پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 264

سیمانچل کے پسماندہ علاقہ کشن گنج میں کورونا و کووڈ ٹیکہ کاری بیداری مہم اور مفت میڈیکل کیمپ

0
سیمانچل کے پسماندہ علاقہ کشن گنج میں کورونا و کووڈ ٹیکہ کاری بیداری مہم اور مفت میڈیکل کیمپ

ڈاکٹر صہیب اختر نے کیمپ کے اغراض مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "ہمارا مقصد ایسے غریب مریضوں کو تشخیص اور علاج فراہم کرانا ہے جن کو عموما میڈیکل سہولت دستیاب نہیں ہے۔”

کشن گنج: کورونا وائرس وبا کے اس دور میں تعلیم، صحت اور سماجی بیداری پر کام کرنے والی تنظیم نصیریہ فاؤنڈیشن نے بہار کے ضلع کشن گنج کے انتہائی پسماندہ علاقہ کے ایک قصبہ پناسی میں اتوار کے روز غریبوں کے علاج کے لیے ایک عظیم میڈیکل کیمپ منعقد کیا۔

اس کیمپ میں کورونا وائرس سے متعلق حفاظتی تدابیر سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور ٹیکہ کاری سے متعلق بیداری مہم چلائی گئی جہاں سینکڑوں غریب لوگوں کے امراض کی تشخیص بھی ہوئی اور مفت دوائیں اور جانچ فراہم کی گئیں اور ماسک تقسیم کیے گئے۔

میڈیکل کیمپ میں کئی ہسپتالوں نے بھی اپنی طبی ٹیموں کے ذریعہ خدمات فراہم کیں جن میں سلی گوڑی (مغربی بنگال) کے شانتی نرسنگ ہوم اور اسلام پور (مغربی بنگال) کے رایل میڈیکل ہال کا نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

جن طبی طبی ماہرین نے میڈیکل کیمپ میں شرکت کی ان میں اہم نام ڈاکٹر محمد اختر رضا (جنرل سرجن اور لیپروسکوپک سرجن)، ڈاکٹر وکاس سنگھ (نیورو سرجن)، ڈاکٹر مو نعیم علی (آرتھوپیڈکس) اور خود کیمپ کے نگراں ڈاکٹر صہیب اختر (ایم بی بی ایس، ایم ایس، ایم سی ایچ) کے نام قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر صہیب اختر نے کیمپ کے اغراض مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "ہمارا مقصد ایسے غریب مریضوں کو تشخیص اور علاج فراہم کرانا ہے جن کو عموما میڈیکل سہولت دستیاب نہیں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ "یہ علاقہ ایسا ہے جہاں بنیادی طبی سہولیات موجود نہیں ہیں اسی لیے تقریبا سبھی بنیادوی چیک اپس کا کیمپ میں انتظام کیا گیا ہے۔

اس کیمپ میں کافی تعداد میں ایسے مریض بھی آئے ہیں جو کبھی ڈاکٹر کے پاس گئے ہی نہیں۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو کئی مریضوں نے کہا کہ علاج میں ہونے والے خرچ کا بار وہ نہیں اٹھاسکتے۔

ہر سال ہونے والے اس فری کیمپ میں بہت سارے ایسے مریض بھی ہوتے ہیں جن کی اس کیمپ پر ذیابیطس یا بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کی تشخیص ہوتی ہے۔

اس میڈیکل کیمپ کا انعقاد سلی گوڑی کے معروف پلاسٹک سرجن ڈاکٹر صہیب اختر کی نگرانی میں ہوا جس میں کئی ہسپتالوں سے مختلف مریض کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیموں اور فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے اپنی رضاکارانہ خدمات فراہم کیں۔

فاؤنڈیشن کے اہم رکن نے کہا کہ”کشن گنج ضلع بہار سیمانچل کا وہ علاقہ ہے جہاں لوگوں کے لیے اب تک صاف پانی کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ آج بھی لوگ کنواں اور ٹیوب ویل کا پانی پی کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بھی لوگ کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔”

نصیریہ فاؤنڈیشن مختلف جگہوں پر میڈیکل کیمپ لگاتا ہے جہاں غریب مریضوں کا مفت میں علاج کیا جاتا ہے۔ قصبہ پناسی کے مدرسہ گراؤنڈ میں یہ کیمپ گزشتہ 5 سالوں سے ہرسال لگتا ہے جہاں سینکڑوں مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔

نصیریہ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے کہا کہ "صوبہ بہار کےاس علاقے میں ایسے میڈیکل کیمپوں کی اس لیے بھی ضرورت ہے کیوں کہ کشن گنج ضلع کا یہ علاقہ بے حد پسماندہ ہے جہاں ایک بھی ایسا سرکاری ہسپتال یا کلینک نہیں ہے جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو سکے۔”

انہوں نے کہا "اس پسماندہ علاقے کے کئی غریب لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی بیماریوں کا علاج کئے بنا ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان کے قریبی لوگوں کو موت کی وجہ کا پتہ ہی نہیں چل پاتا۔”
کورونا وائرس (کووڈ19- )

جیساکہ سبھی جانتے ہیں کہ گزشتہ دو سال پوری دنیا کورونا وائرس کے وبا کا سامنا رہا اور کافی تعداد میں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عام لوگوں میں کورونا وائرس کے بارے میں قسم قسم کی افواہیں بھی پھیلی۔ نصیریہ فاؤنڈیشن نے زور شور سے اس وبا کے بارے میں بیداری پھیلانے کا کام کیا اور لوگوں کو یہ بتایا کہ کسی بھی چیز کی معلومات افواہوں سے نہیں بلکہ قابل اعتماد سورس سے حاصل کی جانی چاہیے۔

کورونا وبا کے بارے میں بھی افواہوں پر دھیان نہ دے کر اس کے ماہرین کی رائے پر ہی عمل کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔ اس کے لئے نصیریہ فاؤنڈیشن نے ان دو سالوں میں پمفلیٹ، چھوٹے چھوٹے ورکشاپ اور آن لائن طریقے سے لوگوں کے بیچ صحیح معلومات پہنچانے کا کام کیا ہے۔

کورونا ٹیکہ کاری

جس طرح کورونا کے بارے میں کئی قسم کی افواہیں پھیلی ہوئی تھیں اسی طرح کورونا ٹیکہ کاری کے بارے میں بھی افواہوں کا بازار گرم تھا۔ نصیریہ فاؤنڈیشن نے اس بارے میں مختلف ڈاکٹروں، فارماسیوٹیکل سائنٹسٹوں اور دوسرے ماہرین سے رابطہ کرکے اس پر کافی معلومات حاصل کی ہے۔ فاؤنڈیشن کا ہمیشہ یا ماننا رہا ہے کہ معلومات کا ذریعہ افواہ نہیں بلکہ صحیح مواد کا مطالعہ اور ماہرین سے صلاح مشورہ ہونا چاہیے۔

گزشتہ سال کے میڈیکل کیمپ میں جہاں کورونا مہاماری کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کا کام کیا تھا اور اس سے بچاؤ کے لئے اس کی احتیاطی تدبیروں کے بارے میں لوگوں کو آگاہ گیا تھا وہیں اس کی ٹیکہ کاری کی سیفٹی کے بارے میں بھی لوگوں کے بیچ بیداری لایا تھا۔ ویکسین سے لوگ بہت ساری من گھڑت افواہوں کا شکار تھے، لیکن خوشی کی بات ہے کہ نصیریہ فاؤنڈیشن نے کئی طریقے سے اس میں بیداری پھیلائی اور آج اکثر لوگوں کو ٹیکہ لگ چا ہے۔

اس سے پہلے بھی کئی قسم کے ویکسینیشن کے بارے میں لوگ افواہوں کا شکار ہوئے ہیں۔ جیسے پولیو کی ٹیکہ کاری سے متعلق لوگ ہمیشہ افواہوں کا شکار رہے، لیکن ہمارے دیش میں اس پولیو کے خلاف مہم کی وجہ سے اس پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔ ایسی افواہیں کورونا ٹیکہ کاری کے بارے میں بھی پھیلی ہوئی ہیں جس کے بارے میں لوگوں کے درمیان بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ اس بار کے میڈیکل کیمپ میں بھی ہم اس بارے میں بیداری لانے کا بھی کام کریں گے۔

اس میڈیکل کیمپ کا انعقاد ڈاکٹر صہیب اختر کی دیکھ ریکھ میں ہوتا ہے جس میں کئی ہسپتالوں سے مختلف مریض کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم آتی ہے اور اپنا مفت خدمات فراہم کرتی ہے۔

کیمپ کے نگراں ڈاکٹر صہیب اختر نے ٹیکہ کاری سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ ٹیکہ کاری سے متعلق ہمیشہ کوئی نہ کوئی افواہ رہتا ہے۔ ان افواہوں پر دھیان نہیں دیں اور اپنی باری آنے پر ٹیکہ ضرور لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ "اس سے نہ صرف آپ اپنی بلکہ اپنی کمیونیٹی کی بہتر صحت کے لیے مددگار ہوں گے۔

نصیریہ فاؤنڈیشن کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جلیس اختر نصیری نے اپنی تحریری بیان میں کہا کہ "اس سے پہلے بھی کئی قسم کے ویکسینیشن کے بارے میں لوگ افواہوں کا شکار ہوئے ہیں۔ جیسے پولیو کی ٹیکہ کاری سے متعلق لوگ ہمیشہ افواہوں کا شکار رہے، لیکن ہمارے ملک میں اس پولیو کے خلاف مہم کی وجہ سے اس پر تقریبا قابو پا لیا گیا ہے۔ ایسی افواہیں کورونا ٹیکہ کاری کے بارے میں بھی پھیلی ہوئی ہیں جس کے بارے میں لوگوں کے درمیان بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ آج کے میڈیکل کیمپ میں ہم اس بارے میں بیداری لانے کا بھی کام کیا جائے گا۔”

نصیریہ فاؤنڈیشن ایک ٹرسٹ ہے جو ایجوکیشن، ہیلتھ، اور سماجی بیداری پر کئی سالوں سے کام کرتا آیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے تحت مسجد، مدرسہ، خانقاہ کے علاوہ این سی پی یو ایل کے بھی کئی تعلیمی و ٹریننگ کورسیس چلائے جاتے ہیں اور گزشتہ7 -8 سالوں میں سینکڑوں غریب سٹوڈینس کو کمپیوٹر لٹریٹ بنانے کا کام کیا ہے۔

بائیڈن نے یوکرین کو فوجی مدد کے لئے بلنکن کو دیا اختیار

0
بائیڈن نے یوکرین کو فوجی مدد کے لئے بلنکن کو دیا اختیار
بائیڈن نے یوکرین کو فوجی مدد کے لئے بلنکن کو دیا اختیار

امریکہ صدر دفتر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو یوکرین کو فوری طور پر فوجی مدد مہیا کرنے کے لئے اختیار دیا گیا ہے

واشنگٹن: امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو فوری طور پر فوجی مدد مہیا کرنے کے لئے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو اختیار دیا ہے۔

امریکہ صدر دفتر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا، ’’صدر نے جمعہ کو فارن اسسٹنس ایکٹ 1961 (ایف اے اے) کی دفعہ 614 (اے) (3) اور دفعہ 652 کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے تحت ریاست کے افسروں کے سکریٹریوں کو سونپنے والے ایک میمورنڈم پر دستخط کئے ہیں۔ اسی بنیاد پر مسٹر بلنکن کو یوکرین کو فوری فوجی مدد مہیا کرنے کے لئے اختیار دیا گیا ہے۔‘‘

روس تشدد بند کرے، ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے: ہندوستان

0
روس تشدد بند کرے، ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے: ہندوستان
روس تشدد بند کرے، ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے: ہندوستان

ہندوستان نے افسوس کا اظہار کیا کہ سفارت کاری کا راستہ چھوڑ کر تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا

نئی دہلی/اقوام متحدہ: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لئے کل دیر رات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پر بحث میں ہندوستان نے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ تشدد کو فوری طور پر روک کر سفارتی اقدامات کی طرف لوٹ آئیں۔ اور ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی ترغیب دینے کا اعلان کیا۔

ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ کل دیر رات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی یوکرین سے متعلق قرارداد کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا اور تین ارکان – ہندوستان، چین اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد پر روس نے ویٹو کا حق استعمال کیا اور یوں قرارداد منظور نہ ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق ہندوستان نے ووٹنگ کے بعد اپنے فیصلے کے حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے متعلقہ فریقوں سے فوری طور پر تشدد بند کرنے، تنازع کے حل کے لیے سفارتی اقدامات پر واپس آنے اور ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں انہی نکات پر زور دیا تھا۔

ہندوستان نے افسوس کا اظہار کیا

ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان نے کہا کہ تمام رکن ممالک کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ اس سے آگے بڑھنے کا ایک تعمیری راستہ کھلتا ہے۔ ہندوستان نے افسوس کا اظہار کیا کہ سفارت کاری کا راستہ چھوڑ کر تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ہندوستان نے کہا کہ اسے یوکرین میں حالیہ واقعات سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انسانی جان کی قیمت پر کوئی حل نہیں نکل سکتا۔ اختلافات اور تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ بات چیت ہے۔

ذرائع کے مطابق ہندوستان نے اس معاملے پر مستقل، مضبوط اور متوازن موقف اپنایا ہے۔ ہندوستان تمام فریقین سے رابطے میں ہے اور ہر کسی سے مذاکرات کی میز پر آنے کی مسلسل درخواست کر رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان نے ووٹ میں حصہ نہ لینے اور متعلقہ فریقوں سے رابطہ کرنے اور بات چیت اور سفارت کاری کے لیے درمیانی بنیادی راستہ تلاش کرنے کا آپشن برقرار رکھا۔

اس سے قبل قرارداد کے ایک مسودے میں اقوام متحدہ کے اعلامیہ کے باب 7 کے تحت ایک ایسے حل کی بات کی گئی تھی جس میں سلامتی کونسل کو طاقت کے استعمال کا حق مل جاتا تھا تاہم حتمی مسودے میں اس چیز کو ہٹا دیا گیا تھا۔

دریں اثنا، ایئر انڈیا ہندوستانیوں کو نکالنے کے لیے آج دو پروازیں روانہ کرے گا۔ دو بوئنگ 787 طیارے صبح رومانیہ کے دارالحکومت بخاریسٹ اور ہنگری کے دارالحکومت بڈاپیسٹ کے لیے روانہ ہوئے ہیں اور آج رات تک واپس آجائیں گے۔

روس کی فوجی کارروائی جارحیت کی جنگ: یوکرین وزیر خارجہ

0
روس کی فوجی کارروائی جارحیت کی جنگ: یوکرین وزیر خارجہ
روس کی فوجی کارروائی جارحیت کی جنگ: یوکرین وزیر خارجہ

یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے کہا کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے جس کی وجہ سے پرامن یوکرینی شہروں پر ہوائی حملے شروع ہوگئے ہیں

کیو: یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے ان کے ملک پر روسی حملے کو ’جارحیت کی جنگ‘ کا نام دیا ہے اور دنیا بھر کے ملکوں سے روس کے خلاف پابندی لگا کر اسے الگ تھلگ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر کولیبا نے ٹویٹ کرکے کہا، ’’روس نے یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے جس کی وجہ سے پرامن یوکرینی شہروں پر ہوائی حملے شروع ہوگئے ہیں۔ یہ جارحیت کی جنگ ہے اور یوکرین اس حملے سے نہ صرف نمٹے گا بلکہ جیتے گا بھی۔‘‘

انہوں نے دنیا بھر کے ملکوں سے اس معاملے میں تیزی سے کارروائی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ایک ’ٹوڈو لسٹ‘ جاری کرنے کو کہا ہے۔ اس لسٹ میں روس پر ابھی سے سخت پابندیان لگائے جانے اور اسے ہر طرح سے الگ تھلگ کئے جانے کے علاوہ یوکرین کے لئے فوری طور پر فوجی مدد کے ساتھ مالی اور انسانی مدد مہیا کرائے جانے کے التزام ہونے چاہئے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا مل کر پوتن کو روک سکتی ہے اور ایسا کیا جانا چاہئے۔ دنیا بھر کے ملکوں کو فوری کارروائی کرنی چاہئے کیونکہ اس وقت نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کا مستقبل داؤ پر لگا ہے۔

انیس کے قتل کی رات پولیس نے گھر جانے کا کیا اعتراف

0

گرفتار دو پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے اعتراف کیا ہے کہ وہ قتل کی رات انیس کے گھر گئے تھے

کلکتہ: انیس خان قتل معاملے میں اب پولیس نے کہا ہے کہ قتل کی رات پولیس اہلکار انیس کے گھر گئے تھے۔ گرفتار دو پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے اعتراف کیا ہے کہ وہ رات میں انیس کے گھر گئے تھے۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رپورٹ کے مطابق تفتیش کاروں کے پوچھ تاچھ کے دوران اس پولیس اہلکار نے اعتراف کیا ہے۔ خیال رہے کہ پولیس نے پہلے کہا تھا کہ کوئی بھی اہلکار انیس کے گھر نہیں گیا تھا۔

دیگر دو سے بھی پوچھ گچھ جاری

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج انیس کی موت کے سلسلے میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ ممتا بنرجی نے ریاستی سیکریٹریٹ میں ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ ”دو پولیس والوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دیگر دو سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس اپنا کام ٹھیک طریقے سے کر رہی ہے۔” ممتا بنرجی کے کچھ ہی دیر بعد، ریاست کے ڈی جی پی منوج مالویہ نے ایک پریس کانفرنس میں دو گرفتار پولیس اہلکاروں کے ناموں کا اعلان کیا۔

ان میں سے ایک کاشی ناتھ بیرا ہے جو کہ امتا تھانے میں ہوم گارڈ ہے۔ ایک اور پریتم بھٹاچاریہ ہیں، جو ایک سیوک پولیس ہے۔ اگرچہ منوج نے ان کی گرفتاری کا اعلان کیا، لیکن مالویہ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اس رات انیس کے گھر گئے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق دونوں گرفتار پولیس اہلکاروں نے پوچھ گچھ کے دوران اس رات انیس کے گھر جانے کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمعہ کی رات وہ دونوں اور ایک پولیس کانسٹیبل انیس کے گھر کی دوسری منزل پر گئے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رپورٹ میں بھی درج ہے۔

گرفتار پولیس افسر نے انیس کے قتل سے کیا انکار

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار پولیس افسر نے انیس کو قتل کرنے کا اعتراف نہیں کیا۔ اس کے بجائے، اس کا دعویٰ ہے کہ انیس کو قتل نہیں کیا گیا، اس نے پولیس کو دیکھا اور گھر کی تیسری منزل سے بھاگا۔ واقعہ کے وقت پولیس کا ایک اے ایس آئی انیس کے گھر کے نیچے انتظار کر رہا تھا۔

واضح رہے کہ ڈی جی پی نے بدھ کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ایس آئی ٹی غیر جانبدار طریقے سے کام کر رہی ہے۔ تاہم ان کے کام میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ منوج نے یہ بھی کہا کہ انہیں سیاسی وجوہات کی بنا پر روکا جا رہا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے امیدوار نے کہا ہم مسلمان بھی شری رام چندر جی کی اولاد ہیں

0

مسلمانوں کے ذریعے رام کے بارے میں اس قسم کا بیان کوئی نئی بات نہیں ہے۔ علامہ اقبال نے شری رام کے نام سے ایک نظم ‘امام ہند رام’ لکھی تھی جس میں شاعر مشرق نے اپنی نظم میں  رام کو’امام ہند’کہا تھا۔

یوپی اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار اشفاق ڈبلیو نے ایک بیان دے کر سرخیاں بٹورنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اشفاق ڈبلیو نے کہا ہے کہ مسلم طبقہ کے لوگ بھی شری رام چندر جی کی اولاد ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے اس بیان سے سماج وادی پارٹی کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ ان کے اس بیان سے ایس پی کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی حیران ہیں۔

یوپی اسمبلی انتخابات کے 3 مراحل مکمل ہو چکے ہیں، جب کہ چوتھے مرحلے کی ووٹنگ 23 فروری کو ہونے جا رہی ہے۔ دراصل اتوار کی شام سماج وادی پارٹی کے سٹی نارتھ کے امیدوار نے اپنے انتخابی دفتر کا افتتاح کرتے ہوئے میڈیا سے بات کی۔ اس گفتگو میں انہوں نے بڑا بیان دے کر سب کو حیران کر دیا۔

اشفاق ڈبلیو نے کہا کہ ”اگر ہم مسلمان ہیں تو کیا ہندوستانی نہیں ہیں؟ آپ جے شری رام کہتے ہیں۔ ہم بھی بھگوان رام کی اولاد ہیں۔”

اس پر ایودھیا سے وارانسی پہنچے کنٹونمنٹ کونسل کے پیٹھ دھیشور سوامی پرمہنس نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی نے رام کے وجود کو قبول کیا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لیکن جس نے رام بھکتوں پر گولی چلائی وہ رام کے وجود کو کیسے مانے گا؟ اگر وہ رام کی اولاد ہیں تو انہیں ایس پی میں شامل ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ بیانات صرف ووٹ کے لیے ہیں۔

’’امام ہند رام‘‘

تاہم مسلمانوں کی طرف سے رام کے بارے میں اس طرح کے بیانات نئے نہیں ہیں۔ اردو کے مشہور شاعر علامہ اقبال نے گنگا جمونی تہذیب کا تعارف رام کے نام پر ’’امام ہند رام‘‘ کے نام سے نظم لکھ کر کرایا تھا۔ شاعر مشرق نے اپنی نظم میں امام کے ساتھ رام کا تصور کیا ہے۔

شاعر مشرق کی 1908 میں لکھی گئی یہ نظم مشہور مجموعہ ’’بانگ درہ‘‘ میں شامل ہے جس میں علامہ اقبال نے تعصب کے پردے سے ہٹ کر لوگوں کو رام کے بارے میں ایک اہم پیغام دیا ہے۔ انہوں نے رام کی شخصیت کو بیان کرنے کے لیے اہل نظر اور امام جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔

’’اہل نظر’’ اردو کا ایک جملہ ہے جس کا مطلب ہے گہری بصیرت۔ یعنی اہل نظر سے اقبال کا منشا آنکھوں کی نظریں نہیں بلکہ روحانی آنکھیں ہیں۔ روحانی نظر رکھنے والا شخص ہی اسے سمجھنے، صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی طاقت رکھتا ہے۔

ان کے الفاظ وقت کے دھارے کے سامنے غیر متزلزل ہیں۔ پھر اس نے امام کو رام سے بھی مخاطب کیا ہے۔ امام کا مطلب رہنما ہے لیکن اقبال کی نظر میں امام کا معنی بہت بلند ہے۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کو سیدھا راستہ دکھائے۔ لوگوں کو تاریک راہوں کی بھولبھلیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے۔ اقبال کی نظر میں رام ایک ایسا رہنما ہے جو لوگوں کو راستی اور سچائی کا راستہ دکھاتا ہے۔

اقبال اپنی کتاب ’’بانگ درہ‘‘ میں اپنی نظم ’’امام ہند رام‘‘ میں لکھتے ہیں:

اس دیش میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشت
مشہور جن کے دم سے ہے دنیا میں نام ہند
ہے رام کے وجود سے ہندوستان کو ناز
اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند

پیگاسس جاسوسی کیس: تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش، جمعہ کو سماعت متوقع

0
پیگاسس جاسوسی کیس: تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش، جمعہ کو سماعت متوقع
پیگاسس جاسوسی کیس: تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش، جمعہ کو سماعت متوقع

پیگاسس کیس اسرائیلی نجی کمپنی این ایس او گروپ کے ذریعہ پیگاسس جاسوس سافٹ ویئر کی ہندوستانی حکومت کی مبینہ خریداری سے متعلق ہے

نئی دہلی: پیگاسس جاسوسی کیس کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی جسٹس روندرن کمیٹی نے سپریم کورٹ میں اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی ہے۔

چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس آر سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی ڈویژن بنچ جمعہ کو کمیٹی کی عبوری رپورٹ اور دیگر پی آئی ایل کی سماعت کرے گی۔ اسی ڈویژن بنچ نے گزشتہ سال کمیٹی کی نگرانی میں تکنیکی ماہرین کی انکوائری ٹیم تشکیل دی تھی۔

کمیٹی کی جانب سے عبوری رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ مزید تفتیش کے لیے عدالت سے اضافی وقت مانگے گی۔

ڈویژن بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد 27 اکتوبر 2021 کو سپریم کورٹ کے رٹائرڈ جج آر وی روندرن کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ڈویژن بنچ نے توقع ظاہر کی تھی کہ کمیٹی آٹھ ہفتوں میں اپنی انکوائری پیش کرے گی۔

تکنیکی پہلوؤں سے تفتیش

سابق انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) افسران آلوک جوشی اور ڈاکٹر سندیپ اوبرائے کو جسٹس روندرن کی مدد کے لیے کمیٹی کے ممبر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ کمیٹی کی نگرانی میں تین رکنی خصوصی تکنیکی تحقیقاتی ٹیم معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ٹیم کے رکن کے طور پر پروفیسر نوین چودھری، پروفیسر اشونی گمستے اور پروفیسر پی پرباھرن تکنیکی پہلوؤں سے تفتیش کر رہے ہیں۔

پرو چودھری (سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل فارنسک)، ڈین – نیشنل فارنسک سائنس یونیورسٹی، گاندھی نگر گجرات)، پروفیسر۔ پرباھرن (اسکول آف انجینئرنگ) امرت وشوا ودیاپیٹھم، امرت پوری، کیرالہ اور ڈاکٹر گماستے، انسٹی ٹیوٹ کے چیئر ایسوسی ایٹ پروفیسر (کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ممبئی سے ہیں۔

پیگاسس جاسوس سافٹ ویئر

پیگاسس کیس اسرائیلی نجی کمپنی این ایس او گروپ کے ذریعہ پیگاسس جاسوس سافٹ ویئر کی ہندوستانی حکومت کی مبینہ خریداری سے متعلق ہے۔ الزام ہے کہ اس سافٹ ویئر کو ہندوستان سمیت دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگوں کے اسمارٹ موبائل فونز میں ڈال کر ان کی گفتگو کی جاسوسی کی گئی۔ درخواستوں میں ہندوستانی حکومت پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ جاسوسی سافٹ ویئر خرید کر بہت سے معروف سیاستدانوں بالخصوص اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں، صحافیوں، سماجی کارکنوں، افسروں کی غیر قانونی طور پر جاسوسی کرائے ہیں۔

30 جنوری 2022 کو سپریم کورٹ میں ایک تازہ مفاد عامہ کی عرضی دائر

مرکزی حکومت کی جانب سے پیگاسس جاسوس سافٹ ویئر کی اسرائیل سے مبینہ خریداری میں ایک غیر ملکی اخبار کے حالیہ انکشافات کے تناظر میں 30 جنوری 2022 کو سپریم کورٹ میں ایک تازہ مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی تھی۔ ایڈوکیٹ ایم ایل شرما جنہوں نے اس کیس میں پہلی پی آئی ایل کی تھی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ وہ ملزم کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔ ان کی نئی درخواست پر سماعت ہونا ابھی باقی ہے۔

درخواست گزار مسٹر شرما نے کہا ’’امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی کی جانب سے اپنی تحقیقات کی تصدیق کرنے اور ’نیویارک ٹائمز‘ نے متعلقہ رپورٹ شائع کرنے کے بعد اس معاملے میں کیا انکشاف ہونا باقی ہے؟ اس معاملے میں متعلقہ ملزمان کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے مزید تفتیش کی جانی چاہیے.”

خاص بات یہ ہے کہ اسپیشل ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ٹیم نے جاسوسی کا شبہ رکھنے والے لوگوں سے اپنے موبائل فون کی تفصیلات شیئر کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس حوالے سے اخبارات میں متعدد بار اشتہارات بھی دیئے جا چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کی بہت کم تعداد نے ٹیم کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

عالیہ یونیورسٹی کولکاتا کے سابق طالب علم انیس خان کو کس نے مارا؟

0
کولکتہ عالیہ یونیورسٹی کے سابق طالب علم انیس خان کو کس نے قتل کیا؟
کولکتہ عالیہ یونیورسٹی کے سابق طالب علم انیس خان کو کس نے قتل کیا؟

انیس خان نو تشکیل شدہ انڈین سیکولر فرنٹ (ISF) سے وابستہ تھے، انہوں نے یونیورسٹی کے ناقص کام کاج کے خلاف عالیہ یونیورسٹی کے طلباء کی تحریک میں حصہ لیا تھا اور کولکاتا میں سی اے اے مخالف مظاہرے میں پیش پیش رہے تھے۔

ہاوڑہ ضلع میں عالیہ یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم انیس خان کی موت نے حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور اس کی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان سیاسی الزام تراشی کا کھیل شروع کر دیا ہے۔

انیس خان کو ہفتے کی صبح پولیس کی وردی پہنے چار افراد نے مبینہ طور پر ان کے گھر کی چھت سے پھینک دیا۔ کولکاتا کی سرکردہ سماجی کارکنان پر مشتمل شخصیات کے ایک گروپ نے انیس کے گھر کا دورہ کیا اور مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ تاہم پولیس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی انیس خان کے گھر گیا تھا۔

مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم کے مبینہ قتل نے ٹی ایم سی کی شرمندگی کا باعث بن چکا ہے کیونکہ اقلیتی طبقہ کو پارٹی کا مضبوط ووٹ بینک سمجھا جاتا ہے۔ بی جے پی کے قومی نائب صدر دلیپ گھوش نے کہا ہے کہ، "ٹی ایم سی کیڈر اپنے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور اب وہ اپنے ووٹروں کو بھی نہیں بخش رہے ہیں۔ ہم اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

انیس خان کا تعلق نو تشکیل شدہ انڈین سیکولر فرنٹ (ISF) سے تھا، جو حالیہ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے خلاف لڑنے والے اتحاد کا حصہ تھا۔ اس سے پہلے وہ سی پی آئی (ایم) کے طلبہ ونگ ایس ایف آئی کے حامی تھے۔

انیس نے عالیہ یونیورسٹی کے طلباء کی طرف سے یونیورسٹی کے مبینہ ناقص کاموں کے خلاف شروع کی گئی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ انیس کو کولکاتا کے پارک سرکس میدان میں سی اے اے مخالف احتجاج میں بھی پیش پیش رہنے والا بتایا جاتا ہے۔

ٹی ایم سی کے وزیر فرہاد حکیم نے کہا ہے کہ حملہ آور باہر سے آئے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مجرموں کا تعلق اتر پردیش سے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اتوار کو کہا کہ، "یہ سیاست کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کرنے دیں۔‘‘ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رینک کے ایک افسر کی سربراہی میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا کے رکن بیکاش بھٹاچاریہ نے کہا کہ انیس کا قتل اعلیٰ سطح پر بنائے گئے منصوبے سے ہوا ہے۔ ہوڑہ کے امتا پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت میں، انیس کے والد سلام خان نے چار افراد پر الزام لگایا ہے، جن میں سے ایک پولیس کی وردی میں اس کے گھر میں داخل ہوا تھا۔

سلام خان نے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ، "جب میں نے کہا کہ انیس گھر پر نہیں ہے تو وہ اوپر کی طرف بھاگے اور میں نے ایک آواز سنی۔ میں نے انیس کو پھر نیچے خون میں لت پت پڑا پایا۔” سلام نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد تسلیم کرنے کا روس نے کیا اعلان

0
یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد تسلیم کرنے کا روس نے کیا اعلان
یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد تسلیم کرنے کا روس نے کیا اعلان

پیوتن نے اعلان کیا کہ انہوں نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں

ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوتن نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد تسلیم کرلیا ہے۔

ولادیمیر پیوتن نے یوکرین پر ڈونئیسک اور لوہانسک میں نسل کشی کی تیاری اور منسک معاہدے پر عمل نہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے پیوتن نے قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے سوویت یونین کے ٹوٹنے، یوکرین کے معاملات، ناٹو اور امریکہ کے اقدامات پر بات کی۔

پیوتن نے اعلان کیا کہ انہوں نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں اور روسی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے۔

رپورٹس کے مطابق روس نوازوں کے زیر اثر ڈونباس علاقوں سے متعلق فیصلے سے جرمنی اور فرانس کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

آگرہ: تاج محل کے دیدار کے لئے رات بھر کروٹیں بدلتے رہے برائن لارا

0
آگرہ: تاج محل کے دیدار کے لئے رات بھر کروٹیں بدلتے رہے برائن لارا
آگرہ: تاج محل کے دیدار کے لئے رات بھر کروٹیں بدلتے رہے برائن لارا

برائن لارا تاج محل تک پہنچے ہی تھے کہ عمارت کے بند ہونے کا وقت ہوگیا تھا، اس سے مایوس ہو کر لارا ایک بار واپس جانے کا سوچنے لگے لیکن تاج محل دیکھنے کی خواہش نے انہیں رکنے پر مجبور کر دیا

آگرہ: تاج محل کا نام دنیا کے سات عجوبوں میں یوں ہی شامل نہیں ہے۔ اس کی وجہ اس کی بے مثال خوبصورتی ہے۔ دودھ سی سفیدی میں نہائی ہوئی اس عمارت میں ایک کشش ہے جو لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عام لوگ بلکہ دنیا بھر کی ہر مشہور شخصیت تاج محل کو ایک بار ضرور دیکھنا چاہتی ہے لیکن کرکٹ شائقین کے ہیرو اور ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان برائن لارا کو تاج محل کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے ایک رات کا انتظار بھی صدیوں کے برابر لگا۔ انہوں نے اتوار کو آگرہ کے ایک ہوٹل میں پوری رات کروٹیں بدلتے ہوئے گزاری اور صبح ہوتے ہی تاج محل کی خوبصورتی دیکھنے چلے گئے۔

برائن لارا صبح تقریباً پونے سات بجے تاج کمپلیکس پہنچے، تقریباً ڈھائی گھنٹے تک وہاں رہے اور تاج محل کی خوبصورتی کو سراہتے رہے۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف تاج کی تعمیر اور گرافٹنگ کے بارے میں معلومات حاصل کیں بلکہ مغل بادشاہ شاہ جہاں اور ان کی اہلیہ ممتاز محل کی محبت کے بارے میں بھی جانکاری لی۔

رات بھر انتظار کے بعد صبح سویرے لارا پہنچے تاج محل

دراصل برائن لارا اتوار کی شام آگرہ پہنچے تھے۔ جب تک وہ تاج محل تک پہنچ پاتے۔ عمارت کے بند ہونے کا وقت ہوگیا تھا۔ اس سے مایوس ہو کر لارا ایک بار واپس جانے کا سوچنے لگے لیکن تاج محل دیکھنے کی خواہش نے انہیں رکنے پر مجبور کر دیا۔ ساری رات انتظار کرنے کے بعد لارا صبح سویرے تاج محل پہنچ گئے۔

انہوں نے پیلی ٹی شرٹ کے ساتھ کالی ٹوپی، سیاہ پتلون پہن رکھی تھی، چہرے پر ماسک بھی تھا۔ صبح کے وقت عمارت میں زیادہ سیاح نہیں تھے۔ انہوں نے عام سیاحوں کی طرح تاج محل کی سیر کی۔ سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاحوں کی درخواست پر فوٹو بھی کھنچوائے۔

اپنی بلے بازی سے دنیا کو دیوانہ بنانے والے برائن لارا نے اس دوران بتایا کہ وہ قبل ازیں 1984 میں تاج محل دیکھنے آئے تھے۔ اس وقت وہ بہت چھوٹے تھے۔ اس بار تاج محل کافی اچھا لگا۔ یہ ایک عجوبہ ہے۔ دیکھ بھال پہلے سے بھی بہتر ہوگئی ہے۔