منگل, جولائی 7, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 267

حجاب تنازعہ: کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا جذبات کو ایک طرف رکھ کر آئین کے مطابق چلیں گے

0

عدالت نے کہا کہ تمام جذبات کو ایک طرف رکھ دیں۔ ہم آئین کے مطابق چلیں گے۔ آئین میرے لیے بھگوت گیتا سے بالاتر ہے

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے کچھ کالج کیمپس میں حجاب پر پابندی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ وہ جذبات کو ایک طرف رکھ کر آئین کی پیروی کرے گی۔

عدالت نے کہا کہ تمام جذبات کو ایک طرف رکھ دیں۔ ہم آئین کے مطابق چلیں گے۔ آئین میرے لیے بھگوت گیتا سے بالاتر ہے۔ میں نے آئین کا جو حلف اٹھایا ہے اس پر عمل کروں گا۔‘‘

حجاب پہننا اسلامی مذہب کا ایک لازمی حصہ

سینئر وکیل دیودت کامت نے دلیل دی کہ حجاب پہننا اسلامی مذہب کا ایک لازمی حصہ ہے اور اسے آرٹیکل 19(1)(اے) کے تحت اظہار رائے کے حق سے تحفظ حاصل ہے اور اسے صرف آرٹیکل 19(6) کی بنیاد پر ہی محدود کیا جا سکتا ہے۔

مسٹر کامت نے کہا کہ حجاب پہننا انفرادی حق کا ایک پہلو ہے جسے سپریم کورٹ کے پٹاسوامی فیصلے کے آرٹیکل 21 کے حصے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ دریں اثنا، حکومت کا حکم کرناٹک تعلیمی اصولوں کے دائرہ سے باہر ہے اور اسے جاری کرنا ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

عدالتی فیصلوں میں قرآن پاک کی دو ہدایتوں کی تشریح

ڈریس کوڈ پر قرآن کی آیت 24.31 پڑھتے ہوئے مسٹر کامت نے کہا کہ یہ لازمی ہے کہ گردن کا کھلا حصہ شوہر کے علاوہ کسی اور کو نہ دکھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے عدالتی فیصلوں میں قرآن پاک کی دو ہدایتوں کی تشریح کی گئی ہے۔ کیرالہ ہائی کورٹ کا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے۔

کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو پڑھتے ہوئے مسٹر کامت نے کہا کہ مذہب پر عمل کرنے کا حق عوامی نظم، صحت اور اخلاقیات سے مشروط بنیادی حق کا معاملہ ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ریاست یہ نہیں کہہ سکتی کہ مذہب کا لازمی عمل کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ یہ صرف آئینی عدالتوں کا دائرہ اختیار ہے۔”

فیصلہ پڑھتے ہوئے مسٹر کامت نے کہا کہ "بالآخر یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یہ رسم مذہب کے لیے ضروری ہے یا نہیں۔ اگر کوئی مذہبی اصول خواتین کو پجاری بننے کی اجازت نہیں دیتا تو ریاست اسے نافذ نہیں کر سکتی۔”

انہوں نے دلیل دی کہ مذہبی عمل کو مذہبی اتھارٹی سے باہر سیکولر خیالات کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا، اس لیے سیکولر نظریات اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ مذہب کے لیے کیا ضروری ہے اور کیا نہیں۔

مسٹر کامت نے یہ بھی کہا کہ کرناٹک حکومت یہ کہہ کر اپنا پلہ جھاڑنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق حجاب اسلام کے لیے لازمی نہیں ہے، تاہم یہ حکم اس معاملے میں بالکل بھی لاگو نہیں ہوتا ہے۔

اس معاملے کی سماعت ابھی جاری ہے۔

حجاب تنازعہ: کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت سے قبل حجاب کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے تیز

0
حجاب تنازعہ: کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت سے قبل حجاب کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے تیز
حجاب تنازعہ: کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت سے قبل حجاب کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے تیز

کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب تنازعہ سے متعلق درخواستوں کی سماعت سے قبل ریاست کے مختلف اضلاع میں احتجاج میں شدت

بینگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب تنازعہ سے متعلقہ عرضیوں پر سماعت سے پہلے منگل کو ریاست کے مختلف ضلعوں میں احتجاجی مظاہرے تیز ہوگئے۔

حجاب اور بھگوا اسکارف کی حمایت میں بیل گاوی، دھارواڑ، ہاویری، گڈگ اور باگل کوٹ میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کچھ طلبہ کے حجاب اور بھگوا اسکارف پہن کر کیمپس میں پہنچنے کے بعد کرناٹک کے کچھ حصوں میں کلاسز معطل کردی گئیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ایک سرکلر کے ذریعہ سے کیمپسز میں حجاب اور بھگوا اسکارف پر پابندی لگانے کے باوجود طلبہ نے حجاب اور بھگوا اسکارف پہنا تھا۔

وزیر داخلہ اراگا گیانیندر نے یہ پتا لگانے کے لئے جانچ کا حکم دیا کہ کون سی تنظیم حجاب یا اسکارف پہن کر کلاسز میں حصہ لینے کی اجازت کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کی حمایت کررہی ہے۔ اس سے پہلے مسٹر گیانیندر نے مظاہرین حجاب کرنے والی طالبات کے پیچھے انتہاپسند اسلامی طاقتوں کے ہونے کے شبہ کا اظہار کیا تھا۔

سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا نے بھی کل حجاب کے تنازعہ کے بیج بونے کے لئے بالواسطہ طور پر بنیاد پرست اسلامی تنظیم کو مورد الزام ٹھہرایا۔

کرناٹک ہائی کورٹ میں اس کیس کی سماعت آج سے شروع ہو رہی ہے۔

96ویں روز بھی پٹرول اور ڈیزل کی ریکارڈ قیمتوں میں کوئی راحت نہیں

0
96ویں روز بھی پٹرول اور ڈیزل کی ریکارڈ قیمتوں میں کوئی راحت نہیں
96ویں روز بھی پٹرول اور ڈیزل کی ریکارڈ قیمتوں میں کوئی راحت نہیں

دونوں ایندھن کی قیمتوں میں 4 نومبر 2021 کو کمی کی گئی جب مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں بالترتیب 5 اور 10 روپے کی کمی کا اعلان کیا۔

نئی دہلی: عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود آج مسلسل 96 ویں دن گھریلو سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

دونوں ایندھن کی قیمتوں میں 4 نومبر 2021 کو کمی کی گئی جب مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں بالترتیب 5 اور 10 روپے کی کمی کا اعلان کیا۔

اس کے بعد ریاستی حکومت کے ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (ویٹ) کو کم کرنے کے فیصلے کے بعد قومی دارالحکومت دہلی میں بھی ویٹ کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کے بعد دارالحکومت میں 2 دسمبر 2021 کو پٹرول تقریباً آٹھ روپے سستا ہو گیا۔ تاہم ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

زیادہ تر ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے بھی پٹرول اور ڈیزل پر ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (ویٹ) کو کم کر دیا تھا جب مرکز نے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی تھی، جس سے عام آدمی کو بڑی راحت ملی تھی۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی کی بنیاد پر نئی قیمتیں روزانہ صبح 6 بجے سے لاگو ہوتی ہیں۔

آج ملک کے چار بڑے میٹرو میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کچھ یوں رہیں:

میٹرو ………. پٹرول  ……….   ڈیزل

دہلی ………….95.41…….. 86.67

کولکتہ ……104.67…….89.79

ممبئی ………….. 109.98…….94.14

چنئی …………… 101.40 ………. 91.43

دھرم سنسد معاملہ: سوامی یتی نرسمہانند کو ملی ضمانت

0

ہریدوار دھرم سنسد معاملہ میں مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر کرنے کے معاملے میں یتی نرسمہانند کو ضمانت ملی

ہریدوار: یہاں کی ضلع اور سیشن عدالت نے سوامی یتی نرسمہانند کو راحت دیتے ہوئے ہریدوار دھرم سنسد معاملہ میں مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر کرنے کے معاملے میں ضمانت دے دی ہے۔

سوامی یتی نرسمہانند پر الزام ہے کہ انہوں نے ہریدوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں ایک خاص مذہب کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کیں اور ایک خاص مذہب کے جذبات کو بھڑکانے کا کام کیا۔ شکایت ملنے کے بعد پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دیا تھا۔

ہریدوار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں سوامی یتی نرسمہانند کی جانب سے ضمانت کی درخواست پیش کی گئی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔ ایک کمرے میں دھرم سنسد چل رہی تھی۔

دوسری جانب مدعا علیہ کی جانب سے ان کی ضمانت کی مخالفت کی گئی۔ ایڈوکیٹ نارائن ہر گپتا نے بتایا کہ آخر میں عدالت نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد سوامی نرسمہانند کو ضمانت دے دی۔

واضح رہے کہ اس معاملے میں شریک ملزم جتیندر نارائن تیاگی عرف وسیم رضوی پر بھی دھرم سنسند میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے اور انہیں نچلی عدالت میں ضمانت نہیں مل سکی۔ اس کے بعد انہوں نے ضمانت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

حکومت کی اسدالدین اویسی سے سیکیورٹی لینے کی اپیل

0

وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا کے رکن اسدالدین اویسی سے سیکیورٹی لینے کی اپیل کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آج کہا کہ ان پر ہونے والے جان لیوا حملے کی جانچ چل رہی ہے۔

نئی دہلی: وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی سے سیکیورٹی لینے کی اپیل کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آج کہا کہ ان پر ہونے والے جان لیوا حملے کی جانچ چل رہی ہے۔

ایوان بالا میں ایک بیان میں مسٹر امت شاہ نے کہا کہ مسٹر اسدالدین اویسی پر اتر پردیش میں ضلع ہاپوڑ کے پلکھوا کے چھجارسی ٹول پلازہ کے پاس جان لیوا حملہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں مقامی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت سے معلومات طلب کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اویسی کے سفر یا آمد و رفت کے بارے میں مقامی سطح پر کوئی اطلاع نہیں تھی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مسٹر اویسی پر حملے کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور دونوں کے پاس سے دو غیر قانونی پستول برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اویسی کو دہلی اور کیرالہ میں بلٹ پروف کار اور زیڈ پلس سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بیان کے بعد مسٹر شاہ نے کہا کہ انہیں زبانی طور پر معلوم ہوا ہے کہ مسٹر اویسی نے سیکیورٹی لینے سے انکار کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ مسٹر اویسی کو سیکیورٹی لینی چاہئے اور سب کے خدشات کو دور کرنا چاہئے۔

کرناٹک: حجاب پہنی لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: مولانا جعفر پاشاہ

0
کرناٹک: حجاب پہنی لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: مولانا جعفر پاشاہ
کرناٹک: حجاب پہنی لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی: مولانا جعفر پاشاہ

مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے اپنے بیان میں کرناٹک میں مسلم طالبات کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست تنظیمیں اور ان کے آلہ کار حجاب کی مخالفت کررہے ہیں جو افسوس کی بات ہے

حیدرآباد: حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ امیر امارت ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش نے کرناٹک میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے پر اعتراض اور ان کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنے کی شدید مذمت کی۔

کرناٹک میں مسلم طالبات کا احتجاج حق بجانب

انہوں نے اپنے بیان میں مسلم طالبات کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست تنظیمیں اور ان کے آلہ کار حجاب کی مخالفت کررہے ہیں جو افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا دستور کسی بھی مذہب پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی اپنے مذہب کے لحاظ سے کپڑے پہن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حجاب پہنی ہوئی لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ہمارے ملک ہندوستان کی خوبصورتی ہے کہ یہاں پر کسی کو بھی کوئی بھی چیز پہننے کے لئے آزادی حاصل ہے۔ اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جنوبی ہند کی اس ریاست میں لڑکیوں کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کو لڑکیوں کی بہتر تربیت پر وہ مبارکباد دیتے ہوئے ان کے جذبہ کو سلام کرتے ہیں۔

مولانا نے مسلم لڑکیوں کے حجاب کے جواب میں بعض لڑکیوں اور یہاں تک کہ لڑکوں کی جانب سے زعفرانی کھنڈوے پہننے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے پوچھا کہ اب تک یہ کھنڈوے کہاں گئے تھے؟ آج کیوں یہ زعفرانی کھنڈوے یاد آ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے اس طرح کی حرکتیں کی جارہی ہیں جو نامناسب ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی ظالموں کے ظلم سے مسلمانوں کو بچائے اور مسلم لڑکیوں کو اپنے حق کے لئے جدوجہد کرنے اور آواز بلند کرنے کے لئے مزید طاقت عطا فرمائے۔

اسلامی معاشرہ

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت پر توجہ دینا ہے۔ اپنی اولادوں کو پردہ کا پابند بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ مسلم معاشرہ اس وقت بحران کا شکار ہے۔ اس کی اصلاح کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے اسلامی معاشرہ میں تبدیل کیا جائے۔ اسلامی تعلیمات کو روبہ عمل لانے سے ہی مسلم معاشرہ میں جڑ پکڑتی خرابیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے ملت کے باشعور طبقہ کو اپنی ذ مہ داری محسوس کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

مسلم معاشرہ میں ان دنوں جھوٹ، حسد، اور دیگر کئی بُری چیزیں جگہ بنارہی ہیں۔ ایسے میں ہمیں مسلم معاشرہ کو صحیح خطوط پر لانے کے لئے ہمہ جہتی کوششوں کو تیز کرنا ضروری ہے، تب ہی مسلم معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہے۔ ہمیں اس معاشرہ کی بُری باتوں کو چھوڑ کر اس میں مثبت پہلو کو جگہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کام زعمائے ملت سے ہی ممکن ہے۔ اس سلسلہ میں منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں مسلم معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

بائیڈن نے کہا، روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں

0
بائیڈن نے کہا، روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں
بائیڈن نے کہا، روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں

روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دو دن بعد بائیڈن نے کہا ہے کہ روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ روس اور چین کا قریب آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

مسٹر بائیڈن نے یہ ریمارکس روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دو دن بعد کہے۔ انہوں نے روس اور چین کے درمیان بڑھتی قربت کے بارے میں صحافیوں کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی یوکرین کے گرد تناؤ بڑھنے کے بعد مشرقی یوروپ میں مزید امریکی فوجی بھیجنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا۔

قابل ذکر ہے کہ چین نے روس کی طرف سے امریکہ اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) سے سلامتی کی ضمانت کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کا لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت

0
پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کا لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت
پاکستان سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں کا لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت

بھارت رتن گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر سری لنکا،  افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں اور سفارت کاروں نے اظہارِ تعزیت کیا

نئی دہلی: دنیا بھر کے رہنماؤں اور سفارت کاروں نے اتوار کو بھارت رتن گلوکارہ لتا منگیشکر کی موت پر اظہارِ تعزیت کیا۔

سری لنکا کے وزیر اعظم کا ٹویٹ

سری لنکا کے وزیر اعظم مہیندرا راج پکشے نے ٹویٹ کیا، ’ہندوستان کی صدائے سامری، لتا منگیشکر زندہ باد رہیں۔ ​​سرحدوں کو عبور کرنے والے دہائیوں کے انٹرٹینمنٹ کے لیے شکریہ۔ آپ نے کہاوت ’موسیقی عالمی زبان ہے‘ کو مجسم کیا‘۔

مسٹر راج پکشے نے کہا، ’ان کے خاندان اور ہندوستان کے عوام کے ساتھ میری تعزیت۔ ان کی یادیں ان کی موسیقی کے ذریعے سے زندہ رہیں گی‘۔

حامد کرزئی کا ٹویٹ

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ٹویٹ کیا، ’لتا منگیشکر نے اپنی آواز سے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو خوشی سے بھر دیا۔ ان کی دھن آفاقی اور ہمیشہ کے لیے ہے۔ ان کے خاندان اور ہندوستان کے عوام کے تئیں میری گہری تعزیت ہے۔ ان کی روح کو سکون ملے‘۔

لتا منگیشکر کی موت، پاکستان میں سوگ کی لہر

لتا کی موت کی خبر پاکستان میں ٹویٹر پر سب سے زیادہ زیر بحث موضوعات میں تھی۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین وہاں کی ان ہستیوں میں ہیں جنہوں نے لتا جی کی موت پر اظہار تعزیت کیا اور خراج عقیدت پیش کیا۔ بہت سے لوگوں نے لتا منگیشکر کو بہن کہہ کر اپنے غم کا اظہار کیا

فواد چودھری نے کہا کہ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، ’ایک عظیم ہستی ہمارے بیچ نہیں رہیں۔ لتا منگیشکر سروں کی رانی تھیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک موسیقی کی دنیا پر راج کیا۔ وہ موسیقی کی بے تاج ملکہ تھیں۔ ان کی آواز ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر راج کرتی رہے گی۔ خراج عقیدت‘۔

شہباز شریف نے کہا کہ لتا منگیشکر کے انتقال سے موسیقی کی دنیا ایک ایسی گلوکارہ سے محروم ہوگئی جس نے اپنی سریلی آواز سے نسلوں کو مسحور کیا۔

بی بی سی کا اظہار تعزیت

بی بی سی نیوز کی پنجابی سروس نے لتا منگیشکر کی موت پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے پاکستانی عوام کا ایک ویڈیو جار ی کیا۔ عوام کا کہنا تھا کہ لتا منگیشکر کی سریلی آواز سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ بعض نے ان کا موازنہ نور جہاں سے بھی کیا۔

کالم نگار دوردانہ نجم نے لتا کو میوزیکل نائٹنگل کہا۔ لتا منگیشکر بھی ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی چاہی جاتی تھیں۔

سیاسی تجزیہ کار شاہد مسعود کا تعزیتی پیغام

سیاسی تجزیہ کار شاہد مسعود نے بھی کہا کہ لتا منگیشکر کی رخصتی ایک دور کا خاتمہ ہے۔ وہ پاکستان میں بھی اتنی ہی مقبول تھیں جتنی وہ ہندوستان یا کہیں اور تھیں۔ انہوں نے لتا جی کو ’ہماری بہن‘ کہہ کر خراج عقیدت پیش کیا۔

محمد طاہر نامی ایک اور شخص نے ٹویٹ کیا کہ ہندوستان-پاکستان میں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں لوگ ان کے نغموں سے لطف اندوز نہ ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ ہماری زندگی کی ایک عمر ہے، اس کے بعد ظالمانہ موت سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔

جرمنی کے سفیر والٹر جے لنڈنر کا ٹویٹ

ہندوستان اور بھوٹان میں جرمنی کے سفیر والٹر جے لنڈنر نے ہندی میں منگیشکر کے مشہور نغمےکے جز کو ٹویٹ کیا، "میری آواز ہی پہچان ہے، گر یاد رہے…” ہندوستان کی صدائے سامری لتا منگیشکر، گلوکارہ اور موسیقی ہنر کی 92 برس کی عمر میں موت ہو گئی۔ ایک لیجنڈ، ایک ناقابل تلافی آواز اور سات دہائیوں کے لیے موسیقی کا مرکز! بہت افسوسناک خبر، ان کی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔ خراج عقیدت لتا منگیشکر جی‘۔

بنگلہ دیش کا اظہار تعزیت

بنگلہ دیش کے صدر عبدالحمید، وزیر اعظم شیخ حسینہ اور پارلیمنٹ کی اسپیکر شرمین چودھری نے لتا منگیشکر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کو الگ الگ تعزیتی پیغامات میں مسٹر عبد الحمید اور محترمہ شیخ حسینہ نے گلوکارہ کی آتما کی شانتی کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

92 برس کی عمر میں بھارت رتن لتا منگیشکر چار ہفتوں تک زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد بالآخر اتوار کے روز یہ جنگ ہار گئیں اور 29 دن بعد ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں آج صبح 8.12 بجے انتقال کر گئیں۔

آواز کی دیوی لتا منگیشکر کا 92 سال کی عمر میں انتقال

0
آواز کی دیوی لتا منگیشکر کا 92 سال کی عمر میں انتقال
آواز کی دیوی لتا منگیشکر کا 92 سال کی عمر میں انتقال

مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں پیدا ہونے والی لتا 8 جنوری سے بریچ کینڈی ہسپتال میں تھیں۔ انہیں کووڈ انفیکشن کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ آج صبح انکا انتقال ہوگیا۔

ممبئی: جادو بھری آواز، بے مثال آواز، منفرد آواز، لاجواب آواز، قابل احترام آواز، کوئل سی آواز، کانوں میں شہد گھولتی آواز، آواز کی ملکہ اور آواز کی دیوی، اس طرح کے اور جتنے بھی القاب ہو سکتے ہیں انہیں جمع کیجئے، ایک تصویر بنایئے، جو تصویر بنے گی وہ لتا منگیشکر کی ہوگی لیکن افسوس کہ اب وہ آواز ہمارے درمیان نہیں رہی اور وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی۔

آج صبح انکا ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ 8 جنوری سے بریچ کینڈی ہسپتال میں تھیں۔ انہیں کووڈ انفیکشن کے بعد اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

لتا منگیشکر کی پیدائش

لتا منگیشکر 28 ستمبر 1929 کو ایک متوسط ​​مراٹھی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں پیدا ہونے والی لتا پنڈت دیناناتھ منگیشکر کی بڑی بیٹی تھیں۔ اس کا پہلا نام ‘ہیما’ تھا، لیکن پیدائش کے پانچ سال بعد اس کے والدین نے اس کا نام ‘لتا’ رکھا۔ لتا اپنے تمام بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ مینا، آشا، اوشا اور ہردے ناتھ اس سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد تھیٹر آرٹسٹ اور گلوکار تھے اور وہ ایک معروف نام تھے۔

جب لتا منگیشکر سات سال کی تھیں تو وہ مہاراشٹر آئیں۔ انہوں نے پانچ سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ تھیٹر آرٹسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ لتا بچپن سے ہی گلوکارہ بننا چاہتی تھیں۔ لتا کے والد کو کلاسیکی موسیقی کا بہت شوق تھا۔ اس لیے وہ لتا کے فلموں میں گانے کے خلاف تھے۔ ان کے والد کا انتقال 1942 میں ہوا۔ اس کے بعد ان کے خاندان کی مالی حالت خراب ہو گئی اور خاندان کو چلانے کے لیے لتا نے مراٹھی اور ہندی فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ادا کرنے شروع کر دیے۔

لتا منگیشکر کی پہلی کمائی

لتا منگیشکر کو پہلی بار اسٹیج پر گانے کے 25 روپے ملے۔ وہ اسے اپنی پہلی کمائی سمجھتی تھی۔ لتا نے پہلی بار 1942 میں مراٹھی فلم ‘کتی ہنس’ کے لیے گایا۔ لتا منگیشکر کی پوری زندگی اپنے خاندان کے لیے وقف تھی۔ گھر کے تمام افراد کی ذمہ داری اس پر تھی اس لیے شادی کا خیال آنے پر بھی وہ اس پر عمل نہ کر سکی۔ لتا منگیشکر کو 2001 میں سب سے بڑے اعزاز بھارت رتن سے نوازا گیا۔

اسدالدین اویسی پر قاتلانہ حملہ منصوبہ بند سازش کا حصہ: صدر مسلم مجلس

0

آل انڈیا مسلم مجلس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے اسدالدین اویسی صاحب پر ہوئے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے اسدالدین اویسی صاحب پر ہوئے قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک منصوبہ سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ بی جے پی کی یوگی حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری، کمرتوڑ مہنگائی، کمزوروں پر ظلم، لاقانونیت، بدانتظامی اور کسان مخالف پالیسیوں کے باعث بی جے پی کو الیکشن میں ہار کا خوف ستارہا ہے۔ اسی لئے وہ انگریزوں کی لڑاؤ اور حکومت کردکی پالیسی اپنا رہی ہے اور الیکشن کو ہندومسلم بناکر شکست سے بچنے کی کوشش کررہی ہے۔ 

انہوں نے دعوی کیا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ مسلسل فرقہ وارانہ تقریریں کرکے ماحول بگاڑنے کا کام کرہے ہیں اور بار بار کیرانہ اور مظفر نگر کی تکرار کررہے ہیں۔ اویسی صاحب پر حملہ بھی اسی نفرت انگیز مہم کا حصہ ہے۔

یہ حملہ صرف دونوں جوانوں کے شیطانی دماغوں کی کارستانی نہیں ہے بلکہ اس کے تار ہری دوار اور پریاگ راج کی دھرم سنسند سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہذا سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اسکی تحقیقات کرائی جائے اور قصورواروں کو سخت سزادی جائے۔