ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 322

افغان اپنی لڑائی خود لڑیں، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر کوئی ملال نہیں: بائیڈن

0
افغان اپنی لڑائی خود لڑیں، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر کوئی ملال نہیں: بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان فوج اب اس قابل ہے کہ طالبان دہشت گردوں کا مقابلہ کرسکے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ ہم افغان حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ساتھ ہی امریکی صدر جو بائیڈن نے افغان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف متحد ہو کر لڑیں۔

صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور ہم افغان حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ 20 سال تک افغانستان میں فوج تعینات رکھنے کے لئے امریکہ کو کئی کھربوں ڈالر سے زیادہ کے اخراجات برداشت کرنے پڑے۔ جب کہ لڑائی کے دوران ہزاروں امریکی فوجیوں نے جان کی بازی بھی ہار دی جبکہ ہم نے افغانستان کی 300000 حفاظتی دستوں کو بہترین فوجی تربیت اور درکار اسلحہ اور رقوم فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان فوج اب اس قابل ہے کہ طالبان دہشت گردوں کا مقابلہ کرسکے۔

علاوہ ازیں، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ افغان حکومت کو درکار فضائی مدد فراہم کرتا رہے گا۔

دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا کہ کابل میں امریکی سفارت خانے کو ممکنہ خطرات کا جائزہ روزانہ کی بنیاد پر لے رہے ہیں۔

مسٹر نیڈ پرائس نے کہا کہ افغانستان میں بنیادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جو ہمارے لیے اہم ہیں، پرُتشدد واقعات طالبان کے معاہدوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

عاپ کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس

0
عاپ کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس
عاپ کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس

عاپ لیڈر سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس دیتے ہوئے ان سے 15 دنوں میں معافی مانگنے کو کہا گیا ہے۔ وکیل نے 15 دنوں میں جواب نہیں دینے پر عاپ لیڈر پر مجرمانہ ہتک عزت کا دعوی کرنے کی دھمکی دی ہے۔

لکھنؤ: اترپردیش کے جل شکتی وزیر مہندر سنگھ پر بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں عام آدمی پارٹی (عاپ) کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔

ڈاکٹر سنگھ کے وکیل پرشانت سنگھ اٹل نے عاپ لیڈر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا بتاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے الزامات سے جل شکتی وزیر کی شبیہ داغدار ہوئی ہے۔ جھوٹے الزامات سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مشتہر کرنے کا غلط کام کیا گیا ہے جو بالکل برداشت کرنے کے لائق نہیں ہے۔

عاپ لیڈر سنجے سنگھ کو ہتک عزت کا نوٹس دیتے ہوئے ان سے 15 دنوں میں معافی مانگنے کو کہا گیا ہے۔ وکیل نے 15 دنوں میں جواب نہیں دینے پر عاپ لیڈر پر مجرمانہ ہتک عزت کا دعوی کرنے کی دھمکی دی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ رکن پارلیمان سنجے سنگھ کی جانب سے جل جیون مشن کے کام میں 30 ہزار کروڑ روپئے کے بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور جل شکتی وزیر مہندر سنگھ کو اس میں ملوث بتایا گیا تھا۔

وکیل نے عاپ لیڈر کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عاپ لیڈر کی جانب سے لگائے گئے الزامات مکمل طور سے بے بنیاد ہیں۔ محکمہ کی جانب سے کسی بھی فرم کو پائپ سپلائی کا آرڈر نہیں دیا گیا ہے۔

ریاستوں کو او بی سی کی فہرست بنانے کا حق ملا

0
ریاستوں کو او بی سی کی فہرست بنانے کا حق ملا
ریاستوں کو او بی سی کی فہرست بنانے کا حق ملا

ایوان بالا راجیہ سبھا نے آج 105 واں آئینی ترمیمی بل منظور کیا، جو اب ریاستوں کو دوسرے پسماندہ طبقات (او بی سی) کی فہرست کو دوبارہ بنانے کا اختیار دیتا ہے۔

نئی دہلی: ایوان بالا راجیہ سبھا نے آج 105 واں آئینی ترمیمی بل کو منظور کرلیا، جو اب ریاستوں کو دوسرے پسماندہ طبقات (او بی سی) کی فہرست دوبارہ بنانے کا اختیار دیتا ہے۔

ایوان زیریں لوک سبھا پہلے ہی اس بل کو پاس کرچکا ہے اور اس طرح اس آئینی ترمیمی بل کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا۔ اس بل کے حق میں 187 ووٹ جبکہ اس بل پر کسی نے بھی مخالفت نہیں کی۔

ایوان بالا میں راجیہ سبھا میں تقریبا پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کا جواب دینے کے بعد سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر ڈاکٹر ویرندر کمار نے ایوان کو ووٹوں کی تقسیم کے ذریعے منظور کر لیا۔ آئینی ترمیمی بل ہونے کی وجہ سے اس پر ووٹ ڈالنا پڑا کیونکہ اس طرح کے بل کو ایوان میں موجود دو تہائی ارکان کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ تاہم تمام سیاسی پارٹیوں نے اس بل کی حمایت کی اور اسے منظور کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

بل کی منظوری سے پہلے آئین (127 ویں ترمیم) بل کا نام آئینی (105 ویں ترمیم) بل میں تبدیل کر دیا گیا۔

او بی سی برادری کے لوگوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں ریزرویشن حاصل کرنے کی راہ ہموار

بحث کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ویرندر کمار نے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاستی حکومتوں کی فہرست کے مطابق، او بی سی برادری کے لوگوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں ریزرویشن حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی اور اس سے فلاحی اسکیموں کے فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی پالیسی اور نیت دونوں واضح ہیں۔

سال 2018 میں 102 ویں آئینی ترمیم کے وقت سب نے اس کی حمایت کی اور تضادات کی نشاندہی نہیں کی۔ اس بل کے ذریعے، جن سے ریاستوں کے اختیارات ختم ہوگئے تھے ان کے حقوق بحال کردیئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر کمار نے کہا کہ حکومت نے ریزرویشن کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ 102 ویں ترمیم آئین اور وفاقی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یکم جولائی کو سپریم کورٹ کی نظرثانی کی درخواست خارج کرنے کے بعد بل لانے کا فیصلہ کیا۔ مہاراشٹر کے علاوہ دیگر ریاستیں بھی اس بل کی منظوری سے فائدہ اٹھائیں گی۔

اس کے بعد پریزائیڈنگ افسر سسمت پاترا نے ووٹوں کی تقسیم کے ذریعے یہ بل پاس کرایا۔ کچھ ارکان نے اس میں ترامیم کی تجویز پیش کی تھی جسے تقسیم اور صوتی ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔

افغان صدر اشرف غنی سلامتی امور پر مذاکرات کے لئے مزار شریف پہنچے

0
افغان صدر اشرف غنی سلامتی امور پر مذاکرات کے لئے مزار شریف پہنچے
افغان صدر اشرف غنی سلامتی امور پر مذاکرات کے لئے مزار شریف پہنچے

افغانستان کے صدر اشرف غنی بغلان کے دارالحکومت پل خمری پر طالبان کا کنٹرول ہونے کے ایک روز بعد مزار شریف کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ طالبان کے اب مزار شریف کی طرف بڑھنے کی بھی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

کابل: افغانستان کے صدر اشرف غنی سلامتی امور پر مذاکرات کے لئے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف پر پہنچ گئے ہیں۔

صدر کے ترجمان نے اطلاع دی ہے کہ مسٹر غنی، سابق نائب صدر عبدالرشید دوستم اور بلخ کے سابق گورنر محمد نور مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں گے اور مزار شریف کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات پر توجہ دیں گے۔

مسٹر غنی بغلان کے دارالحکومت پل خمری پر طالبان کا کنٹرول ہونے کے ایک روز بعد مزار شریف کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ طالبان کے اب مزار شریف کی طرف بڑھنے کی بھی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے درمیان طالبان نے صرف پانچ دنوں میں ملک کے آٹھ صوبوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

لوک سبھا کی کارروائی مقررہ تاریخ سے دو دن پہلے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

0

لوک سبھا کی کارروائی آج صبح جیسے ہی شروع ہوئی اسپیکر اوم برلا نے اراکین کو پچھلے دنوں ایوان کے چار سابق ممبران کی موت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ایوان نے ان کے اعزاز میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اس کے بعد مسٹر برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

نئی دہلی: پیگاسس جاسوسی کیس، کسانوں کا مسئلہ اور مہنگائی کے سلسلے میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان پارلیمنٹ کے مان سون سیشن میں جاری تعطل مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا اور لوک سبھا کی کارروائی مقررہ تاریخ سے دو دن پہلے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

ایوان کی کارروائی آج صبح 11:00 بجے جیسے ہی شروع ہوئی اسپیکر اوم برلا نے اراکین کو پچھلے دنوں ایوان کے چار سابق ممبران کی موت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ایوان نے ان کے اعزاز میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

اس کے بعد مسٹر برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس دوران انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے تعطل کی وجہ سے ایوان کے کام کاج کے متاثر ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سیشن میں تعطل کی وجہ سے صرف 17 نشستیں منعقد ہوئیں اور صرف 21 گھنٹے 24 منٹ کام کاج ہو سکا جو کہ کل طے شدہ مدت کا صرف 22 فیصد ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ ارکان کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کام 74 گھنٹے 46 منٹ تک متاثر ہوا۔ انہوں نے اس سیشن میں منظور شدہ او بی سی کی فہرست سے متعلق آئین ترمیمی بل سمیت مختلف بلوں کا بھی حوالہ دیا۔

اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور بیشتر مرکزی وزراء بھی ایوان میں موجود تھے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی اپوزیشن کی گیلری میں موجود تھیں۔

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت

0
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت
سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت

سعودی حکومت نے کہا ہے کہ جائیداد مکہ یا مدینہ میں نہیں خریدی جاسکتیں، غیرملکی افراد صرف رہائشی مقصد کے لیے جائیداد خرید سکتے ہیں۔

ریاض: سعودی حکومت نے اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سعودی اقامہ رکھنے والے غیرملکیوں کو مملکت میں جائیداد خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے جائیداد خریدنے کے لیے شرائط مقرر کی گئی ہیں جس کے مطابق جائیداد خریدنے کے لیے اقامہ درست اور تجدید شدہ ہونا ضروری ہے۔ اعلامیہ کے مطابق جائیداد کی معلومات سرکاری دستاویزات کی کاپی کے ساتھ دینا ہوگی، جائیداد خریدنے والے کے نام دوسری جائیداد نہیں ہونی چاہیے۔

سعودی حکومت نے کہا ہے کہ جائیداد مکہ یا مدینہ میں نہیں خریدی جاسکتیں، غیرملکی افراد صرف رہائشی مقصد کے لیے جائیداد خرید سکتے ہیں۔

دوسری جانب ابشر اکاؤنٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملک میں مقیم غیرملکیوں کو ایک عدد غیرمنقولہ جائیداد کی ملکیت رکھنے کا اختیار ہے۔ ابشر اکاؤنٹ کے ذریعے وہ غیرمنقولہ جائیداد خریدنے کی درخواست جمع کرواسکتے ہیں جس کا جائزہ لینے کے بعد انہیں منظوری دی جائے گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے غیرملکی کا نافذ العمل اقامہ ضروری ہے، اقامہ کی مدت ختم ہو تو درخواست قبول نہیں ہوگی۔

ابشر اکاؤنٹ لاگ ان کریں اس کے بعد مائی سروس پر جائیں، سروس کو کلک کریں، پھر جنرل سروس پر جاکر غیرمنقولہ جائیداد پر کلک کریں۔ درخواست کے ساتھ خریدی جانے والی جائیداد کی مکمل تفصیل، اس کی ملکیتی دستاویزات اور تصویر منسلک کرنا لازمی ہے۔

مخصو ص مذہب کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کرنے کے معاملہ میں اشونی سمیت چھ گرفتار

0
مخصو ص مذہب کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کرنے کے معاملہ میں اشونی سمیت چھ گرفتار
مخصو ص مذہب کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کرنے کے معاملہ میں اشونی سمیت چھ گرفتار

دہلی کے جنتر منتر کے نزدیک کچھ تنظیموں نے ’بھارت چھوڑو آندولن‘ کی سالگرہ کے موقع پر ’بھارت جوڑو آندولن‘ شروع کیا تھا۔ اس دوران انگریزوں کے زمانے کے کچھ قوانین کو واپس لینے کی مانگ کی گئی۔ اسی دوران اشتعال انگیز نعرے بازی کی گئی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر کے نزدیک آٹھ اگست کو ’بھارت چھوڑو آندولن‘ کے مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر مخصوص مذہب کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کرنے کے معاملہ میں سینئر وکیل اشونی اپادھیائے سمیت چھ لوگوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

دہلی پولیس کے رابطہ عامہ کے افسر چنمے بسوال نے منگل کو بتایا کہ مخصوص مذہب کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کے معاملے میں کناٹ پیلیس تھانہ کی پولیس نے اشونی اپادھیائے کے علاوہ ونود شرما، دیپک سنگھ، ونیت باجپئی، پریت سنگھ اور دیپک کمار کو گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں نے کناٹ پیلیس میں واقع بینک آف بڑودہ کے سامنے اشتعال انگیز نعرے لگائے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس نے ان تمام سے پوچھ گچھ کے بعد انہیں گرفتار کیا ہے۔ پولیس معاملہ کی تفتیش کررہی ہے۔

دہلی پولیس کے مطابق اس پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی تھی

دہلی پولیس نے کل ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ دہلی پولیس معاملے کی جانچ کررہی ہے اور کسی بھی طرح کی فرقہ وارانہ نفر ت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دہلی پولیس کے مطابق اس پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ اتوار کو دہلی کے جنتر منتر کے نزدیک کچھ تنظیموں نے ’بھارت چھوڑو آندولن‘ کی سالگرہ کے موقع پر ’بھارت جوڑو آندولن‘ شروع کیا تھا۔ اس دوران انگریزوں کے زمانے کے کچھ قوانین کو واپس لینے کی مانگ کی گئی۔ اسی دوران متنازعہ نعرے بازی کی گئی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

اس معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے اشونی اپادھیائے کے خلاف پولیس میں شکایت کرکے کارروائی کی مانگ کی تھی۔

انہوں نے آج ٹویٹ کرکے کہا کہ دہلی کے جنتر منتر کے نزدیک انسانیت کو تار تار کرنے والوں کو صرف گرفتار کرکے دہلی پولیس خانہ پری نہ کرے۔ ابھی اگر یہ مسلم، دلت یا سکھ کمیونٹی سے ہوتے تو انہیں این ایس اے/یو اے پی اے کے تحت سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جاتا۔ ان پر بھی این ایس اے /یو اے پی اے کے تحت سخت کارروائی ہو۔

آبادی کنٹرول پر اگر کوئی ریاست قانون بنانا چاہے تو یہ اس کا اختیار ہے: نتیش

0
آبادی کنٹرول پر اگر کوئی ریاست قانون بنانا چاہے تو یہ اس کا اختیار ہے: نتیش
آبادی کنٹرول پر اگر کوئی ریاست قانون بنانا چاہے تو یہ اس کا اختیار ہے: نتیش

آبادی کنٹرول پر قانون بنانے کے مطالبہ کے سلسلہ میں میڈیا اہلکاروں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ قانون اپنی جگہ ہے، اگر کوئی ریاست اس سلسلہ میں قانون بنانا چاہے تو یہ اس کا اختیار ہے۔

پٹنہ: وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 2,705.35 کروڑ روپے کے 989 پروجیکٹوں کا ریمورٹ کے ذریعہ سنگ بنیاد و افتتاح پروگرام کے بعد آبادی کنٹرول پر قانون بنانے کے مطالبہ کے سلسلہ میں میڈیا اہلکاروں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قانون اپنی جگہ ہے، اگر کوئی ریاست اس سلسلہ میں قانون بنانا چاہے تو یہ اس کا اختیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبادی پر کنٹرول کے سلسلہ میں شروع سے ہی ہم لوگوں نے بہار میں مطالعہ اور اندازہ کیا ہے۔ جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شوہر بیوی میں اگر بیوی تعلیم یافتہ ہو تو زچگی کی شرح کم ہے۔ پہلے بہار میں زچگی کی شرح 4 فیصد سے بھی زیادہ تھی۔ جو اب کم ہو کر 3 فیصد سے بھی کم ہو گئی ہے۔ آئندہ 5-7 سال کے اندر بہار کی زچگی شرح 2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آبادی پر کنٹرول کے سلسلہ میں اگر کوئی شخص اپنی باتوں کو سامنے رکھتا ہے تو اس سے مجھے کوئی مطلب نہیں ہے، ہم لوگ اپنا کام بتا سکتے ہیں۔ دہلی میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کی میٹنگ کے سلسلہ میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ایران میں کورونا بے قابو، ہر 2 سیکنڈ میں ایک شخص کورونا سے متاثر اور ہر 2 منٹ میں ایک شخص کی ہلاکت

0
ایران میں کورونا بے قابو، ہر 2 سیکنڈ میں ایک شخص کورونا سے متاثر اور ہر 2 منٹ میں ایک شخص کی ہلاکت

ایران میں کورونا بے قابو ہوتی نظر آرہی ہے۔  سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران میں ہر 2 سیکنڈ میں ایک شخص کورونا سے متاثر ہو رہا ہے اور تقریباً ہر 2 منٹ میں ایک شخص کورونا وائرس سے ہلاک ہو رہا ہے۔

تہران: ایک بار پھر ایران میں کورونا بے قابو ہوتی نظر آ رہی ہے۔ کورونا سے کل اموات 94،603 تک پہنچ گئی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مزید 40،808 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر 2 منٹ بعد ایک شخص کورونا سے ہلاک ہو رہا ہے اور ایک دن میں 588 اموات کا نیا ریکارڈ بھی قائم ہوا ہے۔

اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جانب سے سماجی فاصلے کی پابندی نہیں کی جارہی، جسے یقینی بنانا ضروری ہے۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور کئی شہروں کے اسپتالوں میں نئے مریضوں کے لیے بستر ختم ہو چکے ہیں۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے سست ویکسینیشن پر حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ 8 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں اب تک صرف 4 فیصد آبادی کو کورونا ویکسین لگائی گئی ہے۔

ایرانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کورونا سے کل اموات 94،603 تک پہنچ گئی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مزید 40،808 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

ایران میں ہر 2 سیکنڈ میں ایک شخص کورونا سے متاثر ہو رہا ہے

سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران میں ہر 2 سیکنڈ میں ایک شخص کورونا سے متاثر ہو رہا ہے اور تقریباً ہر 2 منٹ میں ایک شخص کورونا وائرس سے ہلاک ہو رہا ہے۔ اگر اس کا موازنہ گزشتہ مہینے سے کیا جائے تو اس وقت تقریباً 3 منٹ میں کورونا سے ایک ہلاکت رپورٹ ہو رہی تھی۔

واضح رہے جنوری میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی اور برطانوی ساختہ ویکسین کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ناقابل اعتماد ہیں اور کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی ‘جنہوں نے اتوار کے روز ایرانی ساختہ ویکسین کی پہلی خوراک لگوائی تھی’ نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ویکسینیشن کو تیز کریں اور وبائی امراض کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔

دنیا پر امریکہ کی حکمرانی کا دور ختم ہو رہا ہے: نیشنل انٹرسٹ کا دعوی

0
دنیا پر امریکہ کی حکمرانی کا دور ختم ہو رہا ہے: نیشنل انٹرسٹ کا دعوی

چین کی عالمی سطح پر ترقی کا راستہ روکنے میں اور اپنے دشمنوں کے لئے کئے گئے اقدامات میں ناکامی سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا پر امریکہ کی حکمرانی کا دور ختم ہو رہا ہے۔

واشنگٹن: چین کی عالمی سطح پر ترقی کا راستہ روکنے میں اور اپنے دشمنوں کے لئے کئے گئے اقدامات میں ناکامی سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا پر امریکہ کی حکمرانی کا دور ختم ہو رہا ہے۔ یہ دعوی نیشنل انٹرسٹ میں شائع ایک مقالے میں کیا گیا ہے۔

امریکی بین الاقوامی تعلقات کے جریدے نیشنل انٹرسٹ کے شائع کردہ مقالے میں کہا گیا ہے کہ سرد جنگ کے بعد امریکہ کی زیرِ قیادت شروع ہونے والا واحد قطبی عالمی نظام اب تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔

مقالے میں افغانستان اور عراق میں امریکہ کی ہزیمت کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں خاص طور پر شام، یمن اور لیبیا کے بحرانوں سے متعلق کوئی موقف اختیار کرنے کا کام انقرہ، ماسکو اور تہران پر چھوڑ دیا ہے۔

ان عناصر کے ساتھ ساتھ چین کی عالمی سطح پر ترقی کا راستہ روکنے میں اور اپنے دشمنوں کے لئے اٹھائے گئے اقدامات میں ناکامی سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی سابقہ طاقت کھو بیٹھا ہے۔

مقالے میں اس پہلو پر بھی غور کیا گیا ہے کہ واحد قطب والے عالمی نظام کے بعد نیا عالمی نظام کیا ہو گا۔ تجزئیے میں کہا گیا ہے کہ اس وقت امریکہ، چین اور روس کی شرکت سے کثیر قطبی یا  پھر 2 قطبی نظام جیسے مختلف نظام ایجنڈے پر ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ یہ متعدد عالمی نظام ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رقابت کی حالت میں ہیں اور کسی ایک نظام کے غالب ہونے میں بیسیوں سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔