منگل, جون 30, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 428

اٹارنی جنرل کی خواتین ججوں کی تعداد بڑھانے کی وکالت

0
اٹارنی جنرل نے خواتین ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی وکالت کی
اٹارنی جنرل نے خواتین ججوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی وکالت کی

عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی کو بہتر بنانے سے جنسی تشدد سے متعلق کیسز میں زیادہ متوازن اور بااختیار انداز اختیار کیا جاسکے گا۔

نئی دہلی: اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے خواتین پر بڑھتے تشدد کے واقعات کو روکنے کے لئے عدالتوں میں خاتون ججوں کی تعداد بڑھانے کی وکالت کی ہے۔

مسٹر وینوگوپال نے ملزم کو متاثرہ سے راکھی بندھوانے کی شر ط پر ضمانت دیئے جانے کے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر درخواست میں اپنے تحریری حلف نامے میں عدالتوں میں خواتین کی تعداد بڑھانے کی وکالت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی کو بہتر بنانے سے جنسی تشدد سے متعلق کیسز میں زیادہ متوازن اور بااختیار انداز اختیار کیا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا ’’عدالتوں میں خاتون ججوں کی تعداد ان کے حقوق کا خیال رکھاجانا چاہئے ، تاکہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم اور ان سے متعلق مقدمات پر سختی سے کارروائی کی جاسکے۔”

فخری زادے کے قتل کے الزام پر سعودی عرب نے ایران کو لتاڑا

0

سعودی عرب کے ایک وزیر نے کل ایران کے وزیر خارجہ پر اس بات کے لیے طنز کیا تھا کہ انہیں ایرانی نیوکلیائی سائنسدان محسن فخری زادے کے قتل میں سعودی ہاتھ نظر آتا ہے۔

ریاض: سعودی عرب کے ایک اہم وزیر نے کل ایران کے وزیر خارجہ پر اس بات کے لیے طنز کیا کہ انہیں ممتاز ایرانی نیوکلیائی سائنسدان محسن فخری زادے کے قتل میں سعودی ہاتھ نظر آتا ہے۔

ایران کے نیوکلیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے معمار سمجھے جانے والے فخری زادہ کو جمعہ کے روز دارالحکومت تہران کے باہر سڑک پر بم اور بندوق کے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے سے ایران اور اس کے دشمنوں کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

پرسوں یعنی پیر کے روز ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے انسٹاگرام پر کہا تھا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مابین سعودی عرب میں ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کا اس قتل سے تعلق ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ ایک "سازش” تھی۔

سعودی وزیر برائے امور خارجہ عادل الزبیر نے ٹویٹ کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ ظریف ایران میں کسی بھی منفی واقعے پر سعودی عرب کو مورد الزام ٹھہرانے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ تو کیا وہ اگلے زلزلے یا سیلاب کے لئے بھی سعودی عرب پر ہی الزام لگائیں گے؟

دیگر خلیجی ریاستوں کے برعکس، سعودی عرب نے مذکورہ قتل کی باضابطہ مذمت نہیں کی ہے۔ سعودی عرب ایک طاقتور سنی ملک ہے۔ اس کے اور شیعہ طاقت والے ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے پرانی دشمنی چلی آرہی ہے۔

اسے بھی پڑھیں

اسرائیلی میڈیا رپورٹس اور ایک اسرائیلی حکومت کے ذریعہ کے مطابق ، گذشتہ ماہ اسرائیلی وزیار اعظم نیتن یاہو نے سعودی ولی عہد کے ساتھ سعودی عرب میں تاریخی گفتگو کی۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاہو اور جاسوس ایجنسی موساد کے سربراہ یوسف میرکوہین نے بحر احمر کے شہر نیوم میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی معیت میں سعودی ولی عہد محمد سے ملاقات کی۔ سعودی عرب نے بہرا حال نے ایسی کسی ملاقات سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سرکاری سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن دونوں بظاہرایران کے ساتھ مشترکہ عداوت کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے میں لگے ہیں۔

اسرائیل نے ابھی اسی سال متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے سنی خلیجی ملکوں کے ساتھ جو سعودی عرب سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں، اپنے تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار اور انٹیلیجنس کے دو دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ فخری زادہ پر حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ اسرائیل نے اس قتل پر باقاعدہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

کسانوں نے کمیٹی بنانے کی حکومت کی تجویز کو کیا مسترد، احتجاج کو جاری رکھنے کے عزم کا کیا اظہار

0

 

ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین اچھا مکالمہ ہوا ہے۔  کسانوں کے نمائندوں نے کہا کہ اگر حکومت امن چاہتی ہے تو اسے کسانوں کی مشکلات کو حل کرنا چاہئے۔ کسان اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

نئی دہلی: کسان تنظیموں نے منگل کو زرعی مسائل کے حل کے لئے کمیٹی بنانے کی حکومت کی تجویز کو مسترد کردیا اور احتجاج کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تقریبا ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ کے بعد، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت اور کسان تنظیموں کے مابین اچھا مکالمہ ہوا ہے اور بات چیت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کی مشکلات کے حل کے لئے کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن اس پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

اس میٹنگ میں وزیر خوراک و سپلائی وزیر پیوش گوئل اور وزیر مملکت برائے تجارت سوم پرکاش اور 35 کسان قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس سہ پہر 3 بجے وگیان بھون میں شروع ہوا۔

کسانوں کے نمائندوں نے کہا کہ اگر حکومت امن چاہتی ہے تو اسے کسانوں کی مشکلات کو حل کرنا چاہئے۔ کسان اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

دریں اثنا، مہاراشٹر اور کئی دیگر ریاستوں کے کسان نمائندے اس تحریک سے اظہار یکجہتی کے لئے قومی دارالحکومت آئے۔

کسان تنظیموں کی حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ شروع

0

میٹنگ میں ان سبھی تنظیموں کو مدعو کیا گیا ہے، جنہیں پچھلی میٹنگ میں بلایا گیا تھا۔ پولیس کی حفاظت میں دو بسوں میں کسان رہنماؤں کو میٹنگ کے مقام تک لایا گیا۔

نئی دہلی: زرعی قانون کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کرنے والی کسان تنظیموں کے ساتھ 32 اراکین کی حکومت کے ساتھ اعلی سطحی بات چیت شروع ہوگئی۔

اس سے پہلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پنجاب کے کسان رہنماؤں سے بات کی اور مسٹر یوگیندر یادو کو اس میٹنگ میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی۔ اس پر کسان تنظیموں نے بات چیت کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن مسٹر یادو کو جب اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے خود میٹنگ میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔

میٹنگ میں شامل ہونے سے پہلے مشترکہ کسان محاذ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ بات چیت تبھی ممکن ہو پائے گی جب ان کے ساتھ مسٹر یوگیندر یادو، حنان مولا، شیو کمار ککا جی اور گرنام سنگھ چودونی کو میٹنگ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

مسٹر یادو نے کہا کہ بات چیت اہم ہے اس لئے ان کی وجہ سے بات چیت کو روکنا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کسان رہنماؤں سے کہا کہ بغیر ان کے بارے میں سوچے اپنا فیصلہ کریں۔

واضح رہے کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے دیر رات کسان تنظیموں کو یکم دسمبر کو دوپہر تین بجے سائنس سینٹر، نئی دہلی میں بات چیت کے لئے مدعو کیا تھا۔ اس میٹنگ میں ان سبھی تنظیموں کو مدعو کیا گیا ہے، جنہیں پچھلی میٹنگ میں بلایا گیا تھا۔ پولیس کی حفاظت میں دو بسوں میں کسان رہنماؤں کو میٹنگ کے مقام تک لایا گیا۔

لو جہاد قانون سے بے روزگاری، پسماندگی اور غریبی ختم ہو جائے تو ہمیں کوئی دقت نہیں: دگوجے

0

مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلی دگوجے سنگھ بی جے پی حکومت پر اہم مسئلوں سے توجہ بھٹکانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج جو مسئلے ہیں، حکومت ان پر کیوں توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اگر لو جہاد قانون سے بے روزگاری، پسماندگی اور غریبی ختم ہوجائے تو ہمیں کوئی دقت نہیں ہے۔

دموہ: مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلی دگوجے سنگھ نے لو جہاد کے سلسلے میں کہا ہے کہ اگر اس سے بے روزگاری، پسماندگی اور غریبی ختم ہوجائے تو ہمیں کوئی دقت نہیں۔
مسٹر سنگھ نے ایک نجی پروگرام میں بھوپال سے پنا جاتے وقت کل رات دموہ میں بی جے پی حکومت پر اہم مسئلوں سے توجہ بھٹکانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج جو مسئلے ہیں، حکومت ان پر کیوں توجہ نہیں دے رہی ہے۔
انہوں نے کورونا ویکسن کے مدھیہ پردیش میں لوگوں پر ہونے والے ٹیسٹ پر کہا کہ اس میں پروٹوکول پر عمل ہونا چاہئے۔ حکومت کو جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔ اگر کوئی برا اثر ہوا تو ذمہ داری کس کی ہوگی۔
کسان تحریک پر انہوں نے کہا کہ کسان اپنی بنیادی سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی کو اس پر بات چیت کرنی تھی۔ اس قانون سے بڑے لوگوں اور ملٹی نیشنل سطح کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے، اس لئے کسان تحریک کر رہے ہیں۔ اگر قانون لانے سے پہلے ہی حکومت کسانوں سے بات کرلیتی، تو یہ نوبت ہی نہیں آتی۔

مسٹر سنگھ نے ضمنی انتخابات کے نتائج کے سلسلے میں کہا کہ الیکشن کے نتائج کانگریس کی امید کے مطابق نہیں رہے۔ اس بات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ مستقبل میں ہونے والے علاقائی بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کو موقع دیا جائےگا۔

کورونا سے متاثر سینئر صحافی منگلیش ڈبرال کے لئے فنڈ کی اپیل

0

ساہتیہ اکیڈمی انعام یافتہ ہندی کے معروف شاعر اور سینئر صحافی منگلیش ڈبرال کے علاج کے لئے ادیبوں نے لوگوں سے مالی مدد کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان ادیبوں اور صحافیوں نے کراؤڈ فنڈنگ کی اپیل کی ہے تاکہ جناب ڈبرال کا علاج کیا جاسکے۔

نئی دہلی: ساہتیہ اکیڈمی انعام یافتہ ہندی کے معروف شاعر اور سینئر صحافی منگلیش ڈبرال کورونا سے متاثر ہونے کے سبب اسپتال میں داخل ہیں اور ان کی حالت کافی نازک ہے۔
بہتر (72) سالہ جناب ڈبرال کو تین دن قبل نصف شب کے بعد اچانک سانس لینے میں تکلیف کے سبب غازی آباد کے وسندھرا کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہ اسپتال کے آئی سی یو میں ہیں اور انہیں آکسیجن سپورٹ پر رکھا گیا ہے۔ ان کے پھیپھڑے میں نمونیا ہوگیا ہے جس کے سبب انکی حالت سنگین ہے۔

پرتی پکش، جن ستا، سہارا، شکروار جیسے اخبارات اور رسالوں کی ایڈیٹنگ سے وابستہ جناب ڈبرال کے علاج کے لئے ادیبوں نے لوگوں سے مالی مدد کی اپیل کی ہے۔

سوشل میڈیا پر ان ادیبوں اور صحافیوں نے کراؤڈ فنڈنگ کی اپیل کی ہے تاکہ جناب ڈبرال کا علاج کیا جاسکے۔ جناب ڈبرال سبکدوش ہونے کے بعد فری لانس ایڈیٹر کے طور پر صحافت کر رہے ہیں۔

ریموٹ کنٹرول ہتھیاروں سےفخری زادہ کو قتل کیا گیا: ایران

0

ایران کے مطابق محسن فخری زادہ کے قتل کے لئے اسرائیل اور ایک جلاوطن اپوزیشن گروپ ذمہ دار ہے اور اس کے لئے ریموٹ کنٹرول ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ حملہ آور وہاں موجود نہیں تھے۔

تہران: ایران کے مطابق اس کے اعلی نیوکلیائی سائنس داں محسن فخری زادہ کے قتل کے لئے اسرائیل اور ایک جلاوطن اپوزیشن گروپ ذمہ دار ہے اور اس کے لئے ریموٹ کنٹرول ہتھیار کا استعمال کیا گیا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق نیوکلیائی سائنس داں فخری زادہ کی تدفین کے موقع پر سیکیورٹی کے سربراہ علی شمخانی نے کہا کہ حملہ آوروں نے الیکٹرانک آلات کا استعمال کیا اور وہ جائے واقعہ پر موجود نہیں تھے۔
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ شمخانی نے کہا ’’ان کی سیکیورٹی کے سلسلے میں سبھی ضروری طریقے اختیار کئے گئے تھے لیکن دشمنوں نے بالکل نیا طریقہ استعمال کیا۔ اس قتل کو پیشہ ور اور ماہر طریقے سے انجام دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے دشمن اس میں کامیاب رہے۔ یہ بہت ہی مشکل مشن تھا کیونکہ اس میں الیکٹرانک آلات کا استعمال کیا گیا ہے۔ جائے واقعہ پر کوئی بھی موجود نہیں تھا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ایران خفیہ اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو فخری زادہ کے قتل کی سازش کا اندیشہ پہلے سے ہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملے کا اندیشہ پہلے سے ہی تھا۔

حکومت کسانوں سے بلاشرط و تعصب کے مذاکرات کرے گی: پوری

0

وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے بار بار کہا ہے کہ تحریک کررہے کسانوں کے مسائل کو بلاتعصب یا شرط کے سنا جائے گا کھلے دل سے غور و خوض کیا جائے گا۔ حکومت کسانوں کے ہر مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے۔

نئی دہلی: حکومت نے آج دہرایا کہ وہ تحریک چلا رہے کسانوں سے بات چیت کرکے ان کے معاملات کو حل کرنا چاہتی ہے اور بات چیت کے لئے نہ کوئی شرط لگائی گئی ہے اور نہ ہی دل میں کوئی تعصب ہے۔
شہری ترقیات کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے یہاں ایک پروگرام کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کسانوں کے تمام مسائل حل کرنے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے پرعزم ہے۔

حکومت کسانوں کے ہر مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے

وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے بار بار کہا ہے کہ تحریک کررہے کسانوں کے مسائل کو بلاتعصب یا شرط کے سنا جائے گا کھلے دل سے غور و خوض کیا جائے گا۔ حکومت کسانوں کے ہر مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کے درمیان گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) اور منڈی کا نظام ختم کردیا جائے گا۔ جبکہ پنجاب میں اس برس اناج کی خرید ہدف سے کہیں زیادہ ہوئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعطم نریندر مودی پارلیمنٹ میں بیان دے چکے ہیں کہ ایم ایس پی اور منڈ ی کا نظا م برقرار رہے گا۔ وزیر زراعت مسٹر تومر نے بھی ایک خط میں لکھ کر کہا ہے کہ یہ دونوں نظام قائم رہیں گے۔

ڈاکٹر پوری نے کہا کہ تحریک کررہے کسانوں کو حکومت کی طرف سے بات چیت کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ ہم نے کہا ہے کہ کسان ایک مقررہ مقام پر جمع ہوجائیں جہاں ان کے لئے ضروری سہولیات دستیاب کرائی گئی ہیں تاکہ باقی شہریوں کو دقت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھیڑ کے ساتھ بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔ کسان ایک وفد کے طور پر آئیں اور حکومت ان کے ساتھ بلا شرط بات چیت کرے گی۔

راہل کے وزیراعظم پر الزامات کے جواب

کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی کے وزیراعظم مودی پر الزامات کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر پوری نے کہا کہ وہ مسٹر گاندھی کے الزامات کے بارے میں نہیں جانتے لیکن جہاں تک مودی حکومت کا سوال ہے تو مسٹر گاندھی دیکھیں کہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کے دس برس کے دور اقتدار میں کھیتی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے جتنی رقم خرچ کی گئی اور جتنا خرچ 2014 کے بعد قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے دور اقتدار میں ا ب تک ہوچکا ہے اس کا مقابلہ کرلیں تو ان کے الزامات کی سچائی سامنے آجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے کسانوں کی سہولیت، خوشحالی اور فلاح و بہود کے لئے بہت کام کیا ہے اور آئندہ کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ کسانوں کو اگر کوئی غلط فہمی ہے یا واقعی ان کا کوئی واجب مسئلہ ہے تو اسے دور کیا جائے گا۔

سکھ برادری کی فلاح و بہبود کے لئے مودی حکومت کے اقدمات پر کتاب کا اجرا

ڈاکٹر پوری اطلاعات و نشریاست کے وزیر پرکاش جاوڈیکر کی رہائش گاہ پر گرو نانک دیو کے 551ویں پرکاش فیسٹول پر سکھ برادری کی فلاح و بہبود کی سمت میں مودی حکومت کے اقدمات پر ایک کتاب کا اجرا کرنے آئے تھے۔ یہ کتاب اطلاعات و نشریات کی وزارت نے تیار کی ہے۔

کتاب کے اجرا کے بعد ڈاکٹر پوری نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ وزیراعظم مسٹر مودی کا سکھ برادری کے ساتھ اٹوٹ تعلق ہے۔ ان کی حکومت نے پہلی بار ایسے اقدامات کئے ہیں جن سے سکھ برادری فخر محسوس کررہی ہے۔

لو جہاد: حکومت تبدیلی مذہب آرڈیننس پر از سر نو غور کرے: مایاوتی

0

بہوجن سماج پارٹی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ یوپی حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں لایا گیا تبدیلی مذہب قانون متعدد شبہات سے بھرا ہوا ہے۔ لہذا یوگی آدتیہ ناتھ حکومت اس پر از سر نو غور کرے۔

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مبینہ لوجہاد کے ضمن میں لائے گئے تبدیلی مذہب آرڈیننس پر از سر نو غور کرے۔

پیر کو بی ایس پی سپریمو نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ‘لو جہاد کے سلسلے میں یوپی حکومت کے ذریعہ جلد بازی میں لایا گیا تبدیلی مذہب قانون متعدد شبہات سے بھرا ہوا ہے۔”

انہوں نے مزید لکھا کہ ‘ملک میں کہیں بھی زبردستی و دھوکہ سے تبدیلی مذہب کو نہ تو کوئی خاص معنویت ہے اور نہ ہی قابل قبول۔ اس ضمن میں کئی قانون پہلے سے ہی موجود ہیں۔ ایسے میں بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس پر از سر نو غور کرے’۔

دیر رات نڈا، شاہ اور تومر کی اعلی سطحی میٹنگ، کسانوں کا احتجاج جاری، ہریانہ کے کسانوں کا دہلی مارچ کا اعلان

0

کسان رہنما یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ کسان تنظیمیں مذاکرات کے لئے حکومت کی کسی بھی شرط کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پنجاب کی 20 سے زیادہ کسان تنظیموں کا احتجاج و مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار۔ کسان تنظیمیں اپنے ساتھ راشن پانی لے کر آئی ہیں اور ایک طویل وقت تک احتجاج کی تیاری میں ہیں۔

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں کسانوں کے جاری احتجاج و مظاہرہ سے فکر مند بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جے پی نڈا، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے دیر رات میٹنگ کی، جبکہ دوسری جانب کسان تنظیموں نے حکومت سے بات چیت کیلئے کسی بھی شرط کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔

نڈا، شاہ اور تومر نے کسانوں کی حکمت عملی کے حوالے سے دیر رات بات کی لیکن اس کی کوئی سرکاری تفصیلات دستیاب نہیں ہوسکی۔ شاہ نے کسان رہنماؤں کو روڈ جام ختم کرکے اور براری میدان میں آکر جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ ایسا ہونے کے ساتھ ہی اگلے دن کسانوں سے بات چیت کی جائے گی۔

کسان تنظیموں کا مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار

کسان رہنما یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ کسان تنظیمیں مذاکرات کے لئے حکومت کی کسی بھی شرط کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کل کسان تنظیموں کی میٹنگ ہوئی جس میں پنجاب کی 20 سے زیادہ کسان تنظیموں نے احتجاج و مظاہرہ کے مقام پر ہی بات چیت پر اصرار کیا۔

تومر نے کہا ہے کہ حکومت کسانوں سے کھلے ذہن کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ زرعی اصلاحات کے قوانین کا زرعی مصنوعات کی کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ حکومت نے 3 دسمبر کو پہلے ہی کسان تنظیموں کو مذاکرات کے لئے مدعو کیا ہے۔

من کی بات پروگرام

وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات پروگرام‘ میں کہا تھا کہ کسانوں کو زرعی اصلاحات کے قوانین کے ذریعے نئے حقوق اور مواقع ملے ہیں۔ پارلیمنٹ نے غور و خوض کے بعد زرعی اصلاحات کے قوانین منظور کرلیے ہیں۔ ان اصلاحات سے کسانوں کے بہت سے بندھن ختم ہوگئے ہیں۔

حکومت ماضی میں کسان تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کے دو دور کر چکی ہے، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کاشتکار تنظیمیں ماضی میں نافذ کردہ تین زرعی قوانین کے خاتمے، ایم ایس پی کو قانونی حیثیت دینے، احتجاج و مظاہرہ کرنے والے کسانوں پر درج مقدمات واپس لینے اور دیگر بہت سے مطالبات کرتی رہی ہیں۔

رام لیلا میدان یا جنتر منتر پر احتجاج کسان تنظیموں کا اگلا قدم

کسان تنظیمیں اور ان کے کارکنان دہلی کی سرحد پر جمے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ چار دنوں سے دہلی جانے والے اہم راستے بند ہیں جس سے بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، کچھ کسان تنظیمیں دارالحکومت کے رام لیلا میدان یا جنتر منتر پر احتجاج کرنا چاہتی ہیں۔

کسان تنظیمیں اپنے ساتھ راشن پانی لے کر آئی ہیں اور ایک طویل وقت تک احتجاج کی تیاری میں ہیں۔

دریں اثنا ہریانہ کی کھاپ پنچایتوں نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کرنے اور آج دہلی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز کھاپ پنچایتوں کی میٹنگ میں لیا گیا ہے۔