بدھ, ستمبر 30, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 414

ایران کے نیوکلائی سائنسدان کے قتل میں ملوث افراد کی شناخت ہوگئی ہے: بریگیڈیئر جنرل سعید شعبانین

0
ایران کے ٹاپ جوہری سائنسدان کے قتل میں ملوث افراد کی شناخت ہوگئی ہے: بریگیڈیئر جنرل سعید شعبانین
ایران کے ٹاپ جوہری سائنسدان کے قتل میں ملوث افراد کی شناخت ہوگئی ہے: بریگیڈیئر جنرل سعید شعبانین

نیوکلائی سائنسدانسائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل میں ملوث تمام افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔ انہیں گرفتار کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مجرموں کو کڑی سزا دی جائے گی۔

تہران: ایران کی وزارت دفاع کے نائب کوآرڈینیٹر بریگیڈیئر جنرل سعید شعبانین نے کہا ہے کہ نیوکلائی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل میں ملوث تمام افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔

تسنیم خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز مسٹر شعبانین کے حوالے سے بتایا ہے کہ سائنسدان کے قتل میں ملوث تمام افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔ انہیں گرفتار کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ مجرموں کو کڑی سزا دی جائے گی۔

اس سے قبل ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عامر حتامی نے کہا تھا کہ ایران کے پاس سینئر سائنسدان کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے کافی ثبوت ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال 27 نومبر کو تہران کے نزدیک نیوکلائی سائنسدان محسن فخری زادے کا قتل کر دیا گیا تھا۔

مزید معلومات کے لیے اسے  پڑھیں:

محسن فخری زادہ: ایران کے ٹاپ جوہری سائنسداں کا قتل

این سی پی کا حکومت سے شہید کسانوں کے اہل خانہ کو نوکری اور 50 لاکھ روپے کا معاوضے دینے کا مطالبہ 

0
این سی پی کا حکومت سے شہید کسانوں کے اہل خانہ کو نوکری اور 50 لاکھ روپے کا معاوضے دینے کا مطالبہ 
این سی پی کا حکومت سے شہید کسانوں کے اہل خانہ کو نوکری اور 50 لاکھ روپے کا معاوضے دینے کا مطالبہ 

این سی پی کے جنرل سکریٹری کے شرما نے کہا کہ کسان تحریک مکمل طور پر کسانوں کا ہے اور اس میں کسی سیاسی پہلو کو تلاش نہیں کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں حکومت کی طرف سے جو الزام لگائے جارہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔ لاکھوں کسان بھائیوں نے اپنی اس کسان تحریک کو منظم، پر امن اور غیر متشدد رکھا ہے جس کے کروڑوں بھائی قابل ستائش ہیں۔

نئی دہلی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے کسان تحریک کے دوران شہید ہونے والے کسانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ,50 – 50 لاکھ روپے کے معاوضہ دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ ان شہید ہونے والوں کے رشتہ داروں کو سرکاری نوکریاں دی جائیں۔

پارٹی کے جنرل سکریٹری کے کے شرما نے یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کسان تحریک کی حمایت کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کسانوں کی فصل کی مناسب قیمت پر خریداری کو یقینی بنانے کے لئے کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) کو قانونی درجہ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے قومی صدر شرد پوار کا عہد ہمیشہ کسانوں کے ساتھ رہا ہے اور کسانوں کی فلاح و بہبود اور کسان تحریک کی حمایت میں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مسٹر پوار مرکز میں زراعت کے وزیر تھے تو انہوں نے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے معتدد فلاحی منصوبے نافذ کئے تھے اور قومی سطح پر کسانوں کے قرض کے ایک لاکھ کروڑ روپے معاف کئے تھے۔

تحریک کو پرامن رکھنے کے لیے کروڑوں کسان بھائی قابل ستائش

انہوں نے کہا کہ لاکھوں کسان بھائیوں نے اپنی اس کسان تحریک کو منظم، پر امن اور غیر متشدد رکھا ہے جس کے کروڑوں بھائی قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سخت ترین سردی کے موسم میں بھی کسان بھائی اپنی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کسان تحریک مکمل طور پر کسانوں کا ہے اور اس میں کسی سیاسی پہلو کو تلاش نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں حکومت کی طرف سے جو الزام لگائے جارہے ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کسان بھائیوں کے ساتھ ہیں اور آنے والے وقت میں کسانوں کے مفادات کے خلاف ہونے والے کسی بھی معاملے میں خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

بدایوں: مہنت بابا نے اپنے پیروکار کے ساتھ مل کر 50 سالہ خاتون کا عصمت دری کے بعد کیا قتل

0
بدایوں: مہنت بابا نے اپنے پیروکار کے ساتھ مل کر 50 سالہ خاتون کا عصمت دری کے بعد کیا قتل
بدایوں: مہنت بابا نے اپنے پیروکار کے ساتھ مل کر 50 سالہ خاتون کا عصمت دری کے بعد کیا قتل

50 سالہ خاتون کے ساتھ درندگی معاملے میں پولیس نے دو ملزمین کو رات میں ہی گرفتار کرلیا ہے، جبکہ فرار ملزم مندر کے مہنت کو پوری سرگرمی سے پولیس تلاش کررہی ہے۔

بدایوں: اترپردیش کے ضلع بدایوں کے اگھوتی علاقے میں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری و قتل معاملے میں پولیس نے دو ملزمین کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر ایک کو پوری سرگرمی سے تلاش کررہی ہے۔ اس معاملے میں لاپرواہی برتنے کے پاداش میں تھانہ انچارج کو معطل کردیا گیا ہے۔

سینئر سپرنٹدنٹ آف پولیس سنکلپ شرما نے بتایا کہ اگھوتی علاقے میں ایک 50 سالہ خاتون کی مشتبہ حالت میں موت کے ضمن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں ابتدائی جانچ میں لاپرواہی برتنے کے پاداش میں تھانہ انچارج کو معطل کردیا گیا۔

مسٹر شرما نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خاتون کے پیر میں فرکچر اور پرائیویٹ پارٹ میں چوٹ کے نشان پائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو ملزمین وید رام اور جسپال کو رات میں ہی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جبکہ فرار ملزم مندر کے مہنت کو گرفتار کرنے کے لئے چار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں بہت جلد ہی مندر کے مہنت کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو چین میں داخلے کی اجازت نہیں ملی

0
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو چین میں داخلے کی اجازت نہیں ملی
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو چین میں داخلے کی اجازت نہیں ملی

ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ آج ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چینی حکام نے ابھی تک ٹیم کو چین کے دورے کی حتمی اجازت نہیں دی ہے۔ مجھے اس خبر سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔

ٹوکیو: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈنوم گیبریس نے کہا ہے کہ ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم کے ممبروں کو کورونا وائرس کی ابتدائی مطالعہ کے لئے چین میں داخل ہونے کے لئے حتمی منظوری نہیں ملی ہے۔

مسٹر ٹیڈروس نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’’آج ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چینی حکام نے ابھی تک ٹیم کو چین کے دورے کی حتمی اجازت نہیں دی ہے۔ مجھے اس خبر سے بہت مایوسی ہوئی ہے کہ دو ممبران نے اپنا سفر شروع کردیا تھا اور دیگر کو آخری لمحے تک اجازت نہیں ملی‘‘۔ 

مسٹر ٹیڈروس نے کہا کہ ٹیم چین میں کورونا وائرس کی اصل کی تحقیقات کرے گی اور معلوم کرے گی کہ ملک میں وباء کے ابتدائی مراحل کے دوران کیا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے چینی حکام سے چین میں ٹیم کے داخلے کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے تاکہ مشن جلد سے جلد شروع ہوسکے۔ انہوں نے کہا ’’ہم سینئر چینی عہدیداروں سے رابطے میں ہیں اور ہم نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مشن ڈبلیو ایچ او اور بین الاقوامی ٹیم کی ترجیح ہے۔‘‘

ہانگ کانگ میں متعدد قانونی ماہرین اور اپوزیشن رہنما گرفتار

0
ہانگ کانگ میں متعدد قانونی ماہرین اور اپوزیشن رہنما گرفتار
ہانگ کانگ میں متعدد قانونی ماہرین اور اپوزیشن رہنما گرفتار

ہانگ کانگ میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، انہوں نے گزشتہ جولائی میں ہوئے مقامی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور ستمبر میں صوبائی الیکشن سے پہلے جمہوریت کے حامی امیدواروں کے لئے مظاہرہ کیا تھا۔

بیجنگ: ہانگ کانگ میں قومی سلامتی قانون کی خلاف ورزی کے شبہ میں کئی سابق قانون کے ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کو بدھ کی صبح گرفتار کرلیا گیا۔

چین کی جانب سے پچھلے سال قومی سلامتی قانون نافذ کئے جانے کے بعد پولیس کی یہ اب تک کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، انہوں نے گزشتہ جولائی میں ہوئے مقامی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور ستمبر میں صوبائی الیکشن سے پہلے جمہوریت کے حامی امیدواروں کے لئے مظاہرہ کیا تھا۔ ان میں سابق ڈیموکریٹک پارٹی کے ماہر قانون جیمس ٹو، اینڈریو وان اور لام چیؤک – ٹنگ بھی شامل ہیں، جو کہ پچھلے سال کے آخر تک قانون ساز کونسل کے رکن تھے۔

اب ریاستی اسپتالوں میں علاج کے لئے اسمارٹ کارڈ ہی کافی، ممتا نے خود لائن میں کھڑے ہوکر لیا ہیلتھ اسکیم کارڈ

0
اب ریاستی اسپتالوں میں علاج کے لئے اسمارٹ کارڈ ہی کافی، ممتا نے خود لائن میں کھڑے ہوکر لیا ہیلتھ اسکیم کارڈ
اب ریاستی اسپتالوں میں علاج کے لئے اسمارٹ کارڈ ہی کافی، ممتا نے خود لائن میں کھڑے ہوکر لیا ہیلتھ اسکیم کارڈ

حکومت کے مطابق بنگال میں 7.5 کروڑ افراد کو ہیلتھ پارٹنر کارڈ کے تحت لایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کارڈ لینے کے لئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آن لائن فارم کو بھرنے سے آپ کو سب کچھ مل جائے گا۔

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے’’حکومت آپ کے دروازے پر‘‘ مہم کے تحت ریاست کی اہم میڈیکل انشورنس ’’سواتھیہ ساتھی‘‘ اسکیم کے بنانے کے لئے مرکز کا منگل کی صبح ساڑھے گیارہ بجے کے قریب وزیر اعلی ممتا بنرجی، ہریش مکھرجی اسٹریٹ پر واقع جئے ہند بھون پہنچ کر معائنہ کیا ہے۔

اس موقع پر پولیس کمشنر انوج شرما، چیف سکریٹری الاپن بنرجی، بلدیہ امور کے وزیر فرہاد حکیم اور دیگر لیڈران اور افسران موجود تھے۔ حکومت نے ہر وارڈ میں کیمپ لگائے گئے ہیں۔ وارڈ نمبر 13 میں واقع اس کیمپ میں وزیر اعلی ممتا بنرجی نے عام لوگوں کے ساتھ لائن میں کھڑے ہوکر اپنا کارڈ لیا۔

وزیرا علیٰ کے سامنے تین افراد کھڑے تھے۔ ان سب کے کارڈ لینے کے بعد ہی ممتا نے اپنا کارڈ لیا ہے۔ کارڈ لینے سے پہلے بہت سارے طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے جیسے تصاویر، انگوٹھے کے نشان وغیرہ دینا پڑتا ہے۔ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے بھی بذات خود تمام کارروائی میں حصہ لیا۔

ریاست کے مختلف اسپتالوں میں علاج کے لئے اب اسمارٹ کارڈ ہی کافی

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لوگوں کو ریاست کے مختلف اسپتالوں میں علاج کے لئے رقم لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف اسمارٹ کارڈ لے جانے سے ہی علاج ہوگا۔

حکومت کے مطابق بنگال میں 7.5 کروڑ افراد کو ہیلتھ پارٹنر کارڈ کے تحت لایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کارڈ لینے کے لئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آن لائن فارم کو بھرنے سے آپ کو سب کچھ مل جائے گا۔ اس کا نام لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، موبائل کارڈ ڈاؤن لوڈ کرکے وہ کارڈ پایا جاسکتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ممتا بنرجی نے بنگال میں مرکزی حکومت کی صحت اسکیم ’’ایوشمان بھارت ہیلتھ انشورنس اسکیم‘‘ کو نافذ نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے ان پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ اس پر ممتا بنرجی نے کہا کہ انہوں نے ریاست کے لوگوں کے لئے ہیلتھ پارٹنر اسکیم کو پہلے ہی نافذ کیا ہے۔ اب پوری ریاست میں اس کارڈ کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ اس کے لئے کیمپ لگائے گئے ہیں۔

کسانوں کی تحریک 41 ویں دن بھی جاری، مطالبات پورے ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

0
کسانوں کی تحریک 41 ویں دن بھی جاری، مطالبات پورے ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
کسانوں کی تحریک 41 ویں دن بھی جاری، مطالبات پورے ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

دارالحکومت میں کسانوں کی تحریک 41 ویں روز بھی جاری ہے۔  گزشتہکل کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کے ہوئے مذاکرات میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحات سے متعلق تینوں قوانین کو واپس لینے اور فصلوں کی کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) کو قانونی درجہ دینے کے مطالبہ پر کسان تنظیموں کی تحریک قومی دارالحکومت میں منگل کو 41 ویں روز بھی جاری رہی۔

گزشہ تین دنوں سے خراب موسم کے باوجود کسان تنظیموں کے لیڈر اور کارکنان دارالحکومت کی سرحدوں پر دھرنا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کسان تنظیموں نے اپنے مطالبات کو پورا ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس تحریک کو مختلف تنظیموں کی بھی حمایت مل رہی ہے۔

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ

اس درمیان کل کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کے ہوئے مذاکرات میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ مذاکرات کے بعد وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ بات چیت بہت ہی اچھے ماحول میں ہوئی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ مسئلے کا حل جلد ہی ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے مجموعی مفاد کو مدنظر رکھ کر زرعی اصلاحات قوانین کو بنایا ہے اور اس سے اگر انہیں کوئی پریشانی ہورہی ہے تو حکومت اس پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔

کسان تنظیمیں زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لینے پر بضد

مسٹر تومر نے کہا کہ کسان تنظیمیں زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لینے پر بضد ہیں جبکہ حکومت ان پر نقطہ وار بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ جنوری کو ہونے والی میٹنگ معنی خیز ہوگی اور وہ حل تک پہنچیں گے۔ دونوں فریق کے مابین اتفاق کے بعد بات چیت کی اگلی تاریخ آٹھ جنوری طے کی گئی ہے۔

کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ حکومت زرعی اصلاحات قوانین پر نقطہ وار بات چیت کرنا چاہتی ہے اور اس کا ارادہ قانون میں ترمیم کا ہے جبکہ کسان تنظیمیں ان تینوں قوانین کو واپس کیے جانے پر بضد ہیں۔

گزشتہ دورکی بات چیت میں بجلی کے چارجز پر دی جارہی سبسڈی میں تبدیلی نہ کرنے اور پرالی جلانے والے کسانوں پر کارروائی نہ کیے جانے کے معاملے پر کسانوں اور حکومت کے درمیان اتفاق ہوگیا تھا۔ لیکن زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لینے اور ایم ایس پی کو قانونی درجہ دئے جانے پر تعطل برقرار ہے۔

مرکزی حکومت کے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی

0
مرکزی حکومت کے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی
مرکزی حکومت کے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی

عدالت نے گزشتہ 7 دسمبر کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کو منظوری دے دی تھی، لیکن موجودہ ڈھانچے میں کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کو فیصلہ آنے تک روک دیا تھا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کے اہم ’سنٹرل وسٹا‘ پروجیکٹ کو منگل کے روز ہری جھنڈی دے دی۔

جسٹس اے ایم خانولکر، جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بینچ نے 1:2 اکثریت کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ کو وزارت ماحولیات کی جانب سے دی گئی ہری جھنڈی میں کوئی بے ضابطگی نظر نہیں آتی۔ جسٹس خانولکر اور جسٹس مہیشوری نے بھی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ زمین استعمال میں تبدیلی کے نوٹیفکیشن کو درست ٹھہرایا جبکہ جسٹس کھنہ نے اس پر عدم اتفاق ظاہر کیا۔ اس پروجیکٹ کے خلاف پانچ عرضیاں دائر کی گئی تھی، جن میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے زمین استعمال تبدیل کرنے کے نوٹیفکیشن اور ماحولیاتی خدشات کو نظرانداز کرنے وغیرہ معاملے شامل تھے۔

عدالت نے طویل سماعت کے بعد گذشتہ سال 5 نومبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ 7 دسمبر کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کو منظوری دے دی تھی، لیکن موجودہ ڈھانچے میں کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کو فیصلہ آنے تک روک دیا تھا۔

جنرل توشار مہتا نے مانگی تھی معافی

جسٹس خانوِلکر نے معاملے کا حتمی نمٹارہ نہ ہونے کے باوجود تعمیراتی کام آگے بڑھانے کے تعلق سے گہری ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور سالسٹر جنرل توشار مہتا سے کہا تھا ’’کوئی روک نہیں ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ہر چیز کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں‘‘۔ بینچ کی ناراضگی کا سامنا کرتے ہوئے سالسٹر جنرل نے حکومت سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے ایک دن کا وقت مانگا تھا، لیکن عدالت نے اسی دن سرکار سے بات چیت کر کے واپس آنے کے لئے کہا تھا اور کچھ دیر کے لئے سماعت روک دی تھی۔ تھوڑی دیر بعد مسٹر مہتا واپس آ گئے تھے اور معافی مانگتے ہوئے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ کوئی تعمیر، توڑ پھوڑ یا پیڑوں کی کٹائی نہیں ہوگی۔ سنگ بنیاد رکھا جائے گا، لیکن کوئی اور تبدیلی نہیں ہوگی۔

جسٹس خانولکر نے مسٹر مہتا کا بیان ریکارڈ پر لیتے ہوئے حکم دیا کہ 10 دسمبر کو سنگ بنیاد رکھنے کا پروگرام جاری رہے گا، لیکن کوئی اور تعمیراتی کام نہیں ہوگا۔

امریکہ نے فرانسیسی بینک پر 85 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا عائد

0
امریکہ نے فرانسیسی بینک پر 85 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا عائد
امریکہ نے فرانسیسی بینک پر 85 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا عائد

امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ اس فرانسیسی بینک نے مبینہ طور پر امریکی نامزد شامی اداروں کی طرف سے مالی لین دین کیا ہے، جس میں امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے منتقلی بھی شامل ہے۔

واشنگٹن: امریکہ نے شام کے خلاف عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملے میں فرانسیسی بینک پر 85 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پیر کو یہاں جاری ریلیز میں بتایا گیا کہ محکمہ خزانہ کے فارن ایسٹس کنٹرول (او اے ایف اے سی) کے دفتر نے آج فرانس میں واقع یونین ڈی بینس عربس ایٹ فرانسیسی بینک (یو بی ایف)، جو یورپ اور مغربی ایشیاء، شمالی افریقہ اور افریقہ اور ایشیا کے مابین تجارت کے لئے سہولت فراہم کرتا ہے، پر شام سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر تقریبا 85 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

محکمہ نے کہا کہ اس بینک نے مبینہ طور پر امریکی نامزد شامی اداروں کی طرف سے مالی لین دین کیا ہے، جس میں امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے منتقلی بھی شامل ہے۔

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ

0
کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ
کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ کسانوں کی تنظیمیں گذشتہ 40 دن سے قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ پچھلے دو دن سے بارش کے باوجود، ان کا احتجاج جاری ہے۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحات سے متعلق تینوں قوانین کو واپس لینے اور فصلوں کی کم از کم سہارا قمیت [ایم ایس پی] کو قانونی درجہ دینے کے مطالبے کے سلسلے میں پیر کو کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

تقریبا تین گھنٹوں کی بات چیت کے بعد، کسان رہنما راکیش ٹکیٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت زرعی اصلاحات کے قوانین پر نکتہ وار بات چیت کرنا چاہتی ہے اور اس کا ارادہ اس قانون میں ترمیم کرنے کا ہے، جبکہ کسان تنظیمیں ان تینوں قوانین کو واپس لئے جانے پر قائم ہیں۔ حکومت اور کسانوں کے مابین اگلی میٹنگ 8 جنوری کو ہوگی۔

مسٹر ٹکیٹ نے کہا کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر تینوں قوانین پر بار بار نکتہ وار بات کرنے پر اصرار کرتے رہے جس کی وجہ سے تعطل قائم رہا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں قوانین واپس لئے جانے تک کسانوں کی انجمنوں کا احتجاج جاری رہے گا۔

کسانوں کی تنظیمیں گذشتہ 40 دن سے قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ پچھلے دو دن سے بارش کے باوجود، ان کا احتجاج جاری ہے۔

پچھلے دور میں ہونے والی بات چیت میں، کسانوں اور حکومت کے مابین بجلی کے نرخ پر سبسڈی دینے اور پرالی جلانے والے کسانوں پر کارروائی نہ کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا تھا لیکن زرعی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے اور ایم ایس پی کو قانونی حیثیت دینے پر تعطل قائم رہا تھا۔