پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 273

ہم بھارت کے لوگ جب آئین ہند پڑھتے ہیں تو متحد نظر آتے ہیں

0
ہم بھارت کے لوگ جب آئین ہند پڑھتے ہیں تو متحد نظر آتے ہیں
ہم بھارت کے لوگ جب آئین ہند پڑھتے ہیں تو متحد نظر آتے ہیں

جب ہم آئین کی تمہید پڑھتے ہیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ فی الحال تو ’ہم بھارت کے لوگ‘ سب ایک ہیں اور آئین کی اصل روح کو بچانے میں کامیاب ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

’’ہم بھارت کے لوگ متانت و سنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک مقتدر سوشلسٹ سیکولر عوامی جمہوریہ بنائیں گے اور اس کے تمام شہریوں کے لیے:سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف؛ خیال، اظہار، عقیدہ، مذہب اور عبادت کی آزادی، بہ اعتبار حیثیت اور موقع مساوات حاصل کریں گے اور ان سب میں اخوت کو فروغ دیں گے، جس سے فرد کی عظمت، قوم کے اتحاد اور سالمیت کا تیقن ہو، اپنی آئین ساز اسمبلی میں آج 26/نومبر 1949ء کو یہ آئین ذریعہ ہذا اختیار کرتے ہیں، وضع کرتے ہیں اور اپنے آپ پر نافذ کرتے ہیں۔‘‘

ہندوستانی آئین کی یہ تمہید ہمارے دستور کا ایک مختصر تعارف نامہ ہے، جس کا ایک لفظ انتہائی اہم اور با معنی ہے۔ اس میں ہندوستان کے باشندوں کی رہنمائی، آئین کے اصول و ضوابط کی پیش کش، عوام کی امیدوں، توقعات اور عزائم کو عملی جامہ پہنانا اور اس ماخذ کا اعلان کرنا ہے، جہاں سے یہ دستاویز ماخوذ ہے۔ اس تمہید کو بجا طور پر مکمل دستور کا نمائندہ پیش لفظ بھی کہا جا سکتا ہے۔

26 جنوری 1950ء سے پہلے ہمارا ملک

ہمارا ملک بھلے ہی 15؍ اگست 1947ء کو آزاد ہو گیا تھا، لیکن ایک خودمختار ملک تب ہی وجود میں آتا ہے جب اس کا اپنا دستور ہو اور ایک نظام ہو۔ اس لحاظ سے ہندوستان کو 26؍ جنوری 1950ء کو ایک خودمختار ملک کا درجہ ملا جب ہماری دستور ساز اسمبلی کے 366؍ ممبران نے آئین کو پاس کیا۔ اس سے قبل برطانوی حکومت نے ’انڈیا انڈیپنڈنس ایکٹ‘ کے تحت ملک کی باگ ڈور ہمارے قائدین کو سونپی تھی۔ یعنی 26؍ جنوری 1950ء سے پہلے ہمارے ملک میں تقریباً وہی قوانین نافذ تھے جو برطانوی پارلیمنٹ نے 1935ء میں ترمیم شدہ نوآبادیاتی قانون پاس کیے تھے۔ حالانکہ آزادی کے فوراً بعد 28؍ اگست 1947ء کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی سربراہی میں آئین ساز کمیٹی تشکیل دی گئی اور کمیٹی نے اسی سال 4؍ نومبر کو دستور ساز اسمبلی کو ایک مسودہ بھیجا۔

جشن جمہوریہ

اسمبلی کے کل 166؍ اجلاس ہوئے اور کافی بحث و مباحثے کے بعد بالآخر دو سال 11؍ ماہ اور 18؍ دن کے بعد 308؍ ممبران نے ایک خودمختار ہندوستان کے آئین پر دستخط کیے اور 24؍ جنوری 1950ء کو حکومت کے پاس بھیجا۔ دو روز کے بعد 26؍ جنوری کو حکومت نے اسے منظور کر لیا۔ اس طرح 26؍ جنوری 1950ء کو اس کا نفاذ عمل میں آیا۔ بعد ازاں یہی تاریخ ہندوستان کا یوم جمہوریہ کہلائی اور اسی عنوان سے ہر سال اس دن کو جشن جمہوریہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر لکھتے ہیں ’یہ درحقیقت ایک طرز زندگی تھا جو آزادی، مساوات اور اخوت کو زندگی کے اصولوں کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے اور یہ اصول ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوتے: چنانچہ آزادی مساوات سے جدا نہیں ہوتی، مساوات آزادی سے اپنا رشتہ منقطع نہیں کرتی۔ اسی طرح آزادی اور مساوات اخوت سے الگ نہیں ہوتے۔ آزادی مساوات کے بغیر چند افراد کو برتری عطا کر دیتی ہے۔ مساوات آزادی سے ہم رشتہ نہ ہو تو انفرادی اقدامات کو کچل دیتی ہے۔ نیز اخوت کے بغیر آزادی اور مساوات چیزوں کے فطری بہاؤ کو قائم نہیں رکھ سکتے۔‘

کسی بھی جمہوری ملک کی بنیادیں

اب ذرا آئین ہند کی اس تمہید، اس کے مقاصد اور قانون سازوں کے عزائم کی روشنی میں موجودہ حالات کا جائزہ لیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اعتماد، اخلاقی اقدار اور انسانیت کے تئیں ایمانداری جمہوریت کی کامیابی کی ضامن ہے۔ اس کے ساتھ ہی مساوات، ہم آہنگی، بھائی چارہ اور حب الوطنی وہ اقدار ہیں جن سے کسی بھی جمہوری ملک کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ 72؍ سال کے بعد آج بھی ہماری جمہوریت تمام تر نشیب و فراز، خدشات اور تحفظات کے درمیان مضبوطی کے ساتھ فی الوقت تو دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ اس کی اصل وجہ ہمارے آئین کی روح، ہماری اقدار و روایات، کثرت میں وحدت اور رنگ برنگی تہذیب وثقافت ہے۔ یہ سب مل کر اس ملک کی روح بنتے ہیں اور یہی روح ملک کی مضبوطی کا سبب بنتی ہے۔

اب اس ملک کے ہر باشندے کی ذمہ داری ہے کہ جب بھی ملک کے آئین، اقدار و روایات اور تہذیب و ثقافت پر آنچ آئے تو وہ اس کو بچانے کے لئے آگے آئے۔ کچھ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ یہ ملک اپنے شاندار ماضی اور اپنی اقدار و روایات کے ساتھ آگے بڑھے۔ اسی لئے پچھلے کچھ عرصہ سے مسلسل ایسی کوششیں ہو رہی ہیں کہ ہندوستان کے کثیر رنگی اور تکثیری ثقافت کے تانے بانے کو منتشر کر دیا جائے اور کسی مخصوص تہذیب، کسی خاص فکر اور کسی تنظیم کی اجارہ داری کو اس ملک پر تھوپ دیا جائے۔ اگر یہ طاقتیں اپنے عزائم میں کامیاب ہو گئیں تو نہ یہ ملک مضبوط رہ پائے گا اور نہ ہی ملک کا دستور اور جمہوریت۔

2022ء کا یوم جمہوریہ

افسوس 2022ء کا یوم جمہوریہ ہم ایک ایسے دور میں منا رہے ہیں جب نہ صرف آئین، بلکہ ہندوستان کی اصل روح کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آئین کی تمہید میں شامل ’سوشلسٹ‘ اور ’سیکولر‘ جیسے الفاظ اب غیر ضروری لگ رہے ہیں۔ عوامی جمہوریہ بنائے رکھنے کا عزم دم توڑتا نظر آ رہا ہے۔ شہریوں کے لیے سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔خیالات، اظہار رائے، مذہب اور عبادت کی آزادی پر پہرے بٹھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ مساوات اور اخوت و بھائی چارہ کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے تار تار کیا جا رہا ہے۔ ملک کے اتحاد اور سالمیت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

آئین کی تمہید میں 42؍ ویں ترمیم کے ذریعہ شامل الفاظ ’سیکولر‘ اور’سوشلسٹ‘ انتہاپسندوں کی آنکھوں میں ہمیشہ سے کھٹکتے رہے ہیں اور شدت پسند تنظیمیں کھلے طور پر یہ کہتی رہی ہیں کہ ان دونوں الفاظ کو آئین سے ہٹا دینا چاہیے۔ انہیں ہٹانے کے لئے نہ صرف سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی، بلکہ پارلیمنٹ کے ذریعہ بھی کوشش کی گئی کہ ان الفاظ کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔ کہا گیا کہ اس سے شہریوں پر سیاسی نظریہ تھوپا جا رہا ہے، کیونکہ حقیقت میں سیکولرازم اور سوشلزم سیاسی نظریہ ہے۔

ہری دوار میں ’دھرم‘ کے نام پر ہونے والی ’سنسد‘

بات اب اس سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ کچھ طاقتیں تمہید یا کچھ الفاظ ہی نہیں، پورے آئین کو ہی کالعدم قرار دینے کا کھلے عام مطالبہ کرنے لگی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہری دوار میں ’دھرم‘ کے نام پر ہونے والی ’سنسد‘ میں ’بھگوا آئین‘ کو پیش کیا گیا۔ باقاعدہ اسے چھپوا کر لایا گیا اور لوگوں سے اسے اپنانے کی اپیل کی گئی، لیکن کوئی کارروائی نہیں۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے مرکزی وزیر رہے اننت ہیگڑے نے ایک عوامی جلسے میں علی الاعلان کہا کہ ’ہم آئین کو بدلنے کے ارداے سے اقتدار میں آئے ہیں‘۔ اس کے علاوہ خود آر ایس ایس کے موجودہ سربراہ موہن بھاگوت نے حیدرآباد میں منعقدہ آل انڈیا ایڈوکیٹ کونسل کی کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ’ملک کے اقداری نظام کے مطابق آئین اور نظام انصاف‘ میں تبدیلیوں کی وکالت کی تھی۔

شہریت ترمیمی قانون

غرض یہ کہ وقفہ وقفہ سے ہم ایسے بیانات اور خیالات سے روبرو ہوتے رہتے ہیں، جہاں ہندوستانی آئین میں ’مغربی اثرات‘ کا حوالہ دے کر ’ہندوستانی اقدار‘ کو نظر انداز کرنے کے لئے، تنازعات کا شکار بنایا جاتا ہے۔ یہاں ہندوستانی اقدار سے مراد کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح آئین میں کئی غیر ضروری ترامیم کی جارہی ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون اس کی ایک بڑی مثال ہے۔

ایسے ہی ریزرویشن کے مسئلہ کو بھی بار بار سامنے لایا جاتا ہے۔ ’بھگوا آئین‘ کے ساتھ ساتھ ’منو اسمرتی‘ کو بار بار بحث کا موضوع بنا کر کیا اس ملک کے آئین یعنی اصل روح پر حملہ نہیں کیا جاتا؟ اس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جیسے ان سب حرکات کو حکمرانوں کی حمایت حاصل ہے، ورنہ مکمل خاموشی چہ معنی دارد؟ بہر حال جب ہم آئین کی تمہید پڑھتے ہیں تو یہ احساس تو رہتا ہی ہے کہ فی الوقت ہم بھارت کے لوگ سب ایک ہیں اور آئین کی اصل روح کو بچائے رکھنے میں کامیاب ہیں، لیکن آگے کیا ہونے والا ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

مضمون میں پیش کیے گئے افکار و آراء مضمون نگار کے ذاتی افکار ہیں

سڑک حادثہ میں مہاراشٹر کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت سات اسٹوڈنٹس ہلاک

0
سڑک حادثہ میں مہاراشٹر کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت سات اسٹوڈنٹس ہلاک
سڑک حادثہ میں مہاراشٹر کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت سات اسٹوڈنٹس ہلاک

مہاراشٹر کے ضلع وردھا میں ایک سڑک حادثہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت میڈیکل کے سات اسٹوڈنٹس کی موت

ناگپور: مہاراشٹر کے ضلع وردھا میں ایک سڑک حادثہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے کے بیٹے سمیت میڈیکل کے سات اسٹوڈنٹس کی موت ہو گئی۔

وردھا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ پرشانت ہولکر نے بتایا کہ حادثہ پیر کی رات تقریباً 11.30 بجے اس وقت پیش آیا جب اسٹوڈنٹس کی گاڑی دیولی کے سیلسورا سے گزر رہی تھی۔ اچانک ان کی گاڑی کے سامنے ایک جنگلی جانور آ گیا، ڈرائیور گاڑی پر سے کنٹرول کھو بیٹھا اور کار بے قابو ہو گئی۔

مسٹر ہولکر نے بتایا کہ کار پل سے گر گئی جس سے ساتوں اسٹوڈنٹس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ مرنے والوں کی شناخت نیرج چوہان، نتیش سنگھ، وویک نندن، پرتیوش سنگھ، شبھم جیسوال، پون شکتی اور تروڑا کے ایم ایل اے وجے رہانگڈلے کے بیٹے اویشکر کے طور پر کی گئی ہے۔

تمام طلبا ساؤنگی میڈیکل کالج کے اسٹوڈٹنس تھے اور ان میں سے چھ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے۔

مرکزی حکومت نے متاثرین کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

شام: داعش اور امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد ہلاک

0
شام: داعش اور امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد ہلاک
شام: داعش اور امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد ہلاک

شام میں داعش اور باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک 45 ہزار افراد علاقے سے نکل مکانی کرچکے ہیں۔

دمشق: شورش زدہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں داعش اور امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے درمیاں خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔ ان جھڑپوں میں پانچ روز میں دو سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

شام میں داعش اور باغیوں کے درمیان 5 روز سے جاری لڑائی میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک 45 ہزار افراد علاقے سے نکل مکانی کرچکے ہیں۔

داعش کے سلیپر سیلز نے شہر حسکہ میں امریکی حمایت یافتہ باغیوں کی قید سے اپنے کارندے چھڑانے کے لئے حملہ کیا تھا، جس کے بعد کالعدم دولت اسلامیہ اور ایس ڈی ایف کے باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کا آغاز ہوا۔

کرد ملیشیا ایس ڈی ایف نے کہا ہے کہ داعش کے 300 سے زائد کارندوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں جبکہ چند جنگجو مضافاتی عمارتوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ علاقے کو صاف کرانے کے لئے آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ شام کا شمال مشرقی شہر حسکہ امریکی حمایت یافتہ باغیوں کے قبضے میں ہے۔

انڈونیشیا میں دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک

0
انڈونیشیا میں دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک
انڈونیشیا میں دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک

انڈونیشیا کے پاپوا کے قصبے سورونگ کے ایک نائٹ کلب میں دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک

جکارتہ: انڈونیشیا کے پاپوا کے قصبے سورونگ کے ایک نائٹ کلب میں منگل کو دو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپ میں 19 افراد ہلاک ہو گئے۔

صوبائی پولیس کے ترجمان اور سینئر کمشنر ایڈم ایرونڈی نے بتایا کہ ڈبل او ایگزیکٹیو کراؤکی اینڈ کلب میں آدھی رات کو دو گروپوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں، جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا، اور پھر عمارت میں آگ لگنے تک ٹکراؤ جاری رہا۔

ایک پولیس افسر نے میٹرو ٹی وی کو بتایا ’’جھڑپ کے بعد عمارت سے 18 دیگر لاشیں ملیں، جس سے مرنے والوں کی تعداد 19 ہو گئی‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں نائٹ کلب کے باہر کئی کاروں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔

بائیڈن کی یوکرین کے تنازع پر یوروپی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ

0
بائیڈن کی یوکرین کے تنازع پر یوروپی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ
بائیڈن کی یوکرین کے تنازع پر یوروپی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں رہنماؤں نے یوکرین کے خلاف روسی حملے کو روکنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے خلاف روس کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر ایک میٹنگ کی اور ناٹو کے مشرقی حصے میں سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

پیر کو ہونے والی ورچوول میٹنگ میں یوروپی کمیشن، یورپی کونسل، ناٹو، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور برطانیہ کے رہنماؤں نے اس مٹنگ میں شرکت کی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں رہنماؤں نے یوکرین کے خلاف روسی حملے کو روکنے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں روس پر سخت سے سخت اقتصادی پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ناٹو کے مشرق کی جانب سیکیورٹی کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ’’رہنماؤں نے موجودہ کشیدگی کے سفارتی حل کے لیے اپنی مشترکہ خواہش پر زور دیا اور روس کے ساتھ متعدد فارمیٹس میں حالیہ مصروفیات کا جائزہ لیا‘‘۔

ہماچل پردیش میں 31 جنوری تک کورونا پابندی میں توسیع

0

ہماچل پردیش میں ریاستی حکومت نے کورونا پابندیوں کو 31 جنوری تک بڑھا دیا ہے

شملہ: ہماچل پردیش میں کورونا کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے اس بابت عائد پابندیوں کو 31 جنوری تک بڑھا دیا ہے۔

پابندیوں کے تحت ریاست میں تعلیمی ادارے اب 31 جنوری تک بند رہیں گے۔ اسی طرح جو پابندیاں 14 جنوری سے 26 جنوری تک نافذ کی گئی تھیں اب 31 جنوری تک نافذ رہیں گی۔

حکومت نے 25 جنوری کو ریاستی یوم تاسیس اور 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریبات کے انعقاد سے متعلق رہنما خطوط بھی جاری کیے ہیں۔ ان تقریبات میں صرف 50 فیصد افراد ہی شرکت کر سکیں گے۔

اس سلسلے میں ریاستی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے تمام ضلع ڈپٹی کمشنروں اور انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات میں کورونا کے حوالے سے جاری ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔

اس دوران سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری صرف 50 فیصد رہے گی۔ ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہوگی۔ شادیوں اور دیگر سماجی، مذہبی، سیاسی، کھیل، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں میں ہال کے اندر گنجائش کا صرف 50 فیصد یا کھلے میں زیادہ سے زیادہ 100 اور 300 افراد شرکت کر سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں آن لائن پڑھائی جاری رہے گی۔ ان پابندیوں کا اطلاق صحت، پولیس، فائر برگیڈ، محکمہ جل شکتی، محکمہ بجلی، بینک، ٹریزری سے متعلق ملازمین پر نہیں ہوگا۔

ریاست میں سیاسی، کھیل، تعلیمی اور ثقافتی تقریبات کے لیے متعلقہ ایس ڈی ایم سے اجازت لینی ہوگی۔ ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور پولیس کو کورونا قوانین پر عمل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ دکانوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر کیے جائیں گے۔ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر، دکانیں کھولنے اور بند کرنے کے لیے بھیڑ کم کرنے کے حوالے سے وقت کا تعین کریں گے۔

مودی حکومت نے کورونا بحران میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھا دی: راہل

0

کورونا بحران کے دوران غریبوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور اس عرصے میں ان کی آمدنی میں 53 فیصد کمی آگئی ہے، جبکہ امیروں کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دور میں حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے غریب اور امیر کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ اور اس دوران جو بھی قدم اٹھائے گئے ان کا فائدہ صرف مودی حکومت کے چند پسندیدہ سرمایہ داروں کو حاصل ہوا ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران غریبوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور اس عرصے میں ان کی آمدنی میں 53 فیصد کمی آگئی ہے، جبکہ امیروں کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

مسٹر راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا "پورا ملک کووڈ کے بحران سے دوچار ہوا ہے لیکن غریب اور متوسط ​​طبقہ کو مودی حکومت کی ‘اقتصادی وبا’ کا بھی شکار ہونا پڑاہے۔ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو بڑھانے کا سہرا مرکزی حکومت کو جاتا ہے”۔

اس کے ساتھ ہی ایک اخبار میں شائع ہونے والے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتہائی غریب، متوسط ​​طبقے اور اعلیٰ متوسط ​​طبقہ کی آمدنی میں 20 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ امیر ترین لوگوں کی آمدنی میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مرنے کی اجازت دی جائے، تلنگانہ کے وزیر کو نوجوان کسان کا ٹوئیٹ

0
مرنے کی اجازت دی جائے، تلنگانہ کے وزیر کو نوجوان کسان کا ٹوئیٹ
مرنے کی اجازت دی جائے، تلنگانہ کے وزیر کو نوجوان کسان کا ٹوئیٹ

تلنگانہ کے ایک کسان نے ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے تارک راما راو کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مرنے کی اجازت دینے کی خواہش کی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ایک کسان نے ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے تارک راما راو کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مرنے کی اجازت دینے کی خواہش کی ہے۔ ضلع نلگنڈہ کے کنگل منڈل کے ایڈاپلی دیہات کے رہنے والے اس نوجوان کسان کی شناخت سی سرینو کے طور پر کی گئی ہے۔

اس نے ریاستی وزیر کے ساتھ ساتھ ضلع کلکٹر پی جے پاٹل کو بھی ٹوئیٹ کے ذریعہ پوسٹ کردہ اس خط میں لکھا ہے کہ وراثت میں ملی اراضی پر وہ کاشت کررہا تھا تاہم پلے پراکُرتی ونم (جنگلات میں اضافہ) کے پروگرام کے حصہ کے طور پر اس کی اراضی 1999 میں حاصل کرلی گئی تھی تاہم متبادل اراضی نہیں دی گئی۔

اس نے کہا کہ اس مسئلہ پر کئی مرتبہ ضلع کلکٹر، تحصیلدار اور متعلقہ رکن اسمبلی سے رابطہ کرچکا ہے اور اس مسئلہ کو بیان کیا گیا تاہم اس کے ساتھ انصاف نہیں کیاگیا۔ اس نے وزیر تارک راما راو سے اس سلسلہ میں مدد کی خواہش کی۔ اس نے کہا کہ صورتحال اس کے لئے خراب ہوگئی ہے اور وہ سڑک پر آگیا ہے۔ اسی لئے اس کو مرنے کی اجازت دی جائے۔

اس نے اس ٹوئیٹ کے سلسلہ میں تلنگانہ کانگریس کے سربراہ ریونت ریڈی، رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی، ریاستی بی جے پی سربراہ بنڈی سنجے، وزیر بجلی جگدیش ریڈی اور دیگر کو بھی ٹیگ کیا۔

پاکستان سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بنیں عائشہ ملک

0
پاکستان سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بنیں عائشہ ملک
پاکستان سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بنیں عائشہ ملک

عائشہ ملک نے پاکستان کے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کے طور پر حلف لیا

اسلام آباد: جسٹس عائشہ ملک نے پیر کو پاکستان کے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کے طور پر حلف لیا۔

جیو ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس عائشہ کو حلف دلایا۔ اس موقع پر پاکستان کے اگلے چیف جسٹس کے طور پر نامزد جسٹس عمر عطا بندیال اور سپریم کورٹ کے دیگر جج بھی موجود تھے۔
جسٹس عائشہ اس عہدے کے لئے 21 جنوری کو باضابطہ طور پر منتخب ہوئی تھیں۔

جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس عائشہ کا سپریم کورٹ کے جج کے طور پر تعینات ہونا آسان نہیں تھا، کیونکہ ملک بھر کے وکیلوں نے سینئر کو بنیاد بناکر ان کی تعیناتی کی مخالفت کی تھی۔ جسٹس سینئرٹی میں لاہور ہائی کورٹ میں چوتھے مقام پر تھیں۔

اس دوران، پاکستان کے بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ کی جج کے طور پر محترمہ عائشہ کی تقرری کے خلاف ہڑتال کی اپیل کی ہے۔

نیتاجی کے یوم پیدائش پروگرام کے دوران بی جے پی۔ٹی ایم سی کے کارکنوں میں تصادم

0

بی جے پی۔ٹی ایم سی کے کارکن اتوار کو شمالی24 پرگنہ کے بھاٹ پارا میں نیتاجی سبھاش چندر بوس کی سالگرہ منانے کے لئے منعقدہ ایک پروگرام کے دوران آپس میں لڑ پڑے۔

کولکتہ: مغربی بنگال کی حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکن اتوار کو شمالی24 پرگنہ کے بھاٹ پارا میں نیتاجی سبھاش چندر بوس کی 125ویں سالگرہ منانے کے لئے منعقدہ ایک پروگرام کے دوران آپس میں لڑ پڑے۔

بی جے پی کے ریاستی نائب صدر ارجن سنگھ نے الزام لگایا کہ پارٹی کے رکن اسمبلی پون سنگھ اس وقت ترنمول کارکنوں کے نشانہ پر آئے جب وہ نیتاجی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک پروگرام میں شامل ہونے گئے تھے۔

سنگھ نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس دورا ن انہیں بھی نہیں بخشا گیا اور ان کی کار میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

خیال رہے کہ بھاٹ پارا گزشتہ کئی برسوں سے بی جے پی اور ٹی ایم سی کے مابین سیاست کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے۔ اکثر یہاں سے اس طرح کے و اقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔