امریکی مفاد میں ہم چین کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں: بائیڈن
کسان تحریک کا حکومت کو پیغام: ” تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا”
شاہراوں پر خندقیں کھود کر، کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کرکے، خاردار تاراور سڑکوں پر نکیلی کیلیں لگا کر کیا کسانوں کی تحریک کو روکا جاسکتا ہے؟
تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری
26 جنوری کی شام جس کسان تحریک کو تقریباً ختم مان لیا گیا تھا، کسان رہنماؤں کے چہرے مرجھانے لگے تھے، ان کے حامیوں میں مایوسی پھیلنے لگی تھی، خود سرکار اور اس کے ’کارندوں‘ نے ہی بازی پلٹ دی۔ اب اسی تحریک میں پہلے سے زیادہ شدت محسوس کی جا رہی ہے۔ کسانوں کے عزائم اور حوصلے پہلے سے کہیں زیادہ بلند نظر آ رہے ہیں۔ وہیںحکومت کے اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اس تحریک سے کیسے نمٹا جائے۔
اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ پچھلے تقریباً دوماہ سے جاری یہ کسان تحریک حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔ نہ صرف مرکزی حکومت بلکہ ہریانہ اور یو پی سرکار کے لئے بھی یہ تحریک نیک شگون نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاجی کسانوں کو دباؤ میں لینے کے لئے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ لیکن جتنا دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تحریک میں اتنی ہی شدت آتی جا رہی ہے۔
26 جنوری کا لال قلعہ واقعہ
26 جنوری کو لال قلعہ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کے بعد کسان لیڈران اور غیر جانب دار میڈیا و سوشل میڈیا کے ذریعہ جس طرح کے انکشافات کیے گئےاور جو الزامات لگائے گئے۔ ان سے حکومت کی منصوبہ بندی اور عزائم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
لال قلعہ کے واقعہ اور دہلی کے مختلف علاقوں میں ہوئے تشدد کو کسی بھی طرح سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ واقعی ایک قابل مذمت عمل تھا۔ لیکن ان واقعات کے پس منظر میں جن خداشت کا اظہار کیا گیا ہے، ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
در اصل 26 جنوری کو ’میڈیا‘ کی بھرپور مدد سے شام تک ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا کہ جیسے کسان لیڈران نے ’ٹریکٹر پریڈ‘ کے بہانے لال قلعہ پر حملہ کر دیا ہے اور قومی پرچم کی دانستہ طور پر بے حرمتی کی ہے۔ انہی واقعات کی روشنی میں حکومت اور پولیس انتظامیہ انتہائی سخت موڈ میں نظر آئی اورکسانوں پر کریک ڈاؤن کی تیاری کر لی گئی۔
وہ تو بھلا ہو حکمراں طبقہ کا کہ جس نے پہلے سنگھو بارڈر اور پھر غازی پور بارڈر پر کسانوں کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے تحت ان پر یلغار کردی۔ حکومت کا یہ داؤ بظاہر اُلٹا پڑ گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے بعد مغربی یو پی میں ایک بار پھر کسان سڑکوں پر آ گئے اور راکیش ٹکیت ان کے مسیحا بن گئے۔
پھر راکیش ٹکیت لیڈر بن گئے
دیکھتے ہی دیکھتے پورے مغربی یوپی میں کسانوں کی مہا پنچایتیں ہونے لگیں۔ مظفر نگر، متھرا، بجنور اور باغپت وغیرہ کی ان مہا پنچایتوں میں ہزاروں اور لاکھوں لوگ شامل ہونے لگے۔ ایک آواز میں سب نے راکیش ٹکیت کو اپنا لیڈر مان لیا۔
اس مظفر نگر میں بھی ٹکیٹ لیڈر مان لیے گئے جہاں تقریباً سات سال پہلے سیاسی فصل کاٹنے کے لئے بی جے پی نے ہندو مسلم کے نام پر نفرت کا جو بیج بویا تھا، وہاں بھی مذہب اور ذات پات کو بھلا کر سب ایک پلیٹ فارم پر آ گئے۔
مرکز کے ساتھ ساتھ ہریانہ، پنجاب، راجستھان اور یو پی کی حکومتیں تمام تر کوششوں کے باوجود کسانوں کے حوصلوں کو توڑ نہیں سکیں۔ نتیجتاً مختلف ریاستوں سے ایک بار پھر کسانوں نے بڑی تعداد میں دہلی کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن اس بار انہیں احساس کرایا گیا کہ دہلی پہنچنا اتنا آسان نہیں ہے، جتنا کہ چین کو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں داخل ہونا۔ جب کسان دہلی کی سرحد پر پہنچے تو انہیں ایسا محسوں ہوا کہ وہ اپنے ملک کی راجدھانی میں نہیں، کسی دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہو رہے ہیں۔
خاردار تاراور نکیلی کیلوں سے تحریک روکنے کی کوشش
در اصل حکومت کو لگتا ہے کہ شاہراوں پر خندقیں کھود کر، کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کرکے، خاردار تاراور سڑکوں پر نکیلی کیلیں لگا کر کسانوں کی تحریک کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ حکومت کی غلط فہمی ہے۔
ایک جمہوری نظام میں انٹرنیٹ بند کرکے، میڈیا پر بندشیں لگا کر، سوشل میڈیاپر قدغن لگا کر یا غیر جانبدار صحافیوں کو ہراساں کرکے ان کی آواز کو کبھی دبایا نہیںجا سکتا۔اگر حکومت ایسا ہی چاہتی ہے تو بہتر ہوگا کہ ملک میں ایرجنسی کا اعلان کر دیا جائے۔ حکومت نے اپنے جابرانہ اقدامات سے کسانوں میں غم و غصہ تو پیدا کیا ہی ہے، ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کو بھی موقع دے دیا ہے۔
26 جنوری سے پہلے غازی پور بارڈر کا دھرنا کسان تحریک کا محض ایک حصہ تھا، لیکن راکیش ٹکیت کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد پوری کسان تحریک کا مرکز غازی پور بارڈر بن گیا اورسب کی نگاہیں راکیش ٹکیت پر مرکوز ہو گئیں۔
سیاسی جماعتوں کی حمایت
26 جنوری کے بعد غازی پور بارڈر پر بی جے پی کے علاوہ تقریباً سبھی پارٹیوں کے لیڈر یہاں پہنچ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ بی جے پی کی ایک لمبے عرصے تک حلیف رہی شیو سینا اور شرومنی اکالی دل کے لیڈران نے بھی راکیش ٹکیت سے ملاقات کی اور اپنی حمایت کا اعلان کیا۔
راہل گاندھی نے بھی مرکزی حکومت پر طنز کیا۔ راہل گاندھی نے مظاہروں کی جگہ پر کی جا رہی ناکہ بندی کی تصویروں کو ٹوئیٹ کیا۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا، "حکومت ہند، دیواریں نہیں، پُل بنائے۔” ساتھ ہی حکومت جس طرح کسانوں کی تحریک سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، اس سے غم و غصہ اور بڑھ رہا ہے۔ وہ اس لئے کیونکہ کسانوں کے احتجاج کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مظاہرہ گاہوں کو قلعہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے اطراف میں کئی سطحوں پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے اورخاردار تاروں کو بچھادیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف غازی پور میں ہو رہا ہے، بلکہ سنگھو اور ٹکری بارڈر پر بھی ایسی ہی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔
سڑک پر سیمنٹ کی بڑی بڑی سلیب رکھی گئی ہیں اور اس میں بیرکیڈز کے ساتھ کیلیں لگائی گئی ہیں۔لیکن حکومت کو یاد نہیں کہ تقریباً دو ماہ قبل کسان اسی طرح کی رکاوٹوں کو عبور کرکے دہلی کی سرحد پر پہنچے تھے۔
دو ماہ قبل جب کسانوں نے دہلی کوچ کیا تھا تو شدید سردی میں کسانوں پر پانی کی بوچھار کی گئی، لاٹھی چارج ہوا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے، راستوں میں خندقیں کھودی گئیں، بڑی تعداد میں سلامتی دستوں کو تعینات کیا گیا، اس کے باوجود کسان اپنے عزائم پر قائم رہے اور آگے بڑھتے رہے۔آج بھی تمام تر پریشانیوں اور صعوبتوں کے بعد بھی وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش
ایسا نہیں ہے کہ صرف کسانوں پر پہرہ بٹھایا جا رہا ہے، بلکہ کسانوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کی آواز کو دبانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ یعنی جن علاقوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں، وہاں انٹر نیٹ بند کیا جا رہا ہے، غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنے والے صحافیوں پر شکنجہ کسا جا رہا ہے، ان پر مقدمے ہو رہے ہیں، گرفتار کیا جا رہا ہے۔
کسانوں کی حمایت میں آوازاٹھانے اور حکومت کی تنقید کرنے والوں کے ٹوئٹر ہینڈلس کو بند کیا جا رہا ہے۔ اگر کہا جائے کہ آج ہم لوگ غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے دور میں ہیں، تو بیجا نہ ہوگا۔
یکم فروری کو دن میں ٹوئٹر نے اچانک تقریباً 250 اکاؤنٹس کو بند کر دیا، حالانکہ زبردست دباؤ کے بعد شام تک انہیں بحال کر دیا گیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ دہلی بارڈر پر کسانوں کی تحریک میں شامل ہونے کے لئے پنجاب سے کسان جس ٹرین سے آرہے تھے، اس کو دوسری طرف موڑ دیا گیا۔
سوراج انڈیا کے رہنما یوگیندر یادو نے ٹوئٹ کیا کہ فیروز پور-ممبئی پنجاب میل کو روہتک سے ریواڑی کے راستے موڑ دیا گیا، تاکہ تقریباً ایک ہزار کسانوں کو دہلی پہنچنے سے روکا جاسکے۔
ان تمام حالات کو دیکھ کرکیا ایسا نہیں لگتا کہ اب ہندوستان فاشزم اور تاناشاہی کی طرف بڑھ رہا ہے؟ اگر چہ ہندوستان میں جمہوریت کی بنیادیں اتنی گہری ہیں کہ انہیں کھودنا اتنا آسان نہیں ہے۔ آج بھی ملک میں جمہوریت اور انصاف پسندوں کی اکثیرت موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ ملک میں فاشزم اپنے پیر جما چکا ہے اور وہ دھیرے دھیرے خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
مخالفین کی آواز دبانے کو اسی زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ لہذا وقت رہتے اگر اسے نہیں روکا گیا تو یہ ہمارے ملک کی تاریخ اور اقدار و روایات کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ پھر بھی حکمرانوں کوتاریخ پر نظر رکھنی چاہئے۔ بقول حبیب جالبؔ؎
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: [email protected]]
ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں
کسانوں کے ساتھ حکومت کا سلوک سرحد پر مقابلہ جیسا: منوج جھا
حکومت دہلی کی سرحد پر مظاہرہ کررہے کسانوں کے ساتھ ایسا سلوک کررہی ہے گویا سرحد پر مقابلہ کیا جارہا ہو۔ کسانوں کے احتجاج کے مقام پر خاردار تاروں، باڑوں اور بیرکیڈنگ کی گئی ہے۔
نئی دہلی: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے جمعرات کے روز ایوان بالا میں کسانوں کی تحریک سے نمٹنے کے حکومتی طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جمہوریت سننے اور سنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ منوج جھا نے صدر کے خطاب پر شکریہ کے ووٹ پر بحث میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ کسان اور کاشتکار اب بھی ہندوستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور مودی حکومت جس طرح سے تحریک چلانے والے کسانوں کے ساتھ سلوک کررہی ہے وہ مناسب نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ’’حکومت دہلی کی سرحد پر مظاہرہ کررہے کسانوں کے ساتھ ایسا سلوک کررہی ہے گویا سرحد پر مقابلہ کیا جارہا ہو۔ کسانوں کے احتجاج کے مقام پر خاردار تاروں، باڑوں اور بیرکیڈنگ کی گئی ہے۔ تحریک سے نمٹنے کا کیا یہ مناسب طریقہ ہے؟ کسانوں کے لئے کہا گیا ہے کہ تحریک میں دہشت گرد، نکسلی، ماؤنواز اور خالصتانی شامل ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بات سنی جانی چاہئے۔ کسان جتنے بہتر طریقے سے اپنی بات سمجھتے ہیں اتنا نہ تو لیڈر، نہ ہی حکمران جماعت اور نہ ہی حزب اختلاف سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں سننے اور سنانے کی صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔ کسان تحریک اب دہلی کی حدود تک ہی محدود نہیں رہی۔ اب یہ تحریک ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل رہی ہے۔
اس سے قبل راجیہ سبھا کی آج کی کارروائی شروع ہوتے ہی پارلیمنٹری کمیٹیوں اور دیگر دستاویزات کی رپورٹس ایوان کے ٹیبل پر رکھی گئیں۔
لگاتار کسانون کے معاملے پر اپوزیشن ممبران کا ہنگامہ، لوک سبھا کی کارروائی میں تیسرے دن بھی خلل
بجٹ اجلاس کے تیسرے روز بھی کسانون کے معاملے پر اپوزیشن ممبران نے ہنگامہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے آج بھی وقفہ سوال نہیں ہو سکا۔ ایوان کے وسط میں آکر اپوزیشن ممبران نے زرعی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔
نئی دہلی: لوک سبھا کے بجٹ اجلاس کے تیسرے روز لگاتار کسانون کے معاملے پر حزب اختلاف کے ممبران نے ہنگامہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے آج بھی وقفہ سوال نہیں ہو سکا شام 4 بجے، اسپیکر اوم برلا نے وقفہ سوال شروع کردیا اور بی جے پی کے رمیش بدھوڑی کا نام سوالات کرنے کے لئے پکارا۔ دوسری طرف، ایوان کے وسط میں آکر حزب اختلاف کے ممبران نے زرعی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔
نعرے بازی کے درمیان، روڈ ٹرانسپورٹ قومی شاہراہ کے وزیر نتن گڈکری نے اس محکمہ سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ مسٹر بدھوڑی، جنہوں نے معذور افراد کی سہولت سے متعلق سوالات کئے تھے، اپوزیشن ممبران سے کہا کہ وہ معذور افراد کی دلچسپی کے بارے میں سوالات اٹھائیں اور ایوان میں خلل نہ ڈالیں۔
جب دو سوال ہونے کے بعد نعرہ بازی بند نہیں ہوئی تو اسپیکر برلا نے اپوزیشن ممبران سے کہا کہ وقفہ سوال اپوزیشن کے لئے بہت اہم ہے۔ اس میں حکومت عوامی دلچسپی کے موضوعات پر ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ لہذا، وقفہ سوال میں خلل نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن حزب اختلاف کے ممبروں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی چار بجے تک ملتوی کردی۔
کورونا کا اصل مقام کہیں اور، پھیلا ووہان سے: روسی ماہرین
ووہان کا ہوانن بازار کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد یکم جنوری 2020 کو بند کردیا گیا تھا۔ اس بازار میں سبزی کے ساتھ سمندری اور مختلف طرح کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔ شروع میں کورونا سے متاثر ہونے والے لوگ بھی اسی بازار میں کام کرتے تھے۔
بیجنگ: عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کی ماہرین کی ٹیم میں شامل روس کے ولادیمیر ڈیڈکوف نے کہا ہے کہ ووہان کے سی فوڈ بازار میں کورونا کے پھیلنے کے حالات پائے جاتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وائرس کی ابتدا یہیں سے ہوئی ہے۔
ووہان کا ہوانن بازار کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد یکم جنوری 2020 کو بند کردیا گیا تھا۔ اس بازار میں سبزی کے ساتھ سمندری اور مختلف طرح کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔ شروع میں کورونا سے متاثر ہونے والے لوگ بھی اسی بازار میں کام کرتے تھے۔ سائنس داں اگرچہ ابھی بھی کورونا وائرس پھیلنے کے بارے میں ایک واضح نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔
ڈیڈکوف نے کہا کہ ’’ہم نے ووہان کا بازار دیکھا اور میں چین کے صفائی ستھرائی کے ضابطوں سے بہت زیادہ واقف نہیں ہوں لیکن اسے دیکھنے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ بازار یقینی طور پر بالکل صحیح نہیں ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کورونا وائرس ووہان سے ہی پھیلا ہو۔ شاید وائرس دوسری جگہ پیدا ہوا ہو لیکن ووہان میں کورونا کے پھیلاؤ کے سبھی حالات موجود ہیں اس لئے یہ یہاں پھیلا‘‘۔
پٹرول – ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، ممبئی میں پٹرول 93.20 روپے فی لیٹر
ملک میں پٹرول کی قیمت اس وقت ریکارڈ سطح پر ہے۔ ممبئی میں پٹرول 34 پیسے اضافے کے ساتھ 93.20 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔
نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں لگاتار سات روز تک مستحکم رہنے کے بعد جمعرات کو ایک بار پھر ان کے داموں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ملک میں پٹرول کی قیمت اس وقت ریکارڈ سطح پر ہے۔ ڈیزل کی قیمتیں دہلی کے علاوہ تاریخی لحاظ سےاعلی سطح پر فروخت ہو رہی ہیں۔
ملک کی سرخیل آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق قومی دارالحکومت دہلی میں آج پٹرول 35 پیسے مہنگا ہوا اور اس کی قیمت 86.65 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
ممبئی میں پٹرول 34 پیسے اضافے کے ساتھ 93.20 روپے جبکہ کولکاتہ میں یہ 32 پیسے کے اضافے سے 88.01 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔ چنئی میں اس کی قیمت میں 31 پیسے کا اضافہ ہوا اور ایک لیٹر پٹرول 89.13 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ ممبئی میں پہلی بار پٹرول 93 روپے اور چنئی میں 89 روپے فی لیٹر پہلی بار عبور کیا ہے۔
دہلی میں ڈیزل کی قیمت 35 پیسے کے اضافے سے 76.83 روپے فی لیٹر ہوگئی جو 30 جولائی 2020 کے بعد ریکارڈ سطح ہے۔ اس کی قیمت ممبئی میں 37 پیسے اضافے سے 83.67 روپے، چنئی میں 33 پیسے کے اضافہ سے 82.04 روپے اور کولکاتہ میں 33 پیسے کے اضافے کے بعد 80.41 روپے فی لیٹر ہوگئی۔
میٹرو پٹرول ڈیزل
دہلی —— 86.65 —— 76.83
ممبئی ——- 93.20 —— 83.67
چنئی —— 89.13 —— 82.04
کولکاتہ — 88.01 —— 80.41
امریکی پابندیوں کے خلاف ایران نے کھٹکھٹایا عالمی عدالت انصاف کا دروازہ
امریکی پابندیوں کے خلاف ایران نے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت نے کیس دائرہ اختیار سے باہر ہونے سے متعلق امریکہ کی اپیل مسترد کردی۔
ہیگ: امریکی پابندیوں کے خلاف ایران نے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور درخواست قابل سماعت قرار دے دی گئی ہے۔
عدالت نے کیس دائرہ اختیار سے باہر ہونے سے متعلق امریکہ کی اپیل مسترد کردی۔
عالمی عدالت انصاف نے کہا کہ امریکی اقدام سے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچا، 15 ججز نے مشترکہ فیصلہ تحریر کیا جبکہ ایک جج نے اختلاف کیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کے بعد سے عائد پابندیوں کو عدالت ختم کردے۔
ادھر امریکی چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار کی تیاری کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔
نرسنگ کالج کے 49 طلبہ کورونا متاثر، کالج کے ساتھ اسپتال بھی سیل
واقعہ کے سامنے آتے ہی اُلَّال نگر کونسل کے افسران نے کالج کے ساتھ ہی اسپتال کو بھی سیل کر دی ہے۔
منگلور: کیرالا سے امتحان دینے کرناٹک کے اُلّال کے اَبَّاکا سرکل کے پاس نرسنگ کالج میں آنے والے 49 طلبہ کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔
اس واقعہ کے سامنے آتے ہی اُلَّال نگر کونسل کے افسران نے کالج کے ساتھ ہی اسپتال کو بھی سیل کر دی ہے۔ غور طلب ہے کہ وائرس کے معاملے میں کرناٹک پورے ملک میں دوسرے مقام پر ہے۔
ریاست میں اب تک 940170 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 922004 افراد کورونا کو شکست دے چکے ہیں جبکہ 12223 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست میں فی الحال 5924 فعال کیسز ہیں۔
کورونا کے کیسز میں فی الحال تیسرے مقام پر واقع کیرالا بھی اب کرناٹک سے بہت پیچھے نہیں ہے۔ کیرالا میں اب تک 938354 افراد کورونا متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 865168 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ 3777 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست میں فی الحال 69169 فعال کیسز ہیں جو پورے ملک میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
ریحانہ، گریٹا نے کسان مظاہرین کے لئے حمایت کا اظہار کیا تو کنگنا نے دیا یوں جواب
مشہور پوپ سنگر ریحانہ اور آب و ہوا کے سرگرم نوجوان کارکن گریٹا تھنبرگ نے کسانوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ریحانہ کے تبصرے کے بعد، تھنبرگ بھی کسان تحریک کی حمایت میں آگے آئیں۔ اپنے ٹویٹ میں، تھنبرگ نے کہا، ’’ہم ہندوستان میں کسان تحریک کے تئیں متحد ہیں۔‘‘
We stand in solidarity with the #FarmersProtest in India.
https://t.co/tqvR0oHgo0— Greta Thunberg (@GretaThunberg) February 2, 2021
ریحانہ کے تبصرے کے بعد کنگنا رناوت نے کی تنقید
اس دوران کسان تحریک کے سلسلے میں ریحانہ کے تبصرے کے بعد بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے اس کے لئے ان کی یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ مظاہرین کسان نہیں ہیں۔ کنگنا نے ٹویٹ کرکے کہا، ’’کوئی بھی اس لئے بات نہیں کررہا ہے کیونکہ یہ کسان نہیں، دہشت گرد ہیں، جو ہندوستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ چین ہمارے ملک پر قبضہ کرلے اور یو ایس اے جیسی چینی کالونی بنا دے۔ سکون سے بیٹھو بے وقوف، ہم تمہارے جیسے بے وقوف نہیں ہیں جو ملک کو بیچ دیں۔‘‘
No one is talking about it because they are not farmers they are terrorists who are trying to divide India, so that China can take over our vulnerable broken nation and make it a Chinese colony much like USA…
Sit down you fool, we are not selling our nation like you dummies. https://t.co/2wQH3f2v0J— Kangana Ranaut (@KangnaRanaut___) February 2, 2021
واضح رہے کہ دہلی میں یوم جمہوریہ کے تشدد کے بعد حکومت نے احتیاط کے طور پر سنگھو، غازی پور اور ٹھیکری سرحدوں پر کسان تحریک والے علاقوں میں ہفتے کو انٹرنیٹ خدمات معطل کردی تھیں اور بعد میں معطلی کی مدت منگل تک بڑھا دی گئی۔ ہریانہ حکومت نے بھی امن و قانون بنائے رکھنے کےلئے ریاست کے 17 ضلعوں میں 31 جنوری کی شام تک موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کردی تھی اور بعد میں اس کی مدت تین فروری تک بڑھا دی گئی۔
صحافیوں، سیاستدانوں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات واپس لے حکومت: دگوجے سنگھ
کانگریس رہنما دگوجے سنگھ نے کہا کہ ملک سے غداری کا معاملہ درج کرنے والی دفعات انگریزی حکومت کے وقت کی ہیں ان کا استعمال جدید ہندوستان میں نہیں کیا جانا چاہئے۔
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما دگوجے سنگھ نے بدھ کو راجیہ سبھا میں صحافیوں، سیاست دانوں اور سماجی کارکنان پر حال ہی میں درج کئے گئے مقدمے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر سنگھ نے ایوان میں وقفہ صفر کے دوران صحافیوں، سیاست دانوں اور سماجی کارکنان پر حال ہی میں ملک کے غداری کے الزام میں درج کی گئی ایف آئی آر واپس لینے کا مطابلہ کیا۔ انہوں نے تین ریاستوں میں چار پانچ لوگوں کے خلاف ایک جیسی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سازش ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک سے غداری کا معاملہ درج کرنے والی دفعات انگریزی حکومت کے وقت کی ہیں ان کا استعمال جدید ہندوستان میں نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدمے واپس لئے جانے چاہئے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں رہنما ششی تھرور اور کئی اہم صحافیوں اور سماجی کارکنان کے خلاف ملک سے غداری اور دیگر دفعات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔










