منگل, جولائی 7, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 282

اپوزیشن کا شدید ہنگامہ، راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی

0
اپوزیشن کا شدید ہنگامہ، راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی
اپوزیشن کا شدید ہنگامہ، راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی

اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی

نئی دہلی: اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

صبح ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھنے کے بعد اپوزیشن پارٹی کے راجیہ سبھا کے اراکین نے ضابطہ 267 کے تحت دیے گئے نوٹس کے بارے میں جاننا چاہا۔ سب سے پہلے کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے یہ معاملہ اٹھایا۔ اسی دوران کئی اراکین ایک ساتھ کھڑے ہو گئے اور اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے بھی کھڑے ہو گئے اور کچھ کہنا چاہا۔

چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ضابطہ 267 کے تحت دی گئی نوٹس کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ پہلے ایوان کی کارروائی چلنی چاہیے۔ ایوان کو چلانا ان کی ترجیح اور ذمہ داری ہے۔

مسٹر نائیڈو نے کہا کہ جمعہ کو انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے رہنماؤں کی میٹنگ کے بارے میں کہا تھا تاکہ ایوان کی کارروائی صحیح طریقے سے چل سکے۔ ارکان گزشتہ کئی دنوں سے اپوزیشن پارٹیوں کے 12 اراکین کی معطلی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کر رہے تھے۔

اس دوران اپوزیشن کے کچھ اراکین نے اپنے مطالبات کے پلے کارڈ دکھائے۔ چیئرمین نے اراکین سے درخواست کی کہ وہ ایسا نہ کریں اور ان سے کہا کہ وہ نظم و ضبط اور شائستگی کو برقرار رکھیں۔ بعد ازاں انہوں نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی۔

ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکا جا رہا ہے: سلمان خورشید

0
ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکا جا رہا ہے: سلمان خورشید
ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکا جا رہا ہے: سلمان خورشید

اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے خیال کے بارے میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے خبردار کیا کہ جو لوگ آئین کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ ملک میں ایک ایکٹ کے لئے دو الگ الگ قانون نہیں ہو سکتے

نئی دہلی: ہمیں جس کسی پر بھی ظلم ہوتا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ جو لوگ دستور کو نہیں مانتے اور اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں کیا اس میں ایک ہی معاملہ کے لئے دو الگ الگ قانون ہوسکتے ہیں۔ ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ اس پر سب کو غور اور تفکر کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے یہاں ساؤتھ ایشین مائنارٹیز لائرز ایسوسی ایشن (ساملا) کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے عالمی دن موقع پر منعقدہ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے نازی جرمنی کے شاعرکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اس پر عمل نہیں کیا تو کوئی بھی بچانے والا باقی نہیں رہے گا۔

ملک میں فرقہ وارانہ صف بندی

اس جلسہ میں ملک کے سرکردہ وکلاء اور دانشوروں نے جنوبی ایشیا کے ملکوں بالخصوص ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جارہے سلوک اور ظلم و ستم پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہوس اقتدار کی خاطر ملک میں جو فرقہ وارانہ صف بندی پیدا کی جارہی ہے، وہ ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے خطرناک مضمرات کی حامل ہے۔ اقلیت کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کے خیال کے حوالے سے کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے متنبہ کیا کہ جو لوگ دستور کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں انہیں سوچنا چاہیئے کہ ایک فعل کے لیے ملک میں دو الگ الگ قانون نہیں ہوسکتے۔

اس موقع پر پرشانت بھوشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں مشکوک بنانے کی مہم میں بی جے پی کا آئی ٹی سیل اور گودی میڈیا پیش پیش ہیں لیکن اس صورت حال سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے محلہ سطح پر ہر مقام پر ہارمونی کونسل قائم کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ رائے عامہ اب اس منافر گروہ کے خلاف ہوتی جارہی ہے۔

مسلمانوں اور سکھوں میں ذات برادری کا چلن باقی

بھوپیندر سنگھ سوری نے بھی مشورہ دیا کہ ہمیں آپس میں میل جول کو بڑھانا چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جان سکیں اور غلط فہمیاں دور کرسکیں۔ 1984 کے سانحہ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا تعلق بھی ایک اقلیتی فرقہ سے ہے اس لیے میں جانتا ہوں کہ اس ملک میں اقلیتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر خفگی کا اظہار کیا کہ مساوات کی تعلیم کے باوجود مسلمانوں اور سکھوں میں ذات برادری کا چلن باقی ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے اقلیتی حقوق کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے سارک ملکوں میں اقلیتوں کی صورت حال کا مفصل خاکہ پیش کیا۔ ان کے بقول اس خطہ کے ہر ملک میں غالب گروپ چاہتا ہے کہ وہاں کی اقلیتیں اس کی تہذیب و ثقافت اور مذہب کو اختیار کرے۔ بھوٹان، سری لنکا، پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، برما اور ہندوستان میں اقلیتوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم اس معاملے میں پاکستان اور بنگلہ دیشی حکومتوں کا رویہ قابل اطمینان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشاکش کے باعث سارک تنظیم موثر و فعال نہیں بن سکی ہے۔

ہندوستان سے مسلمانوں کی محبت جو غوری کے حملے سے بہت پہلے یہاں آباد ہو گئے تھے

0
ہندوستان سے مسلمانوں کی محبت جو غوری کے حملے سے بہت پہلے یہاں آباد ہو گئے تھے
ہندوستان سے مسلمانوں کی محبت جو غوری کے حملے سے بہت پہلے یہاں آباد ہو گئے تھے

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا تھا کہ مجھے ہندوستان سے خدائی خوشبو آتی ہے۔ حضرت علیؓ نے بھی ایک دفعہ فرمایا تھا کہ سب سے پاکیزہ اور خوشبودار جگہ ہندوستان ہے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ مسلمانوں نے ترکوں، عربوں اور وسط ایشیائی ممالک کی فوجوں سے بہت پہلے ہندوستان کو اپنا مسکن بنانا شروع کر دیا تھا۔ ہندوستان کو پسند کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ایک دفعہ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے ہندوستان کی طرف سے ربانی خوشبو آتی ہے۔ حضرت علیؓ نے بھی ایک دفعہ فرمایا تھا کہ سب سے پاکیزہ اور خوشبودار جگہ ہند ہے۔ ظاہر ہے کہ جس ملک کے بارے میں ایسی اچھی باتیں کسی نبی اور امام نے کہی ہوں تو وہاں کون نہیں رہنا چاہے گا۔

ابن قاصر نے فتوح السلاطین میں لکھا ہے کہ غوری کے حملوں سے پچاس سال پہلے بھی بنارس میں مسلمانوں کی آباد کاری کا ثبوت ملتا ہے۔ خلیق احمد نظامی کی تحقیق کے مطابق، اترپردیش میں بدایوں، بہرائچ، بلگرام اور اناؤ سمیت ایسی جگہیں ہیں، جہاں بہت سے مسلمانوں کے مقبرے غوری حملے کے زمانے کے ہیں۔ بہت سے صوفیوں کے مقبروں کے گدی نشینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد غوری کے حملوں سے بہت پہلے ہندوستان میں آباد ہو گئے تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت لاہور (غیرمنقسم ہندوستان کا شہر) میں داتا دربار نام کی درگاہ ہے۔ یہ اسی صوفی بزرگ کی درگاہ ہے جو گیارہویں صدی میں لاہور میں آباد ہوئے تھے، ان کا نام سید علی ہجویری تھا۔

لاہور کے ہندو ان کی بڑی عزت کرتے تھے اور پیار سے انہیں داتا گنج بخش کہنے لگے۔ ظاہر ہے کہ وہ جنگجو یا بادشاہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ ویسے بھی ہر آدمی مانے گا کہ ملک تلوار سے جیتے جا سکتے ہیں دل سے نہیں۔

غوری کے حملے مذہبی نہیں تھے

سید علی ہجویری حضرت محمدﷺ کے نواسے امام حسنؓ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کی درگاہ کو اب داتا دربار کہا جاتا ہے۔

خواجہ معین الدین چشتی (جنہیں خواجۂ اجمیر یا خواجہ غریب نواز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) جو ہندوستان میں سب سے بڑے صوفی بزرگ کا درجہ رکھتے ہیں، وہ بھی غوری کے حملے سے پہلے ہندوستان پہنچ چکے تھے۔

جب وہ ہندوستان آئے تو پہلے کچھ دن لاہور کے داتا دربار میں رہے، پھر پٹیالہ کے قریب سمانہ قصبے میں امام مشہد کی درگاہ پر گئے، اس کے بعد اجمیر کو اپنا مسکن بنایا۔ اجمیر میں آباد ہونے کے چند دن بعد، محمد غوری نے راجپوت بادشاہ پرتھوی راج چوہان کو شکست دی اور اس کی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ کچھ لوگ غوری اور پرتھوی راج چوہان کی لڑائی کو ہندو مسلم کی عینک سے دیکھتے ہیں لیکن اس میں مذہب کا کوئی حصہ نہیں تھا، یہ دو حکمرانوں کی جنگ تھی۔ اگر ہندو مذہب اور اسلام کی لڑائی تھی تو ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے حکمرانوں نے پرتھوی راج کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ اگر غوری اور پرتھوی راج کی لڑائی مذہب کی جنگ تھی تو کنوج اور وارانسی کے وسیع علاقے پر حکومت کرنے والے بادشاہ جے چند نے پرتھوی راج کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟

بادشاہ جے چند نے غوری کی حفاظت کے لیے پرتھوی راج چوہان کو دھوکہ دیا

کتاب کامل التوارخ میں لکھا ہے کہ راجہ جے چند کی ایک بہت بڑی فوج تھی جس کی بنیاد 10 لاکھ سپاہیوں اور 700 ہاتھیوں پر تھی، لیکن اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بادشاہ جے چند نے پرتھوی راج چوہان کو دھوکہ دیا اور غوری کو چھپا دیا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ غوری کی فتح کے بعد ہندوستان میں جو بھی حکومت قائم ہوئی اس نے اسلام کا نام نہیں لیا۔ کبھی غلام خاندان کی سلطنت بنی، کبھی تغلق، کبھی سید، کبھی لودھی اور کبھی مغلیہ سلطنت کے حکمران ہندوستان پر حکومت کرتے رہے لیکن کسی نے خود کو اسلامی یا مسلم سلطنت نہیں کہا۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ان حکمرانوں نے باہر کے لوگوں کے حملوں کی بھی بھرپور مزاحمت کی تھی۔ جب تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا تو تغلق خاندان سامنے آیا، جب بابر نے حملہ کیا تو لودھی خاندان سے ٹکرایا اور جب نادر شاہ نے حملہ کیا تو اودھ کے نواب برہان الملک نے مغل فوج کی طرف سے اس کا مقابلہ کیا۔

مسلم حکمرانوں نے ہندوستان کو ایک ملک میں متحد کر دیا، نہ کہ چھوٹی مملکتیں جیسا کہ یہ پہلے تھا

یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم حکمرانوں نے ہندوستان کو چھوٹی ریاستوں کے بجائے ایک وسیع ملک کی شکل دے کر برصغیر میں تبدیل کیا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان حکمران نے انگریزوں کی طرح اس ملک کو اپنا غلام بنا کر (اپنے ملک میں بیٹھ کر) حکومت نہیں کی بلکہ اس ملک کی زندگی کا حصہ بن کر یہیں آباد ہوگئے اور اسی مٹی میں دفن بھی ہوئے۔ جب بھارت پر باہر سے حملہ ہوا تو ان حکمرانوں نے اس ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں بھی داؤ پر لگا دیں۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

رام جنم بھومی ٹرسٹ کی تشکیل پر اکھاڑا پریشد کے صدر نے اٹھائے سوال

0

اکھاڑا پریشد کے صدر نے رام جنم بھومی ٹرسٹ کی تشکیل پر سوال کھڑا کرتے ہوئے تینوں اکھاڑوں کا مستقل نمائندگی دینے کی پرزور آواز اٹھائی ہے۔

اجودھیا: اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت روندر پری نے ’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ کی تشکیل پر سوال کھڑا کرتے ہوئے تینوں اکھاڑوں کا مستقل نمائندگی دینے کی پرزور آواز اٹھائی ہے۔

پری نے ہفتہ کو اجودھیا میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر رام مندر کے لئے جس ٹرسٹ کی تشکیل کی گئی اس میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا رام مندر تحریک سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا ہے۔ اس لئے ٹرسٹ میں تینوں اکھاڑوں کی بھی مستقل نمائندگی ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لئے اکھاڑا پریشد جلد ہی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کرے گا۔

متھرا میں کرشن جنم بھومی کے سلسلے میں چل رہے تنازع کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ جس طرح رام مندر کے معاملے میں آئینی فیصلہ ہوا ہے اسی طرح متھرا معاملے میں فیصلہ ہوگا‘۔ اور پھر ’اجودھیا کی طرح متھرا میں بھی شاندار انعقادات ہونگے‘۔

پری نے مزید کہا کہ ’جب بھی ملک میں مخالف حالات پیدا ہوئے ہیں تو سادھو۔سنتوں نے اپنے ’شاستروں‘ کے ذریعہ پہلے سمجھانے کی کوشش کی اور ضرورت پڑی تو اسلحے اٹھانے سے بھی گریز نہیں کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’رام مندر کی تعمیر کا جو کام جاری ہے اس کے لئے بھی ہمارے بزرگوں نے450 سال تک جدوجہد کی ہے‘۔

ہندوستان میں ہندو سلطنتیں علاقوں کی فتح کے لیے ایک دوسرے سے جنگیں کیں

0
ہندوستان میں ہندو سلطنتیں علاقوں کی فتح کے لیے ایک دوسرے سے جنگیں کیں
ہندوستان میں ہندو سلطنتیں علاقوں کی فتح کے لیے ایک دوسرے سے جنگیں کیں

مسلمان بادشاہ بھی اپنی سلطنتوں کی وسعت کے لیے ہندو بادشاہوں سے لڑتے رہے

اس وقت ہندوستان میں کوئی ایک ریاست ایسی نہیں تھی جب عرب، ترک، ایرانی اور وسط ایشیا کے دوسرے خطوں کے لوگ برصغیر پاک و ہند میں مسلسل ہجرت کر رہے تھے۔ اس سازش کے مختلف حصوں میں مختلف بادشاہ حکومت کر رہے تھے۔ سندھ اور بلوچستان ایک ریاست تھے، مالوا دوسری، کنیاکوبج (قنوج) اور وارانسی ایک ریاست اور راجپوتانہ دوسری ریاست تھی، جبکہ بنگال میں ایک علیحدہ خاندان حکومت کرتا تھا تو جنوبی حصے میں کچھ اور بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ کسی ریاست کو تھانیسر اور کسی ریاست کو متھرا کہا جاتا تھا۔ ان تمام ریاستوں کے بادشاہوں کے درمیان جنگیں بھی ہوئیں اور ایک دوسرے کی سلطنت پر قبضہ کرنے کا رواج بھی رہا۔

مسلم بادشاہ ہندو بادشاہوں سے مذہبی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی سلطنتوں کی توسیع کے لیے جنگیں کیں

ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اقتدار کی لالچ میں حکمران اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ انہیں اپنی سلطنت کی توسیع کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ واضح رہے کہ جب ایک ہندو راجہ نے کسی ہندو راجہ کی سلطنت پر حملہ کیا تو مذہب ان کے درمیان حائل نہیں ہوا۔ اسی طرح جو مسلمان بادشاہ اس وقت کے بادشاہوں پر حملہ آور تھے ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ انہیں صرف اپنی سلطنت کی توسیع سے مطلب تھا۔

اگر محمود غزنوی اور محمد غوری ہندوستان کے حکمرانوں پر حملے کر رہے تھے تو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ صرف دولت حاصل کرنے اور اپنی حکمرانی کا دائرہ بڑھانے کے لیے یہ حملے ہو رہے تھے۔

جو لوگ محمود غزنوی کے حملوں کو ہندو مسلم جنگ کہتے ہیں وہ اس حقیقت کو چھپاتے ہیں کہ محمود غزنوی نے اپنے ہی بھائی اسماعیل کو قتل کر کے ان سے سلطنت چھین لی تھی۔ اسماعیل کو اس کے والد سبکتگین نے اپنا جانشین قرار دیا لیکن محمود نے اپنے بڑے بھائی کو شکست دی اور غزنی پر قبضہ کر لیا۔

اسی طرح اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا کہ محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے مسلم ریاستوں کو تباہ کر دیا تھا؟ اگر وہ ہندوستان میں اسلام لا رہا تھا تو اس نے سیستان کے مسلمان حکمران خلف بن احمد کی سلطنت کو کیوں تباہ کیا؟ یوں ہی لوگ محمد غوری کے حملوں کو مسلمانوں کی آمد سے جوڑتے ہیں، جبکہ غوری نے ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے کتنے مسلمانوں کا خون بہایا اس کی داستان بھی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔

کیا انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر غور کے حکمران ابوالعباس کو قتل نہیں کیا تھا تاکہ غور کے علاقے پر قبضہ کر سکیں؟

کیا غوری نے اپنے حقیقی چچا سے جنگ نہیں کی تھی اور اپنے چچا کو شکست دے کر ہرات اور بلخ کے سلجوقی گورنر کو قتل نہیں کیا تھا؟

کیا محمد غوری نے ہرات اور پشانگ پر قبضہ نہیں کیا؟

کیا انہوں نے یہ ساری جنگیں اقتدار کے لیے نہیں بلکہ اسلام کے لیے کیں؟

دراصل ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں کے ساتھ نہیں بلکہ تاجروں، علمائے کرام اور صوفیاء و مشائخ کے ساتھ آیا تھا۔ حکومت ہند کی وزارت اطلاعات و نشریات کے پبلیکیشنز ڈویژن کی طرف سے 1964 میں شائع ہونے والے ایک پمفلٹ میں بھی یہی بات ان الفاظ میں لکھی گئی ہے کہ "ہندوستان میں اسلام کے اثرات اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی کہانی بارہ سو سال پہلے کے حملوں کا تذکرہ تو تاریخ میں ملتا ہے لیکن پرامن تحریکوں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔”

ہندوستان میں آنے والے پہلے مسلمان جنگجو نہیں تھے جو 712ء میں محمد بن قاسم کے حملے کے بعد آئے تھے۔ اس کے برعکس عرب ملاح اور تاجر تھے جو ان سے پہلے ہندوستان میں آکر کیرالہ کے ساحل پر آباد ہوئے تھے۔

ہندوستان میں آنے والے پہلے مسلمان مسقط اور ہرمز کے نو مسلم عرب تاجر تھے جو مالابار کے ساحل پر آباد ہوئے تھے۔ اس قول کی تائید مسٹر ایم پنیکر کی کتاب "ہسٹری آف کیرالا” سے بھی ہوتی ہے، لیکن حکومت ہند کا کوئی محکمہ یہ بات نہیں لکھتا۔

دلتوں نے اسلام کیسے قبول کیا

پروفیسر خلیق احمد نظامی نے دہلی سلطنت کے قیام کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "اگرچہ شمال کے راجپوتوں نے غزنوی حکمرانوں کے دور میں ترکوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کو روکنے کی بھرپور کوشش کی، مسلمان تاجروں، علمائے کرام، صوفیاء اور مشنریز بغیر کسی جنگ کے اس ملک میں داخل ہوتے رہے اور کئی اہم مقامات پر آباد ہو گئے۔” یہ لوگ عموماً دلتوں کی بستیوں میں رہنے لگے تھے، جس کی وجہ سے ہزاروں سال سے مظلوم دلت اسلام کے سائے میں آ گئے۔”

اگلے حصے میں ہم آپ کو ان صوفیوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے جنہوں نے غزنوی اور غوری کے حملوں سے بہت پہلے ہندوستان کو ہمیشہ کے لیے اپنا مسکن بنا لیا تھا۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

پیگاسس جاسوسی: سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے لوکور انکوائری کمیشن پر روک لگا دی

0
پیگاسس جاسوسی- سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے لوکور انکوائری کمیشن پر روک لگا دی

ججوں کی پتہ نے ریاستی حکومت کی طرف سے جسٹس مدن بی۔ لوکور کی صدارت میں تشکیل دی گئی پیگاسس جاسوسی ویواد جانچ ایوگ کے کامکاز پرتتکال روک لگا دی۔

نئی دہلی،: سپریم کورٹ نے ‘پیگاسس’ جاسوسی تنازعہ کی تحقیقات کے لیے مغربی بنگال حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جمعہ کو اس کے کام پر روک لگا دی۔

جسٹس این۔ وی۔ رمنا اور جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی کی بنچ نے ریاستی حکومت کے ذریعہ جسٹس مدن بی۔

لوکور کی صدارت میں تشکیل دیے گئے کمیشن آف انکوائری کے کام پر فوری طور پر روک دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بنچ نے لوکور کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔

درخواست گزار رضاکارانہ تنظیم ‘گلوبل ولیج فاؤنڈیشن چیریٹیبل ٹرسٹ’ اور دیگر کی طرف سے مفاد عامہ کی عرضیوں کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے نوٹس جاری کیا۔

غیر سرکاری تنظیم نے سپریم کورٹ سے ریاستی حکومت کی طرف سے قائم کردہ کمیشن کے کام پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے 27 اکتوبر کو ایک آزاد ماہر کمیٹی تشکیل دی تھی۔

ایسے میں ریاستی حکومت کی جانب سے اسی معاملے کی تحقیقات کے لیے الگ کمیشن تشکیل دینا ناانصافی ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کی نمائندگی کررہے ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی سے کہا کہ ریاستی حکومت نے زبانی وعدہ کیا تھا کہ وہ الگ کمیشن نہیں بنائے گی۔

اس کے باوجود حکومت کی جانب سے ایک کمیشن بنایا گیا اور کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔ اس پر مسٹر سنگھوی نے کہا کہ حکومت اس کمیشن کے کام میں مداخلت نہیں کر رہی ہے۔

بنچ نے مغربی بنگال کے استدلال کو مسترد کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا اور اس سے کہا کہ وہ کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کے ساتھ اس کے کام کاج پر روک لگا کر جواب دے۔

مسلمان باہر سے بھارت آئے جبکہ دلتوں نے اسلام قبول کرلیا؟

0
مسلمان باہر سے بھارت آئے جبکہ دلتوں نے اسلام قبول کرلیا؟
مسلمان باہر سے بھارت آئے جبکہ دلتوں نے اسلام قبول کرلیا؟

بوہرہ، سید، پٹھان، مرزا، مغل، صدیقی، فاروقی، عثمانی اور انصاری تقریبا سبھی عرب، عراق، ایران، ترکی اور افغانستان سے آئے تھے جبکہ ذات پات کے نظام سے بچنے کے لئے دلتوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا۔

جیسا کہ میں نے پہلی قسطوں میں ذکر کیا ہے کہ شمالی ہند کے مسلمان زمینی راستوں سے پرامن طور پر ساحلی علاقوں میں بحری جہازوں کے ذریعے آ رہے تھے اور ہندوستان میں ان کی آمد غوری اور غزنوی کے حملوں سے بہت پہلے شروع ہو گئی تھی۔ اس سلسلے میں بوہرہ برادری کے بارے میں کچھ معلومات شیئر کرنا ضروری ہے۔

اسماعیلی مسلمان اور بوہرہ طبقہ

دسویں صدی میں ہندوستان کو اپنا مسکن بنانے والوں میں اسماعیلی مسلمان بھی شامل ہیں۔ اب ہم سب انہیں بوہرہ طبقہ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ لوگ شیعہ طبقے کا حصہ تھے لیکن شیعوں کے چھٹے امام حضرت جعفر صادق کی شہادت (765 عیسوی) کے بعد ان کے بیٹوں کی جانشینی پر شیعہ برادری میں اختلافات ہوگئے۔ حضرت اسماعیل اور حضرت موسیٰ کاظم کی وجہ سے ایک نیا طبقہ وجود میں آیا جسے اسماعیلی کہا گیا۔ اس طبقے کے لوگوں کو اتنی طاقت ملی کہ ان لوگوں نے 909ء سے 1171ء تک مصر سمیت افریقہ کے بڑے حصوں پر حکومت کی جسے تاریخ میں فاطمی سلطنت کہا جاتا ہے۔

اسماعیلی طبقے کے لوگ ہندوستان بہت آتے تھے، وہ عرب کے ساتھ تجارت کے لئے گجرات کی بندرگاہوں پر اترتے تھے۔ یہ لوگ بھی دسویں صدی میں ہندوستان میں رہنے لگے اور گجرات کے شہر سورت کو اپنا مرکز بنایا۔

غوری کے تصادم سے 200 سال قبل مسلمانوں نے ہندوستان کو اپنا مسکن بنایا

تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بوہرہ طبقے کے 26ویں مذہبی رہنما داؤد بن عجب شاہ کا انتقال 997ء میں ہوا، اس کے بعد ان کے جانشین برہان الدین قطب شاہ جو ہندوستان میں مقیم تھے، بوہرہ برادری کے 27ویں مذہبی رہنما بنے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان غوری اور پرتھوی راج چوہان کے تصادم سے 200 سال پہلے ہندوستان کو اپنا گھر بنا چکے تھے۔ 1171ء میں جب فاطمی سلطنت کا خاتمہ ہوا تو اس کے بعد بوہرہ طبقے کو مصر اور افریقی ممالک سے ہجرت کرنی پڑی اور اسماعیلی طبقے کو ہندوستان میں ووہرہ (سوداگر) کا نام ملا جو بعد میں بوہرہ کہلایا۔

بوہرہ طبقہ نے کسی بھی ہندو کا تبدیلیٔ مذہب نہیں کرایا

بوہرہ طبقے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ لوگ کسی کو اپنے مذہب میں شامل نہیں ہونے دیتے تھے۔ کوئی بھی شخص اپنا مذہب تبدیل کرکے بوہرہ طبقے میں شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ اپنے آپ میں ایک دلیل ہے کہ بہت سے مسلمان ہندوستان آئے لیکن انہوں نے کسی کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا۔

غیر انسانی ذات پات کے نظام سے بچنے کے لیے دلتوں نے اسلام قبول کیا

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ سنگھ پریوار کی طرف سے مسلسل کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کا ڈی این اے ایک ہی ہے اور سب ایک ہی آباؤ اجداد کی اولاد ہیں، لیکن اس بیان کے پیچھے جو نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ تمام مسلمانوں پر یہ لیبل لگایا جاتا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد نے اپنا مذہب تبدیل کیا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بوہروں کے علاوہ سید، پٹھان، مرزا، مغل، صدیقی، فاروقی، عثمانی اور انصاری ان میں سے تقریبا سبھی عرب، عراق، ایران، ترکی اور افغانستان سے آئے ہیں۔
ہاں ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا ڈی این اے اس نسل انسانی کے حوالے سے ایک جیسا ہے جو حضرت نوح (جسے ہندوستان میں منو کہا جاتا ہے) کے طوفان سے بچانے کے بعد دوبارہ آباد ہوا تھا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے ہندوستانیوں نے اسلام قبول کیا اور ان میں سے زیادہ تر دلت تھے، کیونکہ اس وقت پسماندہ طبقات کی حالت اتنی قابل رحم تھی کہ انہیں ہندو یا انسان بھی نہیں سمجھا جاتا تھا، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں دلتوں نے اسلام قبول کیاتھا۔ ظاہر ہے کہ انہیں مسلمانوں نے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ سماجی امتیاز نے انہیں مجبور کیا تھا۔

دستور ہند نے دلتوں کو ان کا حق دیا

یہ خوشی کی بات ہے کہ دلتوں کی اہمیت کو سیاسی جماعتوں اور اعلیٰ طبقے کے لیڈروں نے جمہوریت کے آنے کے بعد سمجھا اور آئین ہند میں بھی بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی کوششوں سے ان کے ساتھ امتیازی سلوک میں کمی آئی۔ بہت حد تک انہیں شہری حقوق بھی ملے اور معاشرے میں بھی ان کے بہت سے لوگ سر اٹھا کر جینے کا موقعہ ملا۔

خیر ان باتوں کو ایک طرف چھوڑ کر ہم اپنے مسئلے کی طرف لوٹتے ہوئے وہ باتیں آپ کے سامنے رکھتے ہیں کہ ملک میں تلخی نہیں پھیلنی چاہئے بلکہ آپسی پیار محبت کو فروغ ملنا چاہئے۔ اگلے حصے میں بھی ہم اس موضوع پر کچھ اہم شواہد پیش کریں گے اور بتائیں گے کہ مسلمانوں کو اس ملک سے اتنی محبت کیوں ہوئی کہ وہ اپنی سرزمین چھوڑ کر اس خوبصورت ملک کو اپنا مسکن بنانے لگے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

ملک بھر میں بینکوں کی نجکاری کے خلاف دو روزہ ہڑتال، خدمات متاثر: اے آئی بی ای اے

0
ملک بھر میں بینکوں کی نجکاری کے خلاف دو روزہ ہڑتال، خدمات متاثر: اے آئی بی ای اے
ملک بھر میں بینکوں کی نجکاری کے خلاف دو روزہ ہڑتال، خدمات متاثر: اے آئی بی ای اے

بینک ملازمین، افسران اور منیجرز مرکزی حکومت کے پبلک سیکٹر کے بینکوں (پی ایس بی) کی نجکاری اور بینکنگ لاز (ترمیمی) بل کو متعارف کرانے کے قدم کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔

حیدرآباد: پرائیویٹائزیشن کے خلاف یونین فورم آف بینک یونینس (یو ایف بی آئی) کی کال پر جمعرات سے ملک بھر کے بینکوں کی دو روزہ ہڑتال شروع ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے بینکوں کا کام کاج متاثر ہوا ہے۔

بینک ملازمین، افسران اور منیجرز مرکزی حکومت کے پبلک سیکٹر کے بینکوں (پی ایس بی) کی نجکاری اور بینکنگ لاز (ترمیمی) بل کو متعارف کرانے کے قدم کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔ حکومت اس بل کو پارلیمنٹ کے رواں اجلاس میں پیش کرنے والی ہے۔

آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے) کے جنرل سکریٹری سی وینکٹ چلم نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل حکومت کو پبلک سیکٹر کے بینکوں میں ان کی ایکویٹی کیپٹل کو 51 فیصد تک کم کرنے کا اہل بنائے گا اور پرائیویٹ سیکٹر کو بینکوں پر قبضہ کرنے کی اجازت دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مختلف ریاستوں سے ہمیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہڑتال کامیابی سے شروع ہوئی ہے اور ملازمین اور افسران جوش و خروش کے ساتھ ہڑتال میں شامل ہو رہے ہیں۔

بینک ملازمین کا ماننا ہے کہ بینکوں کی نجکاری ان کی ملازمتوں، ملازمتوں کے تحفظ اور مستقبل کے امکانات کو متاثر کرنے کے علاوہ ملک، معیشت اور عوام کے مفاد میں نہیں ہوگی۔

بینکوں میں ہڑتال کی وجہ سے بینکنگ لین دین متاثر ہوا ہے۔ بینکوں کی بیشتر شاخیں بند ہیں۔ لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے اور کئی جگہوں پر اے ٹی ایم میں پیسے نہیں ہیں۔

حسینی برہمن: سنیل دت خاندان کا حضرت امام حسین سے تعلق کی دلچسپ تاریخی حقیقت

0
حسینی برہمن: سنیل دت خاندان کا حضرت امام حسین سے تعلق کی دلچسپ تاریخی حقیقت
حسینی برہمن: سنیل دت خاندان کا حضرت امام حسین سے تعلق کی دلچسپ تاریخی حقیقت

راہب دت کے خاندان کے حوالے سے مشہور فلم ادکار سنیل دت بے حد احترام کے ساتھ اپنا اور اپنے آباؤ اجداد کا امام حسین سے عقیدت کا اظہار کرتے تھے۔

ہم آپ کو پچھلے حصوں میں بتا چکے ہیں کہ ہندوستان اور عرب ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات اسلام کے عروج سے بھی پہلے قائم تھے اور اسلام کے عروج کے بعد یہ تعلقات مزید قریب تر ہوتے گئے۔ ہندوستان کے تاجر وہاں جاتے تھے اور عرب سے تاجر یہاں آتے تھے۔ اسی سلسلے میں ہندوستان کے پنجاب کے علاقے کے برہمن خاندان کے تاجر حضرت محمد ﷺ کے عہد میں مدینہ شہر گئے۔ ان تاجروں کا سردار راہب دت نام کا ایک ہندوستانی شخص تھا۔

راہب دت کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ ایک دن وہ حضرت محمد ﷺ کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ ﷺ ان کو بیٹا ہونے کے لئے دعا فرمائیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت محمد نے اپنے نواسے حضرت امام حسین جوکہ پاس ہی کھیل رہے تھے ہ راہب دت کے لئے دعا کرنے کو کہا۔ اس کے بعد امام حسین نے اپنے ننھے ہاتھوں کو اٹھا کر دعا مانگی، اور پھر راہب دت کو بیٹا ہوا۔ اس معجزے کے بعد دت خاندان نے خود کو حسینی برہمن کہنا شروع کر دیا۔

680ء میں کربلا کے میدان میں جب امام حسین کے محاصرے اور شہید ہونے کی خبر ملی تو ہندوستان سے حسینی برہمنوں کی 700 سپاہیوں کی ایک فوج عراق کی طرف روانہ ہوئی اور ان بہادر مجاہدین نے حضرت مختار بن ابی عبید ثقفی کی فوج کو شکست دی۔ فوج نے یزید کے ان سپاہیوں (جنہوں نے حضرت امام حسین اور ان کے خاندان کے افراد کو ستایا تھا) کو چن چن کر قتل کرنے میں حضرت مختار کا ساتھ دیا اور ان کی مدد کی۔ عراق سے واپس آنے کے بعد ان لوگوں نے محرم کے دنوں میں امام حسینؑ کی یاد میں مجالس اور لنگر وغیرہ کا اہتمام شروع کیا جو آج تک دت خاندان کے لوگ کرتے ہیں۔

سنیل دت اور راہب دت کا حضرت امام حسین کے ساتھ تعلق

مشہور فلم اداکار سنیل دت کا تعلق بھی راہب دت کے خاندان سے تھا، وہ کئی مواقع پر اپنے اور اپنے آباؤ اجداد کے لئے امام حسین کا ذکر کیا کرتے تھے۔ ہمارا ملک جن اعلیٰ روایات کے لیے مشہور ہے، حسینی برہمنوں کی طرف سے امام حسین کی یاد میں منعقدہ تقریب اس کی بہترین مثال ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دت خاندان کے لوگوں نے اپنا مذہب نہیں چھوڑا اور ہندو ہوتے ہوئے دنیا کو بتا دیا کہ انسانیت مذہب کا عظیم حصہ ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ یزید کی فوج مسلمانوں پر مبنی تھی پھر بھی اسے اپنے ہی نبی کی آل پر ظلم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوئی کیونکہ اس کے لئے مذہب سے زیادہ طاقت اہم تھی جب کہ حسینی برہمنوں کا مذہب الگ تھا لیکن انہوں نے سچائی پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہندوستان میں پناہ لینے والے عربوں اور ایرانیوں کی ہجرت

بنو امیہ کے اقتدار کے آخری چند سالوں میں بنو عباس نامی قبیلے نے ان کے خلاف جنگ شروع کر دی جس کی وجہ سے پورے ملک میں بدامنی پھیل گئی اور عام شہری ملک چھوڑ کر قریبی ممالک میں پناہ لینے لگے۔ بنو عباس نے 750ء میں بنو امیہ کو اقتدار سے معزول کردیا۔

جب بنو عباس نے اپنی حکومت قائم کی تو انہوں نے بھی اپنے مخالفین پر بہت مظالم کئے جس کی وجہ سے عرب اور ایران سے مسلمانوں کی بڑی تعداد ہندوستان میں پناہ لینے کے لئے آنے لگی۔

چونکہ ہندوستان میں مختلف ریاستیں تھیں اس لئے ہر حکمران مقامی طور پر اپنے علاقے میں آباد ہونے والوں پر نظر رکھتا تھا۔ پرامن طریقے سے ملک میں آنے والوں سے کسی حکمران کو کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

جب پیغمبر اسلام کی اولاد اور شیعہ طبقے کے آٹھویں امام حضرت علی رضا کو عباسی سلطنت کے دور میں زہر دیا گیا تو ان کے ایک بیٹے حضرت علی ولی اپنے خاندان کے ساتھ شروع میں ایران کے شہر مشہد سے فرار ہوگئے۔ 9ویں صدی میں ہندوستان آئے اور پٹیالہ کے قریب ایک گاؤں میں رہے۔ پٹیالہ اس وقت تھانیسر کے بادشاہ کے ماتحت تھا، بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو یہ معلوم کرنے کے لئے بھیجا کہ کون آیا ہے، تو سپاہیوں نے بتایا کہ ایران سے کچھ مہاجرین آئے ہیں، ان کے ساتھ خواتین اور بچے بھی ہیں۔ اس کے بعد تھانیسر کے حکمران نے انہیں وہاں رہنے کی اجازت دے دی، جس کے بعد وہ آس پاس کے لوگوں سے زمین خرید کر وہاں رہنے لگے اور ایک نیا گاؤں قائم کیا جس کا نام انہوں نے اپنی والدہ حضرت سمانہ کے نام پر رکھا (سمانہ پٹیالہ سے 28 کلومیٹر دور واقع ہے)۔

سمانہ کی درگاہ حضرت علی ولی

خاص بات یہ ہے کہ 1947 کے فسادات کے بعد سمانہ میں کوئی مسلمان نہیں بچا، سب یا تو پاکستان چلے گئے یا مارے گئے، لیکن وہاں کے ہندو اور سکھ پورے پچاس سال تک درگاہ حضرت علی ولی کی دیکھ بھال کرتے رہے اور پھر 2003 میں یہ درگاہ مسلم وقف بورڈ پنجاب کے حوالے کر دی گئی، جہاں اب بھی مجالس اور محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔

حضرت علی ولی کا مزار ان لوگوں کو بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام بیرونی حملہ آوروں کے ساتھ آیا۔ ہمارا ماننا ہے کہ ہندوستان میں اسلام کو وہ لوگ اپنے ساتھ لے کر آئے جن لوگوں نے پر امن طریقے سے یہاں آکر رہائش اختیار کی اور اس عظیم ملک کو اپنا گھر سمجھ کر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ ویسے بھی ان دنوں ہجرت بہت آسان تھی کیونکہ کسی بھی ملک میں داخلے کے لئے ویزا اور پاسپورٹ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اسی وجہ سے مسلمان ہندوستان میں آباد ہوتے گئے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

شہریت ترمیمی قانون اور اس کے خلاف تحریک کے دو سال بعد کیا اب یہ قانون واپس ہوگا؟

0
شہریت ترمیمی قانون اور اس کے خلاف تحریک کے دو سال بعد کیا اب یہ قانون واپس ہوگا؟
شہریت ترمیمی قانون اور اس کے خلاف تحریک کے دو سال بعد کیا اب یہ قانون واپس ہوگا؟

زرعی قوانین کی واپسی سے یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ اسی لئے کسانوں کو اتنی لمبی تحریک چلانی پڑی۔ اسی طرح شہریت ترمیمی قانون بھی حکومت کا ایک غلط فیصلہ ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت جلد یا بدیر اسے واپس لے کر ملک کی اقدار و روایات اور قانون کی بالا دستی کو قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔

ڈاکٹر یامین انصاری

شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کے خلاف احتجاج کو دو سال مکمل ہو گئے۔اس احتجاج کا سلسلہ اگرچہ شمال مشرقی ریاستوں سے شروع ہوا، لیکن بعد میں مختلف سماجی تنظیموں اور یونیورسٹیوں سے ہوتا ہوا احتجاج کا یہ سلسلہ ’شاہین باغ‘ تک پہنچا۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی یہ منفرد تحریک کورونا کی وبا کے سبب اگرچہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکی، مگر آئین کے تحفظ اور ہندوستانی اقدار و روایات کی بقا کے لئے چلائی جانے والی اس تحریک نے اپنے حقوق کی حصولیابی کے لئے جدو جہد کے نئے راستے کھول دئے۔

’شاہین باغ تحریک‘ کو بدنام کرنے اور ختم کرنے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کئے گئے، ظلم و بربیت اور سازشوں کے ریکارڈ قائم کئے گئے۔ ٹھیک اسی طرح، جیسے ہم نے کسان تحریک کے دوران دیکھا۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ کسان تحریک کو شاہین باغ سے تحریک اور تقویت ملی۔ یقیناً سی اے اے مخالف یا شاہین باغ تحریک کے تجربات کا کسان تنظیموں کو فائدہ ہوا اور انھوں نے اپنی تحریک کو انجام تک پہنچایا۔

کیا سی اے اے مخالف تحریک دوبارہ شروع ہوگی؟

اب کسان تحریک کی کامیابی کے بعد بہت سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جیسے کہ کیا اب سی اے اے مخالف تحریک دوبارہ شروع ہوگی؟ کیا سی اے اے کے مخالفین مودی سرکار کو جھکانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ جس طرح ایک مضبوط حکومت نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لیا، اسی طرح شہریت ترمیمی قانون کو بھی واپس لیا جائے گا؟ اور سب سے بڑا سوال کہ جس طرح کسان تحریک کے دوران لگے مقدمات کو واپس لیا گیا ہے، کیا سی اے اے مخالف تحریک میں شامل لوگوں پر عائد الزامات کو بھی واپس لیا جائے گا؟ انہی سوالوں کی روشنی میں اس تحریک کو شروع ہوئے دو سال مکمل ہونے پر یہ مضمون قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے۔

شہریت ترمیمی قانون مخالف تحریک میں شامل کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا کے سبب احتجاج کا سلسلہ بھلے ہی منقطع ہو گیا تھا، لیکن یہ تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ مختلف شکلوں میں یہ تحریک اب بھی جاری ہے۔ پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر شہریت ترمیمی قانون کیا ہے اور اس کی مخالفت کیوں ہوئی؟ شہریت (ترمیم) ایکٹ 2019 ایک قانون ہے، جس کے ذریعہ 1955 کے شہریت قانون کو ترمیم کرکے یہ التزام کیا گیا کہ31 دسمبر2014 سے پہلے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آنے والے ہندو، بودھ، سکھ، جین، پارسی اور عیسائیوں (مسلمان نہیں) کو ہندوستان کی شہریت دی جاسکتی ہے۔ اس بل میں ہندوستانی شہریت دینے کے لئے ضروری 11 سال ہندوستان میں رہنے کی شرط میں بھی نرمی کی گئی۔ اس مدت کو صرف پانچ سال ہندوستان میں رہنے کی شرط میں تبدیل کر دیا گیا۔

شہریت ترمیمی قانون کے ضابطے ابھی تیار نہیں

شہریت ترمیمی بل کو لوک سبھا نے10 دسمبر 2019 کو اور 11 دسمبر 2019 کو راجیہ سبھا نے منظور کر لیا تھا۔ صدر جمہوریہ ہند نے 12 دسمبر کو اس پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ اس طرح یہ متنازع بل ایک قانون بن گیا۔ یہ قانون 10 جنوری 2020 سے نافذ العمل بھی ہو گیا۔ 20 دسمبر 2019 کو پاکستان سے آنے والے 7 پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دے کر اس قانون کو نافذ کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے شہریت ترمیمی قانون کے ضابطے ابھی تک تیار نہیں ہوئے ہیں۔

جولائی 2021 میں پارلیمنٹ میں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ سی اے اے کو 12 دسمبر 2019 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا، 2020 میں یہ قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ لیکن لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کمیٹیوں سے اس قانون کے تحت ضابطے تیار کرنے کے لئے جنوری 2022 تک کا وقت مانگا گیا ہے۔ اب اسے شاہین باغ کی تحریک کا اثر مانا جائے یا حکومت کی مجبوری، لیکن ایسا مانا جا رہا ہے کہ فی الحال حکومت نے اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمراں جماعت کا مقصد پڑوسی ملکوں کے غیر مسلموں کی ہمدردی سے زیادہ ملک میں فرقہ وارانہ خطوط پر اپنی سیاست چمکانا تھا۔ جس میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی ہو گئے۔ اب یہ سوال کون پوچھے کہ آپ نے اس قانون کے تحت پڑوسی ملکوں میں ستائے گئے کتنے غیر مسلموں کو ہندوستان کی شہریت دی؟ ہاں، حکومت نے یہ ضرور بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران 6 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی۔

سی اے اے مخالف تحریک

سی اے اے مخالف تحریک کا سلسلہ شمال مشرق سے نکل کر جب قومی دارالحکومت دہلی پہنچا، تو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کی نگاہیں اس احتجاج کی جانب مرکوز ہو گئیں۔ ہر کوئی یہ دیکھ کر انگشت بدنداں تھا کہ جن مسلم خواتین کو گھر کی چہار دیواری تک محدود سمجھا جاتا تھا، حقیقی معنوں میں انہی خواتین نے اس احتجاج کی قیادت کی۔ چاہے وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دیگر جامعات کی طالبات ہوں، یا پھر شاہین باغ کی تین دادیوں کی رہنمائی میں 101 دنوں تک دھرنا دینے والی ہزاروں گھریلو خواتین۔ دسمبر اور جنوری کی سرد ترین راتوں میں جب کوئی اپنے ذاتی کام سے بھی گھر سے باہر نکلنا نہیں چاہتا، ان خواتین نے ملک اور قوم کے مستقبل کی خاطر اپنے نرم اور گرم بستروں کے ساتھ اپنے سکون کو بھی قربان کر دیا۔

ہندوستان کی تاریخ میں عدیم المثال مظاہرے

جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے پورے ملک اور دنیا میں اس تاریخی تحریک کو جنم دیا۔ پہلے 13 دسمبر اور پھر 15 دسمبر کو سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہوئے احتجاج میں پولیس کی بربریت نے جیسے جامعہ کے طلبہ کے حوصلوں کو نئی اڑان دے دی۔ جامعہ کے بعد اے ایم یو، جے این یو، دہلی یونیورسٹی، ممبئی، کولکاتہ، چنئی، احمد آباد وغیرہ کی مختلف یونیورسٹیوں، آئی آئی ٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں عدیم المثال مظاہرے اور احتجاج ہوئے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں شاید ہی اتنے بڑے پیمانے پر اور اتنے لمبے عرصے تک اس طرح کے مظاہرے ہوئے ہوں۔ کسان تحریک اگرچہ ایک سال سے زائد چلی، لیکن اس کا دائرہ بہت محدود تھا۔

واضح رہے کہ 13 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس نے احتجاج کر رہے طلبہ پر زبردست لاٹھی چارج کیا تھا۔ اس دوران بڑی تعداد میں طلبہ اور کچھ اسٹاف کے لوگ زخمی ہو گئے۔ پولیس کی اس زیادتی کے خلاف 15 دسمبر کو جامعہ کے طلبہ بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور احتجاج کیا، لیکن اس دوران ایک بار پھر پولیس نے طاقت کا استعمال کیا اور یہ احتجاج تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔

شاہین باغ تحریک کا آغاز کیسے ہوا؟

واقعہ سے ناراض کچھ طلبہ جامعہ ملیہ میں دھرنے پر بیٹھ گئے، جبکہ کچھ لوگوں نے جامعہ سے کچھ فاصلے پر واقع شاہین باغ میں دھرنا شروع کر دیا۔ اس میں مقامی لوگ بھی شامل ہوئے۔ آخر کار شاہین باغ کا یہ دھرنا ایک بڑی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد فروری 2020 میں منصوبہ بند طریقے سے شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھا۔ جس کے بعد تحریک میں شامل متعدد کارکنان کو فساد میں ماخوذ کیا گیا اور انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں اکثر کارکنان کے خلاف یو اے پی اے لگا دیا گیا۔ خود حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ 2020 میں دہلی پولیس نے یو پی اے کے تحت کل 9 کیس درج کئے، جن میں 34 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ کو ضمانت مل گئی اور کچھ ابھی بھی جیلوں میں بند ہیں۔ امید ہے کہ ان لوگوں کو بھی جلد انصاف ملے گا اور اپنے جمہوری حق کے لئے جد و جہد کرنے والے یہ لوگ جیل سے باہر آئیں گے۔

زرعی قوانین کی واپسی سے یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ اسی لئے کسانوں کو اتنی لمبی تحریک چلانی پڑی۔ اسی طرح شہریت ترمیمی قانون بھی حکومت کا ایک غلط فیصلہ ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ موجودہ حکومت جلد یا بدیر اسے واپس لے کر ملک کی اقدار و روایات اور قانون کی بالا دستی کو قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔ فی الحال قانون واپس ہوگا یا نہیں، تحریک دوبارہ شروع ہوگی یا نہیں، اس سوال کا جواب ندا فاضلیؔ کے اس شعر میں تلاش کر سکتے ہیں۔

کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چن
پھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]