امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے پر روک
اداکارہ پرینکا چوپڑا نے زرعی قانونوں کے خلاف کسانوں کے احتجاج کی حمایت کی
ہمارے کسان ہندوستان کے غذائی سپاہی ہیں۔ ان کے خدشات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی امیدوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔
ممبئی: اداکارہ پرینکا چوپڑا نے متنازعہ زرعی بل کو لے کر جاری کسانوں کے احتجاج کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے پنجابی اسٹار دلجیت دوسنج کی ٹویٹ کو دوبارہ شیئر کیا ہے اور اس مسئلے کے فوری حل کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے ٹویٹر پیغام میں انہوں نے لکھا ہے کہ "ہمارے کسان ہندوستان کے غذائی سپاہی ہیں۔ ان کے خدشات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی امیدوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ترقی پذیر جمہوریت کی حیثیت سے، ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس بحران کا حل جلد سے جلد نکل جائے۔”
Our farmers are India’s Food Soldiers. Their fears need to be allayed. Their hopes need to be met. As a thriving democracy, we must ensure that this crises is resolved sooner than later. https://t.co/PDOD0AIeFv
— PRIYANKA (@priyankachopra) December 6, 2020
پرینکا ان چند بالی ووڈ اسٹار میں شامل ہیں جنھوں نے کسانوں کے احتجاج کی حمایت کی تھی۔ واضح رہیکہ پنجابی فلم انڈسٹری سے وابستہ فلمی ادکاروں کی ایک بڑی تعداد گزشتہ کئی دنوں سے کسانوں کے معاملے کو لیکر کبھی سڑکوں پر تو کبھی سوشیل میڑیا کے توسط سے اپنی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ترنمول کانگریس کسی بھی بند کی حمایت نہیں کرتی ہے مگر کسانوں کے ساتھ ہے: ممتا بنرجی
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ میں سینگور کو فراموش نہیں کرسکتی ہوں۔ میں نے کسانو ں کے لئے بھوک ہڑتال کی تھی اور 2006 میں 26 روزہ بھوک ہڑتال کا واقعہ ابھی بھی سب کو یاد ہے۔ میری پارٹی کسی بھی بند کی حمایت نہیں کرتی ہے۔ مگر کسانوں کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبے کی حمایت کرتی ہیں۔
کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نےکہا ہے کہ وہ کسانوں کے ہڑتال کی حمایت نہیں کرتی ہیں مگر کسانوں کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبے کی حمایت کرتی ہیں۔ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم مودی سے مطالبہ کیا کہ جلد سے جلد نئے زرعی آرڈیننس کو واپس لے۔
مدنی پور میں منعقد ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ میں سینگور کو فراموش نہیں کرسکتی ہوں، میں نے کسانو ں کے لئے بھوک ہڑتال کی تھی اور 2006 میں 26 روزہ بھوک ہڑتال کا واقعہ ابھی بھی سب کو یاد ہے۔ میں کسانوں سے زرخیز زمین لینے کے خلاف تھی۔ تاہم میری پارٹی کسی بھی بند کی حمایت نہیں کرتی ہے۔ اس لئے ہم کل کسانوں کے ذریعہ کئے جانے والے مطالبات کی حمایت کر تے ہیں۔
خیال رہے کہ نئے قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے مختلف گروپوں نے منگل کو بھارت بند کا مطالبہ کیا ہے۔
شوبھندو ادھیکاری ترنمول کے خلاف بغاوت پر آمادہ
مشرقی مدنی پور کے نندی گرام کے ممبر اسمبلی شوبھندو ادھیکاری ترنمول کانگریس کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی ممتا بنرجی کے کابینہ سے استعفیٰ دیا ہے۔ مگر اب تک پارٹی انہوں نے نہیں چھوڑی ہے۔ مدنی پور پہنچنے کے بعد ممتا بنرجی نے شوبھندو ادھیکاری کا نام لئے بغیر کہا کہ پارٹی میں ڈسپلن شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ممتا بنرجی نے شوبھندو ادھیکاری کے والد ششیر ادھیکاری جو ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ہیں سے بھی کہا تھا کہ وہ پارٹی مخالف سرگرمیوں پر روک لگائے۔
بنگال میں بی جے پی جیسی پارٹی کے لئے کوئی جگہ نہیں
ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی بیرونی پارٹی ہے۔ بنگال میں بی جے پی جیسی پارٹی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ممتا بنرجی نے مشرقی مدنی پور کے عوام سے اپیل کی کہ بیرونی طاقتوں کو بنگال پر قبضہ کرنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ پارٹی میں بلیک میل کرنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگا ل میں سی پی ایم اور کانگریس کے لوگ بھی میری مخالفت میں بی جے پی جیسی پارٹی کی حمایت کررہے ہیں۔
وزیر اعلی نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی مسلسل تیسری بار اقتدار میں آنے کے بعد اگلے سال جون کے بعد بھی مفت راشن جاری رکھے گی۔ اگلے سال اپریل سے مئی میں 294 رکنی مغربی بنگال اسمبلی میں انتخابات ہونے کا امکان ہے۔
سلطان الہند پر تبصرہ کا معاملہ: صحافی امیش دیوگن کے خلاف دائر ایف آئی آر منسوخ کرنے سے سپریم کورٹ کا انکار
سلطان الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ الله علیہ پر تبصرہ کے معاملے میں صحافی امیش دیوگن کے خلاف دائر ایف آئی آر منسوخ کرنے سے سپریم کورٹ نے انکار کردیا۔ عدالت نے دیوگن کے خلاف دائر سبھی ایف آئی آر کو ایک ساتھ کرنے اور انہیں اجمیر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے صوفی خواجہ معین الدین چشتی کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کے معاملے میں صحافی امیش دیوگن کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے سے پیر کے روز انکار کردیا۔
جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ نے اگرچہ واضح کیا کہ تادیبی کارروائی سے صحافی امیش دیوگن کو 8 جولائی کو دیا گیا تحفظ جاری رہے گا۔
عدالت نے دیوگن کے خلاف دائر سبھی ایف آئی آر کو ایک ساتھ کرنے اور انہیں اجمیر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ 15 جون کو نشر ہونے والے پرائم ٹائم شو میں صوفی معین الدین چشتی کے خلاف کئے گئے نازیبا تبصرے کی بنیاد پر دیوگن کے خلاف راجستھان، مدھیہ پردیش، اترپردیش، مہاراشٹر اور تلنگانہ میں سات معاملے درج کرائی گئی ہیں۔
شکر پور علاقے میں تصادم، پانچ دہشت گرد گرفتار
مشرقی دلی کے شکر پور علاقے میں تصادم کے بعد پانچ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے قبضے سے ہتھیار کے علاوہ دیگر مشتبہ سامان ضبط کیا گیا ہے۔ دو دہشت گرد پنجاب اور تین کشمیر کے ہیں۔
ایسا امکان ہے کہ دہشت گرد راجدھانی میں کسی بڑے حملے کی سازش کر رہے تھے لیکن وقت رہتے سبھی کو گرفتار کرکے پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
برطانیہ میں پرندے پالنے والوں پر لگی پابندی
انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلس کے چیف ویٹرنری آفیسرز نے ملک میں جنگلی اور پالتو دونوں طرح کے پرندوں میں ایوین انفلونزا کے کئی معاملے سامنے آنے کے بعد مرغیوں اور پالتو پرندوں کی حفاظت کے لئے کوششیں کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
لندن: برطانیہ میں برڈ فلو کے بڑھتے معاملوں کے درمیان افسران نے پرندے پالنے والوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 دسمبر سے پرندوں کو یمیشہ گھروں کے اندر رکھیں۔
اس سلسلے میں فوڈ اینڈ رولر ڈپارٹمنٹ نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ’’انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلس کے چیف ویٹرنری آفیسرز نے ملک میں جنگلی اور پالتو دونوں طرح کے پرندوں میں ایوین انفلونزا کے کئی معاملے سامنے آنے کے بعد مرغیوں اور پالتو پرندوں کی حفاظت کے لئے کوششیں کرنے کا مشورہ دیا ہے‘‘۔ افسران نے پرندوں کو گھروں میں رکھنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برڈ فلو سے انسانی صحت اور فوڈ سیکیورٹی کے لئے خطرہ ’کافی کم‘ ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ التزام 14 دسمبر سے نافذ ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ سبھی پرندوں کو پرندوں کی پناہ گاہوں میں رکھنا اور بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کرنے اور بیماری ختم کرنے کے لئے سخت بایو سیکیورٹی اقدامات پر عمل کرنا قانونی طور پر ضروری ہوگا‘‘۔
بابری مسجد کے عوض دی گئی زمین پر بننے والی مسجد، ‘مسجد ضرار’ ہوگی
مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اورنگ آباد میں ‘کُل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل’ کی جانب سے ‘بابری مسجد’ سے متعلق اجلاس منوقد کیا گیا، جس میں ‘بابری مسجد: عدالتی کارروائیاں عدل و انصاف کے ترازو میں’ کے عنوان پر، ‘میڈیا ٹرائل اور بھارتی مسلمان’ اور ‘بابری مسجد کی موجودہ صورت حال پر مسلمانوں کا شرعی موقف’ جیسے عنوانوں پر دانشوروں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا
اورنگ آباد:آج بابری مسجد کی شہادت کی سالگرہ کے موقعے پر مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اورنگ آباد میں ‘کُل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل’ کی جانب سے"اجلاس بابری مسجد” کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ‘بابری مسجد: عدالتی کارروائیاں عدل و انصاف کے ترازو میں’ کے عنوان پرحافظ محمد مختارخان اشاعتی، ایڈوکیٹ ہائی کورٹ، سبھاش ساؤنگی کر نے اور ‘میڈیا ٹرائل اور بھارتی مسلمان’ عنوان پر ڈاکٹر تنویر (شعبہ صحافت ایم جی ایم کالج) اور ڈاکٹر بالا صاحب جادھو نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اسی طرح "بابری مسجد کی موجودہ صورت حال پر مسلمانوں کا شرعی موقف” پر مولانا نعمان ندوی (جمیعۃ الشباب) نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ‘بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے حقائق و شواہد اور قانونی بنیادوں و واضح ثبوتوں کو یکسر نظرانداز و درکنار کیا۔’
محض عقیدت کی بنیاد پر دئے گئے عجیب و غریب فیصلے کے نتیجے میں دی جانے والی 5 ایکڑ اراضی پر بنائے جانے والی مسجد کو ‘مسجد ضرار’ سے تعبیر کرتے ہوئے، مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ مسجد کے لیے دی گئی جگہ اور وہاں بنائی جانے والی مسجد سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کریں۔ اس کے لیے کسی بھی قسم کا تعاون یا چندہ وغیرہ نہ دیں۔
اورنگ آباد میں ‘کُل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل’ کی جانب سے "اجلاس بابری مسجد” عنوان کے تحت منعقدہ ایک اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر کونسل ضیاءالدین صدیقی نے اترپردیش کے سنی وقف بورڈ کو، جس نے حکومت سے یہ زمین لینے کی حامی بھری ہے، سخت ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھوں چند ٹکوں میں بکنے والوں کا گروہ ہے جو بھارت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی رائے عامہ اور دیگر مذاہب کے سیکولر، انصاف پسند، صاحب بصیرت اور وسیع النظر افراد کے مشوروں کے باوجود جگہ حاصل کر کے وہاں مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسی کوئی مسجد تعمیر کی جاتی ہے تو وہ ‘مسجدضرار’ ہوگی۔
بابری مسجد کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں مسلمانوں کی راہ نمائی کے لیے منعقدہ اس اجلاس میں "بابری مسجد: عدالتی کارروائیاں عدل و انصاف کے ترازو میں” اس عنوان پرحافظ محمد مختارخان اشاعتی، ایڈوکیٹ ہائی کورٹ، سبھاش ساؤنگی کر نے اور "میڈیا ٹرائل اور بھارتی مسلمان” عنوان پر ڈاکٹر تنویر (شعبہ صحافت ایم جی ایم کالج) اور ڈاکٹر بالا صاحب جادھو نے، اسی طرح "بابری مسجد کی موجودہ صورت حال پر مسلمانوں کا شرعی موقف” پر مولانا نعمان ندوی (جمیعۃ الشباب) نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اجلاس کا مقصد
ضیاء الدین صدیقی نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ بابری مسجد سے متعلق ہمارا جو موقف ہے وہ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ آج بھی ہمارا یہی موقف ہے کہ بابری مسجد، مسجد تھی، مسجد ہے اور مسجد ہی رہے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ گو کہ زمینی حقیقت آج مختلف ہے، مسجد شہید کی جا چکی ہے، وہاں مندر بنانے کی تیاریاں ہو چکی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر نو اب ناممکن ہو چکی ہے۔ لیکن ہم بھارتی ملسلمان اپنے موقف کو رتی برابر بھی تبدیل کرنے کو تیار نہں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وقت اور حالات میں تغیر اور تبدیلیاں نمایاں ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہوگا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار اور طاقت صرف انہی کے پاس رہے گی، وہ خام خیالی میں مبتلا ہیں۔ وقت اور حالات کا پہیہ ہمیشہ گردش میں رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں مایوس و ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
موجودہ صورتحال کے تناظر میں مسلمانوں کی راہ نمائی کے لیے اورنگ آباد میں ‘کُل جماعتی وفاق مسلم نمائندہ کونسل’ کی جانب سے"اجلاس بابری مسجد” کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں بابری مسجد: عدالتی کارروائیاں عدل و انصاف کے ترازو میں” کے عنوان پرحافظ محمد مختارخان اشاعتی، ایڈوکیٹ ہائی کورٹ، سبھاش ساؤنگی کر نے اور "میڈیا ٹرائل اور بھارتی مسلمان” عنوان پر ڈاکٹر تنویر (شعبہ صحافت ایم جی ایم کالج) اور ڈاکٹر بالا صاحب جادھو نے، اسی طرح "بابری مسجد کی موجودہ صورت حال پر مسلمانوں کا شرعی موقف” پر مولانا نعمان ندوی (جمیعۃ الشباب) نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
انھوں نے طاقت کے نشہ میں چور من مانی اور ناانصافی کرنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ظالمو! اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو، ۔۔ دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے۔۔وہ یقیناً سُنے گا صدائیں میری،۔۔ کیا تمہارا خدا ہے، ہمارا نہیں۔
سپریم کورٹ اب سپریم نہیں رہا
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ، سبھاش ساؤنگی کر، نے کہا کہ توہین عدالت کا ڈر دکھا کر ہمیں اس فیصلے کے خلاف ہمیں اظہار رائے سے روکا جارہا ہے۔ یہ ہمارےاظہار آزادی رائے کے خلاف ہے۔ "سپریم کورٹ اب سپریم نہیں رہا”۔ "سپریم کورٹ کا ایک رخ ایسا ہونا چاہئے کہ اس کی قابلیت، میرٹ اور سچ کو اس کے فیصلوں سے ٹپکنا چاہیے۔” لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے اس لیے ہم باہر چرچہ کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح کے مباحثے نہ ہوں اس کے لیے ہمیں توہین عدالت کا ڈر بتا کر ہماری اظہار رائے کی آزادی چھینی جا رہی ہے۔
مسلمانوں کو میڈیا ٹرائل کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش
ڈاکٹر تنویر نے میڈیا ٹرائل کو کسی خاص طبقے کو نشانہ بناکر ایوان اقتدار تک پہنچنے کا عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2014 کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف میڈیا ٹرائل کے ذریعے انھیں بدنام کرنے، انھیں دہشت گرد قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ دنیا کے مختلف مقامات پر ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے اور آج بھی جاری ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے ایک افریقی ملک روانڈا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ”ریڈیو روانڈ ” کی نشریات سے متاثر ہو کر وہاں تقریباً 7 لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔ برما میانمار میں میڈیا ٹرائل کے ذریعے سے ہی لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کیا گیا۔ وہاں سوشل میڈیا پر 2 لاکھ جھوٹے اکاونٹ بنا کر مسلمانوں کے خلاف عوامی جذبات کو مشتعل کیا گیا۔
مولانا نعمان ندوی نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے جتنے بھی خطا کار ہیں وہ آخرکار اپنے انجام بد کو پہنچ رہے ہیں، انھوں نے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور نرسمہا راؤ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انجام آج دنیا دیکھ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے اعمال درست کرنے اور دین پر چلنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اسی کے ذریعے سے ہم اپنی منزل مقصود کو پا سکتے ہیں۔
اجلاس میں منظور شدہ قراردادیں
اجلاس کے آخر میں قراردادیں منظور کی گئں۔ (1) مسلم نمائندہ کونسل اورنگ آباد کا یہ اجلاس، بابری مسجد، کو مسجد سمجھتا ہے، اور اپنے موقف کا اظہار کرتا ھے کہ بابری مسجد، مسجد تھی مسجد ھے اور مسجد رہیگی، انشاءاللہ، وقتی حالات کے پیش نظر حیثیت بدلنے سے مسجد کی حقیقی حثییت نہیں بدلتی، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ہمت حوصلہ اور قوت عطا فرمائے کہ ہم اللہ کے اس گھر کو تیری اذانوں سے آباد کرسکیں۔
(2) کونسل کا یہ اجلاس میڈیا کے بےمہار طور طریقوں کی سخت مذمت کرتا ھے۔ میڈیا عدالتوں اور حکومتوں کے تال میل کے ساتھ کی جا رہی ناانصافیوں کے خلاف اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتا ہے۔ ارباب اقتدار سے مطالبہ کرتا ہے کہ میڈیا کے لیے ایک Moral Code Of Conduct بنایا جائے۔
(3) کونسل کا یہ اجلاس بابری کے فیصلے پر اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرتا ھے۔ مطالبہ کرتا ھے کہ عقیدت کے بجائے فیصلے کی بنیاد حقائق پر رکھی جائے اور دوبارہ اس کیس کو ثبوتوں اور حقائق کی بنیاد پر طے کیا جائے۔
(4) بابری مسجد کے بدلے جو زمین دی گئی ھے اسے مسلمان قبول نہ کریں اور وہاں جو مسجد بنائی جائیگی اسکے لئے کوئی چندہ نہ دیں کیونکہ یہ اجلاس بت پرستی کے لئے لی گئی مسجد کے بدلے جو زمین دی جارہی ھے اس پر بننے والی مسجد کو مسجد ضرار سمجھتا ھے۔
(5) مسلم نمائندہ کونسل کا یہ اجلاس ED کے چھاپوں کی مذمت کرتا ھے اور متنبہ کرتا ھے کہ ایسی اوچھی حرکتوں سے حق بات بولنے والوں کو دبایا نہیں جاسکتا۔
(6) یہ اجلاس کسانوں کے احتجاج کو صحیح سمجھتا ھے اور انکے مطالبوں کو قبول کرنے اور کسان مخالف قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتا ھے۔
(7) یہ اجلاس مسلمانوں سے اپیل کرتا ھے اتحاد واتفاق کے ساتھ جماعتوں اور مسلکوں سے اوپر اٹھ کر حق کا ساتھ دینے کی کوشش کریں اور حق کے طرف دار بنیں ناکہ غیر جانبدار۔
کانگریس کسانوں کے بھارت بند کی حمایت کرے گی
کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کسانوں کے بھارت بند کو کامیاب بنانے کے لئے پارٹی کے کارکنان ملک بھر میں تحصیل کی سطح پر کام کرکے اس بند کو کامیاب بنانے کے لئے کسانوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ نئے زرعی قوانین کے خلاف 8 دسمبر کو کسان تنظیموں کی جانب سے بھارت بند کی پکار پر پارٹی اس کی حمایت کرے گی اور اس کے کارکنان اسے کامیاب بنانے کے لئے کام کریں گے۔
کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے اتوار کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ کسانوں کے بھارت بند کو کامیاب بنانے کے لئے پارٹی کے کارکنان ملک بھر میں تحصیل کی سطح پر کام کرکے اس بند کو کامیاب بنانے کے لئے کسانوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے ساتھ ہونے والی کسی بھی ناانصافی کے خلاف سبھی ریاستوں کے ہیڈ کوارٹر، ضلع ہیڈ کوارٹر اور تحصیل ہیڈ کوارٹر پر کسانوں کے ساتھ مظاہرہ کریں گے۔ بھارت بند کو کامیاب بنانے کی پرزور کوشش کریں گے۔
شاہ، راجناتھ، جاوڈیکر، نقوی نے امبیڈکر کو مہاپرینروان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا
آج ڈاکٹر امبیڈکر کی 64 ویں برسی ہے۔ 06 دسمبر 1956 کو دہلی میں ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ امت شاہ، راجناتھ سنگھ، پرکاش جاوڈیکر اور مختار عباس نقوی نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو ان کے مہاپرینروان دیوس پر خراج عقیدت پیش کیا۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ
وزیر اطلاعات نشریات پرکاش جاوڈیکر
اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ممبئی میں پٹرول 90 روپے سے متجاوز
ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں پٹرول میں 28 پیسے اور ڈیزل میں 30 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ تجارتی شہر ممبئی میں پٹرول 90.01 روپے اور ڈیزل کی قیمت 80.20 روپے فی لیٹر ہے۔
آج ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں پٹرول میں 28 پیسے اور ڈیزل میں 30 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ دہلی میں آج پٹرول 83.41 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 73.62 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔
تجارتی شہر ممبئی میں پٹرول 90.01 روپے اور ڈیزل کی قیمت 80.20 روپے فی لیٹر ہے۔ چنئی میں قیمتیں بالترتیب 86.21 اور 78.93 فی لیٹر ہیں۔ کولکاتہ میں پٹرول کی قیمت میں 84.86 روپے اور ڈیزل کی قیمت 77.15 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
ملک کے چار بڑے میٹرو شہروں میں آج دونوں ایندھن کی قیمت فی لیٹر اس طرح رہیں۔
شہر….. پٹرول…….. ڈیزل
دہلی 83.41 73.62
ممبئی. 90.01 80.20
چنئی 86.21 78.93
کولکاتہ 84.86 77.15










