جمعہ, مئی 22, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 267

پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کا لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت

0
پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کا لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت
پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کا لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت

بھارت رتن گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر سری لنکا،  افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں اور سفارت کاروں نے اظہارِ تعزیت کیا

نئی دہلی: دنیا بھر کے رہنماؤں اور سفارت کاروں نے اتوار کو بھارت رتن گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر اظہارِ تعزیت کیا۔

سری لنکا کے وزیر اعظم کا ٹویٹ

سری لنکا کے وزیر اعظم مہیندرا راج پکشے نے ٹویٹ کیا، ’ہندوستان کی صدائے سامری، لتا منگیشکر زندہ باد رہیں۔ ​​سرحدوں کو عبور کرنے والے دہائیوں کے انٹرٹینمنٹ کے لیے شکریہ۔ آپ نے کہاوت ’موسیقی عالمی زبان ہے‘ کو مجسم کیا‘۔

مسٹر راج پکشے نے کہا، ’ان کے خاندان اور ہندوستان کے عوام کے ساتھ میری تعزیت۔ ان کی یادیں ان کی موسیقی کے ذریعے سے زندہ رہیں گی‘۔

حامد کرزئی کا ٹویٹ

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ٹویٹ کیا، ’لتا منگیشکر نے اپنی آواز سے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو خوشی سے بھر دیا۔ ان کی دھن آفاقی اور ہمیشہ کے لیے ہے۔ ان کے خاندان اور ہندوستان کے عوام کے تئیں میری گہری تعزیت ہے۔ ان کی روح کو سکون ملے‘۔

لتا منگیشکر کی موت، پاکستان میں سوگ کی لہر

لتا کی موت کی خبر پاکستان میں ٹویٹر پر سب سے زیادہ زیر بحث موضوعات میں تھی۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین وہاں کی ان ہستیوں میں ہیں جنہوں نے لتا جی کی موت پر اظہار تعزیت کیا اور خراج عقیدت پیش کیا۔ بہت سے لوگوں نے لتا منگیشکر کو بہن کہہ کر اپنے غم کا اظہار کیا

فواد چودھری نے کہا کہ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، ’ایک عظیم ہستی ہمارے بیچ نہیں رہیں۔ لتا منگیشکر سروں کی رانی تھیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک موسیقی کی دنیا پر راج کیا۔ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ ان کی آواز ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر راج کرتی رہے گی۔ خراج عقیدت‘۔

شہباز شریف نے کہا کہ لتا منگیشکر کے انتقال سے موسیقی کی دنیا ایک ایسی گلوکارہ سے محروم ہوگئی جس نے اپنی سریلی آواز سے نسلوں کو مسحور کیا۔

بی بی سی کا اظہار تعزیت

بی بی سی نیوز کی پنجابی سروس نے لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے پاکستانی عوام کا ایک ویڈیو جار ی کیا۔ عوام کا کہنا تھا کہ لتا منگیشکر کی سریلی آواز سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ بعض نے ان کا موازنہ نور جہاں سے بھی کیا۔

کالم نگار دوردانہ نجم نے لتا کو میوزیکل نائٹنگل کہا۔ لتا منگیشکر بھی ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی چاہی جاتی تھیں۔

سیاسی تجزیہ کار شاہد مسعود کا تعزیتی پیغام

سیاسی تجزیہ کار شاہد مسعود نے بھی کہا کہ لتا منگیشکر کی رخصتی ایک دور کا خاتمہ ہے۔ وہ پاکستان میں بھی اتنی ہی مقبول تھیں جتنی وہ ہندوستان یا کہیں اور تھیں۔ انہوں نے لتا جی کو ’ہماری بہن‘ کہہ کر خراج عقیدت پیش کیا۔

محمد طاہر نامی ایک اور شخص نے ٹویٹ کیا کہ ہندوستان-پاکستان میں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں لوگ ان کے نغموں سے لطف اندوز نہ ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ ہماری زندگی کی ایک عمر ہے، اس کے بعد ظالمانہ موت سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔

جرمنی کے سفیر والٹر جے لنڈنر کا ٹویٹ

ہندوستان اور بھوٹان میں جرمنی کے سفیر والٹر جے لنڈنر نے ہندی میں منگیشکر کے مشہور نغمےکے جز کو ٹویٹ کیا، "میری آواز ہی پہچان ہے، گر یاد رہے…” ہندوستان کی صدائے سامری لتا منگیشکر، گلوکارہ اور موسیقی ہنر کی 92 برس کی عمر میں موت ہو گئی۔ ایک لیجنڈ، ایک ناقابل تلافی آواز اور سات دہائیوں کے لیے موسیقی کا مرکز! بہت افسوسناک خبر، ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔ خراج عقیدت لتا منگیشکر جی‘۔

بنگلہ دیش کا اظہار تعزیت

بنگلہ دیش کے صدر عبدالحمید، وزیر اعظم شیخ حسینہ اور پارلیمنٹ کی اسپیکر شرمین چودھری نے لتا منگیشکر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کو الگ الگ تعزیتی پیغامات میں مسٹر عبد الحمید اور محترمہ شیخ حسینہ نے گلوکارہ کی آتما کی شانتی کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

92 برس کی عمر میں بھارت رتن لتا منگیشکر چار ہفتوں تک زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد بالآخر اتوار کے روز یہ جنگ ہار گئیں اور 29 دن بعد ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں آج صبح 8.12 بجے انتقال کر گئیں۔

آواز کی دیوی لتا منگیشکر کا 92 سال کی عمر میں انتقال

0
آواز کی دیوی لتا منگیشکر کا 92 سال کی عمر میں انتقال
آواز کی دیوی لتا منگیشکر کا 92 سال کی عمر میں انتقال

مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں پیدا ہونے والی لتا 8 جنوری سے بریچ کینڈی ہسپتال میں تھیں۔ انہیں کووڈ انفیکشن کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ آج صبح انکا انتقال ہوگیا۔

ممبئی: جادو بھری آواز، بے مثال آواز، منفرد آواز، لاجواب آواز، قابل احترام آواز، کوئل سی آواز، کانوں میں شہد گھولتی آواز، آواز کی ملکہ اور آواز کی دیوی، اس طرح کے اور جتنے بھی القاب ہو سکتے ہیں انہیں جمع کیجئے، ایک تصویر بنایئے، جو تصویر بنے گی وہ لتا منگیشکر کی ہوگی لیکن افسوس کہ اب وہ آواز ہمارے درمیان نہیں رہی اور وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔

آج صبح انکا ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ 8 جنوری سے بریچ کینڈی ہسپتال میں تھیں۔ انہیں کووڈ انفیکشن کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

لتا منگیشکر کی پیدائش

لتا منگیشکر 28 ستمبر 1929 کو ایک متوسط ​​مراٹھی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں پیدا ہونے والی لتا پنڈت دیناناتھ منگیشکر کی بڑی بیٹی تھیں۔ اس کا پہلا نام ‘ہیما’ تھا، لیکن پیدائش کے پانچ سال بعد اس کے والدین نے اس کا نام ‘لتا’ رکھا۔ لتا اپنے تمام بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ مینا، آشا، اوشا اور ہردے ناتھ اس سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد تھیٹر آرٹسٹ اور گلوکار تھے اور وہ ایک معروف نام تھے۔

جب لتا منگیشکر سات سال کی تھیں تو وہ مہاراشٹر آئیں۔ انہوں نے پانچ سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ تھیٹر آرٹسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ لتا بچپن سے ہی گلوکارہ بننا چاہتی تھیں۔ لتا کے والد کو کلاسیکی موسیقی کا بہت شوق تھا۔ اس لیے وہ لتا کے فلموں میں گانے کے خلاف تھے۔ ان کے والد کا انتقال 1942 میں ہوا۔ اس کے بعد ان کے خاندان کی مالی حالت خراب ہو گئی اور خاندان کو چلانے کے لیے لتا نے مراٹھی اور ہندی فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کرنے شروع کر دیے۔

لتا منگیشکر کی پہلی کمائی

لتا منگیشکر کو پہلی بار اسٹیج پر گانے کے 25 روپے ملے۔ وہ اسے اپنی پہلی کمائی سمجھتی تھی۔ لتا نے پہلی بار 1942 میں مراٹھی فلم ‘کتی ہنس’ کے لیے گایا۔ لتا منگیشکر کی پوری زندگی اپنے خاندان کے لیے وقف تھی۔ گھر کے تمام افراد کی ذمہ داری اس پر تھی اس لیے شادی کا خیال آنے پر بھی وہ اس پر عمل نہ کر سکی۔ لتا منگیشکر کو 2001 میں سب سے بڑے اعزاز بھارت رتن سے نوازا گیا۔

اسدالدین اویسی پر قاتلانہ حملہ منصوبہ بند سازش کا حصہ: صدر مسلم مجلس

0

آل انڈیا مسلم مجلس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے اسدالدین اویسی صاحب پر ہوئے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے اسدالدین اویسی صاحب پر ہوئے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک منصوبہ سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ بی جے پی کی یوگی حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری، کمرتوڑ مہنگائی، کمزوروں پر ظلم، لاقانونیت، بدانتظامی اور کسان مخالف پالیسیوں کے باعث بی جے پی کو الیکشن میں ہار کا خوف ستارہا ہے۔ اسی لئے وہ انگریزوں کی لڑاؤ اور حکومت کردکی پالیسی اپنا رہی ہے اور الیکشن کو ہندومسلم بناکر شکست سے بچنے کی کوشش کررہی ہے۔ 

انہوں نے دعوی کیا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ مسلسل فرقہ وارانہ تقریریں کرکے ماحول بگاڑنے کا کام کرہے ہیں اور بار بار کیرانہ اور مظفر نگر کی تکرار کررہے ہیں۔ اویسی صاحب پر حملہ بھی اسی نفرت انگیز مہم کا حصہ ہے۔

یہ حملہ صرف دونوں جوانوں کے شیطانی دماغوں کی کارستانی نہیں ہے بلکہ اس کے تار ہری دوار اور پریاگ راج کی دھرم سنسند سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہذا سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اسکی تحقیقات کرائی جائے اور قصورواروں کو سخت سزادی جائے۔

بارہ بنکی: ٹکٹ کٹنے سے دلبرداشتہ کانگریس لیڈر کی طبیعت بگڑی

0
بارہ بنکی: ٹکٹ کٹنے سے دلبرداشتہ کانگریس لیڈر کی طبیعت بگڑی
بارہ بنکی: ٹکٹ کٹنے سے دلبرداشتہ کانگریس لیڈر کی طبیعت بگڑی

بارہ بنکی اسمبلی حلقے سے کانگریس کا ٹکٹ کٹ کرنے سے دلبرداشتہ پارٹی کے سینئر لیڈر گوری یادو کی طبیعت اچانگ بگڑنے پر انہیں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرانا پڑا

بارہ بنکی: اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بارہ بنکی اسمبلی حلقے سے کانگریس کا ٹکٹ کٹ کرنے سے دلبرداشتہ پارٹی کے سینئر لیڈر گوری یادو کی طبیعت اچانگ بگڑنے پر ہفتہ کی صبح انہیں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرانا پڑا ہے۔

ملحوظ رہے کہ کانگریس نے گوری یادو کو بارہ بنکی اسمبلی حلقے سے پہلے اپنا امیدوار بنایا تھا۔ لیکن کنہیں وجوہات سے پارٹی قیادت نے ان کا ٹکٹ کاٹ کر روحی ارشد کو اپنا امیدوار بنا دیا۔ اس بات سے دلبرداشتہ گوری یادو کی طبیعت کل اچانک بگڑ گئی۔

حالت زیادہ خراب ہونے پر مقامی ڈاکٹروں نے انہیں لکھنؤ ریفر کردیا۔ ان کے اہل خانہ نے مسٹر یادو کو لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹکٹ ملنے سے قبل ہی مسٹر یادو نے علاقے میں انتخابی مہم کا آغاز کردیا تھا۔ بعد میں ٹکٹ کٹنے سے وہ اتنے دلبرداشتہ ہوئے کہ اس صدمے کو جھیل نہیں سکے اور طبیعت بگڑ گئی۔

ان کے بیٹے انوراگ پرکاش کے مطابق پارٹی کا اچانک ٹکٹ تبدیل کئے جانے سے مسٹر یادو کی طبیعت خراب ہوگئی۔ اور انہیں لکھنؤ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اس تعلق سے کانگریس لیڈروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔

اترپردیش اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کے خواجہ شمس الدین یوگی کو پیش کریں گے چیلنج

0
اترپردیش اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کے خواجہ شمس الدین یوگی کو پیش کریں گے چیلنج
اترپردیش اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کے خواجہ شمس الدین یوگی کو پیش کریں گے چیلنج

بی ایس پی نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران یوگی کے سامنے گورکھپور صدر سیٹ سے خواجہ شمس الدین کو پارٹی کا امیدوار بنایا

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے گورکھپور صدر سیٹ سے خواجہ شمس الدین کو پارٹی کا امیدوار بنایا ہے۔

بی ایس پی کی جانب سے ہفتہ کو جاری امیدواروں کی فہرست میں شمس الدین کا نام بھی شامل ہے۔ پارٹی نے اسمبلی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں شامل پوروانچل کے 10 اضلاع کی 54 اسمبلی سیٹوں کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔

چھٹے مرحلے کے لئے الیکشن کمیشن نے جمعہ کو ہی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ بی ایس پی کی فہرست میں شامل اہم سیٹوں میں گورکھپور شہر کے علاوہ کشی نگر ضلع کی فاضل نگر سیٹ سے پارٹی کے امیدوار کے طور پر سنتوش تیواری کا نام شامل ہے۔ تیواری اس سیٹ پر ایس پی امیدوار سوامی پرساد موریہ کو چیلنج پیش کریں گے۔ موریہ نے حال ہی میں یوگی کابینہ سے استعفی دے کر بی جے پی چھوڑ ایس پی کی رکنیت حاصل کی ہے۔

بی ایس پی نے گورکھپور کی چلوپار سیٹ سے راجندر سنگھ کو امیدوار بنایا ہے۔ سنگھ اس سیٹ پر بی ایس پی کے قدآور رہنما رہے و حال ہی میں ایس پی میں شامل ہوئے ونئے شنکر تیواری کے سامنے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔ ونئے شنکر تیواری اس سے پہلے بی ایس پی کی ٹکٹ پر ہی ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔

فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت

0
فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت
فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت

فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب کے استعمال کی اجازت ملنے سے زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کو کوسٹ گارڈ کی ورک فورس میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی

منیلا: فلپائن میں مسلم خواتین کوسٹ گارڈز کو حجاب پہننے کی اجازت مل گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلپائن کوسٹ گارڈ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ اس نے ایک نئی ڈریس پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس میں خواتین اہلکاروں کے یونیفارم میں حجاب کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ خواتین اہلکاروں کے یونیفارم میں حجاب کی شمولیت سے زیادہ سے زیادہ مسلم خواتین کو کوسٹ گارڈ کی ورک فورس میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی۔
حکام کے مطابق اس فیصلے پر گزشتہ ہفتے سے عمل درآمد شروع ہوگیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس وقت فلپائن کوسٹ گارڈ میں ایک ہزار آٹھ سو پچاس مسلم اہلکار ہیں، جن میں سے دو سو خواتین ہیں۔

دریں اثنا جانب فلپائن میں مسلمانوں کے قومی کمیشن نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے۔

اویسی پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مکمل تفشیش کی جائے: نواب ملک

0

کابینی وزیر نواب ملک نے اویسی پر ہوئے حملے کی سخت لفظوں میں مزمت کی اور کہا کہ ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی پر حملہ نہایت سنگین معاملہ ہے

ممبئی: مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی پر ہوئے حملے کی مکمل تفشیش کی جائے۔ ایسا مطالبہ آج یہاں نیشنلسٹ کانگریس نے کیا ہے۔

پارٹی کے ترجمان و مہاراشٹرا کے کابینی وزیر نواب ملک نے اویسی پر ہوئے حملے کی سخت لفظوں میں مزمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی پر حملہ نہایت سنگین معاملہ ہے۔ نیز اتر پردیش حکومت کو اس سلسلے میں سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔

نواب ملک نے کہا کہ اتر پردیش میں انتخابی مہم کے لیے آنے والے تمام لیڈروں کے تحفظ کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے۔ اس لئے فوری طور پر اترپردیش کے ڈی جی پی کو ریاست میں آنے والے تمام اسٹار پرچارکوں کو خاطر خواہ تحفظ فراہم کرنے کا حکم دینا چاہئے۔

مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے کے گواہان کے منحرف ہونے پر اظہار خیالات

انہوں نے مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمے کے گواہان کے منحرف ہونے پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے کہ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کے گواہان مسلسل منحرف ہو رہے ہیں۔ یقینی طور پر گواہان کا یہ انحراف کسی نہ کسی طور پر ملزمین کو بچانے کی کوشش کے طور پر ہے۔ لیکن اس کے ذریعے ملک کی حفاظت میں شہید ہونے والے ہیمنت کرکرے کی قربانی پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے سرکاری وکیل اور ان سے وابستہ افراد پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لہٰذا عدالت کو چاہئے کہ وہ ان تمام معاملات کا نوٹس لے۔

واضح رہیکہ اس سے قبل ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر و سابق وزیر نسیم خان نے ان گواہان کے اپنے سابقہ بیان سے انحراف کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اور انسداد دہشت گرد دستے کے سربراہ سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ چونکہ اب اس معاملے کی تفشیش این آئ اے ضرور کر رہی ہے لیکن ابتدائ ایام میں کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر ملزمین کو اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا اور گواہان کے بیانات بھی اے ٹی ایس نے ہی درج کیا تھا۔

لہذا گواہان کا تحفظ اور انکے بیانات کے عدالت میں اندراج کی ذمہ داری اے ٹی ایس کی ہی ہے۔ لہذا اس پر سنجیدگی سے کاروائی کی جائے جس کے بعد اے ٹی ایس نے عدالت میں افسران کی موجودگی کی درخواست دی تھی جس کی سماعت التواء میں پڑی ہے۔

اترپردیش: اسدالدین اویسی کی گاڑی پر فائرنگ

0

چھجارسی ٹول پلازے پر گاڑی سوار دو نامعلوم بدمعاشوں نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی گاڑی پر فائرنگ کردی اور ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے

غازی آباد: اترپردیش کے ضلع ہاپوڑ کے تلکونہ تھانہ علاقے کے نیشنل ہائی وے ۔9 پر چھجارسی ٹول پلازے پر گاڑی سوار دو نامعلوم بدمعاشوں نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی گاڑی پر فائرنگ کردی اور ہتھیار چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اویسی کی قافلے میں چار گاڑیاں شامل تھیں۔

موصول اطلاع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اویسی یوپی کے ضلع میرٹھ کے کٹھور اسمبلی حلقے میں اپنی امیدوار کے حق میں انتخابی مہم میں شرکت کے بعد دہلی واپس لوٹ رہے تھے۔ ان کے قافلے میں چار گاڑیاں سوار تھیں۔ جب ان کا قافلہ این ایس 9 کے چھجاری ٹول پلازہ پر پہنچا کہ اچانک بائیک سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ گاڑی ایم آئی ایم لیڈر کی گاڑی پر لگی۔

حملہ آروں نے تقریبا 4 راؤنڈ فائرنگ کی اور ہتھیار موقع پر ہی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اس ضمن میں پولیس کی جانب سے فی الحال کوئی جانکاری نہیں مل سکی ہے۔

وہیں اسدالدین اویسی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’کچھ دیر پہلے چھجارسی ٹول پلازے پر مری گاڑی پر 4 راؤنڈ فائر کی گئی۔  فائرنگ کے وقت موقع پر 3-4 لوگ تھے اور فائرنگ کرنے کے وہ موقع سے فرار ہوگئے۔ ملزمین ہتھیار وہیں چھوڑ گئے۔ میری گاڑی پنکچر ہو گئی، لیکن میں دوسری گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا۔ ہم سب محفوظ ہیں۔ الحمدللہ

کشتواڑ میں المناک سڑک حادثہ 6 افراد ہلاک

0

جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں ایک المناک سڑک حادثے میں 6 افراد کی موت

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے کیشون علاقے میں جمعرات کی شام کو ہوئے ایک المناک ٹریفک حادثے میں 6 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔

پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ کشتواڑ کے کیشون علاقے میں جمعرات کی شام کو ایکو گاڑی زیر نمبر (JK17-5089) ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر گہری کھائی میں جا گری جس کی وجہ سے اس میں سوار چھ افراد شدید طور پر زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور 26 آر آر سے وابستہ اہلکار فوری طور پر جائے موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو علاج و معالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال پہنچایا تاہم وہاں پر موجود ڈاکٹروں نے اُنہیں مردہ قرار دیا۔

مہلوکین کی شناخت لطیف احمد راتھر ولد عبدالصمد، رحمن بٹ ولد احمد بٹ، عرفان احمد ولد غلام حیدر شیخ، غلام حسن ولد محمد بٹ، عطا محمد ولد احمد بٹ اور زبیر احمد ولد عطا ساکنان نرگرینا کے بطور ہوئی ہے۔

پولیس نے اس ضمن میں ایف آئی آر زیر نمبر 16/22 کے تحت ایک کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔

دریں اثنا حادثے پر سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں نے رنج و غم کا اظہا رکرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

مغربی بنگال میں اسکول، کالج پھر سے کھل گئے

0

کووڈ پروٹوکول کے مطابق مغربی بنگال میں اسکولوں میں کلاس آٹھ سے 12 کے طلبا کے لئے آف لائن تعلیم پھر سے شروع کی گئی

کولکتہ: مغربی بنگال میں جمعرات کو تعلیمی اداروں کے پھر سے کھلنے پر مختلف طبقات کے طلبا اپنی کلاسیں شروع کرچکے ہیں۔

کووڈ پروٹوکول کے مطابق ریاست میں اسکولوں میں کلاس آٹھ سے 12 کے طلبا کے لئے آف لائن تعلیم پھر سے شروع کی گئی۔ طلبا نے ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال کرکے اسکولوں اور کالجوں میں گئے۔

اسکولوں میں آٹھ سے 12 ویں جماعت کے طلبا کی آف لائن تعلیم شروع کردی گئی۔ اسکولوں میں تھرمل اسکیننگ اور سینی ٹائزر کا استعمال کرنے کے بعد ہی داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے لئے اسکول اسٹاف داخلہ گیٹ پر تعینات کئے گئے ہیں۔ دن کے دوران اکادمی سرگرمیوں کے لئے کالجوں، یونیورسٹیوں، تکنیکی کالجوں، انڈسٹر ی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس اور پولی ٹیکنک اور دیگر انسٹی ٹیوشنوں کو بھی کھول دیا گیا۔

کورونا کی صورتحال میں بہتری کے بعد ریاست کی وزیر اعلی ممتابنرجی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ ریاست میں کلا س آٹھ سے 12 تک کے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو جمعرات کو پھر سے کھولا جائے گا۔

ریاستی حکومت نے کہا کہ پرائمری کلاسوں کو پھر سے کھولنے پر تھوڑا رک کر غور کیا جائے گا۔ فی الحال جمعرات کو پانچ سے آٹھ تک کی کلاسوں کے طلبا کے لئے تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت نے 16 مارچ 2020 میں کووڈ کے پھیلاؤ کے بعد تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا تھا۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 16 نومبر 2021 کو آ ف لائن کلاسیں پھر سے کھولی گئی تھیں۔ حالانکہ انہیں کووڈ انفیکشن کے پھیلاؤ کے بعد تین جنوری سے پھر سے بند کردیا گیا تھا۔