منگل, جولائی 7, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 283

اسلامی نظام حکومت اور نظام ملوکیت میں فرق

0
اسلامی نظام حکومت اور نظام ملوکیت میں فرق
اسلامی نظام حکومت اور نظام ملوکیت میں فرق

خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد مسلم اکثریتی ممالک میں وہی نظام رائج ہو گیا جو رومی بادشاہوں، ایرانی شہنشاہوں اور ہندوستانی حکمرانوں میں تھا۔

اس حصے میں ہم آپ کو اسلامی نظام حکومت اور شاہی نظام کا فرق بتائیں گے۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وسیع ملک کی ذمہ داری سنبھالنی پڑی تو آپ نے کسی شہنشاہ یا بادشاہ کی طرح حکومت نہیں کی بلکہ دنیا کے سامنے حکمرانی کی ایک ایسی مثال پیش کی جس میں ہمدردی، صلہ رحمی، انسانیت و مہربانی کے عناصر شامل تھے۔ ایک وسیع ملک کا حکمران بننے کے بعد بھی انہوں نے اپنے رہن سہن اور رکھ رکھاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

نبی کی شہنشاہی میں فقیری

حضرت محمد ﷺ نے اپنے اور اپنے خاندان کے لئے نہ کوئی محل بنایا، نہ دربار سجایا، نہ اپنی حفاظت کے لیے محافظ تعینات کیے، نہ فوج بنائی، نہ ہیرے جواہرات سے مزین تاج پہنا اور نہ اپنے لباس میں کوئی تبدیلی لائی۔ کندھے پر سیاہ کمبل، جسم پر سادہ لباس، مقدس پیروں میں پرانے جوتے اور ہاتھوں میں اسلامی ریاست کی لگام اس حکمران کی پہچان تھی جسے زمین پر اس لئے اتارا گیا تاکہ انسانوں کو سیدھے راستے (صراط مستقیم) پر چلنے کی دعوت دے سکیں۔ بنی اکرم ﷺ کی بنائی ہوئی مسجد میں کھجور کے پتوں کی چھت کچی دیواروں پر پڑی تھی اور اس میں بیٹھ کر حضرت محمد ﷺ اپنی حکمت عملی تیار کرتے تھے، وہ وعظ و نصیحت کرتے تھے اور ان کے پاس کوئی فوج نہیں تھی۔ جب کوئی حملہ ہوتا تھا تو مسلمانوں کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جمع ہونے کی دعوت دی جاتی تھی اور مدینہ شہر کے اندر یا باہر کسی میدان میں جھنڈا بلند کیا جاتا تھا جس کے بعد مجاہدین وہاں جمع ہونا شروع ہوتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے بعد دنیا ایک ایسے اسلامی نظام حکومت سے متعارف ہوا جسے خلافت راشدہ کا نام دیا گیا۔

خلافت راشدہ

خلافت راشدہ کے اس نظام میں خلیفہ (حکمران) انسان جیسی زندگی بسر کرتا تھا۔ خلیفہ کا گھر، لباس اور رہن سہن سادہ ہوتا تھا اور وہ ایک عام آدمی کی طرح بغیر محافظوں کے رہتے تھے۔ خلیفہ کو بیت المال (سرکاری خزانے) سے بھی وہی تنخواہ ملتی تھی جو ایک عام ملازم کو ملنے والی اجرت کے برابر ہوتی تھی، لیکن چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد خلافت راشدہ کا خاتمہ ہوگیا۔

ملوکیت اور شان و شوکت والی حکمرانی کا آغاز

خلافت راشدہ کے خاتمے کے بعد مسلم اکثریتی ممالک میں وہی نظام رائج ہو گیا جو رومی بادشاہوں، ایرانی شہنشاہوں اور ہندوستانی راجاؤں میں تھا۔ مسلم شہنشاہوں نے بھی بڑے بڑے محلات بنا کر رہنا شروع کردیا، سونے چاندی کے زیورات اور مہنگے کپڑے ہی حکمران کی پہچان سمجھے جانے لگے۔ درباریں سجائے جانے لگے، فوجی افسروں اور سپاہیوں کو بھاری بھرکم تنخواہوں پر تقرری کی جانے لگی، عظیم الشان اور پرتکلف مساجد تعمیر کروانے کا رواج بھی شروع ہوگیا۔ بہت سے شاہی خاندانوں نے اپنے ناموں کے آگے خلیفہ کا لفظ لگا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی بھی کوشش کی لیکن کسی مسلمان نے انہیں خلیفہ کا اصل درجہ نہیں دیا بلکہ حکمران سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا۔

جب بادشاہوں نے خلافت کا نقاب اوڑھ کر مسلم ممالک پر حکومت کرنا شروع کی تو اس سے صرف حکمران اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا ہی ہوا اور دربار تک عام لوگوں کی رسائی مشکل ہو گئی اور پھر جس حکمران کو جو طاقت ملی اس کی مدد سے اس نے اپنی سلطنت کو ترقی دینے کے لیے کام شروع کر دیا۔ حالانکہ یہ طرزِ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کے بالکل خلاف تھا کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی ملک پر حملہ نہیں کیا، آپ نے صرف اپنی حکومت کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جنگیں لڑیں۔

اسلامی حکومت کی شاہی نظام میں تبدیلی

رسول اللہ ﷺ کی وفات کو چالیس سال بھی نہیں گزرے تھے کہ اسلامی حکومت کو شاہی نظام میں بدلنے کے لئے خلافت راشدہ کے نظام پر حملہ ہوا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو تباہ کن جنگوں کا سامنا کرنا پڑا اور حضرت علی کی شہادت کے ساتھ ہی اسلامی نظام حکومت مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور پھر بنو امیہ کی حکومت قائم ہوئی جس کی سب سے بڑی قیمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان والوں (اہل بیت) کو چکانی پڑی۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صرف ساٹھ سال بعد شام کے حکمران یزید کی عظیم فوج نے عراق میں کربلا نامی مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور خاندان کے دیگر افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ یہ ساری باتیں سن کر آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ وہ بادشاہ دوسرے مذہب کا کیا احترام کرے گا جو اپنے ہی مذہب کے بانی کے خاندان والوں کو شہید کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

اس حصے کے آخر میں بتاتے چلیں کہ امام حسین علیہ السلام کی دل سوز شہادت کے بعد اموی خاندان کے حکمران یزید کو حضرت مختار ثقفی اور حضرت عبداللہ ابن زبیر کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت مختار کی افواج کے ساتھ ہندوستانیوں کا ایک دستہ بھی یزید کی فوجوں سے متصادم ہوا۔ اگلے حصے میں اس دستے سے متعلق معلومات پیش کریں گے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

6 – چھٹی قسط

جنگیں کبھی مذہبی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ طاقت اور حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑی گئیں

0
جنگیں کبھی مذہبی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ طاقت اور حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑی گئیں
جنگیں کبھی مذہبی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ طاقت اور حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑی گئیں

بادشاہ ہو یا راجہ، ان کا عموماً مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کا اپنی سلطنت کو وسعت دینے اور اقتدار میں رہنے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کسی بادشاہ، شہنشاہ یا راجہ کی کسی فوجی مہم کو مذہب سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔

یزید کی جنگ اور امام حسین کا قتل

پچھلے حصے میں میں نے آپ کو حضرت علی کی صاحبزادی حضرت رقیہ بنت علی کی ہندوستان آمد کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد اور خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اور پیغمبر کے نواسے حضرت امام حسین کو کربلا کے میدان میں جب شام کے حکمران یزید کے ایک بہت بڑے لشکر نے گھیر لیا تھا تب امام حسین کے ساتھ خواتین اور بچوں کے بشمول صرف 72 لوگ تھے۔ امام حسین کا محاصرہ کرنے کی واحد وجہ یہ تھی کہ امام حسین یزید کو اسلامی حکمران تسلیم کرنے پر راضی نہیں تھے۔ یزید کی وسیع فوج نے امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو گھیر کر قتل کر دیا، جنگ کے بعد یزیدی فوج گھوڑوں پر سوار ہو کر امام حسین علیہ السلام کے کیمپوں میں داخل ہوئی اور لوٹ مار کے بعد کیمپوں کو آگ لگا دی، اس ہنگامے کے دوران بہت سے بچے خوفزدہ ہو کر جنگل کی طرف بھاگ گئے۔

کیمپوں کو جلانے کے بعد، یزید کے سپاہیوں نے حضرت حسین کے خاندان کے افراد کو جن میں پیغمبر اسلام کے رشتہ دار بھی شامل تھے قید کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ہنگامہ میں حضرت علی کی ایک اور بیٹی رقیہ کے دو بچے لاپتہ ہو گئے۔ واضح رہے کہ حضرت رقیہ بنت علی کی شادی حضرت علی کے بھتیجے حضرت مسلم بن عقیل سے ہوئی تھی اور ان کے چار بیٹے تھے۔

اس واقعہ کے بعد مزید مسلمانوں نے ہندوستان میں پناہ لی

واقعہ کربلا سے پہلے دو بیٹے اپنے باپ کے ساتھ کوفہ گئے جہاں حضرت مسلم اور دونوں بچے شہید ہوگئے۔ دو بچے اپنی والدہ (حضرت رقیہ) کے ساتھ کربلا میں تھے جو شیواروں میں فوج کے داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ جب حضرت امام حسین کے اہل خانہ کو جیل سے رہا کیا گیا اور سب مدینہ واپس آئے تو حضرت مسلم کے دونوں لاپتہ بچوں کے ہندوستان میں ہونے کی اطلاع ملی جس کے بعد حضرت رقیہ اپنے خاندان کے کچھ افراد، حضرت مسلم کی بہنیں اور ان کی بیٹیاں ہندوستان روانہ ہوگئیں اور (غیرمنقسم) ہندوستان کے شہر لاہور پہنچے، لیکن بچوں کا کہیں پتہ نہ چلا اور پھر ان کی وہیں پراسرار حالات میں وفات ہوگئی۔ بعد میں پنجاب کے حکمران کے بیٹے کمار وکرم ساہی نے ان کی قبروں پر مقبرہ بنوایا جو آج بھی عوام الناس کا مرکز عقیدت بنا ہواہے۔

ان کے علاوہ مسلمان بھی ہندوستان میں پناہ لیتے رہے۔ ہندوستان کی سرحدی ریاستوں بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ایسے بہت سے مسلمانوں کی آمد کے تاریخی شواہد موجود ہیں جنہیں ہندوستان کے بادشاہوں نے پناہ دی تھی۔ جب محمد الفی نامی ایک عرب سردار جس نے بنی امیہ کے ظالم حکمران حجاج بن یوسف کے دور میں صوبہ مکران میں بغاوت کی تھی اور وہاں کے امیر کو اپنے ساتھیوں سمیت قتل کر دیا تھا تو راجہ داہر کی سلطنت میں پناہ لی۔ سندھ کے بادشاہ داہر نے محمد الفی کو نہ صرف پناہ دی بلکہ الفی اور اس کے ساتھیوں کو بھی اپنی فوج میں شامل کر لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندو مسلم تعلقات کتنے خوشگوار تھے۔

اسلام اور ہندو ازم کی جنگ

بعد میں بنی امیہ کے حکمرانوں نے راجہ داہر پر ایک اور الزام لگا کر حملہ کیا اور اس کے ایک جرنیل محمد بن قاسم نے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ کچھ لوگ اسے اسلام اور ہندو ازم کی جنگ کہتے ہیں، جب کہ یہ جنگ مذہب کے نام پر نہیں لڑی گئی تھی بلکہ کچھ مسلمانوں کو پناہ دینے والے ہندو بادشاہ کے خلاف خلافت بنوامیہ کی ایک فوجی مہم تھی۔

بنو امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے نواسے حضرت امام حسین سمیت اتنے مقدس لوگوں کو قتل کیا اور خود مسلمانوں کے خلاف اتنی مہمیں چلائیں کہ بنی امیہ کی پوری تاریخ خون آلود نظر آتی ہے۔ اسی طرح خود بادشاہ داہر نے بھی ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے حکمرانوں کے ساتھ کئی لڑائیاں لڑیں جن میں بہت خون بہایا گیا۔ یہاں ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں سندھی مسلمان ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ راجہ داہر کی مورتی بھی نصب کیا جائے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان بادشاہ داہر سے کتنی محبت کرتے تھے۔

بادشاہ ہو یا راجہ، ان کا عموماً مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کا اپنی سلطنت کو وسعت دینے اور اقتدار میں رہنے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کسی بادشاہ، شہنشاہ یا راجہ کی کسی فوجی مہم کو مذہب سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔ بادشاہ اچھے بھی تھے برے بھی، رحمدل اور ظالم بھی تھے، نماز پڑھنے والے بھی تھے اور شرابی کبابی بھی، اس لیے کسی بھی شہنشاہ، بادشاہ یا راجہ کی کسی بھی فوجی مہم کو مذہب سے جوڑنا بالکل غلط ہے۔

یاد رہے کہ جب پیغمبر اسلام نے تبلیغ دین کے ساتھ اسلامی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو دنیا کے سامنے ایک بالکل نیا نظام حکومت پیش کیا گیا۔ اگلے شمارے میں ہم اسلامی نظام حکومت اور بادشاہت کے درمیان فرق کی وضاحت کریں گے۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

5 – پانچویں قسط

ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد اور اسلام کا عروج

0
ہندوستان میں مسلماںوں کی آمد اور اسلام کا عروج
ہندوستان میں مسلماںوں کی آمد اور اسلام کا عروج

مسلمانوں کے خلاف بات کرنے والے یہی پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام غوری اور غزنوی کے حملوں کے دوران آیا، جب کہ سچ یہ ہے کہ مسلمان تاجر، علمائے کرام اور عام مسلمانوں کی ہجرت سے ہجرت کے پہلے سال ہندوستان آنے لگے تھے۔

ہندو مسلم اتحاد قائم کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، میں اب ایک بہت اہم موضوع کی طرف آیا ہوں۔ اس حصے میں میں ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد اور اسلام کے پھیلاؤ کے بارے میں بات کروں گا۔ آپ نے سنا ہوگا کہ کچھ دن پہلے ممبئی میں ایک میٹنگ میں آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ اسلام ہندوستان میں حملہ آوروں کے ذریعے آیا۔ جبکہ ان کا یہ قول سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ مسلمانوں کے خلاف بات کرنے والے یہی پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام غوری اور غزنوی کے حملوں کے دوران آیا، جب کہ سچ یہ ہے کہ مسلمان تاجر، علمائے کرام اور عام مسلمانوں کی ہجرت سے ہجرت کے پہلے سال ہندوستان آنے لگے تھے۔

بہت سے تاجر جو ہندوستان سے مصالحہ جات اور جواہرات خرید کر عرب ممالک کو بیچتے تھے وہ صدیوں تک فیری کے ذریعے گجرات اور کیرالہ کی بندرگاہوں پر آتے تھے اور جب عرب میں اسلام کا ظہور ہوا تو عرب تاجروں نے اسلام قبول کرلیا اور ہندوستان آتے رہے۔

ہندوستان کی سرزمین پر پہلی مسجد

بعض اوقات عرب تاجروں کو موسم کی خرابی کی وجہ سے مہینوں ہندوستان میں رہنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے انہیں نماز پڑھنے کے لیے مسجد کی ضرورت پڑتی تھی، اس لیے اس وقت کے ہندوستانی حکمرانوں نے انہیں مسجد بنانے کی اجازت دے دی۔ اسی وجہ سے اس زمانے میں ہندوستان کی سرزمین پر پہلی مسجد بنائی گئی جب کہ عرب کے بہت سے علاقوں میں کوئی مسجد نہیں تھی۔

گجرات کے شہر بھاؤ نگر کے گاؤں گھوگھا میں آج بھی 1400 سال پرانی مسجد موجود ہے جس کا رخ کعبہ کی طرف نہیں بلکہ یروشلم میں بنی مسجد اقصیٰ کی طرف ہے جس کی طرف ابتدائی دور میں مسلمان اپنی نمازیں ادا کرتے تھے۔ لیکن ہجرت کے دوسرے سال جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آیا تو مساجد کا رخ مکہ کی طرف ہونا شروع ہو گیا۔ چونکہ بھاؤ نگر کی قدیم ترین مسجد کا رخ یروشلم کی طرف ہے، اس لیے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ یہ مسجد 622 عیسوی میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دوران) مکمل ہوئی تھی۔ یہ مسجد اتنی چھوٹی ہے کہ اس میں صرف 25 لوگوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔

صحابی حضرت مالک بن دینار کی ہندوستان آمد

اس مسجد کے علاوہ ایک اور 1400 سال پرانی مسجد ہے جو کیرالہ کے تھریسور ضلع کے کوڈنگلور تعلقہ میں واقع ہے جسے چیرامن کی جامع مسجد کہا جاتا ہے۔ بی بی سی کی 13 اکتوبر 2015 کوشائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ہندوستان کی پہلی مسجد تھی جو کہ نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں تعمیر کی گئی تھی، جس کے لئے یہ زمین بادشاہ چیرامن پیرومل نے دی تھی۔ کچھ دوسرے حوالوں کے مطابق، چیرامن کی جامع مسجد 629 عیسوی میں حضرت محمد ﷺ کے ایک صحابی حضرت مالک بن دینار کی ہندوستان آمد کے بعد بادشاہ چیرامن پیرومل کی طرف سے دی گئی زمین پر تعمیر کی گئی تھی۔ اس طرح ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں تعمیر ہونے والی یہ دوسری مسجد تھی۔

ہندوستانی سادھوؤں کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات

ویسے تو کئی ہندوستانی سادھوؤں کی مدینہ جا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی باتیں بھی بعض تاریخی کہانیوں کا حصہ ہیں۔ ان میں سے ایک بابا رتن سین کا نام بہت مشہور ہے۔ وہ شق القمر (چاند کے دوٹکڑے ہونے کا معجزاتی واقعہ) کے بعد مدینہ تشریف لے گئے تھے اور نبی ﷺ سے اس وقت ملاقات کی جب آپ اور صحابہ جنگِ خندق (دفاعی خندق کی جنگ) لڑ رہے تھے تاکہ مدینہ شہر کو مسلم دشمن قوتوں کے حملے سے بچایا جا سکے)۔

کہا جاتا ہے کہ حضورﷺ نے انہیں لمبی عمر سے نوازا، جس کی وجہ سے بابا رتن سین تقریباً 600 سال زندہ رہے، ان کا مقبرہ آج بھی پنجاب کے شہر بھٹنڈہ کے محلہ حاجی رتن نگر میں موجود ہے۔ ویسے کچھ عقائد کے مطابق بابا رتن سین کی سمادھی امروہہ ضلع کے گاؤں دھنورہ میں واقع ہے۔ اسلامی دنیا میں وہ بابا رتن الہند کے نام سے معروف ہیں۔

کسی مہاجر سے اس کا مذہب پوچھا نہیں جاتا تھا

دوسری طرف کئی مسلم مذہبی رہنما اور تاجر بھی ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں مسلسل آ رہے تھے۔ اس وقت پرامن طریقے سے کسی ملک میں داخل ہونے پر کوئی پابندی نہیں تھی، کسی کو ویزا دکھانے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی کسی مہاجر سے اس کا مذہب پوچھا جاتا تھا۔ اس لئے کوئی بھی شخص کہیں بھی اپنا گھر بنا سکتا تھا۔

چونکہ ہندوستان مسلم ممالک کی سرحدوں سے ملتا تھا اس لیے کافی تعداد میں لوگ ہندوستان آتے تھے۔ ایسے پہلے زائرین میں سے ایک حضرت علی کی بیٹی حضرت رقیہ بنت علی تھیں۔ حضرت علیؓ یہ صاحبزادی بی بی پاک دامن کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ حضرت رقیہ بنت علی اور ان کے ساتھ جانے والی دیگر خواتین کے مزارات پاکستان کے شہر لاہور میں واقع ہیں (جو 1947 تک غیر منقسم ہندوستان کا حصہ تھا)۔ اگلے حصے میں، میں بی بی پاک دامن اور دیگر مسلمانوں کے بارے میں بات کی جائے گی، جنہوں نے ہندوستان کو ہمیشہ کے لیے اپنا مسکن بنایا۔ (جاری)

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

4 – چوتھی قسط

ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی – 4

0
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی - 4
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی - 4

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو ہماری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں…  پانچواں حصہ کل پڑھیں۔

ہندو مسلم تنازعہ: اس حصے میں میں آپ کو اس اصطلاح سے متعارف کرواؤں گا جو بظاہر قرآن میں سناتن دھرم کے لئے استعمال ہوا ہے۔ میرے خیال میں اس راز سے اس لئے بھی پردہ اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دیوار کو کھڑا کرنے کے لیے لفظ کافر سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ جبکہ کافر کا لغوی معنی ہے انکار کرنے والا۔ (سناتن دھرم نے بھی اسی مفہوم کے اظہار کے لئے ہزاروں سال پہلے دنیا کو "ملحد” کا لفظ دیا تھا)۔

ظاہر ہے یہ لفظ توحید کا عقیدہ رکھنے والوں کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ 1400 سال پہلے وہ لوگ جنہوں نے پیغمبر اسلام کی توحید کے پیغام کو رد کردیا تھا انہیں قرآن میں کافر کہا گیا ہے، اور کئی آیات میں اسے کفار قریش کہا گیا ہے۔ یہ اصطلاح ایک خاص گروہ کے لیے استعمال ہوتی تھی جو مکہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آباد تھا۔ اس گروہ کے علاوہ تین اور مذاہب کے نام قرآن میں آئے ہیں، ایک مذہب کا نام نصاری (عیسائی) بتایا گیا ہے، دوسرے کا یہودی اور تیسرے کا نام صابئین ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ علمائے اسلام نے طویل عرصے تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ صابئین کو کس گروہ کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ اکثر لوگ کہتے رہے کہ صابئین کو ایک مذہبی گروہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو ستاروں اور برجوں پر یقین رکھتا ہے۔ اردو لغات کے مطابق بھی اس لفظ کا معنی ستاروں پر اعتقاد رکھنے والی قوم ہے۔

لیکن پچھلی صدی میں بعض مسلم علمائے کرام نے لفظ صابئین کی تشریح کرتے ہوئے لکھا کہ قرآن نے جس مذہب کے گروہ کو صابئین کے نام سے مخاطب کیا ہے وہ سناتن دھرم ہے۔ ویسے بھی لفظ صابئین اور سناتن کا (ہندی اور سنسکرت میں) پہلا اور آخری حرف ایک ہی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جس طرح قرآن نے عیسائیوں کو عیسائی کے بجائے نصاری کے نام سے مخاطب کیا ہے، اسی طرح سناتن دھرم کو شاید صابئین کہا جاتا ہو۔

ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ قرآن میں سورہ بقرۃ کی 62ویں آیت میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ ’’یقیناً جو لوگ ایمان والے (صادق اور سچے مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور نصاریٰ (عیسائی) اور صابئین ہیں، ان میں سے جو اللہ (خدا) پر اور آخری دن (قیامت کے دن) پر ایمان رکھتے ہوں، اور نیک عمل کرتے ہوں، تو ان کے رب کے پاس ان کے لیے اجر ہے، نہ ان پر کوئی خوف غالب ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے)۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اجر دینے کا وعدہ کر رہا ہے جو خدا کے وجود، یوم قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں۔

صابئین کے سناتن دھرم ہونے کا دعویٰ اس لئے بھی لیا جا سکتا ہے کہ ابن کثیر کی تفسیر القرآن (تفسیر ابن کثیر) میں عبدالرحمٰن بن زید نے لکھا ہے کہ صابئین اپنے آپ کو حضرت نوح علیہ السلام کی امت (منو کے پیروکار) کہا کرتے تھے۔” مزید لکھا ہے کہ صابئین صابی کی جمع ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو شروع میں کسی نہ کسی سچے مذہب کی پیروی کرتے رہے ہوں گے کیونکہ قرآن میں ان کا نام یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ آیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صابئین اپنے آپ کو حضرت نوح (منو) کی پیروی کرنے والا طبقہ کہتے تھے۔

ویکیپیڈیا میں ہے کہ صابئین ایک مذہبی طبقہ تھا جو توحید پر یقین رکھتا تھا اور خدا کے رسولوں (اوتاروں) پر بھی یقین رکھتا تھا؛ یہ طبقہ دراصل اہل کتاب (الہامی صحیفوں والی جماعت) تھا۔

ویسے مسلم مذہبی رہنما مولانا شمس نوید عثمانی نے صابئین کو سناتن دھرم ثابت کرنے کے لیے اپنی کتاب "اگر بھی نہیں جانے تو” میں کئی دلائل پیش کئے ہیں۔ مولانا عثمانی نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ قرآن کی سورۃ شوریٰ اور سورۃ النحل میں دیگر مذہبی متون کے لیے عربی زبان میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان سے مراد صحائف اور بڑے صفحات ہیں (زمانہ قدیم سے کسی بھی چیز کے لیے پتے استعمال ہوتے تھے۔ لکھنا، تاکہ الگ الگ صفحات کی صورت میں رکھا جا سکے، اس لیے قرآن میں خدا کی بھیجی ہوئی دوسری کتابوں کو بڑے صفحات کا نام دیا گیا تھا)۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ بعض علمائے کرام نے ہندو اور مسلم لکھ کر مذہب کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی۔ دونوں مذاہب کو قریب کریں۔ میری بھی یہی کوشش ہے۔ (جاری)

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو ہماری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں…  پانچواں حصہ کل پڑھیں۔

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

3 – تیسری قسط

گجرات فسادات کی نئے سرے سے جانچ کے مطالبہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

0
گجرات فسادات کی نئے سرے سے جانچ کے مطالبہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ
گجرات فسادات کی نئے سرے سے جانچ کے مطالبہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے 2002 میں گودھرا فسادات کے بعد گجرات کے مختلف حصوں میں بھڑکے فسادات کے معاملات کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے تحقیقات کے طریقوں پر سوال اٹھاتے ہوئے اسکی نئے سرے سے جانچ کی مانگ والی عرضی پر سماعت کے بعد جمعرات کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2002 میں گودھرا فسادات کے بعد گجرات کے مختلف حصوں میں بھڑکے فسادات کے معاملات کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے تحقیقات کے طریقوں پر سوال اٹھاتے ہوئے اسکی نئے سرے سے جانچ کی مانگ والی عرضی پر سماعت کے بعد جمعرات کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جج اے ایم خانولکر کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے آنجہانی سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ احسان جعفری کے علاوہ ایس آئی ٹی اور دیگر کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلہ محفو ظ کرلیا۔ فساد میں سابق رکن پارلیمان جعفری مارے گئے تھے۔

عرضی گزار نے فسادات میں سیاستدانوں اور گجرات پولیس پر ساز باز کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے ٹھیک طرح سے تفتیش کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، جس سے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی اور دیگر الزام سے بری ہوگئے۔ اس لئے اس معاملے کی نئے سرے سے تفتیش کئے جانے کی ضرورت ہے۔

ملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت اور ضروری دستاویزات دستیاب ہونے کے باوجود بری

سینئر وکیل کپل سبل نے سماعت کے دوران سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے بنچ کے سامنے کہا کہ ملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت اور ضروری دستاویزات دستیاب ہونے کے باوجود ایس آئی ٹی نے ملزمین کو قصوروار نہیں مانا۔ اس کا فائدہ ملزمین کو ملا اور وہ عدالت سے بری ہوگئے۔

ایس آئی ٹی کا موقف رکھتے ہوئے ہندوستان کے سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عرضی گزاروں کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں سنگین طریقہ سے تفصیلی جانچ کی گئی تھی۔ تمام ثبوتوں اور دستاویزات کی مکمل تحقیقات کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ 27 فروری 2002 کو گجرات کے گودھرا ریلوے اسٹیشن پر سابرمتی ایکسپریس ٹرین پر سینکڑوں لوگوں کی ایک بے قابو بھیڑ نے حملہ کردیا تھا جس میں 59 مسافر مارے گئے تھے۔ اس واقعہ کے اگلے دن 28 فروری کو گجرات کے مختلف حصوں میں فسادا ت بھڑک گئے تھے، جس میں احسان جعفری سمیت سیکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔

شیئر مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی

0
شیئر مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی
شیئر مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی

شیئر مارکیٹ میں تیزی کا سلسلہ جاری، سینسیکس 157.45 پوائنٹس بڑھ کر 58807.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 47.10 پوائنٹس کے اضافے سے 17516.85 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

ممبئی: عالمی سطح سے ملے جلے اشاروں کے درمیان گھریلو سطح پر کیپٹل گڈس، انرجی، ٹیلی کام اور انڈسٹریل جیسے گروپوں میں خرید کی وجہ سے شیئر مارکیٹ میں آج مسلسل تیسرے دن تیزی رہی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا سینسری انڈیکس سینسیکس 157.45 پوائنٹس بڑھ کر 58807.13 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 47.10 پوائنٹس کے اضافے سے 17516.85 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ بی ایس ای پر چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں نے بھی زبردست خرید کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے مڈ کیپ 0.38 فیصد بڑھ کر 25608.33 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.80 فیصد بڑھ کر 29014.46 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

بی ایس ای میں زبردست منافع میں رہنے والوں میں کیپٹل گڈس 1.98 فیصد، انرجی 1.38 فیصد، ٹیلی کام 1.14 فیصد اور انڈسٹریل 1.08 فیصد شامل ہیں۔ بینکنگ 0.53 فیصد اور فائنانس 0.39 فیصد گراوٹ کا شکار ہیں۔

بی ایس ای پر کل 3398 کمپنیوں کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2111 میں اضافہ اور 1165 میں کمی جبکہ 122 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

عالمی سطح پر، ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 1.08 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.98 فیصد اضافہ کے ساتھ ملا جلا رجحان رہا، جبکہ برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.06 فیصد، جرمنی کے ڈی ای ایکس میں 0.22 فیصد اور جاپان کے نکئی میں 0.74 فیصد اضافہ ہوا۔

ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی [تیسری قسط]

0
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی [تیسری قسط]
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی [تیسری قسط]

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو ہماری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں…  چوتھا حصہ کل پڑھیں۔

تحریر: شکیل حسن شمسی

ہندو مسلم تنازعہ: اس میں کوئی شک نہیں کہ سناتن (ہندو) مذہب اس وقت دنیا کے تمام مذاہب میں سب سے قدیم ہے اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ سناتن دھرم نے سب سے پہلے سناتن دھرم نے دنیا کو سچ، جھوٹ، انسانیت، شیطانی، گناہ پن، اور ہمدردی جیسے الفاظ کے درمیان فرق بتایا ہے۔ سناتن دھرم نے سب سے پہلے دنیا کو بتایا کہ اچھے کام کرنے والے جنت میں جائیں گے اور برے کام کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ اسی مذہب نے اپسرا اور یمدوت جیسے نام متعارف کروائے تھے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہزاروں سال کے بعد ہندوستان سے ہزاروں میل دور سرزمین عرب سے وہی باتیں کہی گئیں، اسلام نے ستیہ اور استیہ کو حق و باطل، مانوتا اور دانوتا کو انسانیت اور حیوانیت، پاپ اور پونیہ کو گناہ اور ثواب، اور کرونا و کرورتا کو صلہ رحمی اور ظلم کہا؟ سورگ کو جنت اور نرک کو جہنم مسلمان بھی کہتے ہیں۔

جس طرح ہندو جنت میں رہنے والی لڑکیوں کو اپسرا کہتے ہیں، اسی طرح مسلمان جنت میں رہنے والی لڑکیوں کو حور کہتے ہیں۔ ہندو مذہب میں یمدوت کسی کی جان لینے کے لیے آتے ہیں جبکہ مسلمانوں میں ملک الموت روح کو جسم سے نکالنے کے لیے آتا ہے۔

جب مسلمان حج پر جاتے ہیں تو وہ کعبہ کے 7 چکر لگاتے ہیں اور صفا اور مروہ نامی دو پہاڑیوں کے 7 چکر بھی لگاتے ہیں۔ جبکہ ہندو مذہب کے پیروکار بعض مندروں میں سات مرتبہ طواف کرتے ہیں۔ روزنامہ پنجاب کیسری میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ "یہ سب کو معلوم ہے کہ ہندو مذہب کی قدیم روایات کے مطابق مندر میں عبادت کے بعد خدا کا طواف کرنا بہت ضروری ہے۔ کچھ یہ گنتی 3 اور کچھ 7 کی گنتی میں کرتے ہیں۔

کیا کبھی کسی نے آپ کو بتایا ہے کہ رگ وید میں جوا اور شراب پینا ممنوع ہے (رگ وید 7*.86.*6 – ضمیر کی آواز کو سن کر کیا جانے والا عمل ‘گناہ’ کا باعث نہیں بنتا، لیکن اس آواز کو نظر انداز کرنے سے غم اور مایوسی پیدا ہوتی ہے، جو ہمیں نشہ میں مبتلا کر دیتی ہے جو ہمیں نشے اور جوئے ہی کی طرح تباہ کردیتے ہیں) اسلام ان دونوں چیزوں سے بھی منع کرتا ہے جبکہ عرب سے شروع ہونے والی دیگر دو مذاہب میں شراب پینے پر کوئی پابندی نہیں ہے، بلکہ یہودیوں کی مقدس کتا ب میں شراب کی تعریف کی گئی ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تمام تہوار قمری (چاند کے) کیلنڈر کے مطابق منائے جاتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسلام نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اس زمین پر حضرت محمد کے علاوہ کوئی دوسرا شخص خدا کا خلیفہ بن کر نہیں آیا بلکہ ہر مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنا واجب ہے کہ اللہ (خدا) نے اس دنیا میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس چار ہزار نبی (پیغمبر ، پیامبر یا نمائندے) بھیجے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مسلمان علماء اس بات کا بھی امکان ظاہر کرتے ہیں کہ شاید رام چندر جی، کرشنا جی اور گوتم بدھ بھی پیغمبر تھے۔

یہاں ایک اہم نکتہ بتانے کی ضرورت یہ ہے کہ بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ وید اور دیگر مذہبی کتابوں، ویدوں، پرانوں اور اپنشدوں میں پیغمبر محمد ﷺ کی آمد کی پیش گوئی کی ہے۔ روزنامہ جاگرن کی ویب سائٹ میں ’’ویدوں، پرانوں اور اپنشدوں میں پیغمبر محمد‘‘ (‘’वेद,पुराण,और उपनिषद में पैगम्बर मोहम्मद’’) کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے، ’’ویدوں کے مطابق چڑھنے والے کا نام ’نارشن‘ ہوگا۔ ‘نارشان’ کا عربی ترجمہ ‘محمد’ ہے۔ (سیانا تفسیر، رگ وید سمہیتا، 5/5/2)۔ اصل منتر مندرجہ ذیل ہے- “نارشان: سسوداتیم یجنامادابھیا (–‘‘नराशंस: सुषूदतीमं यज्ञामदाभ्यः ।)۔

کاویری رگ وید میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ‘احمدی پیتوشپری میڈھامرتسیا جگربھ۔ احم سوریا ایوجانی.. یہ سموید میں بھی ہے: ‘احمدی پٹھو پرمیڈھمرتسیا جگربھ۔ احم سوریا ایوجانی۔ (سمویدا pr. 2 d. 6 m. مہارشی ویاس کے اٹھارہ پران ‘بھویشیا پرانا’ ہیں۔ ان کی ایک آیت یہ ہے: "ایک آچاریہ اپنے دوستوں کے ساتھ دوسرے ملک آئے گا۔ اس کا نام محمد ہوگا۔ وہ صحرا کے ہوں گے۔ علاقے میں آئیں گے۔ (بھویشیا پرانا اے 323 ایس یو۔ 5 تا 8) "ہندوؤں کی دیگر مذہبی تحریروں میں بھی حضرت محمد کی آمد کی پیش گوئی کی گئی ہے، لیکن اس قدر تفصیل یہاں ممکن نہیں ہے۔

اگلی قسط میں آپ کو بتاؤں گا کہ قرآن شریف میں ہندوؤں (سناتن دھرمیوں) کا کس نام سے ذکر کیا گیا ہے۔

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو ہماری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں…  چوتھا حصہ کل پڑھیں۔

سلسلہ وار پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنکوں پر کلک کریں:

1 – پہلی قسط

2 – دوسری قسط

جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت

0
جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت
جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت

جنرل راوت ایئر فورس کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر میں ویلنگٹن کے ڈیفنس سروسز کالج میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں 14 افراد سوار تھے۔

نئی دہلی: ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور دیگر 11 افراد کی آج اس وقت موت ہو گئی جب تمل ناڈو کے کنور میں ایئر فورس کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔ فضائیہ نے ایک ٹویٹ میں یہ جانکاری دی۔ ہیلی کاپٹر میں سوار گروپ کیپٹن ورون سنگھ حادثے میں زخمی ہو گئے اور ان کا ویلنگٹن کے ملٹری ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔

جنرل راوت ایئر فورس کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر میں ویلنگٹن کے ڈیفنس سروسز کالج میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں 14 افراد سوار تھے۔ ہیلی کاپٹر تمل ناڈو کے ضلع نیلگیری کے کنور علاقے میں سلور سے ٹیک آف کرنے کے بعد گر کر تباہ ہو گیا۔

راوت کی موت پر راج ناتھ سنگھ کا اظہار رنج و غم

جنرل راوت کی موت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ان کی موت سے ملک اور مسلح افواج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

ایک ٹویٹ پیغام میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ "چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور مسلح افواج کے دیگر 11 اہلکاروں کی اچانک موت سے انہیں دلی تکلیف ہوئی ہے۔ ان کی بے وقت موت ملک اور مسلح افواج کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔‘‘

فضائیہ نے ایک ٹویٹ میں جنرل راوت کی موت کی تصدیق کی۔ فضائیہ نے کہا کہ انتہائی افسوس کے ساتھ اس بات کی تصدیق کی جا رہی ہے کہ اس افسوسناک واقعہ میں جنرل راوت، ان کی اہلیہ اور 11 دیگر افراد کی موت ہو گئی ہے۔  فضائیہ نے کہا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار گروپ کیپٹن ورون سنگھ اس حادثے میں زخمی ہوگئے ہیں اور ان کا ویلنگٹن کے ملٹری ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔

ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی [دوسری قسط]

0
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی [دوسری قسط]
ہندو مسلم تنازعہ: کتنا مذہبی کتنا سیاسی [دوسری قسط]

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو میری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں … تیسرا حصہ کل پڑھیں۔

تحریر: شکیل حسن شمسی

اس سیریز کے ذریعہ ہماری کوشش ہوگی کہ ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان نفرت کو کم کیا جائے۔ اگر آپ کو میری مہم پسند آئے تو مضمون کو شیئر ضرور کریں … تیسرا حصہ کل پڑھیں۔

میرا ماننا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی مذہبی جھگڑا نہیں ہوا، فرقہ پرست طاقتوں، انگریزوں اور سیاستدانوں نے اپنے مفاد کے لیے ہندوؤں کو مسلمانوں سے دور کر دیا۔ آپ کو ایک بار پھر بتاتا چلوں کہ میں نے سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت کم کرنے کی مہم شروع کی ہے، یہ اسی کا دوسرا حصہ ہے۔ میں آپ کو ایک نئی بات بتانا چاہتا ہوں۔

عیسائیوں اور یہودیوں کو عموماً مسلمانوں کے قریبی مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ تینوں مذاہب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے متعلق ہیں اور سرزمین عرب سے پھیلے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے عقائد اور نظریات میں بہت فرق ہے۔ اول یہ کہ سناتن دھرم (ہندومت) نے ہزاروں سال پہلے دنیا کو توحید سے متعارف کرایا تھا اور توحید مسلمانوں کے لئے بنیادی رکن ایمان ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ہندو صحائف کے ذریعے سب سے پہلے دنیا کو یہ بتایا گیا کہ اس دنیا کا خالق خدا ہے جو شکل اور صورت سے پاک ہے، جو لامحدود ہے، جو ہر جگہ ہے اور کہیں نہیں ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بلاشبہ مسلمان عالم بھی خدا (اللہ) سے متعلق یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔

ایک بار میں نے شنکر اچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی سے پوچھا، سناتن دھرم میں خدا کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا اللہ سے متعلق جو عقیدہ ہے وہی عقیدہ ہندوؤں کا خدا کے بارے میں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہندو یہ مانتے ہیں کہ خدا خود انسان کی شکل میں زمین پر نازل ہو سکتا ہے جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی شکل اختیار کرنے کے بجائے زمین پر اپنا نبی (اوتار) بھیجتا ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو واضح طور پر کہا ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کی پیروی نہ کریں۔
اوتاروں اور قابل احترام افراد کے بارے میں نازیبا الفاظ نہ بولیں۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ "دیکھو، جو لوگ اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کو پکارتے ہیں، ان کو برا مت کہو” مزید کہا گیا ہے کہ ہم (اللہ / خدا) نے انسان کی طبیعت (ذہن) اس طرح کی بنائی ہے کہ ہر جماعت اور فرقہ کو اپنا عمل اچھا نظر آتا ہے، پھر آخر کار سب کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔”

قرآن پاک کی 5ویں سورۃ کی 48ویں آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک خاص شریعت (مذہبی ضابطہ) اور طریقہ مقرر کیا ہے اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت (ایک مذہبی جماعت) بنا دیتا۔ لیکن اُس نے اپنی مرضی کے مطابق جو قانون بنایا ہے اُس سے تمہاری آزمائش کرنا ہے (لہٰذا) نیکی کی راہوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔”

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ تمام مختلف مذاہب اللہ (خدا) کی مرضی سے بنائے گئے ہیں اور وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے نیک اعمال کریں۔

ذرا سوچئے، انسانی معاشرہ خدا کی مرضی سے تقسیم ہوچکا ہے، پھر مذہب کے نام پر لڑنے کی کیا ضرورت ہے۔
دونوں مذاہب کتنے قریب ہیں اس کا اندازہ لگانے کے لیے میں آپ کو ویدوں اور قرآن میں لکھی ہوئی کچھ ایسی ہی چیزوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ اگر قرآن نے 1400 سال پہلے کہا تھا کہ اللہ (خدا) ایک ہے، تو کئی ہزار سال پہلے ہندو صحیفوں میں بھی یہ بات کہی جاچکی ہے "ایکم آدویتیم” (“एकम् एवाद्वितियम”) یعنی ‘وہ صرف ایک ہے’۔

اسی طرح قرآن کی سورۃ توحید (سورۃ الاِخلَاص) میں ارشاد ہے کہ ‘‘کہہ دو اللہ ایک ہے، وہ معصوم ہے، اس کا کوئی بیٹا نہیں، وہ کسی کا بیٹا نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی جیون ساتھی ہے’’۔ ہندوؤں کا صحیفہ ہے، یہ اس طرح لکھا گیا ہے۔ اس کے نہ والدین ہیں اور نہ ہی اولاد۔ (سویتسواترا اپنشد، ادھیائے 4، شلوک 19) "نا تسیہ پرتیما استی” ("न तस्य प्रतिमा अस्ति”) یعنی اس کی کوئی شبیہ نہیں ہو سکتی۔ آسیہ، نہ کاکسوسا پشیاتی کسا کنینم ("न सम्द्रसे तिस्थति रूपम् अस्य, न कक्सुसा पश्यति कस कनैनम”) کا مطلب یہ ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا، اسے کسی کی آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ (ویدانت کا برہما سترا) "ایکم برہما، دویتیے ناستے، نیہ ناستے، ناستے کنچن” ("एकम् ब्रह्म, द्वितीय नास्ते, नेह-नये नास्ते, नास्ते किंचन”) کا مطلب ہے کہ خدا ایک ہے، دوسرا نہیں ہے، نہیں ہے، نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے۔

گیتا کے دوسرے باب کی 40ویں آیت میں کہا گیا ہے کہ "مذہبی انتشار کو چھوڑ کر صرف میری (رب) کی پناہ لو، یعنی ایک خدا پر مکمل ایمان ہی دین کی جڑ ہے۔ اس خدا کو حاصل کرنے کے لئے طے شدہ طریقہ کا طرز عمل ہی راہ سلوک ہے۔”

میں یہاں یہ بتاتا چلوں کہ مسلمان اسلام کے پھیلنے کے چند سالوں میں ہی ہندوستان آ گئے تھے، لیکن انہیں ویدوں کی تعلیمات کا علم نہیں ہوا تھا، یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ سناتن دھرم کو نہیں سمجھ سکے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وید عام لوگوں کی رسائی سے باہر تھے اور صرف اعلیٰ طبقات ہی انہیں پڑھ سکتے تھے۔
اگر آپ کو میری یہ مہم پسند ہے تو اس مضمون کو آگے شیئر کریں…اور تیسرا حصہ کل پڑھیں۔

(1) پہلی قسط

راہل نے پارلیمنٹ میں شہید کسانوں کی فہرست حکومت کو دی، معاوضہ اور ملازمت دینے کی مانگ

0
راہل نے پارلیمنٹ میں شہید کسانوں کی فہرست حکومت کو دی، معاوضہ اور ملازمت دینے کی مانگ
راہل نے پارلیمنٹ میں شہید کسانوں کی فہرست حکومت کو دی، معاوضہ اور ملازمت دینے کی مانگ

کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے ملک میں تین زرعی قوانین کے خلاف تحریک میں شہید کسانوں کی فہرست کی فہرست آج لوک سبھا میں پیش کی۔

نئی دہلی: کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے ملک میں تین زرعی قوانین کے خلاف تحریک میں جانیں گنوانے والے کسانوں کی فہرست آج لوک سبھا میں پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مانگ کی کہ ہریانہ اور پنجاب کے ان ’شہید‘ کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ اور ملازمت دی جائے۔

لوک سبھا میں وقفہ صفر شروع ہوتے ہی صدر اوم برلا نے مسٹر گاندھی کا نام پکارا۔ مسٹر گاندھی نے سب سے پہلے انہیں بولنے کا موقع دینے کے لئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جیسا کہ پورا ملک جانتا ہے کہ کسان تحریک میں تقریباً سات سو کسانوں نے شہادت دی ہے۔ وزیر اعظم جی نے خود ملک کے کسانوں سے معافی مانگی ہے اور اپنی غلطی قبول کی ہے۔

پنجاب حکومت نے ایسے چار سو کسانوں کو پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ دیا

کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ گزشتہ 30 نومبر کو وزیر زراعت سے جب پوچھا گیا کہ کسان تحریک میں کتنی اموات ہوئی ہیں تو انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ فہرست لیکر آئے ہیں اور اسے ایوان کی میز پر رکھنا چاہتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ایسے چار سو کسانوں کو پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ دیا ہے اور 152 کو ملازمت دی ہے۔ ایک فہرست ہریانہ کے 70 کسانوں کی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جی نے معافی مانگی ہے اور کتنے شہید ہوئے ہیں، یہ انکو پتہ نہیں ہے۔ یہ نام ہمارے پاس ہیں، میں چاہتا ہوں کہ جو حق ان کو ملنا چاہئے وہ حق پورا ملنا چاہئے۔ ان کسانوں کے کنبوں کو معاوضہ اور ملازمت ملنی چاہئے۔

مسٹر گاندھی اتنا کہہ کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد فریق اپوزیشن اور اقتدار میں کچھ نوک جھونک بھی ہوئی۔ بعد میں اپوزیشن نے فریقہ اقتدار پر کسانو ں کے حق مارنے کا الزام لگاتے ہوئے نعرے بازی کی اور ایوان سے واک آوٹ کیا۔ ان اپوزیشن جماعتوں میں کانگریس، بائیں بازو اور دراوڑ منتر کزگم شامل ہیں۔