جمعہ, اکتوبر 2, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 336

مرکز اور دہلی حکومت کو سپریم کورٹ کا عوامی مفاد میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ

0
مرکز اور دہلی حکومت کو سپریم کورٹ کا عوامی مفاد میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ
مرکز اور دہلی حکومت کو سپریم کورٹ کا عوامی مفاد میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ

حالیہ برسوں میں مرکز اور دہلی حکومت کے مابین جاری تنازعہ کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے، سپریم کورٹ نے عوامی مفاد میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

نئی دہلی: حالیہ برسوں میں مرکز اور دہلی حکومت کے مابین جاری تنازعہ کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے عوامی مفاد میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس رشی کیش رائے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی مرکز اور دہلی میں مختلف نظریات کی حامل حکومتیں موجود تھیں۔ کبھی اتنی تلخی نہیں ہوئی تھی اور معاملہ عدالت تک نہیں پہنچا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں یہ سب کچھ زیادہ ہی ہورہا ہے، جو بدقسمتی کی بات ہے۔
عدالت نے دہلی فسادات کے معاملے میں فیسبک کے عہدیدار کو طلب کرنے سے متعلق اسمبلی کی امن کمیٹی کے حکم کے سلسلے میں عدالت عظمی کے ذریعہ کل سنائے گئے فیصلے میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔

بنچ نے واضح طور پر کہا کہ دونوں حکومتوں کو مل کر کام کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ خیال کرنا قطعا نامناسب ہے کہ صرف ہماری سوچ ہی صحیح ہے، باقی سب کچھ غلط ہے۔

اسدالدین اویسی کا مشن یوپی پر، حصہ داری کے مطالبے کے ساتھ آواز بلند کرنے کا دعوی

0
اسدالدین اویسی کا مشن یوپی پر، حصہ داری کے مطالبے کے ساتھ آواز بلند کرنے کا دعوی
اسدالدین اویسی کا مشن یوپی پر، حصہ داری کے مطالبے کے ساتھ آواز بلند کرنے کا دعوی

حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی بہار کے بعد یوپی میں اپنی پارٹی کو وسعت دینے کے لئے ان دنوں کافی سرگرم ہیں۔

لکھنؤ: اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی پارٹیوں نے اپنی تیاریاں شرو ع کردی ہیں۔ اسی ضمن میں مشن یوپی کے تحت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی یک روزہ دورے پر یوپی پہنچے۔ اس دوران انہوں نے ‘حصہ داری’ کا مطالبہ کرتے ہوئے اسمبلی میں آواز بلند کر کے آگے بڑھنے کا دعوی کیا۔

حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی بہار کے بعد یوپی میں اپنی پارٹی کو وسعت دینے کے لئے ان دنوں کافی سرگرم ہیں۔ مسٹر اویسی نے سابق کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر کی قیادت میں بننے والے بھاگیداری سنکلپ مورچہ میں اپنی شمولیت کو یقینی بنایا ہے اور پارٹی کے ریاستی صدر و کارکنوں اب 100 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کررہے ہیں۔

یک روزہ دورے پر لکھنؤ کے اموسی ائیر پورٹ پر اترنے کے بعد اسدالدین اویسی نے ایک ہوٹل میں سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر سے ملاقات کی۔ دونوں لیڈروں کے درمیان 40 منٹ کی ہوئی میٹنگ میں سنکلپ مورچہ کی کامیابی، اس کے لئے امکانی اقدامات، کن پارٹیوں سے اتحاد کے امکانات ہیں وغیرہ موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

اسدالدین اویسی نے مسلم سماج کے تعلیمی پسماندگی کے لئے کانگریس و بی جے پی کو مورد الزام ٹھہرایا

ملاقات کے بعد مسٹر پرکاش نے جہاں بی جے پی کو اپنا ہدف تنقید بنایا اور کابینی توسیع کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے اسے ٹرین کا ڈبہ تبدیل کرنے جیسا گردانہ وہیں اسدالدین اویسی نے مسلم سماج کے تعلیمی پسماندگی کے لئے کانگریس و بی جے پی دونوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔

اس سے قبل لکھنؤ پہنچنے کے بعد اسدالدین اویسی نے راجدھانی سے 130 کلو میٹر دور ضلع بہرائچ پہنچ کر سید سالار مسعود غازی کے دربار میں حاضری دی۔ پھر بہرائچ میں ہی ایم آئی ایم کے دفتر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وہاں موجود عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب صرف کھجور اور افطار پارٹی سے کام نہیں چلے گا۔ مسلم ۔ یادو کا ملاپ کام نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران یوگی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔

کشمیر میں دو الگ الگ مسلح جھڑپوں میں 4 دہشت گرد ہلاک

0
کشمیر میں دو الگ الگ مسلح جھڑپوں میں 4 دہشت گرد ہلاک
کشمیر میں دو الگ الگ مسلح جھڑپوں میں 4 دہشت گرد ہلاک

جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ضلع کولگام کے زوڈار میں ہونے والی ایک مسلح جھڑپ کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ دو دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

سری نگر: جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور کولگام اضلاع میں دو شبانہ مسلح جھڑپوں کے دوران چار دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ یہ مسلح جھڑپیں ضلع پلوامہ کے پوچھل اور ضلع کولگام کے زوڈار میں رونما ہوئی ہیں۔

جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ضلع کولگام کے زوڈار میں ہونے والی ایک مسلح جھڑپ کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ دو دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس دہشت گرد مخالف آپریشن میں کولگام پولیس اور فوج کی ایک آر آر نے حصہ لیا۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ ایسی ہی ایک جھڑپ ضلع پلوامہ کے پوچھل میں رونما ہوئی جس میں دو جنگجو مارے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت معلوم کی جا رہی ہے۔

اس دوران کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا کہ وادی میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران پانچ جنگجو مارے گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا: ‘پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز ان آپریشن کے لئے مبارکبادی کے مستحق ہیں کیوں کہ ان کے دوران ہمارا یا عوام کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا’۔

قبل ازیں جموں و کشمیر پولیس نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے معراج الدین حلوائی عرف عبید نامی حزب المجاہدین کے اعلیٰ کمانڈر کو ایک جھڑپ میں ہلاک کیا ہے۔

آج شام نئی کابینہ اور وزارتی کونسل کی پہلی میٹنگ

0
آج شام نئی کابینہ اور وزارتی کونسل کی پہلی میٹنگ
آج شام نئی کابینہ اور وزارتی کونسل کی پہلی میٹنگ

سرکاری ذرائع کے مطابق نئی کابینہ کا اجلاس آج شام 5 بجے وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت ہوگا۔ اس کے بعد سات بجے وزرا کی کونسل کا اجلاس ہوگا۔

نئی دہلی: مودی کابینہ میں پہلی توسیع اور تنظیم نو کے بعد نئی کابینہ اور وزراء کی کونسل کی پہلی میٹنگ آج شام ہوگی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق کابینہ کا اجلاس آج شام 5 بجے وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت ہوگا۔ اس کے بعد سات بجے وزرا کی کونسل کا اجلاس ہوگا۔ وزراء کی کونسل کے اجلاس میں تمام کابینہ اور وزراء مملکت شریک ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے سے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق کابینہ کا اجلاس بدھ کی صبح 11 بجے ہونا تھا، لیکن کابینہ میں توسیع اور تنظیم نو کی وجہ سے اسے ملتوی کردیا گیا۔

بدھ کی شام 43 نئے وزرا نے حلف لیا، جن میں 15 کابینہ کے وزیر اور 28 وزیر مملکت شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کابینہ میں وزرا کی تعداد 77 ہوگئی ہے۔

کابینہ میں توسیع کے بعد، مسٹر مودی نے ٹویٹ کیا اور نئے ساتھیوں کو مبارکباد پیش کی اور ان کی میعاد کے لئے نیک خواہشات ب پیش کی۔

ویربھدرا سنگھ کی موت پر مودی نے تعزیت کی

0
ویربھدرا سنگھ کی موت پر مودی نے تعزیت کی
ویربھدرا سنگھ کی موت پر مودی نے تعزیت کی

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہماچل پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر رہنما ویربھدرا سنگھ کی موت پر اظہار تعزیت کیا ہے۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہماچل پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر رہنما ویربھدرا سنگھ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

مسٹر مودی نے جمعرات کو ایک ٹویٹ پیغام میں کہا، "مسٹر سنگھ جی کا طویل سیاسی کیریئر رہا۔ وہ ایک بہت ہی تجربہ کار رہنما اور منتظم تھے۔ انہوں نے ہماچل پردیش میں مرکزی کردار ادا کیا اور ریاست کے لوگوں کی خدمت کی۔ ان کے انتقال سے مایوس ہوں۔ ان کے اہل خانہ اور حامیوں سے میری تعزیت اوم شانتی۔”

نندی گرام اسمبلی نتائج: کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کوشک چندرا نے کیس کی سماعت سے خود کو کیا الگ، ممتا بنرجی پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ

0
نندی گرام اسمبلی نتائج: کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کوشک چندرا نے کیس کی سماعت سے خود کو کیا الگ، ممتا بنرجی پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ
نندی گرام اسمبلی نتائج: کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کوشک چندرا نے کیس کی سماعت سے خود کو کیا الگ، ممتا بنرجی پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ

24 جون کو ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائیکورٹ میں عرضی دائر کرکے درخواست کی تھی کہ نندی گرام کے انتخابی نتائج کو چیلنج کئے جانے والی عرضی کی سماعت سے کوشک چندرا کو الگ کیا جائے۔

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس کوشک چندرا نے آج مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ذریعہ نندی گرام کے انتخابی نتائج کو چیلنج کئے جانے والی عرضی کی سماعت سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ تاہم عدالت نے وزیر اعلی پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

24 جون کو ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے درخواست کی تھی کہ نندی گرام کے انتخابی نتائج کو چیلنج کئے جانے والی عرضی کی سماعت سے کوشک چندرا کو الگ کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ چوں کہ ماضی بطور وکیل کوشک چندرا بی جے پی سے وابستہ رہے ہیں اس لئے ان کے جانبدار ہونے کا شبہ ہے۔ چندرا نے کہا کہ جب انہوں نے 18 جون کو اس درخواست پر سماعت شروع کی تھی اس وقت اس کیس سے ان کو ہٹانے کی درخواست نہیں کی گئی تھی۔ مگر سماعت کے بعد ترنمول کانگریس کے لیڈروں نے ٹوئٹر کے ذریعہ یہ آواز بلند کی کہ میں بی جے پی سے وابستہ رہا ہوں۔

چندرا نے ممتا بنرجی پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے آپ کو اس بات پر قائل کرنے سے قاصر ہوں کہ اس کیس کی میری عدالت میں سماعت کی وجہ سے مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ درخواست گزار نے جج کی جانبداری سے متعلق انگلی اٹھانے میں جلد بازی سے کام لیا ہے۔ جب کہ اس درخواست کی سماعت کرنے میں میری کوئی ذاتی دلچسپی نہیں ہے۔ چیف جسٹس کے ذریعہ مجھے تفویض کردہ کیس کی سماعت کرنا میرا آئینی فرض ہے۔

چندرا نے خود کو اس کیس کی سماعت سے علاحدہ کرنے کا اعلان کیا

چندرا نے کہا کہ جج کو بھی دوسرے شہری کی طرح رائے دہندگی کے حقوق اور سیاسی جھکاؤ کا حق حاصل ہے۔ تاہم جج کی سابقہ مشغولیت اور وابستگی کی بنیاد پر جانبدار نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان ریمارکس کے بعد چندرا نے خود کو اس کیس کی سماعت سے علاحدہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس معاملے کی سماعت سے خود کو علاحدہ نہیں کرتے ہیں تو اس سے مزید تنازع کھڑا ہوگا۔

عدالت نے حکم دیا کہ جرمانہ کی رقم دو ہفتوں میں مغربی بنگال بار کونسل کے پاس جمع کروانی ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ یہ رقم کوووڈ 19 کی وجہ سے انتقال ہونے والے وکلا کے لواحقین کے لئے استعمال ہوگی۔

مغربی بنگال کے وزیر اعلی ممتا بنرجی نندیگرام اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے شوبھندو ادھیکاری سے ہار گئے تھے۔ شوبھندو ادھیکاری انتخابات سے عین قبل ترنمول کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ 17 جون کو ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے نندی گرام کے نتائج کو چیلنج کیا تھا۔

اس کیس کی سماعت کوشک چندرا کی عدالت میں شروع ہونے کے بعد ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راجیش بنڈل کو خط لکھ کر درخواست کی کہ چوں کہ کوشک چندرا بی جے پی کے سرگرم ممبر رہ چکے ہیں اس لئے اس معاملے میں ان سے جانبداری کی امید ہے اس لئے اس کیس کی سماعت سے ان کو الگ کیا جائے۔

کئی تصویر میں چندرا بی جے پی لیڈروں کے ساتھ بیٹھے نظر آئے

ممتا بنرجی کے وکیل نے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن اور مشہور وکیل پرشانت بھوشن کے ٹویٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی ایسی تصویریں ہیں جس میں کوشک چندرا بی جے پی لیڈروں کے ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ جسٹس چندرا نے تصدیق کی تھی کہ وہ تصاویر ان کی ہی ہیں۔

خیال رہے کہ نندی گرام اسمبلی حلقہ جہاں سے ممتا بنرجی انتخاب لڑی تھیں کے نتائج حیران کن تھے۔ ممتا بنرجی مسلسل پیچھے چلیں بعد میں وہ آگے ہوئںں اور ان کی جیت کا اعلان کردیا گی۔ مگر بعد میں الیکشن کمیشن نے 19659 ووٹوں سے شکست کا اعلان کردیا۔ ممتا بنرجی نے گنتی میں دھاندلی اور دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے دوبارہ گنتی کی درخواست کی جس کو الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا۔ اس وقت ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ وہ نتائج کو چیلنج کریں گی۔

کابینہ کی توسیع اور تشکیل نو سے پہلے وزرا کے استعفی کی لگی لائن

0
کابینہ کی توسیع اور تشکیل نو سے پہلے وزرا کے استعفی کی لگی لائن
کابینہ کی توسیع اور تشکیل نو سے پہلے وزرا کے استعفی کی لگی لائن

بدھ کی شام ہونے والی کابینہ میں توسیع سے پہلے استعفی دینے والے وزرا میں پانچ کابینی وزیر بھی ہیں۔

نئی دہلی: مرکزی کابینہ میں توسیع اور تشکیل نو سے پہلے نئے وزرا کے لئے جگہ بناتے ہوئے آج ایک کے بعد ایک کئی وزرا نے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا۔ بدھ کی شام ہونے والی کابینہ میں توسیع سے پہلے استعفی دینے والے وزرا میں پانچ کابینی وزیر بھی ہیں۔

استعفی دینے والے وزرا میں سماجی انصاف اور امپارمنٹ کے وزیر تھاورچند گہلوت، وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک، محنت اور روزگار کے وزیر سنتوش کمار گنگوار، کیمیکل اور کھاد کے وزیر ڈی وی سدانند گوڑا، وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن، خواتین اور اطفال کی فلاح و بہبود کے وزیر مملکت دیباشری چودھری، تعلیم کے وزیر مملکت سنجے دھوترے، چھوٹی، مائکرو اور درمیانہ صنعت کے وزیر مملکت پرتاپ سارنگی، جنگلات اور ماحولیا ت کے وزیر مملکت بابل سپریو اور فوڈ اینڈ سپلائی کے وزیر مملکت راو صاحب دانوے شامل ہیں۔

مودی حکومت کے پھر سے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار کابینہ کی توسیع اور تشکیل نو کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق صبح وزیراعظم کی رہائش گاہ پر میٹنگ کے بعد مرکزی وزرا نے استعفے دیئے۔ میٹنگ میں وزیر داخلہ امت شاہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا بھی شامل ہوئے۔

امریکی فوج بغیر کسی نوٹس کے بگرام ایئر بیس رات کی تاریکی میں خالی کر گئے، شہریوں کی لوٹ مار

0
امریکی فوج بگرام ایئر بیس رات کی تاریکی میں خالی کر گئے، شہریوں کی لوٹ مار
امریکی فوج بگرام ایئر بیس رات کی تاریکی میں خالی کر گئے، شہریوں کی لوٹ مار

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ’امریکی فورسز رات کے اندھیرے میں بغیر کسی نوٹس کے بگرام ایئر بیس چھوڑ کر روانہ ہوئی، جس کے بعد شہریوں نے وہاں پہنچ کر قیمتی اشیاء لوٹ لیں‘۔

کابل: افغان دارالحکومت سے 25 کلومیٹر دور مسافت پر واقع صوبے پروان کے ضلع بگرام سے امریکی فوج نے رات کی تاریکی میں بغیر مطلع کیے علاقہ چھوڑ دیا اور شہریوں کا اس کا فائدہ اٹھاکر فوج کے قیتمی سامان لوٹ لئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے اپنے اور نیٹو افواج کے زیر استعمال ’بگرام ایئربیس‘ کو دو روز قبل چھوڑا، جس کے بعد شہریوں نے وہاں پہنچ کر لوٹ مار مچائی اور قیمتی اشیا لے کر چلتے بنے۔

امریکی فوج کے بگرام ائیربیس سے جانے کے بعد بیرکوں اور گوداموں میں شہریوں نے لوٹ مار کی، فوجی اڈے کی بجلی بند کرنے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی، جس میں ائیربیس پر اسلحہ اور دیگر سامان بھی بکھرا پڑا نظر آ رہا ہے۔

افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق ایئربیس سے چوری ہونے والے سامان مارکیٹ میں فروخت کیلیے آگیا ہے۔ ایک شہری نے تو فوجی جوتوں کی دکان بھی کھول لی، جو بہت ہی سستے داموں فوجی بوٹ فروخت کررہا ہے۔ اس حوالے سے چوبیس گھنٹے تک افغان حکومت اور فورسز پر شدید تنقید کی گئی اور کار کردگی پر مختلف سوالات بھی اٹھائے گئے، جن میں سب سے اہم بات طالبان کے آگے سرینڈر کا خیال تھا۔

افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے سرینڈر یا طالبان کے خلاف عدم کارروائیوں کے تاثر کو مسترد کیا جبکہ اب بگرام ایئربیس کے نئے افغان کمانڈر نے بڑا انکشاف کر کے نیا پینڈورا باکس کھول دیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ’امریکی فورسز رات کے اندھیرے میں بغیر کسی نوٹس کے بگرام ایئربیس چھوڑ کر روانہ ہوئی، جس کے بعد شہریوں نے وہاں پہنچ کر قیمتی اشیاء لوٹ لیں‘۔

اگر امریکی فوج اطلاع کردیتی تو لوٹ مار روک سکتے تھے

انہوں نے بتایا کہ ’افغان فورسز کو بگرام ایئربیس خالی ہونے کی بات دو گھنٹے بعد علم میں آئی، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے وہاں کا کنٹرول سنبھالا اور عوام کو منتشر کیا‘۔ افغان کمانڈر نے کہا کہ ’اگر امریکی فوج اطلاع کردیتی تو لوٹ مار روک سکتے تھے‘۔

دوسری جانب افغانستان میں افغان فوج اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات بھی ہیں، افغان طالبان نے ملک کے مزید گیارہ اضلاع پر قبضہ کرلیا۔

افغان فورسز نے جھڑپوں میں 261 طالبان کو مارنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ میدان جنگ میں مضبوط پوزیشن کے باوجود مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں۔ آئندہ ماہ مذاکرات میں تحریری امن منصوبہ افغان حکومت کو پیش کریں گے‘۔

شہنشاہ جذبات دلیپ کمار اداکاری کے ساتھ ساتھ ہمیشہ قومی اور ملی سرگرمیوں میں مصروف رہے

0
شہنشاہ جذبات دلیپ کمار اداکاری کے ساتھ ساتھ ہمیشہ قومی اور ملی سرگرمیوں میں مصروف رہے
شہنشاہ جذبات دلیپ کمار اداکاری کے ساتھ ساتھ ہمیشہ قومی اور ملی سرگرمیوں میں مصروف رہے

شہنشاہ جذبات دلیپ کمار نے آج صبح ساڑھے سات بجے مضافاتی علاقہ ولے پارلے میں واقع ہندوجااسپتال میں آخری سانس لی۔ تقریبا نصف صدی تک فلمی دنیا پر چھائے رہے، دلیپ کمار کی پہلی فلم جوار بھاٹا 1944 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

ممبئی: شہنشاہ جذبات دلیپ کمار نے آج صبح ساڑھے سات بجے مضافاتی علاقہ ولے پارلے میں واقع ہندوجااسپتال میں آخری سانس لی۔ گزشتہ ایک مہینے میں دوسری مرتبہ دلیپ کمار کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ انہیں باندرہ پالی ہل میں ان کے بنگلہ پر لے جایا جائے گا اور تدفین شام پانچ بجے جوہو قبرستان میں کی جائے گی۔

تقریبا نصف صدی تک فلمی دنیا پر چھائے رہے، دلیپ کمار کی پہلی فلم جوار بھاٹا 1944 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اور انہوں نے محض 64 فلموں میں اداکاری کی اور سب سے زیادہ ایوارڈز حاصل کیے۔ فلم کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور تعلیمی میدانوں میں رینجرز قومی اور ملی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ ان کے قریبی فیصل فاروقی نے انسانیت کی خدمت میں بھی گزار دیئے۔

دلیپ کمار پیشاور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے گھر پیدا ہوئے

واضح رہے کہ 11 دسمبر 1922 کو دلیپ کمار پیشاور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ غالباً 1935 میں بمبئی چلے آئے اور دراصل کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے تھے۔ اداکاری سے قبل دلیپ کمار عرف یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے۔ انہوں نے پونہ کی فوجی کینٹین میں پھلوں کی ایک سٹال لگایا، پونہ کو وہ کبھی بھلا نہیں پائے، 2002 میں انہیں پونے میں اعزاز سے نوازا گیا اور شہر کی چابی بھی سونپی گئی تھی۔

سال 1944 کے زمانے کی معروف اداکارہ اور فلمساز دیویکا رانی کی جوہر شناس نگاہوں نے 20 سالہ یوسف خان میں چھپی اداکاری کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور فلم ’جوار بھاٹا‘ میں دلیپ کمار کے نام سے ہیرو کے رول میں کاسٹ کیا، ان کے ساتھ مشہور کامیڈین آغا بھی تھے۔ اس کے بعد سے دلیپ کمار نے فلمی صنعت پر ایک طویل عرصے تک راج کیا۔ اور آن، انداز، دیوداس، نیادور، رام اور شیام، بیراگ، شکتی، کرما، سوداگر جیسی مشہور فلموں میں کام کیا۔

دلیپ کمار لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے تھے

دلیپ کمار کی سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم جیسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا، گوپی اور رام اور شیام میں ایک مزاحیہ اداکار کی شناخت بنائی اور یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے ہیں۔ لیڈر میں وہ ایک انوکھے رول میں نظر آئے۔

دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔ ہندوستانی فلم صنعت انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف کرتے ہیں۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے، جن کے سٹائل کی نقل نوجوان کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر فدا تھیں۔ ہیروئن مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علاحدہ ہو گئے۔ اس میں مدھوبالا کے والد کا رول ٹھیک نہیں رہا۔

بتایا جاتا ہے کہ ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔ اور وہ رول مصر کے ادارے عمر شریف نے کیا تھا۔

دلیپ کمار بے شمار اعزازات سے نوازے گئے

دلیپ کمار نے 1998 میں فلم ‘ قلعہ’ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی۔ انھیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا۔ وہاں انھیں ملک کی فلمی صنعت کے سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی دیا گیا گیا اور پڑوسی ملک پاکستان کی حکومت نے 1998ء میں ان کو سب سے بڑے سیویلین اعزاز نشان پاکستان سے بھی نوازا تھا جو کہ سابق وزیر اعظم مرارجی ڈیسائی کو بھی مل چکا ہے۔ ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز، 2015 میں پدم و بھوشن سے بھی نوازا گیا۔

ایک زمانے میں دلیپ کمار، راج کپور اور دیوآنند کی تینوں ہندوستانی فلمی دنیا پر چھائے ہوئے تھے۔

افغانستان: امریکہ جا رہا ہے، طالبان آ رہے ہیں!

0
افغانستان: امریکہ جا رہا ہے، طالبان آ رہے ہیں!
افغانستان: امریکہ جا رہا ہے، طالبان آ رہے ہیں!

امریکہ بہادر افغانستان سے ۲۰؍ سال کے بعد اپنی ناکامی کا پلندہ تو باندھ رہا ہے، لیکن پیچھے چھوڑا ہے افغان قوم کی تباہی و بربادی کا سلسلہ

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے۔ سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ بظاہر وہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار اور انصاف پسند بھی ہے۔ وہ رات کو دن کہے تو دن ہے، اور دن کو رات کہے تو رات ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک یا کوئی حکمراں اس کو آنکھ دکھانے اور اس سے ٹکرانے کی جرأت نہ کرے۔ اس سرزمین پر اس کی مرضی کے بغیر کوئی پتہ بھی نہ ہلے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے یا کوئی ایسا نہیں کرتا ہے تو وہ امریکہ کا نہیں، انسانیت کا دشمن ہو جاتا ہے۔ امریکہ دوسرے ملکوں میں کس قسم کی جمہوریت چاہتا ہے یہ آج تک ایک معمہ ہی بنا ہوا ہے۔ بھلے ہی کسی ملک کے عوام نے رائے شماری کے ذریعہ اپنا رہنما منتخب کیا ہو، لیکن اگر امریکہ اس کے گلے میں تانا شاہ کا پٹہ ڈال دیتا ہے تو دنیا کو ماننا ہوگا کہ وہ تانا شاہ ہے۔ وہیں اگر کسی تانا شاہ کو وہ جمہوریت پسند کا تمغہ دے دیتا ہے تو وہ جمہوری لیڈر بن جاتا ہے۔

امریکہ نے بھلے ہی دنیا پر اپنے فیصلے تھوپنے کی نہ جانے کتنی کوششیں کی ہیں، کتنے ہی ملکوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے، کتنے ہی سربراہان مملکت کو ابدی نیند سلا دیا ہے، لیکن حقیقت میں آج تک کوئی اس کو عالمی طاقت یا عالمی رہنما تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

افغان قوم کی تباہی اور بربادی کا لا متناہی سلسلہ

۲۰۰۳ء میں امریکہ نے ایک خوش حال اور ترقی یافتہ ملک عراق میں ’جمہوریت‘ قائم کرنے کیلئے دھاوا بولا۔ صدر صدام حسین کی حکومت کو تہہ و بالا کر دیا، انھیں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا، لیکن دس سال کے بعد وہاں سے دس لاکھ لاشوں کا قبرستان بناکر نکل بھاگا۔ ۲۰۱۱ء میں وہ شام کو صدر بشار الاسد کی تاناشاہی سے نجات دلانے پہنچا، لیکن امریکہ نے وہاں داعش جیسی نہ جانے کتنی دہشت گرد تنظیموں کو پیدا کرکے یوں ہی چھوڑ دیا۔ پورا ملک کھنڈہر میں تبدیل ہو گیا۔ نہ ڈکٹیٹر بشار الاسد سے نجات ملی اور نہ ہی وہاں کوئی جمہوریت کا نام لینے والا باقی رہا۔ ۲۰۰۱ء میں افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف مہم کے نام پر یلغار کر دی۔ اب ۲۰؍ سال کے بعد امریکہ وہاں سے اپنی ناکامی کا پلندہ تو باندھ رہا ہے، لیکن پیچھے چھوڑ دیا ہے افغان قوم کی تباہی اور بربادی کا لا متناہی سلسلہ۔ اب جبکہ امریکہ نے افغانستان سے راہ فرار اختیار کر لی ہے تو اس جنگ میں اس نے اور افغانستان نے کیا کھویا اور کیا پایا، اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

افغانستان جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ نے تقریباً اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا

پچھلے ۲۰؍ برس سے جاری افغانستان جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ نے تقریباً اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ جنگ امریکہ کے گلے میں پھنسی ایسی ہڈی بن گئی تھی جسے وہ نہ نگل سکتا تھا اور نہ ہی اُگل سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے امریکہ کا صدر بنتے ہی جو بائیڈن نے اعلان کر دیا کہ ۱۱؍ ستمبر ۲۰۲۱ء تک تمام امریکی فوجی دستے افغانستان سے واپس بلالیے جائیں گے۔ حالانکہ اس کا فیصلہ گزشتہ سال طالبان کے ساتھ قطر میں کیے گئے معاہدے میں ہوگیا تھا۔ اب افغانستان میں سب سے بڑا فوجی اڈہ بند کرنے کے ساتھ ہی گویا امریکہ نے افغان جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ کابل سے تقریباً ۶۰؍ کلومیٹر دور بگرام ایئر بیس سے امریکی افواج کی وطن واپسی افغانستان میں امریکی مداخلت کا خاتمہ مانا جا رہاہے، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسی ایئر بیس سے یہاں کی اپنی تمام تر کارروائیاں انجام دیتے تھے۔

۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا انتقام لینے کی غرض سے اس نے افغانستان پر دھاوا بولا تھا۔ دراصل ان حملوں کی ذمہ داری القاعدہ کے سر جاتی تھی، جس کا سربراہ اسامہ بن لادن اس وقت افغانستان میں طالبان کی پناہ میں تھا۔ لہذا امریکہ نے ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ کا آغاز کرتے ہوئے ۷؍ اکتوبر۲۰۰۱ء کو طالبان اور القاعدہ پر فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ اس جنگ میں ایک جانب تھے شمالی اتحاد، امریکہ، برطانیہ، کناڈا، آسٹریلیا، اٹلی، نیوزی لینڈ اور جرمنی تو دوسری جانب مقابلے میں تھے اسلامی امارت افغانستان، القاعدہ، ۰۵۵؍ برگیڈ، حرکت اسلامی ازبکستان، تحریک نفاذ شریعت محمدی اور ترکستان اسلامی پارٹی۔ ۱۳؍ نومبر ۲۰۰۱ء کو – امریکہ کے حمایت یافتہ شمالی اتحاد کی فوجیں کابل میں داخل ہو گئیں اور طالبان جنوب کی طرف پسپا ہو گئے۔ یعنی تقریباً ایک مہینے کی کار روائی نے طالبان رہنماؤں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ ۲؍ مئی ۲۰۰۳ء کو – امریکی حکام نے افغانستان میں اہم جنگی آپریشن کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

طالبان ایک مضبوط طاقت بن کر ایک بار پھر آئے سامنے

اسی دوران مسلمانوں کے خون کے پیاسے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی زیر قیادت امریکہ نے عراق پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ جس کے لیے بڑے پیمانے پر امریکی فوجی اور جنگی ساز و سامان وہاں منتقل کر دیا گیا۔  ادھر افغانستان میں بھلے ہی جنگ کے خاتمہ کا اعلان ہو گیا، لیکن حقیقتاً یہ جنگ کا آغاز ثابت ہوا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی توجہ منتقل ہونے کے سبب طالبان، القاعدہ اور دوسری مزاحمتی تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا، جس نے ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اپنے قدم مضبوط کر لیے۔ تا دم تحریر طالبان ایک مضبوط طاقت بن کر ایک بار پھر سامنے آئے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ امریکہ کے جاتے ہی وہاں وہ دوبارہ بر سر اقتدار آ جائیں۔ ایسے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں نہ آ سکے تو وہاں ایک بار پھر شدید خانہ جنگی کا آغاز ہو جائے گا۔ یعنی افغان قوم کے مقدر میں تباہی و بربادی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

افغان جنگ میں بظاہر امریکہ کا اصل مقصد القاعدہ، القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری تھا، لیکن افغانستان کے ریگزاروں سے لے کر تورا بورا کے پہاڑوں تک اس نے اسامہ کو تلاش کیا، مگر اس کی گرفتاری نہیں کر سکا۔ اسامہ کا کردار، اس کی زندگی اور اس کا خاتمہ آج بھی ایک معمہ ہی بنا ہوا ہے۔ بہر حال، ایک رپورٹ کے مطابق اس ۲۰؍ سالہ جنگ میں ۲؍ لاکھ ۴۱؍ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں ۷۱؍ ہزار۳۴۴؍ عام شہری، ۲؍ ہزار ۴۴۲؍ امریکی فوجی اہلکار، ۷۸؍ ہزار۳۱۴؍ افغان سیکیورٹی اہلکار اور ۸۴؍ ہزار ۱۹۱؍ مخالفین کی ہلاکتیں شامل ہیں۔ پچھلے دنوں جاری اس رپورٹ کے مطابق اس جنگ پر اب تک امریکہ کے ۲۲؍ کھرب ۶۰؍ ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

طالبان کو اقتدار سے بے دخل کرنے والا امریکہ ہی ان کی واپسی کا بھی ذمہ دار

امریکہ جس طرح افغانستان کو بے یار و مددگار چھوڑ کر جا رہا ہے، اس سے یقیناً طالبان کے حوصلے بلند ہیں۔ اس وقت طالبان وہاں مضبوط طاقت ہیں اور جس انداز میں امریکہ نے راہ فرار اختیار کی ہے، اسے طالبان نے اپنی فتح سے تعبیر کیا ہے۔ جیسے ہی امریکہ کے انخلا کا اعلان ہوا اور فوجوں کی روانگی شروع ہوئی، طالبان نے یکے بعد دیگرے ملک کے مختلف صوبوں اور شہروں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ قبضے کئی جگہ خونریز تصادم کے بعد ہوئے اور کئی جگہ موجودہ اشرف غنی حکومت کی فوجوں نے خود ہی ہتھیار ڈال دئے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے ۱۵۳؍ اضلاع کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس میں سےتقریباً ۱۰۰؍ اضلاع ملک کے شمال میں ہیں۔ یہ خبر بھی آئی ہے کہ تقریباً ایک ہزار افغان فوجی اپنی جان بچانے کی خاطر تاجکستان میں داخل ہو گئے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ بہت جلد پورے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہو جائے گا۔ اور اگر ایسا ہوا تو طالبان کو اقتدار سے بے دخل کرنے والا امریکہ ہی ان کی واپسی کا بھی ذمہ دار ہوگا۔

اس کے ساتھ ہی سبھی پڑوسی ملکوں اور جن کے مفادات افغانستان سے وابستہ ہیں جیسے پاکستان، ایران، ہندوستان، چین، روس اور تاجکستان وغیرہ کی نظریں نہ صرف افغانستان کے موجودہ حالات پر مرکوز ہیں، بلکہ اپنے اپنے مفادات کے پیش نظر وہ آئندہ کی حکمت عملی میں بھی مصروف ہیں۔ مستقبل میں افغانستان میں امن قائم ہوگا یا خونریزی کا سلسلہ جاری رہے گا، اس کا انحصار بہت حد تک انہی ممالک پر ہوگا۔ دیکھنا ہے کہ آئندہ یہ تمام طاقتیں طالبان کے ساتھ کس قسم کا رویہ اختیار کرتی ہیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) ای میل:  [email protected]