ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 330

مرکز سے نتیش کمار کی ذات برادری پر مبنی مردم شماری کرانے کی پھر سے اپیل

0
مرکز سے نتیش کمار کی ذات برادری پر مبنی مردم شماری کرانے کی پھر سے اپیل
مرکز سے نتیش کمار کی ذات برادری پر مبنی مردم شماری کرانے کی پھر سے اپیل

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مرکزي حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اب ذات برادری پر مبنی مردم شماری نہیں ہوگی لیکن وہ مرکز سے اس پر غور کرنے کی درخواست کریں گے، کیونکہ یہ سب لوگوں کے مفاد میں ہے۔

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آج پھر سے مرکزی حکومت کو ذات برادری پر مبنی مردم شماری کرانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب لوگوں کے مفاد میں ہے اور اس سے ہدف بند طبقے کی فلاح و بہبود کے لئے بہتر طریقے سے کام ہوسکے گا۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کے پروگرام کے بعد ہفتہ کے روز جب نامہ نگاروں نے مرکزی حکومت کی طرف سے ذات برادری پر مبنی مردم شماری کرنے سے انکار کئے جانے کے بارے میں سوال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ فروری 2019 اور 2020 میں قانون ساز اسمبلی سے ذات برادری پر مبنی مردم شماری سے متعلق متفقہ قرارداد پاس کرکے مرکزی حکومت کو بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "1990 سے ہم اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ذات برادری پر مبنی مردم شماری ہونی چاہئے اس بارے میں ماضی میں بھی ہم نے متعدد بار اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے”۔

وزیر اعلی نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت سے درخواست کریں گے کہ ایک بار ذات برادری پر مبنی مردم شماری ضرور ہونی چاہئے۔ ذات و سماجی طبقات پر مبنی مردم شماری سن 2010 کے بعد کی گئی تھی۔ اس کی رپورٹ 2013 میں آئی تھی لیکن اس کو شائع نہیں کیا گیا۔

مسٹر نتیش کمار نے کہا کہ کس علاقے میں کس ذات برادری کی کتنی تعداد ہے، اس بارے میں ایک بار ذات برادری پر مبنی مردم شماری ہونی چاہئے۔ اس سے درج فہرست ذات اور قبائل کے علاوہ دیگر برادریوں کے غریب-غرباء کو بھی فائدہ حاصل ہوگا۔

ہر ذات کی فلاح و بہبود کے لئے ذات برادری پر مبنی مردم شماری ضروری

وزیر اعلی نے کہا کہ جب ذات برادری پر مبنی آدمیوں کی گنتی کے ذریعہ جب ہر ذات کی آبادی کی صحیح تعداد کا پتہ چل جائے گا، تو ان کی فلاح و بہبود کے لئے صحیح طریقے سے کام کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مرکزي حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اب ذات برادری پر مبنی مردم شماری نہیں ہوگی لیکن وہ مرکز سے اس پر غور کرنے کی درخواست کریں گے، کیونکہ یہ سب لوگوں کے مفاد میں ہے۔

اس سے قبل وزیر اعلی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرکے کہا تھا کہ "ہمارا خیال ہے کہ ذات برادری پر مبنی لوگوں کی گنتی ہونی چاہئے۔ بہار قانون ساز اسمبلی نے 18 فروری 2019 کو اور پھر 27 فروری 2020 کو متفقہ طور پر اس سلسلے میں قرار داد کو منظور کیا اور اسے مرکزی حکومت کو بھیجا گیا تھا، مرکزی حکومت کو اس معاملے پر دوبارہ غور کرنا چاہئے۔

ریاست مہاراشٹر میں شدید بارش کے سبب حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 136

0

مہاراشٹر میں شدید بارش کے سبب ہوئے حادثات اور لاشوں کی برآمدگی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ہفتہ کے روز بڑھ کر 136 ہو گئی۔

پونے: مہاراشٹر میں شدید بارش کے سبب ہوئے حادثات اور لاشوں کی برآمدگی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ہفتہ کے روز بڑھ کر 136 ہو گئی۔ ریاست میں گذشتہ دو دنوں میں زیادہ بارش کے سبب کئی مقامات پر تودہ کھسکنے کے حادثے ہوئے۔ جن میں کئی لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ پورے ریاست میں آج بھی شدید بارش ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود محض پونے ڈیویژن کے 84452 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔

پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی پریس ریلیز کے مطابق ریاست میں سیلاب راحت اور بچاؤ کام کے لیے ’آپریشن ورشا 21‘ شروع کی ہے۔ اس نے پونے کے متاثرہ علاقوں میں واقع اوندھ آرمی اسٹیشن پونے اور بامبے انجینیئر گروپ کے فوجیوں سمیت کل 15 راحت اور بچاؤ ٹیم تعینات کیے ہیں۔

اس درمیان محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے ستارا کے لیے ایک نیا ’ریڈ الرٹ‘ جاری کیا ہے۔ جس میں آئندہ 24 گھنٹوں میں اس مغربی ضلع کے پہاڑی ’گھاٹ‘ علاقوں میں زیادہ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس علاقے میں تودہ کھسکنے کے سبب تقریباً 30 افراد لاپتہ ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس: ہندوستان کو پہلا تمغہ دلانے والی چانو کو کووند نے دی مبارک باد

0
ٹوکیو اولمپک: ہندوستان کو پہلا تمغہ دلانے والی چانو کو کووند نے دی مبارک باد
ٹوکیو اولمپک: ہندوستان کو پہلا تمغہ دلانے والی چانو کو کووند نے دی مبارک باد

صدر رام ناتھ کوند نے ٹوکیو اولمپکس میں ہندوستان کے لئے تمغہ جیتنے والی ویٹ لفٹر میرابائی چانو کو ٹویٹ کرکے مبارکباد دی ہے۔

نئی دہلی: صدر رام ناتھ کووند نے ٹوکیو اولمپکس میں ہندوستان کے لئے میڈل کا کھاتہ کھولنے والی ویٹ لفٹر میرابائی چانو کو مبارکباد دی ہے۔ مسٹر کووند نے ہفتہ کے روز ٹویٹ کیا، "میرابائی چانو کو اولمپکس 2020 میں ویٹ لفٹنگ میں چاندی کا تمغہ جیت کر میڈل کا کھاتہ کھولنے کے لئے دلی مبارکباد۔‘‘

26 سالہ چانو نے اولمپکس کے پہلے روز 49 کلو ویٹ کیٹگری میں چاندی کا تمغہ جیتا۔ کسی اولمپکس میں وہ چاندی کا تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون ویٹ لفٹر بنی ہیں۔

اس سے قبل کرنم ملیشوری نے سڈنی اولمپکس 2000 میں 69 کلوگرام وزن کے زمرے میں کانسے کا تمغہ جیتا تھا۔

سپریم کورٹ کی اپیل میں تاخیر سے بچنے کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت

0
سپریم کورٹ کی اپیل میں تاخیر سے بچنے کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اپیلوں میں تاخیر کے رجحان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی بی آئی کو یہ یقینی کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھانے کی ہدایت دی ہے کہ مستقبل میں اپیل دائر کرنے میں تاخیر نہ ہو۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اپیلوں میں تاخیر کے رجحان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو یہ یقینی کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھانے کی ہدایت دی ہے کہ مستقبل میں اپیل دائر کرنے میں تاخیر نہ ہو۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی ڈویژن بنچ نے سی بی آئی ڈائریکٹر کو یہ یقینی کرنے کے لئے ضروری انتظامی اقدامات کرنے کے لئے کہا ہے کہ اپیل دائر کرنے اور قانون کے دیگر مراحل کی نگرانی ایک منچ پر کی جائے۔

عدالت نے یہ ہدایت تب دی جب اسے پتہ چلا کہ سی سی بی آئی حکام کی جانب سے اپیل دائر کرنے میں بڑے پیمانے پر تاخیر ہو رہی ہے، جس سے سنگین شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔

بنچ نے کہا کہ اسپیشل لیو پیٹیشن (ایس ایل پی) داخل کرنے میں تاخیر ہوئی ہے جس کے لئے معافی نامہ کی درخواست میں کوئی مناسب وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

اپوزیشن پارٹیوں کی ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا کے سبب ایوان زیریں کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی

0
اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا کے سبب ایوان زیریں کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی
اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا کے سبب ایوان زیریں کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی

کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں بازو اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی ہنگامہ آرائی اور شور و غوغا کی وجہ سے ایوان زیریں (لوک سبھا) کی کارروائی جمعہ کے روز دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔

نئی دہلی: کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں بازو اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی ہنگامہ آرائی اور شور و غوغا کی وجہ سے ایوان زیریں (لوک سبھا) کی کارروائی جمعہ کے روز دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔ ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی دوپہر بارہ بجے دوسری بار ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا، اپوزیشن ارکان ایک بار پھر نعرے لگاتے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم کے سامنے آئے۔

پریذائیڈنگ آفیسر کریٹ سولنکی نے اس ہنگامے کے درمیان کہا کہ کچھ ممبروں نے اسپیکر کے سامنے کاروبار ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی ہے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی اسپیکر نے منظور نہیں کیا ہے۔ مسٹر سولنکی نے ممبروں کو راضی کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے کوئی بات نہیں مانی۔ مختلف پارٹیوں کے ممبران مختلف امور سے متعلق پلے کارڈ لہرا رہے تھے۔ ترنمول کانگریس کے کچھ ممبران ہاتھوں میں موبائل دکھا کر نعرے بلند کررہے تھے۔

ہنگامے کے درمیان پریذائڈنگ آفیسر کریٹ سولنکی نے ضروری دستاویز ایوان کی میز پر رکھوائے، اس کے بعد ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔

صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی

اس سے قبل جیسے ہی صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اسپیکر اوم برلا نے ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کر نے والے ہندوستانی دستے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد انہوں نے وقفہ سوالات کی کارروائی شروع کردی۔ ادھر اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر اسپیکر کر پوڈیم کے قریب پہنچ گئے۔ وہ حکومت سے جاسوسی کے مبینہ الزامات، کسانوں کے مسائل اور دیگر موضوعات پر جوابات مانگ رہے تھے اور ’ڈاؤن، ڈاؤن‘ کے نعرے بلند کررہے تھے۔

اسپیکر اوم برلا نے ان سے کووڈ 19 پروٹوکول پرعمل کرنے کی اپیل کی اور انہیں ماسک پہننے اور اپنی نشستوں پر جانے کو کہا۔ شور و غوغا کے درمیان ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر بھوپندر یادو اور صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر من سکھ مانڈویہ نے اپنی اپنی وزارتوں سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ مسٹر مانڈویہ اس وقت بھی کوڈ ویکسین سے متعلق سوالوں کا جواب دے رہے تھے جب اپوزیشن کی نعرے بازی تیز ہوگئی تھی۔

اسپیکر اوم برلا نے ایک بار پھر ہنگامہ اور شوروغوغا کرنے والے اراکین سے پرسکون ہونے کی اپیل کی، لیکن جب ان کی اپیل کا کوئی اثر نہ ہوا تو صبح 11.16 بجے انہوں نے ایوان کو دوپہر 12 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔

مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی، سینسیکس ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر، 139 پوائنٹس کا اضافہ

0
مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی، سینسیکس ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر، 139 پوائنٹس کا اضافہ
مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی، سینسیکس ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر، 139 پوائنٹس کا اضافہ

مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی کا رجحان رہا اور سینسیکس اور نفٹی ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔ ابتدائی اتار چڑھاؤ کے بعد، بی ایس ای کا سینسیکس 138.59 پوائنٹس یعنی 0.26 فیصد کے اضافے سے 52،975.80 پر بند ہوا۔

ممبئی: آئی سی آئی سی آئی بینک اور آئی ٹی سی جیسے بڑی کمپنیوں میں زبردست خریداری کے باعث آج مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی کا رجحان رہا اور سینسیکس اور نفٹی ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔ ابتدائی اتار چڑھاؤ کے بعد، بی ایس ای کا سینسیکس 138.59 پوائنٹس یعنی 0.26 فیصد کے اضافے سے 52،975.80 پر بند ہوا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی بھی 32 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 15856.05 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ یہ 16 جولائی کے بعد سے دونوں انڈیکس کی اعلی ترین سطح ہے۔

کاروبار کے دوران سینسیکس طویل وقفے تک 53 ہزار پوائنٹس سے اوپر رہا، لیکن بعد میں وہ اس سطح پر قائم نہیں رہ سکا۔

چھوٹی کمپنیوں میں بھی خریداری رہی جبکہ میڈیم کمپنیوں کا انڈیکس ٹوٹ گیا۔ بی ایس ای کا اسمال کیپ 0.11 فیصد اضافے کے ساتھ 26425.91 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مڈ کیپ 0.07 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 23،021.14 پوائنٹس پر بند ہوا۔

30 کمپنیوں میں سے 17 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ درج

سینسیکس کی 30 کمپنیوں میں سے 17 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا جبکہ دیگر 13 کمپنیوں کا نقصان ہوا۔ آئی سی آئی سی آئی بینک کے حصص میں سب سے زیادہ 3.18 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گيا۔ آئی ٹی سی میں 2.56 فیصد، اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں 1.69 فیصد، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز میں 1.60 فیصد، ایکسس بینک میں 1.17 فیصد، بجاج فنانس میں 1.03 فیصد اور ٹیک مہندرا اور سن فارما میں 0.99 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ ایل اینڈ ٹی کے حصص 1.80 فیصد گراوٹ میں رہے۔

دریں اثناء، ایشیائی شیئر بازاروں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 1.45 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.68 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ جاپان کے نکئی میں 0.58 فیصد اور جنوبی کوریا کے کوسپی میں 0.13 فیصد کی تیزی درج کی گئی۔ یوروپی بازاروں کا انڈيکس سبز نشان میں رہا۔ ابتدائی تجارت میں جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.83 فیصد اور برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.79 فیصد اضافہ ہوا۔

حکومت احتجاجی کسان تنظیموں کے ساتھ کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے: وزیر زراعت

0
کسانوں کے ساتھ حکومت کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے: وزیر زراعت
کسانوں کے ساتھ حکومت کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے: وزیر زراعت

پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسان تنظیموں کو چاہئے کہ نئے زراعتی قوانین کی دفعات پر انہیں اعتراض ہے انہیں نشاندہی کریں، حکومت ان کو حل کرے گی۔

نئی دہلی: وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے آج پھر سے کہا کہ حکومت احتجاجی کسان تنظیموں کے ساتھ کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسان تنظیموں کو چاہئے کہ نئے زراعتی قوانین کی دفعات پر انہیں اعتراض ہے انہیں نشاندہی کریں، حکومت ان کو حل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے زراعتی قوانین سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور تاجروں کے درمیان مسابقت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کا احترام کرتی ہے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کررہی ہے۔

واضح رہے کہ کسان تنظیمیں دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ سات ماہ سے زائد عرصے سے نئے زراعتی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہیں۔ کسانوں کی تنظیموں اور حکومت کے مابین گیارہ دور کی بات چیت ہوچکی ہے لیکن کوئی حل نہیں ہوسکا ہے۔ کسان آج جنتر منتر پر احتجاج کر رہے ہیں۔

اسٹیل سیکٹر کیلئے 6322 کروڑ روپے کا مراعاتی پیکج

0
اسٹیل سیکٹر کیلئے 6322 کروڑ روپے کا مراعاتی پیکج
اسٹیل سیکٹر کیلئے 6322 کروڑ روپے کا مراعاتی پیکج

مرکزی حکومت نے بدھ کے روز اعلی معیار کے اسٹیل سیکٹر کے لئے 6322 کروڑ روپے کے پروڈکشن پر مبنی مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے بدھ کے روز اعلی معیار کے اسٹیل سیکٹر کے لئے 6322 کروڑ روپے کے پروڈکشن پر مبنی مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ جس میں 40 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری متوقع ہونے اور 68،000 افراد کو براہ راست روزگار فراہم کرنے کا امکان ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے اسٹیل کے شعبے کے لئے پیداوار پر مبنی مراعاتی پیکیج فراہم کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی۔

اس میٹنگ کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ رقم اگلے پانچ برسوں میں ملک میں مصنوعات کی تیاری کے لئے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے ملک میں ’ہائی گریڈ اسپیشلٹی اسٹیل‘ کی پیداوار کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ اس سے برآمدات میں اضافہ بھی ہوگا اور اعلی معیار کے اسٹیل کی درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔

توقع ہے کہ اس اسکیم میں لگ بھگ 40،000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 25 ٹن کی گنجائش کے اضافے کا امکان ہے۔ اس اسکیم کی مدت 2023-24 سے 2027- 28 تک شروع ہونے والے پانچ سال ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ اضافی پیداوار اور سرمایہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اسکیم میں روزگار پیدا کرنے کی تقریبا 5.25 لاکھ صلاحیت ہے، جس میں سے 68،000 براہ راست اور بقیہ بالواسطہ ملازمت ملیں گے۔

اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا دن بھر کے لئے ملتوی

0
اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا دن بھر کے لئے ملتوی
اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا دن بھر کے لئے ملتوی

پیر کو پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس شروع ہوا۔ حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے سوائے کورونا کی صورتحال پر گفتگو کے آج تک راجیہ سبھا میں کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی۔

نئی دہلی: اپوزیشن اراکین نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں زرعی قوانین، پیگاسس جاسوسی کیس اور آندھرا پردیش کو خصوصی حیثیت سمیت مختلف امور پر ہنگامہ کھڑا کردیا جس کی وجہ سے ایوان کو دو مرتبہ ملتوی کرنے کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کردیا گیا۔

لنچ کے وقفے کے بعد جیسے ہی ایوان کی کارروائی آج دو بجے شروع ہوئی ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو سے پیگاسس معاملے پر بیان دینے کو کہا۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور وائی ایس آر کانگریس کے ممبران نعرے بازی کرتے ہوئے ڈائس کے قریب پہنچ گئے۔

ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ممبران سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس جائیں اور ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دیں۔ انہوں نے پوچھا کہ ممبران اس معاملے پر بیان دینے کی اجازت کیوں نہیں دیتے ہیں جس کے بارے میں وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔

اس دوران مسٹر وشنو نے بیان پڑھنے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن کی مخالفت اتنی سخت تھی کہ وہ اپنی بات نہیں رکھ سکے اور انہوں نے اپنا بیان ایوان کی میز پر رکھ دیا۔

ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایوان میں افراتفری کی فضا کو دیکھ کر کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی۔

اپوزیشن نے صبح سے ہی ان معاملات پر ایوان میں ہنگامہ برپا کردیا تھا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پہلے 12 بجے اور پھر 2 بجے تک ملتوی کرنا پڑی۔

پیر کو پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس شروع ہوا۔ حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے سوائے کورونا کی صورتحال پر گفتگو کے آج تک راجیہ سبھا میں کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی۔

مون سون سیشن: دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی نہیں چل سکی

0
مون سون سیشن: دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی نہیں چل سکی
مون سون سیشن: دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی نہیں چل سکی

پارلیمنٹ کے مون سون سیشن کے دوسرے دن ٹیلی فون ٹیپنگ، مہنگائی، کسانوں اور ڈیزل کی قیمتوں پر ہنگامہ آرائی کے سبب ایوان زیریں کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مون سون سیشن کے دوسرے دن ٹیلی فون ٹیپنگ، مہنگائی، کسانوں اور ڈیزل کی قیمتوں پر ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا کے سبب ایوان زیریں (لوک سبھا) کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔

ایوان کی کارروائی جیسے ہی 3 بجے شروع ہوئی اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے چیئر کے قریب پہنچ گئے۔ پریزائڈنگ افسر کریٹ سولنکی نے ممبروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر جائیں اور ایوان کی کارروائی کو آگے بڑھنے دیں۔ اسی درمیان وزیر پارلیمانی امور ارجن رام میگھوال کے ذریعہ ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھوائے۔

ہنگامہ کو دیکھ کر مسٹر سولنکی نے جمعرات کی صبح 11 بجے تک ایوان زیریں کی کارروائی ملتوی کردی۔

اس سے قبل جیسے ہی دوپہر 11 بجے ایوان کا آغاز ہوا، کانگریس سمیت کچھ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین ایوان کے وسط میں آگئے اور نعرے لگانے لگے۔

ہنگامے کے درمیان پریذائڈنگ آفیسر کریٹ پریم جی بھائی سولنکی نے مختلف وزارتوں اور کمیٹیوں کے کام سے متعلق اہم کاغذات ٹیبل پر رکھے۔ اسی دوران اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے پریذائڈنگ آفیسر کے سامنے آئے جن کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے۔

مسٹر سولنکی نے مشتعل ممبروں سے اپیل کی کہ مون سون کا یہ سیشن بہت ہی اہم ہے، برائے کرم ایوان میں امن برقرار رکھیں۔

اس دوران ایک بار پھر جیسے ہی ہنگامہ شروع ہوا انہوں نے ایوان کی کارروائی 3 بجے تک کیلئے ملتوی کردی تھی۔

جاسوسی، مہنگائی، کسانوں سے متعلق امور اور دیگر امور کے مبینہ الزامات پر ہنگامہ

اس سے قبل جیسے ہی صبح گیارہ بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، کانگریس کے ممبران اور کچھ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر نعرے لگانے لگے۔ وہ جاسوسی، مہنگائی، کسانوں سے متعلق امور اور دیگر امور کے مبینہ الزامات پر ہنگامہ کر رہے تھے۔ اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن ممبران سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور وقفہ سوالات کی کارروائی کا آغاز کیا۔

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر مملکت کیلاش چودھری نے شوروغوغا کے درمیان جدید زراعت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیا۔ اسی دوران حزب اختلاف کے کچھ ارکان ہاتھ میں پلے کارڈ لے کر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔

اسپیکر اوم برلا نے ایک بار پھر ان سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں پلے کارڈز لانا ضابطہ عمل کے تحت نہیں ہے۔ براہ کرم ممبران نعرے اور پلے کارڈ دکھانا بند کریں۔

انہوں نے کہا ’’آپ جن بھی معاملہ پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں، حکومت بحث کے لئے تیار ہے‘‘۔ لیکن جب ممبروں پر ان کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا تو صبح 11.30 بجے انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کردی تھی۔