جمعرات, اکتوبر 1, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 381

بلنکن اور گوٹریس کے درمیان افغانستان – سیریا – لیبیا پر مذاکرہ

0
بلنکن اور گوٹریس کے درمیان افغانستان - سیریا - لیبیا پر مذاکرہ
بلنکن اور گوٹریس کے درمیان افغانستان - سیریا - لیبیا پر مذاکرہ

امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے مسٹر گٹیرس کے ساتھ افغانستان میں سیاسی استحکام لانے اور مستقل طور پر جنگ بندی کے نفاذ کی سمت کی جانے والی کوششوں کی بابت مذاکرہ کیا۔ علاوہ ازیں دونوں رہنماؤں نے سیریا میں راحت ساز و سامان پہنچانے کے سلسلے میں بھی تفصیل سے بات چیت کی۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس کے ساتھ سیریا، لیبیا اور افغانستان سے متعلق اہم مسائل پر مذاکرہ کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرکے دونوں کے درمیان ہوئی بات چیت کی اطلاع دی۔

مسٹر پرائس نے کہا، ’وزیر خارجہ بلنکن نے مسٹر گٹیرس کے ساتھ افغانستان میں سیاسی استحکام لانے اور مستقل طور پر جنگ بندی کے نفاذ کی سمت کی جانے والی کوششوں کی بابت مذاکرہ کیا۔ علاوہ ازیں دونوں رہنماؤں نے سیریا میں راحت ساز و سامان پہنچانے کے سلسلے میں بھی تفصیل سے بات چیت کی‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے لیبیا میں قومی اتحاد کے پیش نظر نئی عبوری حکومت کی تشکیل کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے لیبیا میں رواں برس ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں بھی بات چیت کی۔ امریکہ نے لیبیا میں اقوام متحدہ کے مشن اور اس کے خصوصی ایلچی جان کیوبس کی حمات کی بات کی۔

بارہ بنکی کے دیوا شریف میں ہولی کے اپنے ہی رنگ

0

ہندو مسلم اتحاد کا پیغام دینے والے صوفی بزرگ حاجی وارث علی شاہ کی درگاہ پر کھیلی جانے والی ہولی میں مذہب کی حدیں ٹوٹتی نظر آتی ہیں۔ یہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ ہولی کھیل کر ایک دوسرے کے گلے مل کر ہولی کی مبارکباد دیتے ہیں۔

بارہ بنکی: ہندو مسلم اتحاد کی مثال اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ سے متصل ضلع بارہ بنکی کے دیوا شریف کی انوکھی ہولی کے اپنے ہی رنگ ہیں اور یہاں تمام مذاہب کے لوگ ملک کے کونے کونے سے ہولی کھیلنے آتے ہیں۔

ہولی رنگوں کا تہوار ہے۔ یہ تہوار ہر جگہ اپنے انداز سے منایا جاتا ہے۔ متھرا ورینداون اور برسانا کی ہولی کو دیکھنے کے لئے بیرون ممالک سے سیاح بھی آتے ہیں۔ ہولی کو لوگ آپسی بھائی چارے کا تہوار بھی سمجھتے ہیں، برسانا کی لٹھ مار ہولی پورے ملک اور بیرون ممالک میں مشہور ہے۔ لیکن ابھی بات بارہ بنکی میں واقع صوفی بزرگ حاجی وارث علی شاہ کی مزار پر کھیلی جانے والی ہولی کی ہے۔

درگاہ پر کھیلی جانے والی ہولی میں مذہب کی حدیں ٹوٹتی نظر آتی ہیں

اتحاد کا پیغام دینے والے صوفی بزرگ حاجی وارث علی شاہ کی درگاہ پر کھیلی جانے والی ہولی میں مذہب کی حدیں ٹوٹتی نظر آتی ہیں۔ یہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ ہولی کھیل کر ایک دوسرے کے گلے مل کر ہولی کی مبارکباد دیتے ہیں۔

ملک بھر سے ہندو، مسلمان، سکھ یہاں آکر حاجی وارث علی شاہ کی درگاہ پر ایک ساتھ ہولی کھیلتے ہیں۔ رنگ، گلاب اور پھولوں سے مختلف مذاہب کی طرف سےکھیلی جانے والی ہولی دیکھنے میں حیرت انگیز نظر آتی ہے۔

سینکڑوں برسوں سے جاری اس انوکھی ہولی کو دہلی سے مسلسل 30 برسوں سے کھیلنے آرہے سردار پرمجیت سنگھ بتاتے ہیں کہ وہ ہولی پر گھر میں قید ہو جایا کرتے تھے، لیکن تیس سال قبل یہاں ہولی کھیلنے آئے تو یہاں کے بسنتی رنگ میں رنگ گئے اور شاید زندگی بھر یہ رنگ اترنے والا نہیں ہے۔ مرزاپور سے ہولی کھیلنے آئی خاتون نے بتایا کہ حاجی وارث علی شاہ کے پیغام سے اتنی متاثر ہوئی کہ وہ اب ہمیشہ یہاں ہولی کھیلنے آتی ہیں۔

یہاں ہولی گزشتہ 100 سے زیادہ سے کھیلی جا رہی ہے۔ پہلے یہاں اتنی بھیڑ نہیں ہوتی تھی اور قصبے کے ہی لوگ یہاں کی وارث سرکار کے قدم پر رنگ چڑھاتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہولی کی شکل تبدیل ہوگئی اور باہر سے لوگ یہاں ہولی کھیلنے آنا شروع ہوگئے۔

انٹونی بلنکن شام کے مسئلے پر کریں گے سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت

0
انٹونی بلنکن شام کے مسئلے پر کریں گے سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت
انٹونی بلنکن شام کے مسئلے پر کریں گے سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس سے اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات اور ایتھوپیا سے لے کر میانمار تک مختلف امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی اطلاعات کے مطابق بلنکن ملک شام میں جنگ بندی کی بحالی اور کمزور طبقے کو بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی امداد فراہم کرنے میں امریکی تعاون کو مستحکم کریں گے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ مسٹر بلنکن اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس سے ملاقات کریں گے اور ان سے اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات اور ایتھوپیا سے لے کر میانمار تک مختلف امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

بی ایس پی میں پنچایت انتخابات کے اچھے نتائج کی بنیاد پر ہی اسمبلی الیکشن کا ٹکٹ دیا جائے گا

0
بی ایس پی میں پنچایت انتخابات کے اچھے نتائج کی بنیاد پر ہی اسمبلی الیکشن کا ٹکٹ دیا جائے گا
بی ایس پی میں پنچایت انتخابات کے اچھے نتائج کی بنیاد پر ہی اسمبلی الیکشن کا ٹکٹ دیا جائے گا

مایاوتی نے پنچایت انتخابات کے لئے ہرڈویژن میں لیڈران کی ذمہ داری مقررکردی ہے۔ انہوں نے ٹکٹ کے لئے پرانے نظام میں تبدیلی کی ہے۔

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی ریاست میں اگلے ماہ ہونے والے پنچایت انتخابات کے ساتھ ہی 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاری میں مصروف ہے اس لئے بی ایس پی سربراہ نے واضح کردیا ہے کہ اگر اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ چاہیے تو پنچایت الیکشن میں اچھے نتائج دینے ہوں گے۔

اسمبلی انتخابات کے ٹکٹ کے لئے ان کے نام پر ہی غورکیا جائے گا جوپنچایت انتخابات میں بہتر نتائج دیں گے۔ اس طرح پارٹی سربراہ نے اپنی پارٹی کے لیڈران اور کارکنان کو واضح پیغام دے دیا ہے۔

محترمہ مایاوتی نے پنچایت انتخابات کے لئے ہرڈویژن میں لیڈران کی ذمہ داری مقررکردی ہے۔ انہوں نے ٹکٹ کے لئے پرانے نظام میں تبدیلی کی ہے۔ اسمبلی انتخابات میں اب سفارش کی بنیادپر ٹکٹ نہیں ملے گا۔ ٹکٹ دینے سے پہلے زمینی حقیقت پرکھی جائے گی تبھی ٹکٹ دیا جائے گا

مسلم تنظیمیں قدرتی آفات اور فسادات کے دوران مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کی بازآبادکاری پربھی یکساں توجہ دیں۔ آئی جی عبدالرحمان

0
مسلم تنظیمیں قدرتی آفات اور فسادات کے دوران مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کی بازآبادکاری پربھی توجہ دیں
مسلم تنظیمیں قدرتی آفات اور فسادات کے دوران مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کی بازآبادکاری پربھی توجہ دیں

کہیں بھی فسادات، قدرتی آفات یا مصیبت آتی ہے تو مسلم تنظیمیں بازآبادکاری کے کام میں حصہ لیتی ہیں اور بلاتفریق مذہب کام کرتی ہیں لیکن اس میں شدت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے: آئی جی عبدالرحمان

نئی دہلی/فاربس گنج: مسلمانوں اور مسلم تنظیموں سے مصیبت اور قدرتی آفات یا فسادات کے دوران مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کی یکساں بازآبادکاری پر زور دیتے ہوئے مہاراشٹر کے سابق آئی جی عبدالرحمان نے کہاکہ اس سے دونوں فرقوں کے درمیان پلنے والی منافرت میں کمی آئے گی۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ دنوں ناگرک ادھیکار منچ فاربس گنج کے زیراہتمام ’اقلیتوں کے مسائل اور حل‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کلیدی خطاب میں کہاکہ جب کہیں بھی فسادات، قدرتی آفات یا مصیبت آتی ہے تو مسلم تنظیمیں بازآبادکاری کے کام میں حصہ لیتی ہیں اور بلاتفریق مذہب کام کرتی ہیں لیکن اس میں شدت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے اور اگر کسی مسلمان کی بازآبادکاری کی جارہی ہے تو پڑوسی ہندو اگر متاثر ہوا ہے تو اس کی بھی بازآبادکاری کریں اس سے معاشرے میں پھیلے نفرت کے زہر میں کمی آئے گی اور فرقہ پرستوں کو دنداں شکن جواب ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی پسماندہ ہیں بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی پسماندگی کے شکار ہیں۔

انہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ 1947 جب ملک آزاد ہوا اور بدقسمتی سے ملک تقسیم ہوا اور اس کا اثر یہاں رہنے والے مسلمانوں پر، ان کی جائداد پرپڑا اور اس پر 1980 کے درمیان گوپال پینل رپورٹ اندراگاندھی کے زمانہ میں آئی اس میں اتنے خراب حالات تھے کہ وہ رپورٹ شائع نہیں ہوئی۔

اگر کسی مسلمان کی بازآبادکاری کی جارہی ہے تو پڑوسی ہندو اگر متاثر ہوا ہے تو اس کی بھی بازآبادکاری کریں اس سے معاشرے میں پھیلے نفرت کے زہر میں کمی آئے گی اور فرقہ پرستوں کو دنداں شکن جواب ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی پسماندہ ہیں بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی پسماندگی کے شکار ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سچرکمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ کہاکہ مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہے اگر حکومت نے انہیں مین اسٹریم میں نہیں لائی تو یہ نئے دلت کہلائیں گے۔اس پر لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے2007 میں رنگناتھ مشرا کمیشن کی تشکیل ہوئی۔اس کمیشن نے کہاکہ مسلمانوں کے حالات سماجی اور اقتصادی اعتبار سے بہت خراب ہیں 15 فیصد ریزرویشن کو اقلیت کو دیا جائے اور اس میں دس فیصد مسلمانوں کو دیا جائے۔ کمیٹی نے یہ بھی کہاکہ مسلمانوں میں جو دلت ہیں اس کو دلت کا درجہ دیا جائے اور جو قبائیلی ہیں اس کی مردم شماری کرائیں۔

انہوں نے بابائے قوم مہاتماگاندھی حوالہ سے کہاکہ اگر کسی ملک کو جانچنا ہوتو یہ دیکھا جائے کہ وہاں کی اقلیت کیسی ہے کسحال میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہندو سوسائٹی کا جائزہ لیں تو پائیں گے کہ وہاں مختلف طبقات مثلا ایس سی ایس ٹی، نائی، بھومیہار، برہمن ہیں اسی طرح مسلم سماج بھی طبقہ میں بٹا ہوا ہے فرق اتنا ہے کہ ہم اسلام کو مانتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ 2014 سے جب سے یہ حکومت بنی ہے مسلمانوں کے ساتھ امتیازبڑھ گیاہے۔ ماب لنچنگ کے شکار لوگوں کو کوئی انصاف نہیں ملتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ بولتے ہیں پاکستان چلے جاؤ ان سے کہو کہ پہلے وہ ویزا لگوادیں ہم پاکستان چلے جائیں گیا۔

روزنامہ ’انقلاب‘ پٹنہ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹراحمد جاوید نے اپنے خطاب میں دعوی کیا کہ ملک انصاف اور جمہوریت کی راہ پہ جیسے ہی آگے بڑھتا ہے ایک طبقہ عداوت و منافرت کو ہوا دینے کے لئے پوری قوت سے لگ جاتا ہے اور یہ کوششیں اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسلام کی تاریخ میں چند ہی ڈوکیومنٹ ہے جو تحریری ہے جس میں میثاق مدینہ بھی ہے اور میثاق مدینہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ اقلیت کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھا جانا قبیح فعل ہے مگر صرف اپنے ساتھ ہوئے ظلم کو دوہرانا مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ پوری قوت اور عزم کے ساتھ حالات سے مقابلہ کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ اپنے لئے از خود کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے تب جاکر اقلیت کے مسائل کا حل ہوسکے گا اس کے لئے چھوٹے موٹے کام سمیت ہراس کام کو کرنے کی ضرورت ہے جس ہمارے لئے سرخروئی کا راہ ہموار کرسکے۔

"کوئی بھی اصلاحی تحریک کی ابتداء گھر سے ہونی چاہئے اور اگر آپ معاشرہ کو درست کرنا چاہتے ہیں پہلے اپنے آپ کو درست کریں، پھر گھر کو کریں اور پھر معاشرے کو بہترہونے کے لئے کہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپنا احتساب کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم اپنی خامیوں کا صدق دلی سے جائزہ نہیں لیں گے اس وقت تک کسی بھی معاملے میں ہمارا قدم صحیح جگہ پر نہیں پڑے گا۔”

عابد انور۔ (سینئر صحافی یو این آئی)

مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت ہوئے یو این آئی سینئر صحافی عابد انور نے کہا کہ کوئی بھی اصلاحی تحریک کی ابتداء گھر سے ہونی چاہئے اور اگر آپ معاشرہ کو درست کرنا چاہتے ہیں پہلے اپنے آپ کو درست کریں، پھر گھر کو کریں اور پھر معاشرے کو بہترہونے کے لئے کہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپنا احتساب کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم اپنی خامیوں کا صدق دلی سے جائزہ نہیں لیں گے اس وقت تک کسی بھی معاملے میں ہمارا قدم صحیح جگہ پر نہیں پڑے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اپنی آمدنی کا 40فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کریں گے اور جب تک ایسا نہیں کریں گے ہمارے معاشرے سے ذہنی، تعلیمی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی پسماندگی دور نہیں ہوگی۔

صدارتی خطاب میں پروگرام کے کنوینر شاہجہاں شاد نے کہاکہ شمال مشرقی بہار کا یہ خطہ سیمانچل اقلیتی اکثریتی والا علاقہ ہے لہذا اقلیت کے ساتھ بھید بھاؤ کے اثرات بھی یہاں زیادہ ہے انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے اقلیت کو پہلے کھڑا ہونا ہوگا اس کے بعد لوگ ساتھ آئیں گے۔اس کے علاوہ اظہار خیال کرنے والوں میں رضوان الحق،عبدالجبار ندوی، مفتی یعقوب ندوی، مولانا عبدالرشید قاسمی، غیاث الدین نعمانی اور مفتی محمد انصار قاسمی شامل تھے۔ قبل ازیں فیروز نعمانی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ نظامت کے فرائض مولانا عبدالرحمان قاسمی اور مولانا فارق مظہری کے اظہار تشکر کیا۔

[یواین آئی]

چین اور روس سے نمٹنے کے لئے نئی جنگی حکمت عملی تیار کررہا ہے امریکہ

0
چین اور روس سے نمٹنے کے لئے نئی جنگی حکمت عملی تیار کررہا ہے امریکہ
چین اور روس سے نمٹنے کے لئے نئی جنگی حکمت عملی تیار کررہا ہے امریکہ

امریکہ کی اس نئی جنگی حکمت عملی کے تحت، سائبر حملوں، بحیرہ بالٹک اور آرکٹک میں روس کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے علاوہ، بحیرہ جنوبی چین میں چین کی مستحکم ہوتی حیثیت سے نمٹنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

واشنگٹن: امریکہ کی فوج چین اور روس کی وجہ سے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ایک جامع جنگی حکمت عملی تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

سی این این نے ہفتہ کو اپنی ایک رپورٹ میں امریکی دفاع ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔

رپورٹ میں امریکی وزارت دفاع کے حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بحر اوقیانوس میں چین اور روس کی باغی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لئے ایک نئی جنگی حکمت عملی تیار کی جائے گی جس کے تحت امریکی فوج کے اعلی افسران کو خصوصی تربیت دی جائے گی۔ امریکی فوجی افسران بھی عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔

امریکہ کی اس نئی جنگی حکمت عملی کے تحت، سائبر حملوں، بحیرہ بالٹک اور آرکٹک میں روس کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے علاوہ، بحیرہ جنوبی چین میں چین کی مستحکم ہوتی حیثیت سے نمٹنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

امریکہ کی جنگی حکمت عملی امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کی نگرانی میں، آرمی کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مارک ملے کی زیر صدارت ہوگی۔

تشدد کے سائے میں پولنگ، 80 فیصد سے زیادہ ووٹنگ

0
تشدد کے سائے میں پولنگ، 80 فیصد سے زیادہ ووٹنگ
تشدد کے سائے میں پولنگ، 80 فیصد سے زیادہ ووٹنگ

مغربی بنگال کے بیر بھیم میں پیروئی کے ایک تالاب سے ترنمول کانگریس کے حامی کی ایک اور لاش برآمد ہوئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب آج پہلے مرحلے کی پولنگ ہو رہی ہے ایسے میں یہ اموات سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

کلکتہ: مغربی بنگال کے مغربی مدنی پور کے کیساری میں ایک غیر فطری موت کی خبر سامنے آئی ہے۔ مغربی بنگال کے بیر بھیم میں پیروئی کے ایک تالاب سے ترنمول کانگریس کے حامی کی ایک اور لاش برآمد ہوئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب آج پہلے مرحلے کی پولنگ ہو رہی ہے ایسے میں یہ اموات سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

خیال رہے کہ ریاست میں 30 سیٹوں پر پہلے کی پولنگ ہو رہی ہے۔ جس میں پرولیا، مغربی مدنی پور، مشرقی مدنی پور، جھاڑ گرام اور بانکوڑہ کی 30 سیٹوں پر پولنگ ہورہی ہے۔اطلاعات کے مطابق شام 6بجے تک 80فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔

بی جے پی کے ریاستی انچارج کیلاش وجے ورگی نے کہا کہ ان کے ایک حامی کو مغربی مدنی پور میں ذبح کردیا گیا ہے۔ ہم نے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل کی جانچ ہونی چاہیے۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پیچھے ترنمول کانگریس کا ہاتھ ہے۔ دوسری جانب بیر بھوم میں ترنمول کانگریس کے حامی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ اس کیلئے ترنمول کانگریس نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے۔

خیال رہے کہ شام پانچ بجے تک 30 سیٹوں پر مجموعی طور پر 79.77 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ مشرقی مدنی پور میں 82.51 فیصد، مغربی مدنی پور میں 80.12 فیصد، جھاڑگرام میں 90.55 فیصد، پرولیا میں 77.70 اور بانکوڑہ میں 79.90 فیصد پولنگ ہوئی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلی ممتا بنرجی اور گورنر جگدیپ دھنکر نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا، ‘آج، مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو رہا ہے۔ میں تمام لوگوں سے درخواست کروں گا کہ وہ ریکارڈ تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

مغربی بنگال اور آسام میں رائے دہندگی میں تیزی

0
مغربی بنگال اور آسام میں رائے دہندگی میں تیزی
مغربی بنگال اور آسام میں رائے دہندگی میں تیزی

مغربی بنگال میں 30 اور آسام میں 47 اسمبلی حلقوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان ووٹنگ کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوا۔ مغربی بنگال کے 30 اسمبلی حلقوں میں کل 191 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ دوسری جانب آسام کے 47 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

نئی دہلی: مغربی بنگال میں 30 اور آسام میں 47 اسمبلی حلقوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان ووٹنگ کے پہلے مرحلے کا آغاز ہفتہ کی صبح ہوا۔

مغربی بنگال کے 30 اسمبلی حلقوں میں کل 191 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ ریاست کے 10288 پولنگ بوتھوں پر 73 لاکھ سے زیادہ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اس ریاست کے جنگل محل حلقہ میں ووٹنگ کا پہلا مرحلہ جاری ہے۔ 730 کمپنی سیکیورٹی فورسز کو یہاں تعینات کیا گیا ہے۔ ووٹنگ کے دوران کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں شروعات میں ووٹنگ کی رفتار تیز ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

دوسری جانب سخت سیکیورٹی کے درمیان آسام کے 47 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ آسام کے وزیر اعلی سربانند سونووال کی قسمت کا فیصلہ بھی آج ہی ہوگا۔ لوگوں میں ووٹنگ کیلئے کافی جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور صبح سے ہی لوگ پولنگ اسٹیشنوں پر جمع ہونے لگے ہیں ۔

ماضی کے مقابلہ میں اس بار بڑی تعداد میں پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے بہت کم مقامات پر رائے دہندگان کی لمبی قطاریں دکھائی دیں۔

آسام میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کا آغاز

0
آسام میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کا آغاز
آسام میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کا آغاز

آسام اسمبلی انتخابات تین مراحل میں ہوں گے اور پہلے مرحلے کی ووٹنگ آج شروع ہوگئی۔ دریں اثنا، چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر پولنگ کو ایک گھنٹہ کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔

گوہاٹی: آسام اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 12 اضلاع کی 47 نشستوں کے لئے پولنگ ہفتہ کی صبح 7 بجے شروع ہوگئی۔ ووٹ ڈالنے کے لئے کووڈ ۔ 19 کے تمام پروٹوکول پر عمل کیا جارہا ہے۔

سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ ریاست کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ جاری ہے۔ لوگوں میں ووٹنگ کے حوالہ سے خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور صبح سے ہی لوگ پولنگ بوتھوں پر جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ریاست میں ووٹنگ کے دوران کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 1،1537 پولنگ اسٹیشنوں پر کل 81،09،815 ووٹرز، جن میں 40،77،210 مرد اور 40،32،481 خواتین شامل ہیں، اپنے حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

آسام اسمبلی انتخابات تین مراحل میں ہوں گے اور پہلے مرحلے کی ووٹنگ آج شروع ہوگئی۔ دریں اثنا، چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر پولنگ کو ایک گھنٹہ کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔

ریاست کے کچھ اہم سیاستدانوں کی قسمت کا فیصلہ آج

ریاست کے کچھ اہم سیاستدانوں کی قسمت کا فیصلہ آج ہی ہوگا جن میں وزیر اعلی سربانند سونووال بھی شامل ہیں، جو ماجولی سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ آسام کانگریس کے ریاستی صدر رپن بوڑہ بھی گوہ پور سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جیل میں بند سماجی کارکن اور کاشتکاروں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے نو تشکیل ’رائے جور دل‘ کے صدر اکھل گوگوئی شیوساگر سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

آسام اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 37 سے زیادہ ایم ایل اے دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔

2016 میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی اے جی پی نے 35 نشستیں جیتی تھی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز

0
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز ہفتہ کی صبح ہوگیا۔ لوگ ووٹنگ کے لئے لمبی قطار میں کھڑے نظر آئے۔ جو اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ریاست کے جن پانچ اضلاع کے 30 حلقوں میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں ان میں پرولیا، مغربی میدنی پور پارٹ ون، بانکورہ پارٹ 1، مشرقی میدنی پور پارٹ 1 اور جھارگرام کے حصے شامل ہیں۔

کولکتہ: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز ہفتہ کی صبح ہوگیا۔ ریاست کی کل 294 نشستوں میں سے پہلے مرحلے میں پانچ اضلاع کی 30 اسمبلی نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے۔ ووٹنگ کے لئے سیکیورٹی کے وسیع انتظامات کئے گئے ہیں۔

لوگ ووٹنگ کے لئے لمبی قطار میں کھڑے نظر آئے۔ جو اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ریاست میں اب تک ووٹنگ کا عمل پوری طور سے جاری ہے۔

ریاست کے جن پانچ اضلاع کے 30 حلقوں میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں ان میں پرولیا، مغربی میدنی پور پارٹ ون، بانکورہ پارٹ 1، مشرقی میدنی پور پارٹ 1 اور جھارگرام کے حصے شامل ہیں۔

ریاست کے 30 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ کا پہلا مرحلہ آج صبح سے شروع ہوگیا، ان میں پٹاش پور، کانٹھی شمالی، بھگوان پور، کھیجوری (محفوظ)، کانٹھی جنوبی، رام نگر، ایگرہ، دانتان، نیاگرام ( محفوظ)، گوپی بلب پور، جھارگرام، کیشاری۔ ( محفوظ)، کھڑگ پور، گاربیٹا، سلبانی، میدنی پور، بِن پور ( محفوظ) بندوان ( محفوظ) بلرام پور، باگھ منڈی، جوئے پور، پرولیا، من بازار ( محفوظ) کاشی پور، پارا ( محفوظ)، رگھوناتھ پور ( محفوظ) سلتورا ( محفوظ)، چھاٹنا، رانی بندھ ( محفوظ) اور رائے پور ( محفوظ) ہیں۔

191 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ آج

مغربی بنگال میں پہلے مرحلے میں 73 لاکھ ووٹرز بشمول 37.5 لاکھ مرد اور 36.2 لاکھ خواتین اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں۔ یہ رائے دہندگان 191 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ جس میں 21 خواتین امیدوار شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کے وقت میں 30 منٹ کی توسیع کردی ہے۔ انتخابی پینل نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب رائے دہندگان صبح سات بجے سے شام چھ بجے تک ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ کووڈ 19 پابندیوں کے پیش نظر لیا گیا ہے۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے آج پانچ اضلاع میں 7034 مقامات پر 10288 پولنگ اسٹیشنوں پر سیکورٹی فورسز کی کم از کم 684 کمپنیاں تعینات کردی ہیں۔

ایک افسر نے بتایا کہ انتخابات کے لئے مرکزی فورس کی کل 144 کمپنیاں جھارگرام میں تعینات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں تک کہ کووڈ 19 جیسے بخار کی علامت والے لوگ شام 5 بجے سے شام ساڑھے 6 بجے کے درمیان آکر ووٹ ڈال سکتے ہیں۔