اتوار, اکتوبر 4, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 283

اومیکرون کے کل 213 معاملے، 138.96 کروڑ کووڈ ٹیکے لگائے گئے

0
اومیکرون کے کل 213 معاملے، 138.96 کروڑ کووڈ ٹیکے لگائے گئے
اومیکرون کے کل 213 معاملے، 138.96 کروڑ کووڈ ٹیکے لگائے گئے

مرکزی وزارت برائے صحت اور خاندانی بہبود نے بدھ کو یہاں بتایا کہ دہلی میں اومیکرون کے سب سے زیادہ 57 کیسز ہیں۔ مہاراشٹر میں 54 افراد اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں۔

نئی دہلی: ملک میں کووڈ کی نئی قسم اومیکرون کے 15 ریاستوں میں کل 213 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 90 کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

مرکزی وزارت برائے صحت اور خاندانی بہبود نے بدھ کو یہاں بتایا کہ دہلی میں اومیکرون کے سب سے زیادہ 57 کیسز ہیں۔ مہاراشٹر میں 54 افراد اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 57 لاکھ 5 ہزار 39 کووڈ ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آج صبح 7 بجے تک 138 کروڑ 95 لاکھ 90 ہزار 670 کووڈ ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ انفیکشن کے 6317 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ملک میں ابھی 78 ہزار 190 کووڈ مریض زیر علاج ہیں۔ یہ کیسز کا 0.22 فیصد ہے۔

اسی دوران 6906 لوگ کووڈ سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر تین کروڑ 42 لاکھ ایک ہزار 996 افراد کووڈ سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ شفایابی کی شرح 98.40 فیصد ہے۔

ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 12 لاکھ 29 ہزار 512 کووڈ ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں کل 66 کروڑ 73 لاکھ 56 ہزار 171 کووڈ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

ٹینی کے استعفے اور اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کی مانگ پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ جاری

0
ٹینی کے استعفے اور اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کی مانگ پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ جاری
ٹینی کے استعفے اور اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کی مانگ پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ جاری

ایوان میں حزب اختلا ف کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ایوان کی کارروائی چلانا ایک جمہوری عمل ہے اور اسے ضابطوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 12 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لی جانی چاہئے اور مسٹر ٹینی کو کابینہ سے ہٹایا جانا چاہیے۔

نئی دہلی: کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی اور اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے منگل کو راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا اور بالآخر ایوان کی کارروائی سے واک آؤٹ کیا۔

ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے لنچ کے بعد ایوان کی کارروائی شروع کرتے ہوئے انتخابی قانون (ترمیمی) بل 2021 پیش کرنے کے لیے قانون و انصاف کے وزیر کرن رجیجو کا نام لیا تو ایوان میں حزب اختلا ف کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ایوان کی کارروائی چلانا ایک جمہوری عمل ہے اور اسے ضابطوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 12 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لی جانی چاہئے اور مسٹر ٹینی کو کابینہ سے ہٹایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بل کو بھی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ایوان میں پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔ ان کی حمایت کانگریس کے آنند شرما، ڈی ایم کے کے تروچی شیوا، مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی کے جان برٹس اور وی شیواداسن، ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے کی۔

مسٹر ہری ونش نے کہا کہ موجودہ بل ایوان کے مقررہ ضابطوں کے مطابق پیش کیا جا رہا ہے اور کسی کو بھی ایوان کے سامنے اس موضوع کے علاوہ کسی دیگر معاملہ پر بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ احتجاج میں کانگریس، ڈی ایم کے، بائیں بازو اور ترنمول کانگریس کے ارکان چیئرپرسن کے پوڈیم کے سامنے آ گئے۔ یہ ارکان اپنے ہاتھوں میں نعرے تحریر پلے کارڈز بھی لئے ہوئے تھے۔

شور اور نعرے بازی کے درمیان بل پر بحث

ایوان میں شور اور نعرے بازی کے درمیان بل پر بحث کی گئی لیکن وزیر کے جواب دینے سے پہلے ہی اپوزیشن نے حکومت پر اپوزیشن ارکان کی آوازوں پر توجہ نہ دینے کا الزام لگایا۔ بعد میں مسٹر کھڑگے کی قیادت میں پوری اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی سے واک آؤٹ کردیا۔

اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے منگل کو راجیہ سبھا میں ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لئے ملوی کردی گئی۔

اس سے قبل صبح ضروری دستاویز ایوان کی میز پر رکھے جانے کے بعد چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے جیسے ہی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ کے فیصلے کی معلومات دینی چاہی ویسے ہی کانگریس کے جے رام رمیش نے کہا کہ اپوزیشن اس میٹنگ کا حصہ نہیں تھا۔ مسٹر نائیڈو نے کہا اپوزیشن کو میٹنگ کی بائیکاٹ کا حق ہے۔ اس دوران اپوزیشن کے رہنما ملکارجن کھڑگے نے بھی کہا کہ وہ میٹنگ میں موجود نہیں تھے۔

چیئرمین نے کہا کہ اصول 267 کے تحت اراکین کے دئے گئے نوٹس کو نامنظور کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اراکین سے ایوان کی میٹنگ چلنے دینے اور نظام برقرار رکھنے کی اپیل کی لیکن اس دوران اراکین کا شور و غل جاری رہا۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، سینسیکس اور نفٹی آج سبز نشان تک پہنچنے میں کامیاب

0
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، سینسیکس اور نفٹی آج سبز نشان تک پہنچنے میں کامیاب
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، سینسیکس اور نفٹی آج سبز نشان تک پہنچنے میں کامیاب

بی ایس ای کا 30 حصص والا حساس انڈیکس سینسیکس 497 پوائنٹس بڑھ کر 56319.01 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 156.65 پوائنٹس بڑھ کر 16770.85 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

ممبئی: عالمی سطح سے ملے مثبت اشاروں کے ساتھ گھریلو سطح پر ہمہ گیر خریدار کی بنیاد پر سینسیکس اور نفٹی آج سبز نشان تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

بی ایس ای کا 30 حصص والا حساس انڈیکس سینسیکس 497 پوائنٹس بڑھ کر 56319.01 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 156.65 پوائنٹس بڑھ کر 16770.85 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اس دوران چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں قوت خرید بھی دیکھی گئی، جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 1.43 فیصد بڑھ کر 24041.78 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.29 فیصد بڑھ کر 27869.12 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بی ایس ای کے تمام گروپ بڑھ میں رہے، جس میں میٹلز سب سے زیادہ 2.99 فیصد اور فائنانس سب سے کم 0.48 فیصد تھے۔ بی ایس ای پر کل 3431 کمپنیوں کا لین دین ہوا، جن میں سے 2281 میں اضافہ جبکہ 1036 میں کمی اور 114 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

عالمی سطح پر زیادہ تر اہم انڈیکس سبز رنگ میں رہے۔ برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.79 فیصد، جرمنی کے ڈیکس میں 0.63 فیصد، جاپان کے نکیئی میں 2.08 فیصد، ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 1.0 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.88 فیصد اضافہ ہوا۔

آدھار کارڈ کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے والے بل پر پارلیمانی مہر

0
آدھار کارڈ کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے والے بل پر پارلیمانی مہر
آدھار کارڈ کو ووٹر شناختی کارڈ سے جوڑنے والے بل پر پارلیمانی مہر

راجیہ سبھا میں کانگریس اور پوری اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان انتخابی قانون (ترمیم) کو آدھار کارڈ کو ووٹر آئی کارڈ سے جوڑنے والے بل کو پارلیمنٹ نے منظور کرلیا۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں منگل کو کانگریس اور پوری اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان انتخابی قانون (ترمیم) کو آدھار کارڈ کو ووٹر آئی کارڈ سے جوڑنے، سروسز کی ووٹنگ میں صنفی مساوات لانے اور سال میں چار بار نئے ووٹرز بنانے کے التزام کے بل 2021‘ پر پارلیمنٹ نے منظور کرلیا۔

قبل ازیں راجیہ سبھا نے بل کو صوتی ووٹ سے منظور کرتے ہوئے اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز کو مسترد کر دیا لوک سبھا نے اسے پیر کو منظور کر لیا تھا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن کو اس اہم بل کا مطالعہ کرنے کے لیے کافی وقت نہیں دیا اس لیے اسے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ اس بل کے ذریعے حکومت عوام کو حق رائے دہی سے محروم کرنا چاہتی ہے۔

مرادآباد سنٹر کا تجربہ کامیاب رہا تو کشن گنج میں جامعہ ہمدرد کا سنٹر جلد۔ ڈاکٹر افشار عالم

0
مرادآباد سنٹر کا تجربہ کامیاب رہا تو کشن گنج میں جامعہ ہمدرد کا سنٹر جلد۔ ڈاکٹر افشار عالم

ڈاکٹر افشار عالم نے کہا ہے کہ جامعہ ہمدرد نے مرادآباد میں سنٹر قائم کیا ہے اور اس میں ایک ڈائرکٹرکے ساتھ پانچ اسسٹنٹ پروفیسرکی بحالی بھی کی ہے۔ وہاں پروفیشنلزم کورسز پڑھائے جائیں گے جس سے نوجوانوں کو روزگا ر ملے گا۔

نئی دہلی: جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر افشار عالم نے کہا کہ جا معہ ہمدرد کا ایک سنٹر اترپردیش کے مرادآباد میں کھولا گیا ہے اگر یہ ہمارا تجربہ کامیاب رہا تو بہت جلد بہار کے کشن گنج میں ہمدرد کا سنٹر کھولاجائے گا۔

یہ بات انہوں نے کل یہا ں روزگار میلہ سے متعلق ایک پریس کانفرنس میں یو این آئی کے ایک سوال کے جواب کہی۔

انہوں نے کہا ہے کہ جامعہ ہمدردنے مرادآباد میں سنٹر قائم کیا ہے اور اس میں ایک ڈائرکٹرکے ساتھ پانچ اسسٹنٹ پروفیسرکی بحالی بھی کی ہے۔ وہاں پروفیشنلزم کورسز پڑھائے جائیں گے جس سے نوجوانوں کو روزگا ر ملے گا۔

انہوں نے کہاکہ اگرہمارا مراد آباد میں سنٹر کھولنے کا تجربہ کامیاب رہا تو بہت جلد بہار کے کشن گنج میں جامعہ ہمدرد کا سنٹر کھولا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ کیرالہ کے کنور میں سنٹر کام کر رہا ہے جس میں 1200 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں، پروانچل میں سمیت پانچ سنٹر کھولے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ جامہ ہمدرد کے بانی حکیم عبدالحمید صاحب کا خواب تھا کہ اقلیتی علاقوں میں تعلیمی ادارے کھولے جائیں تاکہ اقلیتوں کو تعلیم کے ساتھ روزگار بھی مل سکے۔ جامعہ ہمدرد اپنے بانی کے خواب کو پورا کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان سنٹروں میں فوڈ سے متعلق کورسیز شروع کئے جائیں گے کیوں کہ فوڈ اس وقت دنیا میں بڑی مارکیٹ کے طور پرسامنے آرہا ہے اور اس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار بھی بہت جلد مل جاتا ہے۔

اس لئے وہ اس پر توجہ مرکوز کریں گے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہاکہ لکھنؤ میں ہندوستانی حکومت کے ساتھ مل کر بائیوڈائیورسٹی کورس چلائیں گے تاکہ اس سے بھی روزگار وسائل پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ 22 دسمبر کو جامعہ ہمدرد میں منعقد ہونے والا روزگار میلہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا ایک بہترین قدم ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس روزگار میلے میں دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو نوکری ملنے کا امکان ہے۔

اس روزگار میلہ میں 30سے 40کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ جن میں بینکنگ، کثیر الاقوامی کمپنیاں، ہاسپٹل، منیجمنٹ اور دیگر کمپنیاں شامل ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ بزنس اینڈ ا یمپلائنٹ بیورو (بی ای بی) اور ایسوسی ایشن آف مسلم پرفیشنلز (اے ایم پی)کے تعاون یہ روزگار میلہ منعقد کیا جارہا ہے۔

مسلم شہنشاہوں اور بادشاہوں نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو اپنی سلطنتوں کا حصہ بنا رکھا تھا

0
مسلم شہنشاہوں اور بادشاہوں نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو اپنی سلطنتوں کا حصہ بنا رکھا تھا
مسلم شہنشاہوں اور بادشاہوں نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو اپنی سلطنتوں کا حصہ بنا رکھا تھا

مغلیہ سلطنت کے آغاز سے قبل ہی ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کا شمع روشن ہوچکا تھا۔ کبیر اور نانک جیسی شخصیتیں ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھیں

ہندوستان پر حکومت کرنے والے شہنشاہوں اور شہنشاہوں نے نہ تو اسلامی طریقے اختیار کیے اور نہ ہی اس قسم کی طاقت قائم کرنے کی کوشش کی جو خلافت راشدہ کے زمانے میں تھی۔ تاہم ان لوگوں نے بڑے قلعے اور شاندار مساجد تعمیر کروائیں۔

ان شہنشاہوں کے کردار میں نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے خاندان کے افراد یا صحابہ کا طرز عمل جھلکتا تھا اور نہ ہی ان کے محلات میں اسلام کی کوئی جھلک نظر آتی تھی۔ کچھ حکمرانوں نے ہندوستان کی ثقافت کو پوری طرح اپناتے ہوئے رقص، موسیقی اور دیگر فنون کو بھی فروغ دیا تھا۔

مسلم حکمرانوں کی اکثر جنگیں آپس میں ہوئیں نہ کہ ہندو حکمرانوں کے

کچھ فرقہ پرست عناصر مسلم حکمرانوں کی ہندو بادشاہوں یا حکمرانوں کے ساتھ جنگ کو ہندو مسلم جنگوں کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ مسلم حکمرانوں کی زیادہ تر لڑائیاں مسلم حکمرانوں کے ساتھ ہی ہوئیں۔ اگر آپ ہندوستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ مملوک سلطنت کے پہلے حکمران قطب الدین ایبک کی موت کے بعد ارم شاہ کو سلطنت ملی لیکن وہ کچھ ہی دنوں کے اندر ہی ایبک کے داماد کے ہاتھوں مارا گیا۔

پھر رضیہ سلطان کو موقع ملا لیکن رضیہ سلطان کو التونیہ نے تخت سے ہٹا دیا، التونیہ کو بہرام شاہ نے شکست دی اور بہرام شاہ کے بعد بلبن اور پھر قق آباد کا کیا حشر ہوا۔ مملوک خاندان کے بعد خلجی خاندان کو سلطنت ملی۔

مسلم سلطنت کی واپسی اور مغلیہ عہد

غیاث الدین تغلق نے خلجی خاندان کا خاتمہ کیا۔ تغلق کی سلطنت پر امیر تیمور نے حملہ کیا، ظاہر ہے تیمور نے ایک مسلمان حکمران پر حملہ کیا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم فوج کو شمالی جانب میدان میں مارا گیا، یعنی دونوں طرف سے مسلمان مارے گئے اور اس قدر خونریزی کے بعد خود تیمور نے ہندوستان پر حکومت نہیں کی اور اپنی جگہ سید خاندان کو اقتدار سونپ کر واپس چلے گئے لیکن سید خاندان کے لوگوں نے 36 سال حکومت کرنے کے بعد خود اقتدار چھوڑ کر لودھیوں کے حوالے کر دیا۔ لودھی خاندان نے 76 سال تک ملک پر حکومت کی۔

اسی دوران بابر نے وسطی ایشیا سے ہندوستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کے بعد مغلیہ سلطنت کا آغاز ہوا لیکن مغلیہ سلطنت کی بات کرنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ مغلوں کی آمد سے پہلے بھی ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کے چراغ جل رہے تھے۔

مغل سلطنت کے آغاز سے پہلے ہی مسلم ہندو اتحاد مضبوط تھی

بنارس میں کبیر داس کی شکل میں ایک ایسا شاعر تھا جسے ہندو ہندو اور مسلمان اس شاعر کو مسلمان سمجھتے تھے۔ کبیر داس جی کی پرورش ایک مسلم کپڑا بُننے والے گھرانے میں ہوئی، کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے جس نے انہیں چھوڑ دیا تھا۔ کبیر داس کی شاعری ایسی تھی کہ ہندو اور مسلمان ان کی زندگی میں ان کے خلاف ہوتے تھے لیکن بعد میں انہیں اپنا آئیڈیل سمجھنے لگے۔ کبیر داس جی کی کامیاب زندگی کا یہ نمونہ تھا کہ جب ان کا انتقال مگہر میں ہوا تو ان کی آخری رسومات کے لیے مسلمانوں اور ہندوؤں میں جھگڑا ہوگیا۔

کہا جاتا ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کی علامت بننے والے اس عظیم شاعر کی میت سے جب چادر اتاری گئی تو ان کی میت کی جگہ کچھ پھول تھے جنہیں ہندوؤں اور مسلمانوں نے آدھے حصے میں تقسیم کر کے آخری رسومات ادا کیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ کبیر داس جی کو اپنا دیوتا ماننے والوں کا ایک طبقہ ہے جسے کبیر پنتھ کہتے ہیں۔

بابا گرو نانک دیو نے ہندو مسلم اتحاد کو روشن کیا

دوسری عظیم شخصیت جس نے ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کا چراغ روشن کیا اسے دنیا بابا گرو نانک دیو کے نام سے جانتی ہے۔ بابا نانک کی زندگی بھی پوری طرح انسانیت کے لیے وقف تھی، اسی لیے ہندو اور مسلمان دونوں ہی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کی زندگی ایسی تھی کہ ہندو انھیں اپنے مذہب کا مانتے تھے اور مسلمان انھیں اپنے مذہب کا مانتے تھے۔ وہ ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے اور پنجاب کے کرتار پور میں انتقال کر گئے۔

جب بابا گرو نانک کا انتقال ہوا تو ان کی آخری رسومات کے لیے ہندو اور مسلم برادری کے درمیان وہی تنازعہ کھڑا ہوا جو کبیر داس کی موت کے وقت ہوا تھا۔ ایک کرامت بھی ہوئی اور جسم خدا کے اس نیک بندے کے مرنے کے بعد پھول بن گیا، جس کے بعد آدھے پھول قبر میں رکھے گئے اور آدھے کو آگ کے حوالے کر دیا گیا۔

بابا نانک دیو نے بھی دنیا کو توحید اور انسانیت کا سبق دیا۔ بابا گرو نانک کو ہندو اور مسلمان اس قدر پسند کرتے تھے کہ دونوں طبقوں کے کچھ لوگ باہر نکل آئے اور بابا گرو نانک کی تعلیمات پر عمل کرنے لگے، جس کی وجہ سے ہندوستان میں ایک نئے مذہب کا وجود ہوا۔

آج ہم سب اس مذہب کو سکھ مذہب کے طور پر جانتے اور پہچانتے ہیں اور اس طبقہ کے پہلے گرو اور بانی بابا نانک دیو جی سے معروف ہیں۔

اگلے حصے میں ہم بابر کے حملے اور ابراہیم لودھی کے ان سے تصادم کی کہانی بیان کریں گے۔
(جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط

11 – گیارہویں قسط

تمل ناڈو: اسٹالن نے جے شنکر کو خط لکھ کر گرفتار ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا

0
تمل ناڈو: اسٹالن نے جے شنکر کو خط لکھ کر گرفتار ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا
تمل ناڈو: اسٹالن نے جے شنکر کو خط لکھ کر گرفتار ماہی گیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا

مسٹر سٹالن نے ڈاکٹر جے شنکر کی توجہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں سری لنکا کی بحریہ کی جانب سے تمل ناڈو کے ماہی گیروں کو گرفتار کیے جانے کے دو واقعات کی طرف مبذول کرائی۔

چنئی: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے پیر کو وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے سری لنکا کی بحریہ کی جانب سے گرفتار کیے گئے 55 ہندوستانی ماہی گیروں اور ان کی کشتیوں کی فوری رہائی کے لیے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسٹر جے شنکر کو لکھے ایک نیم سرکاری خط کی کاپیاں جاری کرتے ہوئے مسٹر اسٹالن نے کہا کہ سری لنکا کی بحریہ نو ریاست کے ماہی گیروں کی جانب سے روایتی حقوق کے استعمال کو ڈرانے دھمکانے کی پالیسی سے روکنے کی بار بار کی جانے والی کوششوں کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’میں حکومت ہند سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس سلگتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کرے۔ میں اس معاملے میں آپ سے مداخلت کی درخواست کرتا ہوں۔ آپ سری لنکا کی بحریہ کے زیر حراست 55 ماہی گیروں اور 73 کشتیوں کی رہائی کے لیے سری لنکا کے حکام کے سامنے یہ معاملہ اٹھا ئیں‘۔

مسٹر سٹالن نے ڈاکٹر جے شنکر کی توجہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں سری لنکا کی بحریہ کی جانب سے تمل ناڈو کے ماہی گیروں کو گرفتار کیے جانے کے دو واقعات کی طرف مبذول کرائی۔

اپوزیشن کا شدید ہنگامہ، راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی

0
اپوزیشن کا شدید ہنگامہ، راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی
اپوزیشن کا شدید ہنگامہ، راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی

اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی

نئی دہلی: اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

صبح ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھنے کے بعد اپوزیشن پارٹی کے راجیہ سبھا کے اراکین نے ضابطہ 267 کے تحت دیے گئے نوٹس کے بارے میں جاننا چاہا۔ سب سے پہلے کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے یہ معاملہ اٹھایا۔ اسی دوران کئی اراکین ایک ساتھ کھڑے ہو گئے اور اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے بھی کھڑے ہو گئے اور کچھ کہنا چاہا۔

چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ضابطہ 267 کے تحت دی گئی نوٹس کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ پہلے ایوان کی کارروائی چلنی چاہیے۔ ایوان کو چلانا ان کی ترجیح اور ذمہ داری ہے۔

مسٹر نائیڈو نے کہا کہ جمعہ کو انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے رہنماؤں کی میٹنگ کے بارے میں کہا تھا تاکہ ایوان کی کارروائی صحیح طریقے سے چل سکے۔ ارکان گزشتہ کئی دنوں سے اپوزیشن پارٹیوں کے 12 اراکین کی معطلی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کر رہے تھے۔

اس دوران اپوزیشن کے کچھ اراکین نے اپنے مطالبات کے پلے کارڈ دکھائے۔ چیئرمین نے اراکین سے درخواست کی کہ وہ ایسا نہ کریں اور ان سے کہا کہ وہ نظم و ضبط اور شائستگی کو برقرار رکھیں۔ بعد ازاں انہوں نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی۔

ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکا جا رہا ہے: سلمان خورشید

0
ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکا جا رہا ہے: سلمان خورشید
ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکا جا رہا ہے: سلمان خورشید

اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے خیال کے بارے میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے خبردار کیا کہ جو لوگ آئین کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ ملک میں ایک ایکٹ کے لئے دو الگ الگ قانون نہیں ہو سکتے

نئی دہلی: ہمیں جس کسی پر بھی ظلم ہوتا ہے، اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ جو لوگ دستور کو نہیں مانتے اور اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں کیا اس میں ایک ہی معاملہ کے لئے دو الگ الگ قانون ہوسکتے ہیں۔ ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ اس پر سب کو غور اور تفکر کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے یہاں ساؤتھ ایشین مائنارٹیز لائرز ایسوسی ایشن (ساملا) کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق کے عالمی دن موقع پر منعقدہ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے نازی جرمنی کے شاعرکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اس پر عمل نہیں کیا تو کوئی بھی بچانے والا باقی نہیں رہے گا۔

ملک میں فرقہ وارانہ صف بندی

اس جلسہ میں ملک کے سرکردہ وکلاء اور دانشوروں نے جنوبی ایشیا کے ملکوں بالخصوص ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جارہے سلوک اور ظلم و ستم پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہوس اقتدار کی خاطر ملک میں جو فرقہ وارانہ صف بندی پیدا کی جارہی ہے، وہ ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے خطرناک مضمرات کی حامل ہے۔ اقلیت کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کے خیال کے حوالے سے کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے متنبہ کیا کہ جو لوگ دستور کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں انہیں سوچنا چاہیئے کہ ایک فعل کے لیے ملک میں دو الگ الگ قانون نہیں ہوسکتے۔

اس موقع پر پرشانت بھوشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں مشکوک بنانے کی مہم میں بی جے پی کا آئی ٹی سیل اور گودی میڈیا پیش پیش ہیں لیکن اس صورت حال سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔ انہوں نے محلہ سطح پر ہر مقام پر ہارمونی کونسل قائم کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ رائے عامہ اب اس منافر گروہ کے خلاف ہوتی جارہی ہے۔

مسلمانوں اور سکھوں میں ذات برادری کا چلن باقی

بھوپیندر سنگھ سوری نے بھی مشورہ دیا کہ ہمیں آپس میں میل جول کو بڑھانا چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جان سکیں اور غلط فہمیاں دور کرسکیں۔ 1984 کے سانحہ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا تعلق بھی ایک اقلیتی فرقہ سے ہے اس لیے میں جانتا ہوں کہ اس ملک میں اقلیتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر خفگی کا اظہار کیا کہ مساوات کی تعلیم کے باوجود مسلمانوں اور سکھوں میں ذات برادری کا چلن باقی ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے اقلیتی حقوق کے ارتقا پر روشنی ڈالتے ہوئے سارک ملکوں میں اقلیتوں کی صورت حال کا مفصل خاکہ پیش کیا۔ ان کے بقول اس خطہ کے ہر ملک میں غالب گروپ چاہتا ہے کہ وہاں کی اقلیتیں اس کی تہذیب و ثقافت اور مذہب کو اختیار کرے۔ بھوٹان، سری لنکا، پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، برما اور ہندوستان میں اقلیتوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم اس معاملے میں پاکستان اور بنگلہ دیشی حکومتوں کا رویہ قابل اطمینان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشاکش کے باعث سارک تنظیم موثر و فعال نہیں بن سکی ہے۔

ہندوستان سے مسلمانوں کی محبت جو غوری کے حملے سے بہت پہلے یہاں آباد ہو گئے تھے

0
ہندوستان سے مسلمانوں کی محبت جو غوری کے حملے سے بہت پہلے یہاں آباد ہو گئے تھے
ہندوستان سے مسلمانوں کی محبت جو غوری کے حملے سے بہت پہلے یہاں آباد ہو گئے تھے

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا تھا کہ مجھے ہندوستان سے خدائی خوشبو آتی ہے۔ حضرت علیؓ نے بھی ایک دفعہ فرمایا تھا کہ سب سے پاکیزہ اور خوشبودار جگہ ہندوستان ہے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ مسلمانوں نے ترکوں، عربوں اور وسط ایشیائی ممالک کی فوجوں سے بہت پہلے ہندوستان کو اپنا مسکن بنانا شروع کر دیا تھا۔ ہندوستان کو پسند کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ایک دفعہ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ مجھے ہندوستان کی طرف سے ربانی خوشبو آتی ہے۔ حضرت علیؓ نے بھی ایک دفعہ فرمایا تھا کہ سب سے پاکیزہ اور خوشبودار جگہ ہند ہے۔ ظاہر ہے کہ جس ملک کے بارے میں ایسی اچھی باتیں کسی نبی اور امام نے کہی ہوں تو وہاں کون نہیں رہنا چاہے گا۔

ابن قاصر نے فتوح السلاطین میں لکھا ہے کہ غوری کے حملوں سے پچاس سال پہلے بھی بنارس میں مسلمانوں کی آباد کاری کا ثبوت ملتا ہے۔ خلیق احمد نظامی کی تحقیق کے مطابق، اترپردیش میں بدایوں، بہرائچ، بلگرام اور اناؤ سمیت ایسی جگہیں ہیں، جہاں بہت سے مسلمانوں کے مقبرے غوری حملے کے زمانے کے ہیں۔ بہت سے صوفیوں کے مقبروں کے گدی نشینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد غوری کے حملوں سے بہت پہلے ہندوستان میں آباد ہو گئے تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت لاہور (غیرمنقسم ہندوستان کا شہر) میں داتا دربار نام کی درگاہ ہے۔ یہ اسی صوفی بزرگ کی درگاہ ہے جو گیارہویں صدی میں لاہور میں آباد ہوئے تھے، ان کا نام سید علی ہجویری تھا۔

لاہور کے ہندو ان کی بڑی عزت کرتے تھے اور پیار سے انہیں داتا گنج بخش کہنے لگے۔ ظاہر ہے کہ وہ جنگجو یا بادشاہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ ویسے بھی ہر آدمی مانے گا کہ ملک تلوار سے جیتے جا سکتے ہیں دل سے نہیں۔

غوری کے حملے مذہبی نہیں تھے

سید علی ہجویری حضرت محمدﷺ کے نواسے امام حسنؓ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کی درگاہ کو اب داتا دربار کہا جاتا ہے۔

خواجہ معین الدین چشتی (جنہیں خواجۂ اجمیر یا خواجہ غریب نواز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) جو ہندوستان میں سب سے بڑے صوفی بزرگ کا درجہ رکھتے ہیں، وہ بھی غوری کے حملے سے پہلے ہندوستان پہنچ چکے تھے۔

جب وہ ہندوستان آئے تو پہلے کچھ دن لاہور کے داتا دربار میں رہے، پھر پٹیالہ کے قریب سمانہ قصبے میں امام مشہد کی درگاہ پر گئے، اس کے بعد اجمیر کو اپنا مسکن بنایا۔ اجمیر میں آباد ہونے کے چند دن بعد، محمد غوری نے راجپوت بادشاہ پرتھوی راج چوہان کو شکست دی اور اس کی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ کچھ لوگ غوری اور پرتھوی راج چوہان کی لڑائی کو ہندو مسلم کی عینک سے دیکھتے ہیں لیکن اس میں مذہب کا کوئی حصہ نہیں تھا، یہ دو حکمرانوں کی جنگ تھی۔ اگر ہندو مذہب اور اسلام کی لڑائی تھی تو ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے حکمرانوں نے پرتھوی راج کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ اگر غوری اور پرتھوی راج کی لڑائی مذہب کی جنگ تھی تو کنوج اور وارانسی کے وسیع علاقے پر حکومت کرنے والے بادشاہ جے چند نے پرتھوی راج کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟

بادشاہ جے چند نے غوری کی حفاظت کے لیے پرتھوی راج چوہان کو دھوکہ دیا

کتاب کامل التوارخ میں لکھا ہے کہ راجہ جے چند کی ایک بہت بڑی فوج تھی جس کی بنیاد 10 لاکھ سپاہیوں اور 700 ہاتھیوں پر تھی، لیکن اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ بادشاہ جے چند نے پرتھوی راج چوہان کو دھوکہ دیا اور غوری کو چھپا دیا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ غوری کی فتح کے بعد ہندوستان میں جو بھی حکومت قائم ہوئی اس نے اسلام کا نام نہیں لیا۔ کبھی غلام خاندان کی سلطنت بنی، کبھی تغلق، کبھی سید، کبھی لودھی اور کبھی مغلیہ سلطنت کے حکمران ہندوستان پر حکومت کرتے رہے لیکن کسی نے خود کو اسلامی یا مسلم سلطنت نہیں کہا۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ان حکمرانوں نے باہر کے لوگوں کے حملوں کی بھی بھرپور مزاحمت کی تھی۔ جب تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا تو تغلق خاندان سامنے آیا، جب بابر نے حملہ کیا تو لودھی خاندان سے ٹکرایا اور جب نادر شاہ نے حملہ کیا تو اودھ کے نواب برہان الملک نے مغل فوج کی طرف سے اس کا مقابلہ کیا۔

مسلم حکمرانوں نے ہندوستان کو ایک ملک میں متحد کر دیا، نہ کہ چھوٹی مملکتیں جیسا کہ یہ پہلے تھا

یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم حکمرانوں نے ہندوستان کو چھوٹی ریاستوں کے بجائے ایک وسیع ملک کی شکل دے کر برصغیر میں تبدیل کیا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان حکمران نے انگریزوں کی طرح اس ملک کو اپنا غلام بنا کر (اپنے ملک میں بیٹھ کر) حکومت نہیں کی بلکہ اس ملک کی زندگی کا حصہ بن کر یہیں آباد ہوگئے اور اسی مٹی میں دفن بھی ہوئے۔ جب بھارت پر باہر سے حملہ ہوا تو ان حکمرانوں نے اس ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں بھی داؤ پر لگا دیں۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

7 – ساتویں قسط

8 – آٹھویں قسط

9 – نویں قسط

10 – دسویں قسط