پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 267

ملکی مفاد میں اپنی تنگ نظری ترک کرے بی جے پی: مایاوتی

0
ملکی مفاد میں اپنی تنگ نظری ترک کرے بی جے پی: مایاوتی
ملکی مفاد میں اپنی تنگ نظری ترک کرے بی جے پی: مایاوتی

مایاوتی کا کسانوں کے بعد بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور نوجوانوں کی تعداد میں حالیہ اضافہ پر اظہار تشویش

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے کسانوں کے بعد بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور نوجوانوں کی تعداد میں حالیہ اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سامنے آنے کے باوجود بی جے پی کی ترقی اور شائننگ انڈیا کے دعوے کتنے صحیح ہیں اس پر غور کیا جانا چاہئے۔

مایاوتی نے بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں کی خودکشی کے معاملے میں اضافے کو اجاگر کرنے والی ایک میڈیا رپورٹ کے حوالے سے اتوار کو اس معاملے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر بحث کرانے سے بچ رہی حکومت کی تنقید بھی کی۔

انہوں نے ٹویٹ کر کے لکھا ’قرض میں ڈوبی گھٹن کی زندگی کو مجبور کسانوں کی خودکشی کی خبریں پریشان کن ہیں۔ لیکن اب بے روزگار نوجوانوں کے ذریعہ بھی خودکشی کرنے کی مجبوری نے قومی تشویش، بے چینی و اشتعال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پھر بھی ترقی اور انڈیا شائننگ وغیرہ جیسا بی جے پی کا دعوی کتنا مناسب ہے۔

اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے اس سلگتے مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث سے انکار کرنے کو بی جے پی کی مغرور سوچ کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے بی جے پی کو ملکی مفاد میں تنگ نظری کو ترک کرنے کی نصیحت دیتے ہوئے کہا ’بی جے پی کے ذریعہ پارلیمنٹ میں بھی بے روزگاری کے تازہ قومی مسئلے پر بحث سے انکار کرنا ان کی غلط و پرغرور سوچ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟۔کون نوجوان بے روزگاری کا طعنہ و رسوائی برداشت کرنا چاہتا ہے؟۔ بی جے پی کے لوگ اپنی تنگ نظری کو ترک کریں تبھی ملک کا کچھ فائدہ ممکن ہے۔

یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا

0
یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا
یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا

جنوبی یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا، اغوا کار اقوام متحدہ کے کارکنوں کو نامعلوم مقام پر لے گئے

صنعاء: یمن پریس ایجنسی (وائی پی اے) کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی یمن میں اقوام متحدہ کے چھ کارکنان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے عملے (پانچ یمنی اور ایک بلغاریائی شہری) کو جمعہ کے روز صوبہ ابیان سے اغوا کر لیا گیا۔ مقامی ذرائع نے ہفتے کے روز وائی پی اے کو بتایا کہ اغوا کار اقوام متحدہ کے کارکنوں کو نامعلوم مقام پر لے گئے۔

ابھی تک کسی نے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق القاعدہ کی ایک مقامی شاخ (روس میں کالعدم دہشت گرد گروپ) اس اغوا کے پیچھے ہو سکتی ہے۔

وائی پی اے کے مطابق بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے اعلان کیا کہ اس نے گزشتہ سال یمن کے شہر ابیان میں امدادی تنظیم کی دو گاڑیوں کو نامعلوم دہشت گردوں کی طرف سے لوٹ لینے کے بعد انسانی بنیادوں پر کارروائیاں معطل کر دی تھیں۔

معروف صنعت کار راہل بجاج کا پونے میں انتقال

0

راہل بجاج نے 1965 میں بجاج گروپ کی ذمہ داری سنبھالی اور گزشتہ 50 سالوں میں اپنے گروپ کو بہت بلندیوں پر لے گئے

پونے: معروف صنعت کار اور بجاج گروپ کے سابق چیئرمین راہل بجاج کا ہفتہ کو شہر پونے، مہاراشٹرا میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 83 برس تھی اور وہ طویل عرصے سے کینسر میں مبتلا تھے۔

10 جون 1938 کو کولکتہ میں پیدا ہونے والے راہل بجاج نے 1965 میں بجاج گروپ کی ذمہ داری سنبھالی اور گزشتہ 50 سالوں میں اپنے گروپ کو بہت بلندیوں پر لے گئے۔

حکومت ہند نے انہیں 2001 میں پدم بھوشن سے نوازا۔ وہ 2006 سے 2010 تک راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔

لوک سبھا میں تبدیلی مذہب پر ریزرویشن ختم کرنے کا مطالبہ

0

ہندو مذہب میں ریزرویشن سے فائدہ اٹھانے والے شخص کے تبدیلی مذہب کی صورت میں ریزرویشن ختم کرنے کی مانگ لوک سبھا میں گونجی

نئی دہلی: ہندو مذہب میں ریزرویشن کا فائدہ حاصل کرنے والے شخص کو تبدیلی مذہب کی صورت میں اس کے لئے ریزرویشن کی سہولت ختم کرنے کا مطالبہ لوک سبھا میں کیا گیا۔

لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے نشی کانت دوبے نے وقفہ صفر میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندو مذہب میں رہتے ہوئے درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، پسماندہ طبقات وغیرہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو ریزرویشن کا فائدہ ملتا ہے۔ کیونکہ ریزرویشن کا نظام ان طبقات کے لیے آئین بنانے والوں نے آئین میں کیا ہے اور ملک کی پارلیمنٹ ان برادریوں کے لوگوں کو یہ حق دے رہی ہے۔ لیکن ایسے لوگ مذہب تبدیل کرنے پر بھی ان سہولیات کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذات، قبائل اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام، عیسائیت یا بدھ مذہب اختیار کرتے ہیں، تو انہیں ان مذاہب کارکن بننے پر ہندو مذہب میں ملنے والے ریزرویشن کی سہولتیں نہیں دی جانی چاہئیں اور اسے ختم کرنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

افغانستان کے منجمد اثاثوں سے متعلق ایگزیکٹیو آرڈر پر بائیڈن نے کئے دستخط

0

ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت افغانستان کی 7 ارب ڈالر کی منجمد رقم جاری کی جائے گی

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان کے منجمد اثاثوں سے متعلق ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کردیئے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت افغانستان کی 7 ارب ڈالر کی منجمد رقم جاری کی جائے گی۔ آرڈر کے تحت رقم کنسولیڈیڈٹ اکاؤنٹ میں منتقل کرنا ہوگی۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ 3.5 ارب ڈالر کی رقم افغانستان میں انسانی امداد کے لیے استعمال کی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ افغان عوام کی مدد کے لیے آئندہ مہینوں میں ٹرسٹ فنڈ قائم کیا جائےگا۔

امریکی حکام کے مطابق باقی 3.5 ارب ڈالر کی رقم امریکہ میں ہی رہےگی۔ رقم سے نائن الیون حملوں کے متاثرین کی جاری قانونی چارہ جوئی کی فنڈنگ کی جائے گی۔

امریکی حکام نے مزید کہا کہ منصوبے کا مقصد افغان عوام کو فائدہ پہنچانا ہے۔ حکام کے مطابق اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ منجمد افغان فنڈز کے منصوبوں پر بات چیت کی۔ 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منجمد افغان اثاثوں میں اکثریت امریکی اور دیگر عطیہ دہندگان کی فراہم کی گئی امدادی رقومات ہیں۔

حجاب کے مسئلے کو طول دینا افسوسناک: مایاوتی

0

مایاوتی نے ٹویٹ کیا، مسلم خواتین کی طرف سے حجاب کا مسئلہ بہت سنگین اور حساس ہے، اس کی آڑ میں سیاست اور تشدد ناانصافی ہے

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے کرناٹک میں مسلم خواتین کے حجاب پہننے کے معاملے کو ملک کی سماجی ہم آہنگی کے لیے بہت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر جاری سیاسی ہنگامہ افسوسناک ہے۔

محترمہ مایاوتی نے جمعہ کو کہا کہ حجاب کے مسئلہ کی آڑ میں سیاسی تشدد جائز نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے ذریعہ اس معاملے کا از خود نوٹس لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ مسلم خواتین کی طرف سے حجاب کا مسئلہ بہت سنگین اور حساس ہے۔ اس کی آڑ میں سیاست اور تشدد ناانصافی ہے۔

یہ افسوسناک ہے کہ کرناٹک میں اس مسئلہ کو اٹھا کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی بھائی چارے اور خیر سگالی کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔ بہتر ہوگا کہ سپریم کورٹ اس کا بروقت نوٹس لے۔

قابل ذکر ہے کہ مسلم خواتین کے حجاب پہننے کو شخصی آزادی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر جاری بحث کے شدید ردعمل کا ملک گیر اثر ہو رہا ہے۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کے نام پر مذہبی لباس پہننے کی چھوٹ کی مخالفت کر رہا ہے۔

فیصلہ آنے تک حجاب سے گریز کریں طالبات: کرناٹک ہائی کورٹ

0

کرناٹک ہائی کورٹ کا کالجوں میں حجاب پہن کر طالبات کے کلاسوں میں داخل ہونے کی مانگ کرنے والے عرضی گزاروں کو عبوری راحت دینے سے انکار

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے جمعرات کو کالجوں میں حجاب پہن کر طالبات کے کلاسوں میں داخل ہونے کی مانگ کرنے والے عرضی گزاروں کو عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا اور حجاب تنازعہ پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس رتوراج اوستھی نے کہا کہ ہم اس معاملے پر جلد از جلد فیصلہ دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن تب تک ہمیں لگتا ہے کہ امن بحال ہونا چاہیے۔ اس دوران طالبات کو مذہبی لباس پہننے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے جو ان کے لیے مناسب نہیں ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل دیودت کامت نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ طلباء کے حقوق کو کم کرنے کے مترادف ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ چند دنوں کی بات ہے اور انہیں عدالت سے تعاون کرنا چاہیے۔ ہم کیس کی سماعت کے دوران تمام مذہبی رسومات کو کرنے سے روکیں گے۔

سماعت کے دوران جسٹس اوستھی نے وکیل کامت کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بنچ کو لگتا ہے کہ یہ صورتحال ختم ہو چکی ہے کیونکہ سنگل بنچ نے معاملے کو بڑی بنچ کو بھیج دیا ہے۔

سنگل بنچ کے جسٹس کرشنا ایس دکشت نے کل اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں اہم آئینی امور شامل ہیں اس لئے اسے بڑی بنچ کو سونپ دیا جانا چاہیے۔

عدالت میں معاملے کی اگلی سماعت پیر کو ہوگی۔

سولر لائٹ سے روشن ہوں گے بہار کے گاﺅں، 15 اپریل سے شروع ہوگا پروجیکٹ پر عمل درآمد: نتیش

0

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سولر اسٹریٹ لائٹ لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے مینٹننس اور مسلسل نگرانی کا بہتر انتظام ہو۔ ہم لوگوں کا مقصد ہے کہ سولر اسٹریٹ لائٹ کے ذریعہ لوگوں کو مسلسل فائدہ ملتا رہے

پٹنہ: وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 1 انے مارگ واقع سنکلپ میں ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے وزیر اعلیٰ سات عزائم منصوبہ 2 کے تحت ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ منصوبہ‘ کی پیش رفت سے متعلق جائزہ میٹنگ کی۔

جائزہ میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سات عزائم 2 کے تحت ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم‘ پر عمل درآمد 15 اپریل سے شروع کریں۔ اس کی شروعات ہو نے سے گاﺅں کے راستے اور اہم مقامات سولر لائٹ سے روشن ہوں گے۔ شام سے صبح تک سولر اسٹریٹ لائٹ جلے گی، اس سے گاﺅں کی تصویر بدلے گی اور لوگ بہت خوش ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم‘ کے حوالے سے لوگوں میں بہت جوش و خروش ہے۔ تجرباتی طور پر محکمہ اسے تمام اضلاع کے کم سے کم ایک ایک پنچایت میں شروع کرائیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سولر اسٹریٹ لائٹ لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے مینٹننس اور مسلسل نگرانی کا بہتر انتظام ہو۔ ہم لوگوں کا مقصد ہے کہ سولر اسٹریٹ لائٹ کے ذریعہ لوگوں کو مسلسل فائدہ ملتا رہے۔

اس سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا

انہوں نے کہا کہ اس کی پروڈکشن اکائی کو ریاست میں ہی قائم کر نے کے لیے کارو باری لوگوں کو ترغیب دیں تاکہ سولر لائٹ کے سامان کی پیداوار بھی یہیں ہو، ساتھ ہی مقامی لوگوں کو روزگار ملے۔ انہوں نے کہا کہ سولر لائٹ میں استعمال کی جارہی اشیا کا معیار بہتر ہو اسے بھی یقینی بنائیں۔

میٹنگ میں پنچایت راج محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر اروند کمار چودھری نے اپنے پرزنٹیشن کے ذریعہ ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم‘ کی پیش رفت کی تفصیلی جانکاری دی۔ انہوں نے اس کی زمین، اہداف، نفاذ اور رابطہ کمیٹی، مالیاتی انتظام، سولر اسٹریٹ لائٹ کے منیٹننس، سولر اسٹریٹ لائٹ کی تنصیب کے لیے جگہوں کا انتخاب کے بارے میں جانکاری دی۔

ہر وارڈ میں اوسطاً 10 سولر اسٹریٹ لائٹ لگائے جائیں گے

انہوں نے بتایا کہ ہر وارڈ میں اوسطاً 10 سولر اسٹریٹ لائٹ لگائے جائیں گے، اس کے علاوہ دیگر اہم عوامی مقامات پر بھی سولر لائٹ لگائی جائے گی۔

میٹنگ میں محکمہ توانائی کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر سنجیو ہنس نے پرزنٹیشن کے توسط سے ’وزیر اعلیٰ رورل سولر اسٹریٹ لائٹ اسکیم‘ کے تکنیکی معاون کی شکل میں بہار رینیوئیبل انجری ڈیولپمنٹ ایجنسی (بریڈا) کی طرف سے کیے جارہے کام کی موجودہ پیش رفت کی تفصیلی جانکاری دی۔ انہوں نے اس کے مختلف اجزا سولر پینل، بیٹری، بلب کی تکنیکی خصوصیات وغیرہ کے بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ ریمورٹ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعہ سولر اسٹریٹ لائٹ کے نفاذ کی بہتر طریقہ سے نگرانی کی جائے گی۔

میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر دیپک کمار، چیف سیکریٹری مسٹر عامر سبحانی، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری مسٹر انوپم کمار اور وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی مسٹر گوپال سنگھ موجود تھے۔ جبکہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بجلی کے وزیر جناب بجندر پرساد یادو، پنچایتی راج کے وزیر جناب سمراٹ چودھری، پنچایت راج محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر اروند کمار چودھری اور بجلی محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر سنجیو ہنس منسلک تھے۔

سپریم کورٹ کا کرناٹک کے حجاب تنازعہ پر سماعت کرنے کا اشارہ

0
سپریم کورٹ کا کرناٹک کے حجاب تنازعہ پر سماعت کرنے کا اشارہ
سپریم کورٹ کا کرناٹک کے حجاب تنازعہ پر سماعت کرنے کا اشارہ

کرناٹک کے حجاب تنازعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر، جلد سماعت کی اپیل

نئی دہلی: کرناٹک کے حجاب تنازعہ کے سلسلے میں جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے جلد سماعت کی اپیل کی گئی ہے۔

چیف جسٹس این وی رمن کی صدارت والی سہ رکنی آئینی بینچ کے سامنے سینئر وکیل کپِل سبل نے آج ’خصوصی ذکر‘ کے تحت اس مسئلے کو بے حد ضروری بتاتے ہوئے اس کی جلد سماعت کرنے کی اپیل کی ہے۔

چیف جسٹس نے عرضی گزار کے وکیل کی دلائل سننے کے بعد کہا، ’’یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت کے لئے زیر فہرست ہے۔ پہلے وہاں سماعت ہونے دیں۔ اس کے بعد ہم اس پر غور کریں گے۔

مسٹر سبل نے فوری سماعت کی ضرورت بتاتے ہوئے دلیل دیتے ہوئے کہا، ’’امتحان ہونے والے ہیں۔ اسکول – کالج بند ہیں۔ لڑکیوں پر پتھراؤ ہو رہے ہیں۔ اس مسئلے پر فوری طور پر غور کیا جانا چاہئے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’میں اس عدالت سے اس عرضی کو زیر فہرست کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔‘‘

چیف جسٹس نے کہا، ہم غور کریں گے

چیف جسٹس کے ذریعہ کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت کا انتظار کرنے کے لئے کہنے پر مسٹر سبل نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ آج حکم پاس نہیں کرتا ہے تو سپریم کورٹ اسے خود منتقل کرکے سماعت کرسکتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا، ’’ہم غور کریں گے۔‘‘

یہ تنازعہ کرناٹک میں پچھلے دنوں تب شروع ہوا تھا، جب ایک تعلیمی ادارے میں طالبات کو حجاب اتار کر کلاس میں آنے کے لئے کہا گیا تھا، جس سے انہوں نے انکار کردیا تھا۔ طالبات کی جانب سے اس معاملے میں ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ حجاب پہننا ان کا آئینی حق ہے اور اس سے انہیں نہیں روکا جا سکتا۔

واضح رہے کہ اس تنازعہ کے سلسلے میں پچھلے دنوں کرناٹک کے اڈوپی میں تشدد کے واقعات ہوئے تھے۔ کئی سیاسی پارٹیوں اور مذہبی تنظیموں نے اس معاملے کی حمایت کی جبکہ کئی نے مخالفت کی ہے۔

اتر پردیش انتخابات: یوپی کے مسلمان کو سیاست میں حصہ داری چاہیے یا فرقہ پرستوں کی شکست؟

0
اترپردیش انتخابات: یوپی کے مسلمان کو سیاست میں حصہ داری چاہیے یا فرقہ پرستوں کی شکست؟
اترپردیش انتخابات: یوپی کے مسلمان کو سیاست میں حصہ داری چاہیے یا فرقہ پرستوں کی شکست؟

اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اب فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے! فیصلہ تھوڑا سخت ہے، مگر یہاں کے مسلمانوں کو سیاست میں اپنی حصہ داری اور فرقہ پرستوں کی شکست میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

اسمبلی انتخابات پانچ ریاستوں میں ہو رہے ہیں۔ جیت اور ہار کہیں بھی ہو، بہت معنی رکھتی ہے۔ اسی لئے سیاسی جماعتیں سب جگہ اپنے اپنے مہرے بچھا رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یوپی پر ہی سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔ یوپی میں بھی مغربی یوپی اور یہاں کے مسلمان سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اس کی کئی اہم اور بنیادی وجوہات بھی ہیں۔ کیوں کہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ مغربی یوپی نے پوری ریاست کی سیاست کی سمت طے کر دی ہے۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکمراں جماعت کی اعلی ترین قیادت نے اس خطہ میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ یہ لوگ جتنی شدت سے ہندو، مسلمان، پاکستان، قبرستان، مظفر نگر فسادات کا ذکر کر رہے ہیں اور جاٹ اور مسلمانوں کے زخموں کو کریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، اتنی ہی شدت سے علاقہ کے عوام اتحاد و اتفاق اور سیاسی شعور کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

کسانوں نے پہلے ہی انتخابات کی سمت طے کر دی ہے

مسلمانوں کی بھرپور آبادی والا مغربی یوپی کا یہ پورا علاقہ کسانوں کے غلبہ والا علاقہ کہلاتا ہے۔ کسانوں نے پہلے ہی ان انتخابات کی سمت طے کر دی ہے۔ کیوں کہ ایک سال تک ملک کے کسان جس مشکل دور سے گزرے اور انھوں نے جو قربانیاں دیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ لہذا اب جبکہ ان کے ہاتھ حکمرانوں کو آئینہ دکھانے کا موقع آیا ہے تو وہ اسے یوں ہی جانے نہیں دیں گے۔ مغربی یو پی کے جاٹ اور مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی تفریق اور امتیاز نہیں رہا، لیکن 2013ء میں فرقہ پرست طاقتیں اس اتحاد کو توڑنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہاں آگ لگا کر پہلے 2014ء اور پھر 2017ء اور 2019ء میں خوب سیاسی روٹیاں سینکی گئیں۔ آخر کار 2022ء آتے آتے حالات یکسر تبدیل ہو گئے۔

اب یہاں ہندو اورمسلمان کے درمیان کوئی خلش نظر نہیں آتی، بلکہ سب کسان ہیں۔ ایک سال تک چلنے والی کسان تحریک نے فرقہ پرستوں کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ ان کی پیشانی پر نظر آنے والی پریشانی کی لکیریں اس بات کی گواہ ہیں۔ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور وزیر اعلی جیسے عہدوں پر بیٹھے لوگ اپنی زبان سے بھی اس پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سیاسی بساط پلٹتے دیکھ کر ان عہدوں کے وقار کو بھی پامال کیا جا رہا ہے۔

مسلمان با حیثیت ہوتے ہوئے بھی بے حیثیت

یوپی میں مسلمانوں کی آبادی، ان کے ووٹوں اور ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص مغربی یوپی کے کئی اضلاع میں مسلمان فیصلہ کن سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایوان میں ان کی بھرپور نمائندگی ہونی چاہئے، لیکن پچھلے کچھ عرصہ کے دوران مسلم ووٹوں کی حیثیت بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے۔ پچھلے کئی انتخابات سے سیکولر کہی جانے والی جماعتیں بھی مسلمانوں کو وہ اہمیت نہیں دے رہی ہیں، جس کے وہ حقدار ہیں۔ اسے وقت اور حالات کی ستم ظریفی کہیں یا مسلمانوں کے سیاسی شعور کی ناپختگی، کہ وہ با حیثیت ہوتے ہوئے بھی بے حیثیت بن کر رہ گئے ہیں۔

یہ انتخابات یقیناً یوپی کے مسلمانوں کے سیاسی شعور کا بڑا امتحان ثابت ہوں گے۔ ساتھ ہی یوپی ہی نہیں، ملک کی سیاست کی سمت بھی طے کریں گے، مگر مشکل یہ ہے کہ آج بھی مسلمان تذبذب کا شکار ہیں۔ یوپی میں اگرچہ کافی حد تک تصویر واضح ہے، پھر بھی مسلمان اس کشمکش میں ضرور ہیں کہ وہ فرقہ پرستوں کو شکست دینے کو ترجیح دیں یا پھر اپنی سیاسی نمائندگی یا حصہ داری بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیکولر جماعتوں نے بارہا مسلمانوں کے ووٹوں سے اپنی سیاسی کشتیاں بھنور سے نکالی ہیں اور مسند اقتدار تک پہنچی ہیں، لیکن مسلمانوں کو بار بار طوفان میں لا کر چھوڑا ہے۔

یوپی میں مسلمانوں کی آبادی

یوپی میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 20؍ فیصد ہے اور ان میں زیادہ تر مغربی یوپی میں ہی ہیں۔  ریاست کی تقریباً 150؍ سیٹوں پر مسلم رائے دہندگان اپنا اثر رکھتے ہیں۔ ان میں سے نصف پر مسلم آبادی 20؍ سے 30؍ فیصد تک ہے۔ نصف سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان 30؍ فیصد سے زیادہ ہیں۔ ریاست میں تقریباً تین درجن ایسی سیٹیں بھی ہیں جہاں مسلم رائے دہندگان ہی امیدوار کی جیت اور ہار کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جبکہ تقریبا ً 100؍ سیٹوں پر مسلمان براہ راست اپنا اثر رکھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مغربی یوپی میں اور کچھ مشرقی یوپی میں ہیں۔ سب سے زیادہ مسلم آبادی والی سیٹ رام پور ہے، جہاں 50؍ فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔ مغربی یوپی میں لوک سبھا کی 27؍ سیٹیں ہیں۔

2017 میں بی جے پی کو اقتدار میں لانے میں مغربی یوپی کا اہم کردار

2014ء میں بی جے پی نے ان میں سے24؍ سیٹیں جیتی تھیں۔ اسی طرح 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی یہاں 19؍ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ 2017ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار میں لانے میں مغربی یوپی کا اہم کردار تھا، کیونکہ یہاں کی 136؍ اسمبلی سیٹوں میں سے 109؍ سیٹوں پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن اس بار بی جے پی کے لیے حالات بالکل سازگار نہیں ہیں۔ کیونکہ اس بار مغربی یوپی میں سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ لوک دل کا اتحاد ہوا ہے۔

جاٹ اور مسلمان ایک بار پھر متحد نظر آ رہے ہیں۔ مغربی یوپی میں 27؍ فیصد مسلمان اور 17؍ فیصد جاٹ ووٹر ہیں۔ اس کے علاوہ یادووں کو بھی اگر ملا لیا جائے تو یہ 51؍ فیصد ہو جاتے ہیں۔ اب بی جے پی کو ڈر ہے کہ مسلمان، جاٹ اور یادو کے علاوہ کچھ دوسری برادریاں اس اتحاد کی طرف آ گئیں تو پھر اس علاقے میں بی جے پی کے لئے کیا بچے گا؟

جیت کے بعد بھی یوگی کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے محروم رہنے کا امکان

ایسے میں یوگی کی 80؍ بنام 20؍ فیصد کے سہارے فرقہ وارانہ لکیر کھینچنے کی کوشش یہیں ماند پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے والا یوگی کا یہ داؤ پلٹ گیا تو کہنے لگے کہ ان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ 80؍ فیصد سیٹوں پر بی جے پی اور 20؍ فیصد سیٹوں پر باقی جماعتیں جیتیں گی۔ لیکن ان کی پریشانی کو سمجھا جا سکتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اگر بی جے پی یوپی میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے، تو اس مرتبہ وہ وزیر اعلیٰ کے عہدے سے محروم رہ جائیں۔

جہاں تک یوپی میں مسلمانوں کی نمائندگی اور حصہ داری کی بات ہے تو ملک کی تعمیر و ترقی میں جس طرح مسلمانوں نے ہمیشہ اپنا بھرپور تعاون دیا ہے، اس لحاظ سے انھیں سیاسی حصہ داری نہیں دی گئی۔ ریاست میں تقریباً 20؍ فیصد مسلمان ہونے کے باوجود اسمبلی میں ان کی نمائندگی محض 4.5؍ فیصد ہے۔ یعنی 2017ء کے اسمبلی انتخابات میں صرف 23؍ مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ جبکہ 2012ء میں 68؍ مسلم نمائندے یوپی اسمبلی میں پہنچے تھے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جب جب بی جے پی کی طاقت بڑھی ہے، مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کم ہوئی ہے۔

رام مندر تحریک کے عروج کے دور میں سب سے کم مسلم ایم ایل اے

1991ء میں رام مندر تحریک کے عروج کے دور میں سب سے کم محض 17؍ مسلم ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1951-52 میں ہوئے پہلے اسمبلی الیکشن میں 41؍ مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد 1957ء میں 37؍ ،1962ء میں30؍ اور 1967ء کے اسمبلی انتخابات میں 23؍ مسلم ایم ایل اے جیتے۔ 1969 میں ہونے والے الیکشن میں 29؍ مسلم ایم ایل اے بنے، لیکن 1974ء میں پھر کمی دیکھی گئی اور صرف 25؍ مسلم امیدوار ہی جیت درج کر سکے۔ تاہم اس کے بعد مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوا۔ 1977ء میں مسلم ایم ایل اے کی تعداد بڑھ کر 49؍ ہوگئی۔ اسی اتار چڑھاؤ کے درمیان 1991ء میں رام مندر تحریک کے دوران صرف 17؍ مسلم امیدوار جیت سکے۔

تاہم اس کے بعد مسلم اراکین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا۔ 1993ء میں 28؍ 1996ء میں 38؍ 2002ء میں 64؍ مسلم نمائندے اسمبلی پہنچے۔ حالانکہ 2007ء میں مایاوتی کے دور میں مسلمانوں کی تعداد میں پھر کمی آئی اور ان کی تعداد 54؍ ہوگئی، لیکن 2012ء میں یہ تعداد 69؍ تک پہنچ گئی۔ پھر جیسے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2017ء میں زبردست کامیابی حاصل کی، یہ تعداد کم ہو کر 23؍ پر آ گئی۔ اب بس 10؍ مارچ کا انتظار ہے جب معلوم ہوگا کہ اس مرتبہ یوپی کے مسلمانوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔