پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 221

کووڈ انفیکشن میں اضافے سے متعلق مہاراشٹر سمیت سات ریاستوں کو خط

0
کووڈ انفیکشن میں اضافے سے متعلق مہاراشٹر سمیت سات ریاستوں کو خط
کووڈ انفیکشن میں اضافے سے متعلق مہاراشٹر سمیت سات ریاستوں کو خط

راجیش بھوشن نے کہا ہے کہ ملک میں کووڈ انفیکشن سے نمٹنے کے لیے وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ریاستوں کو ان کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے

نئی دہلی: مرکز نے دہلی، کیرالہ اور مہاراشٹر سمیت سات ریاستوں کو خط لکھ کر ملک میں بڑھتے ہوئے کووڈ انفیکشن پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور انہیں آئندہ تہوار کے موسم میں محتاط رہنے کو کہا ہے۔

مرکزی وزارت صحت و خاندانی فلاح و بہبود نے ہفتہ کو یہاں کہا کہ وزارت کے سکریٹری راجیش بھوشن نے دہلی، کرناٹک، تلنگانہ، مہاراشٹرا، کیرالہ، اڈیشہ اور تمل ناڈو کے پرنسپل سکریٹریز اور ہیلتھ سکریٹریوں کو الگ الگ خط لکھے ہیں۔ مسٹر بھوشن نے ہر ریاست کے ان اضلاع کی الگ الگ تفصیلات بتائی ہیں، جہاں پچھلے ایک مہینے میں کووڈ انفیکشن میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

خطوط میں کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں کو آئندہ تہوار کے موسم کے پیش نظر اضافی چوکسی اختیار کرنی چاہئے اور کووڈ کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ متاثرہ افراد کے علاج کے لیے مناسب انتظامات کریں اور پورے طریقہ کار پر عمل کریں۔ اس کے علاوہ کووڈ ویکسینیشن پر خصوصی زور دیا جانا چاہیے۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ تمام مشتبہ افراد کے جمع کردہ نمونے اسکیننگ کے لیے بھیجیں۔

مسٹر بھوشن نے کہا ہے کہ ملک میں کووڈ انفیکشن سے نمٹنے کے لیے وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ریاستوں کو ان کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔

اساتذہ تقرری گھوٹالہ: ارپیتا مکھرجی کے ایک اور فلیٹ کا انکشاف، ای ڈی کی تلاشی مہم تیز

0

اساتذہ تقرری گھوٹالہ معاملے میں گرفتار پارتھو چٹرجی اور ان کی خاتون دوست ارپیتا مکھرجی کے ایک اور فلیٹ کی ای ڈی نے لی تلاشی

کلکتہ: اساتذہ تقرری گھوٹالہ معاملے میں گرفتار پارتھو چٹرجی اور ان کی خاتون دوست ارپیتا مکھرجی کے ایک اور فلیٹ کی ای ڈی نے تلاشی لی ہے۔ 22 جولائی کی رات کو ای ڈی نے ارپیتا مکھرجی کے فلیٹ سے 21 کروڑ سے زائد نقد رقم اور کئی لاکھ کے زیورات برآمد کئے تھے۔ اس کے بعد سے ہی ای ڈی ارپیتا مکھرجی اور پارتھو چٹرجی کے جائیداد اور فلیٹ کا پتہ لگارہی ہے اور تلاشی لے رہے ہیں۔

تیا روڈ پر واقع فورٹ اویسس اپارٹمنٹ میں ارپیتا کے فلیٹ ہونے کا پتہ لگنے کے بعد منگل کو ای ڈی دورہ کیا تھا۔ مگر ای ڈی کی ٹیم اندر نہیں جاسکی۔ تاہم آج ای ڈی کی ٹیم پوری تیاری کے ساتھ فلیٹ نمبر 503 میں پہنچی۔

معلوم ہوا ہے کہ فلیٹ کی ملکیت سمیتا جھن جھن والا کے نام ہے۔ اس لیے ای ڈی کو وہاں تلاشی لینے سے پہلے مقامی پولیس اسٹیشن کی اجازت لینی پڑی ہے۔ اس کے علاوہ، رابندر سروبر پولیس اسٹیشن سے تعلق رکھنے والی کئی جائیدادوں میں ارپیتا مکھرجی اور پارتھو چٹرجی کی مشترکہ جائداد ہونے پتہ لگا ہے۔ تلاشی کے دوران مقامی پولیس اسٹیشن کے ساتھ ساتھ رابندر سروبر تھانے کی پولیس بھی موقع پر موجود ہے۔

چٹرجی اور مکھرجی جمعہ تک ای ڈی کی حراست میں

پارتھو چٹرجی اور ارپیتا مکھرجی جمعہ تک ای ڈی کی حراست میں رہیں گے۔ اس لیے بتایا جاتا ہے کہ جمعرات کی صبح 10 بجے سے پارتھو اور ارپیتا سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی ہے۔ ای ڈی کے ذرائع کے مطابق، آپا یوٹیلیٹیز سروسز یکم نومبر، 2012 کو کھولی گئی تھی، جس میں پارتھو چٹرجی اور ارپیتا مکھرجی دونوں کا حصہ تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران ارپیتا مکھرجی نے دو بینک کھاتوں کی معلومات دی ہے۔

ای ڈی کے افسران بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے پچھلے 9 سالوں میں جو کچھ کیا ہے وہ اس پارٹنرشپ کے ذریعے کیا ہے جس کی وجہ سے چار فلیٹس خریدے گئے۔ ان سے دوبارہ پوچھ گچھ ہوگی۔ ای ڈی کو لگتا ہے کہ تحقیقات سے کئی نئے فلیٹس کا پتہ چل سکتا ہے۔

ای ڈی ذرائع کے مطابق جانچ ایجنسی پتہ چلا ہے کہ یہ پارٹنرشپ کمپنی نومبر 2012 میں بنائی گئی تھی اور اس نے کمپنی کی بیلنس شیٹ باقاعدگی سے جمع کرائی تھی اور انکم ٹیکس جمع کرایا تھا۔ اس تنظیم نے گزشتہ 9 سالوں سے کس طرح کام کیا، اس تمام معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ای ڈی کے افسران نے ارپیتا مکھرجی سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے اس کمپنی کے بارے میں معلوم حاصل کی ہے۔

اردو کی اہم کتابوں کی اشاعت کونسل کی ترجیحات میں شامل: پروفیسر شیخ عقیل احمد

0

ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ لٹریچر پینل کونسل کا ایک اہم پینل ہے، جس کے تحت وقیع علمی، ادبی و تنقیدی کتابیں شائع کی جاتی ہیں اور اس کی منظوری سے اب تک گراں قدر کتابیں شائع کی جاچکی ہیں

نئی دہلی: اردو کی اہم کتابوں کی اشاعت کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ لٹریچر پینل کونسل کا ایک اہم پینل ہے۔ جس کے تحت وقیع علمی، ادبی و تنقیدی کتابیں شائع کی جاتی ہیں اور اس کی منظوری سے اب تک گراں قدر کتابیں شائع کی جاچکی ہیں۔ یہ بات انہوں نے صدر دفتر میں لٹریچر پینل کی منعقدہ میٹنگ میں کہی۔

میٹنگ میں شرکا کا استقبال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل وقفے کے بعد قومی اردو کونسل میں آپ جیسے اہل علم و فضل کے اجتماع سے دلی مسرت ہو رہی ہے۔ کورونا کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد کونسل کی تمام سرگرمیاں حسبِ سابق آف لائن شروع ہوچکی ہیں، یہ میٹنگ بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔

متعدد نئے اشاعتی منصوبے

انھوں نے کہا کہ کونسل کے پیش نظر اردو زبان کی ہمہ جہت ترقی ہے اور اس کے لیے ہم آپ حضرات کی تجاویز اور مشوروں کا دل سے استقبال کرتے ہیں اور انھیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں پینل کی سابقہ میٹنگ میں پیش کردہ تجاویز کی تصدیق اور اس کے تحت چلنے والے مختلف پروجیکٹس پر غور و خوض کیا گیا۔ ساتھ ہی متعدد نئے اشاعتی منصوبے بھی زیر بحث آئے۔

اس دوران میٹنگ کے شرکا نے اپنی تجاویز پیش کیں، جن پر گفتگو کے ساتھ انھیں روبعمل لانے پر زور دیا گیا۔ اس میٹنگ میں پینل کے تحت جاری اشاعتی منصوبوں پر گفتگو کے علاوہ شرکا نے کہا کہ اردو زبان میں ہندوستان کی دوسری علاقائی زبانوں کے شاہکار ادب کے ترجمے، اسی طرح اردو کے نمائندہ ادبی شہ پاروں کو دوسری علاقائی زبانوں میں منتقل کرنے کے سلسلے میں ایک منظم منصوبہ بندی کی جائے اور مختلف زبانوں اور ان کے قارئین کو باہم مربوط کرنے کے لیے کونسل کے زیر اہتمام اس منصوبے پر عمل کیا جائے۔

اردو کے کلاسیکی و نصابی ناولوں کی اشاعت کی تجویز بھی منظور

ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد اور میٹنگ کے چیئر مین پروفیسر مظفر علی شہ میری نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مفید تجویز ہے اور اس سلسلے میں ضروری اقدام کیا جائے گا۔ اسی طرح اس میٹنگ میں اردو کے کلاسیکی و نصابی ناولوں کی کونسل کے زیر اہتمام اشاعت کی تجویز بھی منظور کی گئی۔ اس کے تحت طلبہ کی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کلاسیکی و نصابی ناولوں کو از سر نو شائع کیا جائے گا، تاکہ یہ کتابیں ان تک بہ آسانی پہنچائی جاسکیں۔

اس میٹنگ کی صدارت پروفیسر مظفر علی شہ میری نے کی۔ اس کے دیگر شرکا میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر قاضی جمال حسین، ڈاکٹر نریش، پروفیسر قاضی حبیب احمد، پروفیسر شبنم حمید، ڈاکٹر قدسیہ قریشی اور ڈاکٹر نکولن کنڈوتھ ولپل کے علاوہ کونسل سے ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر) اور محمد انصر (ریسرچ اسسٹنٹ) وغیرہ موجود رہے۔

ممتا بنرجی نے بنگال کابینہ میں کی توسیع

0
ممتا بنرجی نے بنگال کابینہ میں کی توسیع
ممتا بنرجی نے بنگال کابینہ میں کی توسیع

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے 2021 میں تیسری بار ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد پہلی بار اپنی کابینہ میں توسیع کی

کولکتہ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہونے والے سابق مرکزی وزیر بابل سپریو کو بدھ کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنی کابینہ میں شامل کیا۔

محترمہ بنرجی نے بدھ کو 2021 میں تیسری بار ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد پہلی بار اپنی کابینہ میں توسیع کی۔ مسٹر سپریو، پارتھ بھومک، سنیہاشیش چکرورتی، ادیان گوہا، پردیپ مجمدار (وزیر انچارج) اور تاجمل حسین، ستیہ جیت برمن، بلاپاو مجمدار اور بیرباہا ہنسدا کو وزیر بنایا گیا ہے۔

قائم مقام گورنر ایل گنیشن نے راج بھون میں ایک تقریب میں نئے وزراء کو عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ مسٹر سپریو، مسٹر گوہا، مسٹر مجمدار، مسٹر چکرورتی اور مسٹر بھومک نے وزیر انچارج کے طورپر اور وزیر مملکت (آزادانہ چارج) کے طور پر بیرباہا ہنسدا اور بپلب رے چودھری نے حلف لیا۔ مسٹر ہنسدا کو چھوڑ کر تمام نئے چہرے ہیں۔

مسٹر حسین اور مسٹر برمن نے وزیر مملکت کے طور پر حلف لیا۔

محترمہ بنرجی نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس وقت کئی محکمے وزیر کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ مسٹر مکھرجی اور سادھن پانڈے کا انتقال ہو گیا ہے۔ مسٹر پارتھ چٹرجی کو حال ہی میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے گرفتار کیا ہے، انہیں وزیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مسٹر سپریو نے مرکزی وزیر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔

نائب صدر جمہوریہ نے لال قلعہ سے اراکین پارلیمنٹ کی ‘ہر گھر ترنگا’ بائیک ریلی کو جھنڈی دکھائی

0
نائب صدر جمہوریہ نے لال قلعہ سے اراکین پارلیمنٹ کی 'ہر گھر ترنگا' بائیک ریلی کو جھنڈی دکھائی
نائب صدر جمہوریہ نے لال قلعہ سے اراکین پارلیمنٹ کی 'ہر گھر ترنگا' بائیک ریلی کو جھنڈی دکھائی

لال قلعہ سے وجے چوک تک اراکین پارلیمنٹ کی ‘ہر گھر ترنگا’ بائیک ریلی کو جھنڈی دکھاتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یوم آزادی کی تقریبات ان بے شمار قربانیوں کی یاددہانی کرتی ہیں جو ہمارے آزادی پسندوں نے نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف جدوجہد میں دی تھیں

نئی دہلی: نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے بدھ کو اراکین پارلیمنٹ اور دیگر منتخب نمائندوں سے ‘آزادی کے امرت مہوتسو’ کے پیغام اور قومی پرچم سے جذباتی لگاؤ ​​کو لوگوں تک پہنچانے کی اپیل کی۔

لال قلعہ سے وجے چوک تک اراکین پارلیمنٹ کی ‘ہر گھر ترنگا’ بائیک ریلی کو جھنڈی دکھاتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یوم آزادی کی تقریبات ان بے شمار قربانیوں کی یاددہانی کرتی ہیں جو ہمارے آزادی پسندوں نے نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف جدوجہد میں دی تھیں۔ انہوں نے جدوجہد آزادی پر بھی زور دیا کہ وہ بہادری اور سماجی ہم آہنگی کی داستانیں سنائیں۔ انہوں نے کہا، "ہم فخر کے ساتھ اپنا قومی پرچم لہراتے ہیں، جو کہ اتحاد، ہم آہنگی اور عالمگیر بھائی چارے کی اپنی قومی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔”

اس موقع پر مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل، پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی، وزیر ثقافت جی۔ کشن ریڈی، خواتین اور اطفال کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی، امور نوجوانان اور کھیل کے وزیر انوراگ ٹھاکر، پارلیمانی امور اور ثقافت کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال، وزیر مملکت برائے امور خارجہ میناکشی لیکھی اور وی مرلی دھرن سمیت ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اسٹاک مارکیٹ چھ ماہ بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کی خریداری کی وجہ سے گلزار

0
اسٹاک مارکیٹ چھ ماہ بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کی خریداری کی وجہ سے گلزار
اسٹاک مارکیٹ چھ ماہ بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کی خریداری کی وجہ سے گلزار

سینسیکس 214.17 پوائنٹس بڑھ کر 58350.53 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج نفٹی 42.70 پوائنٹس بڑھ کر 17388.15 پوائنٹس پر پہنچ گیا، تاہم، بڑی کمپنیوں کے برعکس بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں فروخت نے اسٹاک مارکیٹ کی رفتار کو سست کر دیا

ممبئی: جولائی میں چھ ماہ کے بعد ابھرتی ہوئی ایشیائی منڈیوں میں غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی) کی خرید کی وجہ سے گھریلو ایکویٹی مارکیٹ آج مسلسل چھٹے دن چڑھتی رہی۔

ہندوستان، جنوبی کوریا، ویتنام، تائیوان، فلپائن، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے اسٹاک ایکسچینج سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے جولائی میں 1.23 بلین ڈالر کی خریداری کی۔ یہ دسمبر 2021 کے بعد کسی ایک ماہ میں کی جانے والی خریداری ہے۔ اس سے قبل گزشتہ چھ ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ان منڈیوں سے مسلسل فروخت کی ہے۔

سینسیکس 214.17 پوائنٹس بڑھ کر 58350.53 پوائنٹس پر پہنچ گیا

اس کی وجہ سے بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 214.17 پوائنٹس بڑھ کر 58350.53 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 42.70 پوائنٹس بڑھ کر 17388.15 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم، بڑی کمپنیوں کے برعکس بی ایس ای کی چھوٹی اور درمیانی کمپنیوں میں فروخت نے اسٹاک مارکیٹ کی رفتار کو سست کر دیا۔ اس عرصے کے دوران مڈ کیپ 0.60 فیصد گر کر 24,388.12 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.28 فیصد گر کر 27,471.79 پوائنٹس پر آگیا۔

اس عرصے کے دوران بی ایس ای پر 3484 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 1371 میں خریداری جبکہ 1976 میں فروخت ہوئی، 137 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح این ایس ای پر 25 کمپنیوں میں اضافہ ہوا جبکہ دیگر 25 میں کمی کا رجحان رہا۔

بی ایس ای پر فائنانس، ٹیک اور آئی ٹی گروپس کے علاوہ باقی 16 گروپس پر سیلنگ کا غلبہ 1.28 فیصد تک بڑھ گیا۔ اس دوران ہیلتھ کیئر 0.65، انڈسٹریز 0.61، ٹیلی کام 1.26، آٹو 0.78، کیپٹل گڈز 0.82، میٹل 0.54 اور ریئلٹی گروپ 0.73 فیصد گرے۔

عالمی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان رہا۔ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 0.06، جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.27، جاپان کا نکی 0.53 اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.40 فیصد بڑھ گیا، جبکہ چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.71 فیصد کم ہوا۔

روپیہ 53 پیسے بڑھ کر پانچ ہفتے کی بلند ترین سطح پر

0
روپیہ 53 پیسے بڑھ کر پانچ ہفتے کی بلند ترین سطح پر
روپیہ 53 پیسے بڑھ کر پانچ ہفتے کی بلند ترین سطح پر

تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے بار بار وارننگ کے باوجود امریکی وزارت داخلہ کی ترجمان نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان پر امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

ممبئی: امریکہ اور چین کے درمیان تناؤ کی وجہ سے انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ میں آج روپیہ 53 پیسے بڑھ کر 79 روپے فی ڈالر کی پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح سے گر کر 78.53 روپے پر آگیا۔

گزشتہ کاروباری دن روپیہ 18 پیسے اضافے کے ساتھ 79.06 فی ڈالر پر تھا۔

ابتدائی تجارت میں روپیہ 10 پیسے کے اضافے کے ساتھ 78.96 فی ڈالر پر کھلا اور یہی دن کی کم ترین سطح بھی تھی۔ سیشن کے دوران فروخت کے زور پر روپیہ 78.49 روپے فی ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ بالآخر یہ پچھلے دن کے 79.06 روپے فی ڈالر کے مقابلے میں 53 پیسے بڑھ کر 78.53 روپے فی ڈالر ہو گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی جانب سے بار بار وارننگ کے باوجود امریکی وزارت داخلہ کی ترجمان نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان پر امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کی بڑی کرنسیوں کے مقابلے ڈالر پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے روپیہ مضبوط ہوا ہے۔

بہار میں اردو اسکولوں میں جمعہ کو ہفتہ وار چھٹی حق بجانب: عبد القیوم انصاری

0
بہار میں اردو اسکولوں میں جمعہ کو ہفتہ وار چھٹی حق بجانب: عبد القیوم انصاری
بہار میں اردو اسکولوں میں جمعہ کو ہفتہ وار چھٹی حق بجانب: عبد القیوم انصاری

مسٹر انصاری نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ بہار میں اردو اسکولوں میں جمعہ کو جو فرصت دی جارہی ہے بہار سرکار محکمہ تعلیم کے نوٹیفیکیشن نمبر 265 (vii) کے تحت ہے اس پر کسی طرح کا تنازع کھڑا کرنا درست نہیں ہے

پٹنہ: سرکاری اسکولوں میں جمعہ کو تعطیل کے سلسلے میں جاری تنازع کے درمیان عبدالقیوم انصاری سابق چیئرمین بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ و سکریٹری انجمن ترقی اردو بہار نے وزیر تعلیم حکومت بہار کو دو اگست کو مکتوب نمبر 251/22 بھیجا ہے۔

ساتھ ہی پریس بیان جاری کر کہا ہے کہ اردو اسکولوں میں جمعہ کو ہفتہ وار چھٹی بہار ایجوکیشن بورڈ کے نوٹیفیکیشن نمبر265 میں صاف کہا گیا ہے کہ اردو اسکولوں میں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوگی، جبکہ سنسکرت اسکولوں میں یہ چھٹی ہندی مہینہ کے 1،8،16 اور 22 کو ہوگی۔ دونوں پری پکچھوں پریتی پدا یوم اسٹمی کو ہوگی، اسی طرح کامیشور سنگھ سنسکرت یونیورسٹی میں ہندی مہینہ کے مطابق اتوار کے بجائے دوسرے دن چھٹی دی جاتی ہے، اسی طرح اردو اسکولوں میں جمعہ کے دن جو چھٹی دی جارہی ہے وہ قانونی طور پر درست ہے۔

vii)not.) 265(iiv)(1) the number of holidays given in this rule does not include Sunday or ٖFriday in the case of school of intendent for Muhammadan and the first 8th 16th and 23rd to the hindi months (in the case of primary secondary schools.

govenment notification no- 836 dated the 5th July 1930)

اس لئے مسٹر انصاری نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ بہار میں اردو اسکولوں میں جمعہ کو جو فرصت دی جارہی ہے بہار سرکار محکمہ تعلیم کے نوٹیفیکیشن نمبر 265 (vii) کے تحت ہے اس پر کسی طرح کا تنازع کھڑا کرنا درست نہیں ہے۔

مسٹر انصاری نے وزیر تعلیم سے گزارش کی ہے کہ اس سلسلے میں سرکاری طور پر نوٹیفیکیشن جاری کر اس تنازع کو ختم کیا جائے۔

اردو اسکولوں میں جمعہ کو تعطیل غلط نہیں: کسواہا

جمعہ کے فرصت کے سلسلے میں جنتادل کے پارٹی پارلیا منٹری بورڈ چیئرمین مسٹر اوپندر کسواہا جی نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ جمعہ کے دن فرصت کے سلسلے میں جو لوگ تنازع کھڑا کررہے ہیں وہ صحیح نہیں ہے۔ سنسکرت بورڈ اور سنسکرت یونیورسٹی میں بھی ہندی کیلنڈر کے مطابق فرصت دی جارہی ہے اس لئے اردو اسکولوں میں اگر جمعہ کو فرصت دی جارہی ہے تو وہ غلط نہیں ہے۔

مسٹر انصاری نے کہا کہ بہار میں نتیش کمار وزیر اعلی بہار کی قیادت میں حکومت چل رہی ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو عزت ملی ہے، اور سب کے ساتھ ترقی کا جو نعرہ ہے جو نتیش کمار نے دیا ہے اس پر سوفیصد عمل درآمد ہورہا ہے، تمام مذاہب کے لوگوں کو امن و سکون سے رہنے کا موقع ملا ہے، زندگی کے تمام شعبوں میں لوگوں کو ترقی کرنے کے مواقع ملے ہیں۔

حجاب تنازعہ: سپریم کورٹ سماعت کے لیے بینچ تشکیل دے گی

0
حجاب تنازعہ: سپریم کورٹ سماعت کے لیے بینچ تشکیل دے گی
حجاب تنازعہ: سپریم کورٹ سماعت کے لیے بینچ تشکیل دے گی

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این۔ وی رمنا کی سربراہی والی بنچ نے خصوصی تذکرہ کے دوران سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑہ کی عرضیوں کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس معاملے میں ایک بنچ تشکیل دی جائے گی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ وہ حجاب تنازعہ کیس میں کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے لیے ایک بنچ تشکیل دے گی۔

ہائی کورٹ نے اپنے 15 مارچ کے فیصلے میں ریاست کے پری یونیورسٹی کالجوں میں حجاب پہننے پر پابندی لگانے کے تعلیمی اداروں کے حق کو برقرار رکھا تھا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این۔ وی رمنا کی سربراہی والی بنچ نے خصوصی تذکرہ کے دوران سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑہ کی عرضیوں کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس معاملے میں ایک بنچ تشکیل دی جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں بنچ بناؤں گا۔ ججوں میں سے ایک کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔”

سینئر وکیل محترمہ اروڑہ نے کہا کہ درخواستیں مارچ میں دائر کی گئی تھیں۔ اس لیے اس معاملے پر سماعت کی تاریخ جلد طے کی جائے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جج صحت مند ہوتے تو معاملہ سنا جاتا۔

13 جولائی کو ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے حجاب سے متعلق درخواستوں پر فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ تب چیف جسٹس نے کہا تھا کہ یہ معاملہ اگلے ہفتے کسی وقت درج کیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ کئی بار اس معاملے پر جلد سماعت کی درخواست کو ٹھکرا چکی ہے۔

کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والے عرضی گزاروں نے دعویٰ کیا کہ حجاب پہننا آئین کے تحت ضمانت، اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حقوق کے تحت محفوظ ہے۔

کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس (ریٹائرڈ) ریتو راج اوستھی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 15 مارچ کو پری کالج کی کلاسوں میں حجاب پہننے پر پابندی کو برقرار رکھا تھا۔

مہاراشٹر: شیوسینا نے راوت کی گرفتاری کی مخالفت کی

0

شیوسینا کے کارکنوں نے سنجے راوت کی گرفتاری کے خلاف پیر کو شہر کے کرانتی چوک پر دھرنا دیا

اورنگ آباد: مہاراشٹر کے اورنگ آباد ضلع میں شیوسینا کے کارکنوں نے پی ایم ایل اے کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ پارٹی کے ترجمان اور ایم پی سنجے راوت کی گرفتاری کے خلاف پیر کو شہر کے کرانتی چوک پر دھرنا دیا۔

پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق ایم پی چندرکانت کھرے اور ضلع صدر اور کارپوریشن کونسلر امباداس دانوے کی قیادت میں پارٹی کارکنان کرانتی چوک پر جمع ہوئے اور مظاہرہ کیا۔ مسٹر کھرے نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں اپوزیشن کو ختم کرنے کے لئے ان کے خلاف مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

مسٹر کھرے نے کہا کہ ریاست کے عوام آج بھی شیوسینا صدر ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔

مسٹر دانوے نے کہا کہ مسٹر راوت نے ہمیشہ بی جے پی حکومت کی ناکامی پر بات کی ہے اور یہ کارروائی ان کی آواز کو دبانے کے لیے کی گئی ہے۔