اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 286

سپریم کورٹ نے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے کا دیا اشارہ

0
سپریم کورٹ نے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے کا دیا اشارہ
سپریم کورٹ نے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے کا دیا اشارہ

سپریم کورٹ نے ممبئی پولیس کے سابق کمشنر پرم بیر سنگھ پر مہاراشٹر میں درج مجرمانہ مقدمات کی جانچ مرکزی ایجنسی’ سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن سے کرانے کا پیر کو اشارہ دیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ممبئی پولیس کے سابق کمشنر پرم بیر سنگھ پر مہاراشٹر میں درج مجرمانہ مقدمات کی جانچ مرکزی ایجنسی’ سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) سے کرانے کا پیر کو اشارہ دیا۔

جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بنچ نے سماعت کے دوران مہاراشٹر حکومت سے کہا کہ وہ مسٹر سنگھ کے خلاف درج مجرمانہ مقدمات کی جانچ جاری رکھیں، لیکن ان معاملوں میں چارج شیٹ داخل نہ کریں۔ عدالت عظمیٰ نے کسی مرکزی ایجنسی سے جانچ کرانے کا اشارہ دیتے ہوئے سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی) سے اپنا موقف رکھنے کو کہا ہے۔

مسٹر سنگھ نے خود پر عائد مجرمانہ معاملات کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی فریاد ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے کی تھی۔ ان کی عرضی کی بنیاد پر بنچ نے گزشتہ سماعت کے دوران مہاراشٹر اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے اپنا اپنا موقف عدالت کے روبرو رکھنے کی ہدایت دی تھی۔

مہاراشٹر حکومت نے مختلف الزامات اور قانونی پہلووں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر سنگھ پر عائد مجرمانہ الزامات کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی عرضی کی مخالفت کی ہے۔

سابق پولیس کمشنر نے مہاراشٹر کے اس وقت کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان سے ایک سو کروڑ روپے غیر قانونی طریقے سے ہر مہینے دینے کی مانگ کی تھی۔

مسٹر سنگھ پر ممبئی پولیس کمشنر کے عہدے پر رہتے ہوئے ایک ہوٹل تاجر سے لاکھوں روپے کی غیر قانونی وصولی کرنے سمیت کئی مجرمانہ معاملے ممبئی کے مختلف تھانوں میں درج ہیں۔

اراکین اسمبلی کی معطلی پر راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ، کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

0
اراکین اسمبلی کی معطلی پر راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ، کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی
اراکین اسمبلی کی معطلی پر راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ، کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے راجیہ سبھا میں 12 اراکین اسمبلی کی معطلی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست ہنگامہ کیا، اس کے بعد کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

نئی دہلی: کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے پیر کو راجیہ سبھا میں 12 اراکین اسمبلی کی معطلی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کردی گئی۔

صبح ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے بعد ہی اپوزیشن اراکین نے معطلی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ شروع کردیا جو پورے دن جاری رہا۔

اس دوران ایوان کی کارروائی چار مرتبہ ملتوی کی گئی۔ اراکین کے نعرے بازی کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے ناگالینڈ میں سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ کے بارے میں ایوان میں بیان دیا۔ قبل ازیں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے حکومت سے ناگالینڈ واقعہ پر بیان دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی صبح دو بار ملتوی کر دی گئی جس کے باعث وقفہ سوالات اور وقفہ صفر کا انعقاد نہ ہو سکا۔

کھانے کے وقفے کے بعد بھی اپوزیشن اراکین جانب سے ہنگامہ آرائی جاری رہی اور ایک بار کی کارروائی کے بعد ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی گئی۔

معطل اراکین کے بغیر ایوان چلانا جمہوری عمل میں جرم

اس سے پہلے جیسے ہی ایوان کی کارروائی 3 بجے شروع ہوئی، پریذائیڈنگ آفیسر سمیت پاترا نے مہنگائی کے مسئلہ پر مختصر مدت کے لیے بحث شروع کرنے کے لیے اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے کا نام پکارا۔ مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ پہلے ہی اپیل کر چکے ہیں کہ اپوزیشن کے 12 ممبران جو معطلی کی وجہ سے باہر بیٹھے ہیں انہیں ایوان میں بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان اراکین کے بغیر ایوان چلانا چاہتی ہے، یہ جمہوری عمل میں جرم ہے۔

مسٹر پاترا نے مسٹر کھڑگے سے بحث شروع کرنے کی اپیل کی لیکن اسی دوران کانگریس، عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس، راشٹریہ جنتا دل اور کچھ دیگر پارٹیوں کے اراکین ڈائس کے قریب آگئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔

دہلی میں اومیکرون کا پہلا معاملہ آیا سامنے

0
دہلی میں اومیکرون کا پہلا معاملہ آیا سامنے
دہلی میں اومیکرون کا پہلا معاملہ آیا سامنے

قومی راجدھانی میں 37 سالہ شخص کے اومیکرون ویریئنٹ سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ نئے معاملے کے ساتھ ہی ملک میں اومیکرون کے معاملات کی تعداد اب تک پانچ ہوگئی ہے۔

نئی دہلی: قومی راجدھانی میں حال ہی میں تنزانہ سے واپس آئے 37 سالہ شخص کے اومیکرون ویریئنٹ سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔

مسٹر جین نے یہاں آج یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ مریض کو لوک نائک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں دہلی حکومت کی طرف سے اومیکرون ویریئنٹ سے متاثر پائے جانے والوں کے لئے نوڈل سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریض دو دسمبر کو دہلی واپس آیا تھا اور اس میں بیماری کی ہلکی علامات نظر آئی ہیں۔ مریض کا اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کووڈ۔ 19 ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ اس کی رپورٹ پازیٹیو آنے کے بعد اسے اسپتال میں منتقل کردیا گیا اور اس کا نمونہ دہلی میں ایک آئی این ایس اے سی او جی لیباریٹری میں بھیجا گیا۔

ایک سینئر افسر نے کہا کہ آج آئی ان کی جینوم کی رپورٹ میں اومیکرون ویرئینٹ سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکام نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 17 مسافروں نے مرکز کے نامزد ’خطرے والے‘ ممالک کا سفر کیا ہے۔ انہیں کووڈ سے متاثر پائے جانے کے بعد لوک نائک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

نئے معاملے کے ساتھ ہی ملک میں اومیکرون کے معاملات کی تعداد اب تک پانچ ہوگئی ہے۔ اس معاملے میں دہلی تیسرے نمبر پر ہے۔ پہلے دو اومیکرون کے معاملے بنگلورو سے سامنے آئے تھے۔ تیسرا گجرات کے جام نگر کا اور چوتھا مہاراشٹر کے ڈومبی ولی میں سامنے آیا تھا۔

ناگالینڈ: تصادم میں 10 شہری ہلاک، ایک جوان شہید، ایس آئی ٹی کی تشکیل

0

ناگالینڈ کے مون ضلع کے اوٹنگ گاؤں میں سیکیورٹی فورسز کی مہم کے دوران 10 شہری ہلاک جب کہ ایک جوان کی موت ہوگئی۔

کوہیما/ نئی دہلی: ناگالینڈ کے مون ضلع کے اوٹنگ گاؤں میں سیکیورٹی فورسز کی مہم کے دوران 10 شہری ہلاک جب کہ ایک جوان کی موت ہوگئی۔

ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے واقعہ کو افسوسناک بتاتے ہوئے اس کی جانچ کے لیے خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

فوج نے ایک بیان جاری کرکے واقعہ پر ’گہرے رنج و غم‘ کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اس واقعہ پر اظہار تاسف کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

شہریوں کی اموات کی تعداد کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم سیکیورٹی فورسز کے مطابق مبینہ طور پر کم سے کم دس افراد کی موت ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز مون ضلع کے تیزت سب ڈویزن کے لونگ کھاؤ علاقہ کے اوٹنگ گاؤں میں سنیچر کو شام چار بجے این ایس سی این (کے) کے مشتبہ زیر زمیں تخریب کاروں کو تلاش کررہی تھی۔ تاہم واقعہ کی اطلاع اتوار کو موصول ہوئی۔ اس واقعہ میں کم سے کم 20 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ 14 شہری لاپتہ ہیں اور فوج کے جوان دیر رات تک لاشوں کو لے جاتے دیکھے گئے تھے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق مون ضلع انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر پورے ضلع میں انٹرنیٹ سروس پر روک لگادی ہے۔

ملک میں کورونا ویکسینیشن کی تعداد 127 کروڑ سے متجاوز

0
ملک میں کورونا ویکسینیشن کی تعداد 127 کروڑ سے متجاوز
ملک میں کورونا ویکسینیشن کی تعداد 127 کروڑ سے متجاوز

کووڈ ویکسینیشن مہم کے تحت گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی ہے۔

نئی دہلی: کووڈ ویکسینیشن مہم کے تحت گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کل ویکسینیشن 127.61 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے اتوار کو یہاں بتایا کہ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک کروڑ چار لاکھ 18 ہزار 707 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آج صبح 7 بجے تک 127 کروڑ 61 لاکھ 83 ہزار 65 کووڈ ویکسین دی گئی ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ کے 8895 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس وقت ملک میں 99 ہزار 151 کووڈ مریض زیر علاج ہیں۔ یہ متاثرہ کیسز کا 0.29 فیصد ہے۔ یومیہ کیسز کی شرح 0.73 فیصد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6918 کووڈ مریض صحت مند ہوئے ہیں۔ اب تک تین کروڑ 40 لاکھ 60 ہزار 774 افراد جان لیوا وبا سے شفایاب ہو چکے ہیں۔ ملک میں کورونا سے شفایابی کی شرح 98.35 فیصد ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کل 12 لاکھ 26 ہزار 64 کووڈ ٹسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں کل 64 کروڑ 72 لاکھ 52 ہزار 850 کووڈ ٹسٹ کیے جاچکے ہیں۔

اسرائیلی جیل سے 7 سال بعد رہا ہونے والی فلسطینی لڑکی کا پرجوش استقبال

0
اسرائیلی جیل سے 7 سال بعد رہا ہونے والی فلسطینی لڑکی کا پرجوش استقبال
اسرائیلی جیل سے 7 سال بعد رہا ہونے والی فلسطینی لڑکی کا پرجوش استقبال

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلسطین کی جواں عمر لڑکی امل طاقتا کو 7 برس قبل اسرائیلی فوج نے حماس کی معاونت سمیت دیگر سنگین جرائم کے الزام میں گرفتار کیا۔

یروشلم: اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی لڑکی کو بے گناہ ہونے پر 7 سال بعد جیل سے رہا کردیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلسطین کی جواں عمر لڑکی امل طاقتا کو 7 برس قبل اسرائیلی فوج نے حماس کی معاونت سمیت دیگر سنگین جرائم کے الزام میں گرفتار کیا۔

اسرائیلی فوج نے مقدمہ درج کر کے امل کو جیل بھیجا اور اُسے قید کر کے رکھا مگر اب اُسے بے گناہ قرار دیتے ہوئے 7 سال بعد رہا کردیا گیا ہے۔

غزہ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امل طاقتا فلسطین کی وہ واحد خاتون ہیں جنہوں نے اتنا طویل عرصہ جیل میں گزارا اور پھر بے گناہی پر رہائی حاصل کی۔ امل کی رہائی پر انہیں اہل خانہ جیل سے لینے کے لیے آئے اور انہیں گاڑی میں گھر منتقل کیا۔

جیل کے باہر فلسطینیوں سڑک کے دونوں اطراف کھڑے رہے جنہوں نے امل کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی اور اُن کا ولولہ انگیز نعروں سے استقبال کیا اور خوشی میں آتشبازی بھی کی۔

اپنے حق میں باہر نکلنے والوں سے گفتگو کرتے ہوئے طاقتا نے کہا کہ وہ فلسطین کی حقِ خودارادیت اور اسرائیلی مظالم کے خلاف جدوجہد کو ہر صورت جاری رکھیں گی۔

کورونا کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون کا حل ’ویکسین‘ ہے ’لاک ڈاؤن‘ نہیں: عالمی ادارہ صحت

0
کورونا کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون کا حل ’ویکسین‘ ہے ’لاک ڈاؤن‘ نہیں: عالمی ادارہ صحت
کورونا کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون کا حل ’ویکسین‘ ہے ’لاک ڈاؤن‘ نہیں: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کا حل لاک ڈاؤن نہیں ویکسین ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر ملک کو اس سال کے آخر تک اپنی 40 فیصد آبادی کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دینی چاہیے۔

جینیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کا حل لاک ڈاؤن نہیں ویکسین ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر ملک کو اس سال کے آخر تک اپنی 40 فیصد آبادی کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دینی چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے مشیر ڈاکٹر پیٹر سنگر ایک انٹرویو میں کہا کہ کورونا کی نئی تبدیل شدہ شکل ’اومیکرون‘ کی شدت کو جاننے کے لیے“ہفتوں کی ضرورت ہے” اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کورونا وائرس نئی “ویک اپ کال ہو سکتی ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسینیشن کورونا کی تمام شکلوں کو ختم کرنے کا حل ہے، لاک ڈاؤن اومیکرون کا مقابلہ کرنے کا حل نہیں ہے۔

اسی تناظر میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے کہا کہ بوٹسوانا اور جنوبی افریقہ کی طرف سے اومیکرون کی فوری نشاندہی اور ابتدائی رپورٹنگ نے “دنیا کو وقت دیا ہے” کہ وہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرے۔

ڈاکٹر پیٹر نے کہا کہ کورونا کی نئی شکل کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں ہیں یہ زیادہ متعدی ہوسکتا ہے، صحت کے حکام کو شبہ ہے کہ آیا یہ زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس موقع ہے لیکن ہمیں تیزی سے کام کرنا چاہیے اور پتا لگانے اور روک تھام کے اقدامات کو تیز کرنا چاہیے۔

پرینکا نے بھی حکومت سے کورونا متاثرین کو فوری معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا

0
پرینکا نے بھی حکومت سے کورونا متاثرین کو فوری معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا
پرینکا نے بھی حکومت سے کورونا متاثرین کو فوری معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے بعد اب پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی حکومت سے متاثرین کو فوری معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کے کووڈ سے مرنے والوں کے لواحقین کو معاوضہ دینے کے مطالبے کے بعد اب پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی حکومت سے کورونا متاثرین کو فوری معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتر پردیش کے کانگریس جنرل سکریٹری انچارج نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت کو متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش آنا چاہئے اور ان کے درد کو سمجھنا چاہئے، انہیں فوری طور پر 4 لاکھ روپے کا معاوضہ دینا چاہئے۔

محترمہ واڈرا نے ٹویٹ کیا کہ "بی جے پی حکومت نے نہ تو کورونا سے ہونے والی اموات کے صحیح اعداد و شمار جاری کیے ہیں اور نہ ہی مرنے والوں کے لواحقین کو کوئی معاوضہ دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جی کروڑوں ہندوستانیوں کے درد اور جذبات کو بے حسی کے جوتے تلے نہ کچلیں۔ مرنے والوں کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے۔”

واضح رہے کہ مسٹر راہل گاندھی نے کل یہاں پریس کانفرنس کرکے حکومت سے کورونا متاثرین کے لواحقین کو فوری مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور آج محترمہ پرینکا واڈرا نے اس مطالبے کو آگے بڑھاتے ہوئے حکومت پر کورونا سے متاثرین کی مدد نہ کرنے کا الزام لگایا۔

کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں: ڈبلیو ایچ او

0
کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں: ڈبلیو ایچ او
کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں: ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ ہمیں نئے ورینٹ سے گھبرانے کے بجائے اس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بچاؤ کی مؤثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

جینوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ادارے کی چیف سائنٹسٹ سوامیا سوامی ناتھن کے مطابق اگرچہ یہ درست ہے کہ اومیکرون تیزی سے پھیلنے والا ویرینٹ ہے، تاہم لوگوں کو اس سے گھبرانا نہیں چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کورونا ویکسین میں تبدیلیاں کرکے اسے اومیکرون کے خلاف مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے‘‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال اس بارے میں بھی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی کہ اومیکرون کتنا اور کس حد تک پھیلے گا۔ ہمیں نئے ورینٹ سے گھبرانے کے بجائے اس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بچاؤ کی مؤثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اب تک ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ، یوروپ اور امریکہ میں کورونا وائرس کے نئے ’اومیکرون ویرینٹ‘ کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مزید ملکوں میں بھی پھیلتا جارہا ہے۔

بنگال کے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کا وزیر اعظم سے سی اے اے کے قواعد بنا کر قانون کو جلد نافذ کرنے کا مطالبہ

0
بنگال کے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کا وزیر اعظم سے سی اے اے کے قواعد بنا کر قانون کو جلد نافذ کرنے کا مطالبہ
بنگال کے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کا وزیر اعظم سے سی اے اے کے قواعد بنا کر قانون کو جلد نافذ کرنے کا مطالبہ

مغربی بنگال کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے سی اے اے کے قواعد کو وضع کرنے اور اس قانون کو جلد از جلد نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے وزیر اعظم سے پارلیمنٹ میں ملاقات کی۔

نئی دہلی: مغربی بنگال کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمنٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے قواعد کو وضع کرنے اور اس قانون کو جلد از جلد نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے پارلیمنٹ میں ملاقات کی۔

مسٹر مودی سے ملاقات کے بعد مغربی بنگال بی جے پی صدر اور ایم پی سوکانتا مجمدار نے کہا کہ ریاست کے تقریباً سبھی بی جے پی ممبران پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور انتخابات کے بعد مغربی بنگال میں مسلسل پرتشدد واقعات کے بارے میں بتایا۔ ہم نے ان سے عدالت کے حکم پر سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات میں تیزی لانے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی ممبران پارلیمنٹ کے وفد نے مسٹر مودی کو ریاست میں مرکزی اسکیموں کے نفاذ میں ہونے والی بدعنوانی اور ریاستی حکومت میں ہونے والی تمام بھرتیوں میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی فلاحی اسکیموں کے لیے جو رقم بھیجی جا رہی ہے وہ ترنمول کانگریس کے کارکنوں میں تقسیم کی جا رہی ہے۔

مسٹر مجمدار نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے مغربی بنگال آنے کی بھی درخواست کی جسے انہوں نے قبول کیا اور جلد ہی ریاست کا دورہ کرنے کا یقین دلایا۔

بی جے پی کے ریاستی صدر نے محترمہ بنرجی اور صنعت کار گوتم اڈانی کی میٹنگ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ترنمول کے تمام لیڈران اور ممبران پارلیمنٹ جنہوں نے امبانی-اڈانی کی حکومت بتاکر بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا تھا، اب اپنا منہ کہاں چھپائیں گے۔