جمعہ, جولائی 3, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 380

مغربی بنگال اور آسام میں رائے دہندگی میں تیزی

0
مغربی بنگال اور آسام میں رائے دہندگی میں تیزی
مغربی بنگال اور آسام میں رائے دہندگی میں تیزی

مغربی بنگال میں 30 اور آسام میں 47 اسمبلی حلقوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان ووٹنگ کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوا۔ مغربی بنگال کے 30 اسمبلی حلقوں میں کل 191 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ دوسری جانب آسام کے 47 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

نئی دہلی: مغربی بنگال میں 30 اور آسام میں 47 اسمبلی حلقوں میں سخت سیکیورٹی کے درمیان ووٹنگ کے پہلے مرحلے کا آغاز ہفتہ کی صبح ہوا۔

مغربی بنگال کے 30 اسمبلی حلقوں میں کل 191 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ ریاست کے 10288 پولنگ بوتھوں پر 73 لاکھ سے زیادہ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اس ریاست کے جنگل محل حلقہ میں ووٹنگ کا پہلا مرحلہ جاری ہے۔ 730 کمپنی سیکیورٹی فورسز کو یہاں تعینات کیا گیا ہے۔ ووٹنگ کے دوران کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں شروعات میں ووٹنگ کی رفتار تیز ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

دوسری جانب سخت سیکیورٹی کے درمیان آسام کے 47 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ آسام کے وزیر اعلی سربانند سونووال کی قسمت کا فیصلہ بھی آج ہی ہوگا۔ لوگوں میں ووٹنگ کیلئے کافی جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور صبح سے ہی لوگ پولنگ اسٹیشنوں پر جمع ہونے لگے ہیں ۔

ماضی کے مقابلہ میں اس بار بڑی تعداد میں پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے بہت کم مقامات پر رائے دہندگان کی لمبی قطاریں دکھائی دیں۔

آسام میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کا آغاز

0
آسام میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کا آغاز
آسام میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کا آغاز

آسام اسمبلی انتخابات تین مراحل میں ہوں گے اور پہلے مرحلے کی ووٹنگ آج شروع ہوگئی۔ دریں اثنا، چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر پولنگ کو ایک گھنٹہ کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔

گوہاٹی: آسام اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 12 اضلاع کی 47 نشستوں کے لئے پولنگ ہفتہ کی صبح 7 بجے شروع ہوگئی۔ ووٹ ڈالنے کے لئے کووڈ ۔ 19 کے تمام پروٹوکول پر عمل کیا جارہا ہے۔

سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ ریاست کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ جاری ہے۔ لوگوں میں ووٹنگ کے حوالہ سے خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور صبح سے ہی لوگ پولنگ بوتھوں پر جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ریاست میں ووٹنگ کے دوران کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 1،1537 پولنگ اسٹیشنوں پر کل 81،09،815 ووٹرز، جن میں 40،77،210 مرد اور 40،32،481 خواتین شامل ہیں، اپنے حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

آسام اسمبلی انتخابات تین مراحل میں ہوں گے اور پہلے مرحلے کی ووٹنگ آج شروع ہوگئی۔ دریں اثنا، چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر پولنگ کو ایک گھنٹہ کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔

ریاست کے کچھ اہم سیاستدانوں کی قسمت کا فیصلہ آج

ریاست کے کچھ اہم سیاستدانوں کی قسمت کا فیصلہ آج ہی ہوگا جن میں وزیر اعلی سربانند سونووال بھی شامل ہیں، جو ماجولی سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ آسام کانگریس کے ریاستی صدر رپن بوڑہ بھی گوہ پور سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جیل میں بند سماجی کارکن اور کاشتکاروں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والے نو تشکیل ’رائے جور دل‘ کے صدر اکھل گوگوئی شیوساگر سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

آسام اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 37 سے زیادہ ایم ایل اے دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔

2016 میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی اے جی پی نے 35 نشستیں جیتی تھی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز

0
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز ہفتہ کی صبح ہوگیا۔ لوگ ووٹنگ کے لئے لمبی قطار میں کھڑے نظر آئے۔ جو اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ریاست کے جن پانچ اضلاع کے 30 حلقوں میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں ان میں پرولیا، مغربی میدنی پور پارٹ ون، بانکورہ پارٹ 1، مشرقی میدنی پور پارٹ 1 اور جھارگرام کے حصے شامل ہیں۔

کولکتہ: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کا آغاز ہفتہ کی صبح ہوگیا۔ ریاست کی کل 294 نشستوں میں سے پہلے مرحلے میں پانچ اضلاع کی 30 اسمبلی نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے۔ ووٹنگ کے لئے سیکیورٹی کے وسیع انتظامات کئے گئے ہیں۔

لوگ ووٹنگ کے لئے لمبی قطار میں کھڑے نظر آئے۔ جو اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ریاست میں اب تک ووٹنگ کا عمل پوری طور سے جاری ہے۔

ریاست کے جن پانچ اضلاع کے 30 حلقوں میں ووٹ ڈالے جارہے ہیں ان میں پرولیا، مغربی میدنی پور پارٹ ون، بانکورہ پارٹ 1، مشرقی میدنی پور پارٹ 1 اور جھارگرام کے حصے شامل ہیں۔

ریاست کے 30 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ کا پہلا مرحلہ آج صبح سے شروع ہوگیا، ان میں پٹاش پور، کانٹھی شمالی، بھگوان پور، کھیجوری (محفوظ)، کانٹھی جنوبی، رام نگر، ایگرہ، دانتان، نیاگرام ( محفوظ)، گوپی بلب پور، جھارگرام، کیشاری۔ ( محفوظ)، کھڑگ پور، گاربیٹا، سلبانی، میدنی پور، بِن پور ( محفوظ) بندوان ( محفوظ) بلرام پور، باگھ منڈی، جوئے پور، پرولیا، من بازار ( محفوظ) کاشی پور، پارا ( محفوظ)، رگھوناتھ پور ( محفوظ) سلتورا ( محفوظ)، چھاٹنا، رانی بندھ ( محفوظ) اور رائے پور ( محفوظ) ہیں۔

191 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ آج

مغربی بنگال میں پہلے مرحلے میں 73 لاکھ ووٹرز بشمول 37.5 لاکھ مرد اور 36.2 لاکھ خواتین اپنا حق رائے دہی استعمال کررہے ہیں۔ یہ رائے دہندگان 191 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ جس میں 21 خواتین امیدوار شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے ووٹنگ کے وقت میں 30 منٹ کی توسیع کردی ہے۔ انتخابی پینل نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب رائے دہندگان صبح سات بجے سے شام چھ بجے تک ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ کووڈ 19 پابندیوں کے پیش نظر لیا گیا ہے۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے آج پانچ اضلاع میں 7034 مقامات پر 10288 پولنگ اسٹیشنوں پر سیکورٹی فورسز کی کم از کم 684 کمپنیاں تعینات کردی ہیں۔

ایک افسر نے بتایا کہ انتخابات کے لئے مرکزی فورس کی کل 144 کمپنیاں جھارگرام میں تعینات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں تک کہ کووڈ 19 جیسے بخار کی علامت والے لوگ شام 5 بجے سے شام ساڑھے 6 بجے کے درمیان آکر ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر مغربی ممالک سلامتی کونسل میں بحث کرانا چاہتے ہیں

0
شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر مغربی ممالک سلامتی کونسل میں بحث کرانا چاہتے ہیں
شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر مغربی ممالک سلامتی کونسل میں بحث کرانا چاہتے ہیں

شمالی کوریا نے حال ہی میں دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔ اس پر متعدد مغربی ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ: متعدد مغربی ممالک 30 مارچ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے معاملے پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں۔

سلامتی کونسل کے ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ درخواست یوروپی یونین کے سبھی ملک کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کے ممبر ملک فرانس کے ذریعہ کی گئی ہے‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ شمالی کوریا نے جمعرات کے روز دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔

کسانوں کے بھارت بند کا ملا جلا اثر

0
کسانوں کے بھارت بند کا ملا جلا اثر
کسانوں کے بھارت بند کا ملا جلا اثر

12 گھنٹے کے بھارت بند کا اثر سب سے زیادہ پنجاب، ہریانہ، راجستھان کے علاقوں میں دیکھا گیا، جبکہ باقی ریاستوں میں بھی اس کا ملا جلا اثر رہا۔

نئی دہلی: تین زرعی اصلاحاتی قوانین کے خلاف کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کے لئے بلائے گئے 12 گھنٹے کے بھارت بند کا اثر پنجاب، ہریانہ، راجستھان کے علاقوں میں سب سے زیادہ دیکھا گیا، جبکہ باقی ریاستوں میں بھی اس کا ملا جلا اثر رہا۔

دارالحکومت دہلی کے غازی پور بارڈر پر یکجا مظاہرین کے پیش نظر صبح ٹریفک پولیس نے بارڈر پر ٹریفک روک دیا۔ ٹریفک پولیس نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ قومی شاہراہ نمبر 24 پر ٹریفک بند ہے۔ اس کے علاوہ دلی۔ ہریانہ، سندھو بارڈر پر بھی گاڑیوں کا جام لگا رہا۔ کسانوں نے ایمبولینس اور ضروری خدمات کو چھوڑ کر سبھی خدمات بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کانگریس، بائیں بازو سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں نے بند کی حمایت کی ہے۔

ریل اور سڑک ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر

پنجاب اور ہریانہ میں کسان تنظیموں کے بھارت بند کا آج اثر دیکھنے کو ملا۔ یہاں ریل اور سڑک ٹرانسپورٹ بری طرح متاثر رہیں۔ دلی سے کٹرہ جانے والی وندے ماترم ایکسپریس کو کسانوں نے کئی گھنٹوں تک روک رکھا۔ ہریانہ اور پنجاب کے کئی ٹریکوں پر احتجاج کرنے سے ریل ٹریفک متاثر رہا اور سڑک ٹریفک کو بھی بری طرح متاثر کیا جس سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

چنڈی گڑھ کے نزدیک ماحولی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک کسانوں نے دھرنا دیا اور ڈیرابسی میں بھی قومی شاہراہ میں رکاوٹ ڈالی۔ حفاظت کے سخت انتظامات کے باوجود کسان یونینوں کے مظاہرین ریل اور روڈ جام کرتے رہے۔ پٹیالہ، سمرالا، سنگرور، فرید کوڈ، فازلکا، لدھیانہ، ہوشیار پور سمیت پورے پنجاب میں بند کا وسیع اثر رہا۔ بھاکیو (ایکتا-اُگراہاں) ضلع موگا ضلع میں مکمل طور پر بند رکھا گیا اور ریاست میں متعدد مقامات پر ریل اور روڈ ویز بند کردیئے۔

وزیراعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کے دو روزہ دورے پر روانہ

0
وزیراعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کے دو روزہ دورے پر روانہ
وزیراعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کے دو روزہ دورے پر روانہ

مسٹر مودی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی دعوت پر پڑوسی ملک کے قیام کے گولڈن جبلی اور بانیٔ ملک بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن کے سوسالہ یوم پیدائش کی تقریب کے موقع پر شرکت کے لئے وہاں گئے ہیں۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کے دو روزہ دورے پر جمعہ کی صبح ڈھاکہ کیلئے روانہ ہوگئے۔

مسٹر مودی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی دعوت پر پڑوسی ملک کے قیام کے گولڈن جبلی اور بانیٔ ملک بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن کے سوسالہ یوم پیدائش کی تقریب کے موقع پر شرکت کے لئے وہاں گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسٹر مودی ڈھاکہ پہنچنے کے فوراً بعد شہدا کی قومی یادگار جائیں گے اور بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ اس کے بعد وہ سہ پہر میں بنگلہ دیش کے قومی دن کے پروگرام میں شرکت کے بعد شام کو ’باپوبنگ بندھو ڈیجیٹل ویڈیو نمائش‘ کا افتتاح کریں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم بنگلہ دیش کے صدر عبدالحمید سے ملاقات کریں گے اور میزبان وزیر اعظم حسینہ کے ساتھ ایک وفد سطح کی میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ وہ بنگلہ دیش کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے۔

26 مارچ جمعہ کو کسانوں کا بھارت بند

0

کسانوں کا احتجاج کرتے ہوئے 100 دن ہو چکے ہيں اور اب 26 مارچ کو بھارت بند کا اعلان کیا گیا ہے۔ کسان لیڈروں نے بند کو کامیاب بنانے کے لئے ضلع بھر کے تجارتی اداروں سے رابطہ کیا ہے۔

الور: راجستھان کے الور میں زراعتی قوانین کے خلاف شاہجہاں پور-ہریانہ سرحد پر کسانوں کا احتجاج کرتے ہوئے 100 دن ہو چکے ہيں اور اب 26 مارچ کو بھارت بند کا اعلان کیا گیا ہے۔

کسان لیڈروں نے بند کو کامیاب بنانے کے لئے ضلع بھر کے تجارتی اداروں سے رابطہ کیا ہے۔ بند سے ایک روز قبل جمعرات کے روز کسان رہنماؤں نے بہروڑ، نیمرانہ، الور سمیت مختلف مقامات پر تاجروں سے ملاقاتیں کیں۔ بارڈر پر بیٹھے کسانوں نے انتباہ دیا ہے کہ وہ شاہراہ پر ٹریفک جام رکھیں گے۔

مقامی انتظامیہ بھارت بند کے حوالے سے الرٹ ہے۔ اس سے قبل ٹول فری کے دن کسانوں نے ضلع بھر میں مختلف مقامات پر احتجاج کیا تھا۔ کسان رہنما راجہ رام میل اور بلویر چلر نے بتایا کہ ملک گیر بند کی تیاریاں جاری ہیں۔ ہر جگہ پر کاروباری تنظیموں سے مدد مل رہی ہے۔

جئے رام رمیش کا نئے بینک کے قیام کے لئے بغیر جانچ پڑتال کے بل لانے پر اعتراض

0
جئے رام رمیش کا نئے بینک کے قیام کے لئے بغیر جانچ پڑتال کے بل لانے پر اعتراض
جئے رام رمیش کا نئے بینک کے قیام کے لئے بغیر جانچ پڑتال کے بل لانے پر اعتراض

راجیہ سبھا میں قومی انفراسٹرکچر اینڈ ڈویلپمنٹ بل 2021 کیلئے بغیر کسی جانچ کے ایوان میں قومی بینک متعارف کروانے پر اعتراض کرتے ہوئے کانگریس کے جئے رام رمیش نے کہا کہ اس کے لئے 20،000 کروڑ روپئے کے سرکاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

نئی دہلی: کانگریس کے جئے رام رمیش نے جمعرات کے روز راجیہ سبھا میں نیشنل بینک فار فنانسنگ انفراسٹرکچر اینڈ ڈویلپمنٹ بل 2021 کو بغیر جانچ کے ایوان میں لائے جانے پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس میں 20 ہزار کروڑ روپے کا سرکاری سرمایہ لگے گا۔

مسٹر رمیش نے بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اسے جانچ کے لئے نہ تو ایوان کی قائمہ کمیٹی اور نہ ہی سلیکٹ کمیٹی میں بھیجا گیا ہے۔ بل پر بحث بھی دو گھنٹے کے لئے ہو رہی ہے۔ انہوں نے بینک میں ایکسٹرنل مانیٹرنگ سسٹم نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بینک میں سرمایہ کاری کرنے کے باوجود کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل اور پارلیمانی کمیٹی بھی جانچ نہیں کر سکے گی۔

انہوں نے بل کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر کی تعمیر کی غرض سے طویل عرصے کے لئے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں گھریلو بچت لگایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں کے لئے مالیاتی ترقیاتی اداروں کی تعمیر کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ سنہ 1948 میں آئی آئی سی اے قانون واضع کیا گیا تھا۔

تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے خلاف پی جی کالج سکندرآباد کے طلبہ کا دھرنا و مظاہرہ

0
تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے خلاف پی جی کالج سکندرآباد کے طلبہ کا دھرنا و مظاہرہ
تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے خلاف پی جی کالج سکندرآباد کے طلبہ کا دھرنا و مظاہرہ

تعلیمی ادارے اور ہاسٹل بند رکھنے کے فیصلے کے خلاف تلنگانہ کے سکندرآباد میں طلباء نے پی جی کالج سکندرآباد کے سامنے دھرنا دیا۔ طلبہ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بند تعلیمی اداروں کو کھولا جائے۔

حیدرآباد: کورونا کی روک تھام کے نام پر تعلیمی اداروں اور ہاسٹلس کو بند کرنے کے فیصلہ کے خلاف تلنگانہ کے سکندرآباد میں طلبہ نے پی جی کالج سکندرآباد کے سامنے دھرنا دیا۔ طلبہ نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھام کر دھرنا دیا اور اپنے مطالبہ کی حمایت میں نعرے بازی کی۔

طلبہ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بند تعلیمی اداروں کو کھولا جائے۔ سڑک کے بیچوں بیچ دیئے گئے اس دھرنے کے نتیجہ میں بڑے پیمانہ پر ٹریفک جام ہوگئی اور گاڑی سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔

طلبہ نے کہا کہ ہاسٹلس کو بند کرنے سے ان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کلاسس کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ طلبہ نے اپنے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کیا۔

راجستھان: جپسی پلٹنے سے 3 فوجیوں کی موت، پانچ دیگر زخمی

0
راجستھان: جپسی پلٹنے سے 3 فوجیوں کی موت، پانچ دیگر زخمی
راجستھان: جپسی پلٹنے سے 3 فوجیوں کی موت، پانچ دیگر زخمی

راجستھان کے شری گنگا نگر ضلع کے راجیاسر تھانہ علاقہ میں چھتر گڑھ ہائی وے پر فوج کے ایک جپسی کے الٹنے کے نتیجے میں 3 فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

شری گنگا نگر: راجستھان کے ضلع شری گنگا نگر کے راجیاسر تھانہ علاقے میں چھتر گڑھ شاہراہ پر فوج کی ایک جپسی پلٹنے اور اس میں آگ لگنے سے 3 فوجیوں کی موت ہو گئی اور پانچ زخمی ہوگئے۔

تھانہ انچارج وکرم تیواری نے بتایا کہ زخمی فوجیوں کو سورت گڑھ کے سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راجیاسر تھانہ علاقے میں بدھ کی دیر رات تقریبا ڈیڑھ بجے چھتر گڑھ شاہراہ پر اندرا گاندھی نہر کے نزدیک یہ حادثہ پیش آیا۔

فوج کی 47 آرمرڈ رجمنٹ (بٹھنڈا یجکہہ، پنجاب) کے آٹھ فوجی جپسی میں جارہے تھے۔ اچانک جپسی بے قابو ہوکر پلٹتے ہوئے سڑک کے کنارے جھاڑیوں اور درختوں میں جا گری۔ اس کے بعد جپسی میں آگ لگ گئی۔ فوجیوں کو باہر نکلنے کا موقع نہیں ملا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت آس پاس کے لوگ جپسی پلٹنے کی آواز سن کر اور آگ کی لپٹیں دیکھ  کر بھاگ آئے، گاؤں والوں نے سخت مشقت کرکے پانچ جوانوں کو باہر نکالا لیکن تین کو باہر نہیں نکالا جاسکا۔ ان کی موقع پر ہی جلنے کی وجہ سے موت ہو گئی۔

مرنے والوں کی شناخت صوبیدار اے ممیجر، ہیڈ کانسٹیبل دیو کمار اور حوالدار ایس کے شکلا کے طور پر ہوئی ہے۔ زخمیوں میں ایس کے پرجاپتی (35)، انکت باجپائی (34)، امیش یادو (27)، اشوک اوجھا (28) ببلو (27) شامل ہیں۔ ایمرجنسی سروس 108 کی ایمبولینس سے زخمیوں کو سورت گڑھ کے سرکاری اسپتال بھیج دیا گیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ موقع پر پہنچے گاؤں والوں نے سورت گڑھ میں فائر بریگیڈ کو فون کیا۔ فوج کے افسر بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں اور معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔