جمعرات, اکتوبر 1, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 371

ناسک میں آکسیجن ٹینکر میں رساؤ کے سبب سپلائی متاثر ہونے سے 22 کورونا مریضوں کی موت 

0
ناسک میں آکسیجن ٹینکر میں رساؤ کے سبب سپلائی متاثر ہونے سے 22 کورونا مریضوں کی موت 
ناسک میں آکسیجن ٹینکر میں رساؤ کے سبب سپلائی متاثر ہونے سے 22 کورونا مریضوں کی موت 

آج صبح تقریباََ گیارہ بجے مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی کرنے والے ٹینکر میں رساؤ کے سبب تقریباََ آدھے گھنٹے تک آکسیجن کی سپلائی ٹھپ ہوگئی، جس کی وجہ سے 22 مریضوں کی موت ہوگئی۔ مرنے والوں میں 11 خواتین اور 11 مرد شامل ہیں۔

ناسک: مہاراشٹر کے ناسک میں ڈاکٹر ذاکر حسین اسپتال کے باہر آکسیجن ٹینکر میں رساؤ کے سبب سپلائی متاثر ہونے سے اسپتال میں داخل 22 مریضوں کی موت ہو گئی۔ ناسک میں میونسپل کارپوریشن کے ڈاکٹر ذاکر حسین اسپتال دوارکا علاقے میں واقع ہے۔

آج صبح تقریباََ گیارہ بجے مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی کرنے والے ٹینکر میں رساؤ کے سبب تقریباََ آدھے گھنٹے تک آکسیجن کی سپلائی ٹھپ ہوگئی، جس کی وجہ سے 22 مریضوں کی موت ہوگئی۔ مرنے والوں میں 11 خواتین اور 11 مرد شامل ہیں۔

اسپتال میں کورونا وائرس سے متاثر 150 مریض آکسیجن پر تھے۔ آکسیجن سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار کے ٹینکر میں لیکیج ہو گئی۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ ٹینکر میں آکسیجن بھرنے کے کچھ دیر بعد ساکٹ ٹوٹ گیا، جس سے گیس کا اخراج شروع ہو گیا۔ اس واقعہ کے فوراََ بعد ناسک میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کیلاس جادھو، میئر ستیش کلکرنی، ضلع مجسٹریٹ سورج ماندھارے، پولیس کمشنر دیپک پانڈے، میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار اور کارپوریٹر موقع پر پہنچ گئے۔

ناسک کے میئر ستیش کلکرنی نے کہا کہ آکسیجن رساؤ کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہر متوفی کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔

باغیوں کے حملے میں چاڈ کے صدر ادریس دیبی کی موت

0
باغیوں کے حملے میں چاڈ کے صدر ادریس دیبی کی موت
باغیوں کے حملے میں چاڈ کے صدر ادریس دیبی کی موت

فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چاڈ کے صدر ادریس دیبی باغیوں کے حملے میں سنگین طور پر زخمی ہوگئے تھے اور منگل کو ان کی موت ہوگئی۔

نجامینا: چاڈ کے صدر ادریس دیبی کی باغیوں کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد موت ہوگئی۔

فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مسٹر دیبی باغیوں کے حملے میں سنگین طور پر زخمی ہوگئے تھے اور منگل کو ان کی موت ہوگئی۔

فوج نے کہا کہ صدر کی موت کے بعد ان کے بیٹے جنرل محمد ادریس دیبی کو ملک کا عبوری صدر منتخب کیا گیا ہے۔

گزشتہ 30 سالوں سے چاڈ کے صدر کے عہدے پر فائز رہے مسٹر دیبی اسی ماہ 11 اپریل کو ہوئے صدارتی انتخابات میں مسلسل چھٹی بار فاتح ہوئے تھے۔

مسٹر دیبی کے انتقال پر ملک میں 14 دنوں کا قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

صدر کی ہلاکت کے بعد چاڈ میں کرفیو

صدر ادریس دیبی کی ہلاکت کے بعد افریقی ملک چاڈ میں فوج نے حکومت اور پارلیمان توڑ کر کرفیو لگا دیا ہے اور ملک کی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں۔

ٹی وی پر فوج کے جنرل نے ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر کی موت میدان جنگ میں وطن کے دفاع میں لڑتے  ہوئے ہوئی۔ حکام نے ان کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔

فوجی کونسل اگلے اٹھارہ ماہ تک ملک کا نظم و نسق چلائے گی

سرکاری اعلامیے کے مطابق اقتدار اب ملٹری کونسل نے سنبھال لیا ہے، جس کی قیادت صدر ادریس کے صاحبزادے جنرل محمد دیبی کر رہے ہیں۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ یہ فوجی کونسل اگلے اٹھارہ ماہ تک ملک کا نظم و نسق چلائے گی۔ اس کے بعد ملک میں ‘آزاد اور جمہوری‘ انتخابات کرائے جائیں گے۔

صدر ادریس دیبی خود بھی 1990 میں ایک مسلح فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آئے تھے۔ وہ لمبے عرصے سے فرانس اور دیگر مغربی طاقتوں کے اتحادی رہے اور افریقہ کے ساحل خطے میں مسلح شدت پسند گروہوں کے خلاف برسر پیکار رہے۔

چاڈ کی سرحدیں نائجیریا سے بھی ملتی ہیں۔ پچھلے ماہ عسکریت پسند تنظیم بوکو حرام نے دونوں ملکوں میں الگ الگ حملے کرکے ڈیڑھ سو سے زائد فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ بوکو حرام نے یہ حملہ لاک صوبہ میں بوما جزیرہ نما علاقے میں کیا، جس کی سرحدیں نائجر اور نائجیریا سے ملتی ہیں۔

افسانہ نگار تبسم فاطمہ کا انتقال، شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرسکیں

0
افسانہ نگار تبسم فاطمہ کا انتقال، شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرسکیں
افسانہ نگار تبسم فاطمہ کا انتقال، شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرسکیں

مشہور ناول اور فکشن نگار مشرف عالم ذوقی کی اہلیہ، فلمساز، صحافی اور افسانہ نگار تبسم فاطمہ شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے آج تقریباً چھ بجے شام اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔

نئی دہلی: مشہور ناول اور فکشن نگار مشرف عالم ذوقی کی اہلیہ، فلمساز، صحافی اور افسانہ نگار تبسم فاطمہ شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے آج تقریباً چھ بجے شام اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ ان کی عمر تقریباً پچاس تھی۔ پسماندگان میں ایک بیٹا شاشا ہے۔

ذرائع کے مطابق وہ لیور کینسر سے متاثر تھیں جس کا علاج چل رہا تھا۔ کل ہی ان کے شوہر مشرف عالم ذوقی کا انتقال ہوا تھا اور آج وہ اپنے شوہر کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر پائیں اور اپنی روح خدا کے سپرد کردی۔

محترمہ فاطمہ تبسم صحافت سے بھی وابستہ تھیں

محترمہ فاطمہ تبسم نے دوردرشن کے لئے متعدد سیریلس بنائی تھیں، وہ صحافت سے بھی وابستہ تھیں اور کئی اداروں میں میڈیا ایڈوائزر کی ذمہ داری بھی ادا کی تھی۔ انہوں نے افسانے کے ساتھ شاعری بھی کی تھی۔ ان کے شعری مجموعہ کا نام ’تمہارے خیال کی آخری دھوپ‘ ہے۔ وہ بے حد ملنسار اور مہمان نواز تھیں۔

سیریل بنانے میں اپنے شوہر کا ہاتھ بھی بٹاتی تھیں اور پروڈیوسر کی ذمہ داری بھی ادا کرتی تھیں۔ اردو کے علاوہ ہندی میں ان کی کہانیاں شائع ہوئی ہیں۔ ہندی کتابوں میں ’جرم اور انیہ کہانیاں‘، ’اردو کی شاہکار کہانیاں‘ ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعے کا نام ’لیکن جزیرہ نہیں‘ ہے۔

اردو دنیا ان کی موت سے حیرت زدہ

ان کے انتقال سے ان کے بیٹے شاشا پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ اردو دنیا ان کی موت سے حیرت زدہ اور غموں سے نڈھال ہے۔ اس طرح غموں کے پہاڑ شاید ہی ٹوٹتے ہیں۔ ایک امید تھی کہ مشرف عالم ذوقی کے ادھورے کاموں کو وہ پورا کریں گی لیکن وہ خود بھی شوہر کے پاس چلی گئیں اور اردو دنیا کو غمگین کرگئیں۔

راہل گاندھی کی مرکزی حکومت سے مہاجر مزدوروں کے اکاؤنٹس میں رقم جمع کرانے کی اپیل

0
راہل گاندھی کی مرکزی حکومت سے مہاجر مزدوروں کے اکاؤنٹس میں رقم جمع کرانے کی اپیل
راہل گاندھی کی مرکزی حکومت سے مہاجر مزدوروں کے اکاؤنٹس میں رقم جمع کرانے کی اپیل

راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ’’مہاجر کارکن ایک بار پھر ہجرت کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے بینک کھاتوں میں رقم جمع کرائے۔ لیکن کورونا پھیلانے کیلئے عوام کو قصوروار قرار دینے والی سرکار کیا ایسا عوامی امدادی قدم اٹھائے گی؟‘‘

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے منگل کے روز لاک ڈاؤن کی وجہ سے وطن واپس جانے پر مجبور مہاجر محنت کشوں کے ساتھ ذمہ داری سے نمٹنے کی حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مالی پریشانی نہ ہو لہذا ان کے بینک اکاؤنٹس میں چھ ہزار روپے فوری طور پر جمع کرائے جانے چاہئے۔

مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کیا ’’مہاجر کارکن ایک بار پھر ہجرت کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے بینک کھاتوں میں رقم جمع کرائے۔ لیکن کورونا پھیلانے کیلئے عوام کو قصوروار قرار دینے والی سرکار کیا ایسا عوامی امدادی قدم اٹھائے گی؟‘‘

حکومت حزب اختلاف کے رہنماؤں کی تجاویز کا مذاق اڑاتی ہے

کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ حکومت حزب اختلاف کے رہنماؤں کی بات نہیں سنتی ہے اور ان کی تجاویز کا مذاق اڑاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال فروری میں جب مسٹر گاندھی نے کورونا وبا کے بارے میں متنبہ کیا تھا تو حکومت نے پہلے ان کا مذاق اڑایا اور ’نمستے ٹرمپ‘ مناکر مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت کو زبردستی گرادیا۔ پھر بغیر بتائے مہلک لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن انتظامات کئے بغیر غریب مزدوروں کا کیا بنے گا… حکومت نے ایک بار پھر نہیں سنی اور اس کے نتیجے میں ملک کو آزادی کے بعد سب سے بڑا انسانی المیہ دیکھنے کو ملا۔ کانگریس نے مہاجر مزدوروں کے لئے ریلوے کا کرایہ جمع کرایا اور بسوں کا انتظام کیا تو پہلے اس کا مذاق اڑایا گیا اور پھر کہیں ریلوے کا انتظام کیا گیا۔

ترجمان نے الزام لگایا کہ گزشتہ ایک سال میں عوام کو کورونا ٹیکس کے نام پر لوٹا گیا لیکن نہ ہی اسپتال، نہ ڈاکٹروں، نہ ہی وینٹی لیٹر، نہ ویکسین، نہ دوائیں اور نہ ہی 6000 روپے کی رقم اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔

ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کو ویکسین لگانا ترجیح ہے: ڈبلیو ایچ او

0
ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کو ویکسین لگانا ترجیح ہے: ڈبلیو ایچ او
ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کو ویکسین لگانا ترجیح ہے: ڈبلیو ایچ او

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بنیادی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعہ جان لیوا اور مہلک ترین کورونا وائرس کی عالمی وبا پر چند ماہ میں قابو پایا جاسکتا ہے۔

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ بنیادی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعہ جان لیوا اور مہلک ترین کورونا وائرس کی عالمی وبا پر چند ماہ میں قابو پایا جاسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کو ویکسین لگانا ترجیح ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں عمر رسیدہ افراد اس کے زیادہ مستحق ہیں اور ان ممالک میں ان لوگوں پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔

ہانگ کانگ مظاہرین پر کارروائی کی مذمت، امریکی ایوان میں قرارداد منظور

0
ہانگ کانگ مظاہرین پر کارروائی کی مذمت، امریکی ایوان میں قرارداد منظور
ہانگ کانگ مظاہرین پر کارروائی کی مذمت، امریکی ایوان میں قرارداد منظور

امریکی ایوان نمائندگان نے چین اور ہانگ کانگ کی طرف سے مظاہرین پر کریک ڈاون کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی۔

واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے مظاہرین پر کی جانے والی کارروائی پر چین اور ہانگ کانگ کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد پیش کیا۔

ایوان نمائندگان نے پیر کی شام ایوان میں 418-1 ووٹوں کی بنیاد پر قرار داد کو منظور کیا۔

خیال رہے یکم اپریل کو کئی دیگر جمہوریت نوازوں کے ساتھ میڈیا گروپ نیکسٹ ڈیجیٹل کے بانی جمی لائی کو قصوروار پایا گیا اور 2019 میں انہوں نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ جمعہ کو لائی کو 14 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

حالیہ عدالتی فیصلے میں پہلی بار ایک میڈیا ٹائکون کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے ناقد کے طور پر جانا جاتا ہے، کو جیل کی سزا سنائی گئی۔ اس سے قبل انہیں 2019 کی جمہوریت نواز تحریک میں شامل ہونے اور غیر ملکی اداروں کے ساتھ ملی بھگت کرنے کے الزام میں متعدد مواقع پر حراست میں لیا گیا تھا۔

سابق امریکی نائب صدر والٹر ایف منڈیل کا انتقال

0
سابق امریکی نائب صدر والٹر ایف منڈیل کا انتقال
سابق امریکی نائب صدر والٹر ایف منڈیل کا انتقال

والٹر ایف منڈیل نے 1960 کی دہائی کے اوائل میں منیسوٹا کے اٹارنی جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد میں امریکی سنیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد میں ہیوبرٹ ہمفرے کی نشست خالی ہونے پر وہ نائب صدر منتخب ہوئے۔

واشنگٹن: سابق امریکی نائب صدر والٹر ایف منڈیل کا انتقال ہوگیا۔ وہ 93 سال کے تھے۔

والٹر ایف منڈیل کے کنبے کے ترجمان نے یہ اطلاع دی۔ ترجمان نے بتایا کہ مسٹر والٹر کا پیر کو انتقال ہوگیا۔ انہوں نے سابق نائب صدر کی موت کی وجہ کی وضاحت نہیں کی۔ مسٹر والٹر کے کنبے میں اس کے دو بیٹے ہیں۔ ان کا انتقال اپنے آبائی شہر منیا پولس میں ہوا۔ اس سے قبل ان کی اہلیہ کا 2014 میں انتقال ہوگیا تھا۔

مسٹر والٹر نے 1960 کی دہائی کے اوائل میں منیسوٹا کے اٹارنی جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد میں امریکی سنیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد میں ہیوبرٹ ہمفرے کی نشست خالی ہونے پر وہ نائب صدر منتخب ہوئے۔

سنیٹر کی حیثیت سے، وہ فنانس کمیٹی، مزدور اور عوامی بہبود کمیٹی، بجٹ کمیٹی اور بینکنگ، رہائش اور شہری امور کمیٹی کا بھی حصہ بنے۔

انہوں نے جمی کارٹر کے دور حکومت میں 1977 سے 1981 کے درمیان ملک کے 42 ویں نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1984 میں وہ وائٹ ہاؤس کی ریس ہارکر باہر ہوگئے۔ انہوں نے صدر سے انتخاب ہارنے سے پہلے، نیو یارک سے تعلق رکھنے والی امریکی ریپبلکن خاتون جیرالڈائن اے فیرارو کو بطور پارٹنر منتخب کرکے تاریخ رقم کی۔ ایک بڑی پارٹی کی ٹکٹ پر ملک میں دوسرا اعلی عہدہ حاصل کرنے والی وہ پہلی خاتون تھیں۔

مسٹر والٹر شہری حقوق کے پرجوش وکیل تھے۔ انہوں نے بل کلنٹن کے دور میں جاپان اور انڈونیشیا میں امریکی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

دہلی میں مہاجر مزدوروں کے لئے پالیسی بنانے کا مطالبہ

0
دہلی میں مہاجر مزدوروں کے لئے پالیسی بنانے کا مطالبہ
دہلی میں مہاجر مزدوروں کے لئے پالیسی بنانے کا مطالبہ

آہستہ آہستہ مزدور سڑکوں پر چلنے، بس اور ریلوے اسٹیشن کے پاس جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ مزدوروں کو یہ خوف ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ سے پھر طویل لاک ڈاؤن نافذ ہوگا۔

نئی دہلی: بندھوا مزدور مکتی مورچہ نے دہلی میں مہاجر مزدور پالیسی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر مہاجر کنبے کو 10،000 روپے ہر ماہ دیے جانے چاہئے۔

مورچہ کے جنرل سکریٹری نرمل گورانا نے پیر کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ مہاجر مزدوروں کی نقل مکانی روکنے کے لئے مہاجر مزدور پالیسی لاگو کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ ۔ 19 کی دوسری لہر کے دوران مہاجر مزدوروں نے ایک بار پھر جائے کار چھوڑ کر اپنی ریاست کی طرف ہجرت کرنے لگے ہیں۔

آہستہ آہستہ مزدور سڑکوں پر چلنے، بس اور ریلوے اسٹیشن کے پاس جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ مزدوروں کو یہ خوف ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ سے پھر طویل لاک ڈاؤن نافذ ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسی بھی حکومت کے پاس مہاجر مزدوروں کے لئے دور دور تک کوئی پالیسی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ مہاجر مزدور دوسری ریاستوں میں بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ آج مہاجر مزدور پھر سے مجبور ہو گئے ہیں۔

مسٹر گورانا نے کہا کہ پہلے مزدوروں کی رجسٹریشن کرکے، انہیں سماجی تحفظ کے طور پر دس ہزار روپے فی کنبہ دیے جائیں تاکہ مزدور اس وبا کے دوران شہروں سے نقل مکانی نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ مہاجر مزدوروں کی رجسٹریشن فوری طور پر شروع کی جائے اور مہاجر مزدوروں کو مفت کھانا اور راشن فراہم کیا جائے۔

معروف فکشن اور ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال، سرکردہ ادیبوں اور صحافیوں کا اظہار تعزیت

0

مشرف عالم ذوقی عصر حاضر کے معتبر ناول نگار تھے۔ اپنی منفرد تخلیقات کے سبب وہ نمایاں شناخت رکھتے تھے۔ ان کی پیدائش 24 نومبر 1963 کو بہار کے ضلع آرہ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے مگدھ یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی تھی۔ وہ بنیادی طور پر دوردرشن کے لئے ٹی وی سیریل بناتے تھے اور قلم ہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔

نئی دہلی: معروف فکشن نگار اور حالات کی عکاسی کرنے والے مشہور ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا آج یہاں ایک پرائیویٹ اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اسپتال میں داخل تھے۔  پسماندگان میں اہلیہ اور ایک بیٹا ہے۔ ان کی عمر تقریباً 58سال تھی۔ ان کی تدفین بعد نماز مغرب خوریجی کی قبرستان میں عمل میں آئے گی مسٹر ذوقی کو قلب کا عارضہ لاحق تھا لیکن وہ اس بار اس سے جانبر نہ ہوسکے۔

وہ عصر حاضر کے معتبرناول نگار تھے۔ اپنی منفرد تخلیقات کے سبب وہ نمایاں شناخت رکھتے تھے۔ ان کی پیدائش 24 نومبر 1963 کو بہار کے ضلع آرہ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے مگدھ یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ قلم سے رشتہ نبھایا، انہوں نے دہلی میں سچ بالکل سچ میں بھی کام کیا اور اخیر میں راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر رہے۔ ویسے وہ ہمیشہ فری لانس صحافی رہے۔ وہ بنیادی طور پر دوردرشن کے لئے ٹی وی سیریل بناتے تھے اور قلم ہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔

مشرف عالم ذوقی کی مطبوعات کی تعداد

ان کی مطبوعات کی تعداد 50 سے زائد ہے۔ ان کے 14 ناول اور افسانے کے آٹھ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ حالات حاضرہ میں ان کے لکھے گئے ناول ’مرگ انبوہ‘ اور ’مردہ خانے میں عورت‘ بہت مشہور ہوا ہے اور عالمی سطح پر ان کی پذیرائی ہوئی ہے اور ادیبوں کے درمیان موضوع گفتگو بھی بنا۔

ان کے ناول اور افسانے بہت مشہور ہوئے، ان پر متعدد پی ایچ ڈی ہوچکی ہیں۔ ان کے ناولوں میں ’شہر چپ ہے‘ ’بیان‘، ’مسلمان‘، ’لے سانس بھی آہستہ‘، ’آتش رفتہ کا چراغ‘، ’پروفیسر ایس کی عجیب داستان‘، ’نالہ شب گیر‘، ’ذبح‘، ’مرگ انبوہ‘ اور موضوع بحث’مردہ خانے میں عورت‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہم عصر ادیبوں کے خاکے بھی لکھے۔ دیگر اصناف کی بھی انہوں نے کتابیں لکھیں۔ 1992 میں ان کا پہلا ناول ’نیلام گھر‘ شائع ہوا تھا۔

مشرف عالم ذوقی پر بہار کے آرہ سے تعلق رکھتے تھے

وہ بنیادی طور پر بہار کے آرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی اہلیہ تبسم فاطمہ بھی افسانہ نگار ہیں ان کا افسانے کا مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ گزشتہ دو ایک دنوں سے ان کی حالت سدھر رہی تھی۔ ان کے انتقال سے اردو دنیا میں زبردست خلا پیدا ہوگیا ہے اور اردو دنیا ایک بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار سے محروم ہوگئی ہے۔

مشرف عالم ذوقی متنوع اور مفنرد موضوعات پر قلم اٹھاتے تھے۔ وہ سماج کی بھرپور عکاسی کرتے تھے۔ ان کے ناول میں مسائل کا ذکر ہے جس کو آج دیب و شاعر اٹھانے سے کتراتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناول میں مختلف موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ برصغیر کے اقلیتوں کے مسائل اور سماجی و انسانی سروکاروں کی مسٹر ذوقی نے اپنی تخلیقات میں بھرپور ترجمانی کی ہے۔ موجودہ عہد کی گھٹن، صارفیت، سیاسی ظلم و زیادتی کو انہوں نے صرف اردو میں ہی تحریر نہیں کیا بلکہ دیگر زبانوں کے زبانوں میں بھی ان کو جگہ دی۔

انہیں ان کی علمی ادبی، تخلیقی خدمات کے اعتراف میں معتدد ایوارڈ سے نواز ا گیا۔

معروف نقاد حقانی القاسمی نے کیا اظہار تعزیت

معروف نقاد حقانی القاسمی نے مشرف عالم ذوقی کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے بہت قریبی تھے۔ ان سے اکثر ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ انہوں نے ہمیشہ قلم کے ساتھ انصاف کیا اور قلم کے وقار کو بحال رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ متحرک ادیب اور باخبر انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر ذوقی سے ان کی کتابوں کے حوالے سے اختلافات کیا جاسکتا ہے لیکن ان کو اور ان کی کتابوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

معروف صحافی معصوم مرادآبادی کا اظہار تعزیت

معروف صحافی معصوم مرادآبادی نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر ذوقی کے انتقال کو ادب اور صحافت کے لئے ایک بہت بڑا خلا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس موضوع پر بھی لکھا بے باکی سے لکھا۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے بھی کیا اظہار تعزیت

جامعہ ملیہ اسلامیہ شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے بھی اظہار تعزیت کرتے ہوئے مسٹر ذوقی کے انتقال کو اردو زبان و ادب، فکشن اور ناول کے لئے زبردست خلا قرار دیا اور کہا کہ ان کے ناول معاشرے کی تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے جس بہادری اور بے باکی کے ساتھ معاشرتی مسائل کو جگہ دی ہے یہ ان کی ہی بس کی بات ہے۔

انجینئر فیروز مظفر کا گہرے دکھ کا اظہار

عالمی تحریک اردو دہلی کے سربراہ اور حلقہ فکر و فن کے صدر انجینئر فیروز مظفر نے مشرف عالم زوقی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا مشرف عالم ذوقی میں دلیری اور کچھ اور عادتیں ان کے والد کی طرح تھیں اردو اور ہندی میں یکساں مقبول مسٹر ذوقی کے ناول ہم نے پڑھے تھے۔ وہ راشٹر سہارا کے اردو کے ہیڈ بھی بنائے گئے تو انھوں نے مرے ہوے اخبار میں جان ڈالنے کی کوشش کی اور وہ اس کے لیے میرے والد سے ہی نہیں کبھی کبھی مجھ سے بھی مشورہ کرتے تھے۔ والد صاحب کے بعد دہلی میں ذوقی صاحب ہی ایک ایسے ادیب تھے جو سچ بول لیا کرتے تھے ورنہ زیادہ تر ادیب اور پروفیسر جس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں اس سے اردو ادب زوال کی طرف گامزن ہے۔

دلی میں آج رات سے اگلے پیر کی صبح تک لاک ڈاؤن

0
دلی میں آج رات سے اگلے پیر کی صبح تک لاک ڈاؤن
دلی میں آج رات سے اگلے پیر کی صبح تک لاک ڈاؤن

وزیراعلی اروند کیجریوال نے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل کے ساتھ میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں آج رات دس بجے سے آئندہ پیر کی صبح پانچ بجے تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

نئی دہلی: دلی میں کورونا انفیکشن انتہا پر پہنچنے کے بعد حکومت نے آج رات دس بجے سے چھ دنوں کے لئے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعلی اروند کیجریوال نے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل کے ساتھ میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں آج رات دس بجے سے آئندہ پیر کی صبح پانچ بجے تک لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران سبھی ضروری خدمات کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔ کھانے پینے، میڈیکل اور شادی کی تقاریب منعقد ہوں گی۔ شادی کی تقاریب میں 50 لوگ شرکت کرسکیں گے اور اس کے لئے پاس جاری کئے جائیں گے۔

مسٹر کیجریوال نے کہا کہ گزشتہ دو تین دنوں سے قومی راجدھانی میں ہر روز کورونا کے تقریباً 25 ہزار سے زیادہ نئے معاملے سامنے آرہے تھے، جس کے سبب صحت کا نظام مفلوج تو نہیں ہوئی تھی لیکن وہ تناؤ میں آگئی تھی۔ انہوں نے موجودہ حالات کو بیحد سنگین بتاتے ہوئے کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر کورونا کے سلسلے کو توڑا نہیں جاسکتا ہے۔

مہاجر مزدوروں کو دلی نہ چھوڑنے کی تلقین

انہوں نے کہا کہ راجدھانی میں آکسیجن اور دیگر ضروری ادویات کی زبردست کمی ہوگئی ہے، جس کے تعلق سے مرکز سے بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے غریبوں کے لئے لاک ڈاؤن کو مشکل وقت بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں دلی چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے۔ یہ چھوٹا لاک ڈاؤن ہے اور غریب لوگ کو اگر یہاں سے جاتے ہیں تو آنے جانے میں ہی پورا وقت گزر جائے گا۔ انہوں نے دوبارہ سے مہاجر مزدوروں کو دلی نہ چھوڑنے کی تلقین کی۔

وزیراعلی نے کہا کہ جلد ہی حالات قابو میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے تعلق سے انہوں نے کسی بھی بات کو چھپایا نہیں ہے اور اسے ایمانداری سے عوام کے سامنے رکھا ہے۔ اس وقت ہر روز کورونا کے ایک لاکھ ٹسٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دلی کو دو کروڑ لوگوں کا ایک کنبہ بتایا ہے اور کہا کہ بحران کے وقت میں سبھی کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔