پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 192

ایک ظالم ماں نے اپنے کمسن بچہ کا قتل کرکے پکا کر کھالیا

0
ایک ظالم ماں نے اپنے کمسن بچہ کا قتل کرکے پکا کر کھالیا
ایک ظالم ماں نے اپنے کمسن بچہ کا قتل کرکے پکا کر کھالیا

عینی شاہدین کے مطابق ظالم ماں نے اپنے 5 سالہ بچے کو قتل کر کے اس کی لاش کے نہ صرف ٹکڑے کیے بلکہ اسے پکا کر کھا بھی لیا

قاہرہ: مصر میں اپنا ہی 5 سالہ بیٹے کو قتل کرنے کے بعد اسے پکا کر کھانے والی سفاک ماں سے متعلق اس کے سابق شوہر اور بچے کے والد نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔


مصری میڈیا کے مطابق مقتول بچے کے والد کا اپنے بیٹے کے سفاکانہ قتل کے بعد بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا شادی کے 3 سال بعد پیدا ہوا تھا اور ان کی سابق بیوی ذہنی لحاظ سے بالکل ٹھیک ہے جو اپنے بیٹے کو قتل کرتے وقت مکمل ہوش و حواس میں تھی۔


مقتول بچے کے والد نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے درمیان 4 سال قبل اس بات پر علیحدگی ہوگئی تھی کہ خاتون چاہتی تھی کہ میں اپنا گھر اور خاندان کو چھوڑ کر اس کے ساتھ اس کی والد کی زمین پر رہوں، لیکن میں اس پر راضی نہیں تھا۔


غمزدہ باپ نے بتایا کہ ہمارے درمیان تعلقات اس کی رضامندی سے ختم ہوئے اور میں نے علیحدگی کے بعد اسے واپس لانے کی کوشش کی تاہم اس نے انکار کر دیا جس کے بعد ہمارے درمیان طلاق ہوگئی تھی۔


بچے کے والد یہ بھی بتایا کہ اس کی سابقہ بیوی کافی عرصے سے اسے اپنے بیٹے سے ملنے نہیں دے رہی تھی اور وہ اس سلسلے میں خاندان سے بات چیت جاری رکھے ہوئے تھے لیکن اس نے مجھے سے بدلہ لینے کے لیے میرے پانچ سالہ بیٹا کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔


دوسری جانب مقتول بچے کے والد کے وکیل ڈاکٹر سمیر محمد صالح کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ ’’میں نے سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا کیوں کہ میں اس کے والد سے بدلہ لینا چاہتی تھی جو اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔‘‘ جب کہ ملزمہ نے اس واقعے پر کسی پچھتاوے کا بھی اظہار نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذہنی مسائل کے امکان کے تحت ملزمہ کا طبی معائنے کیا جارہا ہے۔


واضح رہے کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ مصر کی شرقیہ گورنری کے فاقوس پولیس سینٹر سے منسلک ابو شلبی گاؤں میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سفاک ماں نے اپنے 5 سالہ بچے کو قتل کر کے اس کی لاش کے نہ صرف ٹکڑے کیے بلکہ اسے پکا کر کھا بھی لیا۔

نفرت انگیز تقریر پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم: جماعت اسلامی ہند

0
نفرت انگیز تقریر پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم: جماعت اسلامی ہند
نفرت انگیز تقریر پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم: جماعت اسلامی ہند

نفرت انگیز تقریر پر دیئے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم کے مطابق کام کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا تاخیر کو توہین عدالت کے طور پر دیکھا جائے گا اور غلطی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی

نئی دہلی: "ہم سپریم کورٹ کے جسٹس کے ایم جوزف اور بی وی آئی ناگ رتنا کے ذریعہ نفرت انگیز تقریر پر دیئے گئے فیصلے کا نوٹس لیتے ہیں۔ ملک میں نفرت پھیلانے، ووٹ حاصل کرنے اور اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جان بوجھ کر نفرت انگیز تقاریر کرنا کچھ لوگوں کی عادت بن گئی ہے، جس کی وجہ سے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ یہ باتیں نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر سلیم انجینئر نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہیں۔


انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نفرت انگیز تقاریر اور بیانات پر قابو پانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی اور کوتاہیوں کے پیش نظر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جماعت اسلامی ہند اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ نفرت کو بھڑکانے والی تقریر یا ملک کے امن کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی بیان ایک سنگین جرم ہے جو ملک کے سیکولر تشخص اور اتحاد کے تانے بانے کو متاثر کرتا ہے۔ فیصلے میں درست کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم کے مطابق کام کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا تاخیر کو توہین عدالت کے طور پر دیکھا جائے گا اور غلطی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔


پروفیسر سلیم نے کہا کہ "جماعت اسلامی ہند کو امید ہے کہ ریاستیں نفرت انگیز تقریر کے واقعات پر ایف آئی آر درج کریں گی اور کسی کی شکایت درج کرنے کا انتظار کیے بغیر قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں گی۔” اگر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تمام ریاستوں میں نافذ کر دیا جائے تو ملک نفرت انگیز تقاریر کی لعنت سے چھٹکارا پا سکتا ہے۔

لدھیانہ کے غیاث پورہ میں گیس لیکج سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سمیت 11 ہلاک

0
لدھیانہ کے غیاث پورہ میں گیس لیکج سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سمیت 11 ہلاک
لدھیانہ کے غیاث پورہ میں گیس لیکج سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سمیت 11 ہلاک

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے گیس لیکج کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لدھیانہ کے غیاث پورہ علاقے میں فیکٹری میں گیس لیکج کا واقعہ انتہائی دردناک ہے، پولیس، انتظامیہ اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں، ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے

لدھیانہ: پنجاب میں لدھیانہ کے غیاث پورہ علاقے میں اتوار کو ایک فیکٹری میں گیس لیکج کے واقعہ کی وجہ سے 11 لوگوں کی موت ہو گئی۔  جبکہ دو کی حالت نازک ہے جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد، دو بچے اور چھ خواتین شامل ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مرنے والوں میں سے چھ کی شناخت سورو (35)، ورشا (35)، آرین (10)، ابھے (13)، کپلیش (40) اور چلو (16) کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی شناخت نتن (40) اور گورو (50) کے طور پر کی گئی ہے۔ زخمیوں کو اسپتال لے جایا گیا۔ گیس لیک ہونے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ایک ٹیم ریسکیو آپریشن کے لیے موقع پر پہنچ گئی ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہ واقعہ صبح 8.45 بجے کے قریب اس وقت سامنے آیا جب علاقے میں گشت کرنے والی پی سی آر ٹیم نے کچھ لوگوں کو سڑک پر بے ہوش پڑے پایا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لوگوں کو اسپتال پہنچانا شروع کیا۔ گیس کی بو اتنی شدید ہے کہ وہاں کھڑا ہونا مشکل ہے۔ اس دوران ایک پولیس اہلکار بھی گیس کے اثر سے بے ہوش ہو گیا تھا جس کا علاج جاری ہے۔

لدھیانہ میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر جسپال سنگھ غیاث پورہ نے کہا کہ غیاث پورہ علاقے میں 30 فٹ روڈ پر واقع ایک مکان میں دودھ سے متعلق مصنوعات بنانے والے ایک یونٹ سے گیس کا اخراج ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہاں نصب بڑے فریجوں سے گیس کا اخراج ہوا ہو کیونکہ زیادہ تر اموات واقعہ والے گھر میں ہوئیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد 11 یا 12 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایس ڈی ایم لدھیانہ ویسٹ سواتی نے کہا کہ یقینی طور پر یہ گیس لیک ہونے کا معاملہ ہے۔ لوگوں کو نکالنے کے لیے این ڈی آر ایف کی ٹیم موقع پر موجود ہے اور بچاؤ کام کرے گی۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے گیس لیکج کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لدھیانہ کے غیاث پورہ علاقے میں فیکٹری میں گیس لیکج کا واقعہ انتہائی دردناک ہے، پولیس، انتظامیہ اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں، ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر آف پولیس سمیر ورما، این ڈی آر ایف اور فائر ڈپارٹمنٹ کے اہلکار موقع پر موجود ہیں اور 300 میٹر تک کے پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو متاثرہ علاقے میں آنے جانے سے سے روک دیا گیا ہے۔ جو بھی گیس لیکج کے 300 میٹر کے علاقے میں جو بھی شخص جا رہا ہے، اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔ ایمبولینسیں بھی موقع پر پہنچ گئی ہیں اور بے ہوش افراد کو وہاں سے لے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔

افغانستان میں خواتین ملازمین پر پابندی کی اقوام متحدہ نے مذمت کی

0
افغانستان میں خواتین ملازمین پر پابندی کی اقوام متحدہ نے مذمت کی
افغانستان میں خواتین ملازمین پر پابندی کی اقوام متحدہ نے مذمت کی

قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ افغان خواتین پر اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے پر پابندی انسانی حقوق اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہے

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل افغانستان میں عالمی ادارے کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر پابندی کی مذمت میں آج ایک قرارداد کی منظوری دے رہی ہے۔


اس میں طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین اورلڑکیوں کے حقوق کے خلاف تشدد کو فوری طور پر واپس لے۔


اس قرارداد کا مسودہ متحدہ عرب امارات اور جاپان نے تیارکیا ہے جس میں طالبان کی افغان خواتین پر پابندی کو اقوام متحدہ کی تاریخ میں بے مثال قراردیا گیا ہے اور افغان معاشرے میں خواتین کے ناگزیر کردار پر زوردیا گیا ہے۔


سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ اسے منظور کرلیا جائے گا۔ پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں کسی بھی قرارداد کے حق میں کم سے کم نو ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پانچ مستقل رکن ممالک روس، چین، امریکہ، برطانیہ یا فرانس کی جانب سے کوئی ویٹو نہیں ہونا چاہیے۔


قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ افغان خواتین پر اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے پر پابندی انسانی حقوق اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔


اس ماہ کے اوائل میں طالبان نے اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس سے قبل دسمبر میں انسانی بنیادوں پر امدادی گروپوں کے لیے کام کرنے والی زیادہ تر خواتین کو روک دیا گیا تھا۔
طالبان نے اگست 2021 میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے اور اقتدارمیں آنے کے بعد عوامی زندگی میں خواتین کی رسائی پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں جن میں خواتین کو تعلیم کے لیے یونیورسٹی جانے سے روکنا اور لڑکیوں کے ہائی اسکول بند کرنا بھی شامل ہے۔


طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی قانون کی سخت تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں اور خواتین امدادی کارکنوں سے متعلق فیصلے اندرونی معاملہ ہیں۔


سلامتی کونسل کی قرارداد کے مسودے میں تمام فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صنف سے قطع نظرمکمل، تیز رفتار، محفوظ اور بلا روک ٹوک انسانی رسائی کی اجازت دیں اس کے علاوہ، افغانستان میں سنگین معاشی اور انسانی صورت حال سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

کانگریس نے امت شاہ سمیت کئی بی جے پی لیڈروں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیز تقریریں کرنے پر شکایت درج کرائی

0
کانگریس نے امت شاہ سمیت کئی بی جے پی لیڈروں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیز تقریریں کرنے پر شکایت درج کرائی
کانگریس نے امت شاہ سمیت کئی بی جے پی لیڈروں کے خلاف مبینہ اشتعال انگیز تقریریں کرنے پر شکایت درج کرائی

کانگریس نے پولیس اور الیکشن کمیشن سے مسٹر شاہ اور دیگر لیڈروں کی نفرت انگیز تقریر کے لیے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کی ہے

بنگلور: کانگریس لیڈر رندیپ سنگھ سرجے والا اور کرناٹک کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار نے جمعرات کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دیگر لیڈروں کے خلاف ریاست میں اپنی حالیہ ریلی کے دوران منافرت پھیلانے اور اشتعال انگیز تقریریں کرنے کے سلسلے میں پولیس میں مقدمہ درج کرایا۔


کانگریس کے سرکردہ لیڈروں نے مسٹر امت شاہ کے خلاف ہائی گراؤنڈ تھانے میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ بی جے پی لیڈر نے اپنی ریلی کے دوران اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں، بدامنی اور نفرت پھیلایا ہے اور اپوزیشن کو بدنام کیا ہے۔ یہ شکایت 25 اپریل کے واقعہ کے حوالے سے ہے، جب مسٹر شاہ نے کئی دیگر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ کرناٹک کے وجئے پورہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔


شکایت میں کہا گیا ہے، "امت شاہ نے جھوٹے بیانات پر مبنی تقریر کی جس کا مقصد جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر کانگریس کی شبیہ کو خراب کرنا تھا، جس کا مقصد لوگوں کی بھیڑ اور دیگر میڈیا پلیٹ فارم پر تقریر دیکھنے والے افراد میں فرقہ وارانہ تفریق پیدا کرنا تھا”۔ کانگریس نے پولیس سے مسٹر شاہ اور دیگر بی جے پی لیڈروں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153، 505(2)، 171G اور 120B کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


کانگریس لیڈروں نے شکایت میں یہ بھی کہا ہے کہ مسٹر امت شاہ نے جان بوجھ کر کرناٹک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کے ارادے سے کانگریس اور اس کے سینئر لیڈروں کے خلاف کئی جھوٹے اور فرقہ وارانہ الزامات لگائے ہيں۔


شکایت میں کہا گیا ہے، "مسٹر امت شاہ نے یہ بیانات مخصوص طبقے یا برادری کے لوگوں کو دوسرے طبقے یا برادری کے خلاف جرم کرنے کے لیے اکسانے کے لیے دیے ہیں اور یہ تعزیرات ہند کی دفعہ 505 اور دیگر دفعات کے تحت قابل سزا جرم ہے۔”


کانگریس نے پولیس اور الیکشن کمیشن سے مسٹر شاہ اور دیگر لیڈروں کی نفرت انگیز تقریر کے لیے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کی ہے۔ شکایت کے ساتھ کانگریس نے مبینہ اشتعال انگیز تقریر کی ویڈیو کا لنک بھی منسلک کیا ہے۔

سینسیکس میں 170 اور نفٹی میں 44 پوائنٹس کا اضافہ

0
سینسیکس میں 170 اور نفٹی میں 44 پوائنٹس کا اضافہ
سینسیکس میں 170 اور نفٹی میں 44 پوائنٹس کا اضافہ

30 شیئرز پر مشتمل بی ایس ای سینسیکس 169.87 پوائنٹس بڑھ کر 60300.58 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 44.35 پوائنٹس بڑھ کر 17813.60 پوائنٹس پر پہنچ گیا

ممبئی: عالمی بازار سے منفی اشارے کے درمیان ہیلتھ کیئر، ریئلٹی، ایف ایم سی جی، پاور اور یوٹیلٹی جیسے گھریلو اسٹاک میں خرید کی وجہ سے ایکویٹی مارکیٹ آج لگاتار پانچویں دن بڑھنے میں کامیاب رہی۔


30 شیئرز پر مشتمل بی ایس ای سینسیکس 169.87 پوائنٹس بڑھ کر 60300.58 پوائنٹس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) نفٹی 44.35 پوائنٹس بڑھ کر 17813.60 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ اس دوران درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں میں زبردست خریدار ہوئی جس کی وجہ سے بی ایس ای مڈ کیپ 0.27 فیصد بڑھ کر 25028.96 پوائنٹس اور اسمال کیپ 0.34 فیصد بڑھ کر 28479.34 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔


بی ایس ای میں شامل گروپ میں، آئی ٹی میں 8.76 فیصد اور ٹیک میں 8.67 فیصد کمی آئی، جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن میں 2.74 فیصد کمی ہوئی۔ اس مدت کے دوران ریئلٹی میں 8.37 فیصد، ایف ایم سی جی میں 4.23 فیصد، ہیلتھ کیئر میں 4.68 فیصد، پاور میں 4.22 فیصد اور یوٹیلٹی میں 4.07 فیصد اضافہ ہوا۔


بی ایس ای میں کل 3631 کمپنیوں کا کاروبار ہوا، جن میں سے 1914 کمپنیوں میں اضافہ جبکہ 1578 میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ 139 کمپنیوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔


عالمی سطح پر، برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.26 فیصد، جرمنی کے ڈیکس میں 0.53 فیصد، جاپان کےنکئی میں 0.71 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.02 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ اس عرصے کے دوران ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 0.71 فیصد اضافہ ہوا۔

چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کے حملے میں ڈرائیور سمیت 11 جوانوں کی موت، چند دیگر زخمی

0
چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کے حملے میں ڈرائیور سمیت 11 جوانوں کی موت، چند دیگر زخمی
چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کے حملے میں ڈرائیور سمیت 11 جوانوں کی موت، چند دیگر زخمی

واقعہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 50 کلومیٹر دور جنگلاتی علاقہ میں بتایا گیا ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد ریاست میں نکسلیوں کے حملے میں اتنی بڑی تعداد میں سلامتی دستہ کے جوان شہید ہوئے ہیں

دنتے واڑہ: چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ ضلع دنتے واڑہ میں گشت سے واپس لوٹتے ہوئے فوجی جوانوں کی گاڑیوں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ جس میں سکیورٹی فورس کے 11 اہلکار شہید اور چند دیگر جوان زخمی بھی ہوگئے۔

پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق ضلع کے آرن پور علاقے میں گشت سے واپس آنے والے سلامتی دستہ کے اہلکار آج دوپہر واپس آرہے تھے کہ ان کی گاڑی کو نکسلیوں نے دھماکے سے اڑا دیا، جس میں گاڑی کے ڈرائیور سمیت 11 فوجی جوانوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ کچھ جوانوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

واردات کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینس کے ساتھ سکیورٹی فورس کے اضافے دستے موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ واقعہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 50 کلومیٹر دور جنگلاتی علاقہ میں بتایا گیا ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد ریاست میں نکسلیوں کے حملے میں اتنی بڑی تعداد میں سلامتی دستہ کے جوان شہید ہوئے ہیں۔

حج اخراجات کی دوسری قسط جمع کرنے کی تاریخ میں توسیع

0
حج اخراجات کی دوسری قسط جمع کرنے کی تاریخ میں توسیع
حج اخراجات کی دوسری قسط جمع کرنے کی تاریخ میں توسیع

دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی چیئر پرسن محترمہ کوثر جہاں کی جانب سے جاری پریس بیانیہ کے مطابق حج بیت اللہ 2023 کے اخراجات کی دوسری قسط 1,70,000.00 (ایک لاکھ ستر ہزار) روپیے جمع کرنے کی تاریخ میں توسیع کردی ہے

نئی دہلی: دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی چیئر پرسن محترمہ کوثر جہاں کی جانب سے جاری پریس بیانیہ کے مطابق حج بیت اللہ 2023 کے اخراجات کی دوسری قسط 1,70,000.00 (ایک لاکھ ستر ہزار) روپیے جمع کرنے کی تاریخ میں توسیع کردی ہے۔ جس کا اعلان حج کمیٹی آف انڈیا نے اپنے سرکلر نمبر 12 کے ذریعے کردیا ہے۔ اب یہ رقم 28/اپریل 2023 تک جمع کرائی جا سکتی ہے۔ پہلے یہ تاریخ24/اپریل2023 مقرر کی گئی تھی۔

محترمہ کوثر جہاں نے ان تمام عازمین سے گذارش کی ہے جنہوں نے اب تک دوسری قسط جمع نہیں کی ہے وہ جلد سے جلد جمع کرادیں اور رقم جمع کرنے کے بعد اس کی رسید دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے دفتر میں جمع کرنے کی بجائے وہ اسے اپنے پاس ہی محفوظ رکھیں۔ مزید تفصیلات کے لیے دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے فون نمبر011-23230507پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

مکل رائے کے بی جے پی میں لوٹنے کے اعلان کے باوجود بنگال بی جے پی ان کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے حق میں

0
مکل رائے کے بی جے پی میں لوٹنے کے اعلان کے باوجود بنگال بی جے پی ان کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے حق میں
مکل رائے کے بی جے پی میں لوٹنے کے اعلان کے باوجود بنگال بی جے پی ان کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے حق میں

اب بی جے پی کی ریاستی یونٹ نے فیصلے کا اعلان کیا ہے کہ وہ مکل رائے کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں، کسی بھی صورت میں اس درخواست کو واپس نہیں لیا جائے گا

کلکتہ: مغربی بنگال کی سیاست میں ایک زمانے میں چانکیہ کہے جانے والے مکل رائے بنگال کی سیاست میں اب اس قدر غیر اہم ہوچکے ہیں کہ ان کے بی جے پی میں لوٹنے کے اعلان کے باوجود بی جے پی ان کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے۔ اب بی جے پی کی بنگال قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسمبلی سے ان کی رکنیت برطرف کرانے کی درخواست واپس نہیں لی جائے گی۔


2021 کے اسمبلی انتخابات میں ندیا ضلع کے کرشنا نگر شمال سے بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب جیتنے کے چند مہینوں بعد ہی ترنمول کانگریس میں دوبارہ شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی بی جے پی ان کے خلاف دل بدلو قانون کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ تاہم ان کی سیاسی سرگرمیاں محدود ہوتی چلی گئی۔ وہ مسلسل سیاست سے کنارہ کش تھے مگر دو ہفتے قبل وہ اچانک نئی دہلی جاکر خبرو ں میں لوٹ گئے۔

ایک طرف ان کے بیٹے سبھرانشو نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد بیمار ہیں، ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ انہیں سازش کے تحت اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایف آئی آر بھی درج کرائی۔ مگر دہلی پہنچ کر مکل رائے نے پریس کانفرنس کی کہ وہ بی جے پی کا حصہ ہیں۔ آئندہ بھی بی جے پی میں رہیں گے۔ تاہم نئی دہلی میں ان کی بی جے پی کے کسی اعلیٰ لیڈر سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔


اب بی جے پی کی ریاستی یونٹ نے فیصلے کا اعلان کیا ہے کہ وہ مکل رائے کی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کے اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔ کسی بھی صورت میں اس درخواست کو واپس نہیں لیا جائے گا۔


ترنمول کانگریس میں مکل رائے کی واپسی کے بعد اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے مکل رائے کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسپیکر بیمن بنرجی سے اپیل کی تھی۔ اس معاملے کو لے کر کلکتہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم شوبھندو ادھیکاری کی درخواست ابھی بھی عدالت میں زیر التوا ہے۔ لیکن مکل رائے چاہے کتنی ہی نئی دہلی چلے جائیں، بنگال بی جے پی کے لیڈر انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔


اس دوران انہوں نے نئی دہلی سے ایک پریس کو بتایا کہ انہیں ترنمول کانگریس میں کام کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ اس لیے بی جے پی میں واپسی چاہتے ہیں۔ تاہم، مکل کے تبصرے کے تناظر میں، بی جے پی کے ریاستی صدر سوکانت مجمدار نے اس معاملے کو ٹال دیا اور کہا کہ مکل رائے جب پارٹی چھوڑ کر گئے تھے تو مرکزی کمیٹی کے نائب صدر تھے۔ اس لیے ان کے بارے میں مرکزی قیادت فیصلہ کرے گی۔ اور اسمبلی میں اپوزیشن پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ وہ پارٹی سے منحرف ہونے والے کسی ایم ایل اے کو لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مکل رائے کے حوالے سے یہ موقف بالکل واضح ہے۔


دوسری طرف مکل رائے اب بھی نئی دہلی میں پڑے ہیں۔ لیکن اب تک کسی مرکزی لیڈر نے ان سے ملاقات نہیں کی ہے۔ اس کے بعد ہی بنگال بی جے پی نے اپنے پرانے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر سبویندو ادھیکاری کے دفتر نے میڈیا کو بتایا، ”درخواست واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“

عتیق کے کربلا واقع منہدم دفتر میں ملے خون کے نشان، علاقے میں ہلچل

0
عتیق کے کربلا واقع منہدم دفتر میں ملے خون کے نشان، علاقے میں ہلچل
عتیق کے کربلا واقع منہدم دفتر میں ملے خون کے نشان، علاقے میں ہلچل

ذرائع نے بتایا کہ خون کے دھبے عتیق کے نچلی منزل سے لے کر دوسری منزل کے کمروں، کچن اور سیڑھیوں پر ہیں۔ کچن میں رکھا سامان پھیلا ہوا ہے۔ ایک کمرے میں صوفے پر خاتون کے کپڑے پر بھی خون کے نشان ہیں

پریاگ راج: شہ زور لیڈر و سابق ایم پی عتیق احمد اور ان کے بھائی سابق ایم ایل اے اشرف کے قتل کے آٹھ دن بعد خلد آباد تھانہ کے کربلا واقع منہدم کئے گئے دفتر میں اتوار کی دیر رات خون کے نشان اور چاقو ملنے سے علاقے میں ہلچل مچ گئی۔


پریاگ راج ڈی سی پی دیپک بھوکر نے بتایا کہ کربلا واقعہ منہدم کئے گئے دفتر میں خون کے نشان ملے ہیں۔ وہاں پر ایک چاقو بھی برآمد کیا گیا ہے۔ فورنسک ٹیم نے موقع سے شواہد جمع کئے ہیں۔ اس کی ابتدائی رپورٹ آنے کے بعد ہی حقیقت کا پتہ چل سکتا ہے۔ ایک کمرے میں پیچھے کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا ملا ہے اس طرف سے بھی کسی کے اندر آنے کا امکان ہے۔ سبھی نکات پر جانچ کی جارہی ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ خون کے دھبے نچلی منزل سے لے کر دوسری منزل کے کمروں، کچن اور سیڑھیوں پر ہیں۔ کچن میں رکھا سامان پھیلا ہوا ہے اور ہیٹر سمیت دوسری تمام اشیاء ٹوٹے پڑے ملے ہیں۔ ایک کمرے میں صوفے پر خاتون کے کپڑے پر بھی خون کے نشان ہیں۔