جمعرات, جون 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 64

عآپ کو پھر لگا زوردار جھٹکا، درجنوں لیڈران کانگریس میں شامل

0
عآپ-کو-پھر-لگا-زوردار-جھٹکا،-درجنوں-لیڈران-کانگریس-میں-شامل

نئی دہلی: دہلی کانگریس کے صدر اروندر سنگھ لولی کی موجودگی میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کے درجنوں لیڈران آج کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ عآپ کے لیے زوردار جھٹکا ہے کیونکہ پہلے بھی درجنوں لیڈران و کارکنان عآپ کا دامن چھوڑ کر کانگریس کا ہاتھ تھام چکے ہیں۔ آج کانگریس میں شامل ہونے والے لیڈران میں گلاب سنگھ ٹھاکر، دیپک راجپوت، ندیم، ساگر جین وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ سبھی اپنے درجنوں حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔

اس موقع پر گلاب سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ کانگریس واحد پارٹی ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے، اس لیے آج ہم کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اروندر سنگھ لولی نے پارٹی میں سب کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ تمام لوگ غیر مشروط طور پر کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی شمولیت سے کانگریس میں تبدیلی آئے گی۔ پارٹی مضبوط ہوگی اور ہم مل کر دہلی کے لوگوں کی خدمت کریں گے۔

سینئر لیڈر مکیش شرما اور جتیندر کمار کوچر نے اس موقع پر کہا کہ دہلی میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ لوگ عام آدمی پارٹی کی حکمرانی سے ناخوش ہیں اور وہ اب تبدیلی کے موڈ میں ہیں۔ بہرحال، اس تقریب میں ریاستی صدر اروندر سنگھ لولی کے علاوہ منگت رام، مکیش شرما، جتیندر کمار کوچر، نیرج بسویا، گرچرن سنگھ راجو، آصف محمد خان کے علاوہ کئی سیاسی شخصیات موجود تھیں۔

مدھیہ پردیش: ’کانگریس کی حکومت بنی تو اسکولی تعلیم مفت ہوگی‘، پرینکا گاندھی کا اعلان

0
مدھیہ-پردیش:-’کانگریس-کی-حکومت-بنی-تو-اسکولی-تعلیم-مفت-ہوگی‘،-پرینکا-گاندھی-کا-اعلان

بھوپال: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعرات کو مدھیہ پردیش کے منڈلا میں منعقد ’جن آکروش ریلی‘ سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، بلکہ کانگریس حکومت بننے کی صورت میں کئی اہم منصوبے شروع کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ پرینکا گاندھی نے طلبا کے لیے ’پڑھو اور پڑھاؤ‘ منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا جس کے تحت اسکولی تعلیم مفت کی جائے گی اور سبھی اسکولی طلبا کو 500 سے 1500 روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ اس منصوبہ کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سبھی طلبا و طالبات کو پہلی سے بارہویں درجہ تک مفت تعلیم دینے کے علاوہ پہلی درجہ سے آٹھویں درجہ تک 500 روپے، نویں اور دسویں درجہ کے طلبا کو 1000 روپے اور گیارہویں و بارہویں درجہ کے طلبا کو 1500 روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔

پرینکا گاندھی نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسمبلی انتخاب میں کانگریس کی کامیابی کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ حکومت تشکیل پانے کے بعد کسانوں کے قرض معاف کیے جانے کا راستہ ہموار کیا جائے گا اور انھیں 5 ہارس پاور آبپاشی کی بجلی مفت ملے گی۔ عوام کے لیے 100 یونٹ بجلی مفت ملے گی اور 200 یونٹ بجلی بل ہاف ہوگا۔ سرکاری ملازمین کے لیے پرانی پنشن نافذ کرنے کا وعدہ بھی پرینکا گاندھی نے کیا اور ساتھ ہی کہا کہ گیس سلنڈر کی قیمت 500 روپے کی جائے گی۔

پرینکا گاندھی کے وعدے اتنے پر ہی نہیں رکے، انھوں نے مزید وعدے کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو 1500 روپے ماہانہ ملیں گے۔ او بی سی ریزرویشن 27 فیصد ہوگا۔ ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے گی۔ جہاں 50 فیصد سے زیادہ قبائلی آبادی ہے، وہاں چھٹی شیڈول ڈالی جائے گی۔ ایس سی، ایس ٹی کے خالی پڑے بیک لاگ عہدوں کو فوراً بھرا جائے گا۔ پی ایم رہائش منصوبہ میں شہروں کے برابر گاؤں میں بھی رقم ملے گی۔ ’پیسا‘ قانون نافذ ہوگا۔

پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں مدھیہ پردیش میں کانگریس حکومت کی ڈیڑھ سالہ مدت کار کی حصولیابیوں کا بھی شمار کرایا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے 27 لاکھ کسانوں کے قرض معاف کیے تھے۔ سماجی سیکورتی پنشن بڑھا کر 600 روپے کی گئی تھی۔ ایک کروڑ کنبوں کو 100 روپے میں 100 یونٹ بجلی دی گئی تھی۔ ایک ہزار گئوشالائیں کھولی گئی تھیں۔ قبائلیوں کے لیے 12 ہزار برتن بینک کھلے تھے۔ او بی سی ریزرویشن 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کی گئی تھی۔ عوام کو مضبوط کرنے کے لیے کانگریس منریگا اور کھانے کا حق لے کر آئی، کانگریس جنگلی حقوق لے کر آئی، کانگریس نے پنچایت نظام کو مضبوط کیا، جبکہ بی جے پی حکومت نے سرپنچوں کے حقوق میں تخفیف کی، منریگا نافذ نہیں کیا گیا، زمینیں چھینی گئیں، پیداوار کی صحیح قیمت نہیں دی گئی، جنگل کے حقوق ختم کیے گئے۔ اتنا ہی نہیں، کمل ناتھ کی قیادت والی 15 مہینے چلی کانگریس حکومت میں جو پٹّے دلوائے، وہ بی جے پی حکومت نے روک دیے۔

تہواروں سے قبل عوام کو ملی راحت، ستمبر میں خوردہ شرح مہنگائی گھٹ کر 5 فیصد پر پہنچی

0
تہواروں-سے-قبل-عوام-کو-ملی-راحت،-ستمبر-میں-خوردہ-شرح-مہنگائی-گھٹ-کر-5-فیصد-پر-پہنچی

خوردنی ایشیا کی قیمتوں میں گراوٹ کے سبب ستمبر 2023 میں خوردہ شرح مہنگائی میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ ستمبر ماہ میں خوردہ مہنگائی کی شرح گر کر 5.02 فیصد پر آ گئی ہے جو اگست ماہ میں 6.83 فیصد رہی تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2023 میں خوردہ شرح مہنگائی 15 ماہ کی اعلیٰ سطح 7.44 فیصد پر جا پہنچی تھی۔

راحت کی بات یہ ہے کہ ستمبر ماہ میں خوردہ شرح مہنگائی آر بی آئی کے ٹولرنس بینڈ کی اعلیٰ سطح 6 فیصد سے اب نیچے آ گئی ہے۔ وزارت برائے شماریات کے ذریعہ دیے گئے ڈاٹا کے مطابق ستمبر ماہ میں خوردنی اشیا کی شرح مہنگائی میں بھی بڑی گراوٹ آئی ہے۔ ستمبر میں خوردنی اشیا کی شرح مہنگائی گھٹ کر 6.56 فیصد پر آ گئی جو اگست میں 9.94 فیصد رہی تھی۔ حالانکہ دیہی علاقوں میں مہنگائی اب بھی لوگوں کو پریشان کر رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں خوردہ شرح مہنگائی 5.33 فیصد ہے تو خوردنی اشیا کی شرح مہنگائی 6.65 فیصد پر بنی ہوئی ہے۔

ستمبر ماہ میں سبزیوں کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے جس کے سبب سبزیوں کی مہنگائی شرح گھٹ کر 3.39 فیصد پر آ گئی ہے جو اگست میں 26.14 فیصد پر تھی۔ ھالانکہ دالوں کی شرح مہنگائی بڑھی ہے۔ ستمبر میں دالوں کی شرح مہنگائی بڑھ کر 16.38 فیصد رہی جو اگست ماہ میں 13.04 فیصد رہی تھی۔ مسالوں کی شرح مہنگائی میں معمولی گراوٹ آئی ہے اور یہ 23.06 فیصد رہی ہے جو اگست میں 23.19 فیصد تھی۔ دودھ اور اس سے جڑی مصنوعات کی شرح مہنگائی میں بھی کمی آئی ہے اور یہ گھٹ کر 6.89 فیصد پر آ گئی ہے جو اگست میں 7.73 فیصد رہی تھی۔ اناج اور اس سے جڑی مصنوعات کی شرح مہنگائی بھی کم ہوئی۔ ستمبر میں یہ 10.95 فیصد رہی ہے جو اگست میں 11.85 فیصد رہی تھی۔

آپریشن اجئے: 230 ہندوستانیوں کو لے کر رات 9 بجے اسرائیل سے روانہ ہوگا خصوصی طیارہ

0
آپریشن-اجئے:-230-ہندوستانیوں-کو-لے-کر-رات-9-بجے-اسرائیل-سے-روانہ-ہوگا-خصوصی-طیارہ

اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس درمیان ہندوستانی حکومت نے اسرائیل سے وطن واپسی کا ارادہ رکھنے والے ہندوستانیوں کے لیے ’آپریشن اجئے‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت پہلا خصوصی چارٹر طیارہ جمعرات کی شب ہندوستانیوں کو لے کر بین گورین ہوائی اڈے سے ہندوستان کے لیے روانہ ہوگا۔ ذرائع کے حوالے سے جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق چارٹر طیارہ ’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘ کے طرز پر 230 ہندوستان کو لے کر جمعرات کی شب 9 بجے اسرائیل سے روانہ ہوگا۔ اس سفر کا مکمل خرچ ہنددوستانی حکومت برداشت کرے گی۔

آپریشن اجئے کے تحت اس طیارہ کا انتظام ایسے لوگوں کی مدد کے لیے کیا جا رہا ہے جو اسرائیل سے ہندوستان لوٹنے کے خواہش مند ہیں اور طیارہ خدمات دستیاب نہیں ہونے کے سبب لوٹ نہیں پا رہے ہیں۔ ایئر انڈیا نے اسرائیل-حماس جنگ شروع ہونے کے بعد 7 اکتوبر کو ہی اپنی ہوائی خدمات ملتوی کر دی تھیں اور اب تک شروع نہیں ہوئی ہیں۔

اس درمیان اسرائیل میں موجود ہندوستانی سفارتخانہ کی طرف سے وہاں مقیم ہندوستانیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہندوستانی سفارتخانہ، تل ابیب، اسرائیل میں اپنا رجسٹریشن کرائیں۔ سفارتخانہ کے ساتھ رجسٹریشن کرنے سے انھیں وہ سہولیات فراہم کی جا سکیں گی جو ایمرجنسی حالات میں ضروری ہوں گی۔ سفارتخانہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن کرنے سے ہمارے ای میل نیٹورک کے ذریعہ مختلف واقعات کے بارے میں جانکاری بھی مل سکے گی۔

بی جے پی اپنے کیڈر کی بات نہیں سنتی، اس لیے 15 سیٹوں تک محدود ہو گئی: بھوپیش بگھیل

0
بی-جے-پی-اپنے-کیڈر-کی-بات-نہیں-سنتی،-اس-لیے-15-سیٹوں-تک-محدود-ہو-گئی:-بھوپیش-بگھیل

اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی چھتیس گڑھ میں سیاسی پارہ چڑھنے لگا ہے۔ برسراقتدار پارٹی کانگریس پھر سے اقتدار میں واپسی کو لے کر پراعتماد ہے، وہیں بی جے پی اقتدار میں واپسی کی کوششیں کر رہی ہے۔ حالانکہ پارٹی کی حالت ریاست میں اچھی نہیں بتائی جا رہی ہے۔ اسی درمیان چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بی جے پی کو لے کر کہا کہ وہ خود کو کیڈر پر مبنی پارٹی بتاتی ہے، لیکن وہ کیڈر کا غلط استعمال کرتی ہے۔ اگر وہ کیڈر کی بات سنتی ہوتی تو حکومت میں 15 سال رہنے کے بعد 15 سیٹوں تک نہیں محدود ہوتی۔

کانگریس کی میٹنگ میں حصہ لینے کے مقصد سے دہلی روانہ ہونے سے قبل بگھیل نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی کہتی ہے وہ کیڈر بیس پارٹی ہے، وہ کیڈر سے کہتی ہے کہ وہ ان کے لیے ووٹ یکجا کرنے کا کام کرے، لیکن کیڈر کی بات نہیں سنتی۔ اگر اپنے کیڈر کی وہ بات سن لیتے تو 15 سال اقتدار میں رہنے کے بعد 15 سیٹ تک محدود نہیں ہوتے۔ یہاں ماتھر صاحب کی بھی نہیں چلی اس لیے ان کا بھی آنا بند ہو گیا۔‘‘

جب نامہ نگاروں نے بھوپیش بگھیل سے سوال کیا کہ ریاست میں اسمبلی انتخاب کا اعلان ہو چکا ہے، کانگریس اپنے امیدواروں کی فہرست کب جاری کرے گی؟ تو بگھیل نے کہا کہ ’پتری پکش‘ کے بعد 15 اکتوبر کو امیدواروں کی فہرست جاری ہو سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے وقت کی کمی کے باعث عمر خالد کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی کر دی

0
سپریم-کورٹ-نے-وقت-کی-کمی-کے-باعث-عمر-خالد-کی-درخواست-ضمانت-پر-سماعت-ملتوی-کر-دی

نئی دہلی. سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں جے این یو کے سابق اسکالر اور کارکن عمر خالد کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات کو ملتوی کر دی۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، وقت کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس بیلا ترویدی اور دیپانکر دتہ کی بنچ نے سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ عمر خالد نے گزشتہ سال ضمانت مسترد کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسپیشل لیو پٹیشن دائر کی ہے۔ خالد کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ وہ 20 منٹ میں دکھا سکتے ہیں کہ خالد کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں نہیں بنتا۔

کپل سبل نے عدالت سے جمعرات کو سماعت پر غور کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، ’’وہ ایک نوجوان طالب علم ہے، پی ایچ ڈی ہولڈر ہے، تین سالوں سے سلاخوں کے پیچھے ہے، یہ ہو رہا ہے۔‘‘

دہلی پولیس کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایس وی راجو نے کہا کہ ملزمان کی طرف سے عبوری درخواستیں داخل کرنے کی وجہ سے مقدمے کی سماعت میں تاخیر ہوئی۔ وہ الزامات عائد کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

سبل نے جواب میں کہا کہ کیس میں پانچ ضمنی چارج شیٹ داخل کی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیس میں تین شریک ملزمان نتاشا ناروال، دیونگانا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کو ضمانت مل گئی ہے۔

خالد دہلی فسادات کیس میں تین سال سے زیادہ عرصے سے سلاخوں کے پیچھے ہے۔ انہیں بڑی سازش میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے لیے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت الزامات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے فروری 2020 میں دہلی فرقہ وارانہ تشدد ہوا تھا۔

اسرائیل-حماس جنگ کے درمیان ہندوستان کی کئی ریاستوں میں الرٹ، ’جمعہ‘ کے پیش نظر خاص احتیاط!

0
اسرائیل-حماس-جنگ-کے-درمیان-ہندوستان-کی-کئی-ریاستوں-میں-الرٹ،-’جمعہ‘-کے-پیش-نظر-خاص-احتیاط!

حماس کے ذریعہ اسرائیل پر حملہ اور پھر اسرائیل کے اعلانِ جنگ نے پوری دنیا میں ایک کھلبلی پیدا کر دی ہے۔ خصوصاً مسلم طبقہ اسرائیل سے ناراض ہے اور فلسطین کو لے کر ہمدردی کا جذبہ رکھتا ہے۔ اس کے پیش نظر سبھی کی نگاہیں 13 اکتوبر یعنی جمعہ پر مرکوز ہیں، کیونکہ جگہ جگہ نمازِ جمعہ کے بعد اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو سکتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی 13 اکتوبر کو جمعہ کے پیش نظر کئی ریاستوں میں الرٹ والا ماحول ہے اور خصوصی احتیاط کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مغربی ایشیا کے کئی ممالک میں جمعہ کو احتجاجی مظاہرے کیے جانے کا امکان ہے۔ ہندوستان میں ممکنہ مظاہروں کو دھیان میں رکھتے ہوئے دہلی-این سی آر، تلنگانہ، کیرالہ، یوپی، مہاراشٹر، راجستھان، تمل ناڈو، جموں و کشمیر اور کرناٹک وغیرہ ریاستوں میں سیکورٹی ایجنسیاں الرٹ پر ہیں۔ مرکزی حکومت کے بھروسہ مند ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل-حماس جنگ کے شروع ہونے کے بعد سے ہی ملک میں سیکورٹی ایجنسیاں الرٹ ہیں۔ دہلی-این سی آر اور دوسری ریاستوں میں جمعہ کے روز خصوصاً نمازِ جمعہ کے بعد خاص احتیاط برتنے کے لیے کہا گیا ہے۔ نماز کے بعد لوگوں کو کسی ایک جگہ پر جمع نہیں ہونے دیا جائے گا اور کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرے سے منع کیا جائے گا۔

اس درمیان دہلی پولیس نے اسرائیلی سفارتخانہ کی سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ چاندنی چوک علاقے میں بھی پولیس کے ذریعہ نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ سرکاری رہائش کے باہر اضافی پولیس کی تعیناتی بھی کی گئی ہے۔ نئی دہلی کے پہاڑ گنج علاقے میں یہودیوں کی عبادت گاہ ’چباڑ ہاؤس‘ پر بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

بلقیس بانو کے 11 قصورواروں کو دی گئی چھوٹ معاملے پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا

0
بلقیس-بانو-کے-11-قصورواروں-کو-دی-گئی-چھوٹ-معاملے-پر-سپریم-کورٹ-نے-اپنا-فیصلہ-محفوظ-رکھا

سپریم کورٹ نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری معاملے میں قصورواروں کی وقت سے پہلے رِہائی کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر اپنا حکم محفوظ رکھ لیا ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت اور گجرات حکومت کو معاملے میں قصورواروں کی سزا کم کرنے سے متعلق اصل ریکارڈ 16 اکتوبر تک جمع کرنے کی ہدایت دی۔

جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اُجول بھوئیاں کی بنچ نے بلقیس بانو کے وکیل اور مرکزی حکومت، گجرات حکومت اور مفاد عامہ عرضی داخل کرنے والوں کے وکلا کی دلیلیں سننے کے بعد بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری اور اس کے گھر والوں کے سات اراکین کے قتل کے 11 قصورواروں کی سزا معاف کرنے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر اپنا حکم محفوظ رکھ لیا۔

گجرات حکومت کی طرف سے قصورواروں کو دی گئی چھوٹ کو چیلنج کرنے والی بلقیس بانو کی عرضی کے علاوہ سی پی آئی (ایم) لیڈر سبھاشنی علی، آزاد صحافی ریوتی لول اور لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما کی عرضیوں سمیت کئی دیگر مفاد عامہ عرضیاں بھی داخل کی گئی تھیں۔ ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی قصورواروں کی سزا میں چھوٹ اور وقت سے پہلے رِہائی کے خلاف مفاد عامہ عرضی داخل کی ہے۔

واضح رہے کہ گودھرا ٹرین آتش زدگی واقعہ کے بعد پیدا فرقہ وارانہ فسادات کے خوف سے بھاگتے وقت بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ اس وقت بلقیس بانو 21 سال کی تھیں اور پانچ مہینے کی حاملہ تھیں۔ فسادات میں مارے گئے ان کے اہل خانہ کے سات اراکین میں ان کی تین سال کی بیٹی بھی شامل تھی۔

زیرودھا کے شریک بانی نکھل کامت 37 سال کی عمر میں بنے ہندوستان کے سب سے کم عمر ارب پتی

0
زیرودھا-کے-شریک-بانی-نکھل-کامت-37-سال-کی-عمر-میں-بنے-ہندوستان-کے-سب-سے-کم-عمر-ارب-پتی

نئی دہلی: معروف اسٹاک بروکر زیرودھا کے شریک بانی نکھل کامت 37 سال کی عمر میں ہندوستان کے سب سے کم عمر ارب پتی بن گئے ہیں۔ ہندوستان کے 100 امیر ترین افراد کی فوربس کی نئی فہرست کے مطابق بھائی نتن اور نکھل کامت 5.5 بلین ڈالر کی مجموعی مالیت کے ساتھ ملک کے امیر ترین افراد میں 40 ویں نمبر پر ہیں۔

فوربس نے کہا، ’’ان کی مجموعی مالیت 45,754.50 کروڑ روپے ہے اور اس سال امیروں کی فہرست میں وہ 18 مقامات اوپر ہوئے ہیں۔‘‘ کامت برادران نے 2010 میں زیرودھا کی بنیاد رکھ کر ایکویٹی سرمایہ کاری میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔ اس ہفتے کے شروع میں دونوں کو 2023 کے لیے ہورون انڈیا کی امیروں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

نتن اور نکھل کامت بالترتیب 35,300 کروڑ اور 23,100 کروڑ روپے کی مجموعی مالیت کے ساتھ 42 ویں اور 81 ویں نمبر پر ہیں۔ دریں اثنا، زیرودھا نے مالی سال 2022-23 کے لیے 6,875 کروڑ روپے کی آمدنی اور 2,907 کروڑ روپے کے منافع کی اطلاع دی ہے، جس میں 38.5 فیصد اور 39 فیصد کا اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مالی سال 2022 کے دوران کمپنی نے 4,964 کروڑ روپے کی آمدنی اور 2,094 کروڑ روپے کے منافع کی اطلاع دی تھی۔ ایک بلاگ پوسٹ میں نتن کامت نے کہا کہ نئی ڈسکاؤنٹ بروکریج فرموں سے سخت مقابلے کے باوجود کمپنی آن بورڈنگ اور مینٹیننس فیس کو برقرار رکھے گی۔

کرناٹک ہائی کورٹ نے نیٹ پی جی کٹ آف کو صفر کرنے پر مرکز کو نوٹس جاری کیا

0
کرناٹک-ہائی-کورٹ-نے-نیٹ-پی-جی-کٹ-آف-کو-صفر-کرنے-پر-مرکز-کو-نوٹس-جاری-کیا

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے جمعرات کو میڈیکل کونسلنگ کمیٹی (ایم سی سی) کے نیٹ پی جی کوالیفائنگ فیصد کو صفر کرنے کے حالیہ فیصلے کے بارے میں مرکز کو نوٹس جاری کیا۔ اس فیصلے کو ہبلی کے وکیل ڈاکٹر ونود کلکرنی نے چیلنج کیا تھا۔ چیف جسٹس پرسنا بی ورالے اور جسٹس کرشنا ایس دکشت کی سربراہی میں ایک ڈویژن بنچ نے مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود، ایم سی سی اور دیگر کو نوٹس جاری کر دیا۔

ایک حیران کن اعلان میں نیٹ پی جی امتحان سے میڈیکل کی تعلیم کے لیے پوسٹ گریجویٹ سیٹیں مختص کرنے کے لیے ذمہ دار ایم سی سی نے کہا کہ اس سال خالی سیٹوں کے لیے اہلیت صفر فیصد رہے گی۔ یہ پہلا موقع ہے جب اہلیت کے کٹ آف کو مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ اس نے 2017 میں دیگر تمام میڈیکل داخلہ امتحانات کی جگہ لے لی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ کونسلنگ کے دو راؤنڈ کے بعد بھی اس وقت ملک بھر کے میڈیکل کالجوں میں 13000 سے زیادہ سیٹیں خالی ہیں۔

عرضی گزار نے نشاندہی کی کہ 10 سال تک نیٹ پی جی امتحان کے لیے کٹ آف 50 فیصد تھا۔ عرضی میں کہا گیا، ’’کم از کم 50 فیصد کے خاتمے سے متعلق نوٹیفکیشن 20 ستمبر 2023 کو شائع کیا گیا تھا۔ ایم سی سی کے حکم کے بعد کوئی بھی طالب علم جس نے نیٹ پی جی میں حصہ لیا تھا، اپنی پسند کی سیٹ حاصل کر سکتا ہے۔ اگر یہ نتیجہ ہے تو یہ ملک ڈاکٹر پیدا کرنے والی فیکٹری بن جائے گا!‘‘

عرضی گزار نے عرض کیا تھا کہ اس سلسلے میں ایم سی سی کی طرف سے جاری کردہ حکم کو واپس لینے کی ہدایت کی جانی چاہئے اور پہلے کے 50 فیصد کٹ آف مارکس کے مطابق بھی ہدایات دی جانی چاہئے، جہاں ایک امیدوار نے نیٹ پی جی امتحان میں 50 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہے۔