذریعے دائر کی گئی تھیں۔ ہائی کورٹ نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس معاملے میں ریاست سے جواب طلب کیا تھا۔

درخواست کا جواب دیتے ہوئے پولیس سپرنٹنڈنٹ راجیش کمار گڑھیا نے کہا ’’مسلم مردوں نے اپنی برادری کے 159 افراد کے ساتھ مل کر ہندو برادری میں خوف پیدا کرنے کے لیے گربا ایونٹ میں خلل ڈالنے کی سازش کی تھی۔ علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لیے درخواست گزاروں کو پولیس نے مارا پیٹا تھا۔‘‘

اس واقعے میں 14 پولیس اہلکاروں میں سے ہر ایک کے کردار کا پتہ لگانے کے لیے ہائی کورٹ نے نادیہ ضلع کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

بعد میں سی جے ایم چترا رتنو کی طرف سے ہائی کورٹ کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس واقعہ کے ویڈیو کلپس اور تصویریں واضح نہیں ہیں۔ اس لیے کلپ میں نظر آنے والے تمام 14 پولیس اہلکاروں کی شناخت کرنا مشکل تھا۔ صرف چار پولیس اہلکاروں کی شناخت ہو سکی۔

سی جے ایم نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ متاثرین اس واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کی شناخت نہیں کر سکے۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے چاروں شناخت شدہ پولیس اہلکاروں کے خلاف الزامات طے کرنے کی کارروائی کی۔