ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 332

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نشیت پرمانک ہندوستانی ہیں یا بنگلہ دیشی؟ ترنمول کانگریس کا اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ

0
مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نشیت پرمانک ہندوستانی ہیں یا بنگلہ دیشی؟ ترنمول کانگریس کا اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ
مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نشیت پرمانک ہندوستانی ہیں یا بنگلہ دیشی؟ ترنمول کانگریس کا اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ

کوچ بہار سے ممبر پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نشیت پرمانک کی شہریت پر آسام کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا رکن رپن بورا کے سوال کھڑا کئے جانے کے بعد ترنمول کانگریس نے اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال کے کوچ بہار سے ممبر پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نشیت پرمانک کی شہریت پر آسام کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا رکن رپن بورا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر سوال کھڑا کئے جانے کے بعد ترنمول کانگریس نے اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

ترنمول کانگریس کے سیکریٹری کنال گھوش نے کہا ہے کہ یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ نشیت پرمانک ہندوستانی شہری ہیں یا پھر بنگلہ دیشی؟

میڈیا کی متعدد اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے رپن بورا نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر ہا ہے کہ کوچ بہار سے رکن پارلیمنٹ کا گھر بنگلہ دیش کے گائبندھا میں پلوشبری پولیس اسٹیشن میں ہے۔ وہ کمپیوٹر سیکھنے مغربی بنگال آئے تھے۔ کمپیوٹر ٹریننگ کے اختتام پر وہ ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے اور بعد میں بی جے پی کے ٹکٹ پر کوچ بہار سے رکن پارلیمنٹ بن گئے۔

آسام کے کانگریس صدر نے یہ بھی الزام لگایا کہ انتخابی حلف نامے میں جوڑ توڑ کرکے نشیت نے کوچ بہار کا پتہ درج کرایا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ نشیت کے مرکزی وزیر مملکت بننے کے بعد بنگلہ دیش میں ان کے گاؤں میں جشن منایا گیا۔ ان کا بڑا بھائی اب بھی بنگلہ دیش میں ہی رہتے ہیں۔ ایک غیر ملکی شہری ملک کا وزیر بن جانا ملک کے لئے سنگین معاملہ ہے۔ رپن نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ اس معاملے کی جانچ کرائی جائے۔

نشیت کے خلاف کم سے کم 13 مجرمانہ مقدمات

وزیر تعلیم برتیہ باسو نے آسام کانگریس کے صدر کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ نے صحیح سوال کیا ہے۔ مختلف میڈیا اداروں نے دعوی کیا ہے کہ نشیت بنگلہ دیشی شہری ہیں۔ ان کے خلاف مختلف مقدمات زیر تفتیش ہیں۔ ترنمول کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری کنال گھوش نے کہا کہ نشیت کے خلاف کم سے کم 13 مجرمانہ مقدمات ہیں۔ اس کے باوجود انہیں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ جیسی اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس لئے اس کی جانچ ہونی چاہیے۔

دوسری جانب نشیت کے قریبی ذرائع نے کہا ہے یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ کوچ بہار کے رکن پارلیمنٹ کوچ بہار میں ہی پیدا ہوئے اور یہیں تعلیم حاصل کی۔ مرکزی وزیر کے رشتہ دار بنگلہ دیش میں خوشی منا سکتے ہیں۔ اس کا ان کی شہریت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ٹیلی کام کی وزارت میں ہوئے گھپلے پر جواب دیں مودی: کانگریس

0
ٹیلی کام کی وزارت میں ہوئے گھپلے پر جواب دیں مودی: کانگریس
ٹیلی کام کی وزارت میں ہوئے گھپلے پر جواب دیں مودی: کانگریس

کانگریس نے کہا ہے کہ سی اے جی کی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ ٹیلی کام کی وزارت میں ضابطہ بدل کر نجی کمپنی کے ذریعے بغیر ٹینڈر کے کروڑوں کے ٹھیکے دے کر بڑا گھپلہ کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ کمپٹولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) کی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ ٹیلی کام کی وزارت میں ضابطہ بدل کر نجی کمپنی کے ذریعے بغیر ٹینڈر کے کروڑوں کے ٹھیکے دے کر بڑا گھپلہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تفتیش کروانی چاہیے۔

کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتے کے روز یہاں پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ رپورٹ کے انکشاف کے سبب گھپلے کے سلسلے میں ہنگامہ نہ ہو اسی لیے وزیراعظم نریندر مودی نے کابینہ توسیع کے وقت ٹیلی کام کے سابق وزیر روی شنکر پرساد کو ہٹا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسٹر مودی کے وزیر بدلنے سے گھپلے پر پردہ نہیں گرے گا لہٰذا انھیں بتانا چاہیے کہ جس کمپنی کے لیے ضابطے بدلے گئے کیا بی جے پی کو اس نے چندہ دیا تھا اور بی جے پی کا کمپنی سے کیا رشتہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کئی کمپنیاں سرکاری نشان کا استعمال کر رہی ہیں جن کے حوالے سے رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کے تحت معلومات حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو بتانا چاہیے کہ کیا اسی وجہ سے آر ٹی آئی کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

ٹیلی کام کی وزارت میں ہوئے گھپلے پر سی اے جی نے اٹھائی انگلی

ترجمان نے کہا کہ ٹیلی کام کی وزارت میں ہوئے گھپلے پر سی اے جی نے انگلی اٹھائی ہے۔ عوام سات برس سے سی اے جی کا نام ہی بھول گئے ہیں۔ رپورٹ تقریباً 122 پیج کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ منسٹری آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جولائی 2019 سے دسمبر 2020 تک کروڑوں روپیے سی ایس سی کو فائبر کیبل کی مینٹینینس اور آپریشن کے لیے دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سی ایس سی وائی فائی چوپال سروسز انڈیا پروائیویٹ لمیٹیڈ کے معرفت سے ڈپارٹمنٹ آف ٹیلی کام نے بغیر ٹینڈر کے پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹھیکے دیے ہیں جن میں بڑا گھپلہ ہوا ہے۔

مغربی بنگال کے گورنر ایک بار پھر اچانک دہلی کے دورے پر

0
مغربی بنگال کے گورنر ایک بار پھر اچانک دہلی کے دورے پر
مغربی بنگال کے گورنر ایک بار پھر اچانک دہلی کے دورے پر

اطلاعات کے مطابق گورنر کو ہنگامی حالات میں دہلی طلب کیا گیا ہے۔ ایک بار پھر گورنر جگدیپ دھنکر دہلی کے سفر پر ہیں۔ گورنر کے اس دورے پر قیاس آرائیوں کا بازار گرام ہے۔

کلکتہ: ممتا بنرجی کے دہلی کے سفر سے عین قبل اچانک ایک بار پھر گورنر جگدیپ دھنکر دہلی کے سفر پر ہیں۔ گورنر کے اس دورے پر قیاس آرائیوں کا بازار گرام ہے۔ تاہم انہوں نے اس سفر سے متعلق سوشل میڈیا پر کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔

گورنر جگدیپ دھنکر گزشتہ مہینے ہی دہلی گئے تھے جہاں انہوں نے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت کئی مرکزی وزرا اور حقوق انسانی کمیشن کے چیئرمین سے ملاقات کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق گورنر کو ہنگامی حالات میں دہلی طلب کیا گیا ہے۔ آج صبح وہ 10:46 منٹ پر دہلی کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جب وہ دہلی کے سفر پر گئے ہیں وہ ٹوئٹر پر تفصیل سے آگاہ کرتے تھے مگر اس مرتبہ انہوں نے دہلی کے سفر کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

تاہم انہوں نے دہلی کے سفر سے قبل ایک ٹویٹ کرتے ہوئے بھگوت گیتا کے ایک شلوک کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’کام کرتے رہو، پھلوں کی توقع نہ کرو‘‘۔ یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ وہ گیتا کے اس شلوک کے ذریعہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب بنگال میں تشدد کے واقعات پر قومی حقوق انسانی کمیشن کی رپورٹ جسے کلکتہ ہائی کورٹ میں جمع کیا گیا ہے موضوع بحث ہے۔ اسی طرح بی جے پی چھوڑ چکے مکل رائے کو پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں گورنر کا دورہ کافی اہم ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں گورنر کے ٹویٹ میں ممتا بنرجی کی حکومت یا پولیس انتظامیہ پر کوئی تنقید نہیں ہوئی ہے۔ جب کہ اس درمیان کافی کچھ نئے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

جرمنی میں سیلاب سے 90 سے زائد افراد ہلاک، 618 زخمی، تعداد میں اضافے کا خدشہ

0
جرمنی میں سیلاب سے 90 سے زائد افراد ہلاک، 618 زخمی، تعداد میں اضافے کا خدشہ
جرمنی میں سیلاب سے 90 سے زائد افراد ہلاک، 618 زخمی، تعداد میں اضافے کا خدشہ

جرمنی کی ریاست رائن لینڈ – پیلے ٹینیٹ کے اہرویلر ضلع میں سیلاب سے 90 سے زائد افراد ہلاک اور 618 زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

برلن: جرمنی کی ریاست رائن لینڈ – پیلے ٹینیٹ کے اہرویلر ضلع میں سیلاب سے 90 سے زائد افراد ہلاک اور 618 زخمی ہوگئے ہیں۔ کوبلنز پولیس نے ہفتہ کے روز یہ اطلاع دی۔

پولیس نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتہ کی صبح 5 بجے تک سیلاب کے باعث 90 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متعلقہ واقعات میں 618 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

ضلع کے بیشتر حصوں میں ابھی بھی بجلی اور مواصلات درہم برہم ہیں۔ خراب موسم کی وجہ سے سڑکیں بند ہیں اور لوگوں کو علاقے میں سفر کرنے سے احتیاط برتنے کے لئے کہا گیا ہے۔ پولیس تباہی سے دوچار علاقوں میں گشت کر رہی ہے۔ طوفانی بارش اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے اس ہفتے کے دوران مغربی یورپ میں تباہی برپا کردی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

امریکی بحریہ نے دو ایم ایچ 60 آر ہیلی کاپٹر ہندوستانی بحریہ کو سونپے

0
امریکی بحریہ نے دو ایم ایچ 60 آر ہیلی کاپٹر ہندوستانی بحریہ کو سونپے
امریکی بحریہ نے دو ایم ایچ 60 آر ہیلی کاپٹر ہندوستانی بحریہ کو سونپے

سین ڈیاگو کے بحریہ کے ہوائی اڈے نارتھ آئیس لینڈ یا این اے ایس نارتھ آیس لینڈ میں ہوئی تقریب میں امریکی بحریہ نے ہندوستانی بحریہ کو باضابط طور پر ملٹی رول ہیلی کاپٹر (ایم آر ایچ) سونپے۔

واشنگٹن: ہند ۔ امریکہ دفاعی شراکت داری کو اور زیادہ مضبوط کرتے ہوئے امریکی بحریہ نے دو ایم ایچ 60 آر ہیلی کاپٹر ہندوستانی بحریہ کو سونپ دیئے ہیں۔

سین ڈیاگو کے بحریہ کے ہوائی اڈے نارتھ آئیس لینڈ یا این اے ایس نارتھ آیس لینڈ میں ہوئی تقریب میں امریکی بحریہ نے ہندوستانی بحریہ کو باضابط طور پر ملٹی رول ہیلی کاپٹر (ایم آر ایچ) سونپے۔ اس دوران امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ترن جیت سنگھ سندھو بھی موجود تھے۔

اس موقع پر مسٹر سندھو نے کہا کہ سبھی موسموں میں کام کرنے والے ملٹی رول ہیلی کاپٹروں کا بیڑے میں شامل ہونا ہند۔ امریکہ دو طرفہ دفاعی تعلقات میں اہم قدم ہے۔

انہوں نے آج ٹویٹ کرکے کہا ’’ہند۔ امریکہ کے دفاعی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر سونپے جانے کی تقریب میں امریکہ بحریہ کے کمانڈر وائس ایڈمرل کینتھ وائٹ سیل اور ہندوستانی وائس ایڈمرل رونیت سنگھ شامل ہوئے۔

ہندوستان امریکہ سے 24 ملٹی رول ہیلی کاپٹر خرید رہا ہے۔ ان دو ہیلی کاپٹروں کا ہندوستان کو سونپا جانا اسی عمل کا حصہ ہے۔

اس ہیلی کاپٹر پر تربیت لینے کے لئے ہندوستانی بحریہ کے 18 جوان پہلے ہی سے امریکہ میں موجود ہیں۔ آئندہ تین برسوں میں ہندوستان کو سبھی 24 ہیلی کاپٹر سونپ دیئے جائیں گے۔

یہ ہیلی کاپٹر حاصل ہونے سے ہندوستانی بحریہ کی بحر ہند کے خطہ میں آبدوز مخالف جنگی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔

پٹرول کے دام 30 پیسے بڑھ کر نئی سطح پر

0
پٹرول کے دام 30 پیسے بڑھ کر نئی سطح پر
پٹرول کے دام 30 پیسے بڑھ کر نئی سطح پر

پٹرول کے دام میں 30 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔ جس سے راجدھانی دلی سمیت ملک کے زیادہ تر حصوں میں اس کی قیمت نئی سطح پر پہنچ گئی جبکہ ڈیزل کے داموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

نئی دہلی: ایک دن کی خاموشی کے بعد سنیچر کو گھریلو سطح پر پٹرول کے دام میں 30 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔ جس سے راجدھانی دلی سمیت ملک کے زیادہ تر حصوں میں اس کی قیمت نئی سطح پر پہنچ گئی جبکہ ڈیزل کے داموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

جمعرات کو پٹرول 35 پیسے فی لیٹر کے اضافے کے ساتے نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا اور ڈیزل 15 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا تھا۔

دہلی میں ہفتے کے روز اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 101.84 روپے اور ممبئی میں اس کی قیمت 107.83 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

معروف آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق ہفتے کے روز پٹرول میں 30 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا یومیہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

آج ملک کے چار میٹرو شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کچھ اس طرح رہیں:

شہر کا نام —— پیٹرول روپے / لیٹر —— ڈیزل روپے / لیٹر

دہلی ————— 101.84 —————— 89.87

ممبئی ۔————— 107.83 —————— 97.45

چنئی —————- 102.49 -—————– 94.39

کولکاتا ———— 102.08 —————— 93.02

افغانستان میں ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کا قتل

0
افغانستان میں ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کا قتل

پلٹزر ایوارڈ یافتہ دانش صدیقی کو قندھار میں قتل کردیا گیا۔ یہ اطلاعات جمعہ کے روز ہندوستان میں افغانستان کے سفارت خانے میں تعینات سفیر فرید ماموندزئی نے دی ہیں۔

نئی دہلی: پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کو قندھار میں قتل کردیا گیا۔ یہ اطلاعات جمعہ کے روز ہندوستان میں افغانستان کے سفارت خانے میں تعینات سفیر فرید ماموندزئی نے دی ہیں۔ مسٹر فرید ماموندزئی نے ٹویٹ کیا کہ "جمعرات کی رات قندھار میں اپنے دوست دانش صدیقی کے قتل کی خبر سن کر بہت رنجیدہ ہوں۔ ہندوستانی صحافی اور پلٹزر انعام یافتہ دانش صدیقی افغان سیکیورٹی فورس کے ساتھ تھے۔ میں ان سے دو ہفتہ قبل اس وقت ملا تھا، جب وہ کابل جا رہے تھے۔ میری ہمدردیاں ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں”۔

دریں اثناء، کھیلوں کے مرکزی وزیر مسٹر انوراگ ٹھاکر نے قندھار میں ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کے قتل پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا "قندھار میں ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کو پرتشدد جھڑپ میں دردناک طورپر قتل کردیا گیا، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ مسٹر دانش نے اپنے پیچھے خاطر خواہ کام چھوڑا ہے۔ انہیں فوٹو گرافی کے لئے پلٹزر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا اور وہ قندھار میں افغان سلامتی دستے کے ساتھ تھے”۔

ممبئی کے باشندے اور نیوز ایجنسی رائٹر کے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کو 2018 میں فوٹو گرافی کے لئے پلٹزر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے معاشیات میں گریجویشن کیا تھا اور 2007 میں جامعہ ماس کمیونیکیشن ریسرچ سنٹر سے حاصل کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ٹیلی ویژن کریئر کی شروعات کی اور 2010 میں رائٹر سے وابستہ ہوئے تھے۔

اسے بھی پڑھیں:

فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی: وزارت خارجہ دانش کے اہل خانہ کے رابطے میں ہے

فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی: وزارت خارجہ دانش کے اہل خانہ کے رابطے میں ہے

0
فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی: وزارت خارجہ دانش کے اہل خانہ کے رابطے میں ہے
فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی: وزارت خارجہ دانش کے اہل خانہ کے رابطے میں ہے

کابل میں طالبان کے حملے میں جان گنوانے والے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے جسد خاکی کو ملک میں لانے کے لئے کابل میں واقع ہندوستانی سفیر افغان حکومت اور یہاں وزارت خارجہ مرحوم صحافی کے اہل خانہ کے رابطے میں ہے۔

نئی دہلی: کابل میں طالبان کے حملے میں جان گنوانے والے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے جسد خاکی کو ملک میں لانے کے لئے کابل میں واقع ہندوستانی سفیر افغان حکومت اور یہاں وزارت خارجہ مرحوم صحافی کے اہل خانہ کے رابطے میں ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے یہاں نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں کہا ’’ہمارے سفیر کابل میں افغان حکومت سے رابطے میں ہیں۔ ہم یہاں ان کے اہل خانہ کو تمام سرگرمیوں سے آگاہ کرا رہے ہیں‘‘۔ واقعے کے وقت وہ قندھار کے ضلع اسپین بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبانی دہشت گردوں کے درمیان قندھار میں ہو رہی لڑائی کی کوریج کررہے تھے۔ انہیں قندھار میں افغان فورسز کی سیکیورٹی حاصل تھی۔

مسٹر صدیقی ممبئی میں رہتے تھے۔ انہوں نے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے معاشیات میں گریجویشن کیا تھا اور 2007 میں اسی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن کی تعلیم حاصل کی۔ وہ 2010 میں انٹرن کی حیثیت سے رائٹرز سے وابستہ ہوگئے اور رپورٹنگ کرتے تھے۔ بعد میں وہ فوٹو جرنلزم کرنے لگے۔ سال 2018 میں فوٹو گرافی کے لئے انہیں پلٹزر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ’’دانش صدیقی نے اپنے غیر معمولی کاموں کی وراثت چھوڑی ہے۔ انہیں فوٹو گرافی کے لئے پلٹزر ایوارڈ ملا تھا اور انہیں قندھار میں افغان فورسز کی سیکیورٹی حاصل تھی۔ ان کی ایک تصویر شیئر کر رہا ہوں۔ انہیں خراج عقیدت۔ ایشور ان کو ابدی سکون عطا کرے۔

وسیم رضوی اپنے گناہوں کو چھپانے کے لئے اسلامی شریعت پر کر رہا ہے حملہ: ڈاکٹر انصاری

0

ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئر مین وسیم رضوی نے عیدالاضحٰی پر قربانی سے متعلقہ اسلامی شریعت مخالف ایک متنازعہ بیان دے کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

پرتاپ گڑھ: مساجد، صحابہ کرام اور ائمہ دین کا ہی نہیں بلکہ پورے اسلام کا مذاق اڑانے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والا وسیم رضوی دراصل اپنے کیئے گئے گناہوں پر پردہ ڈالنے و اسلام دشمنان کو خوش کرنے کے لیے اسلامی شریعت پر حملہ آور ہے جو قابل مذمت، مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔ پیس پارٹی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر عبدالرشید انصاری نے میڈیا کو جاری پریس ریلیز میں مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئر مین وسیم رضوی نے عیدالاضحٰی پر قربانی سے متعلقہ اسلامی شریعت مخالف ایک متنازعہ بیان دے کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ وسیم رضوی کی انہیں حرکتوں کا نتیجہ ہے کہ وہ دنیا میں ذلیل ہو رہا ہے اور عصمت دری جیسا کیس اس کے خلاف درج ہوا ہے، وہ خارج از اسلام ہے۔ وہ ایک ملعون شخص اور اس کے قول و فعل کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

وسیم رضوی کی باتوں کو اہمیت دینے سے اجتناب ضروری

اس کی باتوں کو اہمیت دینا اس کو اہمیت دینا ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے۔ اس نے اس سے قبل بھی مذہب اسلام کے متعلق بہت ہی گھناونے بیان دیئے، جس سے امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس کے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مذہب اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ ملعون و مجرم ہے اس کو برسرے اقتدار پارٹی کی سرپرستی حاصل ہے۔

وسیم رضوی کو غلط فہمی ہے کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے سے دشمنان اسلام خوش ہو کر اس کی حمایت کر برسرے اقتدار بی جے پی حکومت پر دباو ڈال کر اس کے گلے سے قانون کا پھندہ نکلوا دیں گے۔ لیکن اس کے گناہ اتنے شدید ہیں کہ اب قانون سے بچنا اس کا مشکل ہے۔

وسیم رضوی نے ڈرائیور کی بیوی کے ساتھ عصمت دری کر یہ واضح کر دیا کہ وہ ایک شیطان ہے اور شیطان کا کوئی ایمان، کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے دشمنان اسلام کی پشت پناہی وسیم رضوی کو حاصل ہے، جس کے سبب وہ روز بروز اسلامی شریعت کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے۔ ملک کے آئین نے سبھی مذاہب کو آزادی دی ہے۔ اگر کوئی اس آزادی کو غصب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو آئین مخالف ہے اور وہ سزا کا حقدار ہے۔

ڈاکٹر انصاری نے حکومت سے وسیم رضوی کے خلاف معاشرے میں منافرت پھیلانے کے لیے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

راہل گاندھی نے نام لیے بغیر مودی پر کیا حملہ

0
راہل نے نام لیے بغیر مودی پر کیا حملہ
راہل نے نام لیے بغیر مودی پر کیا حملہ

راہل گاندھی نے ویکسین کی قلت، بیروزگاری، مہنگائی وغیرہ کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی پر ان کا نام لیے بغیرحملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اپنی تشہیر پر ہی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ویکسین کی قلت، بیروزگاری، مہنگائی وغیرہ کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی پر ان کا نام لیے بغیرحملہ کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ وہ صرف اپنی تشہیر پر ہی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ ملک میں موجودہ چیلنجوں کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔

مسٹر گاندھی نے شاعرانہ انداز میں ٹویٹ کیا ’’صدیوں کا بنایا، پلوں میں مٹایا، دیش جانتا ہے، کون یہ کٹھن دور لایا‘‘۔

انہوں نے ویکسین کی قلت، چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی، بے روزگاری، مہنگائی، پبلک سیکٹر اور کسانوں کے معاملات کو ٹویٹ کے ساتھ ہیگ ٹیگ کیا اور کہا کہ ملک میں موجودہ ان سنگین بحرانوں کو حل کرنے کے بجائے مسٹر مودی اپنے ہی پی آر پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔