ہفتہ, جولائی 4, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 351

ہماچل پردیش: بی جے پی کے ممبر اسمبلی نریندر برگٹا کا انتقال

0
ہماچل پردیش: بی جے پی کے ممبر اسمبلی نریندر برگٹا کا انتقال
ہماچل پردیش: بی جے پی کے ممبر اسمبلی نریندر برگٹا کا انتقال

نریندر برگٹا 15 ستمبر 1952 کو جوبل کوٹکھائی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ہماچل پردیش یونیورسٹی شملہ سے پولیٹیکل سائنس میں پوسٹ گریجویشن کیا تھا۔ سال 1998 میں وہ پانچ سال کے لئے پارٹی جنتا یووا مورچہ کے صدر کے طور پر مقرر ہوئے تھے۔ وہ پارٹی میں مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے۔

شملہ: بی جے پی ہماچل پردیش ودھان سبھا کے چیف وہپ اور جوبل کوٹکھائی اسمبلی حلقہ سے منتخب ایم ایل اے نریندر برگٹا کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 69 برس تھی۔

یہ اطلاع ان کے بیٹے چیتن برگٹا نے فیس بک پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے دی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ان کے والد لمبے عرصے سے بیمار تھے اور وہ پی جی آئی چنڈی گڑھ میں زیرعلاج تھے۔ آج صبح انہوں نے آخری سانس لی۔

نریندر برگٹا 15 ستمبر 1952 کو جوبل کوٹکھائی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ہماچل پردیش یونیورسٹی شملہ سے پولیٹیکل سائنس میں پوسٹ گریجویشن کیا تھا۔ سال 1998 میں وہ پانچ سال کے لئے پارٹی جنتا یووا مورچہ کے صدر کے طور پر مقرر ہوئے تھے۔ وہ پارٹی میں مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے۔

مسٹر برگٹا (87۔1983) بھارتیہ جنتا پارٹی ڈسٹرکٹ شملہ کے جنرل سکریٹری، (2018۔1993) ریاستی بی جے پی کے ایگزیکٹو ممبر اور (96۔1994) راشٹریہ کسان مورچہ کے سکریٹری بھی رہے۔ وہ 1998 میں پہلی مرتبہ شملہ حلقہ سے ریاستی قانون ساز اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے تھے اور پھر دسمبر 2007 میں جوبل کوٹکھائی سے دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔

برگٹا 2002 – 1998 تک وزیر مملکت برائے باغبانی اور 2007 سے 2012 تک باغبانی، تکنیکی تعلیم اور صحت کے وزیر رہے۔

سال 2017 میں جوبل کوٹکھائی اسمبلی سیٹ جیتنے کے بعد وہ ہماچل پردیش ودھان سبھا کے چیف وہپ مقرر ہوئے تھے۔

جی 7 ممالک وبا سے نمٹنے کے لئے ویکسین اور کلینیکل ٹرائلز پر تعاون میں اضافہ کریں گے

0
جی 7 ممالک وبا سے نمٹنے کے لئے ویکسین اور کلینیکل ٹرائلز پر تعاون میں اضافہ کریں گے
جی 7 ممالک وبا سے نمٹنے کے لئے ویکسین اور کلینیکل ٹرائلز پر تعاون میں اضافہ کریں گے

جی 7 ممالک نے کووڈ 19 اور مستقبل میں وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے ویکسین اور کلینیکل ٹرائلز پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق، علاج اور ویکسینوں کا کلینیکل ٹرائل جلد شروع کیا جائے گا۔ اس کا مقصد اعلی معیار کے ٹیسٹوں میں مدد کرنا اور غیرضروری طور پر دہرائے جانے سے بچنا ہے۔

لندن: گروپ آف سیون (جی 7) ممالک نے کووڈ 19 اور مستقبل میں وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے ویکسین اور کلینیکل ٹرائلز پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

برطانیہ کی حکومت نے یہ اعلان آکسفورڈ یونیورسٹی میں جی 7 کے وزرائے صحت کی دو روزہ میٹنگ کی میزبانی کے بعد کیا۔

سرکاری بیان کے مطابق، علاج اور ویکسینوں کا کلینیکل ٹرائل جلد شروع کیا جائے گا۔ اس کا مقصد اعلی معیار کے ٹیسٹوں میں مدد کرنا اور غیرضروری طور پر دہرائے جانے سے بچنا ہے۔

بیان میں برطانیہ کے وزیر صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے ’’اس (معاہدے) میں کلینیکل ٹرائلز، محفوظ ویکسین تک تیز اور وسیع رسائی، ڈیٹا کا بہتر استعمال، صحت سے متعلق نگرانی کے جدید آلات اور ممالک کے مابین زیادہ سے زیادہ تعاون کے ذریعہ ہم سبھی کو محفوظ بنانے کے کئی اقدامات شامل کئے گئے ہیں۔

جی 7 ممالک ٹیسٹ اور ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کو باہمی طور پر تسلیم کرنے کے لئے مل کر کام کرنے پر بھی متفق ہوگئے۔ جی 7 گروپ میں کناڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔

ناردا اسٹنگ آپریشن معاملہ: سبرتو مکھرجی، فرہاد حکیم، مدن مترا اور شوبھن چٹرجی سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں پیش

0
ناردا اسٹنگ آپریشن معاملہ: سبرتو مکھرجی، فرہاد حکیم، مدن مترا اور شوبھن چٹرجی سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں پیش
ناردا اسٹنگ آپریشن معاملہ: سبرتو مکھرجی، فرہاد حکیم، مدن مترا اور شوبھن چٹرجی سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں پیش

ناردا اسٹنگ آپریشن معاملے میں ضمانت پر رہا ترنمول کانگریس کے تین سینئر لیڈران فرہاد حکیم، سبرتو مکھرجی، ممبر اسمبلی مدن مترا اور سابق میئر شوبھن چٹرجی سی بی آئی کی خصوصی عدالت جج انوپم مکھرجی کے سامنے پیش ہوئے۔

کلکتہ: ناردا اسٹنگ آپریشن معاملے میں ضمانت پر رہا ترنمول کانگریس کے تین سینئر لیڈران فرہاد حکیم، سبرتو مکھرجی، ممبر اسمبلی مدن مترا اور سابق میئر شوبھن چٹرجی سی بی آئی کی خصوصی عدالت جج انوپم مکھرجی کے سامنے پیش ہوئے۔

17 مئی کو سی بی آئی کے خصوصی جج نے ان چاروں افراد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 4 جون کو جسمانی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ یہ چاروں بنک شال کورٹ میں روکنے کے بعد روانہ ہوگئے۔

سی بی آئی کی خصوصی عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ نے روک لگادی تھی مگر طویل انتظار کے بعد 28 مئی کو عبوری ضمانت منظور کرلی تھی۔

کانگریس کا بنگال میں ممتا کے خلاف امیدوار نہیں اتارنے کا فیصلہ

0
کانگریس کا بنگال میں ممتا کے خلاف امیدوار نہیں اتارنے کا فیصلہ
کانگریس کا بنگال میں ممتا کے خلاف امیدوار نہیں اتارنے کا فیصلہ

نندی گرام سے اسمبلی انتخابات ہارنے کے باوجود وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی ممتا بنرجی اب کلکتہ شہر کے بھوانی پور سے اسمبلی انتخاب میں حصہ لیں گی۔ کانگریس نے ان کے خلاف امیدوار نہیں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس ممتا بنرجی کے خلاف امیدوار نہیں اتار کر اچھا پیغام دینا چاہتی ہے۔

کلکتہ: نندی گرام سے اسمبلی انتخابات ہارنے کے باوجود وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی ممتا بنرجی اب کلکتہ شہر کے بھوانی پور سے اسمبلی انتخاب میں حصہ لیں گی۔ کانگریس نے ان کے خلاف امیدوار نہیں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوگیا ہے کہ بائیں محاذ اور کانگریس کی راہیں الگ ہوگئی ہیں۔

امید ہے کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کے درمیان معاہدہ ہوسکتا ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر ادھیر رنجن چودھری، جو وزیر اعلی ممتا بنرجی کی شدید مخالف کے طور پر مشہور ہیں، نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی بھوانی پور اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں ممتا بنرجی کے خلاف امیدوار نہیں کھڑا کرے گی۔

انہوں نے مرکزی قیادت کو بتایا ہے کہ اس بار ممتا بنرجی نے اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے اور وہ خود بھوانی پور سے کھڑی ہو رہی ہیں۔ لہذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کے اعزاز میں کانگریس کوئی امیدوار میدان میں نہیں اتارے گی۔ تاہم حتمی فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کرے گی۔

چودھری نے کہا کہ بھوانی پور میں کانگریس بہت خاص مضبوط نہیں ہے۔ امیدوار کھڑا کرنے کے باوجود کچھ نہیں ہوگا۔ لہذا ممتا بنرجی کے خلاف امیدوار نہیں اتار کر اچھا پیغام دینا چاہتی ہے۔

امریکہ اور فرانس کا ’رینسم ویئر‘ اور دہشت گردی پر تبادلہ خیال

0
امریکہ اور فرانس کا ’رینسم ویئر‘ اور دہشت گردی پر تبادلہ خیال
امریکہ اور فرانس کا ’رینسم ویئر‘ اور دہشت گردی پر تبادلہ خیال

آج امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے مشترکہ عالمی پالیسی کے امور پر تبادلہ خیال کے لئے فرانسیسی قومی سلامتی کے مشیر ایمانوئل بون سے واشنگٹن میں ملاقات کی۔ دونوں نے ’رینسم ویئر‘ جیسی خطرناک سائبر سرگرمی اور دہشت گردی پر تبادلہ خیال کیا۔

واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے فرانسیسی قومی سلامتی کے مشیر ایمانوئل بون کے ساتھ خطرناک سائبر سرگرمی ’رینسم ویئر‘ اور دہشت گردی پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہارن نے یہ اطلاع دی۔

انہوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ آج قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے مشترکہ عالمی پالیسی کے امور پر تبادلہ خیال کے لئے فرانسیسی قومی سلامتی کے مشیر ایمانوئل بون سے واشنگٹن میں ملاقات کی۔ دونوں نے ’رینسم ویئر‘ جیسی خطرناک سائبر سرگرمی اور دہشت گردی پر گفت شنید کی۔

بیان میں کہا گیا کہ مسٹر سلیوان اور مسٹر بون نے آئندہ شمالی اٹلانٹک معاہدہ تنظیم (ناٹو) سربراہی اجلاس پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

بیان کے مطابق، مسٹر سلیوان اور مسٹر بون نے کووڈ ۔19 ویکسین تک عالمی سطح پر رسائی پر ہم آہنگی جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے عالم کاری سے پیدا ٹیکس چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بات چیت کی بھی حمایت کی۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر نئی ریکارڈ سطح پر، ممبئی میں پٹرول 101 روپے، ڈیزل 93 روپے کے قریب

0
ممبئی میں پٹرول 101 روپے، ڈیزل 93 روپے کے قریب

ملک کے چار بڑے میٹرو شہر میں پٹرول 27 پیسے اور ڈیزل 30 پیسے مہنگا ہوا۔ اس کی وجہ سے ممبئی میں پٹرول 101 روپے اور ڈیزل 93 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دو دن مستحکم رہنے کے بعد ایک بار پھر اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ سے ممبئی میں پٹرول 101 روپے اور ڈیزل 93 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا۔

ملک کے چار بڑے میٹرو شہر میں پٹرول 27 پیسے اور ڈیزل 30 پیسے مہنگا ہوا۔ اس کی وجہ سے ممبئی میں پٹرول 101 روپے اور ڈیزل 93 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا۔

ممتاز آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کی ویب سائٹ کے مطابق، ممبئی میں پٹرول 26 پیسے اضافے سے 100.98 روپے اور ڈیزل 30 پیسے اضافے سے 92.99 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔

قومی دارالحکومت دہلی میں پٹرول کی قیمت میں 27 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 28 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں ایک لیٹر پٹرول 94.76 روپے اور ڈیزل کا ایک لیٹر 85.66 روپے ہوگیا۔

گزشتہ 4 مئی سے لے کر اب تک 18 دن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ باقی 14 دن تک قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس دوران دہلی میں پٹرول 4.36 روپے اور ڈیزل 4.93 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔

کولکاتہ میں پٹرول 26 پیسے مہنگا ہوکر 94.76 روپے اور ڈیزل 28 پیسے اضافے سے 88.51 روپے فی لیٹر ہوگیا۔ چنئی میں، پٹرول کی قیمت میں 24 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 26 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ وہاں ایک لیٹر پٹرول 96.23 روپے اور ایک لیٹر ڈیزل 90.38 روپے مل رہا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتیں نافذ کی جاتی ہیں۔

آج ملک کے چار میٹرو شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حسب ذیل ہیں:

شہر کا نام —— پٹرول روپے / لیٹر —— ڈیزل روپے / لیٹر

دہلی —————- 94.76   ——————  85.66
ممبئی ————— 100.98 ——————  92.99
چنئی —————- 96.23  -—————-  90.38
کولکاتا ————— 94.76  —————— 88.51

اترپردیش: 9 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ، 5 اضلاع کے ایس پی تبدیل

0
اترپردیش: 9 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ، 5 اضلاع کے ایس پی تبدیل
اترپردیش: 9 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ، 5 اضلاع کے ایس پی تبدیل

اترپردیش حکومت نے محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے 9 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ کردیا۔ جبکہ ریاست کے پانچ اضلاع میں نئے پولیس سربراہ تعینات کردیئے گئے ہیں۔

لکھنو: اترپردیش حکومت نے بدھ کی رات محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے 9 آئی پی ایس افسران کا تبادلہ کردیا۔ جبکہ ریاست کے 5 اضلاع میں نئے پولیس سربراہوں کی تعیناتی کی ہے۔

آفیشیل ذرائع کے مطابق فیروزآباد، منی پور، مہوبہ، ہردوئی اور جھانسی کے پولیس سربراہوں کو تبدیل کیا ہے۔ محترمہ سدھا سنگھ کوکہ او اے سی پریاگ راج کی کمانٹنڈنٹ تھی اب وہ مہوبہ کی ایس پی ہوں گی جبکہ ویٹنگ میں رکھی گئیں ایس پی شیوہری مینا کو جھانسی کا نیا ایس ایس پی بنایا گیا ہے۔

مرادآباد پی اے سی کے کمانٹنڈنٹ اشوک کمار (چہارم) کو فیروزآباد کا جبکہ سونبھدر کے پی اے سی کمانٹنڈنٹ اشوک کمار رائے کو منی پور کا ایس پی بنایا گیا ہے۔ ایس پی مہوبہ ارون کمار سریواستو نے مسٹر اشوک کمار رائے کی جگہ لی ہے جبکہ منی پور کے ایس پی اونیش پانڈے نے محترمہ سدھا سنگھ کا مقام لیا ہے۔

ہردوئی کے ایس پی انوراگ وتس مرادآباد پی اے سی کے کمانٹندنٹ ہوں گے جبکہ ایس پی فیروزآباد اجے کمار ہردوئی کے ایس پی بنائے گئے ہیں۔ جبکہ فارغ کئے گئے ایس ایس پی جگانسی روہن پی۔کنائے کو لکھنو کے جی ڈی پی ہیڈکواٹر پر لاجسٹک کا ایس پی بنایا گیا ہے۔

رام دیو کورونیل کٹ کے لئے دہلی ہائی کورٹ کا سمن

0
رام دیو کورونیل کٹ کے لئے دہلی ہائی کورٹ کا سمن
رام دیو کورونیل کٹ کے لئے دہلی ہائی کورٹ کا سمن

دہلی میڈیکل ایسوسی ایشن نے عدالت میں دائر اپنی عرضی میں دعوی کیا تھا کہ رام دیو کی کمپنی پتانجلی کورونیل کٹ پروڈکٹ کے ذریعہ کورونا وائرس بیماری سے متعلق غلط معلومات کی تشہیر کررہی ہے۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کورونیل کٹ پر دائر دہلی میڈیکل ایسوسی ایشن (ڈی ایم اے) کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے یوگا گرو بابا رام دیو کو جمعرات کو سمن جاری کیا۔

ڈی ایم اے نے عدالت میں دائر اپنی عرضی میں دعوی کیا تھا کہ رام دیو کی کمپنی پتنجلی کورونیل کٹ پروڈکٹ کے ذریعہ کورونا وائرس بیماری سے متعلق غلط معلومات کی تشہیر کررہی ہے۔

پتنجلی گروپ کے بانی رام دیو گزشتہ کئی دنوں سے ایلوپیتھی پر تنازعات میں گھرے ہیں۔ ان کے ایلوپیتھی کے ڈاکٹر کا مذاق بنانے والے کئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انڈین میڈکل ایسوسی ایشن نے اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے سائنس اور ڈاکٹروں کی شبیہ کو مٹی میں ملانے کی کوشش قرار دیا تھا۔ ایک ویڈیو میں رام دیو نے دعوی کیا تھا۔ ایلوپیتھی اسٹوپڈ سائنس ہے۔

عدالت نے کہا کہ اگر مجھے لگتا ہے کہ کچھ سائنس نقلی ہے۔۔۔ کیا آپ کا ماننا ہے کہ وہ میرے خلاف مقدمہ دائر کریں گے؟ یہ ایک رائے شماری ہے۔ رام دیو ایک انسان ہیں، انہیں ایلوپیتھی پر اعتماد نہیں ہے۔ ان کا (رام دیو) کا خیال ہے کہ یوگ اور آوروید سے سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔  ایک شخص رائے رکھ سکتا ہے جس کے لئے اس کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا ہے۔

جج دی ہری شنکر نے ڈی ایم اے کی طرف سے دلائل سننے کے بعد بابا رام دیو کو ایلوپیتھک دواوں کے خلاف کوئی بھی بیان دینے سے روکنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ یہ صرف ایک رائے تھی۔

عدالت نے رام دیو کے وکیل کو زبانی طور پر یہ بھی ہدایت دی کہ وہ سماعت کی اگلی تاریخ تک کوئی اشتعال انگیز بیان نہ دیں اور معاملہ کو جواب داخل کرنے اور آگے کی سماعت کے لئے 13 جولائی تک ملتوی کردیا۔

پچاس ہزار اسٹارٹ اپ کو دی گئی منظوری

0
پچاس ہزار اسٹارٹ اپ کو دی گئی منظوری

ملک میں نوجوان کاروباری افراد کے طور پر تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ کی تعداد 50،000 تک جا پہنچی ہے۔ ان میں سے 10 ہزار اسٹارٹ اپ صرف گزشتہ 180 دنوں میں وجود میں آئے ہیں۔ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ نے مالی سال 2020-2021 میں تقریبا 1.7 لاکھ ملازمتیں پیدا کیں۔

نئی دہلی: ملک میں نوجوان کاروباری افراد کو تسلیم کئے جانے والے اسٹارٹ اپ کی تعداد پچاس ہزار تک ہوگئی ہے۔ ان میں سے 10 ہزار اسٹارٹ اپ صرف گزشتہ 180 دنوں میں وجود میں آئے ہیں۔

مرکزی وزارت تجارت و صنعت نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ اب 623 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔

تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ نے مالی سال 2020-2021 میں تقریبا 1.7 لاکھ ملازمتیں پیدا کیں۔

انڈسٹری اینڈ انٹرنل تجارت کے فروغ کے شعبے نے 50،000 نئی صنعتوں کو اسٹارٹ اپ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ ان میں سے 19،896 کو یکم اپریل 2020 ء سے تسلیم کیا گیا ہے۔ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ اب 623 اضلاع میں موجود ہیں۔ ہر ریاست اور مرکز کے زیرانتظام ریاست میں کم سے کم ایک اسٹارٹ اپ ہے۔ ملک کی 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاست نے اسٹارٹ اپ کی حمایت کے لئے مخصوص اسٹارٹ اپ پالیسیوں کا اعلان کیا ہے۔ مہاراشٹر، کرناٹک، دہلی، اترپردیش اور گجرات میں سب سے زیادہ تعداد میں اسٹارٹ اپ ہیں۔

وزارت نے بتایا کہ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ نے روزگار کے حصول میں نمایاں شراکت داری کی ہے۔ اوسطا 11 ملازمین فی اسٹارٹ اپ کے ساتھ 48 ہزار 93 اسٹارٹ اپ نے 5،49،842 ملازمتوں کی اطلاع دی ہے۔ تسلیم شدہ اسٹارٹ اپ نے مالی سال 2020-2021 کے دوران صرف 1.7 لاکھ ملازمتیں پیدا کیں۔

بیشتر اسٹارٹ اپ ‘فوڈ پروسیسنگ’، ‘پروڈکٹ ڈویلپمنٹ’، ‘ایپلی کیشن ڈویلپمنٹ’، ‘آئی ٹی کنسلٹنگ’ اور ‘بزنس سپورٹ سروسز’ میں قائم کئے گئے ہیں۔ ان میں سے 45 فیصد اسٹارٹ اپ کی سربراہی خواتین کررہی ہیں۔

کورونا وبا کے دوران ریلائنس نے اپنے ملازمین کیلئے بڑھایا مدد کاہاتھ، کمپنی اپنے ایسے تمام متوفی ملازمین جو پے ۔ رول پر نہیں تھے، کے لواحقین کو دے گی 10 لاکھ روپے کی مالی مدد

0
کورونا وبا کے دوران ریلائنس نے اپنے ملازمین کیلئے بڑھایا مدد کا ہاتھ
کورونا وبا کے دوران ریلائنس نے اپنے ملازمین کیلئے بڑھایا مدد کا ہاتھ

ریلائنس انڈسٹریز نے آج اعلان کیا کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے ملازمین کے سبھی بچوں کی گریجویشن تک کی تعلیم پر آنے والا 100 فیصد خرچ کمپنی برداشت کرے گی۔ کمپنی متوفی ملازمین کے خاندان کو 5 سال کی تنخواہ دے گی۔ اس کے علاوہ ریلائنس انڈسٹریز نے ملازمین کی شریک حیات، والدین اور بچوں کو زندگی بھر میڈیکل کوریج دینے اور سبھی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کیلئے ویکسین کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

نئی دہلی: کورونا وبا کی وجہ سے جب ملک کی معیشت کا پہیہ تھم سا گیا ہے اور بیشتر لوگوں کو مالی دشواریوں کا سامنا ہے، ایسے میں ریلائنس انڈسٹریز نے اپنے نصب العین ’ریلائنس میں ملازمین اور ان کے خاندان سب سے پہلے‘ کو آگے بڑھاتے ہوئے اور ’ایک ریلائنس پریوار‘ کے وعدے کو پورا کرتے ہوئے اپنے ملازمین کیلئے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔

ریلائنس انڈسٹریز نے کورونا وبا کی زد میں آنے والے اپنے تمام ایسے متوفی ملازمین کے لئے جو پے ۔ رول پر نہیں تھے، ان کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز نے آج اعلان کیا کہ کورونا سے ہلاک ہونے والے ملازمین کے سبھی بچوں کی گریجویشن تک کی تعلیم پر آنے والا 100 فیصد خرچ کمپنی برداشت کرے گی۔ کمپنی متوفی ملازمین کے خاندان کو 5 سال کی تنخواہ دے گی۔ اس کے علاوہ ریلائنس انڈسٹریز نے ملازمین کی شریک حیات، والدین اور بچوں کو زندگی بھر میڈیکل کوریج دینے اور سبھی ملازمین اور ان کے اہل خانہ کیلئے ویکسین کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مکیش امبانی نے اپنے تمام ملازمین کو لکھے ایک مکتوب میں انہیں بھروسہ دلایا کہ ایک ریلا ئنس پریوار کے طور پر مصیبت کی اس گھڑی میں کمپنی ان کے ساتھ ہے۔ انہو ں نے کہا حالانکہ وقت مشکل ہے، ہمیشہ یہ ضرور یاد رکھیں کہ آپ تنہا نہیں ہیں، ریلائنس پریوار ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے۔ ایک ٹیم کے طور پر اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کیلئے ہم ایک ساتھ کھڑے ہیں اور ہم اس وقت تک اس وباء کے خلاف لڑتے رہیں گے جب تک ہم اس کے خلاف لڑائی جیت نہیں جاتے۔

ریلائنس فاونڈیشن کی چیئرپرسن نیتا ایم امبانی نے اپنے تمام ملازمین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ جدوجہد کے جذبہ کے ساتھ ہم ہار نہیں مانیں گے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ آنے والے دن ہمارے لئے بہتر ہونگے۔ جب تک بہتر دن نہیں آتے ہمیں مصیبت زدہ خاندانوں کیلئے دعا کرنی چاہئے۔ آیئے ایک دوسرے کی مدد کے سلسلے کو جاری رکھیں اور بہتر مستقبل کیلئے پرامید رہیں۔

غور طلب ہے کہ کورونا کے اس دور میں ریلائنس انڈسٹریز اپنے ملازمین کے علاوہ ملک کے عام شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی سرگرم ہے۔ اس وقت ملک میں کل آکسیجن پیداوار کا 11 فیصد صرف ریلائنس بنا رہا ہے۔ ریلائنس ہر روز کی 1000 میٹرک ٹن آکسیجن بنا رہاہے جو 1 لاکھ کورونا مریضوں کو ہر دن سانسیں دینے کیلئے معقول ہے۔ یہ آکسیجن پوری طرح سے مفت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر اور گجرات میں ریلائنس فاونڈیشن نے 1875 کووڈ بستروں کا انتظام بھی کیا ہے۔ یہ انتظام بھی عوام کیلئے بالکل مفت ہے۔