منگل, اکتوبر 6, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 210

ہندوستان میں حجاب اور ایران میں بے حجابی کی جد و جہد ‘حق انتخاب’ کے آئینے میں

0
ہندوستان میں حجاب اور ایران میں بے حجابی کی جد و جہد 'حق انتخاب' کے آئینے میں
ہندوستان میں حجاب اور ایران میں بے حجابی کی جد و جہد 'حق انتخاب' کے آئینے میں

ایران میں بے حجابی کی مہم ہو یا ہندوستان میں حجاب کی حفاظت کی لڑائی، دونوں جگہ معاملہ ’رائٹ ٹو چوائس‘اور آزادی کا ہے

ڈاکٹر یامین انصاری

یہ اتفاق ہے کہ ہندوستان اور ایران میں ایک ہی مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مسئلہ ہے خواتین کے ذریعہ حجاب کے پہننے اور نہیں پہننے کا۔ مگر فرق یہ ہے کہ دونوں جگہ اس مسئلہ پر دو متضاد مہم چل رہی ہیں۔ ایران کی خواتین اس بات کی لڑائی لڑ رہی ہیں کہ انہیں شخصی آزادی ملنی چاہئے۔ انہیں کیا پہننا ہے اور کیا نہیں پہننا، یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے۔

وہیں ہندوستانی خواتین کی جد و جہد بھی یہی ہے کہ انھیں قانون کے مطابق اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی اجازت دی جائے۔ اس طرح دونوں ملکوں کی خواتین کی لڑائی یکساں ہے۔ اگر ایران میں ’گشت ارشاد‘ یعنی اخلاقی پولیس خواتین کے لباس کی پہرے دار بنی ہے، تو وہیں ہندوستان کے ’گشتی دستے‘ مسلم خواتین کو حجاب اتارنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اس مسئلہ پر ایک اور طبقہ بھی ہے جو ایران کی مثال تو دیتا ہے، مگر ہندوستان کے تعلق سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اس طبقہ کو ایرانی خواتین کی شخصی آزادی تو نظر آتی ہے، لیکن ہندوستانی خواتین کی صدائیں سنائی نہیں دیتیں۔ اگر ہم ایران کی خواتین کی ’آزادی‘ کی حمایت کر سکتے ہیں تو پھر ہندوستانی خواتین کو اس حق سے کیوں محروم رکھنا چاہتے ہیں۔

یونیفارم کے نام پر مسلم لڑکیوں کو حجاب اتارنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے؟

اگر ہم ایران کی ’اخلاقی پولیس‘ کی تنقید کر سکتے ہیں (جبکہ وہاں کا مذہبی اور اخلاقی معاملہ ہے)، تو پھر ہندوستا ن میں پیدا ہونے والے خود ساختہ ’گشتی دستوں‘ کو کیوں نہیں روکا جانا چاہئے۔ اگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایران میں اسلام کے نام پر حجاب پہننے کو مجبور کیا جا رہا ہے تو کیا یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ ہندوستان میں اسکولوں میں یونیفارم کے نام پر مسلم لڑکیوں کو حجاب اتارنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے؟

ہندوستان میں چونکہ معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہے، (جبکہ نہیں لے جانا چاہئے تھا) اب عدالت ہی فیصلہ کرے گی کہ آئین کی پاسداری رکھتے ہوئے کیسے خواتین کی شخصی آزادی کو برقرار رکھا جائے۔ کیوں کہ یونیفارم کے نام پر اگر مساوات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے تو تنوع بھی ہندوستان کی اصل روح ہے۔ ملک کے آئین نے ہر شہری کو یہ بنیادی حق بھی دیا ہے کہ وہ کیا پہنے اور کیا کھائے، پھر کسی کو اس میں مداخلت کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟ ہندوستان میں حجاب کے مسئلہ پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس میں سیاسی محرکات شامل ہیں۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو اس مہم میں بیرونی کے ساتھ داخلی عوامل بھی کار فرما ہیں۔

ہندوستان میں حجاب تنازعہ کے پیچھے سیاسی عوامل کارفرما

ایران ہو یا ہندوستان، حجاب تنازعہ کے تناظر میں خود احتسابی کی بھی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جب بھی کسی ملک میں کوئی مسئلہ یا داخلی انتشار شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے کچھ طاقتیں اپنا کام کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ طاقتیں اندرونی بھی ہو سکتی ہیں اور بیرونی بھی۔ ہندوستان کے حوالے سے اگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں سیاسی عوامل کارفرما ہیں، تو ایران کے تعلق سے بھی بیرونی سازشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا اس لئے کیوںکہ ایران کے تعلق سے امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک سمیت دنیا کی دیگر بڑی طاقتوں کا کردار سب کے سامنے ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے ایران ان طاقتوں کے نشانے پر ہے۔ ان کے ذریعہ وقفہ وقفہ سے ایران کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ کبھی اقتدار کی تبدیلی کی کوششیں کی گئی تو کبھی جنگوں میں الجھا دیا گیا۔

اسلامو فوبیا

اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ 11؍ ستمبر 2001ء کو امریکہ پر حملے کے بعد پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ایک بیج بویا گیا، جو ’اسلامو فوبیا‘ کا باعث بنا۔ امریکہ کی نام نہاد ’دہشت گردی مخالف جنگ‘ نے مسلمانوں کے خلاف تعصبات کو جنم دیا۔ امریکی کارروائی کے سبب پوری دنیا کے مسلمانوں کو دشمنی، بداعتمادی، ناانصافی اور شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا۔ حجاب تنازعہ میں بھی کہیں نہ کہیں اسی ’اسلاموفوبیا‘ کا اثر نظر آتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایران میں اتنے بڑے پیمانے پر یہ احتجاج اچانک کیسے شروع ہو گئے؟

مہسا امینی کی موت سے پورے ایران میں ایک طوفان برپا

در اصل ایران میں حالیہ احتجاج ایک 22؍ سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع ہوا، جو 13؍ ستمبر کو تہران میں ’اخلاقی پولیس‘ کی طرف سے حراست میں لیے جانے کے بعد کومہ میں چلی گئی تھی۔ اسے مبینہ طور پر خواتین کو حجاب یا اسکارف سے اپنے بال ڈھنکنے کا پابند کرنے والے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کا الزام تھا کہ اس نے بے پردگی کے ساتھ حجاب پہن رکھا تھا۔ مہسا امینی کی مشتبہ حالات میں موت نے پورے ایران میں ایک طوفان برپا کر دیا ہے، جس کا آغاز اس کے آبائی شہر کردستان سے ہوا۔

کہا جا رہا ہے کہ امینی ایک ایسے خطہ سے تعلق رکھتی تھی، جو ایران کی حکومت کی تعظیم نہیں کرتا ہے، یہاں شدید غم و غصّہ دیکھنے کو ملا۔ ایران کے کرد علاقوں میں بہت پرانی انقلابی روایات رہی ہیں، کئی دہائیوں سے حکومت کے تعصب اور جبر کا نشانہ رہے ہیں۔ احتجاج کا آغاز اگرچہ کرد علاقوں سے ہوا، مگر اس کے بعد وہ ملک کے 30؍ سے زائد شہروں تک پھیل گیا، جن میں تہران، مشہد، اصفہان، کرج، تبریز اور تعلیم کا مرکز قم شہر بھی شامل ہے۔

مہسا امینی کی موت کے خلاف احتجاج

یہ سلسلہ پولیس تشدد کے خلاف ردعمل کے طور پر شروع ہوا تھا، لیکن جلد ہی یہ حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گیا اور ریاست کے خلاف غم و غصّے کا اظہار کیا جانے لگا۔ جو ایرانی خواتین اپنے آپ کو جبری حجاب کا شکار مانتی ہیں، مہسا امینی کی موت کے خلاف احتجاج میں کیمرے کے سامنے اپنے بال کاٹتی نظر آئیں۔ جن کی تقلید میں بیرون ملک کی مشہور سیاست دان، اداکارائیں اور ٹی وی اینکرز نے بھی اپنے بال کاٹ لئے۔ یہاں تک کہ کچھ خواتین نے اپنے حجاب کو آگ کے حوالے کر دیا۔

خاص بات یہ ہے کہ موجودہ مظاہروں کی قیادت خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔ ان مظاہروں نے ایران کے شہری علاقوں کے ساتھ دیہات کو بھی اپنی زد میں لے لیا ہے اور ایران کی بہت سی سرکردہ شخصیات نے، جن میں حقوق انسانی اور سماجی کارکن، فن کار، تاجر اور دیگر بااثر شخصیات شامل ہیں، ان مظاہروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور انہوں نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعہ عوامی سطح پر اس کے بارے میں بات کی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان مظاہروں میں لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ دائروں سے باہر نکل کر معاشرے کے تمام طبقات شامل ہو گئے۔

ایرانی خواتین کے مظاہرے حکومت کی تبدیلی کا پیش خیمہ

یہ مظاہرے بظاہر عوام کا ایک بےساختہ ردّ عمل ہیں اور ان کی قیادت کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ایک غیر ملکی ایجنسی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق روز بروز بڑھتے ہوئے مظاہرے اور عوام کے مزاج میں تبدیلی موجودہ ایرانی حکومت کے لیے ایک ایسا نیا خطرہ ہے، جو 2009ء کے بعد اس وقت سے نظر نہیں آیا تھا، جب ’گرین موومنٹ‘ میں لاکھوں لوگ سڑک پر آگئے تھے۔ ’دی اکانومسٹ‘ نے بھی قیاس آرائی کی ہے کہ ایرانی خواتین کی ’ولولہ انگیز بہادری‘ اور وہاں ہونے والے مظاہرے حکومت کی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔

بہر حال، جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو ہر باشعور مسلم مرد اور خاتون اس بات سے واقف ہے کہ اسلام میں پردہ کی خصوصی اہمیت بیان کی گئی ہے اور مرد و زن کو ستر پوشی کے ساتھ شرم و حیا کو بھی مقدم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حجاب خواتین کی ترقی میں رکاوٹ نہیں

یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ عالمی سطح پر بے شمار مسلم خواتین ایسی ہیں جو با حجاب رہتے ہوئے حقوق نسواں کی کارکن ہیں۔ وہ اپنے اور دوسری خواتین کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔ مختلف شعبہائے زندگی میں بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاب نہ تو حقوق نسواں پر قدغن لگاتا ہے اور نہ ہی یہ خواتین کی ترقی و خوشحالی یا زمانہ کے ساتھ چلنے میں کوئی رکاوٹ ڈالتا ہے۔ لہذا اگر حجاب کے ذریعہ خواتین کے حقوق کی کوئی پامالی نہیں ہو رہی ہے تو پھر کیوں نہ انھیں ’رائٹ ٹو چوائس‘ یا آزادی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے دی جائے۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

کووڈ-19 لاک ڈاؤن میں اسکولوں کی بند ہونے سے ہونے والے نقصان کی تلافی ضروری ہے: سیتا رمن

0
کووڈ-19 لاک ڈاؤن میں اسکولوں کی بند ہونے سے ہونے والے نقصان کی تلافی ضروری ہے: سیتا رمن
کووڈ-19 لاک ڈاؤن میں اسکولوں کی بند ہونے سے ہونے والے نقصان کی تلافی ضروری ہے: سیتا رمن

محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ کووڈ-19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکولوں کی بند ہونے سے سیکھنے کے نقصان کی تلافی اور ہنر کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے

واشنگٹن: خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ کووڈ-19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسکولوں کی بند ہونے کی وجہ سے سیکھنے کے نقصان کی تلافی کے لیے ہنر کو بہتر بنانے اور سیکھنے کے نقصان کی تلافی پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔

محترمہ سیتا رمن نے کل دیر شام یہاں عالمی بینک کی ترقیاتی کمیٹی کی عشائیہ میٹنگ کے دوران "لرننگ لاسیس، وہاٹ ٹو ڈو اباؤٹ دی ہیوی کوسٹ آف کووڈ آن چلڈرن، یوتھ اینڈ فیوچر پروڈیکٹیویٹی‘‘ کے عنوان سے ایک مقالے پر بحث میں حصہ لیا۔ ہندوستان سے متعلق تجربات کا اشتراک کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کووڈ 19 کی وبا کے اثرات سے سیکھنے کے نقصان کے تناظر میں ہندوستان کی طرف سے کئے گئے دو اقدامات کے بارے میں بتایا۔

قومی اوسط کارکردگی میں نو فیصد کمی

انہوں نے کہا کہ نومبر 2021 میں ہندوستان نے سیکھنے کی مہارت کا جائزہ لینے کے لیے کلاس تین، پانچ، سات اور دس کے 34 لاکھ طلباء کا احاطہ کیا تھا جس میں قومی کامیابی کا سروے (این اے ایس) کیا گیا تھا۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ این اے ایس 2017 کے مقابلے میں تقابلی درجات کے لیے قومی اوسط کارکردگی میں نو فیصد کمی آئی ہے۔

مارچ 2022 میں ہندوستان نے کلاس III کے طلباء کے لیے سیکھنے پر قومی سطح کا بنیادی سروے کیا۔ یہ سروے طالب علم کے حساب سے جائزوں کا دنیا کا سب سے بڑا نمونہ تھا اور ہندوستان میں پہلی بار 20 زبانوں میں عالمی مہارت کے فریم ورک کی بنیاد پر عددی اور فہم کے معیارات پر کیا گیا تھا جسے ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ دونوں کوششیں نہ صرف مسئلے کی شدت کا ایک مستند اندازہ فراہم کرتی ہیں بلکہ انتظامی اقدامات کے لیے ثبوت پر مبنی منصوبہ بھی تجویز کرتی ہیں۔ وزیر خزانہ نے یہ مثالیں عالمی بینک کے ساتھ شیئر کیں تاکہ وہ اس تجربے کو دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کر سکیں۔

سعودی ولی عہد کا یوکرین کی مدد کے لیے 400 ملین ڈالر کا اعلان

0
سعودی ولی عہد کا یوکرین کی مدد کے لیے 400 ملین ڈالر کا اعلان
سعودی ولی عہد کا یوکرین کی مدد کے لیے 400 ملین ڈالر کا اعلان

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان فون پر گفتگو ہوئی ہے، جس میں دو طرفہ امور اور حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا

کیف: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یوکرین کی مدد کے لیے 400 ملین ڈالر کی انسانی امداد کا اعلان کیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے ہفتے کے روز کیف کے لیے 400 ملین ڈالر کی انسانی امداد کا اعلان کیا ہے، ولئ عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے میں مدد دینے والے ہر اقدام کی حمایت کریں گے اور ثالثی کے لیے بھی تیار ہیں۔ سعودی ولئ عہد محمد بن سلمان اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان فون پر گفتگو ہوئی ہے، جس میں دو طرفہ امور اور حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یوکرین کے صدر نے ٹویٹ میں بتایا کہ ولئ عہد محمد بن سلمان سے انھوں نے یوکرین کی علاقائی خود مختاری کی حمایت میں مملکت کے مؤقف پر شکریہ ادا کیا۔

یوکرین کے صدر نے کہا کہ مزید جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے رابطے جاری رکھنے پر دونوں ممالک متفق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یوکرین کی مدد کے لیے 400 ملین ڈالر کے پیکج دینے کا اعلان کیا ہے۔

گوپال اٹالیا کی گرفتاری سے گجرات کی پٹیل برادری ناراض: کیجریوال

0
گوپال اٹالیا کی گرفتاری سے گجرات کی پٹیل برادری ناراض: کیجریوال
گوپال اٹالیا کی گرفتاری سے گجرات کی پٹیل برادری ناراض: کیجریوال

مسٹر کیجریوال نے ٹویٹ کر کے کہا کہ گوپال اٹالیا کی گرفتاری سے پورے گجرات کی پٹیل برادری میں شدید غم و غصہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پوری بھارتیہ جنتا پارٹی گوپال اٹالیا کے پیچھے کیوں ہے؟

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ان کی پارٹی کے گجرات ریاست کے کنوینر گوپال اٹالیا کی گرفتاری سے پوری ریاست کی پٹیل برادری میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

مسٹر کیجریوال نے ٹویٹ کر کے کہا کہ گوپال اٹالیا کی گرفتاری سے پورے گجرات کی پٹیل برادری میں شدید غم و غصہ ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پوری بھارتیہ جنتا پارٹی گوپال اٹالیا کے پیچھے کیوں ہے؟

اے اے پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی کی پٹیل برادری کو کچلنے، اس پر گولیاں برسانے اور فرضی مقدمات میں گرفتار کرکے جیل میں ڈالنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اگر ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والے گوپال اٹالیا سیاست میں آگے بڑھ رہے ہیں تو بی جے پی انہیں جیل بھیجنے کا ارادہ کیوں رکھتی ہے۔ گجرات کے پاٹیدار سماج میں ان کے خلاف ہونے والے مظالم اور فرضی کارروائی کی وجہ سے کافی غصہ ہے۔ پاٹیدار برادری انتقام کے جذبے سے کی گئی اس کارروائی کے خلاف متحد ہو کر کام کرے گی اور انتخابات میں بی جے پی کو دھول چٹانے کا کام کرے گی۔

گجرات کے اندر پٹیل سماج کے خلاف نفرت

انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی گجرات کے اندر پٹیل سماج کے خلاف نفرت سے بھری ہوئی ہے۔ پٹیل برادری کی توہین کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ جب بھی موقع ملا بی جے پی نے پٹیل برادری کی توہین کی۔ آج بی جے پی گجرات میں اپنی شکست کے خوف سے اس قدر مشتعل ہو چکی ہے کہ پٹیل سماج کے نوجوان اور مقبول لیڈر گوپال اٹالیا کے خلاف ہر روز کوئی نہ کوئی جعلی ویڈیو سامنے لارہی ہے۔ پٹیل سماج کے تئیں نفرت سے بھری بی جے پی نے آج گوپال اٹالیا کو گرفتار کرنے کا کام انجام دیا ہے۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ میں پاٹیدار برادری سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی کس جرم کا بدلہ لے رہی ہے۔ بی جے پی پٹیل سماج سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہے؟ اگر ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والے گوپال اٹالیا سیاست میں آگے بڑھ رہے ہیں تو بی جے پی ان کی ٹانگ کھینچ کر جیل بھیجنے پر کیوں تلی ہوئی ہے؟ بی جے پی پاٹیدار سماج سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہے؟ آج پورا گجرات گوپال اٹالیا کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا گواہ ہے۔ آج گجرات کا پورا پاٹیدار سماج گوپال اٹالیا پر ہونے والے مظالم اور فرضی کارروائیوں کو دیکھ رہا ہے۔ گجرات کا پورا پاٹیدار سماج انتقام کے جذبے سے کی گئی کارروائی کے خلاف متحد ہو کر اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو خاک میں ملانے کا کام کرے گا۔ پورا پاٹیدار سماج بی جے پی کو جواب دینے کے لیے کام کرے گا۔

یوکرین تنازع کے سلسلے میں روس کو ترک صدر کی جانب سے ثالثی کی امید

0
یوکرین تنازع کے سلسلے میں روس کو ترک صدر کی جانب سے ثالثی کی امید
یوکرین تنازع کے سلسلے میں روس کو ترک صدر کی جانب سے ثالثی کی امید

ترکی جو نیٹو کا رکن ہے، وہ یوکرین تنازع کے دوران غیر جانبدار رہا ہے اور اس کے اپنے دونوں پڑوسیوں روس اور یوکرین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جب کہ وہ ماسکو پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں میں بھی شامل نہیں ہوا

ماسکو: روس کی اعلیٰ حکومتی شخصیت نے کہا ہے کہ ماسکو سمجھتا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان یوکرین تنازع کے سلسلے میں یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کے لیے قزاقستان میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں باضابطہ طور پر تعاون کی پیشکش کریں گے۔

ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق روس کی خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترک رہنما اپنی ثالثی کی پیشکش کر رہے ہیں، اگر کوئی بات چیت اور مذاکرات ہوں گے تو امکان ہے کہ وہ ان کی سرزمین پر استنبول یا انقرہ میں ہوں گے۔ مشیر خارجہ پالیسی نے مزید کہا کہ جمعرات کے روز قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ولادیمیر پوتن کے ساتھ بات چیت کے دوران شاید رجب طیب اردوان سرکاری طور پر کوئی تجویز دیں گے۔

ترکی یوکرین تنازع کے دوران غیر جانبدار رہا

ترکی جو نیٹو کا رکن ہے، وہ یوکرین تنازع کے دوران غیر جانبدار رہا ہے اور اس کے اپنے دونوں پڑوسیوں روس اور یوکرین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جب کہ وہ ماسکو پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں میں بھی شامل نہیں ہوا۔ اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے کہا کہ اصولی طور پر ترکی مغربی ممالک کی جانب سے عائد کردہ غیر قانونی پابندیوں میں شامل نہیں ہوا، ترکی کا یہ موقف تجارتی اور معاشی تعاون کی توسیع کا اضافی پہلو اور موقع فراہم کرتا ہے۔

ترکی اب تک 2 مرتبہ ماسکو اور کیف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی کرچکا ہے جس میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے یوکرینی ہم منصب کے درمیان ہونے والی بالمشافہ ملاقات بھی شامل ہے۔ جس کے دوران ماسکو کی جانب سے یوکرین میں فوج بھیجنے کے بعد پہلی مرتبہ اعلیٰ سطح پر بات چیت ہوئی تھی۔ تاہم اس کے بعد سے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ کریملن کی جانب سے حال ہی میں 4 علاقوں کو ضم کرنے کے بعد وہ ولادیمیر پوتن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کریں گے۔

ریلوے ملازمین کو بونس دینے کی کابینہ کی منظوری

0
ریلوے ملازمین کو بونس دینے کی کابینہ کی منظوری
ریلوے ملازمین کو بونس دینے کی کابینہ کی منظوری

پی ایل بی کی ادائیگی کا مذکورہ بالا فیصلہ کووڈ-19 کے بعد کے چیلنجوں سے پیدا ہونے والی منفی مالی صورتحال کے باوجود کیا گیا ہے

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے آج مالی سال 2021-22 کے لیے ریلوے ملازمین کو پیداواری صلاحیت پر مبنی بونس کی ادائیگی کی منظوری دے دی۔

ریلوے کے اہل ملازمین کو ہر سال دسہرہ پوجا کی تعطیلات سے پہلے بونس ادا کیا جاتا ہے اس سال بھی تقریباً 11.27 لاکھ نان گزیٹیڈ ریلوے ملازمین کو 78 دنوں کی تنخواہ کے برابر بونس کی رقم ادا کی گئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ رقم جو فی اہل ریلوے ملازم کو 78 دنوں کے لیے دی جا سکتی ہے وہ 17 ہزار 951 روپے ہے۔ مذکورہ رقم مختلف زمروں میں ادا کی گئی ہے۔ جیسے کہ ٹریک مینٹینر، ڈرائیور اور گارڈ، اسٹیشن ماسٹر، سپروائزر، ٹیکنیشن، ٹیکنیشن ہیلپر، کنٹرولر، پوائنٹس مین، منسٹریل اسٹاف اور دیگر گروپ ‘سی’ کے عملہ ہیں۔

ریلوے ملازمین کو 78 دنوں کے لیے پیداواری بنیاد پر بونس کی ادائیگی کے لیے مالی اخراجات کا تخمینہ 1832.09 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ پی ایل بی کی ادائیگی کا مذکورہ بالا فیصلہ کووڈ-19 کے بعد کے چیلنجوں سے پیدا ہونے والی منفی مالی صورتحال کے باوجود کیا گیا ہے۔

مانک بھٹاچاریہ کے دور میں 58 ہزار غیر قانونی تقرریاں ہوئی ہیں: ای ڈی

0
مانک بھٹاچاریہ کے دور میں 58 ہزار غیر قانونی تقرریاں ہوئی ہیں: ای ڈی
مانک بھٹاچاریہ کے دور میں 58 ہزار غیر قانونی تقرریاں ہوئی ہیں: ای ڈی

ای ڈی ذرائع کے مطابق مانک بھٹاچاریہ ٹیچر بھرتی گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ ہیں۔ پرائمری ایجوکیشن بورڈ کے صدر کی حیثیت سے ان کے دور میں تقریباً 58000 پرائمری اساتذہ کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا ہے

کلکتہ: پرائمری ایجوکیشن بورڈ کے صدر کے طور پر مانک بھٹاچاریہ کے دور میں تقریباً 58,000 پرائمری اساتذہ کو غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ عدالت میں مانک کے خلاف ای ڈی کی سنسنی خیز شکایت کی ہے۔ ای ڈی ذرائع کے مطابق مانک بھٹاچاریہ ٹیچر بھرتی گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ ہیں۔ پرائمری ایجوکیشن بورڈ کے صدر کی حیثیت سے ان کے دور میں تقریباً 58000 پرائمری اساتذہ کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا ہے۔

یہ غیر قانونی بھرتی 2011 سے دس سال سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ ای ڈی ذرائع کے مطابق مانک کے گھر کی تلاشی لینے کے بعد مختلف ڈیجیٹل دستاویزات اور اس سے متعلقہ تمام دستاویزات برآمد کر لیے گئے ہیں۔ منی لانڈرنگ میں مانک بھٹاچاریہ کا ملوث ہونا ان تمام ڈیجیٹل دستاویزات میں واضح ہے۔ ای ڈی نے دعویٰ کیا کہ پیسے کے عوض نااہل امیدواروں کو نوکریاں دینے میں مانک کا رول واضح ہے۔

تمام بھرتی گھوٹالے میں مانک کی براہ راست شمولیت

ای ڈی ذرائع کے مطابق مانک بھٹاچاریہ نے اس رقم سے جائیداد خریدی جو مانک کو پرائمری اساتذہ کی بھرتی کے لیے غیر قانونی طور پر ملی تھی۔ وہ اس کرپشن کی کنجی ہے۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ تمام بھرتی گھوٹالے میں مانک کی براہ راست شمولیت ہے۔ ای ڈی کا اب واحد مقصد اس رقم کی منی لانڈرنگ کا پتہ لگانا ہے جو مانک اور اس کے رشتہ داروں کو غیر قانونی ملازمت کے دوران مختلف کھاتوں میں گئے تھے۔

مانک بھٹاچاریہ سازشی ہے۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ اس بدعنوانی میں اس کا بڑا رول ہے۔ ای ڈی نے مانک پر پرائمری اساتذہ کی بھرتی کے لیے بھاری رقم لے کر غیر قانونی طور پر اساتذہ کی بھرتی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ مانک بھٹاچاریہ سے ای ڈی کی حراست میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ کیا ان اکاؤنٹس میں کالے دھن کو لانڈر کرنے کے لیے متعدد اکاؤنٹس کھولے گئے تھے؟ یہاں تک کہ رشتہ داروں کے متعدد کھاتوں کی بھی ای ڈی کی نگرانی کی جارہی ہے۔

قومی اردو کونسل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو زبان کے فروغ میں سرگرم: شیخ عقیل احمد

0
قومی اردو کونسل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو زبان کے فروغ میں سرگرم: شیخ عقیل احمد
قومی اردو کونسل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو زبان کے فروغ میں سرگرم: شیخ عقیل احمد

قومی اردو کونسل اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور اس کی رسائی کو وسیع کرنے کے اپنے عزائم پر کاربند ہے اور اس سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کر رہی ہے

نئی دہلی: قومی اردو کونسل اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور اس کی رسائی کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرنے کے اپنے عزائم پر کاربند ہے اور اس سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی کا بھی بھرپور استعمال کررہی ہے، جس کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے آج اپنے ایک بیان میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ کونسل جہاں ہر سال درسیات اور دیگر علمی، ادبی و تنقیدی موضوعات پر گراں قدر کتابیں اور چار مقبول و مشہور علمی و ادبی رسائل (سہ ماہی فکر و تحقیق، ماہنامہ اردو دنیا، ماہنامہ بچوں کی دنیا اور ماہنامہ خواتین دنیا) شائع کرتی اور فروغِ اردو کی مختلف اسکیمیں چلاتی ہے، وہیں ان مطبوعات کو آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی دستیاب کرایا جاتا ہے، جس سے ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر کے اہل اردو استفادہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حال ہی میں آئی آئی ٹی دہلی نے اردو او سی آر (Optical Character Recognition) پروجیکٹ میں کونسل کو بہ طور معاون شریک کیا ہے اور عنقریب اس سلسلے میں باضابطہ ایک معاہدے پر دستخط متوقع ہے۔ اسی طرح کونسل کے اردو لرننگ سافٹ ویئر کی تشکیلِ نو کی گئی ہے اور اس وقت اس سے اٹھائیس ملکوں کے چونتیس ہزار شائقینِ اردو فائدہ اٹھا رہے ہیں، ان ملکوں میں ہند و پاکستان کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، اسپین، ساؤتھ افریقہ، ناروے، نیدر لینڈ، آئرلینڈ، اٹلی، کنیڈا، برازیل، یو اے ای، میکسیکو، روس اور پرتگال وغیرہ جیسے ممالک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ای پب فارمیٹ میں پندرہ ہزار الفاظ پر مشتمل اردو-ہندی-انگریزی لغت تقریباً تیار ہے، جسے جلد ہی لائیو کردیا جائے گا۔

کونسل سے شائع ہونے والے رسائل کا پی ڈی ایف ورژن

مسٹر شیخ عقیل نے کہا کہ کونسل سے شائع ہونے والے رسائل کا پی ڈی ایف ورژن کونسل کی آفشیل ویب سائٹ پر پابندی سے ڈالا جاتا ہے، اس کے علاوہ ان میں شائع شدہ علمی، ادبی و تحقیقی مضامین تک طلبہ اور دیگر اہل علم کو بہ آسانی رسائی فراہم کرنے کے لیے /http://ncpulblog.blogspot.com کے نام سے کونسل کا ایک خوب صورت بلاگ بھی ہے، جس پر مذکورہ رسائل کے مضامین یونی کوڈ ورژن میں پابندی سے شائع کیے جاتے ہیں، ساتھ ہی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور یوٹیوب) پر کونسل کے پیجز/چینل بنے ہوئے ہیں، جہاں کونسل کی تازہ ترین سرگرمیوں سے متعلق آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے۔

انھوں نے تمام اہلِ اردو سے اپیل کی ہے کہ کونسل کے سوشل میڈیا پیجز سے جڑیں اور ان سے استفادہ کرنے کے ساتھ اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں اپنا کردار ادا کریں۔

دبئی کی سڑکوں پر اب نظر آئیں گی ڈرائیور لیس ٹیکسیاں

0
دبئی کی سڑکوں پر اب نظر آئیں گی ڈرائیور لیس ٹیکسیاں
دبئی کی سڑکوں پر اب نظر آئیں گی ڈرائیور لیس ٹیکسیاں

خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی میں روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے عہدیدار خالد العوضی کا کہنا ہے کہ جلد دبئی کی سڑکوں پر ڈرائیور لیس ٹیکسیاں نظر آئیں گی، ڈرائیور لیس ٹیکسیوں کا تجربہ آئندہ چند ہفتوں میں اور سال رواں کے اختتام سے قبل شروع کردیا جائے گا

ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں جلد ڈرائیور لیس ٹیکسیاں سڑکوں پر دکھائی دیں گی، بغیر ڈرائیور ٹیکسیوں کا تجربہ جمیرا ون زون سے کیا جائے گا۔

خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی میں روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے عہدیدار خالد العوضی کا کہنا ہے کہ جلد دبئی کی سڑکوں پر ڈرائیور لیس ٹیکسیاں نظر آئیں گی۔

خالد العوضی کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر خود کار 5 ٹیکسیاں تجرباتی طور پر چلائی جائیں گی، بغیر ڈرائیور ٹیکسیوں کا تجربہ جمیرا ون زون سے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیور لیس ٹیکسیوں کا تجربہ آئندہ چند ہفتوں میں اور سال رواں کے اختتام سے قبل شروع کردیا جائے گا۔

اتھارٹی الخیلج کمرشل زون اور سٹی سینٹر میں اسمارٹ گاڑیاں چلانے کے لیے میپ تیار کر رہی ہے، جمیرا ون زون کا اضافہ بھی اس میں ہوگا۔ یہ نقشے جولائی میں ہی تیار کرلیے گئے تھے۔العوضی نے جیٹیکس 2022 نمائش میں شرکت کے موقع پر کہا کہ اتھارٹی نے جیٹیکس کے اپنے اسٹال پر عوام کو دکھانے کے لیے خود کار ٹیکسی سجائی گئی ہے، یہ سان فرانسسکو میں زیر استعمال ان دسیوں ٹیکسیوں میں سے ایک ہے جو وہاں عام ہو چکی ہیں۔

اس طرح کی مزید 4 ٹیکسیاں لائی جائیں گی اور دبئی میں ان کا تجربہ ہوگا۔ العوضی کا کہنا تھا کہ جیٹیکس میں جو کروز ٹیکسی دکھائی جا رہی ہے وہ اسمارٹ گاڑی ہے اور یہ سان فرانسسکو میں 50 ہزار میل کا سفر طے کر چکی ہے، اس سے وہاں کے لوگ سفر کر چکے ہیں۔

اسٹاک مارکیٹ میں افراتفری، سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً 1.5 فیصد کی گراوٹ

0
اسٹاک مارکیٹ میں افراتفری، سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً 1.5 فیصد کی گراوٹ
اسٹاک مارکیٹ میں افراتفری، سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً 1.5 فیصد کی گراوٹ

عالمی سطح سے کمزور اشارے کے ساتھ ساتھ گھریلو سطح پر ہمہ جہت فروخت کے دباؤ میں اسٹاک مارکیٹ آج مسلسل دوسرے دن گر گئی

ممبئی: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ سنگین شکل اختیار کرنے کے خدشے کے ساتھ عالمی سطح سے کمزور اشارے کے ساتھ ساتھ گھریلو سطح پر ہمہ جہت فروخت کے دباؤ میں اسٹاک مارکیٹ آج مسلسل دوسرے دن گر گئی۔ سینسیکس اور نفٹی میں تقریباً 1.5 فیصد کی کمی ہوئی۔

بی ایس ای کا 30 حصص کا حساس انڈیکس سینسیکس 843.79 پوائنٹس گر کر 57147.32 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 257.45 پوائنٹس گر کر 16983.55 پوائنٹس پر آگیا۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں پر بھی فروخت کا اثر دیکھا گیا، جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 1.61 فیصد گر کر 24757.61 پوائنٹس اور اسمال کیپ 1.47 فیصد گر کر 28589.23 پوائنٹس پر آ گیا۔

بی ایس ای میں شامل تمام گروپس میں فروخت ہوئی۔ اس عرصے کے دوران، دھاتیں، پاور، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، آئی ٹی اور ٹیک جیسے گروپس سب سے زیادہ فروخت کرنے والے تھے۔ بی ایس ای پر کل 3563 کمپنیوں کا کاروبار ہوا جن میں سے 2347 کمپنیاں خسارے میں رہیں جبکہ صرف 1086 کمپنیاں منافع میں رہیں۔ 130 میں کوئی تبدیلی نہیں۔

عالمی سطح پر، سوائے چین کے شنگھائی کمپوزٹ کے، 0.19 فیصد کے اضافے کے ساتھ، باقی تمام بڑے انڈیکس نیچے ختم ہوئے۔ اس میں برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای1.26 فیصد، جرمنی کا ڈیکس 1.28 فیصد، جاپان کا نکئی 2.64 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 2.23 فیصد گر گیا۔