پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 225

پارلیمنٹ میں کسی بھی لفظ کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں: اوم برلا

0
پارلیمنٹ میں کسی بھی لفظ کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں: اوم برلا
پارلیمنٹ میں کسی بھی لفظ کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں: اوم برلا

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنے اصول اور طریقہ کار طے کرتی ہے۔ حکومت اسے ہدایات نہیں دیتی اور نہ ہی اس نے کسی لفظ پر کوئی پابندی لگائی ہے

نئی دہلی: لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جمعرات کو واضح طور پر کہا کہ پارلیمنٹ میں ’’کسی بھی لفظ کے استعمال پر پابندی نہیں‘‘ لگائی گئی ہے اور پریذائیڈنگ آفیسر کا کام ایوان کے وقار اور اراکین کے حقوق کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔

مسٹر برلا لوک سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے لوک سبھا، راجیہ سبھا اور ملک کی مختلف اسمبلیوں کی کارروائی سے حذف کیے جانے والے الفاظ کے حوالے سے جاری نئے کتابچہ سے پیدا ہونے والے تنازعہ پر ایک خصوصی طور پر منعقدہ پریس کانفرنس میں کچھ وضاحتیں دے رہے تھے۔
اس تنازعہ کو غیر ضروری بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ایوان میں معدوم الفاظ کا کتابچہ پہلے بھی ایوانوں میں جاری ہوتا رہا ہے، اس لیے موجودہ تنازعہ کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ پریذائیڈنگ آفیسر ایوان میں بحث کے دوران استعمال ہونے والے الفاظ کو حذف کرنے کا فیصلہ اس کے سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے اور رکن کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ کسی رکن کے بیان سے کسی بھی لفظ کو حذف کرنے پر اعتراض اٹھائے۔
مسٹر برلا نے کہا ’’کوئی بھی اظہار رائے کی آزادی نہیں چھین سکتا، لیکن بات چیت باوقار ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنے اصول اور طریقہ کار طے کرتی ہے۔ حکومت اسے ہدایات نہیں دیتی اور نہ ہی اس نے کسی لفظ پر کوئی پابندی لگائی ہے۔

جمعیۃ کی عرضی پر سپریم کورٹ کا سوال: کیا عدالت بلدیاتی قانون کے تحت غیر قانونی تعمیرات کے انہدام پر کورٹ روک لگا سکتی ہے؟

0
جمعیۃ کی عرضی پر سپریم کورٹ کا سوال: کیا عدالت بلدیاتی قانون کے تحت غیر قانونی تعمیرات کے انہدام پر کورٹ روک لگا سکتی ہے؟
جمعیۃ کی عرضی پر سپریم کورٹ کا سوال: کیا عدالت بلدیاتی قانون کے تحت غیر قانونی تعمیرات کے انہدام پر کورٹ روک لگا سکتی ہے؟

جہانگیر پوری معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے انہدامی کارروائی پر اسٹے دیئے جانے کے باوجود یوپی اور مدھیہ پردیش کے دیگر شہروں میں انہدامی کارروائی کی گئی جس کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا

نئی دہلی: یوپی کے مختلف اضلاع میں مسلمانوں کی املاک کی بلڈوز کے ذریعہ غیر قانونی انہدامی کارروائی کے خلاف صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل پٹیشن پر آج سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ جہانگیر پوری معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے انہدامی کارروائی پر اسٹے دیئے جانے کے باوجود یوپی اور مدھیہ پردیش کے دیگر شہروں میں انہدامی کارروائی کی گئی جس کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔

جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے اعتراض پر کہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے اس معاملے کوکیوں اٹھایا گیا کے جواب میں سی یو سنگھ نے عدالت کو یہ باتیں بتائیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ جن لوگوں کے مکانات منہدم ہوئے ہیں وہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوچکے ہیں لہذا سپریم کورٹ کو اس معاملے کو ہائی کورٹ کو دیکھنے دینا چاہئے۔ سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ نے کہا کہ بلڈوزر کارروائی کا اعلان میونسپل حکام نہیں بلکہ پولیس نے کیا، ملک میں قانون کی حکمرانی چلے گی یا پولس کی حکمرانی؟ سی یو سنگھ نے مزید کہا کہ ملک میں جہاں بھی فسادات رو نما ہوئے وہاں مخصوص فرقے کے لوگوں کی املاک پر غیر قانونی بلڈوزر چلایا گیا۔

دہلی میں سیکڑوں غیرقانونی فارم ہاؤس پر انہدامی کارروائی کیوں نہیں؟

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اتر پردیش حکومت نے اپنے حلف نامہ میں بتایا ہے کہ انہوں نے تین لوگوں کو نوٹس جاری کیا تھا لیکن ہم نے درجنوں مثالیں پیش کی ہیں جس میں پولیس افسران نے اعلان کیا تھا کہ فساد کے ملزمین کی املاک پر بلڈوزر کارروائی انجام دی جائے گی۔ دوران بحث سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے بھی عدالت کو بتایا کہ ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ورنہ کیا بات ہے دہلی کے سینک فارم کو جو غیر قانونی ہے کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا پچھلے پچاس بر سوں میں۔ دہلی میں سیکڑوں غیرقانونی فارم ہاؤس تعمیر کئے گئے ہیں انہیں کیوں منہدم نہیں کیا جاتا؟

اترپردیش حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے عدالت کو بتایا جن لوگوں کے مکانات منہدم کئے گئے ہیں انہیں نوٹس دیا گیا تھا اور پولیس اور سیاسی لوگوں کے بیانات جو اخبارات کی زینت بنے ہیں انہیں زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہئے۔ فریقین کی بحث کے بعد جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس نرسہما نے فریقین کو حکم دیا کہ وہ آٹھ اگست تک اس مقدمہ سے متعلق دستاویزات عدالت میں داخل کریں، دس اگست کو عدالت اس معاملے کی حتمی سماعت کرے گی۔ دوران سماعت جسٹس گوئی نے مزید کہا کہ قانون کی پاسداری کرنا ضروری ہے لیکن اگر میونسپل قانون کے مطابق کوئی عمارت غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہے تو کیا عدالت اس کے انہدامی کارروائی پر روک لگا سکتی ہے؟

میونسپل کمشنر غیر قانونی تعمیرات کو بغیر نوٹس کے کارروائی کرسکتا ہے؟

واضح رہے کہ گذشتہ شب اتر پردیش حکومت نے جمعیۃ علماء ہند کے جوابی حلف نامہ کے جواب میں تازہ حلف نامہ داخل کیا جس میں تحریر ہے کہ میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی دفعہ 296 کے تحت میونسپل کمشنر غیر قانونی تعمیرات کو بغیر نوٹس کے کارروائی کرسکتا ہے۔ حالانکہ پہلے کہ حلف نامہ میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا بلکہ مسلسل یہ بات کہی گئی کہ نوٹس دینے کے بعد ہی انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔ لیکن جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے دستاویزات اور فوٹوز کے ذریعہ عدالت کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ بغیر نوٹس کے انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔

آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ، سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن، ایڈوکیٹ صارم نوید، ایڈوکیٹ نظام الدین پاشا، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ حجاب تنازعہ پر آئندہ ہفتے سماعت کرے گی

0
سپریم کورٹ حجاب تنازعہ پر آئندہ ہفتے سماعت کرے گی
سپریم کورٹ حجاب تنازعہ پر آئندہ ہفتے سماعت کرے گی

حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ اگلے ہفتے سماعت کرے گی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ وہ حجاب تنازعہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف درخواستوں پر اگلے ہفتے سماعت کرے گی۔

چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی والی بنچ نے کہا، ’’ہم نے اس معاملے کو اگلے ہفتے سماعت کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔

قبل ازیں ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے عدالت عظمیٰ کی اس بنچ پر زور دیا کہ وہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی جلد سماعت کرے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اسے اگلے ہفتے کی فہرست میں ڈال رہے ہیں، اس معاملے کو سماعت کے لیے رکھا جائے گا۔

مسٹر بھوشن نے کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر پابندی ہٹانے سے انکار کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ بہت پہلے درج کیا گیا تھا۔ طالبات کی تعلیم کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسٹر بھوشن نے سپریم کورٹ پر زور دیا ہے کہ اس معاملے سے متعلق دائر درخواستوں کی جلد از جلد سماعت کی جائے۔

پاکستان میں موسلادھار بارش سے 27 افراد ہلاک

0
پاکستان میں موسلادھار بارش سے 27 افراد ہلاک
پاکستان میں موسلادھار بارش سے 27 افراد ہلاک

پاکستان میں موسلادھار بارش اور سیلاب سے کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں، بجلی کی سپلائی میں خلل پڑا ہے، فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے

اسلام آباد: پاکستان میں موسلادھار بارش اور سیلاب کی دوہری مار نے لوگوں کا جینا مشکل کر دیا ہے۔

ریاست کے مختلف اضلاع میں اس قدرتی آفات کی زد میں آنے سے کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہاں کے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں، بجلی کی سپلائی میں خلل پڑا ہے، فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے اور کئی جگہوں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے۔ ڈان اخبار نے یہ اطلاع دی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں شدید بارش کے ایک اور دور کے خطرے سے نمٹنے کے لئے کئے گئے اقدامات کی باریکی سے نگرانی کرنے کو کہا ہے۔

کراچی میں پولیس اور ریسکیو حکام نے شدید بارشوں کے باعث کم از کم 10 ہلاکتوں کی اطلاع دی۔ اس کے علاوہ یہاں کئی علاقوں میں بجلی غائب ہے اور کئی علاقے تاحال زیر آب ہیں۔

پاکستان میں مان سون کی پہلی شدید بارش منگل کو ختم ہوئی اور اس کے ساتھ ہی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جمعرات سے دوسرا دور شروع ہونے والا ہے۔ یہ چار دن یعنی اتوار تک جاری رہ سکتا ہے۔ جس کے باعث سندھ اور بلوچستان میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے اور ہواؤں کا رخ بھی تیز رہے گا۔

مدھیہ پردیش میں اربن باڈی انتخابات کے آخری مرحلے کے لیے 43 اضلاع میں ووٹنگ شروع

0
مدھیہ پردیش میں اربن باڈی انتخابات کے آخری مرحلے کے لیے 43 اضلاع میں ووٹنگ شروع
مدھیہ پردیش میں اربن باڈی انتخابات کے آخری مرحلے کے لیے 43 اضلاع میں ووٹنگ شروع

مدھیہ پردیش میں اربن باڈی انتخابات – 2022 کے دوسرے اور آخری مرحلے میں آج 43 اضلاع کے 214 شہری اداروں میں ووٹنگ شروع ہوگئی ہے، 49 لاکھ نو ہزار 280 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے جو کہ شام 5 بجے تک جاری رہے گی

بھوپال: مدھیہ پردیش میں اربن باڈی انتخابات-2022 کے دوسرے اور آخری مرحلے میں آج 43 اضلاع کے 214 شہری اداروں میں ووٹنگ شروع ہوگئی۔

سرکاری معلومات کے مطابق پولنگ کے دوران کل چھ ہزار 829 پولنگ اسٹیشنز پر 49 لاکھ نو ہزار 280 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے جو کہ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ ان میں سے 25 لاکھ 20 ہزار 923 مرد، 23 لاکھ 88 ہزار 65 خواتین اور 292 دیگر ووٹرز ہیں۔

ریاستی الیکشن کمشنر بسنت پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں پانچ میونسپل کارپوریشنوں، 40 میونسپلٹیزاور 169 میونسپل کونسلوں میں ووٹنگ جاری ہے۔ ووٹر کے لیے ووٹنگ کے لیے کمیشن کی طرف سے تجویز کردہ 20 شناختی کارڈز میں سے کوئی ایک ساتھ لانا لازمی ہے۔

سری لنکا کے صدر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے قبل ہی فرار

0
سری لنکا کے صدر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے قبل ہی فرار
سری لنکا کے صدر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے قبل ہی فرار

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے صدر کا فوجی طیارہ مقامی وقت کے مطابق تاخیر شب تین بجے مالدیپ کے دارالحکومت مالے جا پہنچے

کولمبو: سری لنکا کے صدر گوٹابایہ راج پکسے آج اپنے استعفیٰ کا باضابطہ اعلان کرنے والے تھے، لیکن اس سے قبل ہی آج علی الصبح وہ اپنے خاندان سمیت ایک فوجی طیارے میں سوار ہوکر ملک چھوڑ کر باہر جاچکے ہیں۔ یہ اطلاع بدھ کو میڈیا رپورٹ میں دی گئی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ان کا فوجی طیارہ مقامی وقت کے مطابق تاخیر شب تین بجے مالدیپ کے دارالحکومت مالے جا پہنچے۔

وہ 9 جولائی کو راشٹرپتی بھون سے اس وقت فرار ہو گئے تھے جب ہزاروں مظاہرین نے ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا تھا۔

صدر کے دستخط شدہ استعفیٰ نامہ کا اعلان بدھ کے روز پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ذریعے کیا جانا تھا۔

دارالحکومت کولمبو کے مرکزی احتجاجی مقام گالے فیس گرین میں منگل کی شام ہزاروں افراد صدر کے استعفے کا انتظار کر رہے تھے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی صدر کے ملک چھوڑنے کی خبر سامنے آئی، مظاہرین نے احتجاجی مقام پر شور مچانا شروع کر دیا۔

بی بی سی نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ان کے بھائی اور سابق وزیر خزانہ باسل راج پکسے بھی ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ قبل ازیں انہیں ایک بار بندرانائیکے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حکام نے ملک سے باہر جانے سے روکا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ اس وقت امریکہ میں ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ لوگوں نے سری لنکا کی گرتی ہوئی معیشت کا ذمہ دار صدارتی انتظامیہ کو ٹھہرایا ہے۔

اجی کرشنن کیرالہ میں گرفتار: شولیور پولیس

0

شولیور پولیس نے اجی کرشنن کو قبائلی زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کرنے اور ان کی توہین کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے

پلکڑ: کیرالہ میں شولیور پولیس نے ہائی رینج رورل ڈیولپمنٹ سوسائٹی (ایچ آر ڈی ایس) کے سکریٹری اجی کرشنن کو قبائلی زمین پر مبینہ طور پر قبضہ کرنے اور ان کی توہین کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مسٹر کرشنن، جو دبئی سے یہاں پہنچے تھے، کو پیر کی دوپہر اٹاپادی کے اگلی پولیس اسٹیشن میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس پی) این مرلی دھرن کے سامنے حاضر ہونے کو کہا گیا تھا۔

مسٹر کرشنن کو ایک سال قبل قبائلیوں کی زمین پر قبضہ کرنے، ذات پات کا استعمال کرکے ان کی توہین کرنے اور ان کے گھروں کو جلانے کے معاملے میں ایک سال قبل درج ایک کیس کے سلسلے میں آگالی پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔

پولیس اسٹیشن میں دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد، وہ منگل کو پولیس کو اپنی واپسی کی اطلاع دینے کے بعد پلکڑ کے لیے روانہ ہوئے۔ تاہم پولیس نے انہیں اناکٹی چیک پوسٹ پر روکا اور شولیور پولیس اسٹیشن پہنچنے کو کہا۔ بعد میں اس معاملے میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

مہاراشٹر میں کورونا وائرس کے 1,189 نئے معاملے، دو کی موت

0

مہاراشٹر میں کورونا وائرس کے 1,189 نئے معاملے، نئے کیسوں کے ساتھ ریاست میں مجموعی کیسز کی تعداد 80,06,424 ہو گئی ہے

ممبئی: مہاراشٹرا میں کورونا وائرس کے 1,189 معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ دو لوگوں کی اس بیماری سے موت ہوگئی۔ ہیلتھ بلیٹن نے منگل کے روز یہ اطلاع دی۔

ان نئے کیسوں کے ساتھ ریاست میں مجموعی کیسز کی تعداد 80,06,424 ہو گئی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 1,47,978 تک پہنچ گئی ہے۔ کم از کم 1,529 افراد کو ڈسچارج کیا گیا جس سے صحت یاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 78,39,208 ہوگئی۔

ریاست میں صحت یابی کی شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 97.93 فیصد اور اموات کی شرح 1.84 فیصد پر آگئی ہے۔

اس وقت ریاست میں 18,027 فعال معاملے درج ہیں۔

دریں اثنا، بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ مراٹھواڑہ کے علاقے میں 62 معاملے درج ہوئے ہیں جن میں جالنا میں 39، عثمان آباد میں 21 اور بیڈ میں 2 معاملے شامل ہیں۔

راجستھان: ادے پور میں پیر کے روز کرفیو میں 17 گھنٹے کی نرمی

0
راجستھان: ادے پور میں پیر کے روز کرفیو میں 17 گھنٹے کی نرمی
راجستھان: ادے پور میں پیر کے روز کرفیو میں 17 گھنٹے کی نرمی

ادے پور شہر میں مسلمانوں نے اتوار کے روز عید الاضحیٰ کا تہوار پرامن طریقے سے منایا۔ اس دوران کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی

ادے پور: راجستھان کے ادے پور شہر میں کنہیا لال قتل کیس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد پیر کو مختلف علاقوں میں نافذ کرفیو میں 17 گھنٹے کے لیے نرمی دی گئی۔

دھان منڈی، گھنٹاگھر، ہاتھی پول، امباماتا، سورج پول، سوینا، بھوپال پورہ، گووردھن ولاس، ہیرنماگری، پرتاپ نگر اور سکھر دھان منڈی اورسوینا میں آج صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی۔

کرفیو سے متاثرہ علاقوں میں تمام بازار کھل گئے ہیں اور زندگی معمول پر ہے۔ شہر میں مسلمانوں نے اتوار کے روز عید الاضحیٰ کا تہوار پرامن طریقے سے منایا۔ اس دوران کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

مہاراشٹر میں کورونا کے 2,591 نئے معاملے

0
مہاراشٹر میں کورونا کے 2,591 نئے معاملے
مہاراشٹر میں کورونا کے 2,591 نئے معاملے

مہاراشٹرا میں کورونا وائرس کے 2,591 معاملے سامنے آئے ہیں، ان نئے کیسوں کے ساتھ، ریاست کے مجموعی کیسوں کی تعداد بڑھ کر 80,04,024 ہوگئی ہے

ممبئی: مہاراشٹرا میں کورونا وائرس کے 2,591 معاملے سامنے آئے ہیں۔ ہیلتھ بلیٹن نے پیر کے روز یہ اطلاع دی۔

ان نئے کیسوں کے ساتھ، ریاست کے مجموعی کیسوں کی تعداد بڑھ کر 80,04,024 ہوگئی ہے۔
اس دوران کم از کم 2,894 افراد کو ڈسچارج کیا گیا جس سے صحت یاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 78,37,679 ہوگئی۔

ریاست کی صحت یابی کی شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 97.92 فیصد پر آ گئی ہے جبکہ اموات کی شرح 1.84 فیصد ہے۔ اس وقت 18,369 فعال معاملے درج کئے گئے ہیں۔

مراٹھواڑہ کے علاقے میں 159 معاملے درج ہوئے ہیں جس میں جالنا ضلع میں 72، ضلع اورنگ آباد میں 47، ضلع عثمان آباد میں 19، لاتور ضلع میں 15 اور بیڈ میں کووڈ کے 6 مریض شامل ہیں۔