جمعرات, جولائی 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 406

امریکہ: کانگریس بلڈنگ پر حملے اور ڈیموکریٹ رکن کانگریس کو قتل کی دھمکی

0

ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے گیریٹ ملر نے اگلی بار بندوق لے کر کیپٹل عمارت میں داخل ہونے کی دھمکی دی۔

واشنگٹن: کانگریس بلڈنگ پر حملے اور ڈیموکریٹ رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کو قتل کی دھمکی دینے والے دائیں بازو کے انتہا پسند پر 5 الزامات عائد کردیئے گئے۔

ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے گیریٹ ملر نے دھمکی دی تھی کہ اگلی بار وہ بندوقوں کے ساتھ کیپٹل عمارت میں داخل ہوگا۔

الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کا انتہا پسندوں سے آمنا سامنا بھی ہوا تھا، رکن کانگریس نے کہا تھا انہیں ایسا محسوس ہوا کہ موت سر پر آگئی ہے۔

دہلی ہی دارالحکومت کیوں؟ کلکتہ سمیت ملک کے چار شہروں کو دارالحکومت قرار دیا جائے: ممتا بنرجی

0
دہلی ہی دارالحکومت کیوں؟ کلکتہ سمیت ملک کے چار شہروں کو دارالحکومت قرار دیا جائے: ممتا بنرجی
دہلی ہی دارالحکومت کیوں؟ کلکتہ سمیت ملک کے چار شہروں کو دارالحکومت قرار دیا جائے: ممتا بنرجی

نیتاجی سبھاش چندر بوس کے یوم پیدائش کے موقع پر ایک عظیم پد یاترا کی قیادت کرنے کے بعد ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم ایک عرصے سے مطالبہ کررہے ہیں کہ نیتا جی کے یوم پیدائش پر قومی تعطیل قرار دیا جائے۔ مگر اس کے باوجود قومی تعطیل نہیں قرار دیا جارہا ہے۔

کلکتہ: نیتاجی سبھاش چندر بوس کے یوم پیدائش کے موقع پر ایک عظیم پد یاترا کی قیادت کرنے کے بعد ممتا بنرجی نے آج مرکزی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اختیارات کی تمام حدیں صرف دہلی تک محدود نہیں کی جائے گی بلکہ ملک کی چار راجدھانی ہوں اور ان میں ایک کلکتہ میں بھی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اقتدار کا ارتکاز ہونا چاہیے اور چار دارلحکومتوں میں پارلیمانی اجلاس منعقد ہونی چاہیے۔

ممتا کی تجویز کے مطابق کلکتہ کے ساتھ جنوبی ہندوستان، شمالی ہندوستان اور شمال مشرقی ہندوستان کے کسی ایک ایک شہر کو دارالحکومت قرار دیا جانا چاہئے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ کیرالہ، اترپردیش، سنٹرل ہندوستان اور مدھیہ پردیش اور شمالی مشرقی ہندوستان کے کسی ایک کو دارالحکومت قرار دینا چاہیے۔

کوئی دو صفحے کی کتاب پڑھ کر نیتا جی کو نہیں جان سکتا ہے

ممتا بنرجی نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد بنگال، بہار سے شروع ہوئی تھی گاندھی بلیا گھاٹ آکر احتجاج کرتے تھے۔ بنگال نے سماجی اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مغربی بنگال کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ کوئی دو صفحے کی کتاب پڑھ کر نیتا جی کو نہیں جان سکتا ہے۔

نیتا جی کی سالگرہ کے موقع پر ممتا نے شیام بازار سے ریڈ روڈ تک مارچ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ریڈ روڈ پر منعقد میٹنگ سے نیتا جی کو نظرانداز کرنے پر مرکز ی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرکز نے نیتاجی سبھاش چندر بوس کو نظرانداز کیا ہے۔ ہم ایک عرصے سے مطالبہ کررہے ہیں کہ نیتا جی کے یوم پیدائش پر قومی تعطیل قرار دیا جائے۔ مگر اس کے باوجود قومی تعطیل نہیں قرار دیا جارہا ہے۔ ممتا بنرجی نے سوال کیا کہ نتیا جی کے نام منسوب بندرگاہ کا نام شیام پرساد مکھرجی کے نام پر کیوں رکھا گیا۔

ممتا بنرجی نے شروع کی ایک نئی سیاسی بحث

ایک ایسے موقع پر وزیر اعظم کلکتہ دورے پر ہیں اور یہ سب اسمبلی انتخابات سے قبل ہورہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے ایک نئی سیاسی بحث شروع کردیا ہے۔ کلکتہ ہندوستان کا ایک عرصے 1911 تک ملک کا دارالحکومت رہا ہے۔

سیاسی ماہرین ممتا بنرجی کے اسمبلی انتخابات سے قبل کلکتہ کو ملک کا دارالحکومت قرار دینے کے مطالبے کو سیاسی اسٹینڈ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ذریعہ ریاست کے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش ہے دوسری طرف ممتا بنرجی نے ملک کے دیگر حصوں میں دارالحکومت قرار دے کر دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ممتا بنرجی نے ممبر پارلیمنٹ سدیپ بندو پادھیائے کو اس معاملے میں دہلی میں سوال اٹھانے کی ہدایت دی ہے۔

تاہم مرکزی وزیر بابل سپریہ نے وزیر اعلی کے مطالبے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لائق اعتنا نہیں ہے۔

جو بائیڈن کی اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر ملکی لیڈران میں سب سے پہلے جسٹن ٹروڈو سے گفتگو

0
جو بائیڈن کی اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر ملکی لیڈران میں سب سے پہلے جسٹن ٹروڈو سے گفتگو

امریکی صدر کے منصب پر فائز ہونے کے بعد جو بائیڈن کی سب سے پہلے کناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے بات کی۔ انہوں نے امریکہ-کناڈا تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی اور ایک اہم اور جامع کارکردگی کی ایجنڈے پر دو طرفہ تعاون کی مضبوطی پر زور دیا۔

واشنگٹن: امریکی صدر کے منصب پر فائز ہونے کے بعد مسٹر جو بائیڈن نے غیر ملکی لیڈران میں سب سے پہلے کناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے بات کی۔ وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعہ کی دیر شب جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر بائیڈن نے کناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ امریکہ کے صدر کے بطور سب سے پہلے بات کی۔

انہوں نے امریکہ-کناڈا تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی اور ایک اہم اور جامع کارکردگی کی ایجنڈے پر دو طرفہ تعاون کی مضبوطی پر زور دیا۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کووڈ-19 کی عالمی وبا پر تعاون، آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے، معاشی اور دفاعی تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی قیادت کو مضبوط کرنے سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔

مسٹر بائیڈن نے کینسٹون ایکس ایل پائپ لائن کے لئے اجازت نامہ منسوخ کرنے کے فیصلے کے بارے میں کناڈائی وزیراعظم کی ’مایوسی‘ محسوس کی۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آب و ہوا پالیسی

صدر کی حیثیت سے مسٹر بائیڈن کا پہلا کام متنازعہ تیل پائپ لائن کی تعمیر کو ملتوی کرنا تھا۔ پروجیکٹ کو روزانہ 800000 بیرل تیل کو البرٹا کے ٹار ریت سے امریکی ریاستوں کے کئی ممالک میں لے جانے کا اندازہ تھا۔ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آب و ہوا پالیسی پر ایک یوٹرن لینے کا وعدہ کیا۔

پائپ لائن کو رد کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے ایگزیکٹو آرڈرز کی اپنی پہلی جھڑی میں ملک کو پیرس معاہدے میں دوبارہ شامل کردیا۔ مسٹر بائیڈن (78) نے بدھ کو ایک تاریخی تقریب میں امریکہ کے 46 ویں صدر کے طور پر حلف لیا۔ ڈیموکریٹک لیڈر کو چیف جسٹس جان رابرٹ نے کیپٹل بلڈنگ کے ’ویسٹ فرنٹ‘ میں عہدے اور رازداری کی حلف دلائی۔ ان سے پہلے کملا ہیرس نے ملک کی پہلی خاتون نائب صدر کی حیثیت سے حلف لیا۔ وہ ملک کی 49 ویں نائب صدر ہیں۔

مسٹر بائیڈن نے حلف برداری کے بعد کہاتھا ’’ہم امریکہ کو متحد کریں گے۔ یہ جمہوریت کا دن ہے، یہ امریکہ کا دن ہے۔ یہ امید، دوبارہ کھڑے ہونے اور چیلنج سے نمٹنے کا دن ہے۔ امریکہ میں ہرشخص کی آواز سنی جائے گی۔ امریکہ تقسیم، مذہبی امتیاز، نسل پرستی کوخارج کرکے اپنا متحدہ چہرہ پیش کرے گا۔

جموں وکشمیر انتظامیہ اقلیتی طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے: محبوبہ مفتی

0
جموں وکشمیر انتظامیہ اقلیتی طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے: محبوبہ مفتی
جموں وکشمیر انتظامیہ اقلیتی طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے: محبوبہ مفتی

جموں میں مسلم اکثریتی علاقوں میں انہدامی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں جبکہ اصلی لینڈ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جار ہی ہے۔

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر انتظامیہ پر جموں میں اقلیتی فرقے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں میں مسلم اکثریتی آبادی والے علاقوں میں انہدامی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں جبکہ اصلی لینڈ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔

ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا: ’جموں وکشمیر انتظامیہ اقلیتی فرقوں کو سزا دینے میں مصروف عمل ہے۔ جموں میں مسلم اکثریتی علاقوں میں انہدامی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں جبکہ اصلی لینڈ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جار ہی ہے۔ اس حکومت کے ہر اقدام سے فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز سیاست چھلکتی ہے‘۔

بتادیں کہ جموں کے سنجوان علاقے میں جمعہ کے روز جموں میونسپل کارپوریشن کی انہدامی کارروائیوں کے دوران تشدد بھڑک اٹھا جس کے نتیجے میں کارپوریشن کے دو ڈرائیور اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

اسے بھی پڑھیں:

کیا اصلاحات کے لیے بھارت کی جمہوریت صحت مند ہونے کی بجائے حد سے زیادہ ہوگئی ہے؟

طالبان امن معاہدے کا بائیڈن انتظامیہ لے گی جائزہ

0
طالبان امن معاہدے کا بائیڈن انتظامیہ لے گی جائزہ
طالبان امن معاہدے کا بائیڈن انتظامیہ لے گی جائزہ

اگلے ماہ فروری میں امریکہ-طالبان معاہدے کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حقیقت کا تجزیہ کیا جائے گا کہ کیا طالبان اپنے وعدوں پر کھرا اترا ہے۔

واشنگٹن: امریکہ کے قومی سلامتی کے صلاح کار جیک سُلیوان نے افغانستان میں اپنے ہم منصب حمد اللہ محب سے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا جائزہ لے گی۔ 

امریکی صدر دفتر ہیڈ کوارٹر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں یہ اطلاع دی گئی۔ 

مسٹر سُلیوان اور مسٹر محب کے درمیان بات چیت کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا، ’مسٹر سُلیوان نے واضح کر دیا ہے کہ اگلے ماہ فروری میں امریکہ-طالبان معاہدے کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حقیقت کا تجزیہ کیا جائے گا کہ کیا طالبان اپنے وعدوں پر کھرا اترا ہے‘۔

 بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ان حقائق کا جائزہ لے گا کہ کیا طالبان باغیوں کو دہشت گرد گروہ سے علاحدہ کرنے اور افغان حکومت کے ساتھ بات چیت میں شامل ہونے سے متعلق معاہدے کی شرائط کی پاسداری کر رہا ہے۔

ووٹر لسٹ میں روہنگیائی اور بنگلہ دیشی شہریوں کے نام شامل ہونے کے کوئی ثبوت نہیں: چیف الیکشن کمشنر

0
ووٹر لسٹ میں روہنگیائی اور بنگلہ دیشی شہریوں کے نام شامل ہونے کے کوئی ثبوت نہیں: چیف الیکشن کمشنر
ووٹر لسٹ میں روہنگیائی اور بنگلہ دیشی شہریوں کے نام شامل ہونے کے کوئی ثبوت نہیں: چیف الیکشن کمشنر

بی جے پی کے ذرریعہ ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر روہنگیائی اور بنگلہ دیشی شہریوں کے نام شامل ہونے کے الزامات سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی نظر ثانی نہیں کی جائے گی۔

کلکتہ: چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے آج مغربی بنگال اسمبلی میں پرامن انتخابات کرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ تین دنوں میں ریاست میں امن وامان کی صورت حال اور ریاستی انتظامیہ کے اعلی افسران چیف سیکریٹری، داخلہ سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس لا اینڈ آرڈر اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ میٹنگ کی ہے اور ہماری نظر ریاست کی صورت پر حال ہے۔

الیکشن کمشنر نے کہا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات پر کل سنیچر کو نئی دہلی میں ایک اہم میٹنگ ہوگی جس میں کئی اہم فیصلے لئے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن کے فل بنچ نے بتایا کہ آسام اور بنگال کے دو روزہ دورے کے دوران تمام فریقوں نے انتخابات کے دوران تشدد کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ بیشتر سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو مرکزی فورسیس کی نگرانی میں انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد سیاسی جماعتوں نے اشتعال انگیز نعروں کی شکایت کی ہے۔

سیاسی جماعتوں کا پولنگ اسٹیشنوں کے اندر ویب کاسٹنگ اور ویڈیو گرافی کا مطالبہ

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ان سے ملنے والی سیاسی جماعتوں نے پولنگ اسٹیشنوں کے اندر ویب کاسٹنگ اور ویڈیو گرافی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران کچھ جماعتوں نے مرکزی مبصرین کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر اروڑہ نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کی پالیسی ہے کہ اس ریاست سے وابستہ کسی بھی افسر کو مبصر نہیں بنایا جاتا ہے۔ الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 2-2 خصوصی مبصرین کو مغربی بنگال اور تریپورہ بھیجا گیا ہے۔ ان میں سے ایک امن و امان کی صورتحال پر نگاہ رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مبصرین کی حیثیت سے مقرر کردہ افراد بہت قابل اور تجربہ کار افسر ہیں۔

الیکشن کمشنر نے مغربی بنگال میں نوٹیفکیشن سے قبل مرکزی فورسیس کی تعیناتی سے متعلق مطالبات آئے ہیں مگر اس سے متعلق ہر قدم قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے گا اور تین مہینے قبل مغربی بنگال میں مرکزی فورسیس کی تعیناتی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دہلی میں بیٹھ کر ریاست کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لا اینڈ آرڈر سے سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے درمیان میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ بحال کئے گئے گرین پولیس، سٹی پولیس کے اہلکاروں کو تعینات نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان اہلکاروں کی تعینات اسمبلی میں بل پیش کرکے نہیں کیا گیا ہے۔

ووٹر لسٹ کی نظر ثانی نہیں کی جائے گی

بی جے پی کے ذرریعہ ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر روہنگیائی اور بنگلہ دیشی شہریوں کے نام شامل ہونے کے الزامات سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی نظر ثانی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ میں یہ بات آئی تھی مگر ہم نے ان سے کہا تھا کہ اگر ان کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پیش کریں۔ صرف الزامات لگائے جانے سے کارروائی نہیں ہوگی۔

ترنمول کانگریس کے ذریعہ بی ایس ایف پر لگائے گئے الزام پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بی ایس ایف بہت ہی ذمہ دار مرکزی فورسیس ہے اور سرحد کی نگرانی کرتی ہے اور انہیں اپنے دائرہ کار کا علم ہے۔ اس لئے ان الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے کہ بی ایس ایف کا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہورہا ہے۔ اسی درمیان چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ریاستی پولیس بھی اہم ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں اور ریاست میں امن و امان کی صورت حال کو وہ بخوبی نبھاتی ہے۔

ہر ایک بوتھ پر مرکزی فورسیس کے جوان تعینات ہوں گے

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بوتھوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور ہر ایک بوتھ پر مرکزی فورسیس کے جوان تعینات ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران کئی مبصرین بنگال میں تعینات کئے گئے تھے اور اس مرتبہ بھی اسی طرح کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت انتخابات ریاستی پولیس کے ماتحت ہوتے ہیں مگر اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات ہماری نگرانی میں ہوتے ہیں۔ اس لئے لوگوں کے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد ریاست میں بائیک ریلی کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کرانا ہی اپنے آپ میں چیلنج ہوتا ہے اور بنگا ل میں بھی چیلنج ہے۔

ہر ریاست کے اپنے اپنے چیلنج ہوتے ہیں۔ کہیں طاقت کا استعمال ہوتا ہے تو کہیں روپے کا بے تحاشا استعمال ہوتا ہے اور کہیں لا اینڈ آڈر کی صورت حال ہوتی ہے۔ ہم ریاست کے حالات کے مطابق انتخابات کراتے ہیں۔

بنگال میں لاء اینڈ آرڈر سے کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: چیف الیکشن کمشنر

0
بنگال میں لاء اینڈ آرڈر سے کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: چیف الیکشن کمشنر
بنگال میں لاء اینڈ آرڈر سے کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: چیف الیکشن کمشنر

ترنمول کانگریس کے لیڈر تاپس رائے نے کہا کہ بی جے پی الیکشن کمیشن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اپنی مرضی کے مطابق کمیشن کو چلانے کی کوشش کررہی ہے۔

کلکتہ: چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے آج مغربی بنگال پولیس انتظامیہ سے کہا ہے کہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر سے کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کا فل بنچ مغربی بنگال کے دورے پر ہے۔ کمیشن کے عہدیداروں نے آج اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر اور ریاستی پولیس کے نوڈل افسر گیان ونت سنگھ کے ساتھ میٹنگ کی۔

کمیشن کے ممبران بشمول سنیل اروڑہ نے ریاست کے چیف انتخابی افسر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اپوزیشن جماعتیں بنگال میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکمراں جماعت کے لئے کام کرنے کا پولیس انتظامیہ پر الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اسی تناظر میں کمیشن نے گیانونت سنگھ سے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ کسی بھی طرح سے نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات

آج الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات بھی کی ہے۔ ترنمول کانگریس کی طرف سے سبرتو بخشی، فرہاد حکیم، پارتھو چٹرجی اور تاپس رائے میٹنگ میں شریک ہیں۔ بی جے پی، کانگریس اور سی پی ایم جیسی حزب اختلاف کی جماعتوں کے نمائندے بھی میٹنگ میں شرکت کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ پنچایت انتخابات میں ہوئے تشدد کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس انتظامیہ جانبداری سے کام کررہی ہے۔ بی جے پی نے ابھی سے بڑی تعداد میں مرکزی فورسیس کو تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

دوسری جانب ترنمول کانگریس کے لیڈر تاپس رائے نے کہا کہ ریاست میں انتخابات کو پرامن ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی الیکشن کمیشن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اپنی مرضی کے مطابق کمیشن کو چلانے کی کوشش کررہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے تمام ضلع کے سپرنڈنٹ اور کلکٹروں کے ساتھ بھی ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کمشنریٹ کے تمام کمشنرز بھی میٹنگ میں موجود ہیں۔

فلسطینی لیڈر نے امریکہ کے نو منتخب صدر و نائب صدر کو دی مبارکباد، ساتھ مل کر کام کرنے کی ظاہر کی امید

0
فلسطینی لیڈر نے امریکہ کے نو منتخب صدر و نائب صدر کو دی مبارکباد، ساتھ مل کر کام کرنے کی ظاہر کی امید
فلسطینی لیڈر نے امریکہ کے نو منتخب صدر و نائب صدر کو دی مبارکباد، ساتھ مل کر کام کرنے کی ظاہر کی امید

فلسطینی لیڈر محمود عباس نے کہا ’’امید ہے کہ مغربی ایشیا خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن اور استحکام کے لئے ہم ساتھ مل کر کام کریں گے‘‘۔

غزہ: فلسطینی لیڈر محمود عباس نے مسٹر جو بائیڈن کو امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ علاقے میں امن قائم رکھنے کے لئے وہ ساتھ مل کر کام کرنے کی امید کرتے ہیں۔

ڈبلیو اے ایف اے نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مسٹر عباس نے نائب صدر کملا ہیرس کو بھی مبارکباد دی اور سنگین مسائل کے حل کی سمت میں انکی کامیابی کی تمنا کی۔

فلسطینی لیڈر نے کہا ’’امید ہے کہ مغربی ایشیا خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن اور استحکام کے لئے ہم ساتھ مل کر کام کریں گے‘‘۔

پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدہ میں امریکہ ہوگا دوبارہ شامل

0
پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدہ میں امریکہ ہوگا دوبارہ شامل
پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدہ میں امریکہ ہوگا دوبارہ شامل

امریکہ ایک بار پھر پیرس کے موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے میں شامل ہوگا۔ صدر جو بائیڈن نے ایگزیکٹو احکام پر دستخط کردیئے۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بدھ کو پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدہ اور عالمی صحت تنظیم میں امریکہ کے دوبارہ شامل ہونے کے ایگزیکٹو احکام پر دستخط کردیئے۔

مسٹر بائیڈن نے بدھ کو کہا ’’میں نے جو عہد بستگیاں ظاہر کی ہیں، اس کے مطابق ہم آج سے پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدے میں شامل ہونے جارہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدے اور ڈبلیو ایچ او سے الگ کرلیا تھا۔

مسٹر بائیڈن نے امریکہ ۔ میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کو ملتوی کرنے کا ایگزیکٹو احکام پر دستخط کردیئے ہیں۔

ارنب معاملے میں مجرمانہ خاموشی بھارت کے لئے ایک لمحمہ فکریہ

0
ارنب معاملے میں مجرمانہ خاموشی بھارت کے لئے ایک لمحمہ فکریہ
ارنب معاملے میں مجرمانہ خاموشی بھارت کے لئے ایک لمحمہ فکریہ

ارنب گوسوامی وہاٹس ایپ چیٹ لیک معاملہ پلوامہ اور بالا کوٹ جیسے حساس معاملوں سے وابستہ ہونے کے باوجود سیاسی گلیاروں میں خاموشی کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ نہ مین اسٹریم میڈیا میں کوئی چرچہ یا مباحثہ اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئی ایسا رد عمل کہ اس پر کارروائی کا دباؤ بن سکے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

تصور کیجئے کسی شخص کی وہاٹس ایپ پر ہوئی گفتگو ( چیٹ) لیک ہو جائے۔ اور اس گفتگو میں وزیر اعظم دفتر ( پی ایم او) کا ذکر ہو، ’اے ایس‘ کا ذکر ہو، وزارت اطلاعات و نشریات کا ذکر ہو، این ایس اے کی بات ہو اور سب سے بڑھ کر پلوامہ حملے اور پھر پاک مقبوضہ علاقہ میں سرجیکل اسٹرائک پر گفتگو کی گئی ہو۔ اس کے باوجود نہ کہیں کسی کارروائی کا ذکر، نہ مین اسٹریم میڈیا میں کوئی چرچہ یا مباحثہ اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئی ایسا رد عمل کہ اس پر کارروائی کا دباؤ بن سکے۔

کسی عدالت کا از خود نوٹس لینے یا پوچھ گچھ کی تو کیا ہی بات کی جائے، جب سپریم کورٹ ہی اُس شخص کو ترجیحات کی بنیاد پر ضمانت دے دیتی ہے۔ در اصل ممبئی پولیس نے بدنام زمانہ اینکر اور ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کے خلاف ٹی آر پی گھپلہ معاملے میں ایک چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس میں ٹی آر پی کیس کے کلیدی ملزم اور ’براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل‘ (بارک) کے سابق سی ای او پارتھو داس گپتا کے ساتھ وہاٹس ایپ پر ہونے والی ارنب کی بات چیت ( چیٹنگ) کے منظر عام پر آنے کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے۔

میڈیا اس معاملے کو اُتنی اہمیت نہیں دے رہاہے جتنا یہ سنگین ہے

حالانکہ یہ سنسنی حساس اور سنجیدہ طبقوں میں ہی ہے عام نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا طبقہ اس معاملے کو اُتنی اہمیت نہیں دے رہاہے، جتنا سنگین یہ معاملہ ہے۔ ہاں، جو بھی رد عمل اور کارروائی کادباؤ بنایا گیا ہے، وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہی بنا ہے۔ خاص طور پر ٹوئیٹر پر اس معاملے کو کافی زور وشور سے اٹھایا گیا ہے اور پچھلے کئی دنوں سے وہاں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس کے بعد ہی اپوزیشن کانگریس نے اس پر نوٹس لیا اوربیان جاری کیا۔

ارنب گوسوامی کے وہاٹس ایپ چیٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد کئی اہم سوالات پیدا ہوگئے ہیں، جن کی بنیاد پر کانگریس اور اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں نے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کی مانگ کی ہے۔

وہاٹس ایپ چیٹ کا معاملہ ہے تو بہت سنگین، لیکن ایک ’راشٹروادی‘ اینکر کی وجہ سے اس کی سنگینی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ حالانکہ اس معاملے میں صرف ارنب گوسوامی ہی نہیں، بلکہ مرکزی حکومت اور کئی اہم ادارے بھی کٹہرے میں کھڑے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ کیوں کہ یہ سیدھا ملک کی سلامتی سے تعلق رکھتا ہے۔

پلوامہ اور بالا کوٹ ایئر اسٹرائک کا ذکر بے حد سنسی خیز

پانچ سو صفحات پر مشتمل وہاٹس ایپ کی اس بات چیت میں جو سب سے سنسنی خیز اور سنگین معاملہ ہے وہ پلوامہ حملے اور بالا کوٹ ایئر اسٹرائک کا ذکر ہے۔ اسی لئے یہ سنگین سوال پوچھا جارہاہے کہ ارنب گوسوامی کو بالاکوٹ اور پٹھان کوٹ حملوں کی اطلاع پہلے سے کیسے تھی؟ کیوں کہ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ بات چیت سرجیکل اسٹرائیک سے تین دن پہلے کی گئی تھی۔

اس وائرل وہاٹس ایپ چیٹ میں داس گپتا سے ارنب کہتے ہیں کہ کچھ ’بڑا‘ ہونے والا ہے۔ جس کے بعد جب ان سے کہا گیا کہ کیا وہ داؤد کے حوالے سے ہے، تو ارنب جواب دیتے ہیں ‘نہیں سر، پاکستان۔ اس مرتبہ کچھ اہم ہونے جا رہا ہے۔ داس گپتا اگلے جواب میں جب حملے کا ذکر کرتے ہیں تو ارنب کہتے ہیں ’نارمل اسٹرائیک سے بڑی اسٹرائیک ہونے والی ہے اور اسی وقت کشمیر میں بھی کچھ اہم ہو گا۔‘قابل ذکر ہے کہ۱۴؍ فروری ۲۰۱۹ء کو پلوامہ میں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا، جس میں سی آر پی ایف کے۴۰؍ جوان شہید ہو گئے تھے۔

ہندوستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے بالا کوٹ میں سرجیکل اسٹرائیک کی تھی۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے پلوامہ حملے اورسرجیکل اسٹرائیک دونوں پر سوالات اٹھائے تھے اور اسے مارچ میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ارنب اور پارتھو داس گپتاکے درمیان ہونے والی یہ بات چیت ٹی آر پی کیس میں ممبئی پولیس کی اضافی چارج شیٹ کا حصہ ہے۔

بی جے پی لیڈران کی خاموشی معنی خیز

اس پورے معاملے پر بی جے پی میں خاموشی طاری ہے۔ آخر ہو بھی کیوں نہ، دن رات بی جے پی اور سرکار کی ترجمانی کرنے والے ری پبلک چینل کے ایڈیٹر ان چیف کا معاملہ جو ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب ممبئی پولیس نے ارنب گوسوامی کو ایک مجرمانہ کیس میں گرفتار کیا تھا تو چھوٹے موٹے بی جے پی لیڈران کی کیا بات کی جائے۔

وزیر داخلہ سے لے کر وزیر خارجہ ور وزیر اطلاعات و نشریات نے ارنب کی گرفتاری کی مذمت کی تھی اور ٹوئیٹ کرکے اسے صحافتی اصولوں اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ بتایا تھا۔ لیکن پلوامہ اور بالا کوٹ جیسے حساس معاملوں پر بی جے پی قیادت کی خاموشی واقعی کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ یعنی ارنب کا معاملہ جتنا سنسنی خیز ہے، اتنا ہی بی جے پی لیڈران کی خاموشی معنی خیز کہی جا سکتی ہے۔

آپ صرف سوچ کر دیکھئے کہ اگر ارنب گوسوامی کی جگہ ہم آپ جیسا کوئی معمولی انسان ہوتا، کوئی غیر جانب دار یا صحافتی اصولوں سے سمجھوتہ نہ کرنے والا کوئی اینکر ہوتا، یا پھر ’درباری‘ نہ ہو کریا گودی میڈیا سے باہر کا کوئی صحافی ہوتا تو آج ہر طرف کیا اسی طرح کی خاموشی اور سناٹا دیکھنے کو ملتا؟ اسی لئے تو سوچتا ہے بھارت۔

ارنب معاملہ پر رویش کمار کی بے باک تحریر

راقم کے اس سوال کا جواب آج بھی صحافتی اصولوں کو زندہ رکھنے والے مشہور صحافی رویش کمار کی ایک تحریر میں ملتا ہے۔ رویش کمارکو لکھنا پڑا کہ اگر ارنب گوسوامی کی جگہ وہ ہوتے تو کیا ہوتا؟

وہ لکھتے ہیں ’’آپ کس سے توقع کر رہے ہیں؟ ہندوستان کا۹۹؍ اعشاریہ ۹۹۹؍ فیصد میڈیا ’گودی میڈیا‘ ہے۔ یہ ایک پریوار کی طرح کام کرتا ہے۔ آپ اس پریوار کے محافظ اور سرپرست کا نام جانتے ہیں۔ اس فیملی کے تمام اینکر اور چینلوں کے مالک ارنب ہی ہیں۔ سب کے نام الگ ہیں، لیکن کام ارنب کا ہی ہے۔ تو کوئی کیسے اپنے ارنب ہونے کے خلاف ارنب کی پول کھول دے۔

ارنب صرف ایک نیوز اینکر نہیں ہے۔ وہ ایک سماج ہے۔ ارنب کے جھوٹ کو دیکھنے اور دن رات اسے برداشت کرنے والا سماج ارنب بن چکا ہے۔ اس سماج کی سوچ میں ارنب اور ارنب کے محافظ کے فرق کی سرحد ختم ہو چکی ہے۔ اس کے محافظ اور سرپرست ہی ارنب ہے اور ارنب ہی محافظ ہے۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اگر میرے بارے میں ایسی کوئی اطلاع ہوتی تو ارنب سمیت سبھی ارنب اس پر گھنٹوں مہم چلا رہے ہوتے۔ سارے وزیر پولیس کے ساتھ میرے گھر آ گئے ہوتے۔ افسر نوٹس جاری کر رہے ہوتے۔ کیوں کہ میں ارنب نہیں ہوں۔‘‘ رویش کمار کے ان الفاظ پر غور کریں تو بہت کچھ سمجھ میں آ جائے گا۔

پاکستانی رد عمل

ارنب گوسوامی اور بارک کے سی ای او کی وہاٹس ایپ کی گفتگو کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد پاکستانی میڈیا اور وہاں کی حکومت بھی سرگرم ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مذکورہ گفتگو سے ہندوستانی میڈیا اور مودی سرکار کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’انتخابات جیتنے کے لیے خطرناک فوجی مہم جوئی خطے کوغیر مستحکم کرنے کا باعث بنی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی ایڈونچر پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا تھا۔’

خیر، یہ تو ہمارے دشمن ملک کی بات ہو گئی۔ لیکن کیا واقعی یہ معاملہ اتنا غیر اہم ہے کہ نہ سرکار، نہ عدالت اور نہ ہی میڈیا کا بڑا طبقہ اس پر کوئی توجہ دے رہا ہے۔ اگر یہ سب اسی طرح چلتا رہا تو یہ ملک کے مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

حالانکہ مختلف ہائی کورٹس نے ابھی امید کی لو جلا رکھی ہے۔ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق معاملے میں ممبئی پولیس کی شبیہ خراب کرنے والے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج کو بامبے ہائی کورٹ نے بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا۔

میڈیا ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران، بمبئے ہائی کورٹ نے کہا کہ میڈیا میں اب انتہائی درجہ کی صف بندی ہوگئی ہے، ماضی میں صحافی حضرات ذمہ دار اور غیر جانبدار ہوا کرتے تھے۔

اس کےعلاوہ نیوز براڈکاسٹرس ایسوسی ایشن ( این بی اے) نے ارنب اور داس گپتا کی بات چیت پرسخت غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ چار برسوں میں این بی اے کی جانب سے ریٹنگ کے حوالے سے عائدالزامات کی اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایک غیر این اے بی رکن نے ’بارک‘ کی اعلیٰ انتظامیہ سے مل کر ریٹنگ میں ہیرا پھیری کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مذکورہ ادارے کیا واقعی ارنب جیسے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کر سکیں گے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: [email protected]]

ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں