منگل, ستمبر 29, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 416

اکھلیش کا بڑا بیان، ملک میں کہیں بھی کوئی کورونا نہیں

0
اکھلیش کا بڑا بیان، ملک میں کہیں بھی کوئی کورونا نہیں
اکھلیش کا بڑا بیان، ملک میں کہیں بھی کوئی کورونا نہیں

اپوزیشن سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ میں یہاں بغیر ماسک کے آیا ہوں اور آپ تمام کے درمیان بیٹھا ہوں۔ آپ لوگ ہی ہمیں مطلع کریں ‘کہاں ہے کورونا’۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نے ہفتہ کو اپنے ایک متنازع بیان میں دعوی کیا کہ ملک میں کوئی بھی کورونا نہیں ہے۔ حکومت اپوزیشن و عوام کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں خائف کرنے کے لئے کورونا کا رونا رو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ نہ تو وہ بی جے پی کی ویکسین لیں گے اور نہ ہی اس کی کسی سازش کا شکار ہونگے۔

بی جے پی کورونا کی کہانیاں گڑھ کر عوام کو ڈرا رہی ہے

مسٹر یادو نے ہفتہ کو میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ملک میں کہیں بھی کوئی کورونا نہیں ہے۔ بی جے پی کورونا کی کہانیاں گڑھ کر اپوزیشن سیاسی پارٹیوں اور ان کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں خائف کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں بغیر ماسک کے آیا ہوں اور آپ تمام کے درمیان بیٹھا ہوں۔ آپ لوگ ہی ہمیں مطلع کریں ‘کہاں ہے کورونا’۔

انہوں نے کہا کہ کورونا بحران کا اعلان کرنے کے باجود بی جے پی ہر چیز کررہی ہے اور جب اپوزیشن کسی بھی پروگرام کے انعقاد کے لئے اجازت طلب کرتا ہے تو انہیں کورونا کا حوالہ دیتے ہوئے منع کردیا جاتا ہے۔ جو اس بات کا غماز ہے کہ کس طرح حکمراں جماعت کورونا کے نام پر اپوزیشن کو ٹارگیٹ کررہی ہے۔

میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں

سابق وزیر اعلی نے کہا کہ میں ابھی کورنا ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگواؤنگا میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں۔ جب ہماری حکومت آئے گی ہر شہری کو مفت میں کورنا ویکسین فراہم کی جائے گی۔ ہم بی جے پی کی ویکسین کو نہین لے سکتے ہیں۔

سماج وادی سربراہ کا یہ متنازع بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یوپی حکومت کووڈ ویکسین کے لئے ‘ڈرائی رن’ مہم چلارہی ہے اور مکرسنکرانتی کے مناسبت سے ریاست میں ویکسینیشن کا آغاز کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ انہوں اس پر ٹویٹ بھی کیا۔

اکھلیش کی اجودھیا کے سادھو سنتوں سے ملاقات

اکھلیش یادو نے آج اجودھیا کے کئی سادھو سنتوں سے ملاقات کی اور ان سے سال 2022 کے اسمبلی انتخابات کے لئے دعا کی گذار ش کی۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ جب ان کی ریاست میں حکومت بنے گی پورا اجودھیا ٹیکس فری ہوگا۔ جس کے بعد ہر دن یا سال کے 365 دن اجودھیا کے لوگ دیوالی مناسکیں گے۔

اکھلیش نے کہا کہ اجودھیا اتحاد و ہم آہنگی کی علامت ہے لیکن بی جے پی نے سیاسی مفاد کے پیش نظر اسے سیاسی رشتہ کشی کے مقام پر تبدیل کردیا ہے۔ ہم نے تمام مذاہب کی قدر اور ان کی حمایت کر کے جمہوریت و انسانیت کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ بی جے پی مذہب کے نام پر سماج کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔

جبری تبدیلی مذہب آرڈیننس پر تبصرہ

جبری تبدیلی مذہب آرڈیننس پر تبصرہ کرتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی حکومت بین ذاتیوں کی شادی کے لئے 50 ہزار روپے فراہم کررہی ہے تو وہیں دوسری جانب وہ لوجہاد قانون لے کر آئی ہے۔ یہ ان کے دوہرے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کسانوں کے حالت زار کو نظر انداز کرنے کے لئے بھی بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا۔

 

میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں: اکھلیش

0
میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں: اکھلیش
میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں: اکھلیش

اکھلیش یادو نے کہا کہ جب میری حکومت ریاست میں تشکینل پائے گی ہر کسی کو مفت میں ویکسین فراہم کی جائے گی۔ ہم بی جی پی کی ویکسین نہیں لے سکتے۔

لکھنؤ: اترپردیش کی یوگی حکومت کے ذریعہ مکر سنکراتی سے کووڈ ۔ ویکسین کا ٹیکہ لگانے کی تیاریاں زوروں پر ہیں تو دوسری طرف اب ویکسینیشن میں بھی سیاست در در آئی ہے اور اکھلیش یادو نے ‘بی جے پی کی ویکسین’ نہ لگوانے کا دعوی کیا ہے۔

اپنے ایک اچانک فیصلے میں ریاست کی مین اپوزیشن سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے ہفتہ کو کہا کہ وہ بی جے پی کی ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگوائیں گے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ ‘اس وقت میں کووڈ ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگوا رہا۔ میں بی جے پی کی ویکسین پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں۔ جب میری حکومت ریاست میں تشکیل پائے گی ہر کسی کو مفت میں ویکسین فراہم کی جائے گی۔ ہم بی جی پی کی ویکسین نہیں لے سکتے۔

یوپی حکومت ہفتہ کو ریاستی راجدھانی کے لئے 6 اسپتالوں میں ویکسین کے لئے ڈرائی مہم کا انعقاد کررہی ہے۔ یہ مہم آئندہ منگل کو پوری ریاست میں منعقد کی جائے گی۔ تاہم آفیشیل ذرائع نے بتایا کہ ریاست میں ویکسینیشن عمل کا آغاز ‘مکر سنکراتی’ کے موقع پر ہوسکتا ہے جو کہ 15 جنوری کو ہے۔

کانگریسی سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر بوٹا سنگھ کا انتقال

0
کانگریسی سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر بوٹا سنگھ کا انتقال
سردار بوٹا سنگھ 21 مارچ 1934 کو پنجاب کے ضلع جالندھر کے گاؤں مصطفیٰ پور میں پیدا ہوئے، بوٹا سنگھ سیاست میں آنے سے پہلے صحافت سے وابستہ تھے۔ انہوں نے پہلا الیکشن اکالی دل سے جیتا تھا، بعد میں وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔

سردار بوٹا سنگھ 21 مارچ 1934 کو پنجاب کے ضلع جالندھر کے گاؤں مصطفیٰ پور میں پیدا ہوئے، بوٹا سنگھ سیاست میں آنے سے پہلے صحافت سے وابستہ تھے۔ انہوں نے پہلا الیکشن اکالی دل سے جیتا تھا، بعد میں وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر سردار بوٹا سنگھ کا ہفتہ کے روز یہاں انتقال ہوگیا۔ وہ 86 سال کے تھے ۔ ان کی فیملی میں اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

سردار بوٹا سنگھ 21 مارچ 1934 کو پنجاب کے ضلع جالندھر کے گاؤں مصطفیٰ پور میں پیدا ہوئے، بوٹا سنگھ سیاست میں آنے سے پہلے صحافت سے وابستہ تھے۔ انہوں نے پہلا الیکشن اکالی دل سے جیتا تھا، بعد میں وہ کانگریس میں شامل ہوگئے۔

آنجہانی بوٹا سنگھ نے آٹھ بار لوک سبھا کا انتخاب جیتا تھا۔ مرکزی وزیر کی حیثیت سے انہوں نے داخلہ، زراعت، ریلوے اور مواصلات اور دیگر اہم وزارتوں کے ساتھ بہار کے گورنر کی ذمہ داری بھی نبھائی۔ وہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت میں قومی درج فہرست ذات و قبائل کمیشن کے چیئرمین (2007 سے 2010 ) بھی رہے تھے۔

امریکی سینیٹ نے دفاعی بل پر ٹرمپ کے ویٹو کو کیا مسترد

0
امریکی سینیٹ نے دفاعی بل پر ٹرمپ کے ویٹو کو کیا مسترد
امریکی سینیٹ نے دفاعی بل پر ٹرمپ کے ویٹو کو کیا مسترد

سینیٹ نے قومی دفاع اتھارٹی ایکٹ (اے ڈی اے اے) کے نام سے یہ دفاعی بل 81–13 کے فرق سے منظور کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی کانگریس کے ایوان بالا سینیٹ نے مالی سال 2021 کے قومی دفاعی بل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویٹو کو مسترد کردیا ہے۔

جمعہ کے روز اس بل کی حمایت کرنے والے سینیٹ کے دو تہائی سے زیادہ ارکان نے ٹرمپ کے اس ویٹو کو مسترد کردیا۔

سینیٹ کے اس فیصلہ کو مسٹر ٹرمپ کے لئے ایک بڑا دھچکا سمجھا جارہا ہے کہ ان کے دور میں یہ ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ سینیٹ نے قومی دفاع اتھارٹی ایکٹ (اے ڈی اے اے) کے نام سے یہ دفاعی بل 81–13 کے فرق سے منظور کیا ہے۔

23 دسمبر کو امریکی صدر نے اس بل پر ویٹو کا اعلان کیا تھا۔ امریکی اراکین پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان نمائندگان نے 740 ارب ڈالر کے دفاعی اخراجات کے بل کو 322۔87 کے فرق سے پیر کو ہی منظور کرلیا تھا۔ ایوان نمائندگان نے بل پر غور کے لئے اسے ریپبلکن اکثریتی سینیٹ کو بھیجا تھا۔

صرف اس بل کے ذریعے ہی آئندہ ایک سال تک امریکہ کی دفاعی پالیسی پر خرچ کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بل کی کچھ شقوں پر مخالفت کی

ڈونلڈ ٹرمپ جو چند ہفتوں میں صدارت چھوڑنے والے ہیں، نے بل کی کچھ شقوں پر مخالفت کی تھی۔ انہوں نے ان پالیسیوں کی مخالفت کی ہے جو افغانستان اور یوروپ سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی تعداد کو محدود کرتی ہیں۔

این ڈی اے اے میں نارڈ اسٹریم 2 پائپ لائن منصوبے پر پابندی عائد کرنے اور روسی میزائل دفاعی نظام ایس -400 خریدنے کے حوالہ سے ترکی کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے بھی ایک شق ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ امریکی کانگریس کو قانون سازی کے لئے منظور کردہ بل پر صدر کے دستخط لازمی ہیں۔

کچھ غیر معمولی حالات میں صدر بل پر دستخط نہیں کرتے اور نہ ہی اسے ویٹو کرتے ہیں۔ ایسے پالیسی ساز معاملوں میں اختلافات ہوتا ہے۔ لیکن ایوان کے اراکین دونوں ایوانوں میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ساتھ بل پاس کرکے صدر کے ویٹو کو مسترد کرکے اس بل کو قانون بنا سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے بایوٹک اور فائزر ویکسین کو دی منظوری

0

دنیا کے متعدد ممالک نے کورونا ویکسین تیار کی ہے، لیکن اس وقت ڈبلیو ایچ او نے صرف بایوٹک اور فائزر ویکسین کو ہی تسلیم کیا ہے۔

ماسکو: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے فائزر اور بائیوٹک کمپنیوں کے ذریعہ تیار کردہ عالمی وبا کورونا وائرس کی ویکسین کو ہنگامی استعمال کے لئے منظوری دے دی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبا کے آغاز کے بعد پہلی بار اس ویکسین کی منظوری دی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے جمعرات کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ’’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے آج ہنگامی استعمال کے لئے فائزر اور بایوٹک ویکسین کو منظوری دے دی ہے‘‘۔
قابل ذکر ہے کہ دنیا کے متعدد ممالک نے کورونا ویکسین تیار کی ہے، لیکن اس وقت ڈبلیو ایچ او نے صرف ان دو ویکسین کو ہی تسلیم کیا ہے۔

ریلائنس جیو کا اپنے گاہکوں کو نئے سال کا تحفہ، یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری

0
ریلائنس جیو کا اپنے گاہکوں کو نئے سال کا تحفہ، یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری
ریلائنس جیو کا اپنے گاہکوں کو نئے سال کا تحفہ، یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری

ریلائنس جیو نے اپنے گاہکوں کو نئے سال کا شاندار تحفہ دیتے ہوئے یکم جنوری سے سبھی نیٹ ورک پر کال فری کیا۔


ممبئی: مکیش انبانی کی ریلائنس جیو نے اپنے گاہکوں کو نئے سال کا شاندار تحفہ دیتے ہوئے وعدے کے مطابق یکم جنوری سے انٹرکنیکٹ یوز چارج ( آئی یو سی) کو ختم کرنے کا جمعرات کو اعلان کیا۔

آئی یو سی کے تحت جیو سروس کے گاہک کو اسے پلان سے ملے منٹ ختم ہوجانے پر گراہک کو دوسرے نیٹ ور ک پر کال کرنے کیلئے ری چارج کروانا پڑتا تھا اور چھ پیسے فی منٹ یا فی کال چارج دینا پڑتا تھا جبکہ جیو کے گاہکوں کو آپس میں ان لمیٹڈ فری کال کی سہولت تھی۔

جیو نے جمعرات کو بیان جاری کر کہا کہ بھارتی ٹیلی مواصلات ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) کی ہدایت کے مطابق ’بل اور کیپ دور‘ ملک میں یکم جنوری 2021 سے لاگو ہورہا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے جیو گاہکوں سے کئے گئے وعدے کے مطابق آئی یو سی چارج ختم ہورہا ہے اور جمعہ یکم جنوری سے جیو گاہک بھی سبھی نیٹ ورک پر گھریلو وائس کال کا فری میں لطف اٹھا سکیں گے۔

جیو نے کہا ہے کہ ستمبر 2019 سے ٹرائی نے جب ’بل اینڈ کیپ دور‘ عمل درآمد کی مدت کو بڑھایا تو اس کے پاس آئی یو سی چارج لگانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا تھا۔ جیو نے کہا کہ ٹرائی کے اس بندوبست کو لاگو کرنے کے ساتھ ہی وہ اپنے گاہکوں سے کئے گئے وعدے کو فوری اثر سے عمل میں لارہا ہے۔

جیو نے اکتوبر 2019 میں آئی یو سی چارج شروع کیا تھا

ٹرائی نے یکم اکتوبر 2017 کو آئی یو سی چارج 14 پیسے سے گھٹا کر 6 پیسے کیا تھا اور اسے یکم جنوری 2020 سے پوری طر ح ختم کرنے کی تجویز تھی لیکن ریگولیٹری اس پر پھر سے کنسلٹیشن پیپر لے آیا تھا جسے دیکھتے ہوئے جیو نے اکتوبر 2019 میں آئی یو سی چارج شروع کیا تھا۔

جیو نے چارج شروع کرتے وقت کہا تھا کہ پچھلے تین سالوں میں وہ آئی یو سی چارج کے طو ر پر 13,500 کروڑ روپے کا بھگتان دوسرے آپریٹروں کو کرچکا ہے۔ پچھلے تین سالوں سے آئی یو سی چارج کا بوجھ گاہکوں پر نہیں ڈال رہے تھے۔ کمپنی نے کہا تھا کہ چارج 31 دسمبر 2019 کے بعد بھی جاری رہنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے مجبوراً اس کا بوجھ گاہکوں پر ڈال رہی ہے۔

ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کو ایک دوسرے کو آئی یو سی چارج کا بھگتان کرنا پڑتا ہے۔ آئی یو سی چارج گراہکوں کے ذریعہ ایک دوسرے نیٹ ورک پر کال کرنے کی وجہ سے دینا پڑتاہے۔ جیسے کہ اگر جیو کے گاہک ایئر ٹیل پر کال کرتا ہے تو جیو کو ایئر ٹیل کو آئی یو سی چارج دینے ہونگے۔ اس کی شرح ٹرائی طے کرتی تھی۔

جیو کے آئی یو سی چارج ختم کرنے سے ملک کے نجی سیکٹر کی سرکردہ کمپنی کے 40 کروڑ سے زیادہ گاہک مستفیض ہونگے۔

کپوارہ: ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری، 5 افراد زخمی، مسجد سمیت کئی مکانوں کو نقصان

0
کپوارہ: ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری، 5 افراد زخمی، مسجد سمیت کئی مکانوں کو نقصان
کپوارہ: ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری، 5 افراد زخمی، مسجد سمیت کئی مکانوں کو نقصان

ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی جبکہ ایک مسجد سمیت کئی مکانوں کو نقصان پہنچا۔

سری نگر: شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول پر ٹنگڈار اور کرناہ سیکٹروں میں بدھ کی شب ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی جبکہ ایک مسجد سمیت کئی مکانوں کو نقصان پہنچا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول پر ٹنگڈار اور کرناہ سیکٹروں میں بدھ کی شب پاکستانی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرکے گولہ باری شروع کردی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی جبکہ ایک مسجد سمیت کئی رہائشی مکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔

مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ وہاں تعینات بھارتی فوجی جوانوں نے حملوں کا بھر پور جواب دیا اور طرفین کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کا سلسلہ رک رک کر رات بھر جاری رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 2003 میں جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی جموں و کشمیر کے سرحدوں پر طرفین کے درمیان ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔

اسے بھی پڑھیں: 

سری نگر کی تاریخی پتھر مسجد میں دوران شب لگی آگ

ارجنٹینا میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے والا قانون منظور

0
ارجنٹینا میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے والا قانون منظور
ارجنٹینا میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے والا قانون منظور

ارجنٹینا کی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے والے قانون کو منظور کر لیا ہے۔ ارجنٹینا میں اس قانون سے پہلے خواتین عصمت دری یا طبی تعلق سے ہی اسقاط حمل کرا سکتی تھیں۔

بیونس آئرس: ارجنٹینا میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے کے لئے طویل عرصے سے جاری جدوجہد کو مدِ نظر رکھتے ہوئےارجنٹینا کی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے والے قانون کو منظور کر لیا ہے۔ ایسا کرنے والا ارجنٹینا پہلا لاطینی امریکی ملک ہے۔ ارجنٹائن میں یہ قانون اس لئے بھی تاریخی ہے کیونکہ ملک کی خواتین طویل عرصے سے اس قانون کو منظور کرنے کا مطالبہ کررہی تھیں، جو اب بالآخر پورا ہو گیا ہے۔ ملک میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے کے لئے اس سے قبل سنہ 2018 میں بھی اس پر بحث ہوئی تھی اور اس وقت کے زیادہ تر اراکین پارلیمنٹ نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

ارجنٹینا کے ایوان میں بارہ گھنٹے جاری بحث کے بعد ہوئی ووٹنگ میں اس بل کے حق میں 38 ووٹ، جبکہ مخالفت میں 29 ووٹ پڑے اور ایک رکن غیر حاضر رہا۔ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ’چیمبر آف ڈپٹیز‘ نے حالانکہ دسمبر کے شروع میں ہی اس بل کی منظوری دے دی تھی اور اس کی صدر البرٹو فرنانڈیز نے بھی حمایت کی تھی۔

ارجنٹینا میں اس قانون سے پہلے خواتین عصمت دری یا طبی تعلق سے ہی اسقاط حمل کرا سکتی تھیں۔ انتہائی بااثر کیتھولک چرچ اور ملک میں بڑھتے انجیلی فرقے نے اس قانون کی مخالفت کی اور اراکین سے صدر کی طرف سے حمایت یافتہ بل کی مخالفت کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

چھٹے دور کی بات چیت: کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز

0
چھٹے دور کی بات چیت: کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز
چھٹے دور کی بات چیت: کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز

حکومت نے کسان رہنماؤں سے چھٹے دور کی بات چیت میں کہا کہ کسانوں کے مطالبات کے بارے میں بیچ کا راستہ نکالنا پڑے گا۔

نئی دہلی: حکومت نے بدھ کو احتجاج کر رہے کسانوں کے مطالبات کے تعلق سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز رکھی اور کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے درمیانی راستہ نکالنا پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے کسان رہنماؤں سے چھٹے دور کی بات چیت میں کہا کہ کسانوں کے مطالبات کے بارے میں بیچ کا راستہ نکالنا پڑے گا۔ ایک کمیٹی تین زرعی اصلاحاتی قوانین کے بارے میں ان کے مطالبات پر غور کرنے کے لیے تشکیل دی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے حالانکہ اس تعلق سے ابھی کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

حکومت نے اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز رکھی تھی جسے کسانوں نے مسترد کردیا تھا۔

اس میٹنگ کے آغاز سے قبل حالانکہ کسان لیڈران نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کی بات پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ اس سے کم انہیں کچھ منظور نہیں ہے۔ میٹنگ سے پہلے مرکزی وزیر پیوش گوئل اور نریندر تومر نے کسانوں کے ساتھ گرودوارے سے لایا گیا لنگر کھایا۔

مزید اسے بھی پڑھیں:

پانچویں دور کی بات چیت ہوگی آج، کسانوں نے بھارت بند کی پکار دیکر بڑھایا دباؤ

گورنر کے خلاف ترنمول کانگریس کے پانچ ارکان پارلیمنٹ نے صدر کو لکھا خط

0
گورنر کے خلاف ترنمول کانگریس کے پانچ ارکان پارلیمنٹ نے صدر کو لکھا خط
گورنر کے خلاف ترنمول کانگریس کے پانچ ارکان پارلیمنٹ نے صدر کو لکھا خط

گورنر کے خلاف خط ایک ایسے وقت میں لکھا گیا ہے کہ جب اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بنگال میں سیاسی ماحول تیز ہے۔ گورنر یومیہ بنگال حکومت کے خلاف تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران پارلیمنٹ جگدیپ دھنکر نے صدر جمہوریہ کو خط لکھ کر گورنر کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر سیاسی تعصب سے کام لے رہے ہیں اور آئین کی کھلے عام خلاف ورزی کررہے ہیں۔

صدر جمہوریہ کو خط لکھنے والوں میں ممبر پارلیمنٹ سندیپ بندو پادھیائے، ڈیریک اوبرائن، کلیان بنرجی، سکھیندر شیکھر رائے اور کاکولی گھوش دستیدار نے مشترکہ طور پر دستخط کرکے صدر جمہوریہ کو خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گورنر ریاستی حکومت کی مشنیری کو مسلسل غیر مستحکم کررہے ہیں۔ گورنر کے خلاف خط ایک ایسے وقت میں لکھا گیا ہے کہ جب اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بنگال میں سیاسی ماحول تیز ہے۔ گورنر یومیہ بنگال حکومت کے خلاف تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ممبران پارلیمنٹ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ گورنر لگاتار وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمو ل کانگریس کے خلاف مسلسل بیانات اور ٹوئیٹس کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سےلا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے رجحانات ایک آئینی سربراہ کو زیب نہیں دیتا ہے۔ گورنر کا کھلے عام ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں اقدام کرنا ملک وفاقی ڈھانچہ کے لئے نقصان دہ ہے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ گورنر الیکشن کمیشن اور کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل جیسے آزادانہ ادارے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

گورنر کا ممتا بنرجی سے معافی مانگنے کا مطالبہ سنگین جرم

اسی مہینے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر حملے کے بعد گورنر کے ذریعہ اس واقعے پر ممتا بنرجی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرنا نامناسب اور سنگین غلطی ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ گورنر نے ریاستی اسمبلی کو بھی نہیں بخشا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی سے پاس متعدد بلوں پر دستخط کرنے سے وہ انکار کررہے ہیں۔ وہ نہ صرف بلوں پر دستخط نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ اسپیکر سے بھی وضاحت طلب کرتے ہیں۔ اس کے ذریعہ وہ اسپیکر کے عہدہ کی توہین کررہے ہیں۔ یہ ریاستی اسمبلی کی خودمختاری کی براہ راست توہین اور حملہ ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی گورنر ممتا بنرجی اور ان کی حکومت کے خلاف تنقید کررہے ہیں۔ دونوں کے درمیا ن تعلقات انتہائی کشیدہ ہے۔ دوسری جانب اس پورے معاملے میں گورنر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر اپنے آئینی پیرامیٹر کے تحت کام کرتے ہیں۔ ترنمو ل کانگریس اس سے خوفز دہ ہے۔ کیلاش وجے ورگی نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کے خط سے گورنر کو ہٹایا جائے گا۔

اسے بھی پڑھیں:

 

سلی گوڑی احتجاج: پولیس کے بجائے بی جے پی کے لوگوں نے اپنے ہی ورکر ایلن رائے کو ماری گولی: سبرتو مکھرجی