پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 265

راجستھان: کوٹہ کے نیاپورہ پل سے چمبل ندی میں کار کے گرنے سے آٹھ افراد ہلاک

0
راجستھان: کوٹہ کے نیاپورہ پل سے چمبل ندی میں کار کے گرنے سے آٹھ افراد ہلاک
راجستھان: کوٹہ کے نیاپورہ پل سے چمبل ندی میں کار کے گرنے سے آٹھ افراد ہلاک

راجستھان میں ہوئے حادثہ کے شکار لوگ باراتی بتائے جا رہے ہیں اور مرنے والوں میں دولہا کے بھی شامل ہونے کا امکان ہے

جے پور: راجستھان میں کوٹہ کے نیاپورہ پل سے آج صبح ایک کار کے چمبل ندی میں گرنے سے آٹھ افراد کی موت ہو گئی۔

پولیس نے بتایا کہ صبح تقریباً 8.30 بجے پولیس کو ایک کار کے دریا میں گرنے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔

پولیس نے بتایا کہ کار سے سات لاشیں نکالی گئیں اور ایک لاش بعد میں ریسکیو آپریشن کے دوران نکالی گئی۔

حادثہ کے شکار لوگ باراتی بتائے جا رہے ہیں اور مرنے والوں میں دولہا کے بھی شامل ہونے کا امکان ہے۔ بارات چوتھ کے دن بارواڑا سے اجین جا رہی تھی۔

اترپردیش: تیسرے مرحلے میں 11 بجے تک 21.18 فیصدی ووٹنگ

0
اترپردیش: تیسرے مرحلے میں 11 بجے تک 21.18 فیصدی ووٹنگ
اترپردیش: تیسرے مرحلے میں 11 بجے تک 21.18 فیصدی ووٹنگ

اترپردیش میں تیسرے مرحلے کے تحت 16 اضلاع کی 59 سیٹوں پر جاری ووٹنگ میں صبح گیارہ بجے تک سب سے زیادہ للت پور میں 25.80 فیصدی ووٹنگ ہوئی ہے جبکہ کانپور (شہر) میں سب سے کم 16.79 فیصدی ووٹروں نے ہی اپنی حق رائے دیہی کا استعمال کیا ہے

لکھنؤ: اترپردیش میں تیسرے مرحلے کے تحت 16 اضلاع کی 59 سیٹوں پر جاری ووٹنگ میں صبح 11 بجے تک 21.18 فیصدی رائے دہندگان نے اپنی حق رائے دیہی کا استعمال کیا ہے۔

الیکشن کمیشن سے موصول اعداد و شمار کے مطابق صبح گیارہ بجے تک سب سے زیادہ للت پور میں 25.80 فیصدی ووٹنگ ہوئی ہے جبکہ کانپور (شہر) میں سب سے کم 16.79 فیصدی ووٹروں نے ہی اپنی حق رائے دیہی کا استعمال کیا ہے۔

اس کے علاوہ ضلع ہاتھرس میں22.67 فیصدی، ضلع فیروزآباد میں 24.32 فیصدی، ضلع کاس گنج میں 22.54 فیصدی، ضلع ایٹہ میں 24.30 فیصدی، ضلع مین پوری میں24.46 فیصدی، فرخ آباد میں 19.64 فیصدی، قنوج میں 22.00 فیصدی، اٹاوہ میں 19.84 فیصدی، اوریا میں 18.53 فیصدی، کانپور (دیہات) میں 19.86 فیصدی، جالون میں 21.66 فیصدی، جھانسی میں 19.11 فیصدی، ہمیرپور میں 23.30 فیصدی، مہوبہ میں 23.50 فیصدی رائے دہندگان نے اپنی حق رائے دیہی کا استعمال کیا ہے۔

اترپردیش کے اس مرحلے میں نہ صرف یوگی حکومت کے وزراء بلکہ مرکزی وزیر کی ساکھ بھی داؤ پر

اس مرحلے میں 2.16 کروڑ ووٹر 627 امیدواروں کی قسمت پر مہر ثبت کررہے ہیں۔ اس مرحلے میں نہ صرف یوگی حکومت کے وزراء بلکہ مرکزی وزیر کی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔ ان میں مرکزی وزیر ایس پی سنگھ بگھیل مین پوری کی کرہل سیٹ پر ایس پی صدر اکھلیش یادو کو چیلنج دے رہے ہیں، جو تیسرے مرحلے کی پولنگ میں سب سے اہم سیٹوں میں سے ایک ہے۔ یوگی حکومت میں ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے وزیر رام نریش اگنی ہوتری اسی ضلع کی بھوگاؤں سیٹ پر قسمت آزما رہے ہیں اور ستیش مہانا کانپور ضلع کی مہاراج گنج سیٹ پر قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

ساتھ ہی سادآباد، جسونت نگر، فرخ آباد اور قنوج وہ اسمبلی حلقے ہیں جہاں پر معروف چہرے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ ایس پی کے بانی ملائم سنگھ یادو کے بھائی شیو پال سنگھ یادو اٹاوہ کی جسونت نگر سیٹ سے ایس پی کے نشان پر میدان میں ہیں۔ جبکہ ملائم کے دوست ہری اوم یادو بی جے پی کے ٹکٹ پر سرسا گنج سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ جبکہ کبھی بی ایس پی کا برہمن چہرہ سمجھے جانے والے رامویر اپادھیائے بی جے پی کے ٹکٹ پر سادآباد سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔

روس یوکرین پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے: ناٹو

0
روس یوکرین پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے: ناٹو
روس یوکرین پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے: ناٹو

ناٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’من گھڑت بہانے‘ کا استعمال کرکے یوکرین پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

بروسیلز: نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’من گھڑت بہانے‘ کا استعمال کرکے یوکرین پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے روس پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ 1991 میں مشرق کی طرف توسیع نہ کرنے کے اتحاد کے عزم کی قانونی حیثیت سے انکار کر رہا ہے۔

مسٹر اسٹولٹن برگ نے ہفتے کے روز جرمن پبلک براڈکاسٹر اے آر ڈی کو بتایا ’’روس نے کہا ہے کہ فوجیں واپس نہیں بلائی جا رہی ہیں، بلکہ سرحد پر فوجیں جمع ہو رہی ہیں‘‘۔

ناٹو کے سکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ کے مطابق ایسے ’اشارے‘ ملے ہیں کہ روس من گھڑت بہانے بنا کر یوکرین پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوب مشرقی (ڈونباس) میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں شدت کے درمیان ڈونیٹسک اور لوہانسکی (ڈی پی آر) اور (ایل پی آر) کی خود ساختہ جمہوریہ سے شہریوں کو نکالا جا رہا ہے۔

انہوں نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ روسی بولنے والے ڈون باس میں نسل کشی کا الزام لگا کر جھوٹ بول رہا ہے۔ انہوں نے روس پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ مشرق میں توسیع نہ کرنے کے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

این آر سی اور سی اے اے مخالف تحریک کا حصہ رہنے والے عالیہ یونیورسٹی کے طالب علم انیس الرحمن کا قتل

0

پولیس آفیسر ہونے کا دعویٰ کرنے والے چار افراد نے انیس الرحمن کے گھر میں گھس کر تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینک دیا

کلکتہ: این آر سی اور شہری ترمیمی ایکٹ مخالف تحریک کا حصہ رہے عالیہ یونیورسٹی کے طالب علم انیس الرحمن کا ان کے آبائی گھر ہوڑہ کے آمتا میں پولیس کے لباس میں ملبوس چند افراد داخل ہوکر تین منزل عمارت سے گرا کر قتل کردیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد آمتا کے جنوبی خان پاڑہ میں ہلچل مچ گئی ہے۔

انیس الرحمن نے حال ہی میں عباس صدیقی کی سیاسی جماعت آئی ایس ایف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق متوفی کی شناخت انیس خان (28) کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کو دئیے گئے بیان میں اہل خانہ نے بتایا کہ پولیس کی وردی میں ملبوس چند افراد اس کے گھر میں تلاشی کے نام پر داخل ہوگئے اور پھر اس کے بیٹے کو تین منزل عمارت سے ڈھکیل دیا۔

دوسری جانب آمتا پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی کوئی بھی ٹیم انیس کے گھر نہیں گئی تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ پولیس کی وردی میں انیس کے گھر کون گیا تھا؟ آئی ایس ایف لیڈر مشتبہ حالت میں قتل کا معاملہ ایک معمہ بن گیا ہے۔

مقتول انیس کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ جمعہ کی رات پولیس کی وردی میں چار افراد گھر آئے۔ ان میں سے تین سیوک پولیس تھے اور ایک خاکی لباس میں تھا۔ خاکی لباس میں ملبوس پولیس آفیسر نے اپنی شناخت آمتا پولیس افسر کے طور پر کرائی۔ پہلے پولیس نے انیس کے والد کو حراست میں لے لیا۔ باقی سب انیس کے ساتھ تیسری منزل پر چلے گئے۔ اس کے بعد گھر والوں کو چھت سے کچھ گرنے کی آواز آئی تو دیکھا کہ انیس زمین پر گرے ہوئے ہیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق عالیہ یونیورسٹی کا طالب علم انیس الرحمن خان کلکتہ میں رہتا تھا۔ وہ تین روز قبل گھر واپس آیا تھا۔ وہ جمعہ کی شام محلے میں ایک پروگرام میں شرکت کی تھی۔ اس کے بعد وہ رات گئے گھر واپس آیا۔ گھر واپس آنے کے تھوڑی دیر بعد چار افراد گھر پہنچے۔

متوفی کے اہل خانہ کے مطابق چاروں میں سے ایک نے پولیس کی وردی پہن رکھی تھی لیکن باقیوں نے سیوک پولیس کے کپڑے پہن رکھے تھے رات کے ایک بج رہے تھے۔ وہ مبینہ طور پر دروازے کے سامنے کھڑے تھے، دروازے کو زور سے دھکا دے رہے تھے۔ جب انیس کے والد گیٹ کے سامنے آئے اور ان کی شناخت جاننا چاہی تو انہوں نے آمتا تھانے کی پولیس ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان لوگوں نے کہا کہ وہ انیس الرحمن کو ڈھونڈنے آئے ہیں۔

جب گیٹ کھولا گیا تو انیس کے والد کومبینہ پولیس نے بندوق دکھا کر حراست میں لے لیا ۔بقیہ تین افراد گھر میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد وہ تیسری منزل جہاں انیس الرحمن سو رہے تھے۔ وہاں جاکر انیس کو دھکا دینے لگے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ اسے تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینک دیا گیا۔

انیس کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ تھوڑی دیر بعد جب وہ تینوں سیڑھیوں سے نیچے بھاگے تو پولیس کی وردی میں ملبوس شخص کو ‘سر’ کہا اور باقی تینوں نے کہا، ‘سر’، یہ ختم ہو گیا ہے۔ وہ جلدی سے گھر سے باہر نکل گئے۔ اس کے بعد گھر کے باقی افرادانیس کو اٹھا کر اسپتال پہنچایا مگر ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیدیا۔

عالیہ یونیورسٹی کے طالب علم کے گھر والے بالکل نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ کل رات آنے والوں کی پولیس یا کسی اور سے تفتیش کی جائے۔ وہ اپنے بیٹے کے قتل کا انصاف چاہتے ہیں۔

اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انیس کا تعلق نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) تحریک سمیت مختلف تحریکوں سے تھا۔ اہل خانہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ مختلف سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہوتا تھا۔ حال ہی میں اس نے آئی ایس ایف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ شاید اسی وجہ سے اس کا سیاسی قتل کیا گیا ہے۔

روس کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی سے اضافہ: بائیڈن

0
روس کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی سے اضافہ: بائیڈن
روس کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی سے اضافہ: بائیڈن

یوکرین کے ڈونباس علاقے میں روسی حمایت یافتہ باغیوں کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی سے اضافے کی اطلاعات

واشنگٹن: امریکی صدر جو بیڈن نے کہا ہے کہ یوکرین کے ڈونباس علاقے میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

مسٹر بائیڈن نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران یوکرین کے ڈونباس علاقے میں روسی حمایت یافتہ باغیوں کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی سے اضافے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے تناظر میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ یوکرین حملے کے کسی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

معروف صحافی رویش تیواری کا انتقال

0
معروف صحافی رویش تیواری کا انتقال
معروف صحافی رویش تیواری کا انتقال

انڈین ایکسپریس کے نیشنل بیورو چیف رویش تیواری کا 41 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا، ان کی آخری رسومات آج سہ پہر 3.30 بجے گروگرام کے سیکٹر 20 میں ادا کی جائیں گی

نئی دہلی: سینئر صحافی اور انڈین ایکسپریس کے نیشنل بیورو چیف رویش تیواری کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 41 سال تھی۔

سینئر صحافی کے ساتھی وکاس بھدوریا نے ہفتہ کے روز ٹویٹ کرکے یہ جانکاری دی۔ معروف صحافی رویش گزشتہ دو سال سے کینسر سے لڑ رہے تھے اور گزشتہ رات ان کی طبیعت بگڑنے پر انہیں قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طبیعت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا لیکن انہیں بچایا نہیں جاسکا۔

مسٹر بھدوریا نے بتایا کہ ان کی آخری رسومات آج سہ پہر 3.30 بجے گروگرام کے سیکٹر 20 میں ادا کی جائیں گی۔

سی اے اے مخالف مظاہرین کی ضبط کی گئی جائیداد اور رقم اترپردیش حکومت واپس کرے: سپریم کورٹ

0

سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی جائیداد ضبط کرنے کے یوپی سرکار کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضبط کی گئی جائیداد کی واپسی کا حکم دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو اتر پردیش حکومت سے کہا کہ وہ سی اے اے مخالف مظاہرین کی جائیدادوں کو واپس کرے جو اس نے 2019 میں، سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات کے بعد ضبط کرلی تھی۔

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی دو ججوں کی بنچ اترپردیش کے خلاف پرویز عارف ٹیٹو سمیت کئی عرضیوں کی سماعت کر رہی تھی۔ 2019 میں، سی اے اے ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران اتر پردیش میں کئی مقامات پر تشدد ہوا تھا۔ اس میں سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو جتنا بھی نقصان پہنچا، اس کا نقصان مظاہرین سے لیا گیا تھا۔ اترپردیش حکومت نے 274 لوگوں کو نوٹس جاری کیا تھا، ان کی جائیدادیں ضبط کر لی تھیں یا ان سے پیسے لیے تھے۔

ریاستی حکومت کی وکیل گریما پرشاد نے بتایا کہ اس بات کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے کہ کتنی رقم برآمد ہوئی ہے لیکن یہ کروڑوں میں ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ حکم اس لیے آیا کیونکہ آج اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے مظاہرین کو جاری نوٹس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاستی حکومت نے 14 اور 15 فروری کو تمام ملزم مظاہرین کو اطلاع بھیجی ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ ریاستی حکومت کا ماننا تھا کہ قاعدے کے تحت مظاہرین کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

ہرجانے کی وصولی اور جائیداد کو ضبط کرنے کا اصول

2019 میں لاگو ہونے والے اصول کے مطابق، سرکاری یا نجی املاک کو تباہ کرنے پر کسی سے ہرجانہ لینے کا عمل ہے۔ اس عمل کے تحت ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج فیصلہ کرتے ہیں کہ کس سے کتنا ہرجانہ لینا ہے۔ لیکن اتر پردیش میں اس اصول کی پیروی نہیں کی گئی تھی اور حکومت نے ضلع مجسٹریٹ کو جائیداد ضبط کرنے اور ہرجانے کی وصولی کا اختیار دیا تھا۔ پھر 2020 میں، اتر پردیش حکومت نے ایک نیا قانون لایا، جس میں ہرجانے کی وصولی اور جائیداد کو ضبط کرنے کا اصول بنایا گیا تھا۔

آج ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اب حکومت 2020 قانون کے تحت کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ اس قانون کے مطابق ایک ٹریبونل تشکیل دیا جائے گا جو فیصلہ کرے گا کہ املاک کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے اور کس سے کتنا نقصان وصول کرنا ہے۔

اسی لیے آج سپریم کورٹ نے کہا کہ پورے معاملے کو ٹریبونل میں دوبارہ شروع کیا جائے۔ لیکن اب تک جو بھی جائیداد ضبط کی گئی ہے یا مظاہرین سے ہرجانے کے طور پر رقم لی گئی ہے، اسے واپس کیا جائے۔

اتر پردیش حکومت کی سپریم کورٹ کی التجا

اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ سے التجا کی ہے کہ اسے 274 مظاہرین کے خلاف عدالت عظمیٰ کے ذریعہ وضع کردہ رہنما خطوط کی تعمیل میں اس کے ذریعہ نافذ کردہ ایک نئے قانون کے تحت کارروائی کرنے کی اجازت دی جائے۔

ریاستی حکومت نے سی اے اے مخالف مظاہرین کو محمد شجاع الدین کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 2011 کے فیصلے پر انحصار کرتے ہوئے ان کی طرف سے نقصان پہنچانے والی جائیدادوں کی قیمت وصول کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔

ریاستی حکومت کے مطابق، کچھ مظاہرین نے مبینہ طور پر لکھنؤ سمیت شہروں میں عوامی املاک کو توڑ پھوڑ اور نذر آتش کیا۔

اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے 274 مخالف CAA مظاہرین کو ان کے ذریعہ مبینہ طور پر عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی وصولی کے لیے جاری کیے گئے نوٹس واپس لے لیے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی واپس لے لی گئی ہے۔

احمد آباد سلسلہ وار دہشت گردانہ بم دھماکوں کے معاملے میں 38 کو پھانسی، 11 کو عمر قید کی سزا

0

گذشتہ آٹھ فروری کو احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے کے 79 میں 49 ملزموں کو مجرم قرار دیا گیا تھا اور دیگر 28 کو بری کر دیا گیا تھا

احمد آباد: گجرات کے شہر احمد آباد میں 26 جولائی 2008 کو ہوئے سلسلہ وار دہشت گردانہ بم دھماکوں کے معاملے میں یہاں کی ایک خصوصی عدالت نے آج 49 ملزمان میں سے 38 کو سزائے موت اور باقی 11 کو عمر قید کی سزا سنائی۔

خصوصی جج اے آر پٹیل کی عدالت نے گذشتہ آٹھ فروری کو اس معاملے کے 79 میں 49 ملزموں کو مجرم قرار دیا تھا اور دیگر 28 کو بری کر دیا تھا۔ ایک دیگر ملزم کی شنوائی کے دوران موت ہو چکی ہے۔

عدالت نے آج اس معاملے میں سزا سبابت کے دوران 49 مجرم ثابت ہونے والے ملزموں میں سے 48 پر دو لاکھ 85 ہزار روپے (ہر ایک پر) کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

عدالت نے اس واقعہ کے سبھی 56 ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپیے، 240 زخمیوں میں سے سنگین کے لیے 50-50 ہزار اور تھوڑے زخمیوں کے لیے 25-25 ہزار کے معاوضے کا بھی التزام کیا۔

خیال رہے کہ یہاں سول اسپتال اور ایل جی اسپتال سمیت 23 بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر اس روز شام 6.30 سے ​​8.45 کے درمیان دھماکے ہوئے تھے جن میں 56 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 240 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد اسی سال 28 سے 31 جولائی کے درمیان شہر سورت سے 29 بم برآمد ہوئے جو احمد آباد کے دھماکوں میں استعمال ہوئے تھے۔

گجرات پولیس کی تحقیقات کے بعد اس معاملے میں پہلے 11 افراد کو 15 اگست 2008 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

2002 کے گجرات فسادات

تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ ان دھماکوں کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، انڈر ورلڈ اور کالعدم تنظیم سیمی سے تبدیل ہوئی انڈین مجاہدین کا ہاتھ تھا۔ ان لوگوں نے مبینہ طور پر 2002 کے گجرات فسادات کا بدلہ لینے کے لیے یہ دھماکہ انجام دیا تھا۔

تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مئی میں احمد آباد کے قریب وٹووا علاقے میں اس واقعہ کے لیے سازش رچی گئی تھی۔

حجاب پر کوئی پابندی نہیں: کرناٹک ہائی کورٹ

0

ڈاکٹر ونود کلکرنی نے درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ حجاب پر پابندی لگانا قرآن پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔

بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے جمعرات کو کہا کہ حجاب پر کوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ حکومتی حکم نامے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن لباس کا ضابطہ ہے۔

چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب ڈاکٹر ونود کلکرنی نے درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ حجاب پر پابندی لگانا قرآن پر پابندی لگانے کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر کلکرنی کی دلیل پر اعتراض کرتے ہوئے جسٹس اوستھی نے پوچھا کہ کیا حجاب اور قرآن ایک ہی چیز ہیں؟ اس پر مسٹر کلکرنی نے کہا کہ ”میرے لیے نہیں، لیکن یہ پوری دنیا کے لیے ایک جیسا ہے۔ میں ایک ہندو برہمن ہوں اور قرآن پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ہے۔‘‘

ڈاکٹر کلکرنی کے درخواست گزار نے ایک عبوری حکم کی درخواست کی ہے کہ طالبات کو جمعہ کے دن اور آنے والے ماہ رمضان کے دوران حجاب پہننے کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک بابرکت دن سمجھا جاتا ہے۔

تاہم اس معاملے پر کل دوپہر ڈھائی بجے دوبارہ سماعت ہوگی۔

سونی پت: پنجابی اداکار دیپ سدھو کی سڑک حادثہ میں موت

0
سونی پت: پنجابی اداکار دیپ سدھو کی سڑک حادثہ میں موت
سونی پت: پنجابی اداکار دیپ سدھو کی سڑک حادثہ میں موت

اطلاع کے مطابق پنجابی کلاکار دیپ سدھو اپنی منگیتر رینا رائے کے ساتھ اسکارپیو کار میں سوار ہوکر دہلی سے پنجاب کے لئے نکلے تھے

سونی پت: پنجابی اداکار دیپ سدھو کی منگل کی رات ہریانہ میں سونی پت کے نزدیک سڑک حادثہ میں موت ہوگئی۔ حادثہ اس وقت ہوا جب دیپ سدھو اپنی منگیتر کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوکر دہلی سے پنجاب واپس آ رہے تھے۔

سونی پت ضلع کے کھرکھودا سب ڈویزن کے تحت آنے والے گاوں پپلی ٹولہ پلازہ کے نزدیک یہ سڑک حادثہ ہوا جس میں دیپ سدھو کی موت ہوگئی جبکہ منگیتر کی حالت سنگین ہے۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو کھرکھودا سی ایچ سی میں رکھوایا ہے۔

ذہن نشیں رہے کہ سدھو دہلی بارڈر پر چل رہی کسان تحریک کے دوران اس وقت مزید مشہور ہوگئے تھے جب انہوں نے لال قلعہ پر جھنڈا لہرایا تھا۔ اطلاع کے مطابق پنجابی کلاکار سدھو اپنی منگیتر رینا رائے کے ساتھ اسکارپیو کار میں سوار ہوکر دہلی سے پنجاب کے لئے نکلے تھے۔

دیر رات کے ایم پی کے کھرکھودا سب ڈویزن کے گاوں پیپلی ٹول پلازہ کے نزدیک ان کی گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی زبردست تھی کہ گاڑی کے پرخچے اڑگئے۔ حادثہ کی اطلاع پولیس کو دی گئی۔ پولیس کے پہنچنے تک دیپ سدھو دم توڑ چکے تھے اور ان کی منگیتر رینا رائے کی حالت سنگین تھی۔

پولیس نے سدھو کی لاش کو کھرکھودا سی ایچ میں رکھوایا ہے اور انکی منگیتر کو بھی کھرکھودا سی ایچ سی لایا گیا جہاں سے انہیں ریفر کردیا گیا ہے۔ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔