پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 223

عآپ کے سنجے سنگھ ایوان کی کارروائی سے معطل

0

عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ کو راجیہ سبھا میں چیئرمین کی کرسی کی طرف کاغذ پھاڑ کر پھینکنے اور کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزام میں اس ہفتے کے باقی حصوں کے لئے معطل کر دیا گیا ہے

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سنجے سنگھ کو بدھ کو راجیہ سبھا میں چیئرمین کی کرسی کی طرف کاغذ پھاڑ کر پھینکنے اور کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزام میں اس ہفتے کے باقی حصوں کے لئے معطل کر دیا گیا۔ ایوان کی کارروائی پہلے 15 منٹ اور پھر دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

وقفہ صفر کے دوران ملتوی ہونے کے بعد کارروائی شروع ہونے پر ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایوان کو بتایا کہ مسٹر سنگھ نے کل چیئرمین کی طرف کے کاغذات پھاڑ کے پھینک دیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کے لیے نعرے بازی کی اور ہنگامہ کھڑا کردیا۔

ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ مسٹر سنگھ کا یہ طرز عمل ایوان کے منظور شدہ اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے ان کے خلاف رول 256 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وی مرلی دھرن نے مسٹر سنگھ کو اس ہفتے کی بقیہ مدت کے لیے معطل کرنے کی تجویز پیش کی جسے ایوان نے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔

اس کے بعد مسٹر ہری ونش نے مسٹر سنگھ سے ایوان سے باہر نکلنے کی اپیل کی اور کارروائی کو آسانی سے چلنے دیا اور 12.03 بجے ایوان کی کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔ اس کے بعد جب کارروائی شروع ہوئی تو ڈپٹی چیئرمین نے مسٹر سنگھ سے دوبارہ ایوان سے نکل جانے کی اپیل کی۔ اس پر مسٹر سنگھ نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن مسٹر ہری ونش نے کہا کہ ان کا کوئی بھی لفظ ریکارڈ پر نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی۔

اس ہفتے سب سے زیادہ 20 ارکان معطل

قابل ذکر ہے کہ کل ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے پر 19 ارکان کو اس ہفتے کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا تھا، جن میں ترنمول کانگریس کی سشمیتا دیو، محترمہ موسم نور، محترمہ شانتا کشیتری، محترمہ ڈولا سین، شانتنو سین، ابیر رنجن بسواس شامل ہیں۔، محمد ندیم الحق، ڈی ایم کے ایم ایچ عبداللہ، ایس کلیان سندرم، آر گریرنجن، این آر ایلینگوان، ایم شانموگم، کنیمزی این وی این شومو، ٹی آر ایس کے بی ایل یادو، رویندرا وادی راجو، دامودار راؤ دیوکونڈا، سی پی آئی (ایم) کے وی سیواداسن، پی پی آئی سنواداسن اور اے اے رحیم۔

اس طرح اس ہفتے سب سے زیادہ 20 ارکان کو معطل کیا گیا ہے۔

انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ: روپیہ 79.78 فی ڈالر پر

0
انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ: روپیہ 79.78 فی ڈالر پر
انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ: روپیہ 79.78 فی ڈالر پر

شروعاتی کاروبار میں روپیہ پانچ پیسے کے اضافے کے ساتھ 79.73 فی ڈالر پر کھلا۔ سیشن کے دوران فروخت کی وجہ سے یہ 79.72 روپے فی ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچا

ممبئی: اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کے درمیان آج انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپیہ 79.78 فی ڈالر پر فلیٹ رہا۔

گزشتہ کاروباری دن روپیہ 12 پیسے کی مضبوطی سے 79.78 روپے فی ڈالر پر رہا تھا۔

شروعاتی کاروبار میں روپیہ پانچ پیسے کے اضافے کے ساتھ 79.73 فی ڈالر پر کھلا۔ سیشن کے دوران فروخت کی وجہ سے یہ 79.72 روپے فی ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچا۔ تاہم خریداری کے دباؤ میں یہ 79.81 روپے فی ڈالر کی کم ترین سطح پر رہا اور پچھلے سیشن کے 79.78 روپے فی ڈالر کی سطح پر فلیٹ بند ہوا۔

بہار کے وزیر اعلیٰ ہوئے کورونا پازیٹیو

0
بہار کے وزیر اعلیٰ ہوئے کورونا پازیٹیو
بہار کے وزیر اعلیٰ ہوئے کورونا پازیٹیو

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کورونا پازیٹیو ہوگئے ہیں، چراغ پاسوان نے اپنے ٹویٹ میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے

پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کورونا پازیٹیو ہوگئے ہیں۔ جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے منگل کو اپنے فیسبک پوسٹ کے توسط سے اس کی تصدیق کی ہے۔ گذشتہ چار دنو ں سے انہیں بخار تھا۔

اس کے بعد ان کے بلڈ سیمپل کی جانچ کرائی گئی، جس میں وہ کورونا پازیٹیو پائے گئے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ مسٹر سنگھ نے اپنے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ ”وزیر اعلیٰ نتیش کمار کورونا جانچ میں پازٹیو پائے گئے ہیں۔ ڈاکٹروں کی صلاح پر وہ ہوم آئیسولیشن میں ہیں۔ ایشور سے وزیراعلیٰ کے جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہوں۔

دریں اثناء لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے قومی صدر اور بہار کے جموئی سے رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے اپنے ٹویٹ میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔

وزیر اعلیٰ مسٹر کمار طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہی سموار کو دہلی نہیں جا پائے تھے۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی حلف برداری تقریب سے مسٹر کمار دور رہے اور اس سلسلے میں طرح طرح کی بحثیں سیاسی گلیاروں میں ہورہی تھیں۔ اسی درمیان کل پارلیمانی بورڈ کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ضروری نہیں کہ مسٹر کمار حلف برداری تقریب میں شامل ہوں۔ لیکن اب مسٹر کمار کے کورونا پازیٹیو ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔

راہل سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حراست میں

0
راہل سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حراست میں
راہل سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حراست میں

راہل گاندھی سمیت کانگریس کے کئی لیڈر حکومت کے آمرانہ رویہ کے خلاف نو منتخب صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے کے لئے راشٹرپتی بھون جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں روک دیا گیا

نئی دہلی: کانگریس نے منگل کو کہا کہ پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی سمیت کئی لیڈر حکومت کے آمرانہ رویہ کے خلاف نو منتخب صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے کے لئے راشٹرپتی بھون جا رہے تھے تو انہیں راستے میں روک دیا گیا اور مسٹر گاندھی سمیت تمام کو حراست میں لے لیا گیا۔

حکومت کے رویہ کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ آمریت دیکھئے، پرامن مظاہرے نہیں کر سکتے، مہنگائی اور بے روزگاری پر بات نہیں کر سکتے۔ پولیس اور ایجنسیوں کا غلط استعمال کر کے، یہاں تک کہ ہمیں گرفتار کر کے بھی آپ ہمیں کبھی خاموش نہیں کر پاو گے۔” "صرف ‘سچ’ ہی اس آمریت کو ختم کرے گا۔”


کانگریس کے محکمہ مواصلات کے سربراہ جے رام رمیش نے کہا کہ مانسون اجلاس کے آغاز سے ہی پارلیمنٹ میں کوئی کام نہیں ہوا، اپوزیشن مہنگائی کے مسئلہ پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن حکومت اپوزیشن جماعتوں کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔ حق کی لڑائی لڑ رہے کانگریس کے چار لوک سبھا ممبران کو پورے اجلاس کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنے حق کے لئے لڑ رہی ہے اور اس کے ممبران پارلیمنٹ آج صدر جمہوریہ کو یہ بتانے جارہے تھے کہ حکومت کے اڑیل رویہ کی وجہ سے پارلیمنٹ نہیں چل رہی ہے لیکن انہیں صدر سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

دروپدی مرمو نے ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا

0
دروپدی مرمو نے ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا
دروپدی مرمو نے ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا

محترمہ دروپدی مرمو نے پیر کے روز پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا، محترمہ مرمو آزاد ہندوستان میں پیدا ہونے والی ملک کی پہلی اور سب سے کم عمر صدر جمہوریہ ہیں

نئی دہلی: محترمہ دروپدی مرمو نے پیر کے روز پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں ملک کے 15 ویں صدر جمہوریہ کے بطور حلف لیا۔ وہ ملک کی دوسری خاتون اور قبائلی برادری کی پہلی لیڈر ہیں جو ملک کے اس اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر پہنچی ہیں۔

چیف جسٹس این وی رمن نے محترمہ مرمو کو اپنے عہدے کا حلف دلایا۔ محترمہ دروپدی مرمو آزاد ہندوستان میں پیدا ہونے والی ملک کی پہلی اور سب سے کم عمر صدر جمہوریہ ہیں۔ انہوں نے سبکدوش ہونے والے صدر رام ناتھ کووند کی میعاد پوری ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھالا ہے۔

حلف برداری کی تقریب میں مسٹر رام ناتھ کووند، نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو، وزیر اعظم نریندر مودی، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، مختلف سفارتی مشنوں کے سربراہان اور متعدد معززین موجود تھے۔ اس موقع پر صدر جمہوریہ کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

حلف لینے کے بعد محترمہ دروپدی مرمو نے بطور صدر جمہوریہ اپنا پہلا خطاب کیا۔

خطاب کے بعد محترمہ مرمو اور سبکدوش ہونے والے صدر روایتی قافلے میں راشٹرپتی بھون کے لیے روانہ ہوئے۔

صدارتی انتخاب میں دروپدی مرمو کی فتح سے اپوزیشن کو ملا ایک اور اہم سبق

0
صدارتی انتخاب میں دروپدی مرمو کی فتح سے اپوزیشن کو ملا ایک اور اہم سبق
صدارتی انتخاب میں دروپدی مرمو کی فتح سے اپوزیشن کو ملا ایک اور اہم سبق

صدارتی انتخاب کے نتیجے اور نائب صدر کے انتخاب سے پہلے اپوزیشن میں دراڑ اس بات کا اشارہ ہے کہ 2024ء میں بھی حالات زیادہ تبدیل نہیں ہوں گے

ڈاکٹر یامین انصاری

15 ویں صدر جمہوریہ کیلئے ہونے والے انتخاب میں این ڈی اے کی اُمیدوار دروپدی مرمو نے بازی مار لی۔ ویسے دروپدی مرمو کی کامیابی نہ تو خلاف توقع ہے اور نہ ہی حیران کن۔ انتخاب سے پہلے ہی اشارہ مل گیا تھا کہ این ڈی اے کی امیدوار اپوزیشن کے امیدوار کو بہت آسانی سے شکست دے دیں گی۔ انتخابی نتائج سے یہ ثابت بھی ہو گیا۔ یہ انتخاب سابقہ صدارتی انتخاب سے زیادہ موضوع بحث رہا۔

در اصل اپوزیشن جماعتیں 2024ء کے عام انتخابات سے پہلے اتحاد کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر اس شکست سے ان کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ اپوزیشن کے اتحاد پر اسی وقت سوال اٹھنے لگے تھے جب بی جے ڈی، جے ڈی ایس، جے ایم ایم، وائی ایس آر کانگریس جیسی کئی غیر این ڈی اے پارٹیاں دروپدی مرمو کی حمایت میں سامنے آگئیں۔ اس کے ساتھ ہی باقی اپوزیشن جماعتوں کے ممبران کے ذریعہ کراس ووٹنگ نے بھی اپوزیشن کے اتحاد پر سوالیہ نشان لگا دئے۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا اپنا گھر ہی محفوظ نہیں ہے۔ کون کب مخالف خیمہ میں چلا جائے، کہا نہیں جا سکتا۔

صدارتی انتخاب کے نتیجے اور نائب صدر کے انتخاب سے پہلے اپوزیشن کے خیمہ میں پیدا ہونے والی دراڑ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ2024ء کے لیے اپوزیشن کے اتحاد کا راستہ بہت آسان نہیں ہے۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے سامنے جہاں اپنی محدود ہوتی سیاسی زمین کو بچانے کا چیلنج ہے، وہیں علاقائی جماعتوں کو کس طرح ساتھ لے کر چلا جائے، یہ اس سے بڑا چیلنج ہے۔ علاقائی جماعتوں کو لگتا ہے کہ جہاں وہ مضبوط ہیں، وہاں ان کی حصہ داری بھی زیادہ ہونی چاہئے۔ جبکہ کانگریس ایک قومی پارٹی کی حیثیت سے اپنا حق زیادہ سمجھتی ہے۔

صدر جمہوریہ اور نائب صدر کے انتخاب سے پیغام

صدر جمہوریہ اور نائب صدر کے انتخاب سے یہ پیغام مل گیا ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کا سخت امتحان ہونے والا ہے۔ اگر صدر جمہوریہ کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو این ڈی اے کی امیدوار دروپدی مرمو کو ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے کل 2824؍ ووٹ ملے، جن کی ویلیو 6؍ لاکھ 75؍ ہزار 803؍ ہے۔ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا کو 1877؍ ووٹ ملے، جن کی ویلیو 3؍ لاکھ 80؍ ہزار 177؍ ہے۔ مرمو کل ووٹوں کا 64 فیصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ جبکہ یشونت سنہا کو کل 36؍ فیصد ووٹ ہی مل سکے۔

اس دوران کراس ووٹنگ نے بھی این ڈی اے امیدوار کی جیت کے فرق کو مزید بڑھا دیا، جس سے اپوزیشن کی کمرٹوٹ گئی۔ 18؍ ریاستوں کے 143؍ ایم پی اور ایم ایل ایز نے کراس ووٹنگ کی۔ ان میں 126؍ اراکین اسمبلی اور 17؍ اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ در اصل بی جے پی کے قبائلی کارڈ نے اپوزیشن کے اتحاد میں دراڑ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کئی سیاسی جماعتیں اور سیاستدان چاہتے ہوئے بھی دروپدی مرمو کی مخالفت نہیں کر سکے اور اپوزیشن جماعتیں چاروں شانے چت ہو گئیں۔دروپدی مرمو کا چہرہ این ڈی اے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔

یہ صدراتی انتخاب اس لئے بھی یاد رکھا جائے گا کیوں کہ اس سے یہ پیغام مل گیا ہے کہ صدارتی انتخاب ووٹ بینک بنانے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ آسام میں سب سے زیادہ 22؍ اراکین اسمبلی نے کراس ووٹنگ کی۔ مدھیہ پردیش دوسرے نمبر پر تھا، جہاں کانگریس کے پاس کافی تعداد میں قبائلی ایم ایل اے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں 19؍ اراکین اسمبلی نے مرمو کے حق میں کراس ووٹ دیا۔

کانگریس اور این سی پی میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے

مہاراشٹر میں شیو سینا کے دونوں گروپ پہلے ہی مرمو کے حق میں تھے، لیکن وہاں بھی انہیں ان کے حق میں 16؍ اضافی ووٹ ملے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس اور این سی پی میں بھی مستقبل میں شیو سینا کی طرح انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔ یشونت سنہا کی آبائی ریاست جھارکھنڈ میں کارکردگی سب سے مایوس کن رہی۔ وہ جھارکھنڈ میں کل 81؍ ووٹوں میں سے صرف 9؍ ووٹ ہی حاصل کر سکے۔ دوسری طرف مرمو کو ان کی آبائی ریاست اوڈیشہ میں کل 147؍ میں سے 137؍ ووٹ ملے۔ گجرات میں اسمبلی انتخابات سے پہلے کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

گجرات میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، لیکن کانگریس کے 10؍ اراکین اسمبلی نے بھی مرمو کے حق میں کراس ووٹ کیا۔ یہ کراس ووٹنگ کانگریس کے لیے نیک شگون نہیں ہے، جس نے 2017ء کے گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو سخت ٹکر دی تھی۔ اس وقت ملک میں 776؍ منتخب اراکین پارلیمنٹ اور 4033؍ اراکین اسمبلی ہیں۔ ان میں سے 3991؍ اراکین اسمبلی اور 763؍ اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ ڈالے، جن میں سے 53؍ ووٹ غلط نکلے۔ ان میں 15؍ ایم پی اور 38؍ اراکین اسمبلی شامل ہیں۔

سنہا نے ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی تھی

مدھیہ پردیش اور پنجاب میں 5-5؍ اراکین اسمبلی کے ووٹ غلط قرار دئے گئے۔ کرناٹک، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور دہلی میں چار چار ووٹ، یوپی میں 3، بہار میں دو اور ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، میگھالیہ، تمل ناڈو، تلنگانہ، اتراکھنڈ اور پڈوچیری میں ایک ایک ووٹ غلط تھا۔ 2017ء کے صدارتی انتخابات میں 77؍ ووٹ غلط قرار دئے گئے تھے۔ حالات اپنے حق میں نہ دیکھ کر یشونت سنہا نے ایم پی اور ایم ایل اے سے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ یہاں پر غور طلب بات یہ ہے کہ صدارتی انتخاب میں سیاسی جماعتوں کا وہپ نافذ نہیں ہوتا۔ یعنی اگر کوئی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی اپنی پارٹی کے موقف الگ کسی دوسرے کو ووٹ کرتا ہے تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ اس لحاظ سے رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کو اپنے ضمیر کی آواز سننا بہت آسان ہے۔ لیکن یہاں تو یشونت سنہا شاید اپنی حامی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے ضمیر کو سمجھنے میں ہی ناکام رہے۔

صدر جمہوریہ کے انتخاب کے بعد نائب صدر کے انتخاب میں بھی اپوزیشن کے اتحاد میں بڑی دراڑ پڑ گئی۔ نائب صدر کے امیدوار کے انتخاب میں مشورہ نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ترنمول کانگریس نے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ این ڈی اے نے مغربی بنگال کے سابق گورنر جگدیپ دھنکھڑ کو نائب صدر کے انتخاب کے لیے اپنے امیدوار کے طور پر کھڑا کیا ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے راجستھان کی سابق گورنر مارگریٹ الوا کو میدان میں اتارا ہے۔

نائب صدر کے انتخاب میں ووٹنگ سے گریز کرنے کا ٹی ایم سی کا فیصلہ مایوس کن

مارگریٹ الوا نے بھی ترنمول کانگریس کے ذریعہ انتخابات میں ووٹنگ نہ کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ ترنمول کانگریس کے فیصلہ پر کہا کہ ’نائب صدر کا انتخاب الزام تراشی، غصہ یا انا کے اظہار کا وقت نہیں ہے۔ نائب صدر کے انتخاب میں ووٹنگ سے گریز کرنے کا ٹی ایم سی کا فیصلہ مایوس کن ہے۔ یہ ہمت، قیادت اور اتحاد کا وقت ہے۔ مجھے یقین ہے، ممتا بنرجی، جو ہمت کا مظہر ہیں وہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔‘

بہر حال، اب جبکہ قبائلی کارڈ کھیل کر بی جے پی یا حکمراں این ڈی اے نے بازی اپنے حق میں کر لی ہے تو دروپدی مرمو کی یہ کامیابی محض ووٹ حاصل کرنے کا ہتھکنڈہ بن کر نہ رہ جائے۔ سیاسی بساط پر ہی سہی، ملک کو دروپدی مرمو کی شکل میں ایک ایسا صدر جمہوریہ ملا ہے، جس کا تعلق قبائلی برادری سے ہے۔ ہمارے ملک میں قبائلی آبادی کو آزادی کے بعد سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اس اعتبار سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب قبائلی آبادی کے مسائل دور کرنے میں آسانی ہوگی؟ حالانکہ ملک کی سیاست کا اب تک کا تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ کسی برادری یا فرقے کو نمائندگی دینے سے اُس برادری یا فرقے کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ وہ چاہے دلتوں کا معاملہ ہو، اقلیتوں کی بات ہو یا پھر قبائلی آبادی کا تعلق، کیوں کہ اس سے پہلے دلت اور اس سے بھی پہلے اقلیتی فرقے سے بھی صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز رہے ہیں، مگر اس سے ان فرقوں یا برادریوں کی طرز زندگی یا ان کے مسائل میں کوئی بہت بڑا فرق نہیں آیا۔ اس لئے اب بھی بہت زیادہ امیدیں نہیں کی جا سکتیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

فضائیہ میں اگنی ویروں کی تقرری کے لئے امتحان شروع

0

فضائیہ میں اگنی ویروں کی تقرری کے لیے امتحان میں 30 ہزار سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی

کانپور: فضائیہ میں اگنی ویروں کی تقرری کے لئے اتوار کو یہاں سخت بندوبست کے درمیان امتحان کا آغاز ہوگیا۔

ضلع کے 16 الگ الگ امتحانی مراکز پر جاری اس امتحان میں 30 ہزار سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی۔ پہلی شفٹ کے امتحان میں صبح پونے نو بجے جبکہ دوسری شفٹ کا امتحان ساڑھے 11 بجے شروع ہوا۔ اس کے بعد سوا تین بجے سے تیسرے اور آج کے آخری شفٹ میں امتحان ہوا۔

امتحانی مراکز کے اندر کی کمان فضائیہ کے افسران اور جوانوں کے ہاتھوں میں رہی جبکہ امتحانی مراکز کے باہر فضایہ کے ساتھ مقامی پولیس کے جوان بھی تعینات کئے گئے تھے۔

آن لائن امتحان کے لئے پہنچے امیدواروں کو سخت اصول و ضوابط سے ہوکر گزرنا پڑا جس کی وجہ سے کچھ امیدوار ناخوش بھی نظر آئے۔ ریاست کے الگ الگ اضلاع میں امتحان دینے پہنچے امیدواروں کی سہولیت کے لئے بس اسٹیشن اور ریلوے اسٹیشن پر خصوصی انتظام کئے گئے تھے۔ امتحانی مراکز کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں سے کی جارہی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں روز بھی تیزی

0
اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں روز بھی تیزی
اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں روز بھی تیزی

ریزرو شرح سود میں 0.75 فیصد اضافہ کی قیا س آرائی کے سبب عالمی بازار میں آئی گراوٹ کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں تیزی جاری

ممبئی: فیڈ ریزرو شرح سود میں 0.75 فیصد اضافہ کی قیا س آرائی کے سبب عالمی بازار میں آئی گراوٹ کے باوجود مقامی سطح پر کیپٹل گڈس، ٹیلی کام، بیسک میٹریلس، سی ڈی جی ایس، انڈسٹریلس، تیل اور گیس اور پاور سمیت اٹھارہ گروپوں میں خریداری سے اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل پانچویں روز بھی تیزی رہی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 284.42 پوائنٹس بڑھ کر 55,681.95 پر اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 84.40 پوائنٹس بڑھ کر 16,605.25 پر آگیا۔ بی ایس ای مڈ کیپ 1.24 فیصد چھلانگ لگا کر 23,701.35 پوائنٹس اورا سمال کیپ 0.90 فیصد بڑھ کر 26,716.56 پوائنٹس پر رہا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر کل ملاکر 3499 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 2001 میں 1337 میں خرید و فروخت ہوئی، جب کہ 161 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 42 کمپنیوں میں تیزی رہی جبکہ باقی آٹھ میں گراوٹ رہی۔

بی ایس ای پر ہیلتھ کیئر گروپ میں 0.12 فیصد کی گراوٹ کو چھوڑ کر، باقی 18 گروپ میں تیزی رہی۔ کیپٹل گڈس 2.08، ٹیلی کام 2.16، بیسک میٹریلس 1.18، سی ڈی جی ایس 1.00، انرجی 0.88، ایف ایم سی جی 0.69، فنانس 0.74، انڈسٹریز 1.45، آئی ٹی 0.77، یوٹیلٹیز 0.89، ، آٹو 0.73، آئل اینڈ گیس 1.32، پاور 1.24،ریئلٹی 0.70اور ٹیک گروپ کے شیئر میں 0.93 فیصد کا اضافہ ہوا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں گراوٹ کا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.52، ڈی اے ایکس 0.26، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.51 اور چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.99 فیصد گرا جبکہ جاپان کا نکیئی 0.44 فیصد بڑھا۔

صدارتی انتخاب: گنتی کے پہلے دور میں دروپدی مرمو کو 540 ووٹ ملے جبکہ سنہا کو 208 ووٹ

0
صدارتی انتخاب: گنتی کے پہلے دور میں دروپدی مرمو کو 540 ووٹ ملے جبکہ سنہا کو 208 ووٹ
صدارتی انتخاب: گنتی کے پہلے دور میں دروپدی مرمو کو 540 ووٹ ملے جبکہ سنہا کو 208 ووٹ

الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار صدارتی انتخاب میں کل 4796 ووٹرز تھے جن میں سے 99 فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ گیارہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں 100 فیصد ووٹنگ ہوئی

نئی دہلی: نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی امیدوار دروپدی مرمو صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے کے ووٹوں کی گنتی کے بعد کل درست 748 ووٹوں میں سے 540 ووٹوں کے ساتھ آگے ہیں، جبکہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا 208 ووٹ ملے ہیں۔

جمعرات کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہونے والی گنتی کے پہلے مرحلے میں تمام اراکین پارلیمنٹ کے ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ انتخاب کے لیے مقرر کردہ ریٹرننگ آفیسر اور راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی نے بتایا کہ 748 درست ووٹوں میں سے محترمہ مرمو کو 540 ووٹ ملے جبکہ مسٹر سنہا کو 208 ووٹ ملے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹ ویلیو کے حساب سے کل 523600 میں سے محترمہ مرمو کو 378000 جبکہ مسٹر سنہا کو 145600 ووٹ ملے۔

دوسرے راؤنڈ میں ریاستی اسمبلیوں میں ایم ایل اے کے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔ صدارتی انتخاب میں 99 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار صدارتی انتخاب میں کل 4796 ووٹرز تھے جن میں سے 99 فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ گیارہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں 100 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ صدارتی انتخاب کے لیے دہلی اور پڈوچیری سمیت 30 مقامات پر ووٹنگ ہوئی۔ اس انتخاب میں راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے ارکان کے علاوہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے ساتھ منتخب نمائندوں کو بھی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا۔

سپریم کورٹ گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کی عرضی پر سماعت کے لیے رضامند

0
سپریم کورٹ گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کی عرضی پر سماعت کے لیے رضامند
سپریم کورٹ گیان واپی مسجد کمپلیکس میں پوجا کی عرضی پر سماعت کے لیے رضامند

اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے 20 مئی کو ہندو فریق کی جانب سے گیان واپی مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت مانگنے والی درخواست کی کارروائی بنارس کے ڈسٹرکٹ جج کو منتقل کر دی تھی

نئی دہلی: سپریم کورٹ بنارس کے کاشی وشوناتھ مندر سے متصل واقع گیان واپی مسجد کمپلیکس میں مبینہ طور پر پائے جانے والے "شیولنگ” کی پوجا کرنے کی اجازت طلب کرنے کی عرضی پر سماعت کرے گا۔

چیف جسٹس این۔ وی رمن کی سربراہی والی بنچ نے پیر کے روز خصوصی ذکر کے دوران ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین کی جلد سماعت کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ 21 جولائی کو اس درخواست پرسماعت کرے گی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وشنو شنکر جین نے کہا کہ عرضی میں گیان واپی مسجد کمپلیکس کے اندر پائے جانے والے "شیولنگ” کی پوجا اور درشن کے علاوہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار (جی پی آر) سروے اور کاربن ڈیٹنگ کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

بنچ سے 21 جولائی کو اس معاملے کو سماعت کے لیے درج فہرست کرنے کی اپیل کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ سروے کو چیلنج کرنے والی مسلم فریق کی اپیل کی سماعت بنارس کی ضلع عدالت میں 21 جولائی کو ہونی ہے۔ اس کے بعد، عدالت عظمیٰ نے 21 جولائی کو اس معاملے کو سماعت کے لیے درج فہرست کرنے کی مسٹر جین کی درخواست کو قبول کر لیا۔

اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے 20 مئی کو ہندو فریق کی جانب سے گیان واپی مسجد میں پوجا کرنے کی اجازت مانگنے والی درخواست کی کارروائی بنارس کے ڈسٹرکٹ جج کو منتقل کر دی تھی۔

تاہم سپریم کورٹ نے 17 مئی کو اپنے عبوری حکم نامے میں "شیولنگ” کے تحفظ کی ہدایت دی تھی۔ نیز مسلمانوں کو اگلے 8 ہفتوں تک نماز ادا کرنے کا نظام جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔