جمعہ, اکتوبر 2, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 350

بی جے پی کے خوف سے مسلمانوں کے سماجی، معاشی اور تعلیمی مسائل کو نظرانداز کرنا خودکشی کے مترادف: مسلم دانشور

0
بی جے پی کے خوف سے مسلمانوں کے سماجی، معاشی اور تعلیمی مسائل کو نظرانداز کرنا خودکشی کے مترادف: مسلم دانشور
بی جے پی کے خوف سے مسلمانوں کے سماجی، معاشی اور تعلیمی مسائل کو نظرانداز کرنا خودکشی کے مترادف: مسلم دانشور

حال ہی ترنمول کانگریس کے نو منتخب جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈروں سے ملاقات کی اور ان سے آشیرواد لے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ مگر ان میں سے ایک بھی مسلم لیڈر نہیں تھا۔ ایسا اس لئے ہے کہ ترنمول کانگریس میں اس سطح کا کوئی مسلم لیڈر ہے نہیں جو ابھیشیک بنرجی کو مشورہ دے سکے۔

کلکتہ: اب جب کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس کی حکومت قائم ہوچکی ہے تو مسلم تنظیموں اور لیڈروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی پسماندگی کے خاتمے کے لئے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے اور حکومت پر صحیح سمت میں اقدامات کرنے کے لئے لیڈرشپ کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر مسلم مسائل سے چشم پوشی کی گئی تو یہ مسلمانوں کے لئے خودکشی ثابت ہوگا۔

’’وزارت اعلیٰ کے عہدے پر ممتا بنرجی کی تیسری مدت اور مغربی بنگال کے مسلمان‘‘ کے عنوان سے منعقد ’’خصوصی ٹاک شو‘‘ میں حصہ لیتے ہوئے جادو پور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر عبد المتین نے کہا کہ 2006 میں سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بنگال میں مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کے خاتمے کے لئے حکومت پر دباؤ قائم ہوا تھا۔اس کے نتیجے میں بائیں محاذ حکومت کو اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے لئے عالیہ یونیورسٹی قائم کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ او بی سی کوٹے کے تحت ریزرویشن دینا پڑا۔ مگر 2016 کے بعد مسلمانوں کی سیکیورٹی کا ایشو حاوی ہوگیا اور برابری اور یکساں مواقع کی فراہمی کا ایشو پس پردہ چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج اسی سیکیورٹی ایشو کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی اور اس کے عروج کے خوف سے مسلمانوں کو اپنے بنیادی مسائل سے چشم پوشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ہی مسلمانوں کی ترقی کا ایشو غائب

عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد ریاض نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ممتا بنرجی کے پہلے دور اقتدار میں اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دی گئی اور بہت سارے اقدامات کئے گئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ بالخصوص 2014 میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ہی مسلمانوں کی ترقی کا ایشو غائب ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے حکومت سے کہیں زیادہ مسلم تنظیمیں اور ادارے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ انتخابات میں ترنمول کانگریس کے انتخابی منشور سے مسلم ایشو غائب تھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات سے قبل مسلم تنظیموں اور اداروں کی جانب سے چارڈر آف ڈیمانٹ پیش کیا گیا۔ انہوں نے مسلم لیڈر کی کوالیٹی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ممتا بنرجی نے مختلف مذاہب کے نمائندوں سے ملاقات کی اس میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے جو مطالبات پیش کئے ہیں اس سے مسلم لیڈر شپ کا فقدان ظاہر ہوتاہے۔

اس سوال پر کہ اگر مسلمانوں کے دباؤ میں بائیں محاذ حکومت عالیہ یونیورسٹی اور او بی سی ریزرویشن حکومت دے سکتی ہے تو پھر یہ مسلم لیڈرشپ کہاں غائب ہوگئی۔ عبد المتین کہتے ہیں کہ جمعیۃ علما ہند اور جماعت اسلامی کا دائرہ مسلمانوں میں محدود ہے۔ وہ خاص طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ فرفرہ شریف کا تعلق عام مسلمانوں سے ہے۔ دیہی علاقوں میں فرفرہ شریف کی مضبوط پکڑ ہے تاہم فرفرہ شریف بھی حکومت پر دباؤ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرفرہ شریف کے پیر زادہ عباس صدیقی کی قیادت میں ایک سیاسی جماعت کا وجود اور مسلم ایشوز کو انہوں نے جس طریقے سے اٹھایا گرچہ اس کا اثر اس وقت نہیں ہوا مگر یہ مسلمانوں کےلئے سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے اگر یہ جماعت حکمت عملی سے کام کرے گی۔

خصوصی بات چیت میں شریک حسین رضوی کہتے ہیں کہ جس طریقے مسلمانوں نے بی جے پی کو روکنے کے لئے متحد ہوکر ترنمول کانگریس کو ووٹ دیا ہے اب ممتا بنرجی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دیں۔ مگر وہ کہتے ہیں حقوق اسی وقت ملتے ہیں جب لیڈر شپ بیدار ہو، مگر مسلمانوں کا اس معاملے میں بدنصیبی ہے کہ اس کے پاس ایسی کوئی بھی لیڈر شپ نہیں ہے جو مسلمانوں کے ایشو ز کو اٹھاسکے۔ سب کے سب اپنے مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیڈر شپ کو کلکتہ تک محدود کردیا گیا ہے اور یہ لیڈر شپ دیہی علاقے کے مسائل سے نابلد ہیں۔

حکمراں جماعت ترنمول کانگریس میں مسلم لیڈر شپ کا فقدان

پروفیسر محمد ریاض کہتے ہیں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس میں مسلم لیڈر شپ کا فقدان رہا ہے۔ بالخصوص سلطان احمد کی موت کے بعد تو خلا زیادہ بڑا ہوگیا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی ترنمول کانگریس کے نو منتخب جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈروں سے ملاقات کی اور ان سے آشیرواد لے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ مگر ان میں سے ایک بھی مسلم لیڈر نہیں تھا۔ ایسا اس لئے ہے کہ ترنمول کانگریس میں اس سطح کا کوئی لیڈر ہے نہیں جو ابھیشیک بنرجی کو مشورہ دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے معاشی مسائل کو حل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں تعلیم کا شعور پیدا ہوا ہے اور بہت سے ادارے تعلیمی شعبے میں کام کررہے ہیں اس کے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ مگر مسلمانوں کو او بی سی کوٹے سے جو ریزرویشن حاصل ہے اس کا فائدہ نہیں پہنچ پارہا ہے۔ اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے مسلم دانشوروں اور جماعتوں کا ایک ایسا گروپ تیار کیا جائے جو حکومت پر دباؤ بناسکے۔

پروفیسر عبدالمتین کہتے ہیں اس کے لئے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پسماندہ طبقات، دلت اور شیڈول ٹرائب کے سنجیدہ طبقات کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کے حصول کی جدو جہد کی جائے۔انہوں نے کہا کہ مالد ہ اور مرشدآباد جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں بھی آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کی نمائندگی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف نعروں سے کام نہیں چلتے ہیں بلکہ اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملی الامین کالج حکومت شاہی کی لاپرواہی کی وجہ سے اب بھی صحیح سے نہیں چل رہا ہے۔ یہی صورت حال مرشدآباد یونیورسٹی کا ہے۔ حکومت نے ایک کالج کو ہی یونیورسٹی کا درجہ دیدیا ہے۔ جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرشدآباد یونیورسٹی کے لئے علاحدہ کیمپس کے قیام کی ضرورت تھی۔

وجے مالیا، نیرو مودی کی برطانیہ سے جلد ہوگی حوالگی 

0
وجے مالیا، نیرو مودی کی برطانیہ سے جلد ہوگی حوالگی
وجے مالیا، نیرو مودی کی برطانیہ سے جلد ہوگی حوالگی

برطانیہ کی وزیر مملکت برائے خارجہ نے 15 اپریل کو نیرو مودی کی حوالگی کا آرڈر دیا تھا۔ اب نیرو مودی اس کے خلاف اپیل کر رہا ہے لیکن وہ حراست میں ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا (معاشی مجرمین) کی جلد از جلد حوالگی یقینی بنائیں گے۔

نئی دہلی: حکومت نے آج کہا کہ وہ کروڑوں روپے کے گھپلہ کے ملزم نیرو مودی اور وجے مالیا کی برطانیہ سے جلد از جلد حوالگی یقینی بنائے گی۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہاں ایک ورچول پریس کانفرنس میں کہا کہ برطانیہ کی وزیر مملکت برائے خارجہ نے 15 اپریل کو نیرو کی حوالگی کا آرڈر دیا تھا۔ اب نیرو مودی اس کے خلاف اپیل کر رہا ہے لیکن وہ حراست میں ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا (معاشی مجرمین) کی جلد از جلد حوالگی یقینی بنائیں گے۔

وجے مالیا کے بارے میں پوچھے جانے پر ترجمان نے کہا کہ تمام معاشی مجرمین کی حوالگی کے معاملہ پر چار مئی کو ہندوستان برطانیہ چوٹی میٹنگ میں بات چیت ہوئی تھی۔ برطانیہ نے کہا کہ ملک میں فوجداری نظام کی نوعیت کچھ رکاوٹوں کا باعث بنی ہے۔ لیکن وہ اس معاملہ کو سمجھتے ہیں اور ایسے مجرموں کی جلد حوالگی یقینی بنانے کے لئے مکمل تعاون کریں گے۔

سائبر حملے کے بعد جے بی ایس نے ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ تاوان ادا کیا

0

کمپنی نے بتایا کہ جے بی ایس امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے کریمینل ہیکنگ کے بعد بطور تاوان 1.1 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے۔ ادائیگی کے وقت کمپنی کی فیکٹریوں میں بیشتر ملازمین کام کرتے تھے۔

واشنگٹن: دنیا کی سب سے بڑی گوشت فراہم کرنے والی برازیل کی جے بی ایس کمپنی نے سائبر حملے کے بعد 1.1 ڈالر کروڑ کا تاوان ادا کیا ہے۔

جے بی ایس نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔ کمپنی نے بتایا کہ جے بی ایس امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے کریمینل ہیکنگ کے بعد بطور تاوان 1.1 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے۔ ادائیگی کے وقت کمپنی کی فیکٹریوں میں بیشتر ملازمین کام کرتے تھے۔

داخلی آئی ٹی پیشہ وروں اور تیسری پارٹی سائبر سیکیورٹی ماہرین، کمپنی نے حملے سے متعلق کسی غیر متوقع مسائل کو روکنے اور ڈیٹا باہر نہیں جانا یقینی بنانے کے لئے یہ فیصلہ لیا۔

جے بی ایس امریکی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آندرے نوگویرا نے کہا ’’ہماری کمپنی اور میرے لئے ذاتی طور پر ایک بہت مشکل فیصلہ تھا، لیکن ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہمارے صارفین کو کسی بھی ممکنہ خطرات سے بچنے کے لئے یہ فیصلہ لینا ضروری ہے‘‘۔

عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے

0
عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے
عراقی دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے

عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) نے عراقی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تین ڈرون سے حملے کیے گئے جن میں سے ایک کو مار گرایا گیا ہے۔

بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کے روز ڈرون حملے کئے گئے۔

عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) نے عراقی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تین ڈرون سے حملے کیے گئے جن میں سے ایک کو مار گرایا گیا ہے۔

اس سے قبل السموریہ ٹی وی چینل نے سیکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا کہ بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک واقع وکٹری ملٹری بیس پر راکٹ حملے کی زد میں آگیا ہے۔

اس سے کچھ عرصے قبل عراقی صوبہ صلاح الدین میں بلاد ہوائی اڈے پر راکٹ داغے گئے تھے۔ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

ممبئی میں چار منزلہ عمارت منہدم، 11 افراد ہلاک، 17 زخمی

0
ممبئی میں چار منزلہ عمارت منہدم، 11 افراد ہلاک، 17 زخمی
ممبئی میں چار منزلہ عمارت منہدم، 11 افراد ہلاک، 17 زخمی

ممبئی کے مغربی ملاڈ کے مالونی علاقے میں چار منزلہ عمارت کے گرنے سے 11 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے۔ شہر میں بدھ کے روز مون سون کی موسلادھار بارش ہوئی تھی اور اسی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔

ممبئی: ممبئی کے ملاڈ ویسٹ کے مالونی علاقے میں بدھ کی دیر رات ایک چار منزلہ عمارت کے منہدم ہونے سے 11 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے۔

برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ رات مالونی گیٹ نمبر آٹھ پر اس وقت پیش آیا جب ایک رہائشی عمارت کی دوسری اور تیسری منزل کا ایک حصہ ملحقہ جھونپڑی پر گر گیا۔ حادثے میں 11 افراد ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہوگئے۔

ذرائع سے موصولہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق راحت و بچاؤ کاروائیاں جاری ہیں۔ زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ شہر میں بدھ کے روز مون سون کی موسلادھار بارش ہوئی تھی اور اسی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔

ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور بنگلہ اداکارہ نصرت جہاں نے اپنی دو سالہ شادی کے خاتمے کا کردیا اعلان 

0
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور بنگلہ اداکارہ نصرت جہاں نے اپنی دو سالہ شادی کے خاتمے کا کردیا اعلان 
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور بنگلہ اداکارہ نصرت جہاں نے اپنی دو سالہ شادی کے خاتمے کا کردیا اعلان 

بنگالی میڈیا میں گزشتہ کئی دنوں سے نصرت جہاں کے حاملہ ہونے اور اس بچے کے باپ کی شناخت پر بحث جاری تھی۔ نصرت جہاں کے شوہر نکھل کا بیان آ چکا تھا کہ وہ اس بچے کے باپ نہیں ہے کیوں کہ گزشتہ کئی مہینے سے وہ دونوں علاحدہ ہیں۔ اس درمیان آج نصرت جہاں نے تحریری بیان جاری کرکے اپنی شادی کے اختتام کو ہی پہنچا دیا۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور بنگلہ اداکارہ نصرت جہاں نے آج اپنی دو سالہ ازدواجی زندگی کے خاتمہ دھماکہ خیز اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چوں کہ ان کی شادی ترکی بزنس مین نکھل جین کے ترکی کے قانون کے مطابق بین مذاہب تھی اور ہندوستان میں یہ شادی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہوئی ہے اس لئے میری شادی ہندوستان میں باطل ہے تو پھر طلاق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔

بنگالی میڈیا میں گزشتہ کئی دنوں سے نصرت جہاں کے حاملہ ہونے اور اس بچے کے باپ کی شناخت پر بحث جاری تھی۔ نصرت کے شوہر نکھل کا بیان آ چکا تھا کہ وہ اس بچے کے باپ نہیں ہے کیوں کہ گزشتہ کئی مہینے سے وہ دونوں علاحدہ ہیں۔ اس درمیان آج نصرت جہاں نے تحریری بیان جاری کرکے اپنی شادی کے اختتام کو ہی پہنچا دیا۔

نصرت نے کہا کہ وہ اپنی نجی زندگی پر عوامی سطح پر بات کرنا نہیں چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں نکھل جین سے شادی کی بات ہے تو یہ شادی ترکی میرج ایکٹ کے تحت ہوئی تھی اور چوں کہ یہ شادی غیرملکی سرزمین پر ہوئی ہے اس لئے یہ تقریب باطل ہے۔ ہندوستان میں اسپیشل میرج شادی ایکٹ کے تحت توثیق کی ضرورت ہوتی ہے جو ایسا نہیں ہوا۔ عدالتی قانون کے مطابق، یہ شادی نہیں تھی بلکہ دو افراد کے درمیان رشتہ تھا۔ اس طرح طلاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ جون 2019 میں، نصرت جہاں اور نکھل جین نے ترکی کے خوبصورت شہر بوڈرم میں شادی کی تقریب منعقد کی تھی۔ انہوں نے شادی کے بعد ٹویٹ کیا تھا ’’نکھل جین کے ساتھ خوشی خوشی کی طرف‘‘ اس کے ایک ہفتے کے بعد کلکتہ میں عشائیہ دیا گیا تھا جس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی شریک تھی۔ شادی کی بعد سندور لگاکر نصرت جہاں نے حلف لیا تھا۔ کچھ مسلم حلقوں سے اس پر تنقید ہونے کے بعد نصرت جہاں کو میڈیا اور لبرل سوسائٹی سے حمایت بھت ملی تھی۔

بشیر ہاٹ سے رکن پارلیمنٹ نصرت جہاں نے کہا کہ وہ اپنی محنت سے اس مقام کو حاصل کیا ہے۔ اس لئے میں اپنے نام پر کسی کو فائدہ حاصل کرنے نہیں دوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک عرصے ان کے خاندان کا خرچ برداشت کررہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ میں نے نکھل کی دولت کا استعمال کیا ہے۔ یہ سراسر بے بنیاد ہے۔ بلکہ میرے اکاؤنٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔ غیرقانونی طریقے سے روپے نکالے گئے ہیں۔ میرے زیورات میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

نصرت جہاں نے 2019 کے لوک سبھا کا انتخاب بشیر ہاٹ سے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے جیت حاصل کی تھی۔ وہ ان 17 خواتین میں شامل تھیں جنھیں اس سال ممتا بنرجی کی پارٹی نے انتخابی میدان میں اتارا تھا اور انہوں نے خوب جلسے و جلوس کئے تھے۔

دوسری جانب نصرت جہاں کا بیان آنے کے بعد نکھل جین نے کہا کہ وہ پہلے ہی اس معاملے میں عدالت میں جاچکے ہیں اس لئے وہ اس پر کچھ زیادہ نہیں بولیں گے اور اگر نصرت حاملہ ہیں تو بچہ ان کا نہیں ہے۔ خیال رہے کہ بنگلہ فلموں کے اداکار یش جو اس سال بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑا تھا سے تعلقات کی وجہ سے نصرت جہاں سرخیوں میں رہی ہیں۔

ممتا بنرجی نے کسان لیڈروں سے کی ملاقات، کسانوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی

0
ممتا بنرجی نے کسان لیڈروں سے کی ملاقات، کسانوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی
ممتا بنرجی نے کسان لیڈروں سے کی ملاقات، کسانوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کسان تحریک کے لیڈر راکیش ٹکیت سے ملاقات کرنے کے ساتھ کہا کہ کسانوں کی تحریک کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم مودی کے ذریعہ ملک کے ہر ایک شہری کو کورونا ویکسین فراہم کے اعلان کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ 6 مہینے قبل ہی کرلیا جاتا تو آج اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکت نہیں ہوتی۔

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کسان تحریک کے لیڈر راکیش ٹکیت سے ملاقات کرنے کے ساتھ کہا کہ کسانوں کی تحریک کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی ممتا بنرجی نے آج نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرکز عوام مخالف پائیسیوں پر گامزن ہے۔

وزیر اعظم مودی کے ذریعہ ملک کے ہر ایک شہری کو کورونا ویکسین فراہم کے اعلان کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ 6 مہینے قبل ہی کرلیا جاتا تو آج اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکت نہیں ہوتی۔ ممتا بنرجی نے بی جے پی کو یاد دلایا کہ وہ ملک کے عوام کے ٹیکس کے روپیے سے مفت کورونا ویکسین فراہم کررہے ہیں۔ یہ کورونا ویکسین بی جے پی اپنے جیپ سے نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی تقریر کے علاوہ کچھ نہیں دیتے ہیں۔ 35,000 کروڑ روپے کہاں گئے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ریاستی حکومت سے ویکسین کی خریداری کا حق چھین کر مرکز نے وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

ممتا بنرجی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سحت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر پٹرولیم کی قیمت 100 روپے سے زائد ہوچکے ہیں۔ مودی حکومت کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔ کورونا ویکسین پر جی ایس ٹی لگایا گیا ہے۔ بی جے پی کے دور اقتدار میں صرف بے روزگاری میں اضافہ ہواہے۔ ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ افسران بھی خوفزدہ ہیں۔ انہیں کچھ بھی کہنے کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔

ممتا بنرجی نے وفاقی ڈھانچے کے لئے یونین کی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اگر کسی بھی ریاست کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے یہ یونین پرزور آواز بلند کرے گی۔

کسانوں کی تحریک کی حمایت کے لئے غیر بی جے پی وزرا کے ساتھ ورچوئل میٹنگ

انہوں نے کہا کہ کسانوں کی تحریک کی حمایت کے لئے غیر بی جے پی وزرا کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ کسانوں کو زیاد ہ سے زیادہ معاوضہ ملے گا۔ کسان تحریک کے تین نمائندے منگل کی شام دہلی سے کلکتہ پہنچے تھے۔ اس وفد میں راکیش ٹکیٹ کے علاوہ دو کسان قائدین انوج سنگھ اور جدوبیر سنگھ بھی شامل تھے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ پہلے دن سے کسانوں کی تحریک کی حمایت کررہی ہیں۔ پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ دھرنے کی جگہ پہنچ کر اخلاقی حمایت دے چکے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ جب تک مرکزی حکومت مطالبات تسلیم نہیں کرلیتی ہے اس وقت تک احتجاج جاری رکھنا چاہیے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ حزب اختلاف کی تمام ریاستوں کو بی جے پی کے زیر اقتدار مرکزی حکومت کے خلاف متحد ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کے ذریعہ ایک ریاست پر حملہ ہوتا ہے تو، باقی ریاستوں کو کھڑا ہونا پڑے گا۔” ملک کی جمہوریت کے تحفظ کے لئے، ملک کے کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کو بچانے کے لئے، سب کو ایک ہونا چاہئے۔

خیال رہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل کسانوں نے بنگال میں تحریک چلائی تھی کہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں۔

کانگریس کے سینئر رہنما و سابق مرکزی وزیر جتن پرساد بی جے پی میں ہوئے شامل

0
کانگریس کے سینئر رہنما و سابق مرکزی وزیر جتن پرساد بی جے پی میں ہوئے شامل
کانگریس کے سینئر رہنما و سابق مرکزی وزیر جتن پرساد بی جے پی میں ہوئے شامل

مرکزی وزیر پیوش گوئل اور پارٹی کے قومی میڈیا انچارج اور رکن پارلیمنٹ انل بلونی نے دین دیال اپادھیائے مارگ پر واقع بی جے پی ہیڈکوارٹر میں کانگریس کے سینئر رہنما مسٹر جتن پرساد کو رکنی کی رسید سونپی اور گلدستہ پیش کرکے انہیں پارٹی میں شامل کیا۔

نئی دہلی: اتر پردیش کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر جتن پرساد نے بدھ کو یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہوگئے۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل اور پارٹی کے قومی میڈیا انچارج اور رکن پارلیمنٹ انل بلونی نے دین دیال اپادھیائے مارگ پر واقع بی جے پی ہیڈکوارٹر میں مسٹر پرساد کو رکنی کی رسید سونپی اور گلدستہ پیش کرکے انہیں پارٹی میں شامل کیا۔

اس موقع پر مسٹر پرساد نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کانگریس کے ساتھ تین نسلوں کے تعلقات کو ترک کرنے کا فیصلہ بہت ہی غور و فکر کے بعد کیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ "میری نظر میں صرف بی جے پی واحد ایسی سیاسی جماعت ہے، باقی فرد پر مبنی یا علاقائی جماعتیں ہیں۔ یہ دہائی عالمی سطح پر ہندوستان کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کے لئے دن رات ایک کر رہے ہیں۔ مجھے بھی تھوڑی خدمت کرنے کا موقع ملے گا۔‘‘

انہوں نے بتایاکہ کانگریس میں رہنے سے یہ محسوس ہوا کہ اس پارٹی میں رہنے سے لوگوں کے مفادات کا تحفظ نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر آپ لوگوں کے مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتے ہیں تو پھر سیاست میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

مسٹر پرساد نے انہیں بی جے پی میں شامل کرنے کے لئے مسٹر مودی، بی جے پی کے صدر جگت پرکاش نڈا اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کیا۔

ممبئی میں گھن گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی طوفانی بارش سے عام زندگی مفلوج

0
ممبئی میں گھن گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی طوفانی بارش سے عام زندگی مفلوج
ممبئی میں گھن گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی طوفانی بارش سے عام زندگی مفلوج

آج صبح سویرے سے ممبئی کے شہری اور نواحی علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور صبح 9 اور 10 بجے کے درمیان بجلی کوندنے کے ساتھ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بارش ہونے لگی اور چار پانچ گھنٹوں سے سلسلہ جاری ہے۔

ممبئی: ممبئی سمیت مہاراشٹر کے بیشتر علاقوں میں گھن ۔ گرج چمک کے ساتھ مانسون کی پہلی بارش نے عام زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے سربراہ جینتا سرکارنے مانسون کی آمد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی خبر ہے اور جنوب مغربی مانسون ممبئی، تھانے اور پالگھر میں 9 جون کو دستک دے چکا ہے۔

مانسون کے ولساڑ گجرات، ناگپسور مہاراش اور پھر مشرقی سمت میں بڑھنے کا امکان ہے۔مہاراشٹر میں آئندہ دو تین دن مانسون اپنا جلوہ دکھائے گا۔

آج صبح سویرے سے ممبئی کے شہری اور نواحی علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے اور صبح 9 اور 10 بجے کے درمیان بجلی کوندنے کے ساتھ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بارش ہونے لگی اور چار پانچ گھنٹوں سے سلسلہ جاری ہے۔

دفتر موسمیات قلابہ کے مطابق جنوبی ممبئی میں 77.4 ملی میٹر اور سانتا کروز میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 59.6 ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

سینٹرل ریلوے کے سی پی آر اوشیواجی ستار نے مطلع کیا کہ مضافات میں بھاری بارش کی وجہ سے چونابھٹی اور سائن – کرلا کے درمیان پٹریوں پر پانی جمع ہوگیا ہے۔ احتیاطی طور پر ریلوے نے سی ایس ایم ٹی اور تھانے کے درمیان میں لائن کی لوکل سروس بند کردی گئی ہے۔ اور شیواجی مہاراج ٹرمنس اور واشی کے درمیان آج صبح ساڑھے 10 بجے ہاربر لائن کی سروسز معطل کردی گئی ہے۔

شیواجی ستار کے مطابق ٹرانس ہاربر اور بی ایس یو (ارن) کیسرویز معمول کے مطابق جاری ہیں۔تھانے اور کرجت، کسارا اور واشی، پنیویل کے درمیان لوکل خدمات جاری ہیں۔

بی ایم سی کے دعوے ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوچکا ہے۔ سڑک پر موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ توکتے طوفان کے پندرہ دنوں بعد شہری زندگی ایک بار پھر متاثر ہوئی ہے۔

ویسٹرن ریلوے کے ترجمان سمیت ٹھاکر کے مطابق وڈالا علاقے میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے شیواجی ٹرمینس اور اندھیری کے درمیان لوکل سروس معطل کی گئی ہے۔ ویسٹرن اور ایسٹرن ہائی وے پر ٹریفک جام ہے۔ مہاراشٹر حکومت اور بی ایم سی حکام نے پہلے ہی متعلقہ محکموں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

پرینکا نے کہا، آگرہ ماک ڈرل کی حقیقت سامنے لائے یوگی حکومت

0
پرینکا نے کہا، آگرہ ماک ڈرل کی حقیقت سامنے لائے یوگی حکومت

ماک ڈرل کے دوران آکسیجن ہٹانے سے آگرہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں کورونا کے 22 مریضوں کے دم توڑنے کی خبر سامنے آئی۔ اس انکشاف پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اس کی سچائی سامنے لاکر قصورواروں کو سخت سزا دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کی اترپردیش کی انچارج جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے آگرہ کے ایک اسپتال میں مبینہ ماک ڈرل کے دوران آکسیجن ہٹانے سے کورونا مریضوں کی موت کی خبر کے انکشاف پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کافی سنگین معاملہ ہے۔ اس کی سچائی سامنے لاکر قصورواروں کو سخت سزا دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

محترمہ گاندھی نے بدھ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اترپردیش حکومت اور آگرہ انتظامیہ بار بار آکسیجن کی کمی نہ ہونے کا حوالہ دے رہی ہے۔ اس کے باجوود آکسیجن کی کمی کی وجہ سے آگرہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں کورونا کے 22 مریضوں کے دم توڑنے کی خبر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اترپردیش حکومت نے آکسیجن کی زبردست کمی کے درمیان مسلسل کہا کہ ’آکسیجن کی کمی نہیں ہے‘۔ ریاست میں لوگوں کی تڑپ تڑپ کر جانیں چلی گئی ہیں۔ آگرہ میں بھی انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ ’آکسیجن کی کمی نہیں تھی‘۔ کیا اترپردیش حکومت آگرہ ماک ڈرل کی حقیقت سامنے لاکر قصورواروں کو سزا دے گی‘‘؟