جمعرات, مئی 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 293

ادبِ اطفال میں بچوں کی ذہنی سطح اور عصری تقاضوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے: شیخ عقیل احمد

0
ادبِ اطفال میں بچوں کی ذہنی سطح اور عصری تقاضوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے: شیخ عقیل احمد
ادبِ اطفال میں بچوں کی ذہنی سطح اور عصری تقاضوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے: شیخ عقیل احمد

این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے ادب اطفال کی اہمیت اور اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کا ادب ایک مشکل صنف ہے جس میں بچوں کی ذہنی سطح اور عصری ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

نئی دہلی: ادب اطفال کی اہمیت اور اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ ادبِ اطفال ایک مشکل صنف ہے جس میں بچوں کی ذہنی سطح اور عصری تقاضوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یہ بات انہوں نے قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ’ادبِ اطفال میں تخلیقی سطحیت: حقیقت یا فسانہ‘ کے عنوان سے منعقدہ آن لائن مذاکرے میں تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اردو میں دیگر اصناف کے ساتھ بچوں کے ادب کی بھی ایک توانا روایت رہی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید سے لے کر آج تک ہمارے بہت سے ادیبوں نے بچوں کے لیے ادب کی تخلیق کی اور بہت سے رسالوں نے بھی ادبِ اطفال کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مگر عصرِ حاضر میں ادب اطفال کو کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ ایک تو یہ کہ موجودہ دور میں ادب اطفال پر کام بہت کم ہو رہا ہے اور دوسرا اہم مسئلہ بچوں کے ادب کے معیار اور سطح کا بھی ہے۔

انہوں نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مذاکرے میں ادبِ اطفال کے اسی پہلو پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جو لوگ اس مجلس میں موجود ہیں ان کی بچوں کے ادب پر گہری نگاہ ہے اور وہ خود بھی بچوں کے لیے لکھتے رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آج کی گفتگو کے ذریعے ادبِ اطفال کی موجودہ صورت حال اور اس کے معیار پر صحت مند رائیں سامنے آئیں گی۔

ادب اطفال پر لکھنے والے ادیبوں کے لیے کونسل جلد ہی ایک تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کرے گی

شیخ عقیل احمد نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کونسل بچوں کے ادب کو موجودہ ضروریات اور تقاضوں کے مطابق پیش کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے ضروری قدم اٹھائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کے ادب پر لکھنے والے ادیبوں اور اداروں کے لیے کونسل جلد ہی ایک تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کرے گی۔

معروف افسانہ نگار ذکیہ مشہدی نے مذاکرے میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تخلیقیت سے پہلے بچوں میں اردو زبان کے تئیں دلچسپی پیدا کرنا ضروری ہے، جس کے بعد ہی ہم انھیں ادب عالیہ کی طرف متوجہ کرسکتے ہیں۔ انھوں نے معاصر زبانوں خصوصا انگریزی میں لکھے جانے والے بچوں کے ادب سے مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لیے مفید ادب تبھی تخلیق ہو سکتی ہے، جب بچے کی عمر، ذہنی سطح، جذباتی سطح اور عقلی سطح کو پیش نظر رکھتے ہوئے لکھا جائے۔

بچوں کے ادیب سردار سلیم نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ موجودہ دور میں بہت سے ادبا اور رسالے ادب اطفال کو فروغ دے رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں بچوں کے لیے نئے لکھنے والوں کی ہر حال میں حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور ان کا ہاتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ادب اطفال میں تخلیقی سطحیت آدھی حقیقت اور آدھا فسانہ

سراج عظیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقیات کی وجہ سے بچوں کی ذہنی و فکری سطح میں غیر معمولی تبدیلی آ چکی ہے، جس کا احساس و ادراک ضروری ہے اور بچوں کے لیے تبھی کامیاب ادب تخلیق کی جاسکتی ہے۔ بچوں کے رسالہ ’نیا کھلونا‘ کے مدیر اعلی نوشاد مومن نے کہا کہ بچوں کے ادب میں تخلیقی سطحیت آدھی حقیقت اور آدھا فسانہ ہے، البتہ قلمکاروں کی یہ ذمے داری ہے کہ وقت کی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کا ادب تخلیق کریں۔ اس موقعے پر این بی ٹی کے ایڈیٹر(اردو) شمس اقبال نے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ بچوں کے ادب میں مواد کی بہتری کے ساتھ ظاہری سراپا کو بھی خوب صورت بنانے کی ضرورت ہے۔

پروگرام کی نظامت کے فرائض فیروز بخت احمد نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ اس موقعے پر کونسل سے ڈاکٹر کلیم اللہ(ریسرچ آفیسر)، آبگینہ عارف (ٹیکنکل اسسٹنٹ) موجود تھے۔ افضل حسین خان اور محمد افروز نے تکنیکی تعاون فراہم کیا، جبکہ کونسل کے فیس بک پیج کے ذریعے سیکڑوں لوگوں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔

سواتھیہ ساتھی کارڈ ہولڈروں کو واپس کرنے والے اسپتالوں کا لائسنس ہو سکتا ہے منسوخ

0
سواتھیہ ساتھی کارڈ ہولڈروں کو واپس کرنے والے اسپتالوں کا لائسنس ہو سکتا ہے منسوخ
سواتھیہ ساتھی کارڈ ہولڈروں کو واپس کرنے والے اسپتالوں کا لائسنس ہو سکتا ہے منسوخ

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہت سے نرسنگ ہوم ہیلتھ کیئر کارڈز کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ حکومتی منصوبوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر ان کا لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج اسپتالوں کو سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ جن کے پاس سواتھیہ ساتھی کارڈ ہے انہیں واپس نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ممتا بنرجی کی ہدایت کے بعد محکمہ صحت کے تحت ہیلتھ ایڈوائزری ایسوسی ایشن نے ریاستی محکمہ صحت کے ہیلتھ اسکیم کارڈ پر ایک نئی ایڈوائزری جاری کی ہے۔

سواتھیہ ساتھی ایسوسی ایشن کی جانب سے دو ایڈوائزری جاری کی گئی ہیں۔ ایک بنیادی طور پر پرائیویٹ ہسپتالوں اور نرسنگ ہومز کے لیے ہے۔ دوسری ایڈوائزری سرکاری اسپتالوں کے لیے ہے۔
پہلی ایڈوائزری میں، مجموعی طور پر 1900 سے زیادہ ‘مخصوص پیکجزہیں۔ دوسرے لفظوں میں، بیماری کوئی بھی ہو، ہیلتھ کیئر پروجیکٹ کے تحت ایسے 1900 پیکجز ہیں۔ لیکن ہیلتھ سوسائٹی سیل کے مطابق کئی پرائیویٹ ہسپتال پیکج سے پیسے لے کر مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ اس نان پیکج لاگت کے بارے میں ایڈوائزری کو پیغام دیا گیا ہے۔

دوسری طرف، سرکاری اسپتالوں کے معاملے میں، اگر کوئی مریض آتا ہے، تو اسے اندر داخل ہونے کے لیے سواتھیہ ساتھی یا کسی اور ہیلتھ پروجیکٹ کارڈ کے دائرے میں لایا جائے۔ فائدہ حاصل کرنے کے لیے، بنیادی طور پر مریض کے لیے ہیلتھ کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔ اگر مرکزی صحت اسکیم یا ای ایس آئی کارڈ ہو تب بھی مریض کو اس کے تحت لانا ہوگا۔

اگر مریض کے اہل خانہ ہیلتھ کارڈ لانا بھول جاتے ہیں تو مریض کو آدھار کارڈ نمبر کے ساتھ ہیلتھ ورکر اسکیم کے تحت داخل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اگر مریض کے پاس کارڈ نہیں ہے تو اسے ہسپتال سے فعال ہونے اور مریض کا کارڈ جاری کرنے کو کہا گیا ہے۔ پیر کو وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہت سے نرسنگ ہوم ہیلتھ کیئر کارڈز کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ حکومتی منصوبوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر ان کا لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

وانکھیڑے کیس میں نواب ملک نے کیے مزید انکشافات

0
وانکھیڑے کیس میں نواب ملک نے کیے مزید انکشافات
وانکھیڑے کیس میں نواب ملک نے کیے مزید انکشافات

مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڑے کے برتھ سرٹیفکیٹ پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ترجمان اور مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک نے منگل کو نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڑے کے برتھ سرٹیفکیٹ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ملک نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ سمیر وانکھیڑے ایک مسلمان کمیونٹی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ایک مسلم لڑکی ڈاکٹر شبانہ سے شادی کی۔ بعد میں وانکھیڑے نے کرانتی ریڈکر نامی لڑکی سے شادی کرلی تاکہ وہ شیڈول کاسٹ کو ملنے والی سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھاسکیں۔ انہوں نے اپنی ذات تک بدل لی اور غریب لوگوں اور مستحقین کے حقوق غصب کر لیے۔

ملک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وانکھیڑے دو پرائیویٹ افراد کی مدد سے معروف شخصیات کے فون ٹیپ کرتے تھے اور معصوم و بے قصور لوگوں کو بلیک میل کیا کرتے تھے۔ این سی پی کے وزیر نے کہا کہ ان کے پاس تمام پرائیویٹ لوگوں کے شواہد، ان کے نام و پتے موجود ہیں اور کسی مناسب وقت پر اس کا انکشاف کریں گے۔

این سی پی لیڈر نے وانکھیڑے کے والد اور بہن (یاسمین وانکھیڑے) کو تعزیرات ہند کی دفعہ 499 کے تحت اپنے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا چیلنج کیا اور کہا کہ وہ اس کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

ملک کو ایک نامعلوم مکتوب موصول ہوا

ملک نے کہا کہ ان کو ممبئی دفتر سے این سی بی کے ایک افسر کی جانب سے ایک نامعلوم مکتوب موصول ہوا ہے جس میں درج ہے کہ وانکھیڑے ایک ایسے افسران کے گروپ کا حصہ تھے جو بڑے لوگوں سے تاوان کی وصولی میں شامل رہا ہے۔ افسر نے 26 ایسے معاملے کا ذکر کیا ہے جس میں پیسے وصولے گئے تھے۔

ملک نے کہا کہ وہ این سی بی کے ڈائریکٹر جنرل کو مکتوب لکھ کر ان سے درخواست کریں گے کہ معاملے کو بذات خود دیکھیں اور اس کی انکوائری کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا مکتوب انہوں نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، وزیر داخلہ دلیپ والیس پاٹیل اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سنجے پانڈے کو بھی ارسال کرچکے ہیں۔

دریں اثنا اتر پردیش پولیس نے آرین خان کیس میں کلیدی گواہ کرن پی گوساوی کو حراست میں لینے سے انکار کیا ہے۔ پونے کی ایک ٹیم گوساوی کو حراست میں لینے کے لیے لکھنؤ روانہ ہو چکی ہے جو دوسرے کئی معاملات میں پولیس کو مطلوب ہیں۔

ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان نے ہمیں کھیل کے ہر شعبہ میں مات دی: وراٹ

0
ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان نے ہمیں کھیل کے ہر شعبہ میں مات دی: وراٹ
ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان نے ہمیں کھیل کے ہر شعبہ میں مات دی: وراٹ

ہندوستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان سے 10 وکٹ سے ملی شرمناک شکست کے بعد کپتان وراٹ کوہلی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم کو پاکستان نے میچ سے پوری طرح باہر کردیا تھا۔

دبئی: ہندوستان کو ورلڈ کپ میں پاکستان سے 10 وکٹ سے ملی شرمناک شکست کے بعد کپتان وراٹ کوہلی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان ی ٹیم کو پاکستان نے میچ سے پوری طرح باہر کردیا تھا۔ ہندوستان کے 7 وکٹ پر 151 رنوں کے جواب میں پاکستان نے اپنے دونوں سلامی بلے بازوں بابر اعظم اور محمد رضوان کی ناٹ آؤٹ نصف سنچری کی بدولت 17.5 اوور میں ہدف کو حاصل کرلیا۔ یہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں ہندوستان کی پہلی 10 وکٹ سے شکست تھی۔

وراٹ نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے یقینی طور پر ہمیں شکست سے دوچار کردیا۔ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر آپ مخالف ٹیم کو پوری طرح میچ سے باہر نہیں کرتے ہیں تو آپ 10 وکٹ سے نہیں جیت سکتے ہیں۔ ہمیں کوئی موقع بھی نہیں ملا۔ وہ بہت پیشہ ور تھے اور آپ کو یقینی طور پر انہیں اس کا کریڈٹ دینا ہوگا۔ ہم نے اپنی بھرپور کوشش کی۔ ان پر دباؤ تھا لیکن ان کے پاس جواب تھا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں مجھے بالکل بھی کوئی عار نہیں ہے کہ ایک ٹیم ہم سے بہتر کھیلی۔

بابر نے شبنم کی وجہ سے پہلے گیند بازی کرنے کا فیصلہ کیا

ہندوستانی کپتان نے کہا کہ جب دو ٹیمیں 11 کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں قدم رکھتی ہیں تو دونوں کے پاس کھیل جیتنے کا مساوی موقع ہوتا ہے اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ آپ وہاں جائیں گے اور ہر میچ جیت کر چلے آئیں گے۔ ہم نے اپنے طور پر پوری کوشش کی اور ایک اچھا اسکور بنایا۔ ہم نے سوچا کہ ہم انہیں دباؤ میں ڈال سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے ہمیں کسی بھی سطح پر میچ میں نہیں آنے دیا۔ وہ یقینی طور پر اس کے لائق ہیں۔ انہوں نے کھیل کو بہت مضبوطی سے ختم کیا اور پورے میچ میں انہوں نے ہمیں موقع نہیں دیا کہ ہم ان پر دباؤ بنا سکیں۔

کوہلی نے اس امر کو تسلیم کیا کہ دوسری اننگز کے دوران رات میں شبنم نے ہندستانی کھلاڑیوں کی مشکلیں بڑھادیں۔ میچ سے پہلے شام کو بابر نے شبنم کے تئیں فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے پہلے گیند بازی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کوہلی نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ حالات انتہائی ناسازگار تھے لیکن اگر پچ بلے بازی کے لیے تھوری بہتر ہو جاتی ہے تو آپ شروعات میں اتر جاتے ہیں۔ آپ رنوں کا تعاقب کرتے ہوئے ہدف کو حاصل کرنے کے بارے میں زیادہ پراعتماد محسوس کرنے لگتے ہیں اور یہی ہوا بھی۔

بھارت کا اگلا مقابلہ اتوار کو اسی میدان پر نیوزی لینڈ کے ساتھ

بھارت کا اگلا مقابلہ اتوار کو اسی میدان پر نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوگا۔ کوہلی نے ہفتہ بھر کے بریک کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹیم کو اپنی شروعاتی نقصان پر غور کرنے اور ٹورنامنٹ کے بقیہ حصوں کے لیے اپنی منصوبہ بندی کو بہتر سے بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وراٹ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ بریک ہم سبھی کے لیے بہت ہی مفید ثابت ہوگا۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہم نے پہلے ہی ایک پورا سیشن کھیلا ہے۔ پہلے ہم نے ان مشکل حالات میں متحدہ عرب امارات میں آئی پی ایل کھیلا اور پھر ہم ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں۔ اس لیے ہمارے لیے یہ بڑے بریک یقینی طور پر انتہائی خوش آئند ہے۔ بریک کے دوران ہمیں سابقہ غلطیوں کا محاسبہ اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اس بڑے ٹورنامنٹ کو کھیلنے کے لیے ہم نے جسمانی اور ذہنی طور پر پوری طرح چاق و چوبند اور ہشاش بشاش اور تازگی کی ضرورت ہے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ ایک ہائی وولٹیج ٹورنامنٹ

انہوں نے کہا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ ہمیشہ ایک ہائی وولٹیج ٹورنامنٹ ہوتا ہے۔ یہ ہمیں پریکٹس سیشن میں آنے کے لیے ایک ٹیم کے طور پر پھر سے منظم ہونے میں مدد کرے گا۔ جو ہم چاہتے ہیں اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے پر جوش ہیں اور بہت ہی خود اعتمادی کے ساتھ تیاری کرتے ہیں پھر میچ کے دن میدان میں اترتے ہیں۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔ اس تیاری کے وقت کے ساتھ ہم ایک بار پھر مثبت سوچ کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ اس لیے ایک ٹیم اور انفرادی طور پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اچھی بات ہے جو ہو رہا ہے۔ ہمارے پاس خود احتسابی، غور و فکر اور پھر سے تیاری کرنے کا بھر پور وقت میسر ہوگا۔

کورونا انفیکشن میں تیزی، پولیس سخت، ماسک نہیں پہننے پر گرفتاریاں

0
کورونا انفیکشن میں تیزی، پولیس سخت، ماسک نہیں پہننے پر گرفتاریاں
کورونا انفیکشن میں تیزی، پولیس سخت، ماسک نہیں پہننے پر گرفتاریاں

مغربی بنگال میں درگا پوجا کے بعد پولیس بھی سخت ہو گئی ہے کیونکہ کورونا انفیکشن میں تیزی آئی ہے۔ مغربی بنگال حکومت نے رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ کیا ہے۔

کلکتہ: مغربی بنگال میں درگا پوجا کے بعد پولیس بھی سخت ہو گئی ہے کیونکہ کورونا انفیکشن میں تیزی آئی ہے۔ رات گئے تک پولیس شہر کے مختلف چوراہوں پر تلاشی مہم چلا رہی ہے اور بغیر ماسک کے پیدل چلنے والوں کی میراتھن گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ مغربی بنگال حکومت نے رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ کیا ہے۔ اس لیے پولیس نے رات بھر ناکہ چیکنگ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گاڑیوں کو روک کر دستاویزات کی جانچ کی جارہی ہے۔

درگا پوجا کے بھیڑ کے بعد ریاست میں تیزی سے بڑھتے کورونا کے کیسز میں اضافے کے بعد چیف سکریٹری نے انتظامیہ کو کورونا قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سیکرٹریٹ نے کئی علاقوں میں کنٹینمنٹ زونز کا انتخاب کیا ہے۔ اترپارہ میونسپلٹی کے سات وارڈز کو کنٹینمنٹ زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ درگا پوجا سے پہلے، جہاں مغربی بنگال میں باقاعدگی سے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 700 سے کم تھی، اب تقریبا ایک ہزار افراد باقاعدگی سے متاثر ہونے لگے ہیں، جو تشویش کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ، درگا پوجا سے پہلے فعال مریضوں کی تعداد بھی کم ہو رہی تھی، جو اب بڑھنا شروع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے انتظامیہ سخت ہو گئی ہے۔

ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 443 اموات

0
ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 443 اموات
ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 443 اموات

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے چار ہزار 899 ایکٹیو کیسز کم ہوئے ہیں، جبکہ 443 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

نئی دہلی: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس (کووڈ-19) وبا کے چار ہزار 899 ایکٹیو کیسز درج ہوئے ہیں، جبکہ تقریبا ساڑھے چار سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دریں اثنا اتوار کو ملک میں 12 لاکھ 30 ہزار 720 افراد کو کورونا کی ویکسین دی گئی اور اب تک ایک ارب 20 لاکھ سے زیادہ افراد کو کووڈ ویکسین دی جا چکی ہے۔

پیر کی صبح مرکزی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 14،306 نئے کیسز کی رپورٹ کے ساتھ متاثرین کی تعداد تین کروڑ 51 لاکھ 99 ہزار 774 ہو گئی ہے۔

اس دوران 18 ہزار 762 مریض صحت یاب ہونے کے بعد اس وبا کو شکست دینے والے افراد کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 45 لاکھ 67 ہزار 367 ہو گئی ہے۔ ایکٹیو کیسز 4899 سے گھٹ کر ایک لاکھ 67 ہزار 695 رہ گئے ہیں۔

اسی عرصے میں 443 مریضوں کی موت کے باعث ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد بڑھ کر چار لاکھ 54 ہزار 712 ہوگئی ہے۔ ملک میں ایکٹیو کیسز کی شرح 0.49 فیصد، صحت یابی کی شرح 98.18 فیصد اور اموات کی شرح 1.33 فیصد پر آگئی ہے۔

طالبان نے کالعدم فہرست سے نام نکالے جانے پر روسی صدر کے بیان کی تعریف کی

0
طالبان نے کالعدم فہرست سے نام نکالے جانے پر روسی صدر کے بیان کی تعریف کی
طالبان نے کالعدم فہرست سے نام نکالے جانے پر روسی صدر کے بیان کی تعریف کی

افغانستان روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حالیہ بیان کا خیرمقدم کرتا ہے جس میں طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کے امکان سے متعلق بیان دیا ہے۔

ماسکو: افغانستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے حالیہ بیان کا خیرمقدم کرتا ہے جس میں طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کے امکان سے متعلق بیان دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ٹوئٹر پر مسٹر پوٹن کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی وزارت خارجہ روس کے صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہے اور ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ باہمی تعاون کے اصول پر مبنی مثبت تعلقات کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کو افغانستان کے بارے میں اپنے رویے میں ’مثبت تبدیلی‘ لانی چاہئے۔

قابل ذکر ہے کہ اس ماہ کے شروع میں مسٹر پوٹن نے کہا تھا کہ روس کو امید ہے کہ افغانستان میں صورتحال کو مثبت انداز میں فروغ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے ہونا چاہیئے۔

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹس میں 10 ججوں کی تقرری کا اعلان

0
پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹس میں 10 ججوں کی تقرری کا اعلان
پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹس میں 10 ججوں کی تقرری کا اعلان

مرکزی حکومت نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹس میں 10 ججوں کی تقرری کا اعلان کیا۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے اتوار کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹس کے 10 ایڈیشنل ججز کو ترقی دے کر اسی ہائی کورٹ میں جج کے عہدے پر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

قانون و انصاف کی وزارت کے محکمہ انصاف کی طرف سے آج جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدر رام ناتھ کووند نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے 10 ایڈیشنل ججوں کو ترقی دے کر ان کی تقرری کو منظوری دے دی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل ججز جسٹس سویر سہگل، جسٹس (محترمہ) الکا سرین، جسٹس جس گرپریت سنگھ پوری، جسٹس اشوک کمار ورما، جسٹس سنت پرکاش، جسٹس (محترمہ) میناکشی آئی مہتا، جسٹس کرم جیت سنگھ، جسٹس وویک پوری، جسٹس (محترمہ) ارچنا پوری اور جسٹس راجیش بھردواج کو جج مقرر کیا گیا ہے۔

کیجریوال اور سنجے سنگھ 25 تاریخ کو سلطان پور کورٹ میں حاضر ہوں گے

0
کیجریوال اور سنجے سنگھ 25 تاریخ کو سلطان پور کورٹ میں حاضر ہوں گے
کیجریوال اور سنجے سنگھ 25 تاریخ کو سلطان پور کورٹ میں حاضر ہوں گے

کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ پیر کو سلطان پور میں ایم ایل اے کورٹ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سمیت دیگر معاملات میں پیش ہوں گے۔

سلطان پور: دہلی کے وزیر اعلی کیجریوال اور عام آدمی پارٹی رکن پالیمان سنجے سنگھ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سمیت دیگر معاملات میں پیر کو سلطان پور میں ایم ایل اے کورٹ میں حاضر ہوں گے۔

وکیل انکش یادو نے اتوار کو بتایا کہ سال 2014 میں لوک سبھا انتخابات کے دوران گوری گنج اور مسافر خانہ تھانے میں اس وقت کے عام آدمی پارٹی کے لوک سبھا امیدوار کمار وشواس کے انتخابی مہم کے دوران دہلی کے موجودہ وزیر اعلی اروند کیجریوال سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا۔

گوری گنج سے جڑے معاملے میں پولیس نے اروند کیجریوال، کمار وشواس، ہری کرشنا، راکیش تیواری، اجئے سنگھ، ببلو تیواری کے خلاف چارج شیٹ داخل کیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت ایم پی۔ ایم ایل اے کی خصوصی عدالت میں چل رہی ہے۔

معاملے میں اروند کیجریوال اور کمار وشواس کی طرف سے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔ جس پر سماعت کے بعد عدالت نے انہیں پیشگی ہدایت تک حاضری سے نجات دے د تھی۔ عدالت میں یہ عرضی تقریبا چھ سالوں زیر غور رہی جس میں پراسیکیوشن کی طرف سے پیروی میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی دے رہی تھی۔ جس کا نتیجہ ہے کہ مقدمے کی کاروائی کافی وقت سے التواء کا شکار ہے۔

ملک میں 100 کروڑ کووڈ ویکسینیشن سے نیا جوش: مودی

0
ملک میں 100 کروڑ کووڈ ویکسینیشن سے نیا جوش: مودی
ملک میں 100 کروڑ کووڈ ویکسینیشن سے نیا جوش: مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک میں 100 کروڑ کووڈ ویکسینیشن سے نیا جوش اور نئی توانائی پیدا ہوئی ہے۔ مسٹر مودی نے اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش حکومتوں کی 100 فیصد کووڈ ویکسینیشن کی ستائش کی۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک میں 100 کروڑ کووڈ ویکسینیشن سے نیا جوش اور نئی توانائی پیدا ہوئی ہے اور اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ملک کسی بھی چیلنج پر قابو پا سکتا ہے۔

اتوار کو آل انڈیا ریڈیو پر اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 82 ویں قسط میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ملک 100 کروڑ کووڈ ویکسینیشن کے بعد نئے جوش اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ویکسینیشن پروگرام کی کامیابی قوم کی طاقت اور سب کی کوششوں کا منتر ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 100 کروڑ کووڈ ویکسینیشن کا اعداد و شمار بہت بڑا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی لاکھوں چھوٹے، متاثر کن اور قابل فخر تجربات اور کئی مثالیں منسلک ہیں۔

100 کروڑ کووڈ ویکسینیشن کی کامیابی پر وزیر اعظم نے کہا:

ایک سو کروڑ کووڈ ویکسینیشن کی کامیابی پر وزیر اعظم نے کہا ’’میں اپنے ملک اور اپنے ملک کے لوگوں کی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہوں۔ میں جانتا تھا کہ ہمارے ہیلتھ ورکرز ہم وطنوں کو ویکسین دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ ہمارے ہیلتھ ورکرز نے اپنی انتھک محنت اور عزم سے ایک نئی مثال قائم کی۔ انہوں نے جدت اور عزم کے ساتھ انسانیت کی خدمت کا ایک نیا معیار قائم کیا۔

اتراکھنڈ کے باگیشور کی پونم نوتیال کے ساتھ اپنی گفتگو شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز نے تمام چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو سیکیورٹی کور فراہم کیا ہے۔

مسٹر مودی نے اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش حکومتوں کی 100 فیصد کووڈ ویکسینیشن کی ستائش کی۔