منگل, مئی 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 193

گیان واپی مسجد تنازعہ کی سماعت 21 اپریل کو: سپریم کورٹ

0
گیان واپی مسجد تنازعہ کی سماعت 21 اپریل کو: سپریم کورٹ
گیان واپی مسجد تنازعہ کی سماعت 21 اپریل کو: سپریم کورٹ

تنازعہ گیان واپی مسجد میں کچھ ہندو جماعتوں نے پوجا کی اجازت دینے کے مطالبہ سے متعلق عرضی دائر کی گئی تھی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ وہ وارانسی کے گیان واپی مسجد تنازعہ کے معاملے میں 21 اپریل کو سماعت کرے گا۔


چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے پی پاردیوالی کی بنچ نے تنازعہ سے متعلق کچھ ہندو جماعتوں کی اپیل سنتے ہوئے معاملے پر 21 اپریل کو سماعت کرنے کی رضامندی ظاہر کی۔

وکیل وشنو شنکر جین نے بنچ کے سامنے’خصوصی ذکر‘ کے دوران اس معاملے کو اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وارانسی کی ضلع عدالت سے متعلق تمام معاملات کو ایک جگہ کہنے پر اپنا فیصلہ نہیں سنا رہی ہے اور اسے چوتھی بار ملتوی کر دیا گیا۔

اوپری عدالت نے عرضی گزار کو یقین دلایا کہ اگلی تاریخ پر معاملے کی سماعت کی جائے گی۔

تنازعہ گیان واپی مسجد میں کچھ ہندو جماعتوں نے پوجا کی اجازت دینے کے مطالبہ سے متعلق عرضی دائر کی گئی تھی۔
عدالت نے 22 مئی 2022 کو معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے تنازعہ سے متعلق معاملوں کو سول عدالت سے ضلع مجسٹریٹ کورٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

پین کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کی آخری تاریخ 30 جون تک بڑھا دی گئی

0
پین کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کی آخری تاریخ 30 جون تک بڑھا دی گئی
پین کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کی آخری تاریخ 30 جون تک بڑھا دی گئی

پہلے پین کارڈ کو آدھار کے ساتھ جوڑنے کی مدت 31 مارچ تک تھی، جسے اب بڑھا کر 30 جون 2023 کر دیا گیا ہے

نئی دہلی: پرمننٹ اکاؤنٹ نمبر (پین کارڈ) کو آدھار کے ساتھ جوڑنے کی آخری تاریخ کو 30 جون 2023 تک تین ماہ بڑھا دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں، سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس (سی بی ڈی ٹی) نے آج کہا کہ پہلے یہ مدت 31 مارچ تک تھی، جسے اب بڑھا کر 30 جون 2023 کر دیا گیا ہے۔

اس دوران، جو لوگ پین کو آدھار سے لنک نہیں کرتے ہیں، ان کا پین یکم جولائی 2023 سے غیر فعال ہو جائے گا، جس کی وجہ سے متعلقہ شخص کو رقم کی واپسی جاری نہیں کی جائے گی۔ پین کے غیر فعال رہنے کی مدت کے لیے رقم کی واپسی پر سود نہیں ملے گا۔ ٹی سی ایس اور ٹی ڈی ایس ٹیکس کی شرح قانون میں کی گئی دفعات کے مطابق بڑھائی جائے گی۔

سی بی ڈی ٹی نے کہا کہ پین اور آدھار کو لنک کرنے کے بعد پین ایک ماہ کے بعد فعال ہو جائے گا اور اس کے لیے 1000 روپے کی فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔

ہندوستان کی ہونہار باکسر نکھت دوسری بار عالمی چیمپئن بنیں

0
ہندوستان کی ہونہار باکسر نکھت دوسری بار عالمی چیمپئن بنیں
ہندوستان کی ہونہار باکسر نکھت دوسری بار عالمی چیمپئن بنیں

نکھت، جنہوں نے پچھلی بار 52 کلوگرام زمرے میں عالمی چمپئن شپ جیتی تھی، دو بار کے ایشیائی چمپئن نگوین کو شکست دے کر 50 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیتا

نئی دہلی: ہندوستان کی ہونہار باکسر نکھت زرین نے اتوار کو خواتین کی عالمی باکسنگ چمپئن شپ میں ویتنام کی تھی ٹام نگوین کو 5-0 سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن بن گئی۔


نکھت، جنہوں نے پچھلی بار 52 کلوگرام زمرے میں عالمی چمپئن شپ جیتی تھی، دو بار کے ایشیائی چمپئن نگوین کو شکست دے کر 50 کلوگرام زمرے میں طلائی تمغہ جیتا۔ نکھت نے سیمی فائنل میں کولمبیا کی انگرڈ ویلنسیا کو شکست دے کر فائنل میں داخلہ حاصل کیا۔


دفاعی عالمی چیمپیئن نے مکے بازی کے آغاز سے ہی درست مکے لگائے اور نیوین کے حملوں کو بے اثر کرنے کے لیے تیزی سے اپنے پیروں کا استعمال کیا۔ نکھت نے پہلا راؤنڈ 5-0 سے جیتا لیکن ویتنامی باکسر نے اچھی واپسی کرتے ہوئے دوسرا راؤنڈ 3-2 سے جیت لیا۔ نکھت نے فیصلہ کن راؤنڈ میں صبر اور جارحیت کا صحیح امتزاج دکھایا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کی حقدار ہیں۔


نکھت دوسری ہندوستانی باکسر ہیں جنہوں نے عالمی چیمپئن شپ میں دو بار گولڈ میڈل جیتا ہے۔ نکھت سے پہلے میری کوم (2002، 2005، 2006، 2008، 2010 اور 2018) چھ بار یہ کارنامہ انجام دے چکی ہیں۔


اس تاریخی فتح کے بعد نکھت نے کہا کہ ’’میں دوسری بار عالمی چیمپئن بننے پر بہت خوش ہوں، خاص طور پر مختلف وزن کے زمرے میں۔ آج کا میچ پورے ٹورنامنٹ میں سب سے مشکل تھا اور چونکہ یہ ٹورنامنٹ کا آخری میچ تھا اس لیے میں اپنی توانائی کا بھرپور استعمال کرنا چاہتا تھی۔ یہ ایک ہنگامہ خیز مقابلہ تھا جس نے دیکھا کہ ہم دونوں کو وارننگ کے ساتھ ساتھ آٹھ پوائنٹ بھی ملے۔ فائنل راؤنڈ میں میری حکمت عملی پوری طاقت کے ساتھ حملہ کرنا تھی اور جب میرا ہاتھ فاتح کے طور پر اٹھایا گیا تو میں بہت خوش تھی۔ یہ تمغہ ہندوستان اور ان تمام لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں ہمارا ساتھ دیا۔


نکھت آئندہ اولمپکس کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سال کے ٹورنامنٹ کے لیے فلائی ویٹ سے لائٹ فلائی ویٹ میں چلی گئی تھی۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ باکسر نے نہ صرف نئے وزن کے زمرے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ اس نے اپنی گولڈن مہم میں ٹاپ سیڈ افریقی چمپئن رومیسا بوولم اور دو مرتبہ ورلڈ چمپئن شپ میڈلسٹ تھائی لینڈ کی چوتھامت رکشات کو بھی شکست دی۔


باکسنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر اجے سنگھ نے نکھت کی جیت پر کہاکہ "نکھت کو مسلسل دوسرے سال عالمی چیمپئن بننے پر مبارکباد۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ملک کے لیے سونے کا تمغہ جیتنے کے لیے ملک بھر کی نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک روشن مثال بن جائے گی۔ "وہ آنے والے برسوں تک چیمپئن بننے والی ہے اور ہم یقینی طور پر 2024 میں ان کی جانب سے اولمپک میڈل دیکھیں گے۔”


نکھت کی جیت کے بعد اب ہندوستان کے پاس ٹورنامنٹ میں کل تین گولڈ میڈل ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز 2022 کی طلائی تمغہ جیتنے والی نیتو گھنگھاس (48 کلوگرام) اور تین بار کی ایشیائی تمغہ جیتنے والی سویٹی بورا (81 کلوگرام) نے بھی ہفتہ کو میزبان ٹیم کی جانب سے طلائی تمغہ جیتا۔

راہل کی پارلیمنٹ سے رکنیت کی منسوخی پر سرسہ میں کانگریس کا ‘ستیہ گرہ’

0
راہل کی پارلیمنٹ سے رکنیت کی منسوخی پر سرسہ میں کانگریس کا 'ستیہ گرہ'
راہل کی پارلیمنٹ سے رکنیت کی منسوخی پر سرسہ میں کانگریس کا 'ستیہ گرہ'

مسٹر گرگ نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رکنیت کی منسوخی جمہوریت کا قتل ہے۔ جمہوریت پر کاری ضرب لگ رہی ہے۔ ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمیں اعلیٰ عدالت سے انصاف ملے گا

سرسہ: پارلیمنٹ میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سابق صدر راہل گاندھی کی رکنیت کی منسوخی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ضلع کانگریس کمیٹی نے اتوار کو ضلع انچارج بجرنگ داس گرگ کی قیادت میں مقامی کانگریس عمارت میں ‘ستیہ گرہ’ تحریک کا انعقاد کیا۔


مسٹر گرگ نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رکنیت کی منسوخی جمہوریت کا قتل ہے۔ جمہوریت پر کاری ضرب لگ رہی ہے۔ ہمیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمیں اعلیٰ عدالت سے انصاف ملے گا۔ للت مودی اور نیرو مودی بے ایمان ہیں جنہوں نے ملک سے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک فرار ہوگئے۔ للت مودی اور نیرو مودی ملک کے دشمن ہیں۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ ان مفروروں کو پکڑ کر ہندوستان واپس لائے اور رقم برآمد کرے۔ حکومت مفرور ملزمان سے رقوم کی وصولی کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کی آواز کو دبانے میں مصروف ہے جو جمہوریت کا قتل ہے۔


مسٹر گرگ نے کہا کہ ملک کے عوام اور تمام اپوزیشن پارٹیاں اڈانی کو بینک سے دئے گئے اربوں روپے کے قرض کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور ایل آئی سی اور اڈانی میں کی گئی سرمایہ کاری نے اپنے حصہ کی قیمت سے زیادہ ظاہر کی ہے۔ عوام کو دھوکہ دینے کا کام کیا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی ایک عرصے سے اڈانی گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن مودی جی اڈانی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اڈانی کو بچانے میں مصروف ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مودی جی کے لیے اڈانی ہندوستان سے اوپر ہیں۔

راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت منسوخ کرنا جمہوریت کے لئے بڑا المیہ

0
راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت منسوخ کرنا جمہوریت کے لئے بڑا المیہ
راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت منسوخ کرنا جمہوریت کے لئے بڑا المیہ

جس طرح حزب اختلاف کے سب سے بڑے چہرے کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی ہے،وہ جمہوریت کیلئے نیک فال نہیں ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

راہل گاندھی کی رکنیت منسوخ ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ محض ایک رکن پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہو جانے کا معاملہ بھی نہیں ہے۔ بات راہل گاندھی تک محدود ہوتی، تب بھی مان لیا جاتا کہ انھوں نے جو کیا اس کی سزا انہیں ملی۔ شمال سے لے کر جنوب تک اور مغرب سے لے کر مشرق تک اپوزیشن لیڈران کو ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ اپوزیشن کی مضبوط آواز لالو یادو اور ان کا کنبہ ہو، یا پھر دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا، تلنگانہ کی رکن پارلیمنٹ کے کویتا ہوں یا پھر مہاراشٹر کے قد آور لیڈر سنجے راؤت اور نواب ملک وغیرہ۔ یہ فہرست بہت طویل ہو سکتی ہے، مگر تعجب اس بات کا ہے کہ حکمراں جماعت یا اس کی اتحادی جماعت کے کسی لیڈر پر اس قسم کا نہ کوئی الزام ہے، نہ اس کے خلاف کوئی جانچ۔

یہ بھی غور طلب ہے کہ اپوزیشن لیڈران کے معاملے میں قانون بھی کس تیز رفتاری سے اپنا کام کررہا ہے۔ بھلے ہی یہ معاملات قانون کے دائرے میں انجام پارہے ہیں، مگرموجودہ حکومت نے اس کے ذریعہ بہت سے پیغام دے دئے ہیں۔ اشارہ دے دیا گیا ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات کوئی معمولی انتخابات نہیں ہیں۔ یہ خود حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے لئے بھی سنگ میل ثابت ہوں گے۔ ان انتخابات میں ملک کی سیاسی سمت اور ملک کا مستقبل طے ہوگا۔ یہ بھی طے ہوگا کہ ملک کی جمہوری اقدار و روایات پر کس حد تک عمل کیا جاتا ہے۔


کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اس وقت کیرالہ کے وائناڈ سے لوک سبھا کے رکن ہیں۔ 2019ء میں وہ اپنے روایتی حلقے یوپی کے امیٹھی اور وائناڈ سے انتخابی میدان میں اترے تھے، مگر امیٹھی میں حیرت انگیز طور پر انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب راہل گاندھی کو وائناڈ لوک سبھا سیٹ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

راہل کو مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں دو سال کی سزا سنائے جانے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی لوک سبھا کے رکن کے طور پر نااہل قرار دے دیا گیا۔ راہل کو گجرات کی ایک عدالت نے مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں ان کے تبصرے پر دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اگرچہ انہیں ضمانت مل گئی ہے اور فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 30؍ دن کا وقت دیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود فوری طور پر لوک سبھا سیکریٹریٹ نے ان کی رکنیت کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔عوامی نمائندگی ایکٹ 1951ء کے سیکشن 8(3) کے تحت جب کسی رکن پارلیمنٹ کو کسی معاملہ میں دو سال کی قید کی سزا سنائی جاتی ہے، تو وہ رکنیت سے محروم ہو جاتا ہے۔

سمجھا جاتا ہے کہ راہل کو 30؍ دن کا وقت نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ملا ہے اور اس کا راہل کی پارلیمنٹ کی رکنیت کو کالعدم قرار دیے جانے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ 2019ء میں جب راہل گاندھی نےایک انتخابی ریلی میں وزیر اعظم مودی کو نشانہ بنایا تو انہیں اندازہ نہیں ہوگا کہ اس بیان پر انہیں دو سال کی سزا ہو سکتی ہے اور ان کی رکنیت بھی ختم کی جا سکتی ہے۔ انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں تقریباً ہر جماعت کے لیڈر اپنے حریفوں کے خلاف اکثر متنازعہ تبصرے کرتے ہیں یا حد سے گزر جاتے ہیں۔ راہل گاندھی نے بھی کچھ ایسا ہی تبصرہ کیا تھا۔ 13؍ اپریل 2019ء کو کرناٹک کے کولار میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل نے کہا تھا، ‘’سب چوروں کا نام مودی ہی کیوں ہے؟ چاہے وہ للت مودی ہو یا نیرو مودی یا نریندر مودی؟ سب چوروں کے نام میں مودی کیوں شامل ہے؟‘ بس یہی بیان آج راہل گاندھی کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا گیا ہے۔ ویسے راہل گاندھی جس قانون کا شکار ہوئے ہیں، اس کی وجہ وہ خود بھی ہیں۔

راہل گاندھی نے 2013ء میں یوپی اے حکومت کے ذریعہ لائے گئے ایک بل کو عوامی طور پر پھاڑ کر پھینک دیا تھا، جس میں یہ تجویز تھی کہ اگر کسی رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ کو سزا ہوجاتی ہے تو فوری طور پر اس کی رکینت منسوخ نہیں ہوگی، بلکہ اس کو اپنی سزا کے خلاف اپیل کیلئے تین ماہ کی مہلت ہوگی۔ اگر کسی رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی تو جب تک اس معاملہ میں فیصلہ نہیں آتا، اس وقت تک اس کی رکینت منسوخ نہیں ہوگی، لیکن راہل گاندھی کی سخت مخالفت کے بعد یہ بل پاس نہیں ہوسکا تھا۔ اب راہل کی رکنیت منسوخ ہونے کے بعد ایک بار پھر اس بل کے بارے میں باتیں ہونے لگی ہیں۔ کیوں کہ منموہن سنگھ حکومت کے ذریعہ لایا گیا آرڈیننس اگر نافذ ہو جاتا تو شاید راہل گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ نہ ہوتی۔


ایک طرف راہل گاندھی یا دوسرے اپوزیشن لیڈران کے خلاف ہونے والی کارروائی منصوبہ بند لگتی ہے، وہیں دوسری طرف یہ منصوبہ بندی کہیں نہ کہیں ان لیڈران کے لئے سود مند بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ سلسلہ واقعات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 2024ء کے انتخابات سے قبل حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کر دینا چاہتی ہے، لیکن ایک جمہوری ملک میں یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ جب تک ملک کی رگوں میں جمہوریت کا خون باقی ہے، اس وقت تک یہ ممکن نہیں کہ حزب مخالف کی آواز کو خاموش کر دیا جائے۔ ایسا لگتا نہیں کہ ہندوستان جیسے ملک میں آمریت اور تاناشاہی کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ ملک کے عوام ایک نہ ایک دن پھر جمہوری اقدار میں یقین رکھنے والوں کی طرف واپس آئیں گے۔ راہل گاندھی کے لئے یہی ٹرننگ پوائنٹ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ راہل گاندھی نے اب اپنی محنت سے حزب اختلاف کے سب سے بڑے چہرے کے طور پر اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان کی سزا اور پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ ہونے کی خبر کو قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں جو جگہ ملی ہے، اس سے ان کے سیاسی قد کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نیو یارک ٹائمس سے لے کر رائٹر تک اور الجزیرہ سے لے کر ڈان تک، سب نے راہل گاندھی کی خبر کی کافی اہمیت دی ہے اور اپنے تبصرے بھی کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جن اپوزیشن جماعتوں کو کہا جا رہاہے کہ وہ کبھی متحد نہیں ہو سکتیں، راہل گاندھی کے مسئلہ پر سب ایک آواز میں بول رہی ہیں۔ ابھی تک کانگریس سے فاصلہ بنا کر رکھنے والی ممتا بنرجی، اروند کجریوال، کے سی آر، اکھلیش یادو اور نتیش کمار جیسے لیڈران بھی راہل کی حمایت میں حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں بھی مستقبل میں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنے کا خوف ستا رہا ہوں، مگر راہل گاندھی کے لئے یہ سود مند ہی ہے۔ خود راہل گاندھی نے اپنی بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ جو مقبولیت حاصل کی ہے، اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

لندن میں دئے گئے ان کے بیان پر حکمراں جماعت نے بھلے ہی آسمان سر پر اٹھا لیا ہو اور پارلیمنٹ کی کارروائی تک اس کی نذر ہو گئی ہو، مگر یہ بھی راہل گاندھی کی مقبولیت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ راہل نے پارلیمنٹ سے لے کر سڑک تک جس ہمت اور بے باکی کے ساتھ وزیر اعظم مودی کے نزدیکی سمجھے جانے والے کاروباری گوتم اڈانی کو نشانہ بنایا ہے اور مودی سے ان کے رشوتوں کو سامنے لائے ہیں، اس سے بھی انھوں نے خود کو ایک مضبوط اور اہم اپوزیشن لیڈر کے طور پر ثابت کیا ہے۔ ان واقعات کے تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ راہل گاندھی کا قد پہلے کے مقابلے کم نہیں ہوا ہے، بلکہ بڑھا ہے۔ ویسے بھی راہل گاندھی اور کانگریس دونوں ہی سیاسی طور پر اتنا گنوا چکے ہیں کہ ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ باقی نہیں ہے۔ یہاں سے بس انہیں حاصل کرنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ راہل گاندھی کیسے ان حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور کیسے ان حالات کو اپنے حق میں موڑتے ہیں۔


[email protected] (مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

دیدی کے بغیر کوئی راستہ نہیں، ربانی نے کریم پر طنز کیا

0
دیدی کے بغیر کوئی راستہ نہیں، ربانی نے کریم پر طنز کیا
دیدی کے بغیر کوئی راستہ نہیں، ربانی نے کریم پر طنز کیا

ربانی نے کہا کہ انہوں نے کریم کے قریبی لوگوں کو بھی مشورہ دیا۔ کریم حال ہی میں کالی گھاٹ میں ممتا بنرجی کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں حاضر نہیں ہوئے۔ اسی تناظر میں ربانی نے کہا، ‘کریم صاحب کو بھی 17 مارچ کے اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن اگر وہ نہیں جاتا تو کیا کوئی کچھ کر سکتا ہے؟

اسلام پور: 20 مارچ کو وزیر غلام ربانی نے اسلام پور کے باغی ایم ایل اے عبدالکریم چودھری پر طنز کیا کہ ترنمول اور دیدی کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ کریم بیمار ہونے کے باوجود دیدی کے اچھے دل میں ہیں، ربانی نے کریم کو مسئلہ حل کرنے کے لیے دیدی سے ملنے کا مشورہ دیا۔ کریم کی بغاوت کے معاملے پر ربانی نے کہا، “ترنمول اور ممتا بنرجی کے علاوہ کسی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ کوئی بھی گروہ یا شخص جس نے دیدی کو چھوڑا ہے یا جسے دیدی نے چھوڑا ہے۔’ ربانی نے کہا کہ انہوں نے کریم کے قریبی لوگوں کو بھی مشورہ دیا۔ کریم حال ہی میں کالی گھاٹ میں ممتا بنرجی کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں حاضر نہیں ہوئے۔ اسی تناظر میں ربانی نے کہا، ‘کریم صاحب کو بھی 17 مارچ کے اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن اگر وہ نہیں جاتا تو کیا کوئی کچھ کر سکتا ہے؟’ سبرت بخشی نے ان سے پارٹی چھوڑنے کو کہا – کریم نے اس الزام کی تردید کی۔

ربانی نے کہا، ‘ایسی کوئی بات معلوم نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ مسٹر کریم نچلی سطح پر رہیں گے۔’ ربانی نے یہ تبصرہ پیر کو اردو گرلز ہائی اسکول کی طالبات کے لیے ہاسٹل کا افتتاح کرنے کے بعد نارتھ بنگال نیوز سے کیا۔ کریم نے اس کا ردعمل جاننے کے لیے اسے بار بار فون کیا، لیکن اس نے فون نہیں کیا۔ بعد ازاں کریم کے چھوٹے بیٹے امداد چودھری نے کہا، ‘میں اپنے والد کے سیاسی معاملات پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔”

سیاسی حلقے سوچ میں پڑ گئے۔ چونکہ 17 مارچ کو لیڈر کی طرف سے بلائی گئی کالی گھاٹ میٹنگ کا بھی بائیکاٹ کیا گیا تھا، اس لیے کریم کے حوالے سے میٹنگ میں کیے گئے فیصلے کو لے کر قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ لیکن اس ملاقات میں کریم کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ اسلام پور میں تنظیمی تبدیلیوں کی کوئی خبر نہیں ہے۔

دوسری جانب گزشتہ اتوار کو اجلاس سے واپس ضلع صدر کنیا لال اگروال نے رام گنج میں کریم کے بعد دپوتے لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ ماٹی کنڈا اسکینڈل کے بعد انہوں نے وضاحت کی کہ ایم ایل ایز کو بھی پارٹی ڈسپلن کی پیروی کرنی چاہئے۔ کریم کی آنکھوں کی پتلیوں اور ذاکر حسین کے بلاک صدر ہونے کے باعث پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف یکے بعد دیگرے توپیں برسائی گئیں۔ اس نے کہا اس صورتحال میں کریم کے جنگی مزاج کو دیکھ کر سیاسی حلقوں کی نظریں کریم کے اگلے قدم پر ہیں۔

بی جے پی لیڈر جیتندر تیواری دہلی سے گرفتار

0
بی جے پی لیڈر جیتندر تیواری دہلی سے گرفتار
بی جے پی لیڈر جیتندر تیواری دہلی سے گرفتار

پولیس ذرائع کے مطابق تقریباً 10 دن قبل آسنسول درگاپور پولیس کی ایک خصوصی ٹیم دہلی پہنچ کر بی جے پی لیڈر کی مختلف جگہوں پر تلاشی لی۔ اس کے بعد انہیں آج نوئیڈا سے تلاش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے

کلکتہ: بی جے پی لیڈر اور آسنسول کے سابق میئر جتیندر تیواری کو کمبل تقسیم کرنے کے معاملے میں دہلی سے گرفتار کیا گیا ہے۔ آسنسول درگاپور پولیس کمشنریٹ کی خصوصی ٹیم نے گرفتار کیا ہے۔


پولیس ذرائع کے مطابق تقریباً 10 دن قبل آسنسول درگاپور پولیس کی ایک خصوصی ٹیم دہلی پہنچ کر بی جے پی لیڈر کی مختلف جگہوں پر تلاشی لی۔ اس کے بعد انہیں آج نوئیڈا سے تلاش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔


گزشتہ سال 14 دسمبر کو آسنسول کارپوریشن کے وارڈ نمبر 27 میں کمبل تقسیم کرنے کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ جتیندر تیواری اور ان کی اہلیہ کونسلر چیتالی تیواری اس تقریب کے منتظم تھے۔ تقریب کے دوران روندنے سے تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعہ میں ایک متوفی کے اہل خانہ نے آسنسول نارتھ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ جتیندر اور اس کی بیوی چیتالی اس معاملے میں ایک اہم ملزم تھے۔

قبل ازیں بی جے پی لیڈر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم عدالت نے درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد جتیندر تیواری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس کیس کی سماعت پیر کو سپریم کورٹ میں ہونی تھی۔ اس سے پہلے جتیندر کو آسنسول درگاپور کمشنریٹ پولیس نے یمنا ایکسپریس وے سے گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس ممکنہ طور پر آج دوپہر ہوائی جہاز سے بی جے پی لیڈر کے ساتھ کلکتہ آئے گی۔

اجازت ملی تو نکالیں گے ترنگا یاترا: مولانا توقیر رضا

0
اجازت ملی تو نکالیں گے ترنگا یاترا: مولانا توقیر رضا
اجازت ملی تو نکالیں گے ترنگا یاترا: مولانا توقیر رضا

آئی ایم سی کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان نے 15 مارچ کو دہلی کی جانب کوچ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ حرکت میں آگئی اور محلہ سوداگران اور اس کے اطراف میں مولانا کی رہائش گاہ پر بڑی پولیس فورس تعینات کردی

بریلی: اتحاد ملت کونسل کے چیئرمین مولانا توقیر رضا نے ترنگا یاترا فی الحال ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتظامیہ کو اپنی بات ٹھیک سے نہیں سمجھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اجازت ملی تو اب 15 لوگوں کے ساتھ 20 مارچ کو پر امن طریقے سے دہلی کی جانب کوچ کریں گے۔

آئی ایم سی کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان نے 15 مارچ کو دہلی کی جانب کوچ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ حرکت میں آگئی اور محلہ سوداگران اور اس کے اطراف میں مولانا کی رہائش گاہ پر بڑی پولیس فورس تعینات کردی۔ بدھ کی شام پولیس انتظامیہ کی موجودگی میں آئی ایم سی کے سربراہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ انتظامیہ کو اپنی بات ٹھیک سے نہیں بتا سکے، اس لیے اب دہلی کی طرف 20 مارچ کو کوچ کریں گے ۔ دہلی تک ترنگا یاترا میں صرف 15 لوگوں کے ساتھ سفر کریں گے۔ اس کے لیے وہ انتظامیہ سے اجازت کی درخواست دیں گے۔ اگر اجازت مل گئی تو وہ صحیح وقت پر دہلی روانہ ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پر امن ترنگا یاترا نکالنے چاہتے تھے۔ نعرہ اور شور شرابہ کے بغیر وہ تو سڑک کے کنارے چل کر اپنا سفر طئے کرتے۔ مولانا اپنی ترنگا یاترا کو روکنے سے ناراض دکھائی دئیے۔ قابل ذکر ہے کہ مولانا توقیر رضا نے بدھ دوپہر ترنگا یاترا نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ انتظامیہ نے ضلع میں دفعہ 144 کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا کو نکلنے کی اجازت نہیں دی۔

ایران۔ سعودی عرب تعلقات، اندیشے اور امکانات

0

یہ کیسا المیہ ہے کہ آج وہ طاقتیں جنھیں اسلام اور مسلم مخالف مانا جاتا ہے، وہی ہماری صفوں میں اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر رہی ہیں

ڈاکٹر یامین انصاری

ایک عرصہ سے ہم یہ جملہ لکھتے، پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ اسلام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ اسلام کو مٹانے کے لئے بڑی بڑی طاقتیں منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے، مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے منصوبوں میں دوسرے لوگ اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں، جب ہمارے اپنے اندر کچھ کمزوریاں ہوں۔ اور ہم ان کمزوریوں اور اپنے اعمال و کردار کا محاسبہ کرنا بھول جاتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسلام یا مسلم دنیا کو جتنا نقصان بیرونی طاقتوں نے پہنچایا ہے، اس سے زیادہ ہمارے اپنے اعمال اور اپنے لوگوں سے اسلام کو نقصان پہنچا ہے۔ اس وقت بھی اگر مسلم آبادی یا مسلم ممالک کے حالات پر نظر ڈالیں تو اس میں بیرونی طاقتوں سے زیادہ ہمارے اپنے لوگ ہی باہم دست و گریباں نظر آتے ہیں۔

قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ کہیں علاقائیت کی بنیاد پر، کہیں مسلک کی بنیاد پر، کہیں ذات پات کی بنیاد پر اور کہیں امیر و غریب کی بنیاد پر تفریق و امتیاز نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ جبکہ دعویٰ ہے کہ ہم ایک اللہ، ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں۔ اگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو بھی رہی ہیں تو ہم ان کے خلاف کیا حکمت عملی اپنا رہے ہیں؟ لکھنے، پڑھنے اور سننے سے آگے ہم نے ان سازشوں کے خلاف عملی طور پر کیا اقدامات کئے ہیں؟ اس پر بھی غور کرنا چاہئے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ آج وہ طاقتیں جنھیں اسلام اور مسلم مخالف مانا جاتا ہے، وہی ہماری صفوں میں اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر رہی ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم خود اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے اقدامات کرتے، چین جیسے ملک ثالثی اور میزبانی کر رہے ہیں۔

عالم اسلام کے لئے بڑی خوشخبری

موجودہ حالات میں عالم اسلام کے لئے اس سے بڑی خوشخبری اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایران اور سعودی عرب جیسی دو بڑی طاقتیں اپنے تعلقات استوار کرنے پر متفق ہو جائیں۔ اپنے مفادات کی خاطر ہی صحیح، چین نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو کوئی مسلم ملک نہیں کر سکا۔ اس سے پہلے عراق، بحرین اور دیگر کئی ملکوں نے کوشش کی کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو بحال کرکے نہ صرف خطے میں، بلکہ عالم اسلام میں امن قائم کیا جائے، مگر اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔ سعودی عرب اور ایران نے چین کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

عالمی برادری میں اس پیش رفت سے کافی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے نقطہ نگاہ سے اسے دیکھ رہا ہے۔ کوئی اسے چین کے ذریعہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے اثر و رسوخ کے طور پر دیکھ رہا ہے تو کوئی کہہ رہا ہے چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کرکے امریکہ کو ایک پیغام دے دیا ہے۔ بہر حال، چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات میں سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العيبان اور ایران کی جانب سے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی شامل تھے۔ دونوں ملکوں نے سات سال بعد تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان مذاکرات کے بعد سعودی عرب اور ایران نے اپنے سفارتی مشن کھولنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات

اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات اور سفارت خانے کھولنے کا عمل دو مہینے کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے سکیورٹی تعاون، تجارت، معیشت، ٹیکنالوجی، سائنس، کلچر، کھیلوں اور امور نوجوانان پر 2001ء اور 1998ء میں ہونے والے معاہدوں کی بحالی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ملاقات پر بھی اتفاق کیا گیا، جبکہ باہمی تعلقات میں اضافے اور سفارت کاروں کی واپسی کے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بحالی کی خبر کو عالم اسلام میں ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوامی رابطے کی ویب سائٹوں پر عام لوگوں کے مثبت تبصروں کے علاوہ کئی مسلم ملکوں نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کا خیرمقدم تو کیا ہے، مگر ساتھ ہی کچھ خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چین کا اہم کردار ہے، مگر سعودی عرب اور ایران کی قیادتوں کی رضا مندی کے بغیر یہ ناممکن تھا۔ ایران کے موجودہ صدر ابراہیم رئیسی اور سعودی عرب کے حکمراں شہزادہ محمد بن سلمان کی طرز حکمرانی میں ہی شاید یہ ممکن بھی تھا۔

سلمان اور رئیسی کے اقدامات

محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے کئی ایسے قدم اٹھائے ہیں، جن پر عالم اسلام میں مختلف رد عمل سامنے آئے ہیں ان کے کچھ اقدامات کو لوگوں نے سراہا ہے تو کچھ فیصلوں پر تنقید بھی کی ہے۔ وہیں صدر ابراہیم رئیسی کے ذریعہ ایران کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کئے جانے والے اقدامات سے امید کی کرن پیدا ہوئی۔ خاص طور پر انھوں نے مختلف عرب ممالک کے ساتھ رشتوں پر جمی برف پگھلانے کی کوشش کی۔

ابراہیم رئیسی نے آتے ہی اعلان کیا تھا کہ خلیجی ملکوں سمیت ہمسایہ ریاستوں سے تعلقات میں بہتری تہران کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خود ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے بھی کہا تھا کہ ’مسلم دنیا اور خطے کے دو اہم ملک سعودی عرب اور ایران علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی خاطر تعمیری مذاکرات کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔‘ اسی طرح سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ ان کا ملک ایرانی صدر کی کاوشوں کو زمینی حقائق میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔‘ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تعلقات بحالی میں چین سے زیادہ دونوں ملکوں کی قیادت کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ یعنی جب خود ٹھان لیا کہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنا ہے تو ممکن ہو گیا۔

اس سے پہلے کشیدہ تعلقات کے حامل دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان 2021ء میں مذاکرات کا سلسلہ چل رہا تھا، مگر مارچ 2023ء میں بغیر کسی وجہ کے تعطل کا شکار ہو گیا۔ در اصل سعودی عرب میں مختلف سنگین جرائم میں ملوث 81؍ افراد کے سرقلم کر دئے گئے۔ الزام تھا کہ اس میں ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں پھانسیوں کے بعد ایران سمیت مختلف ملکوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ ایران نے مملکت میں اجتماعی پھانسیوں کو ’انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جس پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دوبارہ کشیدہ ہوگئے۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب سعودی عرب نے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کو 2016ء میں سزائے موت دی، جس پر ایران کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ پھانسی کی مذمت میں تہران اور مشہد کے اندر واقع سعودی عرب کے سفارتی مشن پر حملے کیے گئے۔ مسلکی اعتبار سے بھی دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کا مخالف مانا جاتا ہے۔

شیعہ اکثریتی ایران اور سنی اکثریتی سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں مختلف تنازعات میں ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔ یمن اور شام اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں جاری تنازعات اور انتشار کا محور یہی دونوں ملک رہے ہیں۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور طاقت آزمائی نے پورے خطے کے امن کو تہہ و بلا کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے مفادات کی خاطر امریکہ، یورپ اور دیگر عالمی طاقتوں کو یہاں پنپنے دینے میں انہی دونوں ملکوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ اب جبکہ عالم اسلام کی ان دو بڑی طاقتوں نے تعلقات بحالی کا فیصلہ کیا ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ نہ صرف خطہ میں، بلکہ عالم اسلام میں ایک نئی فضا قائم ہوگی۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) [email protected]

ہماچل حکومت کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے کام روکنے کی تجویز پر واک آؤٹ کیا

0
ہماچل حکومت کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے کام روکنے کی تجویز پر واک آؤٹ کیا
ہماچل حکومت کے جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن نے کام روکنے کی تجویز پر واک آؤٹ کیا

اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو روکنے کے معاملے میں وزیر اعلی سکھویندر سکھو نے کہا کہ اگر تمام ادارے کھول دیے جائیں تو کل قرضہ 91 ہزار کروڑ روپے ہو جائے گا

شملہ: ہماچل پردیش اسمبلی کے اجلاس کے پہلے دن وقفہ سوالات سے پہلے اپوزیشن نے ضابطہ67 کے تحت کام روکو تجویز اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایریا ڈویلپمنٹ ایم ایل اے فنڈ کی آخری قسط جاری کرنے سے متعلق ایوان میں بحث کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد ایوان میں ہنگامہ ہوا اور اپوزیشن نے بے نتیجہ بحث کے درمیان ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

بی جے پی ایم ایل اے وپن سنگھ پرمار نے کہا کہ ہمیں ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کی آخری قسط سے محروم کردیا ہے۔ اختیاری گرانٹ بھی روک دی گئی ہیں۔ مسٹر پرمار نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو ملنے والے فنڈز کے لیے نوٹس دیے گئے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کے دور میں ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو بڑھا کر 2 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اب مارچ آگیا ہے۔ ابھی تک تیسری قسط نہیں دی گئی۔ نو ایم ایل اے نے یہ تجویز رول 67 کے تحت دی تھی۔

موجودہ حکومت پر الزام لگاتے ہوئے مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ حکومت بدلنے کے بعد کانگریس نے یہ رقم روک لی۔ بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایم ایل اے کو ترقی کے لیے دی جانے والی رقم روک دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی ذمہ داری پوری ذمہ داری سے نبھائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ ​​جیرام حکومت نے ایم ایل اے کے علاقوں کی ترقی کے لئے ایم ایل اے فنڈ کا التزام کیا تھا۔ سکھو حکومت نے اسے ختم کر دیا ہے۔ اس پر بحث ہونی چاہیے، لیکن حکمراں جماعت کے پارلیمانی وزیر ہرش وردھن چوہان نے کہا کہ یہ تجویز اپوزیشن نے ایک گھنٹہ پہلے دی تھی۔ جس پر حکم جاری کیا جائے گا۔ جس پر اپوزیشن نے ہنگامہ شروع کر دیا ہے۔

اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایم ایل اے ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ کو روکنے کے معاملے میں وزیر اعلی سکھویندر سکھو نے کہا کہ اگر تمام ادارے کھول دیے جائیں تو کل قرضہ 91 ہزار کروڑ روپے ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست معاشی بحران سے گزر رہی ہے۔ اگر ہم مالیاتی نظم و ضبط پر قائم نہیں رہے تو پریشانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کام روکو تجویز تب آتی ہے جب کوئی آفت آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر اگنی ہوتری کا یہ کہنا درست ہے کہ اگر وہ چیمبر میں بیٹھتے تو یہ مسئلہ حل ہو جاتا۔ حکومت نظام بدل رہی ہے۔ اگر کام روکو تجویز کو ارکان اسمبلی کے فنڈز کے ساتھ جوڑتے ہیں تو یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ ہمارے ایم ایل ایز کو بھی عوام نے منتخب کیا ہے۔