ہفتہ, جولائی 4, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 352

مرکزی حکومت کی ٹیکہ کاری پالیسی پر سپریم کورٹ نے اٹھایا سوال

0
مرکزی حکومت کی ٹیکہ کاری پالیسی پر سپریم کورٹ نے اٹھایا سوال
مرکزی حکومت کی ٹیکہ کاری پالیسی پر سپریم کورٹ نے اٹھایا سوال

مرکز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ٹیکہ کاری پالیسی پر نظرثانی کرے اور 31 دسمبر 2021 تک ویکسین کی ممکنہ دستیابی کا خاکہ پیش کرے۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت کی ٹیکہ کاری پالیسی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد کو مفت ٹیکہ فراہم نہ کرنے کا فیصلہ بادی النظر میں "من مانی اور غیر معقول” لگتا ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی زیر صدارت تعطیل یافتہ بنچ نے اپنے حالیہ تبصرے میں کہا ہے کہ 45 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو مفت ٹیکے لگانے اور اس سے کم عمر کے لوگوں کو رقم ادائیگی کے عوض ویکسین دینے کا نظام بنانے کی مرکز کی پالیسی بادی النظر میں ‘من مانی اور غیر معقول’ نظر آتی ہے۔

بنچ نے دیہی آبادی کے لئے ٹیکے کی قلت کے تناظر میں متعدد دیگر خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ٹیکہ کاری پالیسی پر نظرثانی کرے اور 31 دسمبر 2021 تک ویکسین کی ممکنہ دستیابی کا خاکہ پیش کرے۔

اس معاملے کی اگلی سماعت اب 30 جون کو ہوگی۔ ڈویژن بنچ میں جسٹس ایل ناگیشورا راؤ اور جسٹس ایس رویندر بھٹ بھی شامل ہیں۔

نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں داخل

0
نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں داخل
نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں داخل

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے اور سیاست میں ‘تبدیلیاں’ لانے کے لیے اسرائیلی سیاستدانوں کے اتحاد کا قیام آخری مراحل میں پہنچ گیا۔

تل ابیب: اسرائیل میں سیاسی اتھل پتھل اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخلی کا معاملہ آخری مرحلے میں پہنچتا نظر آ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے اور سیاست میں ‘تبدیلیاں’ لانے کے لیے اسرائیلی سیاستدانوں کے اتحاد کا قیام آخری مراحل میں پہنچ گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان کے پاس رات 12 بجے تک کا وقت ہے کہ وہ ایک متبادل گورننگ اتحاد قائم کریں جس سے ‘بی بی’ کے نام سے مشہور دائیں بازو کے رہنما کی حکومت کا خاتمہ ہوگا جس نے گزشتہ 12 سالوں سے اسرائیل پر حکومت کی ہے۔

اس کی قیادت سابقہ ٹی وی اینکر یائر لاپڈ کر رہے ہیں جو سیکولر سینٹرسٹ ہیں اور جنہوں نے چند روز قبل ہی ایک ارب پتی دائیں بازو کے مذہبی قوم پرست نفتالی بینیٹ کی اہم حمایت حاصل کی تھی۔
نفتالی بینیٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ‘اتحادیوں کی مذاکراتی ٹیم نے پوری رات بیٹھ کر اتحادی حکومت بنانے کی سمت پیشرفت کی ہے’۔

اسرائیل کی 120 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ان کے غیر متوقع اتحاد میں انہیں بائیں بازو اور دائیں بازو کی جماعتوں کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔ امکان ہے کہ انہیں عرب اسرائیلی سیاستدانوں کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری جیسے فلیش پوائنٹ پر گہرے نظریاتی اختلافات کے باوجود 71 سالہ بنجامین نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے کے لیے گروپ بندی کو متحد ہونا پڑے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی صدر نے حکومت سازی اور دعوی کے لئے آج رات (بدھ کی رات) 12 بجے کا وقت دیا ہے۔

مہاراشٹر: مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پالیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج

0
مہاراشٹر: مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پالیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج
مہاراشٹر: مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پالیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج

مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے بند کرائے گئے دکانوں کو دوبارہ کھلوانے کیلئے لیبر ڈپٹی کمشنر پر دباؤ بنانے کی پاداش میں رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج کی گئی ہے۔

اورنگ آباد: مہاراشٹر کے ضلع اورنگ آباد میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے بند کرائے گئے دکانوں کو دوبارہ کھلوانے کیلئے لیبر ڈپٹی کمشنر پر دباؤ بنانے کی پاداش میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق لاک ڈاؤن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کچھ دکانیں گذشتہ ماہ بند کردی گئیں تھی۔

مسٹر جلیل منگل کے روز کچھ دکانداروں کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر لیبر شیلندر پال کے دفتر گئے اور ان پر بند دکانوں کو کھولنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

اورنگ آباد پولیس نے مسٹر پال کی شکایت پر مسٹر جلیل سمیت 24 افراد کے خلاف رپورٹ درج کرلی ہے۔

دریں اثنا منگل کے روز سے کورونا پابندیوں میں نرمی دی گئی ہے کیونکہ شہر میں کووڈ کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

ملک میں کورونا ریکوری کی شرح 92.48 فیصد

0
ملک میں کورونا ریکوری کی شرح 92.48 فیصد

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کے 1،32،788 نئے کیسز سامنے آئے۔ لیکن اس وائرس سے نجات پانے والے لوگوں کی تعداد اس وائرس کی زد میں آنے والے لوگوں سے ایک لاکھ سے زیادہ رہی۔ اس کی وجہ سے کورونا ریکوری کی شرح بڑھ کر 92.48 فیصد ہوگئی ہے۔

نئی دہلی: ملک میں کورونا وائرس (کووڈ ۔ 19) کے یومیہ کیسز میں ایک مرتبہ پھر معمولی اضافہ ہونے کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفیکشن کے 1،32،788 نئے کیسز سامنے آئے۔ لیکن اس وائرس سے نجات پانے والے لوگوں کی تعداد اس وائرس کی زد میں آنے والے لوگوں سے ایک لاکھ سے زیادہ رہی۔ اس کی وجہ سے کورونا ریکوری کی شرح بڑھ کر 92.48 فیصد ہوگئی ہے۔

اس دوران پیر کو 23 لاکھ 97 ہزار 91 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے۔ ملک میں اب تک 21 کروڑ 85 لاکھ 46 ہزار 667 افراد کی ٹیکہ کاری کی گئی ہے۔

مرکزی وزارت صحت کی جانب سے بدھ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 1،32،788 نئے کیسز سامنے آنے کے ساتھ ہی متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر دو کروڑ 83 لاکھ 07 ہزار 832 ہوگئی۔ اس دوران دو لاکھ 31 ہزار 456 مریض صحتیاب ہوئے ہیں، جس سے اب تک 2 کروڑ 61 لاکھ 79 ہزار 85 افراد اس وبا کو شکست دے چکے ہیں۔ ایکٹو کیسز 1،01،875 کم ہوکر 17 لاکھ 93 ہزار 645 ہو گئے ہیں۔

ملک میں ایکٹو کیسز کی شرح میں کمی

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3،207 مریضوں کی موت ہوئی اور اس وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 35 ہزار 102 ہوگئی ہے۔ ملک میں ایکٹو کیسز کی شرح کم ہوکر 6.34 فیصد ہوگئی ہے جبکہ شرح اموات 1.18 فیصد ہے۔

مہاراشٹر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز 22،680 کم ہو کر 2،33،498 رہ گئے ہیں۔ اسی دوران ریاست میں مزید 35،949 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا سے نجات پانے والوں کی تعداد بڑھ کر 54،31،319 ہوگئی ہے۔ جبکہ مزید 854 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 96،198 ہوگئی ہے۔ کیرالہ میں اس دوران ایکٹو کیسز 4551 کی کم ہوئے ہیں اور ان کی تعداد اب 2،02،828 رہ گئی ہے۔ 24،117 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا کو شکست دینے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 23،34،502 ہوگئی ہے جبکہ مزید 194 مریضوں کی موت ہوگئی مرنے والوں کی تعداد 9009 تک ہو گئی ہے۔

ووٹنگ کے حقوق پر حملے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی: بائیڈن

0
ووٹنگ کے حقوق پر حملے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی: بائیڈن
ووٹنگ کے حقوق پر حملے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک میں ووٹنگ کے حقوق پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جون میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک میں ووٹنگ کے حقوق پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جون میں اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بائیڈن نے منگل کے روز اوکلاہوما کے ٹلسا میں تقریر کے دوران کہا ’’ہمیں سنہ 2020 میں ووٹنگ کے حقوق پر حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ پابندیوں، مقدمات، دھمکیوں اور رائے دہندگان کو ہراساں کر کے ایسا کیا گیا تھا۔ غیر جانبدارانہ انتخابی منتظمین کے تبادلے کی کوشش کی گئی اور انتخابی نتائج سے متعلق صحیح معلومات سامنے لانے والوں کو ڈرانے کی کوشش کی گئی۔ یہ واقعی ہماری جمہوریت پر حملہ تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت ایوان نمائندگان جان لیوس ووٹنگ رائٹس ایکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ یہ قانون حق رائے دہی کے حقوق پر نئے حملوں کو روکنے کے لئے ’ایک نیا قانونی آلہ‘ کے طور پر ایک اہم اقدام ہے۔

افغانستان میں دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک، 14 زخمی، مہلوکین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ

0
افغانستان کے کابل میں دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک، 14 زخمی، مہلوکین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ
افغانستان کے کابل میں دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک، 14 زخمی، مہلوکین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب دو بم دھماکوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق مہلوکین کی تعداد 30 تک ہوسکتی ہے۔

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہوئے دو دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور دیگر 14 زخمی ہوگئے۔

یہ اطلاع ٹولو نیوز چینل نے سیکیورٹی فورسز سے وابستہ ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔ ٹولو نیوز کے مطابق منگل کو ہونے والے ان حملوں میں سٹی بسوں کو نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مہلوکین کی تعداد 30 تک ہوسکتی ہے۔

اترپردیش: گونڈا ضلع میں ہوئے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک

0
اترپردیش: گونڈا ضلع میں ہوئے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک
اترپردیش: گونڈا ضلع میں ہوئے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک

اترپردیش میں گونڈہ ضلع کے وزیر گنج پولیس اسٹیشن کے تحت ٹکڑی گاؤں میں ایل پی جی سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے مکان کی چھت گر گئی۔ ایک ہی کنبے کے سات افراد زندہ دفن ہوگئے۔ ملبے کے نیچے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

گونڈا: اترپردیش میں گونڈہ ضلع کے وزیر گنج پولیس اسٹیشن کے تحت ٹکڑی گاؤں میں تاخیر شب ہوئے دھماکہ میں ایک گھر کی چھت گر جانے سے ایک ہی کنبے کے سات افراد زندہ دفن ہوگئے۔ اس حادثہ میں دیگر سات افراد شدید طور پر زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ سنتوش کمار مشرا نے بدھ کے روز یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ منگل کی تاخیر شب ٹکڑی گاؤں میں نورالحسن کے گھر میں اچانک دھماکہ ہوگیا۔ اس خوفناک حادثے میں مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ ملبے کے نیچے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

ایس پی نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچی پولیس کی ٹیم نے ملبہ ہٹاکر متاثرہ افراد کو باہر نکالا جن میں سے سات کو مردہ قرار دے دیا گیا ہے جبکہ سات دیگر زخمی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو مرد، دو خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔ گاؤں والوں کی جانب سے رات کو ہی ڈائل 112 پر موصولہ اطلاع کی بنیاد پر انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی۔ جے سی بی اور پوکلینڈ مشین سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

دھماکے کی وجوہات جاننے کے لئے فورنسک ٹیم تعینات کردی گئی ہے۔ شدید زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ انتظامیہ اور پولیس اور دیہاتیوں کی مدد سے امدادی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایس پی نے بتایا کہ بادی النظر کہا جا رہا ہے کہ ایل پی جی سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے مکان کی چھت گر گئی۔

فی الحال تفتیش جاری ہے۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔

سی بی ایس ای کے بارہویں جماعت کے امتحانات منسوخ

0
سی بی ایس ای کے بارہویں جماعت کے امتحانات منسوخ

حکومت نے کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے بارہویں جماعت کے امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرصدارت ایک اعلی سطحی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔

نئی دہلی: حکومت نے کورونا سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے بارہویں جماعت کے امتحانات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلی سطحی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سی بی ایس ای بورڈ مکمل طور پر طے شدہ معیارات کی بنیاد پر، مقررہ وقت میں بارہویں جماعت کے نتائج تیاری کرنے کے اقدامات کرے گا۔

میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گزشتہ برس کی طرح اگر کچھ طلبا امتحان دینا چاہتے ہیں تو بورڈ انہیں یہ متبادل فراہم کرے گا، لیکن اگر حالات سازگار ہوجائیں تو یہ امتحان لیا جائے گا۔

عہدیداروں نے امتحانات سے متعلق مختلف فریقین اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ اب تک ہونے والے غور و خوض کے بارے میں وزیر اعظم کو ایک پریزنٹیشن پیش کی۔ اس کے بعد، صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد \، فیصلہ کیا گیا کہ اس سال بارہویں کے امتحان کا انتعقاد نہیں کیا جائے گا۔

مسٹر مودی نے کہا کہ یہ فیصلہ طلباء کے مفاد میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے تعلیمی سیشن متاثر ہوا ہے اور بورڈ امتحانات کے معاملے کے بارے میں طلباء، والدین اور اساتذہ میں الجھن پائی گئی تھی جسے روکنے کی ضرورت تھی۔

میٹنگ میں داخلہ، دفاع، خزانہ، تجارت، اطلاعات و نشریات اور دیگر وزراء کے علاوہ متعدد اعلی عہدیدار شریک ہوئے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ کورونا وبا کی صورتحال پورے ملک میں مختلف ہے، حالانکہ انفیکشن کے معاملات میں کمی آ رہی ہے۔ کچھ ریاستیں قابو پانے والے اقدامات کے ذریعہ صورتحال پر قابو پا رہی ہیں، پھر کچھ ریاستوں میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ ایسی صورتحال میں طلباء، والدین اور اساتذہ فطری طور پر طلباء کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو اس طرح کے دباؤ کی صورتحال میں امتحان دینے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ وزیر تعلیم ایمس میں داخل ہونے کی وجہ سے میٹنگ میں شریک نہیں ہوسکے۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ طلبا کی صحت اور حفاظت سب سے اہم ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں، نوجوانوں کو امتحان کی وجہ سے خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تمام فریقین کو طلباء کے تئیں حساس رخ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ نتائج کو پوری طرح طے شدہ معیارات کی بنیاد پر بالکل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ اور مقررہ وقت کے طرز پر انجام دیا جانا چاہئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک بھر میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ غور خوض کے بعد طلبا کے مفاد میں فیصلہ لیا گیا ہے اور اس کی تعریف کی جانی چاہئے۔ انہوں نے اس معاملے پر اپنے خیالات کے اظہار کے لئے ریاستوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو دیا گیا میمورنڈم 

0
بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو دیا گیا میمورنڈم 
بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو دیا گیا میمورنڈم 

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی ہریانہ برانچ کے صدر ڈاکٹر کرن پونیا نے بتایا کہ کووڈ – 19 کے دوران اپنی جان گنوانے والے 1300 سے زیادہ ڈاکٹروں کی تضحیک کرنے والے بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کے توسط سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ایک میمورنڈم دیا گیا ہے۔ 

بھیوانی: ڈاکٹروں اور ایلوپیتھک نظام کے بارے میں یوگا گرو بابا رام دیو کے تبصرے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں آج انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی ہریانہ برانچ کے صدر ڈاکٹر کرن پونیا نے جہاں رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ وہیں یہ اعلان بھی کیا کہ ریاست کے تمام ڈاکٹر کل اس مطالبہ پر کالی پٹی باندھ کر مظاہرہ کریں گے اور پرسوں (3 جون کو) او پی ڈی کو دو گھنٹے تک بند رکھیں گے۔

ڈاکٹر کرن پونیا نے بتایا کہ کووڈ – 19 کے دوران اپنی جان گنوانے والے 1300 سے زیادہ ڈاکٹروں کی تضحیک کرنے والے بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کے توسط سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ایک میمورنڈم دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متوفی ڈاکٹروں کو ‘ٹرٹر’ کہہ کر، ایلوپیتھی کو فضول سائنس قرار دے کر، آکسیجن کو بیکار کی دوا بتا کر، نیز قانون سے خود کو بالا تر سمجھتے ہوئے ان کا یہ کہنا کہ کسی کا باپ بھی انہیں گرفتار نہیں کرسکتا، ایک مغرور آدمی ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر پونیا نے کہا کہ کسی بابا یا سادھو کی بھیس میں کوئی نیک آدمی ایسی زبان استعمال نہیں کرسکتا، جو وہ کرتے آئے ہیں۔

ڈاکٹر کرن پونیا نے یہ بھی بتایا کہ کورونا وائرس کے علاج کے لئے بابا رام دیو کی بنائی ہوئی غیر منظور شدہ دوا "کورونیل” مہلک ثابت ہوگی۔ مریض اس کے بھروسے گھر بیٹھا رہے گا اور بے جان حالت میں اسپتال پہنچے گا، جہاں اس کی جان بچانا مشکل ہوگا۔

بابا رام دیو کے خلاف جلد سے جلد کارروائی کی جائے

انہوں نے کہا کہ قومی اور ریاستی سطح پر آئی ایم اے کے لیڈروں میں سے ایسوسی ایشن کے قومی صدر پروفیسر جے اے جئے لال، سابق قومی صدر ڈاکٹر راجن شرما، قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر جئیش لیلے، ریاستی یونٹ کے سرپرست ڈاکٹر وید پرکاش بینی وال، ریاستی خواتین ڈاکٹروں کی یونٹ پرنسپل ڈاکٹر وندنا پونیا، سکریٹری ڈاکٹر انیتا پنوار، ریاستی فنانس سکریٹری ڈاکٹر سواستی شرما نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ بابا رام دیو کے خلاف جلد سے جلد کارروائی کی جائے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز ریاستی سربراہ ڈاکٹر کرن پونیا کی صدارت میں آئی ایم اے کی 38 ریاستی شاخوں کی ایک زوم میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 2 جون کو ہریانہ ریاست کے تمام آئی ایم اے ممبر کالی پٹی اور ربن باندھ کر بابا رام دیو کی گرفتاری کا مطالبہ کریں گے اور 3 جون کو دو گھنٹے تک او پی ڈی بند رکھیں گے۔ اس دوران صرف کورونا وائرس کے مریضوں اور ہنگامی مریضوں کو ہی دیکھا جائے گا۔

کانگو میں مسلح گروہ کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ، 50 افراد ہلاک

0
کانگو میں مسلح گروہ کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ، 50 افراد ہلاک
کانگو میں مسلح گروہ کا بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ، 50 افراد ہلاک

افریقی ملک کانگو میں مسلح افراد نے گاؤں پر حملہ کرکے 50 افراد کو ہلاک کردیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقہ میں اب بھی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ خوف کی وجہ سے متعدد افراد زخمی حالت میں جھاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

کنشاسا: لسانی فسادات اور بغاوت سے دوچار افریقی ملک کانگو میں مسلح افراد کے حملے میں 50 افراد ہلاک ہوگئے۔ 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افریقی ملک کانگو میں مسلح افراد نے گاؤں پر حملہ کرکے 50 افراد کو ہلاک کردیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقہ میں اب بھی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جب کہ خوف کی وجہ سے متعدد افراد زخمی حالت میں جھاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کی تلاش کا کام جاری ہے۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں کی بڑی تعداد نے بے گھر افراد کے کیمپ پر حملہ کیا۔ جب کہ ہلاک افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق اے ڈی ایف ملیشیا گروپ سے ہے۔ اس کا تعلق داعش گروپ سے ہے تاہم اس حوالے سے تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

واضح رہے کانگو میں لسانی فسادات اور بغاوت کے باعث معاشی صورت حال نہایت ابتر ہے۔ معدنیات سے مالامال علاقوں میں قبضے کے لئے حکومت اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں معمول کی بات ہیں۔ یہاں آئے دن مسلح افواج اور ملیشیا گروپ میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، جس میں درجنوں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں جاتی رہتی ہیں۔