اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 288

مفرور شراب تاجر مالیا کی سزا پر اب اور انتظار نہیں: سپریم کورٹ

0
مفرور شراب تاجر مالیا کی سزا پر اب اور انتظار نہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ مالیا کے خلاف سزا کی سماعت اگلے سال 18 جنوری کو کرے گا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ توہین عدالت کے مجرم، مفرور شراب تاجر وجے مالیا کی سزا طے کرنے کے معاملے میں اب وہ اور اتنظار نہیں کرے گا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ مالیا کے خلاف سزا کی سماعت اگلے سال 18 جنوری کو کرے گا۔

جسٹس یو یو للت، جسٹس رویندر بھٹ اور جسٹس بیلا ترویدی کی بینچ نے اس بات پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے مجرم مالیا کو محض سزا دینے کے معاملے کی شنوائی چار برسوں سے زیر التواء ہے۔ اسے 2017 میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور اسی وقت سے یہ مقدمہ زیر التواء ہے۔

مرکزی حکومت کو بار بار حکم دینے کے باوجود مجرم کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بینچ نے کہا، ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ یہ مالیا پر منحصر ہے کہ اسے خود پیش ہونا ہے یا وکیل کے ذریعے‘۔

2017 میں مالیا توہین عدالت کا مجرم قرار

سپریم کورٹ نے 14 جولائی 2017 میں مالیا کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیا تھا۔ مالیا کو اپنے بچوں کے بینک کھاتوں میں 40 ملین امریکی ڈالر کی منتقلی کا انکشاف نہ کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔ بینکوں کے 900 کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کے مختلف امور میں سے اسے بغیر عدالتی حکم کے اپنے بینک کھاتے سے لین-دین کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

توہین عدالت کا مجرم ٹھہرائے جانے کے بعد مالیا نے اگست 2020 میں نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی جسے خارج کر دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے مرکزی وزارت داخلہ کو توہین عدالت کیس میں مالیا کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ کچھ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی برطانیہ سے حوالگی میں رکاوٹ آ رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ وجے مالیا کے خلاف اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) سمیت کئی بڑے بینکوں سے 9000 کروڑ روپے کا قرض لے کر واپس نہ کرنے کے کئی الزامات ہیں۔ 65 سالہ تاجر اس وقت لندن میں مقیم ہے۔ وہاں کی عدالت نے اسے ضمانت دے دی تھی۔ برطانیہ کی سپریم کورٹ نے مفرور تاجر کی حوالگی کا حکم دیا تھا۔

گذشتہ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل نے کہا تھا کہ وزارت خارجہ نے برطانیہ کے سامنے حوالگی کا معاملہ اٹھایا تھا لیکن برطانیہ میں شراب فروش کے خلاف خفیہ کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی حوالگی کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی۔

اسٹاک مارکیٹ میں پھر گراوٹ

0
اسٹاک مارکیٹ میں پھر گراوٹ
اسٹاک مارکیٹ میں پھر گراوٹ

ایس بی آئی سمیت 17 کمپنیوں میں فروخت کی وجہ سے گزشتہ روز کی تیزی کو کھونے کے بعد اسٹاک مارکیٹ آج گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔

ممبئی: عالمی بازار میں منفی اشارے کے درمیان، مقامی سطح پر ٹاٹا اسٹیل، ریلائنس، ماروتی، ایس بی آئی سمیت 17 کمپنیوں میں فروخت کی وجہ سے گزشتہ روز کی تیزی کو کھونے کے بعد اسٹاک مارکیٹ آج گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔

بی ایس ای کا حساس انڈیکس سینسیکس 195.71 پوائنٹس گر کر 57,064.87 پوائنٹس پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 70.75 پوائنٹس گر کر 17 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے نیچے 16,983.20 پر آگیا۔ تاہم، بڑی کمپنیوں کے برعکس، چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں خریداری نے مارکیٹ کو مزید گرنے سے بچا لیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 0.29 فیصد بڑھ کر 24,687.60 پر اور اسمال کیپ 1.45 فیصد بڑھ کر 27,937.31 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

اس دوران بی ایس ای پر 3402 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا۔ جن میں سے 1471 فروخت ہوئے 1778 خریدے گئے جبکہ 153 کے بھاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ این ایس ای پر 28 کمپنیوں کے حصص گرے، جبکہ 22 میں اضافہ ہوا۔ غیر ملکی مارکیٹ میں گراوٹ کا رجحان رہا۔  برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 1.21، جرمنی کا ڈی اے ایکس 1.33، جاپان کا نکی 1.63 اور ہانگ کانگ کا ہینگ شینگ 1.58 فیصد گرا جبکہ چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.03 فیصد بڑھ گیا۔

بی ایس ای کے نو گروپوں میں کمی آئی۔ میٹل گروپ میں 2.34 فیصد کی سب سے زیادہ کمی ہوئی۔ اس کے علاوہ بنیادی مواد 0.57، انرجی 1.04، فنانس 0.38، ٹیلی کام 0.71، آٹو 0.85، بینکنگ 0.85، آئل اینڈ گیس 0.07 اور پاور گروپ 0.33 فیصد گرے۔ صارف پائیدار گروپ اس مدت کے دوران 2.26 فیصد کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا تھا۔

پارلیمنٹ میں شور شرابے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی

0
پارلیمنٹ میں شور شرابے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی
پارلیمنٹ میں شور شرابے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی

کسانوں کے مسئلہ پر تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ارکان پارلیمنٹ کے زوردار شور سے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

نئی دہلی: کسانوں کے معاملہ پر تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کے ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے کئے گئے زوردار شور کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

منگل کو دو بار ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی ایوان کی کارروائی 3 بجے شروع ہوئی، ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر کسانوں کے معاملے پر نعرے بازی کی۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ہنگامہ آرائی کرنے والے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ ایوان میں امن برقرار رکھیں اور اپنی نشستوں پر جائیں۔ مسٹر برلا نے کہا، ’’تمام ارکان کو ایوان کو مثبت ماحول میں چلانے میں تعاون کرنا چاہیے۔ میں ہر کسی کو کسی بھی موضوع پر مثبت بحث کے لیے پورا موقع دوں گا۔‘‘

اس دوران ایوان میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایوان ہموار طریقے سے چلے۔ ہم ایوان میں پکنک منانے نہیں آتے ہیں بلکہ عوام سے متعلق معاملے اٹھانے آتے ہیں۔

ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے کہا کہ ایوان میں بحث ہونی چاہئے۔ کل بھی ہم بہت سے مسائل پر بات کرنا چاہتے تھے۔

ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کے شور شرابے کے درمیان مسٹر برلا نے وزارتوں کے کام سے متعلق اہم کاغذات اور پارلیمانی کمیٹیوں کی رپورٹوں کو ایوان کی میز پر رکھا۔

لوک سبھا کی کارروائی آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی

0
لوک سبھا کی کارروائی آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی
لوک سبھا کی کارروائی آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی

کسانوں کے مسئلہ پر تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ارکان پارلیمنٹ کے نعرے لگانے پر لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی

نئی دہلی: کسانوں کے معاملہ پر تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ارکان پارلیمنٹ کے نعرے بازی پر لوک سبھا کی کارروائی آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

جب ایوان صبح 11 بجے شروع ہوئی تو اسپیکر نے دادرا نگر حویلی سے نو منتخب شیوسینا کی کلاوتی موہن ڈیلکر کو ایوان کی رکنیت کا حلف دلایا۔ اس کے بعد اپوزیشن کی طرف سے ہنگامہ شروع ہو گیا۔

دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کے لیڈر ٹی آر بالو اور کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کچھ کہنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن شور شرابے میں کچھ سنا نہیں جا سکا۔ نشست کے سامنے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ارکان پارلیمنٹ نے کسانوں کے احتجاج میں جان گنوانے والے کسانوں کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر قانون بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔

وقفہ سوالات کا آغاز کرتے ہوئے اسپیکر نے بی جے پی کے کنور پشپندر سنگھ چندیل کو سوال پوچھنے کے لیے پکارا۔ دریں اثناء کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، بائیں بازو، انڈین یونین مسلم لیگ، عام آدمی پارٹی کے ارکان نے اپوزیشن کے 12 ارکان اسمبلی کی معطلی کے معاملے پر راجیہ سبھا میں احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ ترنمول کانگریس، بہوجن سماج پارٹی، سماج وادی پارٹی کے ارکان نے واک آؤٹ میں حصہ نہیں لیا۔

تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے تقریباً چھ ارکان بھی نشست کے سامنے آئے اور پلے کارڈس کے ساتھ نعرے بازی کرتے رہے۔ اسپیکر نے ان اپنی نشست پر جانے کی درخواست کی لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی۔

اومیکرون کی صورتحال پر جی 7 کا ہنگامی اجلاس، مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق

0
اومیکرون کی صورتحال پر جی 7 کا ہنگامی اجلاس، مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
اومیکرون کی صورتحال پر جی 7 کا ہنگامی اجلاس، مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق

کورونا وائرس اومیکرون کی صورتحال پر جی سیون ہیلتھ منسٹر اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس میں اومیکرون سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

روم: کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون‘ کی صورتحال پر جی سیون کا ہنگامی اجلاس ہوا ہے جس میں وائرس سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات پر زور دیتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔

کورونا وائرس اومیکرون کی صورتحال پر جی سیون ہیلتھ منسٹر اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس میں اومیکرون سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

اجلاس میں گلوبل ہیلتھ سمٹ اور جی 20 روم ڈیکلریشن پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کا اعادہ کیا گیا جبکہ ہیلتھ منسٹرز نے وائرس کی بر وقت تشخیص کے لیے جنوبی افریقہ کے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ویکسین کی فراہمی اور تمام ممالک کی ویکسین تک رسائی ممکن بنانے پر زور دیا گیا۔ جی سیون ہیلتھ منسٹرز نے ڈبلیو ایچ او کی نگرانی میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔

متنازعہ زرعی قوانین منسوخی بل ایوان زیریں میں پیش

0
متنازعہ زرعی قوانین منسوخی بل ایوان زیریں میں پیش 
متنازعہ زرعی قوانین منسوخی بل ایوان زیریں میں پیش 

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے والا بل بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا گیا

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے والا بل بغیر کسی بحث کے منظور کر لیا گیا اور اس کے بعد ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

ایک بار التوا کے بعد جب ایوان کی کارروائی 12 بجے شروع ہوئی تو اسپیکر اوم برلا نے سب سے پہلے مغربی بنگال کے آسنسول سے منتخب ہونے والے بابل سپریو کے استعفیٰ کی اطلاع دی اور اسے 22 اکتوبر سے منظور کر لیا۔ اور یہ بھی کہا کہ انہیں التوا کے کچھ نوٹس ملے ہیں جس پر بحث کرانے کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ شروع کردیا اور وہ چیئر کے ارد گرد جمع ہو گئے اور نعرے بازی شروع کردی۔

ایوان کی میز پر ضروری دستاویزات رکھنے کے بعد مسٹر برلا نے زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر نریندر سنگھ تومر کا نام لیا، جنہوں نے تین متنازعہ زرعی قوانین – زرعی پیداوار تجارت اور کامرس (فروغ اور سہولت)، زرعی پیداوار (امپاورمنٹ اور پروٹیکشن) کی قیمت کی یقین دہانی، اور زرعی خدمات ایکٹ 2020 اور ضروری اشیاء (ترمیمی) ایکٹ 2020 کو منسوخ کرتے ہوئے زرعی قانون منسوخی بل 2021 پیش کیا۔

اسپیکر نے کہا کہ وہ بل پر بحث کرانے کے حق میں ہیں لیکن اتنے شور اور ہنگامے میں بحث نہیں ہو سکتی۔ اگر ممبران بحث کرنا چاہیں تو وہ اپنی اپنی نشستوں پر جائیں۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

ایوان کے اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں

سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ آج یہاں ایوان کے اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی قوانین کی تنسیخ کے لیے لائے گئے بلوں پر بحث ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھ برسوں میں 14 قوانین کو منسوخ کرنے کے بل لائے گئے لیکن اب ان پر بحث نہیں کرائی جا رہی ہے۔

اس پر اسپیکر نے کہا کہ ایوان کے حالات کو بحث کے لیے بنائے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے مسٹر تومر کے ذریعہ پیش کردہ بل کو صوتی ووٹوں سے منظور کرایا اور ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافہ: ریلائنس جیو کا پلان 20 فیصد تک مہنگا

0
موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافہ: ریلائنس جیو کا پلان 20 فیصد تک مہنگا
موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافہ: ریلائنس جیو کا پلان 20 فیصد تک مہنگا

ائرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا کی طرف سے موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافے کے بعد آج ریلائنس جیو نے بھی اپنے ٹیرف کی شرحوں میں 20 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔

نئی دہلی: بھارتیہ ائرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا کی طرف سے موبائل ٹیرف کی شرحوں میں اضافے کے بعد آج سب سے بڑی کمپنی ریلائنس جیو نے بھی اپنے ٹیرف کی شرحوں میں 20 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔

جیو نے آج ایک نئے لامحدود پلان کا اعلان کیا، یہ پلان یکم دسمبر سے نافذ ہوں گے۔ ریلائنس جیو کا دعویٰ ہے کہ ان کے ٹیرف کی شرحیں اب بھی سب سے کم ہیں۔

جیو کے مختلف پلان میں 31 روپے سے 480 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ جیو فون کے لیے خاص طور پر لائے گئے پرانے 75 روپے والے پلان کی نئی قیمت اب 91 روپے ہوگی۔ ساتھ ہی لامحدود پلان میں سے 129 روپے کا ٹیرف پلان اب 155 روپے میں دستیاب ہوگا۔ شرحوں میں سب سے زیادہ اضافہ ایک سال کی مدت والے پلان میں ہوا ہے۔ پہلے یہ پلان 2399 روپے کا تھا جسے اب 2879 روپے کر دیا گیا ہے۔

ریلائنس جیو کے ڈیٹا ایڈ آن پلان کی شرح بھی بڑھ گئی ہے۔ 6 جی بی والے 51 روپے والے پلان کی قیمت اب 61 روپے ہوگی اور 101 والے 12 جی بی ایڈ آن پلان کی قیمت 121 روپے ہوگی۔ 50 جی بی کا سب سے بڑا پلان بھی 50 روپے مہنگا ہو کر 301 روپے ہو گیا ہے۔

مایاوتی کا یوپی ٹی ای ٹی پرچہ افشاں معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ

0
مایاوتی کا یوپی ٹی ای ٹی پرچہ افشاں معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ
مایاوتی کا یوپی ٹی ای ٹی پرچہ افشاں معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ

پرچہ افشاں ہونے کے معاملے کی وجہ سے یوپی ٹی ای ٹی کے منسوخ ہونے کو سنگین مسئلہ بتاتے ہوئے مایاوتی نے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

لکھنؤ: پرچہ افشاں ہونے کے معاملے کی وجہ سے اترپردیش ٹیچر اہلیتی امتحان (یوپی ٹی ای ٹی) کے منسوخ ہونے کو سنگین مسئلہ بتاتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی نے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

محترمہ مایاوتی نے اتوار کو ٹویٹ کیا ‘جس طرح ایس پی حکومت میں نقل عام بات ہوتی تھی۔ اسی طرح بی جے پی حکومت میں بھی پرچہ افشاں ہونے سے یوپی میں ٹیچروں کی تقرری کے لئے آج کا یوپی ٹی ای ٹی امتحان منسوخ ہو جانا کافی سنگین معاملہ ہے۔ تقریبا 21 لاکھ امیدواروں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ مناسب نہیں’۔

انہوں نے کہا ‘بی ایس پی کا مطالبہ ہے کہ یوپی حکومت اس تازہ واقعہ کا سخت نوٹس لے کر اس کی فورا سے پیشتر اعلی سطح جانچ کرائے اور خاطیوں کو سخت قانونی سزا یقینی کرے اور آگے جلد ہی اس امتحان کو بہتر ڈھنگ سے کرانے کے پختہ انتظام کو یقینی کرے۔

قابل ذکر ہے کہ پرچہ افشاں ہونے کی وجہ سے یو پی ٹی ای ٹی امتحان صبح منسوخ کرنا پڑا تھا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب سوالنامے تقسیم کئے جا رہے تھے۔

کشن گنج بہار کا غریب ترین ضلع، سیمانچل غریب ترین خطہ: نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ

0
کشن گنج بہار کا غریب ترین ضلع، سیمانچل غریب ترین خطہ: نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ
کشن گنج بہار کا غریب ترین ضلع، سیمانچل غریب ترین خطہ: نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ

نیتی آیوگ کی ایک رپورٹ میں کشن گنج کو غریب ترین ضلع قرار دئے جانے کے بعد علاقے کی غریبی اور سرکار کی بدنیتی ایک بار پھر موضوع بحث بن چکی ہے

تحریر: جلیس اختر نصیری

نیتی آیوگ کی حالیہ رپورٹ سے کشن گنج سے متعلق بالخصوص اور سیمانچل کے بارے میں جو انکشاف ہوا وہ حالانکہ بہت زیادہ چونکانے والی نہیں ہے لیکن بے حد افسوسناک ہے۔ اس رپورٹ میں کشن گنج ضلع کو بہار کا سب سے غریب ضلع بتایا گیا ہے۔

نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق بہار کے 38 اضلاع میں سے کشن گنج سب سے غریب ضلع ہے۔ نیتی آیوگ کے کثیر جہتی غربت انڈیکس (multidimensional poverty index) کی اس تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہار کے پانچ اضلاع کے 60 فیصد لوگوں کا تعلق امیر طبقات سے ہے جبکہ ان میں سے 11 اضلاع میں 60 فیصد سے زیادہ لوگ غریب لوگوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

سیمانچل علاقے کا کشن گنج ضلع کے 64.75 فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے

سیمانچل علاقے کا کشن گنج ضلع جہاں کی آبادی کی اکثریت کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے یہاں کے 64.75 فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے (بی پی ایل) کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کشن گنج کے بعد خط افلاس سے نیچے جن اضلاع میں لوگ ہیں ان کی تعداد ارریہ میں 64.65 فیصد، مدھے پورہ ضلع میں 64.43 فیصد، مشرقی چمپارن میں 64.13 فیصد، سپول میں 64.10 فیصد، جموئی میں 64.01 فیصد، سیتامڑھی میں 63.46 فیصد، پورنیہ میں 63.29 فیصد، کٹیہار میں 62.80 فیصد، سہرسہ میں 61.48 فیصد، اور شیوہر میں 60.30 فیصد ہے۔

مذکورہ اضلاع کے علاوہ جن اضلاع کے 50 فیصد لوگ غریب کے زمرے میں آتے ہیں وہ ہیں ضلع مونگیر جہاں غریبوں کی تعداد 40.99 فیصد، روہتاس میں 40.75 فیصد، سیوان میں 40.55 فیصد، اور بھوجپور میں 40.50 فیصد ہے۔

رپورٹ میں پٹنہ کو سب سے زیادہ امیر سمجھا جانے والا بتایا گیا

واضح رہے کہ رپورٹ میں پٹنہ کو سب سے زیادہ امیر سمجھا جانے والا بتایا گیا ہے۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق پٹنہ میں بسنے والے 29.20 فیصد لوگ امیروں کے زمرے میں آتے ہیں۔ پٹنہ کے بعد مظفر پور، گیا اور بھاگلپور اضلاع آتے ہیں جہاں امیروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نتیش کمار کو "خود پر شرم آنی چاہیے کیونکہ ان کے مطابق ریاست بہار تعلیم، صحت اور غربت سمیت ہر شعبے میں پچھڑا ہوا ہے۔”

جناب لالو پرساد کا قول اس حد تک تو درست سمجھا جاسکتا ہے کہ بہار تقریبا ہر شعبہ زندگی میں پسماندہ ہے لیکن اس کے لیے محض نتیش کمار کو ہی تنقید کا نشانہ بنانا شاید درست نہیں ہے، کیوںکہ ریاست میں ترقیاتی کام پہلے ہی سے ناگفتہ بہ ہے۔ اور اس میں سیمانچل کا خطہ جہاں غریب ترین ضلع کشن گنج واقع ہے، سب سے زیادہ متاثر رہا ہے۔

کشن گنج ضلع جغرافیائی اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل

حالانکہ کشن گنج ایسے خطے میں واقع ہے جو جغرافیائی اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ مثلا یہاں ٹرانسپورٹ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ نیشنل ہائی وے کشن گنج کے پیچ سے گزرتا ہے جو ملک کے اکثر تجارتی علاقوں اور شہروں تک رسائی کو آسان بناتا ہے وہیں ریلوے لائن بھی ایسی ہے کہ شمال مشرقی علاقے کے لیے کشن گنج گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ باگ ڈوگرا ایئرپورٹ بھی بہت نزدیک ہے۔ اس کے علاوہ کئی عالمگیر شہرت کے حامل سیاحتی مقامات جیسے دارجلنگ، سکیم، مرک اور گیگٹاک وغیرہ بھی 2 سے 3 گھنٹے کے فاصلے میں واقع ہے۔

پیداوار کے لحاظ سے بھی کشن گنج میں دھان، گیہوں، جوٹ سے لے کر چائے تک کی کھیتی ہوتی ہے لیکن کسانوں کی حالت ہمیشہ خراب ہی رہتی ہے۔ سالوں سے اس پر باتیں ہوتی ہیں لیکن کسانوں کی پیداوار کی خاطر خواہ قیمت نہ ملنے کی وجہ سے ان کی حالت بس زندگی گزارنے بھر تک ہے۔

۵ اسمبلی حلقوں میں مجلس اتحاد المسلمین کے امیدواروں کو زبردست کامبیابی

گزشتہ اسمبلی الیکشن میں سیمانچل کے لوگوں کے اندر اپنے پرانے عوامی نمائندوں کے خلاف کافی غصہ نظر آیا جہاں پرانے ممبران اسمبلی کو شکست دے کر ۵ اسمبلی حلقوں میں اسد الدین اویسی کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کے امیدواروں کو زبردست کامبیابی ملی ہے۔

اسمبلی الیکشن سے قبل میڈیا کی بھی پوری توجہ محض اس بات پر رہی کہ یہاں کے رائے دہندگان کا رجحان اویسی کی پارٹی کی جانب کیوں کر ہوسکتا ہے، اور کیوں یہ اسے متبادل کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ حالانکہ میڈیا کو اس کی وجوہات پر بھی غور کرنے کی ضرورت تھی جہاں پر کانگریس یا راشٹریہ جنتادل جیسی سیکولرازم کی علمبردار پارٹیوں نے علاقے کی ترقیاتی کاموں پر ادنی سی توجہ دینے کی بھی کوشش نہیں کی۔

کشن گنج ایسا علاقہ ہے جہاں پورے علاقے میں صرف ایک ایسا سرکاری ہسپتال ہے جہاں سو لوگوں سے زیادہ کا علاج ممکن نہیں ہے۔ باقی چند ہسپتال بلاک کی سطح پر ریفرل ہسپتال ہیں جن میں سے اکثر کاغذوں پر ہی چلتے ہیں۔ پورے ضلع میں تقریبا کوئی بھی ڈھنگ کا کالج یا دوسرا سرکاری تعلیمی ادارہ نہیں۔

اب ظاہر ہے غریبی کے جس دہانے پر کشن گنج کو پہنچایا گیا وہ ایک یا دو سال میں تو ہوا نہیں ہے بلکہ اس میں سیاسی پارٹیوں اور عوامی نمائندوں کی مستقل نااہلی کارفرما رہی ہے۔

اسرائیل نے ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی 

0
اسرائیل نے ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی 
اسرائیل نے ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی 

اسرائیل نے کورونا وائرس وبا کی ایک اور نئی شکل ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دو ہفتوں کے لیے غیر ملکیوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

تل ابیب: اسرائیل نے کورونا وائرس (کووڈ-19) وبا کی ایک اور نئی شکل ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دو ہفتوں کے لیے ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دفتر نے یہ اطلاع دی ہے۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق ہفتے کی رات ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں غیر ملکیوں کے لیے تمام سرحدیں 14 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے اسرائیلی شہریوں کا ہوائی اڈے پر کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ پھر ان کے لیے خود کو الگ تھلگ رکھنا ضروری ہوگا۔ جس کے بعد ان کا دوبارہ ٹیسٹ کرانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک سے واپس آنے والے اسرائیلی شہریوں کو مخصوص ہوٹلوں میں خود کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ان تمام لوگوں کی نگرانی کی جائے گی جن کا ’اومیکرون ٹسٹ مثبت آیا ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کو اسرائیل میں کورونا وائرس کے ’اومیکرون‘ ویرینٹ کا ایک کیس سامنے آیا ہے۔ کئی دیگر مشتبہ کیسز کی ٹیسٹ رپورٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے تصدیق زیر التواء ہے۔