پیر, مئی 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 210

لکھیم پور کھیری سیٹ پر ضمنی انتخاب 3 نومبر کو

0
لکھیم پور کھیری سیٹ پر ضمنی انتخاب 3 نومبر کو
لکھیم پور کھیری سیٹ پر ضمنی انتخاب 3 نومبر کو

اترپردیش کے چیف الیکشن افسر کے دفتر سے جاری ریلیز کے مطابق لکھیم پور کھیری سیٹ پر ضمنی الیکشن کے لئے 7 اکتوبر کو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی نامزدگی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا

لکھنؤ: اترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری سیٹ پر 3 نومبر کو ضمنی الیکشن ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے پیر کو یہ جانکاری دی۔

لکھیم پور کھیری سیٹ سے بی جے پی کے ایم ایل اے اروند گری کی حال ہی میں ہوئے انتقال کی وجہ سے یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔ اترپردیش کے چیف الیکشن افسر کے دفتر سے جاری ریلیز کے مطابق اس سیٹ پر ضمنی الیکشن کے لئے 7 اکتوبر کو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی نامزدگی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

ریاست کے اڈیشنل چیف الیکشن افسر چندر شیکھر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نامزدگی کی آخری تاریخ 14 اکتوبر اور دستاویزات کی جانچ 15 اکتوبر کو ہونے کے بعد نام واپسی کی آخری تاریخ 17 اکتوبر ہوگی۔ اس سیٹ پر ضمنی الیکشن کے لئے 3 نومبر کو ووٹنگ ہوگی اور 6 نومبر کو ووٹ شماری کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

راہل نے کرناٹک میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران بارش میں بھیگ کر عوام سے کیا خطاب

0
راہل نے کرناٹک میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران بارش میں بھیگ کر عوام سے کیا خطاب
راہل نے کرناٹک میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران بارش میں بھیگ کر عوام سے کیا خطاب

کرناٹک میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران بارش ہوتی رہی اور راہل گاندھی اپنے سامنے موجود لوگوں سے خطاب کرتے رہے، مسٹر گاندھی نے کہا کہ بھارت کو متحد کرنے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا

میسورو: کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کی شام کرناٹک کے میسور میں بارش میں بھیگتے ہوئے ایک پرہجوم ریلی سے خطاب کیا۔ اپنی ‘بھارت جوڑو یاترا’ کو بابائے قوم کے نام وقف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے لوگوں کو ہمیشہ آگے بڑھنے، بے خوف اور خود مختار رہنے کا درس دیا۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ کنیا کماری سے کشمیر تک کا یہ یاترا کسی وجہ سے نہیں رکے گی اور انہوں نے لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ دور دراز سے آنے اور بارش میں کھڑے ہوکر ان کی باتیں سنیں۔

کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے ٹویٹ کیا، "شروعات میں، میں نے راہل گاندھی کو کور کرنے کی کوشش کی، لیکن پھر دیکھا کہ وہ بارش کے رکنے کا انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ ہزاروں لوگ انہیں سننے کے لیے بارش میں بھیگ رہے تھے۔ انہوں نے اپنا خطاب شروع کیا اور پوری طرح بھیگ گئے۔ ایک سچا ہندوستانی لیڈر۔”

بھارت جوڑو یاترا کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا، ”یہ ایک واضح اعلان تھا۔ نفرت، بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف ملک کو متحد کرنے والی بھارت جوڑو یاترا کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی ہے۔

اتوار کی شام کو یاترا کا آغاز زبردست ہوا کیونکہ بھیڑ ایک پرجوش اور تہوار کے ماحول میں دیکھی گئی۔ یاترا سری کالی ویرما مندر سے شروع ہوئی اور میسور ضلع میں تیزی پکڑی۔ قبل ازیں مسٹر گاندھی نے ایک بیان میں دورے کے اہم مقاصد کا خاکہ پیش کیا۔ بعد میں وہ ننجن گڈ میں شری شری کانتیشورا سوامی مندر درشن کرنے کے لیے گئے۔

دورے کے دوران کچھ سرکردہ لوگوں نے مسٹر گاندھی سے ملاقات کی۔ اگلے 21 دنوں میں یہ یاترا کرناٹک میں 511 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔ پانچ ماہ اور 3500 کلومیٹر کی یہ یاترا تمل ناڈو کے کنیا کماری سے جموں و کشمیر کے سری نگر تک کی ہے۔

یہ کانگریس پارٹی کا قومی تعلقات عامہ کا پروگرام ہے جس کا مقصد سماجی پولرائزیشن، معاشی عدم مساوات اور سیاسی مرکزیت کو بھی اجاگر کرنا بھی ہے۔

دو ماہ میں عظیم اتحاد حکومت کا دوسرا وکٹ گرا، نئے طوفان کی آہٹ: سشیل مودی

0
دو ماہ میں عظیم اتحاد حکومت کا دوسرا وکٹ گرا، نئے طوفان کی آہٹ: سشیل مودی
دو ماہ میں عظیم اتحاد حکومت کا دوسرا وکٹ گرا، نئے طوفان کی آہٹ: سشیل مودی

بہار کے وزیر زراعت سدھاکر سنگھ کے استعفیٰ دینے پر آج ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ دو مہینوں میں عظیم اتحاد حکومت کے دو داغدار وزراء کے جانے سے ریاست میں سیاسی عدم استحکام اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی فضیحت میں اضافہ ہو رہا ہے

پٹنہ: بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے راجیہ سبھا رکن سشیل کمار مودی نے آج کہا کہ عظیم اتحاد حکومت کے دوسرے داغدار وزیر سدھاکر سنگھ کا دو ماہ کے اندر استعفیٰ دینا ایک نئے طوفان کی آہٹ ہے۔

بہار کے وزیر زراعت سدھاکر سنگھ کے استعفیٰ دینے پر آج ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ دو مہینوں میں عظیم اتحاد حکومت کے دو داغدار وزراء کے جانے سے ریاست میں سیاسی عدم استحکام اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی فضیحت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے معتمد جگدانند سنگھ اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے درمیان مونچھوں کی لڑائی ہے۔

منڈی ایکٹ کو ختم کرنے کے فیصلے کی مخالفت

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ مسٹر جگدانند سنگھ اور ان کے بیٹے سدھاکر سنگھ نے زراعت سے متعلق مسٹر نتیش کمار کے روڈ میپ کو کھلے عام ناکام قرار دیدیا ہے اور محکمہ زراعت میں بدعنوانی کے بارے میں بات کرکے "بدعنوانی پر زیرو ٹالیرینس” کے وزیر اعلی کے دعوی کو بے نقاب کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی منڈی ایکٹ کو ختم کرنے کے فیصلے کی بھی مخالفت کی ہے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ مسٹر جگدانند سنگھ کو آئندہ سال 2023 میں مسٹر تیجسوی پرساد یادو کو وزیر اعلیٰ بنانے کی ڈیل کو عام کرنے کی قیمت اپنے بیٹے کی وزارت کی قربانی دے کر چکانی پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چارہ گھوٹالے کے معاملے میں جب مسٹر لالو پرساد یادو کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا اس کے بعد جب گھریلو خاتون رابڑی دیوی وزیر اعلیٰ بنیں تو آر جے ڈی کے سربراہ کے خاندان کے معتمد جگدانند سنگھ نے پردے کے پیچھے سے حکومت چلائی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسٹر جگدانند سنگھ اور مسٹر نتیش کمار کے درمیان ٹکراؤ میں کس کو جھکنا پڑے گا۔

وزیر زراعت سدھاکر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

0
وزیر زراعت سدھاکر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
وزیر زراعت سدھاکر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

وزیر زراعت سدھاکر سنگھ نے اپنا استعفیٰ نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو بھیج دیا ہے، حالانکہ وزیر کا استعفیٰ ابھی قبول نہیں کیا گیا ہے

پٹنہ: بہار میں اپنے محکمہ میں بدعنوانی کے سلسلے میں عوامی طور پر ناراضگی کا اظہار کر چکے وزیر سدھاکر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مسٹر سنگھ نے اپنا استعفیٰ نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کو بھیج دیا ہے۔ حالانکہ وزیر کا استعفیٰ ابھی قبول نہیں کیا گیا ہے۔ راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) کے ریاستی صدر اور مسٹر سنگھ کے والد جگدانند سنگھ نے اس کی تصدیق کی ہے۔

وزیر زراعت کے استعفیٰ پر آرجے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ نے کہا کہ آج گاندھی جینتی اور شاستری جی کی جینتی ہے۔ دونوں لیڈران نے ہمیشہ کسانوں کی فکر کی۔ کسان ملک کی ضرورت ہیں۔ وزیر زراعت ہمیشہ کسانوں کا سوال اٹھاتے رہتے تھے۔ کسانوں کے ساتھ ریاست میں انصاف نہیں ہورہا۔ اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کیلئے کسانوں کے پاس آج کوئی منڈی نہیں ہے۔ اس وجہ سے وزیر زراعت کو بہت ہی دکھ ہے۔

غور طلب ہے کہ وزیر زراعت سدھاکر سنگھ اپنے محکمہ میں بدعنوانی کے سلسلے میں کافی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ دنوں کیمور میں عوامی طور پر کہا تھا کہ ان کے محکمہ کے افسران چور ہیں اور وہ چوروں کے سردار ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے زرعی روڈ میپ میں بھی گڑبڑیوں کے سلسلے میں تنقید کی تھی۔

کرناٹک میں بھارت جوڑو یاترا کا ہوا آغاز

0
کرناٹک میں بھارت جوڑو یاترا کا ہوا آغاز
کرناٹک میں بھارت جوڑو یاترا کا ہوا آغاز

بھارتیہ جنتا پارٹی نے راہل گاندھی کے دورہ کرناٹک کے دوران بھارت جوڑو یاترا کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا

چامراج نگر: کانگریس کی ملک گیر بھارت جوڑو یاترا کا کرناٹک مرحلے کا آغاز ہفتہ کو گنڈلوپیٹ کے قریب تھونڈاواڑی گیٹ سے ہلکی بوندا باندی کے درمیان شروع ہوا۔

یاترا میں شامل کانگریسیوں میں کرناٹک کانگریس کے لیڈران کے ساتھ اپوزیشن لیڈر سدارامیا اور سبکدوش ہونے والے اسپیکر دھروونارائن شامل تھے جنہوں نے تقریباً 13 کلومیٹر کا سفر کیا اور کلے گیٹ تک پہنچنے کے لیے تقریباً آدھا راستہ طے کیا۔

دریں اثنا، ایم ایل اے پرینک کھرگے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے راہل گاندھی کے دورہ کرناٹک کے دوران بھارت جوڑو یاترا کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ راہل گاندھی درست تھے اور کوئی بھی ان کے سفر کو نہیں روک سکتا۔

کرناٹک میں اگلے 21 دنوں میں 511 کلومیٹر کا سفر طے کیا جائے گا۔ کانگریس کشمیر سے کنیا کماری تک 3500 کلومیٹر طویل بھارت جورو پدیاترا شروع کر رہی ہے، جسے مکمل ہونے میں پانچ مہینے لگیں گے۔ یہ کانگریس کی عوام سے جڑنے کی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد لوگوں کو بڑھتے ہوئے سماجی پولرائزیشن، معاشی عدم مساوات اور سیاسی مرکزیت سے آگاہ کرنا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے ستیندر جین کی عرضی کو کر دیا خارج

0
دہلی ہائی کورٹ نے ستیندر جین کی عرضی کو کر دیا خارج
دہلی ہائی کورٹ نے ستیندر جین کی عرضی کو کر دیا خارج

دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کی عرضی کو خارج کر دیا، عدالت نے تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ حکم جاری کیا ہے

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ہفتہ کو عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کی عرضی کو خارج کر دیا۔ اس درخواست میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو اپنے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ دوسری عدالت میں دائر کرنے کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ کے جج یوگیش کھنہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ چیف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج راؤز ایونیو کورٹ کے حکم میں کچھ بھی غیر آئینی نہیں ہے۔ عدالت نے تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ حکم جاری کیا ہے۔

مسٹر جین کے وکیل نے چیف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ونے کمار گپتا کے 23 ستمبر کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ سیشن جج نے اپنے حکم میں مسٹر جین کے خلاف خصوصی ججوں گیتانجلی گوئل اور وکاس ڈھل کے ذریعہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کی دفعات کے تحت درج مقدمہ کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی منتقلی کی درخواست کو چیف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے قبول کرلیا۔ عدالت نے ای ڈی اور دفاع دونوں کی طرف سے پیش کردہ حقائق کو سننے کے بعد یہ منظوری دی۔

مسٹر جین کو 30 مئی کو ای ڈی نے منی لانڈرنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور وہ تب سے تہاڑ جیل میں عدالتی حراست میں ہیں۔

عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو ملی ضمانت

0
عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو ملی ضمانت
عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو ملی ضمانت

رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے وکیل نے کہا کہ خان کے خلاف کسی طرح کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے اور امانت اللہ خان کے خلاف ایف آئی آر میں سیکشن کی درخواست کو پورا کرنے کے لیے ضروری اجزاء غائب تھے

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کو دہلی وقف بورڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں گرفتار عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو ضمانت دے دی۔

خصوصی جج وکاس دھول نے امانت اللہ خان کی درخواست ضمانت کی اس شرط پر اجازت دی کہ وہ ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی ضمانت پیش کریں۔

عدالت نے وقف بورڈ میں 32 ملازمین کی بھرتی میں امانت اللہ خان کی طرف سے مبینہ طور پر جانبداری میں ملوث ہونے پر سوال اٹھایا۔ جج نے دریافت کیا کہ "کرایہ دار کہاں ہے؟ کتنی رقم ضائع ہوئی؟

اے سی بی نے امانت اللہ خان کو 16 ستمبر کو چار مقامات پر چھاپے مارنے کے بعد گرفتار کیا تھا جس کے دوران انہوں نے تقریباً 24 لاکھ روپے نقد اور دو غیر لائسنس یافتہ ہتھیار برآمد کیے تھے۔

الزام ہے کہ امانت اللہ خان نے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے تمام اصولوں اور سرکاری رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 32 لوگوں کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا تھا۔
ان پر وقف فنڈز کا غلط استعمال کرنے اور بورڈ کی کئی جائیدادوں کو غیر قانونی طور پر کرایہ پر دینے کا بھی الزام تھا۔

امانت اللہ خان کے وکیل نے کہا کہ خان کے خلاف کسی طرح کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے اور امانت اللہ خان کے خلاف ایف آئی آر میں سیکشن کی درخواست کو پورا کرنے کے لیے ضروری اجزاء غائب تھے۔

استغاثہ نے امانت اللہ خان کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی۔

سپریم کورٹ نوٹ بندی کے خلاف عرضیوں پر 12 اکتوبر کو غور کرے گی

0
سپریم کورٹ نوٹ بندی کے خلاف عرضیوں پر 12 اکتوبر کو غور کرے گی
سپریم کورٹ نوٹ بندی کے خلاف عرضیوں پر 12 اکتوبر کو غور کرے گی

مرکزی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلے کو 58 عرضیوں کے ذریعے چیلنج کیا گیا تھا، درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ لوگوں کی محنت کی کمائی کو مناسب موقع فراہم کیے بغیر ضبط کیا گیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ وہ 12 اکتوبر کو اس بات پر غور کرے گی کہ نومبر 2016 کے نوٹ بندی کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے لیے کیا متعلقہ ہو سکتا ہے۔

جسٹس ایس عبدالنذیر، جسٹس بی آر گوائی، جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس وی راما سبرامنیم اور جسٹس بی وی ناگارتھنا کی آئینی بنچ نے اس معاملے کی مزید سماعت کے لیے 12 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ درخواستوں پر غور کیا جانا چاہیے یا یہ ایک اکیڈمک مشق بن گئی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر 2016 کی رات اچانک 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر پابندی کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان پر اگلے دن سے عمل ہوگیا۔

مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو 58 عرضیوں کے ذریعے چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ لوگوں کی محنت کی کمائی کو مناسب موقع فراہم کیے بغیر ضبط کیا گیا۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتہ مرکز کی طرف سے پیش ہوئے، نے آج کہا کہ یہ مسئلہ اب تمام مقاصد سے متعلق نہیں رہا۔ یہ صرف ایک علمی مشق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہیں۔

زیر التواء مقدمات کی بڑی تعداد

بنچ نے زیر التواء مقدمات کی بڑی تعداد کا حوالہ دیا کہ مقدمات کو اکیڈمی مشق کے لیے کیوں لیا جائے۔ عدالت عظمیٰ کے سامنے کل 58 درخواستوں پر غور کرتے ہوئے کئی وکلاء نے دعویٰ کیا کہ یہ مسئلہ متعلقہ ہے اور اس پر عدالت سے فیصلہ کی ضرورت ہے۔

اس پر بنچ نے کہا کہ دو پہلو ہیں – کارروائی کی قانونی حیثیت اور نوٹ بندی کے نفاذ سے متعلق مسئلہ۔ عدالت عظمیٰ نے 16 دسمبر 2016 کو نوٹ بندی پر حکومت کے فیصلے کی درستگی کے معاملے کو آئینی بنچ کے سامنے بھیج دیا تھا۔

8 نومبر 2016 کو مسٹر مودی نے اعلان کیا تھا کہ 500 اور 1000 روپے کے نوٹ اگلے دن سے درست نہیں ہوں گے۔ تاہم حکومت نے بعد میں پرانے نوٹوں کو تبدیل کرنے کے کئی مواقع دیئے تھے۔

پی ایف آئی اور آر ایس ایس دونوں پر پابندی لگائی جانی چاہئے: لالو

0
پی ایف آئی اور آر ایس ایس دونوں پر پابندی لگائی جانی چاہئے: لالو
پی ایف آئی اور آر ایس ایس دونوں پر پابندی لگائی جانی چاہئے: لالو

بہار کے دیہی ترقی کے وزیر اور جے ڈی یو کے سینئر لیڈر شراون کمار نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے آر جے ڈی صدر سے پی ایف آئی اور آر ایس ایس کے ساتھ ساتھ بی جے پی پر بھی پابندی لگانے کی بات کہہ دی

پٹنہ: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو سماج میں نفرت اور بغض پھیلانے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں تنظیموں پر پابندی عائد کی جانی چاہیئے۔

بدھ کو ایک ٹویٹ میں مسٹر یادو نے کہا کہ”آر ایس ایس سمیت پی ایف آئی جیسی تمام نفرت انگیز اور بددیانت تنظیموں پر پابندی لگائی جانی چاہئے۔ سب سے پہلے آر ایس ایس پر پابندی لگائیں، یہ اس سے بھی بدتر تنظیم ہے۔ آر ایس ایس پر پہلے بھی دو بار پابندی لگ چکی ہے۔ یاد رہے آر ایس ایس پر سب سے پہلے پابندی مرد آہن سردار پٹیل نے لگائی تھی۔

بہار کے وزیر نے بی جے پی پر بھی پابندی لگانے کی بات کہہ دی

وہیں بہار کے دیہی ترقی کے وزیر اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے سینئر لیڈر شراون کمار نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے آر جے ڈی صدر سے پی ایف آئی اور آر ایس ایس کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر پابندی لگانے کی بات کہہ دی۔

مسٹر نتیش کمار نے بدھ کو یہاں جے ڈی (یو) کے ریاستی دفتر میں منعقد پروگرام ‘کارکنوں کے دربار میں معزز وزیر’ کے بعد صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر نتیش کمار نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں پر پابندی لگنی چاہیے۔ پی ایف آئی پر پابندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاشرے میں عدم مساوات، تناؤ اور نفرت پھیلانے والی تمام تنظیموں پر پابندی لگنی چاہیے۔

وزیر نے جے ڈی یو میں ایک بادشاہ اور باقی سب کو نوکر بتانے والے بی جے پی لیڈر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب سے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بی جے پی کو دودھ کی مکھی کی طرح باہر پھینکا ہے، تب سے اس کے لیڈر مشتعل ہیں۔

ناسا کا الکا پنڈ سے زمین کو بچانے کا مشن کامیاب

0
ناسا کا الکا پنڈ سے زمین کو بچانے کا مشن کامیاب
ناسا کا الکا پنڈ سے زمین کو بچانے کا مشن کامیاب

ناسا کے ساتھ جانز ہاپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ فزکس لیبارٹری کے معاہدے کے تحت شروع کیے گئے اس مشن کو حیرت انگیز کامیابی ملی۔ الکا پنڈ سے ٹکرانے کے بعد خلائی جہاز کی تباہی کے لمحے نے سائنسدانوں کو جوش سے بھر دی

لاس اینجلس: خلائی دنیا میں تاریخ رقم کرتے ہوئے امریکی خلائی ایجنسی (ناسا) نے مستقبل کے ممکنہ سیارچے سے زمین کو بچانے کی صلاحیت کو ٹیسٹ کرنے کے لئے ایک چھوٹے خلائی جہاز کو سیارچے میں کامیابی کے ساتھ ٹکر ماری ہے۔

ایجنسی کے مطابق "ڈبل ایسٹرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (ڈی اے آر ٹی) مشن کے تحت گاڑی 26 ستمبر کی صبح 4.45 بجے ایسٹرائڈ ڈیڈی موس کے چاند نما پتھر ڈائمورفوس سے ٹکرائی تھی۔” انہوں نے کہا کہ ناسا چھوٹے خلائی جہاز کو سیدھا سیارچے سے ٹکرانے میں کامیاب رہا۔ چودہ ہزار میل فی گھنٹہ کے تصادم کو یہ جانچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ آیا ایسی ٹیکنالوجی کسی دن زمین کو ممکنہ طور پر تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

ناسا کے ساتھ جانز ہاپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ فزکس لیبارٹری کے معاہدے کے تحت شروع کیے گئے اس مشن کو حیرت انگیز کامیابی ملی۔ الکا پنڈ سے ٹکرانے کے بعد خلائی جہاز کی تباہی کے لمحے نے سائنسدانوں کو جوش سے بھر دیا۔ تصادم کی آخری لمحات کی لائیو ویڈیو بھی دکھائی دے رہی تھی۔ ناسا نے اس ویڈیو کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر بھی جاری کیا ہے۔

ممکنہ سیارچے سے زمین کو بچانے کی صلاحیت

ایک سائنسدان نے آج کہا، "تاریخ میں پہلی بار ڈارٹ مشن نامی سیاروں کے دفاعی ٹیسٹ کو کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ اب مستقبل میں اگر زمین پر کسی بھی قسم کے الکا پنڈ کے ٹکرانے کا خطرہ ہوا تو یہ انوکھی تکنیک زمین کو بچا سکتی ہے جو کبھی بھی زمیں کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ پتھر کی یہ بڑی چٹانیں الکا پنڈ کہلاتی ہیں۔ اگر کوئی ایسی چیز ہے جس سے مستقبل میں زمین کو خطرہ لاحق ہو تو وہ ایسٹرائیڈ ہے۔

ایسٹرائیڈ، ڈمورفوس، ایک اسٹیڈیم کے سائز کا ہے. اسے گیزا کا عظیم پیرامڈ جیسا بھی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ اس وقت زمین سے تقریباً سات ملین میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ ڈیڈیموس نامی ایک بڑے سیارچے کے گرد چکر لگاتا ہے۔ اس سے ہمارے سیارے کو اس وقت کوئی خطرہ نہیں ہے اور مستقبل میں کبھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ صرف ایک ٹیسٹ تھا، ناسا کی ممکنہ سیاروں کی دفاعی ٹیکنالوجی کا پہلا مظاہرہ، جسے کائنےٹک امپیکٹور کہا جاتا ہے۔