جمعرات, جولائی 2, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 404

میانمار میں ایک سال کے لئے ایمرجنسی، انٹرنیٹ و موبائل بند، امریکہ نے دی دھمکی

0
میانمار میں ایک سال کے لئے ایمرجنسی، انٹرنیٹ و موبائل بند، امریکہ نے دی دھمکی
میانمار میں ایک سال کے لئے ایمرجنسی، انٹرنیٹ و موبائل بند، امریکہ نے دی دھمکی

کاؤنسلر آنگ سان سوکی، صدر ون میانت حراست کے ساتھ ہی میانمار میں ایک سال کے لئے ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ تختہ پلٹے جانے کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات بند ہیں، دریں اثناء امریکہ نے کاروائی کی دھمکی دی ہے۔

نیپڈا: میانمار اسٹیٹ کاونسلر آن سنگ سوکی سمیت صدر ون منٹ اور برسراقتدار پارٹی کے دیگر ارکان کو پیر کے روز حراست میں لئے جانے بعد فوج نے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال کا اعلان کردیا ہے۔

اس سے قبل میڈیا رپورٹو میں بتایا گیا تھا کہ محترمہ آنگ سانگ سوکی اور مسٹر ون منٹ کے ساتھ ساتھ نیشنل لیگ فار ڈیمورکیسی پارٹی کے دیگر ارکان کو آج صبح فوج نے تختہ پلٹ کر حراست میں لیا تھا۔

تختہ پلٹنے کے بعد انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات بند

میانمار اسٹیٹ کاؤنسلر آنگ سانگ سوکی کے ایک صلاحکار نے کہا ہے کہ ملک میں فوج کی جانب سے تختہ پلٹنے کے بعد راجدھانی نپیڈا میں انٹرنیٹ اور فون خدمات بند کردی گئی ہیں۔

اس سے قبل میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ محترمہ سوکی اور مسٹر منٹ کے ساتھ ساتھ نیشنل لیگ فار ڈیمورکریٹک پارٹی کے دیگر ارکان کا آج صبح فوج نے تختہ پلٹ کر حراست میں لیا اور اس کے بعد ملک مین ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا۔

اسٹیٹ کاؤنسلر کے مشیر اور آسٹریلیائی اکیڈمک سین ٹرنیل نے فائننشیل ٹائمس کی ان رپورٹوں کی تصدیق کی ہے جن میں انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات بند کئے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق فوج نے ینگون میں ستی ہال کو اپنے محاصرے میں لے لیا ہے۔

کاؤنسلر آنگ سان سوکی، صدر ون میانت حراست میں

میانمار میں تختہ پلٹ کے خدشے کے درمیان اسٹیٹ کاؤنسکر آنگ سانگ سوکی کے ساتھ ساتھ صدر ون میانت کو حراست میں لیا گیا تھا۔ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے ترجمان مایو نیانٹ نے بتایا کہ میانمار کی کاؤنسلر آنگ سانگ سوکی اور ملک کی برسراقتدار پارٹی کے دیگر سینیئر لوگوں کو صبح مارے گئے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔

گزشتہ برس 8 نومبر کو ہوئے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی ہونے پر تختہ پلٹنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ یہ انتخاب ملک میں سال 2011 میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد دوسری بار عام انتخابات تھے۔

وائٹ ہاؤس نے کارروائی کرنے کی دھمکی دی

امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ میانمار میں ریاستی کونسلر آنگ سان سوکی کی رہائش کے علاوہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اس دوران امریکہ کے صدر جوبائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون نے انہیں میانمار کی صورتحال کی اطلاع دی۔ امریکہ نے محترمہ آگ سان سو کی اور صدر کو فوجی حراست سے آزاد کرنے کے لئے کہا ہے اور ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکی دی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جین ساسکی نے کہا کہ "امریکہ ان خبروں سے چوکنا ہے کہ برمی فوج نے برما [میانمار] میں ریاستی مشیر آنگ سان سوکی اور دیگر شہری عہدیداروں کی گرفتاری سمیت ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے اقدامات کئے ہیں۔ صدر [جو] بائیڈن کو اس سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے۔”

جنوری میں میانمار کی فوج نے 8 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے دوران انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے بعد بغاوت کے امکانات کے امکانات بڑھ گئے تھے۔

[ہمس لائیو]

اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر اگلے سال مارچ میں تین روزہ جشن صحافت منعقدکرنے کا فیصلہ

0
اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر اگلے سال مارچ میں تین روزہ جشن صحافت منعقدکرنے کا فیصلہ
اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر اگلے سال مارچ میں تین روزہ جشن صحافت منعقدکرنے کا فیصلہ

اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر صحافیوں کی میٹنگ میں اگلے سال مارچ 2022 میں تین روزہ جشن اردو صحافت منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ اردو اخبارات و رسائل کی نمائش، سیمنار، سمپوزیم، مذاکرات اور مشاعرہ بھی منعقد کیا جائے گا۔

پٹنہ: اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے کے موقع پر پٹنہ کے صحافیوں نے اسے یادگار بنانے کے لئے تین روزہ جشن صحافت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ آج یہاں اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے کے موقع پرصحافیوں کی ایک مشاورتی نشست میں کیا گیا۔

صحافیوں کی میٹنگ میں اگلے سال مارچ 2022 میں تین روزہ جشن اردو صحافت منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ اردو اخبارات و رسائل کی نمائش، سیمنار، سمپوزیم، مذاکرات اور مشاعرہ بھی منعقد کیا جائیگا۔ یہ تین روزہ جشن قومی سطح کا ہوگا۔

پروگرام کی تفصیلات طے کرنے کے لئے خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی کے سجادہ نشیں ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی کی سرپرستی اور ہفتہ روزہ نقیب کے ایڈیٹر مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کی صدارت میں ایک انتظامیہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کے جنرل سکریٹری سینئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی منتخب کئے گئے۔

ایس ایم اشرف فرید (مدیر اعلیٰ، قومی تنظیم) ابو ظفر (فاروقی تنظیم)، احمد جاوید (مقامی اڈیٹر، انقلاب، پٹنہ) ریاض عظیمآبادی (سینئر صحافی) ڈاکٹر اظہار احمد (مدیر، پیاری اردو) نائب صدور بنائے گئے۔ سید مشتاق احمد (ایڈیٹر،امن چین) کو خازن کی ذمہ داری دی گئی۔ جبکہ اقبال صبا (الوطن ٹائمز)، ڈاکٹر انوار الہدیٰ (ہمارا نعرہ)، نواب عتیق الزماں (روشنی جدید)، ضیاء الحسن (آواز بہار)، انوار اللہ (روزنامہ منصف)، سید ارشاد عالم (روزنامہ راشٹریہ سہارا) اور راشد نیر وارثی (جدید بھارت) سکریٹری مقرر کئے گئے۔ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ اس میں شرکت کرنے والے تمام صحافی مجلس منتظمہ کے اراکین ہوں گے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 7فروری کو روزنامہ پیاری اردو کے دفتر میں ہو گی۔

اس موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ اردو صحافت کو عوامی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس موقع پر اردو صحافت کے مسائل پر بھی غور کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ جشن پورے جو ش و خروش اور سلیقے سے منایا جانا چاہئے تاکہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں۔

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے کہا کہ اردو صحافت کے سو برس مکمل ہونے پر ہم اس بات کا محاسبہ کریں گے کہ اس دوران ہم نے کیا سیکھا، کیا کھویا اور کیا پایا۔ انھوں نے کہ کہ میں اس میٹنگ میں اردو قاری کے نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہو رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ جشن بغیر احتساب کے نہیں ہوتا ہے۔ ہمیں اس موقع پر ہمیں اپنا احتساب بھی کرنا ہوگا۔

انقلاب کے مقامی مدیر احمد جاوید نے کہا اردو عالمی زبان ہے اس لئے، اس جشن کا اہتمام بھی علمی پیمانے کا کیا جانا چاہئے۔ اس موقع پر نوکرشاہی ڈاٹ کام کے ارشاد الحق، الوطن ٹائمز کے اقبال صبا، آنکھوں دیکھی کے بابر عبد اللہ، قلم کار سرفراز عالم، فوٹو جرنلسٹ مشتاق آزاد، روشنی جدید کے نواب عتیق الزماں،آزاد صحافی، جاوید حسین، منصف کے انوار اللہ، آواز بہار کے ضیاء الحسن، جدید بھارت کے سید جاوید احمد، تاثیر کے امتیاز کریم، امن چین کے سید مشتاق احمد، سینئر صحافی ریاض عظیم آبادی، سنگم کے محمد راشد احمد، قومی آواز دہلی کے نمائندہ نیاز عالم، پندار کے عتیق الرحمن شعبان، پیاری اردو کے ڈاکٹر اظہار احمد، اور اسحاق اثر، راشٹریہ سہارا کے سید ارشاد عالم، گھر گھر کیآواز کے نوشاد عالم، دینک جاگرن کے احمد رضا ہاشمی، ہمارا نعرہ کے انوار الہدیٰ، اور عارف انصار ی سمیت کئی نمائندوں نے مفید مشورے دئے۔ پروگرام کی نظامت سینئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے کی۔

مرادآباد میں خوفناک سڑک حادثہ ،10 ہلاک،تقریباًایک درجن افراد زخمی

0
مرادآباد میں خوفناک سڑک حادثہ ،10 ہلاک،تقریباًایک درجن افراد زخمی
مرادآباد میں خوفناک سڑک حادثہ ،10 ہلاک،تقریباًایک درجن افراد زخمی

اس خوفناک سڑک حادثے میں 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔ حادثے میں 11 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کے اعلی افسران موقع پر موجود ہیں۔ زخمیوں کو ضلع اسپتال پہنچایا گیا ہے

مراد آباد: اتر پردیش کے ضلع مراد آباد کے کندرکی علاقے میں ہفتے کے روزگھنے دھند میں ایک کینٹر اور بس کے مابین ہونے والی خوفناک ٹکر میں کم از کم10 مسافروں کی موت ہوگئی جبکہ 11 سے زائد شدید زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ یہ حادثہ صبح تقریباً 8 بجےمراد آباد آگرہ ہائی وے پر بلاری سرکل میں حسین پور پلیا نان پور کے قریب اس وقت پیش آیا جب مسافروں سے بھری پرائیویٹ بس کو اوورٹیک کرنے کی کوشش میں ایک کینٹر اس سے ٹکرا گیا۔

ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس کے ڈرائیوروالا سائیڈ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ۔ بتایا جارہا ہے کہ ان دونوں گاڑیوں کی ٹکر کے ساتھ ہی ایک 10ٹائروالا ٹرک بھی ان گاڑیوں سے جاٹکرایا۔

اس خوفناک ٹکر میں 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔ حادثے میں 11 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کے اعلی افسران موقع پر موجود ہیں۔ زخمیوں کو ضلع اسپتال پہنچایا گیا ہے۔ حادثے کی زد میں آئے زخمیوں کی تعداد میں اضافہ کاامکان ہے۔

وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس حادثہ پر رنج وغم کا اظہارکیا ہے۔ سڑک حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو 50 50 ہزار کی مالی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ، جبکہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو 2،2 لاکھ روپے کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ زخمیوں کا مناسب علاج کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

ضلع مجسٹریٹ راکیش کمار سنگھ نے ہفتے کے روز ہونے والے اس سڑک حادثے میں دس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ، جبکہ زخمیوں کی تعداد 11 ہے۔

مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والی سریلی آواز کی ملکہ تھیں ثریا

0
مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والی سریلی آواز کی ملکہ تھیں ثریا
مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والی سریلی آواز کی ملکہ تھیں ثریا

چار دہائیوں تک فلمی مداحوں کو اپنا دیوانہ بنائے رکھنے والی ثریا کا رجحان بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھا اور وہ پلے بیک سنگر بننا چاہتی تھیں، جنہوں نے کسی استاد سے موسیقی کی تعلیم نہیں لی

ممبئی: بالی ووڈ میں ثریا کو ایسی گلوکارہ اور اداکارہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی شاندار اداکاری اور جادوئی آواز سے تقریبا چار دہائیوں تک فلمی مداحوں کو اپنا دیوانہ بنایا۔

15 جون 1929ء کو پنجاب کے گوجرانوالہ شہر کے ایک متوسط خاندان میں پیدا ہونے والی ثریا کا رجحان بچپن سے ہی موسیقی کی طرف مائل تھا اور وہ پلے بیک سنگر بننا چاہتی تھی۔ تاہم انہوں نے کسی استاد سے موسیقی کی تعلیم نہیں لی تھی لیکن موسیقی پر ان کی اچھی گرفت تھی۔

ثریا اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھیں۔ ثریا نے ابتدائی تعلیم ممبئی کے نیوگرلز ہائی اسکول سے مکمل کی۔ اس کے ساتھ ہی وہ گھر پر ہی قرآن اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کیا کرتی تھی. بطور چائلڈ اسٹار سال 1938 میں ان کی پہلی فلم "اس نے سوچا تھا” ریلیز ہوئی۔

فلمی زندگی

ثریا کو فلموں میں پہلا بڑا بریک اپنے چچا ظہور کی مدد سے ملا جو ان دنوں فلم انڈسٹری میں بطور ولن اپنی شناخت بنا چکے تھے۔ سال 1941 میں اسکول کی چھٹيو ں کے دوران ایک بار ثریا موہن ا سٹوڈیو میں فلم تاج محل کی شوٹنگ دیکھنے گئیں۔ وہاں ان کی ملاقات فلم کے ڈائریکٹر نانو بھائی وکیل سے ہوئی جنہیں ثریا میں فلم انڈسٹری کا ایک ابھرتا ہوا ستارہ دکھائی دیا. انہوں نے ثریا کو فلم کے کردار ممتاز محل کے لئے چن لیا۔

آکاشوانی کے ایک پروگرام کے دوران موسیقی کے شہنشاہ نوشاد نے جب ثریا کو گاتے ہوئے سنا تب وہ ان کے گانے کے انداز سے بہت متاثر ہوئے۔ نوشاد کی موسیقی میں پہلی بار كاردار صاحب کی فلم شاردا میں ثریا کو گانے کا موقع ملا۔

بطور پلے بیک سنگر

اس درمیان ثریا کو محبوب خان کی "انمول گھڑی” میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ ثریا اس فلم میں معاون ہیروئن کا کردار نبھاتی نظر آئیں لیکن فلم کے ایک گانے "سوچا تھا کیا کیا ہو گیا” وہ بطور پلے بیک سنگر سامعین کے درمیان اپنی شناخت بنانے میں کافی حد تک کامیاب رہیں۔

اسی درمیان ڈائریکٹر جینت دیسائی کی فلم چندرگپتا كے ایک گانے کے ریہرسل کے دوران ثریا کو دیکھ کر كے ایل سهگل کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے جینت دیسائی سے ثریا کو فلم تدبير میں کام دینے کی سفارش کی۔

سنہ 1945 میں آئی فلم تدبير میں کے ایل سہگل کے ساتھ کام کرنے کے بعد آہستہ آہستہ ان کی شناخت فلم انڈسٹری میں بنتی گئی۔

پچاس کی دہائی میں ’پیار کی جیت، بڑی بہن اور دل لگی‘ جیسی فلموں کی کامیابی کے بعد ثریا شہرت کی بلنديوں پر جا پہنچیں۔ ان کی جوڑی فلم اداکار دیو آنند کے ساتھ خوب جمی اور اس جوڑی نے شاعر ، افسر، نیلے اور دو ستارے جیسی فلموں میں کام کیا۔

ذاتی زندگی

فلم افسر کی میکنگ کے دوران دیو آنند کا جھکاؤ ثریا کی جانب مائل ہو گیا تھا۔ ایک گانے کی شوٹنگ کے دوران دیو آنند اور ثریا کی کشتی پانی میں پلٹ گئی۔ دیو آنند نے ثریا کو ڈوبنے سے بچا لیا۔اس کے بعد ثریا دیو آنند سے بے انتہا محبت کرنے لگی لیکن ثریا کی نانی کی اجازت نہ ملنے پر یہ جوڑی پروان نہیں چڑھ سکی اور دیو آنند نے اس زمانے کی مشہور اداکارہ کلپنا کارتک سے شادی کر لی۔ اس بات سے دلبرداشتہ ثریا نے تمام عمر کنواری رہنے کا فیصلہ کر لیا۔

سنہ 1954میں آئی فلم مرزا غالب اور وارث کی کامیابی نے ثریا ایک بار پھر سے فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب بنادیا۔ فلم مرزا غالب کو صدر جمہوریہ کے گولڈ میڈل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

سنہ 1963 میں آئی فلم رستم سہراب کی کارکردگی کے بعد ثریا نے خود کو فلم انڈسٹری سے الگ کر لیا۔ تقریبا تین دہائی تک اپنی جادو بھری آواز اور اداکاری سے مداحوں کا دل جیتنے والی ثریا نے 31 جنوری 2004 میں اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔

نئی دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب معمولی دھماکہ، کوئی زخمی نہیں، ہائی الرٹ جاری

0
نئی دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب معمولی دھماکہ، کوئی زخمی نہیں، ہائی الرٹ جاری
نئی دہلی میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب معمولی دھماکہ، کوئی زخمی نہیں، ہائی الرٹ جاری

دھماکہ جندال ہاؤس کے قریب ہوا جو وجے چوک سے تقریبا 1.5 کیلومیٹر دور ہے جہاں بیٹنگ ریٹریٹ کی تقریب چل رہی تھی۔ دھماکے کے بعد شام تقریبا 05:10 بجے دہلی فائر سروس کو کال موصول ہوئی۔

نئی دہلی: اے پی جے عبد الکلام روڈ پر اسرائیلی سفارت خانے کے قریب جمعہ کے روز ایک کم شدت والا دھماکہ ہوا۔ کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تین سے چار گاڑیوں کی ونڈ سکرین کو نقصان پہنچا ہے۔ اسپیشل سیل، بم ڈسپوزل اسکواڈ، اور فارینسک ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور دھماکے میں استعمال ہونے والے ابتدائی شواہد اور دیگر مواد اٹھا لیں۔

یہ دھماکہ جندال ہاؤس کے قریب ہوا جو وجے چوک سے محض ڈیڑھ کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہاں بیٹنگ ریٹریٹ کی تقریب چل رہی تھی۔ دھماکے کی جگہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ  7 لوک کلیان مارگ سے بہت دور ہے۔

فائر عہدیداروں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد شام تقریبا 05:10 بجے دہلی فائر سروس کو فون آیا۔ دھماکے کی وجہ سے لگی ایک معمولی سی آگ پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر فائر ٹینڈرز کو موقع پر پہنچایا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ دھماکہ سنسنی پیدا کرنے کی ایک شرارتی کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ انہوں نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے بات کی ہے اور سفارت خانہ کے عملے کو مکمل تحفظ کا یقین دلایا ہے۔

ڈاکٹر جے شنکر نے ٹویٹ کیا ہے کہ "ابھی ابھی اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ہونے والے دھماکے کے بارے میں اسرائیلی ایف ایم گبی اشکنازی سے بات ہوئی۔ ہم اس واقعہ کو بہت سنجیدگی سے لئے ہیں۔ سفارت خانہ اور اسرائیلی سفارت کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ معاملہ زیر تفتیش ہے اور مجرموں کو تلاش کرنے میں بخشا جائے۔”

اسرائیل کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی میں تمام سفارت کار اور دیگر عملہ محفوظ ہے اور ہندوستانی حکام کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے۔ دریں اثنا، مرکز نے ملک بھر میں تمام ہوائی اڈوں، اہم تنصیبات اور سرکاری عمارتوں کے لئے الرٹ جاری کیا ہے۔

سکیورٹی سیٹ اپ کے ایک عہدیدار کے مطابق تمام ہوائی اڈوں پر روانگی گیٹ پر سی آئی ایس ایف کمانڈوز کی اضافی تعیناتی کے لئے سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

فروری 2012 میں بھی اسی علاقے میں دھماکہ ہوا تھا جس میں اسرائیل سفارت خانے کی ایک خاتون اہلکار زخمی ہوگئی تھیں۔ موٹرسائیکل سے چلنے والے دو شرپسندوں نے ایک گاڑی کے پچھلے حصے پر اسٹیکر بم استعمال کیا تھا۔

مہاتما گاندھی کی 73ویں برسی پروفیسر دلوی کی اردو میں اہم ترین کتاب منظرعام پر

0
مہاتما گاندھی کی 73ویں برسی پروفیسر دلوی کی اردو میں اہم ترین کتاب منظرعام پر
مہاتما گاندھی کی 73ویں برسی پروفیسر دلوی کی اردو میں اہم ترین کتاب منظرعام پر

پروفیسر دلوی کاکہنا ہے کہ مہاتما گاندھی متحدہ قومیت اور ہندومسلم ایکتا اور اردو ہندی کے پرستار تھے۔ گاندھی جی نے اپنی سماجی انصاف پسندی کے تحت قومی زبان کے حل کے مسئلہ پر ہندوستانی کا نظریہ پیش کیا تھا۔

ممبئی: ہندوستان کی جنگ آزادی کے ایک اہم ترین رہنماء اورملک کی سماجی و سیاسی زندگی ہر اثراندازمموہن داس کرم چند گاندھی یعنی مہاتما گاندھی کی 73ویں برسی کے موقع پر مختلف نوعیت کے پروگرام اور تقریبات کاانعقاد کیاجاتا ہے، لیکن اس موقع پر ممبئی یونیورسٹی کے سابق شعبہ اردو صدراور ڈائریکٹر اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ عبدالستار دلوی کی مہاتما گاندھی کے حالاتِ زندگی پرایک کتاب منظرعام پر آئی ہے۔

عبد الستار دلوی کی کتاب کا عنوان ہے،”مہاتما گاندھی ،سماجی انصاف پسندی اور اردو” پر چنددنوں قبل ایک اہم کتاب شائع ہو گئی ہے۔ پروفیسر دلوی کاکہنا ہے کہ مہاتما گاندھی متحدہ قومیت اور ہندومسلم ایکتا اور اردو ہندی کے پرستار تھے۔ گاندھی جی نے اپنی سماجی انصاف پسندی کے تحت قومی زبان کے حل کے مسئلہ پر ہندوستانی کا نظریہ پیش کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہاکہ یہ کتاب اسی پس منظر میں لکھی گئی ہے یہ کتاب دو حصوں میں تقسیم ہے۔پہلے حصے میں ایک عمومی مضمون مہاتما گاندھی کی تعلیمات کی عصری معنویت پر ہے۔ جس میں سیاسی، سماجی، لسانی پس منظر میں گاندھی جی کی تعلیمات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔دیگر مضامین ہندوستانی کے تصور اور لسانی مسئلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان مضامین میں ایک مضمون مہاتما گاندھی اردو اور اقبال پر ہے جس میں بہت ہی خوبصورت انداز میں کی گاندھی جی کی اردوسے محبت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ گاندھی جی کا نظریہ قائم کرتے تھے اس پر پہلے خود عمل کرتے تھے۔ چنانچہ اردو اور ہندی کے مسئلہ پر ہندوستانی کا نظریہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے پہلے خود اردو سیکھی تھی۔

اسی طرح ایک مقالے میں اردو کے ہندوستانی رحجان پر بھی سیر حاصل جائزہ لیا ہے اسی طرح ایک دوسرے مضمون میں گاندھی جی کے سماجی انصاف پسندی کے حوالے سے عربی کے ملک الشعراء احمد مشوقی کی عربی نظم کا ترجمہ بھی پیش کیا ہے جس سے گاندھی کی عالمی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

کتاب کے دوسرے حصے میں مہاتما گاندھی پرلکھی گئی اردو نظموں کا انتخاب ہے جس میں مجاز جوش شمیم کرہانی، تلوک چند محروم ،جگن ناتھ آزاد وغیرہ کی نظمیں شامل ہیں اور عبدالستاردلوی کی کتاب اردو کے گاندھیائی فکر پر ایک اہم کتاب ہے جس کا استقبال کیا جانا چاہیے۔

یواین آئی 

صدر رام ناتھ کووند نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا، حزب اختلاف کا بائیکاٹ

0
صدر رام ناتھ کووند  نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب  کیا، حزب اختلاف کا بائیکاٹ
صدر رام ناتھ کووند  نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب  کیا، حزب اختلاف کا بائیکاٹ

حزب اختلاف نے 26 جنوری کو دارالحکومت دہلی میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی میں ہونے والے تشدد میں مرکزی حکومت کے کردار کے احتجاج میں  صدر رام ناتھ کووند کے پارلیمنٹ کے خطاب کا بائیکاٹ کیا جبکہ صدر جمہوریہ اپنے خطاب میں اس تشدد کی صفائی دیتے ہوئے اسے بدبختانہ قرار دیا

نئی دہلی: صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند آج بجٹ سیشن کے پہلے دن پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم نریندر مودی، راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکئیا نائیڈو، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے ان کا استقبال کیا۔ مسٹر کووند پارلیمنٹ کے آج سے شروع ہورہے بجٹ سیشن کے پہلے دن دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔

قومی پرچم اور یوم جمہوریہ کی توہین بدبختانہ

صدر رام ناتھ کووند نے یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تاریخی لال قلعے میں توڑ پھوڑاور قومی پرچم کی توہین کو بدبختانہ قراردیا ہے۔ مسٹر کووند نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن سے پہلے دونوں ایوانوں کی مشترکہ نشست سے خطاب کے دوران کہا، ’’ گزشتہ دنوں ترنگا اوریوم جمہوریہ کی توہین انتہائی افسوس ناک ہے۔ جو آئین ہمیں اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، وہی آئین ہمیں سکھاتا ہے کہ قانون اور اصول و ضوابط پر اتنی ہی سنجیدگی سے عمل کرنا چاہئے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سپریم کورٹ نے ابھی ان قوانین کو مؤخر کیا ہے اور حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی مکمل پاسداری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قوانین وسیع تر غور و فکر کے بعد پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے تھے۔

زرعی اصلاحات قوانین سے کسانوں کو نئے حقوق ملے

صدر رام ناتھ کووند نے آج کہا کہ تین زرعی اصلاحات کے قوانین کو متعارف کرانے کے ساتھ ہی کسانوں کو نئے حقوق بھی تفویض کئے گئے ہیں اور ان قوانین سے پہلے جو حقوق اور سہولیات موجود تھیں ان میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن سے قبل پہلے روز سینٹرل ہال میں دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کووند نے کہا کہ سات ماہ قبل پارلیمنٹ نے تین اہم زرعی اصلاحات، زرعی پیداواری کاروبار اور تجارت (پروموموشن اینڈ فیسی لی ایشن) ایکٹ، زرعی (امپاورمنٹ اینڈ پروٹیکشن)، قیمتوں کی یقین دہانی و زرعی اگریمنٹ بل اور ضروری اشیا ترمیمی بل منظور کئے۔

انہوں نے کہا ’’ان زرعی اصلاحات کا سب سے بڑا فائدہ 10 کروڑ سے زیادہ چھوٹے کسانوں کو بھی فوری طور پر ملنا شروع ہوا۔ چھوٹے کاشتکاروں کو ہونے والے ان فوائد کا ادراک کرنے کے بعد ہی بہت ساری سیاسی پارٹیوں نے وقتا فوقتا ان اصلاحات کی مکمل حمایت کی تھی۔ اس وقت ملک کی اعلی عدالت نے ان قوانین کے نفاذ کو ملتوی کردیا ہے۔ میری حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اس پر عمل کرے گی۔

مسٹر کووند نے کہا، "میری حکومت یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ تین نئے زرعی قوانین نافذ کیے جانے سے قبل، ان حقوق اور سہولیات میں کوئی کمی نہیں کی گئی تھی جو پرانے نظام کے تحت تھے۔ بلکہ ان زرعی اصلاحات کے ذریعے حکومت نے کسانوں کو نئے حقوق کے ساتھ ساتھ نئے حقوق بھی دیئے ہیں۔

صدر نے کہا کہ حکومت نے گذشتہ چھ سالوں میں بیج سے بازار تک ہر نظام میں مثبت تبدیلی کی کوشش کی ہے، تاکہ ہندوستانی زراعت جدید بن سکے اور زراعت کو بھی وسعت دی جاسکے۔ حکومت نے سوامیاتھھن کمیشن کی سفارشات کے بعد ڈیڑھ گنا لاگت کی کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) ادا کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔ حکومت نہ صرف ریکارڈ مقدار میں ایم ایس پی پر ریکارڈ خریداری کررہی ہے بلکہ خریداری مراکز کی تعداد میں بھی اضافہ کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2013-14 میں صرف 42 لاکھ ہیکٹر اراضی میں آبپاشی کی سہولیات موجود تھیں جبکہ آج 56 لاکھ ہیکٹر سے زائد اضافی اراضی آبپاشی کے نظام سے منسلک ہوگئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار بھی 21.5 ملین ٹن سے بڑھ کر 32 ملین ٹن ہوگئی ہے۔ اس کے لئے ملک کے کسانوں کو مبارکباد دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک میں اناج کی دستیابی ریکارڈ سطح پر ہے۔ سال 2008-09 میں، جہاں ملک میں 23.4 ملین ٹن اناج تھا، سال 2019۔20 میں ملک کی پیداوار بڑھ کر 296 ملین ٹن ہوگئی۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ ایسے چھوٹے اور پسماندہ کاشتکاروں پر خصوصی توجہ دی جائے جن کے پاس زرعی شعبے میں صرف ایک یا دو ہیکٹر اراضی ہے۔ ملک کے تمام کسانوں میں 80 فیصد سے زیادہ چھوٹے کسان ہیں اور ان کی تعداد 10 کروڑ سے زیادہ ہے۔

صدر کوند نے کہا کہ وہ حکومت کی ترجیحات میں چھوٹے اور معمولی کسان بھی ہیں۔ ایسے کسانوں کے چھوٹے اخراجات کی حمایت کے لئے، وزیر اعظم کسان سمن ندھی کے توسط سے ایک لاکھ 13 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ براہ راست ان کے کھاتوں میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم فصل انشورنس اسکیم سے ملک کے چھوٹے کسانوں کو بھی فائدہ ہوا ہے۔ اس اسکیم کے تحت، پچھلے 5 سالوں میں، کسانوں کو 17 ہزار کروڑ روپئے کے پریمیم کے بدلے تقریبا 90 ہزار کروڑ روپئے کی رقم ملی ہے۔

مسٹر کووند نے کہا کہ زراعت کو زیادہ منافع بخش بنانے کے لئے حکومت جدید زرعی انفراسٹرکچر پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپے زرعی انفراسٹرکچر فنڈ شروع کیا گیا ہے۔ ڈیری سیکٹر میں انفراسٹرکچر کے قیام اور سرمایہ کاری کے قیام کی حوصلہ افزائی کے لئے حکومت نے 15 ہزار کروڑ کا ایک جانور پالنے والے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈ بھی قائم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پردھان منتری کسم یوجنا کے تحت کسانوں کو 20 لاکھ سولر پمپ دیئے جارہے ہیں۔ حکومت نے گنے، مکئی، دھان وغیرہ سے ایتھنول کی پیداوار کو بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔ گذشتہ 6 سالوں میں، حکومت کی مثبت پالیسیوں کی وجہ سے، ایتھنول کی پیداوار 38 کروڑ لیٹر سے بڑھ کر 190 کروڑ لیٹر ہوگئی ہے۔

خواتین صنعت کاروں کا خصوصی کردار

صدر کووند نے کہا کہ خود انحصار ہندوستان میں خواتین صنعت کاروں کا خصوصی کردار رہا ہے۔ حکومت نے خواتین کو روزگار کے نئے موقع دینے کےلئے کئی قدم اٹھائے ہیں۔ منی اسکیم کے تحت اب تک 25 کروڑ سے زیادہ قرض دئے جا چکے ہیں،جس میں سے تقریباً 70 فیصد قرض خواتین صنعت کاروں کو ملے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جی ای ایم پورٹل سے ملک کے دور دراز والے علاقوں کے چھوٹے صنعت کاروں کو سرکاری خرید میں شفافیت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ حصہ داری بھی مل رہی ہے۔ تین لاکھ کروڑ روپے کی ایمرجنسی کریڈٹ گارنٹی یوجنا، مشکل میں پھنسے چھوٹے صنعتوں کےلئے 20 ہزار کروڑ کی خصوصی یوجنا اور ’فنڈ کو فنڈ‘ جیسی کوششوں نے لاکھوں چھوٹے کاروباریوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔

گاؤں میں انٹرنیٹ کی کنیکٹی وٹی اہم ہے۔ حکومت ملک کے چھ لاکھ سے زیادہ گاؤں کو آپٹیکل فائبر سے جوڑنے کےلئے مہم چلا رہی ہے۔کبھی ہمارے یہاں صرف دو موبائل فیکٹریاں تھیں۔ آج ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل پروڈیوسر ملک ہے۔

بی ایس پی کا صدر کے خطاب کا بائیکاٹ

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نےکسانوں کے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے صدر کے خطاب کا 16 پارٹیوں نے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب اس بائیکاٹ کی اطلاع بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے جمعہ کو صدر جمہوریہ کے خطاب سے قبل ایک پیغام میں دی ہے۔

محترمہ مایاوتی نے کہا ’’بی ایس پی نے ملک کے احتجاجی کسانوں کے تین متنازعہ زرعی قوانین کو واپس نہ لینے اور عوامی مفادات وغیرہ کے معاملات میں بھی غیر یقینی رویہ اپنانے کے خلاف آج پارلیمنٹ میں ہونے والے صدارتی خطبے کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مرکز کو زرعی قوانین واپس لے کر دہلی وغیرہ کی صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ مرکز کو یوم جمہوریہ کے دن ہوئے فسادات کی آڑ میں بے گناہ کسان رہنماؤں کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہئے۔

بی ایس پی لیڈر نے کہا کہ اس معاملے میں اتر پردیش کی ’بھارتیہ کسان سنگھ‘ اور دیگر رہنماؤں کے اعتراضات میں بھی کافی سچائی ہے۔ حکومت کو اس جانب بھی دھیان دینا چاہئے۔

قبل ازیں محترمہ مایاوتی نے کہا تھا کہ ملک کے دارالحکومت دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ہوئی ٹریکٹر ریلی کے دوران جو کچھ بھی ہوا وہ قطعی نہیں ہونا چاہئے تھا۔ یہ نہایت افسوسناک ہے اور مرکزی حکومت کو بھی اسے بہت سنجیدگی سے لینا چاہئے۔

صدر کے خطاب کا حزب مخالف کی 16 پارٹیوں نے بائیکاٹ کیا

کل جمعرات کو ایک رسمی بیان میں کہاگیا تھا کہ حزب اختلاف کی 16 پارٹیاں صدر جمہوریہ کے پارلیامنٹ کے خطاب کا بائیکاٹ کرے گا۔ جن جماعتوں نے اس خطاب کا بائیکاٹ کرنے پر اتفاق کیا ہے ان میں کانگریس پارٹی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی)، ڈریوڈا مننیترا کھاگام (ڈی ایم کے)، آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی سی)، شیو سینا، سماج وادی پارٹی (ایس پی)، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) (سی پی آئی-ایم)، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی)، انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل)، ریولیوشنری سوشلسٹ پارٹی (آر ایس پی)، جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، مارومرلاچی دراویڈا مننیترا کھاگام (ایم ڈی ایم کے)،کیرالہ کانگریس اور آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) شامل ہیں۔

ان جماعتوں نے 26 جنوری کو قومی دارالحکومت میں ہونے والی جھڑپوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان پارٹیوں کا کہنا ہے کہ اس تشدد میں ‘مرکزی حکومت کے کردار’ مشکوک ہے۔

کسانوں کی ٹریکٹر ریلی میں ہونے والے تشدد کا ذکر

26 جنوری کو قومی دارالحکومت میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی میں ہونے والے تشدد کا ذکر کرتے ہوئے، صدر نے کہا، "ترنگے اور یوم جمہوریہ کو یوم مقدس کے طور پر ذلیل کرنا انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔ جو آئین ہمیں آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے، وہی آئین ہمیں سکھاتا ہے کہ قانون اور حکمرانی کو یکساں سنجیدگی سے چلنا چاہئے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یوم جمہوریہ پر مشتعل کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران کچھ سماج دشمن عناصرلال قلعہ پہنچے اور وہاں انہوں نے ترنگا کی توہین کی اور وہاں ایک مخصوص تنظیم کا جھنڈا لگادیا۔ اس دوران شرپسندوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں، جس میں پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد زخمی ہوگئی۔

لال قلعہ تشدد میں بی جے پی اور اے اے پی کے ورکر شامل: امریندر

0
لال قلعہ تشدد میں بی جے پی اور اے اے پی کے ورکر شامل: امریندر
لال قلعہ تشدد میں بی جے پی اور اے اے پی کے ورکر شامل: امریندر

وزیر اعلی پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ لال قلعے میں کانگریس کا ایک بھی لیڈر یا کارکن نظر نہیں آیا۔ 26 جنوری کو ہونے والے اس واقعے کے لئے کسان بھی ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہ واقعہ سماج دشمن عناصر نے انجام دیا جنہوں نے ٹریکٹر ریلی میں دراندازی کرلی تھی۔

چندی گڑھ: وزیر اعلی پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ لال قلعہ میں نشان صاحب لہراتے وقت کیمرے میں قید ہوئے چہرے کانگریس کے نہیں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے ورکروں اور حامیوں کے ہیں۔

انہوں نے آج یہاں ایک بیان میں لال قلعہ پر تشدد کے واقعے کی ذمہ داری کسی دیگر پر ڈالنے کے لئے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور عآپ حامیوں و کارکنان کی ملی بھگت سے یہ ہوا۔ کانگریس تو پورے معاملے میں کہیں بھی نہیں تھی۔

کیپٹن سنگھ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب دہلی پولیس نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنی دیول کے قریبی دیپ سدھو کو تشدد کے بھڑکانے والوں میں سے ایک کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے اور عآپ کا ممبر امریک مِکّی بھی تشدد کے مقام پر موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ لال قلعے میں کانگریس کا ایک بھی لیڈر یا کارکن نظر نہیں آیا۔ 26 جنوری کو ہونے والے اس واقعے کے لئے کسان بھی ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہ واقعہ سماج دشمن عناصر نے انجام دیا جنہوں نے ٹریکٹر ریلی میں دراندازی کرلی تھی۔

مرکزی حکومت کو اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہیے

ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کو اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ اس میں کسی بھی سیاسی پارٹی یا کسی ملک کے ممکنہ کردارکا پتہ لگایا جا سکے۔ قصورواروں کو سزا ملے اور اصل کاشتکاروں کو بے وجہ پریشان یا بدنام نہ کیا جائے۔

راہل گاندھی کو تشدد کے لئے بھڑکانے کے الزامات پر، وزیر اعلی نے کہا کہ یہ سب بی جے پی اور عآپ کے لوگ تھے جنہوں نے یہ سب کچھ کیا۔ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے واضح کیا تھا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

مسٹر جاوڈیکر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کیپٹن سنگھ نے کہا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں ہے، بلکہ بی جے پی قائدین اپنی پارٹی کا ہاتھ ہونے کی وجہ سے ان کو چھپانے کے لئے یہ کہہ رہے ہیں۔ بی جے پی صورتحال کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے جس نے سب سے پہلے زرعی قوانین کو اپنے من مانی طریقے سے نافذ کرکے ایسی صورتحال پیدا کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کے جانے پر پابندی تھی تو پھر مرکزی حکومت کو کسانوں کو راستے میں روکنے کے لئے ہریانہ کے وزیر اعلی کو ہدایت دی جانی چاہیے تھی۔

انہوں نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو ضد چھوڑ کر زرعی قوانین منسوخ کرنے کامطالبہ کیا۔ اگر مرکزی حکومت دو سال کے لئے زرعی قوانین ملتوی کرسکتی ہے تو، ان کو آسان طریقے سے منسوخ کرکے کسانوں اور دیگر فریقوں سے مشورہ کرکے نئے قوانین کیوں نہیں لاسکتی۔

امریکہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر عائد کی پابندی

0
امریکہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر عائد کی پابندی
امریکہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر عائد کی پابندی

امریکی انتظامیہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت دستخط کیے گئے تمام دفاعی معاہدوں کا جائزہ لینے کے بعد متحدہ عرب امارات (متحدہ عرب امارات) کو جدید ترین ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت عارضی طور پر معطل کردی ہے۔

واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہونے والے تمام دفاعی معاہدوں کا جائزہ لیتے ہوئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو جدید ترین ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کو گولہ بارود کی فراہمی کے معاہدے کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی بلوم برگ کے صحافی انتھونی کیپاسیو نے بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں یہ اطلاع دی۔

انتھونی نے ٹوئٹر پر لکھا ’’محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کے دور میں ہونے والے تمام اہم دفاعی معاہدوں کا جائزہ لیا جارہا ہے، جس کے پیش نظر متحدہ عرب امارات میں جدید ترین لاک ہیڈ مارٹن ایف -35 جنگجو لڑاکا طیارہ کی فروخت پر پابندی لگادی گئی ہے۔ سعودی عرب کو کچھ مقررہ گولہ بارود کی فراہمی پر بھی غور کیا جائے گا۔

کسان مخالف قوانین صرف کسانوں کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے خطرناک: پرینکا

0
کسان مخالف قوانین صرف کسانوں کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے خطرناک: پرینکا
کسان مخالف قوانین صرف کسانوں کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے خطرناک: پرینکا

کسان مخالف قوانین کی وجہ سے پورے ملک کے کسان گزشتہ 63 دنوں سے راجدھانی دہلی کی سرحد پر قانون واپس لینے کی مانگ پر جدوجہد کررہے ہیں اور اپنے 157 ساتھیوں کو گنوا چکے ہیں۔

لکھنو: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ کو کہا کہ کسان مخالف قوانین صرف کسانوں کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے خطرناک ہیں کیونکہ یہ قانون حکومت نے اپنے چند سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنایا ہے۔

یوپی کانگریس کی سرجن ابھیان کے تحت امیٹھی کے دکھنوارا نیائے پنچایت میں منعقدہ میٹنگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے محترمہ واڈرا نے کہا کہ کسان مخالف قوانین کی وجہ سے پورے ملک کے کسانوں کے وجود پر بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ملک کے کسان گزشتہ 63 دنوں سے راجدھانی دہلی کی سرحد پر قانون واپس لینے کی مانگ پر جدوجہد کررہے ہیں اور اپنے 157 ساتھیوں کو گنوا چکے ہیں۔

امیٹھی سے میرا سیاسی نہیں بلکہ خاندانی رشتہ ہے

انہوں نے کہا کہ امیٹھی سے ان کا سیاسی نہیں بلکہ خاندانی رشتہ ہے۔ تنظیم کی تعمیر کانگریس کی اولین ترجیح ہے۔ تنظیم کی بدولت پارٹی حکومت کی غلط پالیسیوں کی مضبوطی کے ساتھ مخالفت کرسکتی ہے اور کسانوں، بے روزگاروں اور مہنگائی کے خلاف ایک مضبوط فیصلہ کن لڑائی لڑسکتی ہے۔

ریاستی کانگریس کے ترجمان برجیندر کمار سنگھ نے بتایا کہ کانگریس تنظیم کو گرام پنچایت سطح تک مضبوط کرنے اور دھاردار بنانے کے زمرہ میں نیائے پنچایت کمیٹیوں کے قیام کے لئے کانفرنسوں کا اہتمام کررہی ہے۔ یہ پروگرا م ملک کے تمام 75 اضلاع اور تمام 826 بلاکوں کی تمام نیائے پنچایت سطح تک چل رہا ہے۔ اب تک تقریباً 90 فیصد سے زیادہ نیائے پنچایتیں قائم ہوچکی ہیں۔

نیائے پنچایتوں کی کانفرنس میں ریاستی کانگریس کے صدر اجے کمار للو، کانگریس کے سینئر لیڈر پرمود تیواری، سابق وزیر نسیم الدین صدیقی، سابق وزیر آر کے چودھری، مقننہ پارٹی کی لیڈر آرادھنا مشرا مونا، قانون ساز کونسل کے لیڈر دیپک سنگھ، سابق رکن پارلیمان راجہ رام پال، سابق رکن پارلیمان پی ایل پونیا سریکھے سینئر لیڈر اور پارٹی کے عہدیداران شامل ہو رہے ہیں اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرکے نیائے پنچایتوں کے قیام میں ضلع وار پنچایت انچارج کی مدد میں مصروف ہیں۔

سیاہ زرعی قوانین کی کمیوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جارہا ہے

انہوں نے بتایا کہ تنظیم سرجن ابھیان کے تحت ہر نیائے پنچایت میں آنیوالی گرام پنچایتوں سے گیارہ گیارہ اراکین کی فہرست ان کے پتہ اور موبائل نمبر کے ساتھ ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر منگائی جارہی ہے۔  کارکنوں کو کانگریس کی پالیسیوں، پروگراموں اور تحریکات کے بارے میں مکمل معلومات پہنچائی جارہی ہے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کی طرف سے بنائے گئے تینوں سیاہ زرعی قوانین کی کمیوں کو عوام کے درمیان پہنچایا جارہا ہے۔ بلندی پر مہنگائی اور بے روزگاری وغیرہ مسائل کے لئے عوام مخالف بی جے پی حکومت کے چہرے کو عام لوگوں کے سامنے بے نقاب کرنے کا کام کارکن کررہے ہیں۔

اسی زمرہ میں محترمہ واڈرا نے 26 جنوری کو رائے بریلی ضلع کے راہی بلاک کی راہی نیائے پنچایت میں کارکنوں سے خطاب کیا اور آج امیٹھی کے جاموں بلاک کے دکھن وارا نیائے پنچایت میں موجود کارکنوں سے خطاب کیا۔