منگل, مئی 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 192

میرٹھ: دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ میں دو کی موت

0
میرٹھ: دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ میں دو کی موت
میرٹھ: دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ میں دو کی موت

پولیس نے پیر کو یہاں بتایا کہ کھرکھودا تھانہ علاقے کے مسلم اکثریتی گاؤں سلیم پور میں اتوار کی رات دو گروپوں کے اقبال اور معراج فریق کے بچوں میں آپسی کہا سنی ہوگئی تھی۔ گاؤں کے لوگوں نے دونوں فریقین کو سمجھا کر معاملہ کسی طرح پر امن کرادیا تھا۔

میرٹھ: اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں اتوار کی دیر رات دو گروپوں کے درمیان ہوئے پرتشدد جھڑپ میں ایک خاتون سمیت دو افراد کی موت ہوگئی۔


دونوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے اہل خانہ کو سونپ دیا گیا ہے۔ جہاں آج آخری رسوم کی ادائیگی کے وقت مشتعل افراد نے ہنگامہ کرتے ہوئے پتھراؤ کیا لیکن موقع پر موجود پولیس نے حالات پر فورا ہی قابو پالیا۔ احتیاط کے طور پر گاؤں میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔


پولیس نے پیر کو یہاں بتایا کہ کھرکھودا تھانہ علاقے کے مسلم اکثریتی گاؤں سلیم پور میں اتوار کی رات دو گروپوں کے اقبال اور معراج فریق کے بچوں میں آپسی کہا سنی ہوگئی تھی۔ گاؤں کے لوگوں نے دونوں فریقین کو سمجھا کر معاملہ کسی طرح پر امن کرادیا تھا۔


اتوار کو روزہ افطار کے بعد رات میں سب لوگ گاؤں کی مسجد کے باہر نماز کے لئے جمع ہوئے تو دونوں فریقین بھی وہاں پہنچ گئے اور آمنے سامنے آگئے۔ کچھ ہی دیر میں کہا سنی پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہوگئی اور ایک فریق نے فائرنگ شروع کردی۔ اس دوران دوسرے فریق سے دود کاروباری معراج (35) گولی لگنے سے بری طرح زخمی ہوگئے۔


معراج فریق کی جانب سے کی گئی فائرنگ میں پہلے فریق کے اقبال کی بیوی افروزہ (45) زخمی ہوگئیں۔ دونوں زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے آج دونوں کے مکانات پر دبش دی لیکن سبھی لوگ فرار ملے ہیں۔

بلی نے الجزائری امام کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دلوا دیا

0
بلی نے الجزائری امام کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دلوا دیا
بلی نے الجزائری امام کو ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دلوا دیا

الجزائری امام کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو نہیں کی اور نہ وہ اس سلسلے میں مزید کوئی بات کریں گے۔ جو کچھ ہوا بے ساختہ تھا۔ یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں جس پر کوئی بیان دیا جائے

الجیرس: الجزائر میں امام مسجد کو دوران تراویح کندھے پر چڑھنے والی بلی سے حسن سلوک نے انہیں اعلیٰ ترین ملکی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔


گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر الجزائر کی مسجد ابوبکر صدیق میں تراویح کے دوران بلی کے امام مسجد کے کندھے پر چڑھنے اور اٹھکھیلیاں کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کو دنیا بھر کے صارفین نے بے حد سراہا تھا۔


ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ بلی کے کندھے پر چڑھنے کے باوجود امام مسجد ولید مھساس کے نماز میں خشوع اور خضوع میں کمی نہیں آئی۔ بلی امام مسجد کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرتی رہی اس دوران امام مسجد قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے اور انہوں نے بلی کو کندھے سے اتارنے کی کوشش کے بجائے عبادت جاری رکھتے ہوئے اسے ہاتھ سے پیار کیا۔ بلی رکوع میں جانے سے قبل اچانک خود ہی امام مسجد کے کندھے سے اتر کر چلی گئی۔


سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں سمیت ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو دیکھا اور امام کے اس مشفقانہ اقدام کو خوب سراہا بھی گیا۔
بلی کے ساتھ اس حسن سلوک پر امام مسجد الشیخ ولید مہساس کو حکومت الجزائر کی جانب سے استقبالیہ دیا گیا اور وزیر مذہبی امور ڈاکٹر یوسف بیلمہدی نے باضابطہ خود امام سے ملاقات کرکے ان کے حسن سلوک کی تعریف کی اور انہیں ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا۔


اس حوالے سے امام مسجد ولید مھساس نے فیس بک پر شیئر کیے جانے والے پیغام میں بتایا کہ بلی اچانک آکر ان کے کندھے پر بیٹھ گئی تھی۔ ہمارا مذہب اسلام جانوروں کے ساتھ بھی پیار اور نرمی کا سبق دیتا ہے۔ اس لیے میں نے اسے ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ میری کوشش تھی کہ وہ ایسے ہی سکون سے بیٹھی رہے۔‘


الجزائری امام کا کہنا تھا کہ ’اس واقعے کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو نہیں کی اور نہ وہ اس سلسلے میں مزید کوئی بات کریں گے۔ جو کچھ ہوا بے ساختہ تھا۔ یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں جس پر کوئی بیان دیا جائے۔ بعض لوگ سوشل میڈیا پر میرے نام سے بیان جاری کر رہے ہیں جو کہ غلط ہے۔


واضح رہے کہ شیخ ولید مھساس الجزائر کے شہری ہیں۔ مشرقی الجزائر کی ریاست برج بوعریریج کی مسجد ابوبکر صدیق میں امام اور اچھے قاری ہیں۔ حسن قرات کے حوالے سے عمدہ شہرت رکھتے ہیں۔

جنگ بدر میں اصل طاقت ایمان کی تھی: شیخ ابوبکر

0
جنگ بدر میں اصل طاقت ایمان کی تھی: شیخ ابوبکر
جنگ بدر میں اصل طاقت ایمان کی تھی: شیخ ابوبکر

شیخ ابوبکر نے کہا کہ 17/ویں رمضان المبارک کو مذہب اسلام میں حق و باطل کا عظیم معرکہ پیش آیا، جس میں فرشتے زمین پر اترے، اور مسلمانوں کی مدد کی۔ شیخ نے کہا کہ جنگ بدر میں اصل طاقت جذبہ ایثار و استقامت علی الایمان تھی

کالی کٹ: کفر اور اسلام کے درمیان پہلا معرکہ بدر کے مقام پر 2ہجری 17 رمضان المبارک کو ہوا، جس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو شاندار فتح سے نوازا، اور کفر کی کمر توڑ کر کھ دی۔ اسی لئے آج کے دن کو یوم الفرقان کہا جاتا ہے۔ یہ بات مرکز نالج سٹی جامع الفتوح میں بدرالکبریٰ روحانی کانفرنس اور دعوت افطار پروگرام میں جامعہ ثقافتہ السنیہ کے سربراہ شیخ ابوبکر احمد نے کہی۔


انہوں نے کہا کہ 17/ویں رمضان المبارک کو مذہب اسلام میں حق و باطل کا عظیم معرکہ پیش آیا، جس میں فرشتے زمین پر اترے، اور مسلمانوں کی مدد کی۔ شیخ نے کہا کہ جنگ بدر میں اصل طاقت جذبہ ایثار و استقامت علی الایمان تھی۔ اسلام کے تئیں مجاہدین اسلام کے دلوں میں حلاوت ایمانی تھی۔ جو تعداد میں کم تھے لیکن ایمانی طاقت کی بدولت سب پر بھاری تھے۔ شیخ نے کہا کہ مسلمان اپنی ایمانی طاقت کو مضبوط کریں، غیبی تائید سے نصرت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حق و باطل کا عظیم معرکہ جس میں فرشتے زمین پر اترے اور مسلمانوں کی مدد کی۔

قبل ازیں ڈاکٹر عبدالحکیم ازہری نے کہا کہ بدری صحابہ کے اوراد و ذکر مستجاب الدعا ہیں۔ اسلام کا یہ تاریخی واقعہ ہمیں اعلائے کلمۃ الحق کے لئے جان و مال کی قربانی کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نالج سٹی جامع الفتوح میں اس طرح کے پروگرامس کا منعقد ہونا قابل تحسین اقدام ہیں۔


اس موقع پر جامعہ الفتوح میں خصوصی طور پر قائم کردہ خزانہ الآثار کو گرانڈ مفتی آفانڈیا نے کارکنان کو وقف کیا۔اس موقع پر کیرالہ پورٹ میوزیم اور آثار قدیمہ کے وزیر احمد دیور،ایم ایل اے پی ٹے اے رحیم، سید علی بافقیہ، مولانا ای سلیمان، مولانا عبدالقادر، سید فضل کویا سمیت ریاست کی معزز ہستیوں نے شرکت کی۔


واضح رہے کہ مقدس بدری صحابہ کی یاد میں آج یہاں کالی کٹ کیداپوئل مرکزنالج سٹی جامع الفتوح میں بدرالکبریٰ روحانی کانفرنس کا شاندار انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں ریاست بھر کے مشائخ، علما، سادات اور دس ہزار سے زائد روزہ دار افطار کی دعوت میں شریک ہوئے۔ پروگرام کا آغاز جمعہ نماز سے ہوا۔ مختلف سیشن کے اہم پروگرامس جیسے، ذکر اسماء البدرین، خزانۃ الآثار، بدر نشیدہ، محضرۃ البدریہ، ورد الطیف، مجلس توبہ، دعا اسماء الحسنی اور بعد نماز تراویح روحانی اجتماع کا انعقاد ہوا۔

اساتذہ تقرری گھوٹالہ: کمرہ عدالت میں سخت پوچھ تاچھ کرنے کے بعد جج نے ترنمول کانگریس کے جیل میں بند ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ کو چائے پلائی

0
اساتذہ تقرری گھوٹالہ: کمرہ عدالت میں سخت پوچھ تاچھ کرنے کے بعد جج نے ترنمول کانگریس کے جیل میں بند ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ کو چائے پلائی
اساتذہ تقرری گھوٹالہ: کمرہ عدالت میں سخت پوچھ تاچھ کرنے کے بعد جج نے ترنمول کانگریس کے جیل میں بند ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ کو چائے پلائی

عدالت کے ذرائع کے مطابق تقریباً 3.30بجے، مانک کو جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اسے دیکھ کر جج نے پوچھا کہ آپ کو 2016 کی بھرتی کے عمل کے بارے میں کیا معلومات ہے؟

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس ابھیجیت گنگوپادھیائے نے اساتذہ تقرری گھوٹالہ میں جیل میں بند ترنمول کانگریس کے ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ سے کمرہ عدالت میں سخت سوالات کرنے کے بعد چائے پیش کش کی اور سچائی کو سامنے لانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔

کانگریس کے ممبر اسمبلی مانک بھٹاچاریہ سے کمرہ عدالت میں سخت سوالات کرنے کے بعد چائے پیش کش کی اور سچائی کو سامنے لانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔


عدالت کے ذرائع کے مطابق تقریباً 3.30بجے، مانک کو جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اسے دیکھ کر جج نے پوچھا کہ آپ کو 2016 کی بھرتی کے عمل کے بارے میں کیا معلومات ہے؟


مانک نے جواب دیا کہ میں جیل میں ہوں۔ میرے پاس کوئی معلومات یا دستاویزات نہیں ہیں۔ میں اس لیے یہاں آیا ہوں جو مجھے یاد ہے وہی کہہ سکتا ہوں۔


جسٹس: سلیکشن کمیٹی 2016 میں بھرتی کے عمل کے لئے بنائی گئی تھی؟
مانک:جی ہاں مگر یہ فیصلہ کونسل کا تھا۔


جسٹس: کونسل کے سابق صدر کی حیثیت سے آپ کے پاس کیا معلومات ہیں بھرتی کے عمل 2016 کا نتیجہ کس نے جاری کیا؟
مانک: میں یہ نہیں کہہ سکتا۔ خاص طور پر اس سوال کا جواب میرے لیے واضح نہیں ہے۔ بھرتی کے عمل کی کل تعداد مختلف محکموں نے مل کر بنائی ہے۔


جسٹس: کیا نتائج کی تیاری کے لیے کسی بیرونی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں؟
مانک: یہ سارا عمل بورڈ کے زیر انتظام ہے۔ لیکن ہاں، ایک کمپنی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ لیکن اب اس کا نام یاد نہیں رہا۔
جسٹس: ایس باسو رائے اینڈ کمپنی نامی فرم کے بارے میں سنا ہے؟
مانک: ہاں، اس قسم کا نام سنا ہے۔


جسٹس: بطور صدر آپ کے دور میں تقرری کے عمل سے متعلق جو شکایات سامنے آئیں، کیا وہ درست ہیں؟
مانک: اہلیت کا امتحان لیا گیا۔ تب کسی نے شکایت نہیں کی۔ ایسی کوئی رپورٹ میرے علم میں نہیں آئی۔
جسٹس: کیا آپ تصدیق کر سکتے ہیں کہ اس بھرتی کے عمل میں ریزرویشن پالیسی پر عمل کیا گیا؟
مانک: جہاں تک مجھے یاد ہے یہ قانون کے مطابق تھا۔


جج: ٹھیک ہے۔ اب میں اور کچھ نہیں جانتا۔ آپ نے جو بیان دیا ہے اس پر دستخط کریں اور چلے جائیں۔
مانک: لیکن میں نے جو کہا اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ میں نے جو سوچا وہ کہا۔ لیکن جانے سے پہلے میری ایک درخواست ہے۔ اس سے متعلق کسی بھی صورت میں مجھے کال کریں۔ 15 منٹ پہلے کہنا چاہیے تھا۔ میں آئوںگا بعد میں میرے خلاف جو بھی کارروائی ہوگی، میں اسے قبول کروں گا۔
مانک (توقف کرتے ہوئے): میں آپ کو سچ بتانا چاہتا ہوں۔ سچ آسان ہے، سچ خوبصورت ہے۔


جسٹس: کیا کچھ آپ کے خلاف ہوا؟
مانک: جب یہ ٹیسٹ لیا جانا تھا تو کوئی نہیں تھا۔ میں نے دروازے پر دستک دی۔ کسی نے مدد نہیں کی۔ میں آج عدالت میں اسی حالت میں ہوں۔


ہائی کورٹ کے شیرف کو جسٹس: وہ ایک معزز آدمی ہے۔ چائے پلائیں دیکھیں کہ غیر متوقع واقعات رونما نہ ہوں۔ عدالت صرف سچ جاننا چاہتی ہے۔ انہوں نے تعاون کیا ہے۔


سوال و جواب کے سیشن کے اختتام پر جج مانک کو ڈپٹی شیرف کے کمرے میں لے گئے اور اسے چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس دینے کو کہا۔ اس کے بعد جج نے اچانک تبصرہ کیا کہ دسویں چکر میں بھگوان بھی بھوت بن جاتا ہے۔ یہ مانک بھٹاچاریہ ہمارے ڈپٹی شیرف کے استاد تھے۔

رام نومی ختم ہونے کے بعد بھی جلوس نکال کر حالات خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے بی جے پی: ممتا بنرجی

0
رام نومی ختم ہونے کے بعد بھی جلوس نکال کر حالات خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے بی جے پی: ممتا بنرجی
رام نومی ختم ہونے کے بعد بھی جلوس نکال کر حالات خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے بی جے پی: ممتا بنرجی

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ اجازت نہیں ملنے کے باوجود اقلیتی آبادی پر مشتمل علاقے میں جلوس نکالا جا رہا ہے۔ اشتعال انگیز نعرے لگائے جارہے ہیں، بنگال میں امن و امان کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے رام نومی ختم ہو جانے کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں رام نومی کے نام پر جلوس نکالے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد بنگال میں امن و امان کی فضا کو خراب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجازت نہیں ملنے کے باوجود اقلیتی آبادی پر مشتمل علاقے میں جلوس نکالا جا رہا ہے۔ اشتعال انگیز نعرے لگائے جارہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے ریاست کے نوجوانوں کو آگے آکر اس کا خاتمہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قانون شرپسندوں سے سختی سے نمٹنے گی۔


مدنی پور کے کھجوری میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ گزشتہ دنوں رام نومی کے موقع پر بی جے پی کے ہوڑہ اور ہگلی کے جلوس کے دوران ہنگامہ برپا ہوگیا۔ جمعرات کو رام نومی تھا مگر اس کے تین دن بعد اتوار کو بھی ہگلی میں رام نومی کا جلوس نکالا گیا اور اس درمیان حالات خراب ہوگئے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہر روز کون جلوس نکالتا ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں نے اعتراض نہیں کیا۔ لیکن رام نومی کا جلوس پانچ دن کیوں نکالا جائے؟


رام نومی اناپورنا پوجا کے نویں دن منائی جاتی ہے۔ ملک بھر میں رام کے بھکت اس دن کو دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ گزشتہ جمعرات کو رام نومی تھی۔ ہوڑہ میں اس موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران افراتفری مچ گئی۔ رام نومی ختم ہونے کے باوجود جلوس کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کی رات ہگلی کے رشڑا میں بھی جلوس نکالا گیا۔ حالانکہ کیلنڈر کے مطابق، نومی اس دن اور دوادشی کو گزرتی ہے۔ اس جلوس میں بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش تھے۔ اس جلوس کے دوران بھی ہنگامہ آرائی پھیل گئی۔


بدامنی کی خبر ملنے کے بعد گورنر سی وی آنند بوس نے سخت بیان جاری کیا تھا۔ راج بھون ذرائع کے مطابق انہوں نے اتوار کو وزیر اعلیٰ سے بھی بات کی۔ پیر کو ممتا نے رام نومی کی تقریبات کو طول دینے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پنچایتی انتخابات سے قبل مغربی بنگال میں اس جلوس کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پیر کو ممتا نے کہا کہ ’’اب رمضان کا مہینہ چل رہا ہے۔ وہ رام نومی کے جلوس نکال رہے ہیں اور حساس علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہونے کے باوجود اس علاقوں میں جلوس لے کر جارہے ہیں ۔ پھلوں کی گاڑیوں کو جلایا جارہا ہے۔ بندوق لے کر رقص کیا جارہا ہے۔


رشڑا میں جلوس کے دوران بی جے پی ممبر اسمبلی زخمی ہوگئے۔ صورتحال کو سنبھالتے ہوئے مقامی او سی اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ امن وا انتظام کی ذمہ داری حکومت کے پاس ہے۔حکومت حالات کے مطابق جلوس نکالنے اور اس کے راستے کا تعین کرتی ہے مگر حکومت کی ہدایات کو نہیں مانا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں امن و امان کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ بلڈوزر لے کر مارچ کررہے ہیں۔ بلڈوزر سے سڑک بنائے جاتے ہیں۔ وہ مارچ کر رہے ہیں! پنچایتی انتخابات اور 2024 میں ایسے لوگوں کو ووٹ نہ دیں جو اپنے مفادات کی خاطر ریاست میں امن وامان کی صورت حال کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔


ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکز کی ٹیمیں یہاں آرہی ہیں مگر فائیواسٹار ہوٹلوں میں دعوت اور بی جے پی لیڈروں کے ساتھ مل کر پارٹی کرکے چلی جاتی ہے۔ پیر کی میٹنگ میں، انہوں نے کہا، ’’160 مرکزی ٹیمیں بھیجی گئی ہیں۔

وزیر اعظم کی ڈگری نئی پارلیمنٹ کے باہر چسپاں کی جائے: شیوسینا

0
وزیر اعظم کی ڈگری نئی پارلیمنٹ کے باہر چسپاں کی جائے: شیوسینا
وزیر اعظم کی ڈگری نئی پارلیمنٹ کے باہر چسپاں کی جائے: شیوسینا

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اس میں چھپانے کی کیا بات ہے، ڈگری دینے والے کالج کو اپنی ممتاز شخصیت پر فخر ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے بجائے، جو لوگ سوال کرتے ہیں (وزیراعظم کی ڈگری) اور اسے دیکھنے کے لیے کہتے ہیں، ان پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے،‘‘

ممبئی: یہاں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے شیو سینا ادھو (یو بی ٹی) کے ایم پی اور چیف ترجمان سنجے راوت نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیوں وزیر اعظم کی ڈگری کو ‘خفیہ’ طور پر محفوظ رکھا جا رہا ہے، جس سے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ لوگ وزیر اعظم کی ڈگری کو جعلی قرار دے رہے ہیں… میں خلوص نیت سے مانتا ہوں کہ پوری سیاسیات کی ڈگری تاریخی اور انقلابی ہے۔ اس لیے اسے ہماری نئی پارلیمنٹ کے عظیم دروازے پر آویزاں کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے سے باز رہیں۔


سینا (یو بی ٹی) کے رہنما نے کہا کہ جب دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کی ڈگری کے بارے میں تفصیلات طلب کیں تو انہیں انکار کردیا گیا اور یہاں تک کہ 25،000 روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔
وزیر اعظم کی ڈگری مانگتے وقت چھپانے کی کیا بات ہے؟ اب ہمیں لگتا ہے کہ مودی کو خود آگے آنا چاہئے اور اپنی تعلیمی ڈگری پر ہوا صاف کرنا چاہئے،” راوت نے زور دیا۔


وزیر اعظم کی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہوئے پارٹی کے اخبارات "سامنا” اور "دوپہر کا سامنا” نے ادارتی طور پر مودی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ڈگری کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں اٹھایا جا رہا ہے۔
اتوار کی رات، سینا (یو بی ٹی) کے صدر اور سابق سی ایم ادھو ٹھاکرے نے اورنگ آباد یعنی چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے جلسہ میں ریاست کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے کو دی گئی حالیہ ڈاکٹریٹ پر تنقید کرتے ہوئے اس نازک مسئلے کو چھوا۔


انہوں نے کہا کہ ‘’کچھ اپنی ڈگریاں لے لیتے ہیں، کچھ کماتے ہیں… ایسا لگتا ہے کہ پی ایچ ڈی بھی اب فروخت ہونے والی ہے… ایک ہے جو اس کا مذاق اڑاتا ہے اور دوسرا جو اسے چھپاتا ہے… اس میں چھپانے کی کیا بات ہے، ڈگری دینے والے کالج کو اپنی ممتاز شخصیت پر فخر ہونا چاہیے۔ سابق طالب علم لیکن اس کے بجائے، جو لوگ سوال کرتے ہیں (وزیراعظم کی ڈگری) اور اسے دیکھنے کے لیے کہتے ہیں، ان پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے،‘‘


راوت نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کتنے لیڈروں نے بھی اس طرح کی مشکوک ڈگریاں حاصل کی ہیں اور اسے ملک کے لیے سنگین تشویش کا معاملہ قرار دیا۔

این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کے لیے وزیر اعظم سے مداخلت کی درخواست

0
این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کے لیے وزیر اعظم سے مداخلت کی درخواست
این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کے لیے وزیر اعظم سے مداخلت کی درخواست

اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے وزیر اعظم کو مکتوب ارسال کیا، این سی پی یوایل کی تازہ ترین صورتحال سے کیا باخبر

نئی دہلی: اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے وزیراعظم کو خط ارسال کر کے این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل کے لیے مداخلت کی درخواست کی ہے۔

اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (یو ڈی او) کی ایک پریس ریلیز کے مطابق اس کے قومی صدر ڈاکٹر سید احمد خان نے کہا کہ قومی سطح پر اردو زبان کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کرنے والی نیشنل کونسل فار دی ڈیولپمنٹ آف اردو لینگویج (این سی پی یو ایل) کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کی درخواست وزیر اعظم نریندر مودی سے کی گئی ہے۔ ڈیمانڈ لیٹر وزیر اعظم کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ ڈیمانڈ لیٹر میں این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل اور گورننگ بورڈ کی عدم تشکیل کی وجہ سے اردو اسکالرز، ادیبوں، شاعروں وغیرہ کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا گیا ہے، کام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ مالی سال 2022-23 کا مختص بجٹ بھی مکمل طور پر بیکار ہو گیا ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ بجٹ بغیر خرچ کیے حکومت کے پاس واپس چلا جائے گا۔

ڈاکٹر سید احمد خان نے کہا کہ ’’این سی پی یو ایل قومی سطح پر اردو زبان کی ترقی اور بہتری کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ مرکزی وزارت تعلیم کے تحت آتی ہے۔ این سی پی یو ایل چلانے والی گورننگ کونسل پچھلے ایک سال سے تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ گورننگ کونسل کی تشکیل نو کی فائل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے پاس نومبر 2022 میں ہی بھیج دی گئی ہے، لیکن ابھی تک وزارت کی طرف سے اس فائل پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ این سی پی یو ایل اردو زبان کے اسکالرز، ادیبوں، شاعروں وغیرہ کی کتابوں کے مسودے شائع کرنے میں مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اردو زبان کی ترقی اور سربلندی کے لیے مختلف مقامات پر سیمینار، سمپوزیم، مشاعرے وغیرہ کے انعقاد کے لیے غیر سرکاری تنظیموں کو مالی تعاون بھی فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ ایک سال سے گورننگ کونسل کی عدم موجودگی کے باعث یہ تمام کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

ڈاکٹر سید احمد خان نے مزید کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کو خط ارسال کر کے این سی پی یو ایل کی گورننگ کونسل کی تشکیل نو کے لیے مداخلت کی درخواست کی ہے، عدم موجودگی سے پیدا ہونے والے حالات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی خط لکھا گیا تھا، لیکن اس خط پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس خط کا جواب دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم کو لکھے گئے خط پر مناسب کارروائی کی جائے گی اور وزیر اعظم اس سنگین مسئلے کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف عدلیہ کا کڑا رخ!

0
ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف عدلیہ کا کڑا رخ!
ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف عدلیہ کا کڑا رخ!

ہمارے ملک ہندوستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف یا تو متاثر طبقہ آواز اٹھارہا ہے یا پھر عدلیہ۔ حکومت، پولیس اور انتظامیہ تو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری
چند روز پہلے ہی سپریم کورٹ نے ملک میں بڑھتی نفرت کے سلسلہ میں انتہائی سخت تبصرے کئے تھے۔ سیاست، حکومت، پولیس اور میڈیا سب ہی سپریم کورٹ کے سخت تبصروں کی زد میں تھے۔ مگر زمینی سطح پر سپریم کورٹ کی سختی کا کوئی اثرنہ پہلے نظر آیا اور نہ ہی اب نظر آ رہا ہے۔ سیاست بے لگام ہے، حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، پولیس کا کردار تو بدل ہی گیا ہے اور میڈیا کے ایک طبقے نے تو جیسے قسم کھا رکھی ہے کہ ملک کو نفرت کی آگ میں جلا کر راکھ کر دینا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ رام نومی کے موقع پر ایک بار پھر ملک کی مختلف ریاستوں کے متعدد شہروں اور قصبوں میں فرقہ وارنہ تشدد کے واقعات رونما ہو گئے۔ اقلیتی طبقہ کوپھر نشانہ بنایا گیا، ان کی ملکیت اور مذہبی مقامات پر حملے کئے گئے اور پھر وہی مجرم ٹھہرائے گئے۔

پچھلے کچھ برسوں کے دوران رام نومی کو ایک تہوار کی شکل میں منانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ایک خاص پوجا کے ساتھ بڑے پر سکون انداز میں رام نومی کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ سیاست میں مذہب کی آمیزش کی طرف سپریم کورٹ نے بھی توجہ دلائی ہے۔ رام نومی کے تہوار کو بھی اسی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو سپریم کورٹ کا تبصرہ صد فیصد درست لگتا ہے۔ رام نومی کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس اور ’یاترائیں‘ ایک فرقہ کے خلاف نفرت پھیلانے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کی خبریں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ جلوس میں شامل شر پسند عناصر، جو کہیں نہ کہیں ایک مخصوص تنظیم اور سیاسی جماعت سے وابستہ ہوتے ہیں، ہاتھوں میں تلواریں، ڈنڈے اور ممنوعہ ہتھیار، زبان پر نفرت انگیز اور آتشیں نعرے، دوسرے مذاہب کے خلاف اشتعال انگیزی اور ہنگامہ آرائی، مسجدوں کے سامنے، ان کی چھتوں پر اور درگاہوں میں داخل ہو کر مذہبی پرچم لہرانا اور اشتعال انگیز نعرے بازی ان جلوسوں کی علامت بن چکی ہیں۔ نتیجہ فرقہ وارانہ فساد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔


در اصل اسی اشتعال انگیزی کی پشت پناہی اور اس کی بنیادوں کی طرف سپریم کورٹ نے دھیان دلایا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اگر ان شر پسند عناصر کو کسی خاص جماعت یا تنظیم کی حمایت اور پشت پناہی حاصل نہیں ہوگی تو یہ واقعات بار بار رونما نہیں ہوں گے۔ اگر واقعی حکومت، پولیس اور انتظامیہ ان عناصر کے خلاف ایک بار سختی کا مظاہرہ کریں تو یہ دوبارہ سر اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکیں گے۔ اسی طرح اگر میڈیا اپنے حقیقی کردار میں سامنے آئے تو ان واقعات پر لگام لگانے میں بہت آسانی ہوگی۔ انہی سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت عظمی نے اشتعال انگیزی اور بڑھتی نفرت کے ہر پہلو کو سامنے رکھ کر تبصرے کئے ہیں اور سخت رویہ اختیار کیا ہے۔

اگر کہا جائے کہ سپریم کورٹ نے ملک میں بڑھتی نفرت، اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات کے معاملے میں فیصلہ کن جنگ لڑنے کا اعلان کردیا ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ کیوں کہ سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے کہا ہے کہ اب ہمیں اقدامات بھی فیصلہ کن اندازمیں ہی کرنے پڑیں گے۔ بنچ نے بالکل واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ جس وقت سیاست اور مذہب کو الگ کر دیا جائے گا، ملک میں نفرت انگیزی بند ہو جائے گی۔ بنچ نے نفرت کے خلاف کارروائی نہ کرپانے والی حکومتوں کے لئے انتہائی سخت الفاظ استعمال کئے۔

بنچ نے یہ کہا کہ یہ حکومتیں ’ ناکارہ ‘ ہو گئی ہیں جو وقت پڑنے پر کارروائی نہیں کرتی ہیں ۔ انہی کی وجہ سے نفرت کو شہ مل رہی ہے۔ اس دو رکنی بنچ میں جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگرتنا شامل ہیں۔ ان میں جسٹس جوزف اس سے قبل ٹی وی چینلوں کی اشتعال انگیزی کے خلاف سرکار اور چینلوں کے خلاف سخت تبصرہ کر چکے ہیں۔ وہیں جسٹس بی وی ناگرتنانے نوٹ بندی کے معاملے میں آئینی بنچ میں شامل رہتے ہوئے اختلافی فیصلہ دیا تھا۔ اس سے قبل بنچ نے نفرت انگیز تقاریر اور بیانات کے معاملے میں حکومتوں کی تساہلی اور کارروائی نہ کرنے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

نفرت انگیز تقاریر اور بیانات کے تناظر میں بنچ نے کہا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہمارے پاس پنڈت جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپئی جیسے مقررین تھے۔ لوگ دور دراز کے علاقوں سے ان کو سننے آتے تھے کیوں کہ وہ تقریریں ہی اتنی اچھی کرتے تھے۔ وہ نفرت نہیں پھیلاتے تھے، بلکہ محبت کی باتیں کرتے تھے۔ اب جن لوگوں کے پاس کہنے کو کچھ خاص نہیں ہے، بلکہ ان کا مقصد صرف نفرت پھیلانا ہے وہ تقریریں کرکے سماج میں نفرت کا زہر گھول رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے، لیکن اس محاذ پر بالکل سناٹا ہے۔ ان دونوں ججوں کا یہ تبصرہ یقیناً زمینی سچائی پر مبنی ہے۔ ہم اگر پچھلے کچھ برسوں میں ملک کے بڑے سے

بڑے سیاستدانوں اور اعلی عہدوں پر فائز لوگوں کے بیانات کا جائزہ لیں تو عدالت کا تبصرہ انہی کی طرف اشارہ ہے۔ جسٹس جوزف اور جسٹس ناگرتنا کی بنچ نے یہ سوال بھی کیا کہ حکومتیں سماج سے اس جرم کو ختم کرنے کے لئے کوئی طریقہ کار کیوں نہیں بنا سکتی ہیں؟ انہوں نے پوچھا کہ نہیں بناسکتی ہیں یا پھر نہیں بنانا چاہتی ہیں؟ بنچ کے مطابق بھائی چارے کا خیال بہت اچھا تھا، لیکن ہمیں یہ کہتے ہوئے افسوس ہے کہ اس میں دراڑیں پڑرہی ہیں اور اس کے لئے حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ وہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھانا چاہتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے ملک میں بڑھتی نفرت کے لئے کہیں نہ کہیں سیاستدانوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی اور کہا کہ نفرت بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کےسیاستداں اپنی سیاست کے لئے کھل کر مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔بنچ نے کہاکہ سماج میں تحمل ہونا چا ہئے۔ اس ملک کے شہریوں کو حلف لینا چاہئے کہ وہ دوسروں کی تذلیل نہیں کریں گے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کا استعمال لعنت کا ایک شیطانی چکر ہے، جو حکومتوں کی بروقت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے جاری ہے۔بنچ نے کہا کہ جس دن ملک کی سیاست میں مذہب کی آمیزش ختم ہو جائے گی یا مذہب کا استعمال بالکل ختم ہو جائے گا، ملک سے نفرت ختم ہو جائے گی، لیکن اس تعلق سے کوئی بھی سیاستداں سننےکو تیار نہیں ہے۔کوئی بھی بڑھتی نفرت کیخلاف آواز نہیں اٹھانا چاہتا۔


در اصل وہ سیاستداں جنھوں نے اپنی کامیبابی کا زینہ نفرت کو ہی بنایا ہو، مذہب کی سیاست ہی ان کی بنیاد ہو، اشتعال انگیزی ان کی تقریروں کا محور ہو، شر پسند اور فرقہ پرست عناصرہی ان کی اصل طاقت ہوں، ان سے آخر کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ سماج سے نفرت کے اس ناسور کو ختم کرنے کے لئے کام کریں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ تبصروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ اب بھی وقت ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی بالادستی کو قائم رکھتے ہوئے مظلوم طبقہ کے اعتماد کو متزلزل نہ ہونے دے۔ اس سے پہلے بھی عدالت عظمی سیاستدانوں اورٹی وی چینلوں کی نفرت انگیزی کے خلاف سخت تبصرے کر چکی ہے۔ اس کے باوجود مہاراشٹر میں سلسلہ وار ریلیاں ہوتی ہیں اور کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز باتیں کی جاتی ہیں۔

اسی طرح رام نومی کے موقع پر نکلنے والے جلوسوں میں اشتعال انگیزی اور پولیس و حکومتوں کا خاموش تماشائی بنے رہنا ثابت کرتا ہے کہ ان پر سپریم کورٹ کے تبصروں کا کوئی اثر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ٹی وی چینلوں پر باقاعدہ ایک مہم کے تحت ہندو مسلم کے درمیان نفرت پھیلانے والے پرگراموں اور مباحثوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ لہذا اگر واقعی ملک سے نفرت کو ختم کر نا ہے تو قصورواروں اور خاطیوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا اور انہیں پابند سلاسل کرنا ہوگا۔ سیاستدانوں،حکومت، انتظامیہ، پولیس اور نفرت پھیلانے والے میڈیا سے تو کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ عدالت عظمی ہی سے توقع ہے کہ وہ اب اس سمت کوئی سخت اور زمینی کارروائی کرے گی۔ورنہ تاریخ پہ تاریخ اور تبصرے پر تبصرے کرتے کرتے بہت دیر نہ ہو جائے۔


[email protected] (مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

اورنگ آباد میں فسادات سے رمضان کا امن تباہ، امن کی اپیل

0
اورنگ آباد میں فسادات سے رمضان کا امن تباہ، امن کی اپیل
اورنگ آباد میں فسادات سے رمضان کا امن تباہ، امن کی اپیل

اچانک تشدد کا محرک مبینہ طور پر کچھ شرپسندوں کی کیراڈ پورہ میں ایک مسجد کے باہر اونچی آواز میں موسیقی بجانے کی وجہ سے ہے، حالانکہ حکام نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے

اورنگ آباد: تاریخی شہر میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اقلیتی اکثریت والے چھترپتی سمبھاجی نگر یعنی اورنگ آباد شہر میں دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں نے رمضان کے امن کو تہس نہس کر دیا۔


کیراڈ پورہ علاقے میں بدھ کی نصف شب کے قریب جھڑپیں شروع ہوئیں، جب مختلف برادریوں کے چند لوگوں نے نعرے بازی کی جس کے بعد ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا گیا۔ جلد ہی، یہ تقریباً 20 گاڑیوں کے ساتھ مزید پرتشدد ہو گیا، جن میں کچھ پولیس کی گاڑیاں بھی شامل تھیں، جنہیں مبینہ طور پر فسادیوں نے نذر آتش کر دیا تھا۔


صورت حال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی جمعیت وہاں پہنچ گئیں لیکن پتھراؤ کرنے والوں نے انہیں بھی نشانہ بنایا اور بعد میں ایس آر پی ایف کی ایک ٹیم بھی وہاں تعینات کی گئی۔


ایک موقع پر، پولیس نے ہلکے لاٹھی چارج کا سہارا لیا اور فسادیوں پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے جب اضافی دستے وہاں پہنچ گئے۔ آخر کار، جمعرات کی صبح حالات کو قابو میں کر لیا گیا، یہاں تک کہ نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس نے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔


اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے جس کی وجہ سے اقلیتی فرقے کے اکثریتی شہر میں رمضان المبارک کے روزے کے وسط میں تشویش پائی جاتی ہے۔


اچانک تشدد کا محرک مبینہ طور پر کچھ شرپسندوں کی کیراڈ پورہ میں ایک مسجد کے باہر اونچی آواز میں موسیقی بجانے کی وجہ سے ہے، حالانکہ حکام نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔


شیو سینا (یو بی ٹی) کے قائد حزب اختلاف (کونسل) امباداس دانوے نے جھڑپوں کی مذمت کی اور گڑبڑ کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کو ذمہ دار ٹھہرایا۔


اس پیش رفت کی مذمت کرتے ہوئے، سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے پوچھا کہ کیا یہ وہ فسادات ہیں جن کا خدشہ ہے اور کہا کہ "ریاست میں کوئی محکمہ داخلہ نہیں ہے”۔


شہر سے سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر چندرکانت کھیرے نے کہا کہ "فڑنویس آتشزدگی کے فسادات کا ماسٹر مائنڈ ہے” جس نے دنیا کے مشہور سیاحتی مقام اجنتا-ایلورا غار مندروں کو ہلا کر رکھ دیا۔


دوسری طرف، حکمراں شیو سینا-بی جے پی نے سینا (یو بی ٹی) پر کل رات کے فسادات پر سیاست کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔


جوابی حملہ کرتے ہوئے، فڑنویس نے کہا کہ کچھ لوگ – جن کی اس نے شناخت نہیں کی ہے – جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنے کی کوشش میں بدتمیزی پر مبنی بیانات دے رہے ہیں اور ان سے اپیل کی کہ وہ ایسا کرنے سے گریز کریں، کیونکہ شہر اب پرامن ہے۔


اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اور ایم پی سید امتیاز جلیل نے حکومت سے کومبنگ آپریشن شروع کرنے اور گڑبڑ کی رات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔


چھترپتی سمبھاجی نگر کے پولس کمشنر نکھل گپتا نے کہا کہ وہ کسی بھی ممکنہ پریشانی پیدا کرنے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ضلع کلکٹر نے اس منظر نامے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی ہے۔

قومی دارالحکومت میں کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ہنگامی اجلاس

0
قومی دارالحکومت میں کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ہنگامی اجلاس
قومی دارالحکومت میں کووڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ہنگامی اجلاس

دہلی حکومت کورونا وائرس کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور موجودہ صورتحال کے مطابق اس پر رہنما اصول جاری کرے گی

نئی دہلی: دہلی حکومت نے قومی دارالحکومت میں کووڈ-19 کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے جمعرات کو ایک ہنگامی میٹنگ کی۔


دہلی کے وزیر صحت سوربھ بھاردواج نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ قومی دارالحکومت میں کووڈ کو لے کر کوئی گھبراہٹ کی صورتحال نہیں ہے، لیکن ہم دہلی اور دیگر ریاستوں میں بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ "ہم نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کی۔ ہم نے تمام اسپتالوں کو کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے الرٹ پر رکھا ہے، لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔


مسٹر بھاردواج نے کہا کہ حال ہی میں کووڈ کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک موک ڈرل کی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ جمعہ کو محکمہ صحت کی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چوکس ہیں۔ اگر ہمیں اس صورت میں مزید علامات ملتی ہیں تو ہم تیاریوں کو مزید بڑھائیں گے۔


انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور موجودہ صورتحال کے مطابق اس پر رہنما اصول جاری کرے گی۔ حکومت کورونا ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔