بدھ, جون 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 62

’فلسطین کے مسلمان مظلوم اور قابل رحم‘، مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کا خطاب

0
’فلسطین-کے-مسلمان-مظلوم-اور-قابل-رحم‘،-مولانا-مفتی-ابوالقاسم-نعمانی-کا-خطاب

دیوبند: دارالعلوم دیوبند کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے ایک خطاب میں فلسطین کے مسلمانوں کو مظلوم، بے بس اور قابل رحم، جبکہ اسرائیل اور اس کی سرپرست مغربی طاقتوں کو ظالم و جابر اور دشمن اسلام قرار دیا، نیز مسجد اقصی کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالی۔

مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ فلسطین، مسجد اقصی اور سر زمین قدس کے ساتھ مسلمانوں کا جو ایمانی و جذباتی تعلق ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو فراموش کر دیا جائے۔ مسجد اقصی کے سلسلہ میں قرآن پاک میں اللہ تعالی نے مستقل آیتیں نازل فرمائی ہیں، مثلاً (ترجمہ) پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔

مولانا نعمانی نے کہا کہ اس آیت میں مسجد اقصی کا ذکر ہے نیز مسجد اقصی کے ماحول اور ارد گرد کی زمین کے مبارک ہونے کا تذکرہ بھی ہے۔ آیت کا اصل مقصد تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سفر اسراء اور سفر معراج کو بیان فرمانا ہے، لیکن اسی کے ضمن میں اگلی آیات کے اندر یہودیوں اور بنی اسرائیل کے عروج و زوال کی داستانیں بھی بیان کی گئیں ہیں۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ ’فلسطین ایک تاریخی مطالعہ‘ کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ مسجد اقصی کے ساتھ کئی اہم واقعات مربوط ہیں۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کی پہلی منزل ہے، معراج کے موقع پر مکہ مکرمہ سے آپ مسجد اقصی تشریف لے گئے پھر وہاں سے آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، واپسی میں بھی آپ مسجد اقصی تشریف لائے پھر وہاں سے مکہ مکرمہ واپس ہوئے۔ مکہ سے مسجد اقصی تک کے سفر کو اسراء اور مسجد اقصی سے آسمانوں تک کے سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔ اسی سفر میں مسلمانوں کو پانچ وقت کی نماز کا تحفہ ملا، اسی سفر سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصی کے پاس تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی امامت فرمائی۔ مسجد اقصی سے تعلق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مسلمانوں کا قبلہ اول رہا، ہجرت مدینہ طیبہ کے بعد سولہ یا سترہ مہینے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصی کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرمائی۔ پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد خانۂ کعبہ کی طرف آپ نے رخ فرمایا۔

مولانا نعمانی نے کہا کہ مسجد اقصی اور سر زمین فلسطین متعدد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی قیام گاہ اور ان کا مدفن ہے۔ وہاں کی مسجد حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام کے ذریعہ تعمیر کی گئی ہے۔ پہلی تعمیر تو فرشتوں کے ذریعہ ہوئی، جبکہ دوسری تعمیر حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام کے ذریعہ ہوئی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا جو تعلق سرزمین فلسطین سے، وہاں کے باشندوں سے اور مسجد اقصی سے ہے وہ انتہائی جذباتی قسم کا ہے۔ آج یورپ کی سازش کی بناء پر عین قلب عرب کے اندر جو اسرائیل کی شکل میں خنجر گھونپا گیا ہے، اس کی ٹیس اس وقت سے لے کر آج تک پورا عالم اسلام محسوس کر رہا ہے۔ چونکہ یہ ایک سازشی عمل تھا اس لیے مسلسل ہر مغربی ملک کی جانب سے اس کی پشت پناہی کی جا رہی ہے، اور نام نہاد ملک اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اپنے قدم آگے بڑھا رہاہے بلکہ فلسطین کے جو اصل باشندے ہیں ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔

مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ اہل فلسطین کی جرأت و عزیمت کو سلام پیش کرنا چاہیے۔ ابھی رمضان المبارک کے اندر جو تازہ حادثات پیش آئے ہیں، کہ عین نماز کے وقت مسجد اقصی کے مصلیوں پر ظلم ڈھایا گیا، انہیں مارا پیٹا گیا اور اس کے بعد ان کی طرف سے جو معمولی سی مزاحمت ہوئی اس کو بہانہ بنا کر غزہ کے علاقے میں بمباری کی گئی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، بچے اور عورتیں تک ماری گئیں لیکن نام نہاد امن پسند دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ لیکن شاباشی کے قابل ہیں وہ نہتے مجاہدین جنھوں نے اپنی بے سرو سامانی کے باوجود مزاحمت کی، یہاں تک کہ اسرائیل جیسے متکبر اور سرکش ملک کو گھٹنے ٹیکنا پڑے اور وہ جنگ بندی کے لیے مجبور ہوا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ایسی کسمپرسی کے عالم میں ’ہم کیا کریں‘، اور کہا کہ اس وقت ہمارے کرنے کے کئی کام ہیں۔ پہلا کام تو یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان فلسطین کے نہتے مسلمانوں کے ساتھ اپنی ہم آہنگی اور تعاون کا اظہار کریں تاکہ انہیں یہ محسوس ہو کہ اس مسئلہ میں ہم اکیلے نہیں ہیں، بلکہ پورا عالم اسلام ہمارے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا رائے عامہ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی عادی ہے اس لیے تمام دنیا کے مسلمان اور خاص طور سے برصغیر اور خصوصاً ہندوستان کے مسلمان فلسطین اور اہل فلسطین کی حمایت میں اپنی آواز کو بلند کریں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کریں۔ وہ مغربی ممالک، وہ اقوام متحدہ، وہ سلامتی کونسل جو اپنے من مانے مقاصد کے لیے خود ساختہ مسائل کے لیے امن و آشتی کا ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں وہاں کے لوگوں پر اپنے فیصلے مسلط کر دیتے ہیں۔ ان کی نگاہوں کے سامنے فلسطینی مسلمانوں اور وہاں کے باشندوں پر ظلم ہو رہا ہے، لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ فلسطین اور باشندگان فلسطین کے حق میں اس زور و شور کے ساتھ آواز بلند کی جائے کہ سلامتی کونسل فلسطین کے مسئلے میں حق و انصاف کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو، فلسطینیوں کو ان کا حق دلایا جائے، ان کی جو زمینیں چھین لی گئی ہیں وہ انہیں واپس کی جائیں، نیز اسرائیل اور اس کے آقاؤں کی طرف سے جو اقدامات ہو رہے ہیں ان پر بندش قائم کی جائے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہم سب کے سب مل کر بارگاہ الٰہی میں دعا بھی کریں کہ اللہ تعالی قدس کے باشندوں کی حفاظت فرمائے، انہیں ان کا چھینا ہوا وقار واپس دلائے، مسجد اقصی کو یہودیوں کے نرغے سے نکلنے کے اسباب پیدا فرمائے۔

راجستھان انتخاب: امیدواروں کی پہلی فہرست سے بی جے پی میں ہنگامہ، صدائے احتجاج ہو رہی بلند

0
راجستھان-انتخاب:-امیدواروں-کی-پہلی-فہرست-سے-بی-جے-پی-میں-ہنگامہ،-صدائے-احتجاج-ہو-رہی-بلند

آئندہ ماہ 25 نومبر کو ہونے والے راجستھان اسمبلی انتخاب کے لیے بی جے پی امیدواروں کی پہلی فہرست سامنے آتے ہی پارٹی کے اندر صدائے احتجاج بلند ہونی شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی میں ریاست بھر میں ہر طرف سے احتجاج کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ کئی نام غائب ہونے سے ناراض لیڈران کو منانے کا دور بھی شروع ہو گیا ہے۔ ٹکٹ تقسیم سے پارٹی میں پیدا بحران کو ختم کرنے کے لیے پارٹی کے سرکردہ لیڈران نے محاذ سنبھال لیا ہے۔

جمعرات کو مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت نے اجمیر کا دورہ کیا تھا اور جمعہ کے روز پارٹی کے سینئر لیڈران اس معاملے میں میٹنگ بھی کرنے والے ہیں۔ گجیندر سنگھ شیخاوت نے جب اجمیر کا دورہ کیا تھا تو پارٹی جنرل سکریٹری چندرشیکھر بھی جھنجھنو پہنچے اور ریاستی شریک انچارج وجیا رہاٹکر نے سانچور کا دورہ کیا۔ علاوہ ازیں حزب مخالف کے ڈپٹی لیڈر ستیش پونیا نے شری گنگا نگر اور پارٹی انچارج ارون سنگھ نے جئے پور میں ناراض لیڈران سے بات کی تھی۔

جمعہ کو پارٹی کے سینئر لیڈران ملاقات کرنے والے ہیں اور انتخاب کے تعلق سے اہم ایشوز پر وہ صلاح و مشورہ کریں گے۔ حال ہی میں ارون سنگھ نے دو بار کے وزیر اعلیٰ اور سابق نائب وزیر اعلیٰ بھیروں سنگھ شیخاوت کے داماد اور سابق رکن اسمبلی نرپت سنگھ راجوی کے ساتھ بھی میٹنگ کی تاکہ انھیں سمجھایا جا سکے کہ ان کی فکر کو اعلیٰ کمان تک پہنچایا جائے گا اور حل کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بی جے پی انتخاب میں کانگریس کے خلاف ضرور لڑ رہی ہے، لیکن جس طرح سے وسندھرا راجے کے قریبی لیڈروں کے ٹکٹ کاٹے گئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سب سے پرانی پارٹی کے علاوہ وسندھرا راجے کے ساتھ سرد جنگ بھی لڑ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس بھی فہرست سے کاٹے گئے کچھ ناموں سے خوش نہیں ہے۔

اس درمیان مبینہ طور پر وسندھرا راجے اور ان کے حامی اپنے قریبی لیڈروں کے ٹکٹ رد ہونے کے باوجود دوسری فہرست کا انتظار کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ ایک صابر کھلاڑی کی طرح پرسکون اور صبر بنائے ہوئے ہیں، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا گزشتہ ساڑھے چار سال سے مین اسٹریم میں آنے کا انتظار کر رہی وسندھرا راجے دوسری فہرست کے بعد اپنا صبر برقرار رکھ پائیں گی؟

راجستھان بی جے پی انتخابی مینجمنٹ کمیٹی کے کنوینر نارائن پنچاریا نے کہا کہ راجے مرکز میں جئے پرکاش نڈا کے بعد بی جے پی کی دوسری سب سے بڑی لیڈر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہماری پارٹی میں کوئی گروپ یا خیمہ نہیں ہے۔ صرف ’کمل‘ ہی ہماری پہچان ہے۔ راجے حال ہی میں جھارکھنڈ میں بھی علم بردار تھیں اور انھوں نے اپنا کام بہت کامیابی کے ساتھ کیا۔‘‘

’برائے کرم انتخابات کے درمیان غیر جانبدار رہیں‘، انڈیا اتحاد نے فیس بک اور گوگل کو لکھا خط

0
’برائے-کرم-انتخابات-کے-درمیان-غیر-جانبدار-رہیں‘،-انڈیا-اتحاد-نے-فیس-بک-اور-گوگل-کو-لکھا-خط

مرکز کی مودی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے پر آمادہ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ نے فیس بک کے چیف ایگزیکٹیو افسر مارک زکربرگ اور گوگل کے چیف ایگزیکٹیو افسر سندر پچائی کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں ملک کے اندر فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دینے میں ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مبینہ شراکت داری کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اس خط کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا اتحاد کی پارٹیوں نے فیس بک پر سماج میں نفرت پھیلانے اور فرقہ واریت پر مبنی نفرت کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انڈیا اتحاد نے سوشل سائٹس سے انتخابات کے درمیان غیر جانبدار رہنے کی گزارش بھی کی ہے۔

اپوزیشن اتحاد نے خط کے ساتھ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ منسلک کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مبینہ طور سے سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعہ ملک میں نفرت کو فروغ دیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے زکربرگ کو لکھی چٹھی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ انڈیا اتحاد میں 28 سیاسی پارٹیاں شامل ہیں جو مشترکہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرتے ہیں۔ ان میں شامل پارٹیوں کی 11 ریاستوں میں حکومت ہے جو مجموعی ہندوستانی ووٹرس میں نصف کی نمائندگی کرتے ہیں۔

کانگریس صدر کھڑگے نے واشنگٹن پوسٹ کی اس تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں بی جے پی اراکین اور حامیوں کے ذریعہ فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دینے میں واٹس ایپ اور فیس بک کے کردار کا انکشاف کیا گیا تھا۔ انھوں نے ’’ہندوستان کے دباؤ میں فیس بک نے تشہیر اور نفرت پھیلانے والی تقریر کو پنپنے دیا‘ عنوان سے ایک دیگر مضمون کا بھی حوالہ دیا جس میں مبینہ طور سے برسراقتدار نظام اور فیس بک انڈیا کے افسران کے درمیان سانٹھ گانٹھ کا انکشاف ہوا تھا۔ انڈیا اتحاد کی پارٹیوں میٹا پر برسراقتدار پارٹی کے مواد کو فروغ دینے کے دوران ایلگوردم ماڈریشن اور اپوزیشن لیڈران کے مواد کو دبانے کا الزام عائد کیا۔

خط میں ان سوشل میڈیا سائٹس سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھیں اور خاص طور سے انتخابات کے درمیان اس کا خاص خیال رکھیں۔ خط میں ہندوستانی جمہوریت میں اس طرح کے سائٹس کا استعمال اور ان کے افسران کی اقتدار کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کی تنقید کی گئی ہے۔ انڈیا اتحاد کا مطالبہ ہے کہ فیس بک یہ یقینی کرے کہ ان کے پلیٹ فارم کا ہندوستان میں نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ سماجی بدامنی پھیلانے میں کسی طرح کا تعاون نہ کرے۔ جمہوری اقدار پر عمل کرے اور اپنی ذمہ داری نہ بھولے۔

گوگل سی ای او سندر پچائی کو لکھے گئے خط میں بھی اپوزیشن اتحاد نے واشنگٹن پوسٹ کے ایک مضمون کا حوالہ دیا جس میں یوٹیوب نے ہندوستانی مسلمانوں پر حملوں کا براہ راست نشریہ کرنے والے یوٹیوبر کو ایوارڈ دیا تھا۔ انھوں نے یوٹیوب پر بی جے پی اراکین اور حامیوں کے ذریعہ نفرت آمیز، فرقہ وارانہ طور سے تخریب کاری پر مبنی پیغام پھیلانے اور ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔ انھوں نے یوٹیوب پر ہندوستانی سماج میں نفرت پھیلانے اور فرقہ وارانہ نفرت کو اکسانے کا الزام لگایا۔ علاوہ ازیں یوٹیوب پر برسراقتدار پارٹی کے لیڈران کے مواد کو پروموٹ کرنے اور اپوزیشن لیڈران کے مواد کو دبانے کا الزام بھی عائد کیا۔

سری نگر: ’جامع مسجد میں ایک دفعہ پھر نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی‘

0
سری-نگر:-’جامع-مسجد-میں-ایک-دفعہ-پھر-نماز-جمعہ-ادا-کرنے-کی-اجازت-نہیں-دی-گئی‘

سری نگر: انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے اس بات پر شدید افسوس اور حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ریاستی انتظامیہ نے ایک بار پھر آج تاریخی جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن عائد کر دی۔

اوقاف نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ کی طرف سے صبح سے ہی جامع مسجد کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے اور اوقاف کی انتظامیہ کو مطلع کیا کہ آج نماز جمعہ کی ادائیگی نہیں ہوگی۔ اسکے ساتھ ساتھ اوقاف نے میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو ایک بار پھر انتظامیہ کی جانب سے اپنے گھر میں نظر بند کرکے انکی دینی اور منصبی فرائض کی ادائیگی پر قدغن عائد کرنے کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ کے اس اقدام کو حد درجہ افسوسناک قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیاکہ میرواعظ جنہیں تقریباً چار سال کے زائد عرصے کے بعد ابھی گزشتہ دنوں ہی نظر بندی سے رہا کیا گیا تھا کو ایک بار پھر اپنی رہائش گاہ میں نظر بند کرنا اور ان کو اپنے منصبی فرائض کی ادائیگی سے روکنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

دریں اثنا ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش وادی کے قرب و جوار میں جمعے کے روز سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ شمال و جنوب اور وسطی کشمیر میں چپے چپے پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔

نامہ نگار نے بڈگام سے اطلاع دی ہے کہ وہاں پر نماز جمعہ کے بعد شیعہ آبادی والے علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی خاطر پر امن احتجاج کیا۔ مظاہرین فلسطین پر جاری بمباری کو فوری طورپر روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اڈانی معاملے میں کانگریس کا نیا انکشاف، 2 سال میں ملک سے باہر گئے 12 ہزار کروڑ روپے

0
اڈانی-معاملے-میں-کانگریس-کا-نیا-انکشاف،-2-سال-میں-ملک-سے-باہر-گئے-12-ہزار-کروڑ-روپے

اڈانی گروپ اور مرکز کی مودی حکومت کے درمیان سانٹھ گانٹھ کو لے کر آج کانگریس نے ایک نیا انکشاف کیا ہے۔ ہزاروں کروڑ روپے کی ہیرا پھیری کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے کہ ’’تازہ انکشافات سے اشارے ملتے ہیں کہ دو سالوں میں 12 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ملک سے باہر نکالی گئی ہوگی۔‘‘ پارٹی نے اڈانی معاملے سے جڑے ان الزامات کو لے کر اسے جدید ہندوستان کا ’سب سے بڑا گھوٹالہ‘ قرار دیا ہے۔

دراصل کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے جمعہ کے روز اڈانی معاملے پر ایک تازہ بیان دیا ہے جس میں ایک بڑے گھوٹالے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’بی جے پی نے اڈانی گروپ کو ملکت یکجا کرنے میں مدد کی ہے۔ یہ میٹافوریکل لوٹ (استعاراتی لوٹ) نہیں بلکہ کروڑوں ہندوستانیوں کی جیب سے ’چوری‘ ہے۔‘‘ جئے رام رمیش نے برسراقتدار بی جے پی حکومت پر اڈانی گروپ کو ملکیت حاصل کرنے میں مدد کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کے پاس انتخابی بانڈ سے جمع فنڈ بھرا ہوا ہے۔ بی جے پی کے پاس اتنے پیسے ہیں جس سے اسے اپنی خواہش کے مطابق اراکین اسمبلی خریدنے اور اپوزیشن پارٹیوں کو توڑنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ یہ جدید ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔ اس میں لالچ اور بے دردی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے لوگوں کے تئیں بے حسی صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ اس بھروسے پر مبنی ہے کہ ایسا کوئی گھوٹالہ نہیں ہے جسے ’ممنوع‘ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کوئی ایشو نہیں ہے جسے مینیج نہیں کیا جا سکتا، یا جس سے دھیان نہ بھٹکایا جا سکے۔‘‘

جئے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی کا نام لیے بغیر ان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’لیکن شہنشاہ غلط ہیں۔ ہندوستان پر موڈانی کا قبضہ نہیں ہوگا۔ ہندوستان کی عوام 2024 میں جواب دے گی۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ایک اخبار کی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید انکشافات کے مطابق 2019 اور 2021 کے درمیان 3.1 ملین ٹن کی مقدار والے 30 اڈانی کوئلہ شپمنٹ کا مطالعہ کیا گیا۔ اس میں کوئلہ کاروبار جیسے کم مارجن والے کاروبار میں بھی 52 فیصد منافع کا مارجن پایا گیا۔

دسہرہ سے پہلے ریاستی ملازمین کی ترقی پر نتیش کابینہ کا اہم فیصلہ، 8 ایجنڈوں کو ملی منظوری

0
دسہرہ-سے-پہلے-ریاستی-ملازمین-کی-ترقی-پر-نتیش-کابینہ-کا-اہم-فیصلہ،-8-ایجنڈوں-کو-ملی-منظوری

پٹنہ: دسہرہ سے پہلے ریاستی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑا تحفہ دیا ہے۔ جمعہ (13 اکتوبر) کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کل آٹھ فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔ پروموشن میں ریزرویشن کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہونے کے باوجود ریاستی حکومت نے سرکاری ملازمین کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ جانکاری دیتے ہوئے کابینی سکریٹری ایس سدھارتھ نے کہا کہ تقریباً تمام محکموں میں ملازمین اور افسران کی پروموشن طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھی۔

مثال کے طور پر کئی جونیئر انجینئر انچارج ایگزیکٹو انجینئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح کئی جونیئر ملازمین کو سینئرز کا چارج دے کر جونیئر پے اسکیل دیا جا رہا ہے۔ اب اس پر ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی ایک عہدہ کے لیے 100 فیصد میں سے 16 فیصد درج فہرست ذات اور ایک فیصد درج فہرست قبائل یعنی 17 فیصد کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں طے کیا جائے گا اور باقی 83 میں بھی 16 فیصد ریزرویشن درج فہرست ذات اور ایک فیصد درج فہرست قبائل کو دیا جائے گا۔ جسے دیکھ کر عام پروموشن دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کابینی سکریٹری ایس سدھارتھ نے کہا کہ جن محکموں میں 17 فیصد درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل دستیاب نہیں ہیں، ان میں اس وقت کے لیے اسامیاں خالی رہیں گی۔ اس کا فیصلہ مزید ریاستی حکومت کرے گی۔ ریاستی سرکاری ملازمین اور عہدیداروں کی پروموشن 2016 سے تعطل کا شکار تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کابینہ میں متبادل راستہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے گا تو اس فیصلے کی روشنی میں کام کیا جائے گا۔ اگر عدالت کے حکم کے مطابق جس شخص کو ترقی دی گئی ہے اسے ترقی نہیں دی جا رہی ہے، تو اسے اسی عہدے پر واپس لایا جائے گا جس میں اسے ترقی دی گئی تھی لیکن ریاستی حکومت اسے ترقی دینے کے بعد کی گئی ادائیگی کو واپس نہیں لے گی۔

کابینہ کی میٹنگ میں بہار حکومت نے کسانوں سے دھان خریدنے کے لیے مالی سال 2023-24 میں ربیع کی فصل کے لیے خریداری سے متعلق اداروں کو کل 8 ہزار کروڑ روپے کا قرض فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے آئی جی ایم ایس، پٹنہ میں کل 149 آسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری دی ہے۔ خصوصی انفراسٹرکچر پلان برائے سال 2022-26 کے تحت عسکریت پسندی سے متاثرہ اضلاع کو 37 کروڑ 83 لاکھ روپے دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ نے بہار کے تمام سرکاری دانتوں کے اسپتالوں میں ہر قسم کی فیس مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے لیے انرولمنٹ اور دیگر فیسیں ایک جیسی کر دی گئی ہیں۔

’عدالتی حکم کو نظر انداز نہ کریں‘، سپریم کورٹ مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر سے ناراض

0
’عدالتی-حکم-کو-نظر-انداز-نہ-کریں‘،-سپریم-کورٹ-مہاراشٹر-اسمبلی-اسپیکر-سے-ناراض

سپریم کورٹ نے 13 اکتوبر کو شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے ایک بار پھر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔ دراصل شیوسینا (یو بی ٹی) اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کی طرف سے داخل عرضیوں میں مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کو کچھ اراکین اسمبلی کے خلاف نااہلیت کی کارروائی پر فوری فیصلہ صادر کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ کسی کو مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر کو مشورہ دینا ہوگا کہ وہ عدالت کے حکم کو نظر انداز نہ کریں۔ وہ ایسے عدالت کی ہدایت کو خارج نہیں کر سکتے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ گزشتہ بار ہم نے سوچا تھا کہ بہتر تال میل قائم ہوگا۔ شیڈیول کا نظریہ سماعت کو غیر یقینی مدت تک زیر التوا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسپیکر کو اس چیز کا احساس کرانا چاہیے کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ جون کے بعد سے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ انھیں کوئی دکھاوا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ سماعت ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اگر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ مناسب وقت-ٹیبل مقرر وقت پر نہیں ملتا ہے تو وہ ایک مدت کار معین کرنے والا لازمی حکم جاری کرے گا، کیونکہ اس کے حکم پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسپیکر کو کم از کم اگلے انتخاب سے پہلے اراکین اسمبلی کی نااہلیت پر فیصلہ لینا چاہیے۔

دہلی شراب پالیسی: سنجے سنگھ کو 27 اکتوبر تک عدالتی حراست میں بھیجا گیا

0
دہلی-شراب-پالیسی:-سنجے-سنگھ-کو-27-اکتوبر-تک-عدالتی-حراست-میں-بھیجا-گیا

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں 27 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ دریں اثنا، چونکہ سنگھ ذیابیطس کا مریض ہے، اس لیے دوائیوں کے لیے الگ درخواست دائر کی گئی ہے۔

عدالت نے 10 اکتوبر کو دہلی شراب پالیسی معاملے میں گرفتار سنجے سنگھ کی ای ڈی کی تحویل میں 13 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔ حراست کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں آج دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ دراصل ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ دہلی ایکسائز پالیسی میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

اس پورے معاملے میں سنجے سنگھ نے اپنی گرفتاری کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔ سنگھ کے وکیل نے چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس سنجیو نرولا کی بنچ سے فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ای ڈی نے انہیں گرفتاری کے لیے مناسب بنیاد نہیں دی ہے۔

ای ڈی نے عآپ لیڈر سنجے سنگھ کو (4 اکتوبر) کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر کئی گھنٹے کے چھاپے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ اگلے دن یعنی 5 اکتوبر کو راؤز ایونیو کورٹ نے انہیں پانچ دنوں کے لیے ای ڈی کی تحویل میں بھیج دیا۔ اس دوران مرکزی تفتیشی ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ طور پر کچھ ڈیلرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے رشوت لی گئی تھی۔

دہلی شراب پالیسی کیس میں اس سے قبل عآپ لیڈر اور سابق وزیر ستیندر جین اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

کشمیر میں اگلے چار دنوں کے دوران برف و باراں کی پیش گوئی

0
کشمیر-میں-اگلے-چار-دنوں-کے-دوران-برف-و-باراں-کی-پیش-گوئی

سری نگر: محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں اگلے چار دنوں کے دوران برف و باراں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کسانوں سے اس دوران فصل کٹائی کرنے سے اجتناب کرنے کی تاکید کی ہے۔

متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے کہا کہ وادی میں جمعہ کی شام تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے جس کے بعد مطلع ابر آلود ہونے کے ساتھ رات کو کہیں کہیں بارشیں ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعد ازاں وادی میں 14 اکتوبر سے 17 اکتوبر تک پہاڑی علاقوں میں ہلکے سے درمیانی درجے کی برف باری جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں کا امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دوران وادی کے بعض پہاڑی علاقوں میں بھاری برف باری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

موصوف ترجمان نے کہا کہ برف وباراں کے باعث وادی کے درجہ حرارت میں نمایاں گراوٹ درج ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران زوجیلا، مغل روڈ، سنتھن ٹاپ سادھنا ٹاپ وغیرہ پر ٹریفک کی نقل و حمل متا ثر ہونے کا بھی امکان ہے۔محکمے نے کسانوں سے تاکید کی ہے کہ وہ 14 سے 18 اکتوبر تک فصل کٹائی سے اجتناب کریں۔

دریں اثنا سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت8.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ وادی کے مشہور ترین سیاحتی مقام گلمرگ میں 6.6 ڈگری سینٹی گریڈ اور دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔

اسرائیل حماس جنگ کے درمیان جمعہ کو دہلی ہائی الرٹ پر، سکیورٹی بڑھا دی گئی

0
اسرائیل-حماس-جنگ-کے-درمیان-جمعہ-کو-دہلی-ہائی-الرٹ-پر،-سکیورٹی-بڑھا-دی-گئی

نئی دہلی: فلسطین میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری جنگ کے درمیان راجدھانی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ دہلی میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

جمعہ کی نماز کے دوران دہلی پولیس کے اہلکار بھاری نفری کے ساتھ سڑکوں پر موجود رہیں گے۔ یہودی مذہبی اداروں اور اسرائیلی سفارتخانے پر بھی سخت سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ملنے والے ان پٹ کی بنیاد پر سیکورٹی بڑھائی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نماز جمعہ کے بعد ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

دراصل، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والی اس جنگ پر ہندوستان کے لوگوں کی مختلف رائے ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں اور کچھ لوگ فلسطین کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال دنیا کے مختلف ممالک میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جمعہ کو مغربی ایشیا کے کئی ممالک میں احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے۔ اس کے پیش نظر ہندوستان میں بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

دہلی این سی آر کے علاوہ تلنگانہ، کیرالہ، اتر پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، تمل ناڈو، جموں و کشمیر اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں بھی سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسی تنظیموں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جو امن و امان کی صورتحال کو خراب کر سکتی ہیں اور ملک میں بھائی چارے کو بھی ٹھیس پہنچا سکتی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کے احتجاج کی اجازت ہوگی۔