پیر, اکتوبر 5, 2026
ہوم بلاگ صفحہ 189

شملہ: شیو مندر کے ملبہ سے دو مزید لاشیں برآمد، اب بھی کئی لوگوں کے لاپتہ ہونے کا اندیشہ، تلاشی مہم جاری

0
شملہ:-شیو-مندر-کے-ملبہ-سے-دو-مزید-لاشیں-برآمد،-اب-بھی-کئی-لوگوں-کے-لاپتہ-ہونے-کا-اندیشہ،-تلاشی-مہم-جاری

شملہ میں بچاؤ اہلکاروں نے منگل کو بھگوان شیو کے مندر کے ملبہ سے دو مزید لاشیں برآمد کی ہیں۔ ابھی کئی دیگر لوگوں کے لاپتہ ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ ایک دن قبل ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ کے سمر ہل علاقے میں موسلادھار بارش کے سبب لینڈ سلائڈنگ ہوا تھا، جس میں کئی لوگ دب گئے تھے۔

پیر کے روز سے اب تک شملہ میں لینڈ سلائڈنگ سے جڑے دو واقعات پیش آئے ہیں جن میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی ہے، جبکہ ریاست ہماچل پردیش میں یہ تعداد 53 ہو گئی ہے۔ شملہ میں مزید ایک لینڈ سلائڈنگ پھاگلی علاقہ میں ہوا، جس میں پانچ لوگوں کی جان چلی گئی۔

14ویں این ڈی آر ایف کی دو ٹیموں نے تلاشی اور بچاؤ مہم چلائی اور شیو باؤڑی کے پاس سمر ہل سے دو لاشیں برآمد کی ہیں۔ این ڈی آر ایف نے کہا ہے کہ آپریشن ابھی جاری ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رد عمل فورس کے علاوہ فوج، پولیس اور ریاستی ڈیزاسٹر رد عمل فورس کی ٹیمیں تلاشی مہم چلا رہی ہیں۔

شیو مندر والی جگہ میں کم از کم ایک درجن لوگوں کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ حادثہ کے بعد وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے مندر دھنسنے کی حالت کا جائزہ لیا اور افسران کو بچاؤ مہم تیز کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ ساون کے پاکیزہ مہینے کے سبب آفت کے وقت بھگوان شیو کے مندر میں بھیڑ تھی۔ انھوں نے کہا کہ بھاری لینڈ سلائڈنگ کے سبب کئی لوگوں کے ملبہ میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

لوگوں کی تلاشی کے لیے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ سکھو نے کہا کہ پوری ریاست سنگین حالت سے نبرد آزما ہے کیونکہ کئی حصوں میں بادل پھٹنے اور لینڈ سلائڈنگ سے جان و مال کا زبردست نقصان ہوا ہے۔

سلبھ انٹرنیشنل کے بانی بندیشور پاٹھک کا 80 سال کی عمر میں انتقال، پرچم کشائی کے بعد بگڑی تھی طبیعت

0
سلبھ-انٹرنیشنل-کے-بانی-بندیشور-پاٹھک-کا-80-سال-کی-عمر-میں-انتقال،-پرچم-کشائی-کے-بعد-بگڑی-تھی-طبیعت

عالمی شہرت یافتہ شخصیت اور سلبھ انٹرنیشنل کے بانی بندیشور پاٹھک کی طبیعت اچانک 15 اگست کو بگڑی اور پھر علاج کے دوران ایمس اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے دہلی واقع مرکزی دفتر میں وہ یومِ آزادی کے پیش نظر پرچم کشائی تقریب میں شامل ہوئے اور پرچم کشائی کے بعد اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ انھیں فوری طور پر ایمس میں داخل کرایا گیا جہاں علاج کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی۔

موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ 16 اگست (بدھ) کی صبح 7 بجے سلبھ میوزیم میں ان کا جسد خاکی رکھا جائے گا جہاں عام لوگ ان کا آخری بار دیدار کر پائیں گے۔ بدھ کے روز 12 بجے ان کا آخری سفر شروع ہوگا جس میں کثیر تعداد میں لوگوں کے موجود رہنے کی قوی امید ہے۔

واضح رہے کہ بندیشور پاٹھک کی شناخت ایک بڑے سماجی مصلح کی رہی ہے۔ انھوں نے ذیلی طبقے کے لوگوں کے لیے اپنی پوری زندگی قربان کر دی۔ سماجی کارکن رہے بندیشور پاٹھک نے ہاتھ سے غلاظت ڈھونے والی رسم کے خلاف بڑے پیمانے پر لڑائی لڑی۔ اس نظریہ سے دیکھا جائے تو ’سلبھ‘ نے ایک اینوویٹو ڈیزائن کی بنیاد پر تقریباً 1.3 ملین گھریلو بیت الخلاء اور 54 ملین سرکاری بیت الخلاء کی تعمیر کی ہے۔ بیت الخلاء کی تعمیر کے علاوہ سلبھ انٹرنیشنل نے انسانی غلاظت کی مینوئل کلیننگ کو ختم کرنے کے لیے ایک تحریک کی قیادت کی۔

قابل ذکر ہے کہ بندیشور پاٹھک کی قیادت میں سلبھ انٹرنیشنل تنظیم کی ملکیت 275 کروڑ روپے سے زیادہ کی ہو گئی تھی۔ اس تنظیم میں 60 ہزار معاون رکن ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ہندوستان کے سماجی پیرامڈ میں سب سے نچلے پائیدان پر کام کرنے والے لوگوں کی زندگی کو بدل دیا۔

2003 میں بندیشور پاٹھک نے راجستھان کے الور میں ایک ووکیشنل سنٹر قائم کیا، جہاں خواتین کو سلائی، کشیدہ کاری، فوڈ پروسیسنگ اور بیوٹیشین کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ جولائی 2011 میں کبھی اچھوت تصور کیے جانے والے طبقہ کی 200 خواتین کو بندیشور پاٹھک نے اپنے ساتھ کاشی وشوناتھ مندر (کے وی ٹی) میں پوجا کروائی تھی۔ وہاں انھوں نے برہمنوں اور دیگر اعلیٰ ذات کے لوگوں کے ساتھ کھانا بھی کھایا تھا۔ انھوں نے ایک انسانی فضلات پر مبنی بایو گیس پلانٹ بھی تیار کیا ہے جو ہیٹنگ، کھانا پکانے اور بجلی کے لیے بایو گیس پیدا کرتا ہے۔

1880 کے بعد جولائی رہا اب تک کا سب سے گرم مہینہ، امریکہ میں بھی گرمی نے توڑے سبھی ریکارڈ

0
1880-کے-بعد-جولائی-رہا-اب-تک-کا-سب-سے-گرم-مہینہ،-امریکہ-میں-بھی-گرمی-نے-توڑے-سبھی-ریکارڈ

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے جانکاری دی ہے کہ 1880 کے بعد سے جولائی اب تک کا سب سے گرم مہینہ رہا۔ اس سال امریکہ اور یوروپ کے کئی شہر لو اور جنگل کی آگ کی زد میں تھے۔ امریکہ میں اس سال گرمی نے سبھی ریکارڈ توڑ دیے۔ نیویارک میں ناسا کے گوڈارڈ انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس اسٹڈیز (جی آئی ایس ایس) کے سائنسدانوں کے مطابق جولائی 2023 عالمی درجہ حرارت ریکارڈ میں کسی بھی دیگر مہینے کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا۔

جولائی 2023 ناسا کے ریکارڈ میں کسی بھی دیگر ماہ کے مقابلے میں 0.24 ڈگری سلسیس زیادہ گرم تھا۔ یہ درجہ حرارت 1951 اور 1980 کے درمیان اوسط جولائی کے مقابلے میں 1.18 ڈگری سلسیس زیادہ رہا۔ اونچے درجہ حرارت کی ایک وجہ سمندر کی سطح کی گرمی بھی رہی۔ ناسا نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ مشرقی ٹروپیکل بحرالکاہل علاقہ میں گرم سمندری سطح کی درجہ حرارت مئی 2023 میں بڑھنا شروع ہوا تھا، جو النینو کا ثبوت ہے۔

ناسا ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا کہ ناسا ڈاٹا تصدیق کرتا ہے کہ دنیا بھر کے اربوں لوگوں نے حقیقت میں کیا محسوس کیا ہے۔ جولائی 2023 میں درجہ حرارت نے سبھی ریکارڈ توڑتے ہوئے اسے سب سے گرم مہینہ بنا دیا۔ امریکی ماحولیاتی بحران کے اثرات کا صاف طور پر تجربہ کر رہے ہیں۔

تجزیہ کے مطابق جنوبی امریکہ، شمالی افریقہ، شمالی امریکہ اور انٹارکٹیکا جزیرہ نما کے حصے خصوصی طور سے گرم تھے، جہاں درجہ حرارت اوسط سے تقریباً 4 ڈگری سلسیس زیادہ بڑھ گیا۔ مجموعی طور پر اس بہت زیادہ گرمی نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا جو سینکڑوں لوگوں میں بیماریوں اور موت کی وجہ بنا۔

واشنگٹن ڈی سی میں ناسا ہیڈکوارٹر میں چیف سائنٹسٹ اور سینئر ماحولیاتی مشیر کیتھرین کیلون نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی دنیا بھر کے لوگوں اور ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ گوڈارڈ انسٹی ٹیوٹ فار اسپیس اسٹڈیز (جی آئی ایس ایس) کے ڈائریکٹر گیون شمٹ نے کہا کہ یہ ہمارے ریکارڈ میں 1880 کے بعد جولائی 2023 سب سے گرم مہینہ تھا۔

ہریانہ کے نوح میں ڈرون کی نگرانی اور حفاظت کے سخت انتظامات کے درمیان منایا گیا یومِ آزادی

0
ہریانہ-کے-نوح-میں-ڈرون-کی-نگرانی-اور-حفاظت-کے-سخت-انتظامات-کے-درمیان-منایا-گیا-یومِ-آزادی

نوح: کرفیو کے اوقات میں نرمی اور انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کے بعد ہریانہ کے نوح ضلع نے منگل کو ڈرون نگرانی اور پولیس کی بھاری حفاظت کے درمیان یومِ آزادی منایا۔ 31 جولائی کو ضلع میں پرتشدد فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد نوح آہستہ آہستہ معمول پر آ رہا ہے۔

تشدد کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے یوم آزادی کی تقریبات کے دوران ضلع بھر میں سکیورٹی بڑھا دی، ریاستی وزیر مول چند شرما نے ترنگا لہرایا۔ ضلع کے حساس علاقوں میں ریپڈ ایکشن فورس سمیت سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، جب کہ راجستھان کی سرحد سے متصل علاقوں میں سیکورٹی میں اضافہ کیا گیا۔

دریں اثنا، پولیس نے مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا ہے۔ ایس پی نریندر بجارنیا نے آئی اے این ایس کو بتایا ’’حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے سکیورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے لیکن صورتحال مکمل طور پر معمول پر ہے۔ پولیس کی ٹیمیں ضلع بھر میں گشت کر رہی ہیں۔ سرحدوں پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور نوح میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ 24 گھنٹے ڈرون سے نگرانی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا ’’انٹرنیٹ خدمات اتوار کو بحال کر دی گئیں اور کرفیو میں 14 گھنٹے کے لیے نرمی کر دی گئی۔ اسکول، بینک، اے ٹی ایم اور بازار سبھی معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘‘

پولیس کے مطابق انٹرنیٹ سروسز بحال ہوتے ہی جرائم کے سائبر ماہرین کی ایک ٹیم غلط معلومات کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

پولیس کا سائبر سیل مختلف سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ حالیہ فرقہ وارانہ جھڑپوں یا برج منڈل جلابھشیک یاترا کی مجوزہ بحالی سے متعلق کوئی اشتعال انگیز پیغامات یا ویڈیو شیئر نہ ہوں۔

منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا مرکز، ای ڈی سمن واپس لے ورنہ…: ہیمنت سورین

0
منتخب-حکومت-کو-غیر-مستحکم-کرنے-کی-کوشش-کر-رہا-مرکز،-ای-ڈی-سمن-واپس-لے-ورنہ…:-ہیمنت-سورین

جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے انفورسمنٹ دائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے خلاف قانونی محاذ کھول دیا ہے۔ انھوں نے ای ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر دیوورَت جھا کو خط لکھا جس میں کہا ہے کہ ایجنسی انھیں بھیجا گیا سمن واپس لے، ورنہ وہ قانون کا سہارا لیں گے۔

دراصل ای ڈی نے وزیر اعلیٰ کو سمن بھیج کر 14 اگست کو رانچی واقع دفتر میں حاضر ہونے کو کہا تھا۔ ایجنسی نے سورین سے ان کی ملکیت کو لے کر بیان ریکارڈ کرنے کو کہا تھا۔ وزیر اعلیٰ سمن پر حاضر نہیں ہوئے۔ ان کے خصوصی ایلچی نے ای ڈی دفتر پہنچ کر وزیر اعلیٰ کا خط سونپا۔ وزیر اعلیٰ نے خط میں لکھا ہے کہ ان کو بے وجہ سمن بھیج کر پریشان کیا جا رہا ہے۔ جس تاریخ کو بلایا گیا تھا، اس سے انھیں کسی طرح کی حیرانی نہیں ہوئی۔

وزیر اعلیٰ نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ اور آپ کے پالیٹیکل ماسٹر اچھی طرح جانتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو 15 اگست کو پرچم کشائی کرنی ہوتی ہے۔ اس کی تیاری ایک ہفتہ پہلے سے شروع ہو جاتی ہے۔ یہ جاننے کے باوجود 14 اگست کو بلایا گیا۔ اس سے صاف ہے کہ قصداً نہ صرف ان کی بلکہ جمہوری طور سے منتخب کی گئی حکومت اور جھارکھنڈ کے لوگوں کے وقار کو مندمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے لکھا ہے کہ یہ ایک منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔ سمن میں ایسی کسی بھی بات کا ذکر نہیں ہے جس سے میرے خلاف ملکیت کو لے کر جانچ کا امکان بنتا ہو۔ جہاں تک ملکیت کی بات ہے تو اس سے جڑی تمام جانکاری انکم ٹیکس ریٹرن میں وقت وقت پر دی جاتی رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ای ڈی کو کسی ایسے کاغذ کی ضرورت ہے جس کا ذکر قبل میں نہیں کیا گیا ہے تو وہ مہیا کرانے کو تیار ہیں۔ لہٰذا ایجنسی کو سمن واپس لینا چاہیے نہیں تو وہ قانون کا سہارا لینے کے لیے مجبور ہوں گے۔ سورین نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ مرکزی حکومت گزشتہ ایک سال سے ان پر بلاوجہ دباؤ ڈال رہی ہے۔ ایسا نہیں کرنے پر مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہیمنت سورین نے ای ڈی کے طور طریقے پر سنگین سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی پتھر کانکنی معاملے میں گزشتہ سال 17 نومبر کو پوچھ تاچھ کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس وقت انھوں نے اپنے اور اپنے کنبہ کی منقولہ اور غیر منقولہ ملکیت کی مکمل تفصیل بھی دی تھی۔ 30 نومبر 2022 کو غیر منقولہ ملکیت کے ڈیڈ کی سرٹیفکیٹ کاپی مہیا کرائی گئی تھی۔ بینک کی تفصیل بھی مہیا کرائی گئی تھی۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ کیا وہ کاغذات ای ڈی آفس میں گم ہو گئے ہیں؟ اگر آپ چاہیں گے تو دوبارہ بھجوا دیا جائے گا۔ ای ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو لکھے خط میں سی بی آئی پر بھی سوال کھڑے کیے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ 2020 میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ ششی کانت دوبے کی شکایت پر لوک پال نے ان کے والد شیبو سورین کی ملکیت کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کو دی تھی۔ جانچ کے دوران غیر قانونی طریقے سے سی بی آئی نے ان کی غیر منقولہ ملکیت کو بھی کھنگالا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے لکھا ہے کہ ای ڈی چاہے تو سی بی آئی سے رپورٹ لے سکتی ہے۔

ٹماٹر کے داموں میں گراوٹ، مگر 100 روپے فی کلو پر برقرار

0
ٹماٹر-کے-داموں-میں-گراوٹ،-مگر-100-روپے-فی-کلو-پر-برقرار

لکھنؤ: ہماچل پردیش اور مدھیہ پردیش سے تازہ اسٹاک کی آمد کے بعد لکھنؤ میں ٹماٹر کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پچھلے پانچ دنوں میں ریٹیل ریٹ 180 روپے فی کلو سے کم ہو کر 100-120 روپے فی کلو پر آ گئے ہیں۔ تاجروں کو توقع ہے کہ اگلے 15 دنوں میں قیمتیں مزید گر جائیں گی۔

تاجروں نے کہا کہ اتر پردیش سمیت شمالی منڈیوں کا اہم سپلائی کرنے والے ہماچل پردیش میں ٹماٹر کی پیداوار اگست میں 2000 ،ہٹرل ٹم سے بڑھ کر 26000 میٹرک ٹن ہو گئی، جس کی وجہ سے سپلائی میں اضافہ ہوا اور قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ کرناٹک، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، تمل ناڈو، تلنگانہ اور مدھیہ پردیش میں اگست سے اکتوبر تک ٹماٹر کی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

سیتا پور روڈ کے ایک تھوک فروش نے کہا، ’’گزشتہ پانچ دنوں میں ٹماٹر کی ہول سیل قیمت 180 روپے سے کم ہو کر 60 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ مہاراشٹر کی فصل کی آمد کے ساتھ قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے۔ تاہم، کچھ خوردہ فروش اب بھی اسے 120 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔‘‘

ایک اور ڈیلر، سونو سونکر نے کہا کہ وہ پھر سے روزانہ 13 ٹرک ٹماٹر حاصل کر رہے ہیں، جو جولائی میں کم ہو کر تین ٹرک تک آ گئے تھے۔

دوبگہ منڈی کے تھوک فروشوں نے کہا ’’بہت سے لوگوں نے زیادہ قیمتوں کی وجہ سے ٹماٹر خریدنا چھوڑ دیا تھا لیکن اب مانگ واپس آ گئی ہے۔ ہم توقع کر رہے ہیں کہ مہینے کے آخر تک ٹماٹر خوردہ میں 60 روپے فی کلو فروخت ہوں گے۔

نیا پارلیمنٹ ہاؤس وقت سے پہلے تیار: وزیراعظم

0
نیا-پارلیمنٹ-ہاؤس-وقت-سے-پہلے-تیار:-وزیراعظم

مودی نے 77 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے ملک کے عوام سے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے، جس پر 25 سال سے ہمارے ملک میں بحث ہو رہی تھی کہ ملک میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت بنائی جائے۔ یہ مودی ہی ہیں جنہوں نے وقت سے پہلے نئی پارلیمنٹ بنا کر دکھا دی۔ یہ ایک ایسی حکومت ہے جو کام کرتی ہے، ایک ایسی حکومت جو مقررہ اہداف کو عبور کرتی ہے، یہ ایک نیا ہندوستان ہے، یہ ایک ایسا ہندوستان ہے جو خود اعتمادی سے بھرا ہوا ہے، یہ ایک ایسا ہندوستان ہے جو قراردادوں کو حقیقت بنانے کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان رکتا نہیں ہے، یہ ہندوستان تھکتا نہیں ہے، یہ ہندوستان ہانپتا نہیں ہے اور یہ ہندوستان ہارتا نہیں ہے۔ معاشی طاقت بھری ہوئی ہے تو ہماری اسٹریٹجک طاقت کو نئی طاقت ملی ہے، ہماری سرحدیں پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں آپ میں سے آتا ہوں، آپ میں سے نکلا ہوں، آپ کے لیے جیتا ہوں۔ یہاں تک کہ اگر میں خواب دیکھتا ہوں تو وہ آپ کے لئے آتے ہیں۔ اگر میں پسینہ بہاتا ہوں تو ہ آپ کے لیے بہاتا ہوں، کیونکہ اس لیے نہیں کہ آپ نے مجھے ذمہ داری دی ہے، میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کہ آپ میری فیملی ہیں اور آپ میرے خاندان کے فرد ہیں اور آپ کے کنبے کا رکن ہونے کے ناطے میں آپ کے خوابوں کو ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا، میں آپ کے عزم کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے آپ کا ایک ساتھی بن کر، آپ کا ایک خدمت گار بن کر، آپ کے ساتھ جڑے رہ کر آپ کے ساتھ جینے کا، آپ کے لئے سامنا کرنے کا عزم لے کر چلا ہوا انسان ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے آزادی کی جنگ لڑی تھی، وہ خواب دیکھے تھے وہ خواب ہمارے ساتھ ہیں۔

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی تقریر کے دوران ایک شخص حفاظتی حصار میں داخل، پولیس حراست میں لیا گیا

0
بہار-کے-وزیر-اعلیٰ-نتیش-کمار-کی-تقریر-کے-دوران-ایک-شخص-حفاظتی-حصار-میں-داخل،-پولیس-حراست-میں-لیا-گیا

پٹنہ: بہار میں سی ایم نتیش کمار کی تقریر کے دوران ایک شخص نے ان کا حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے اس شخص کو حراست میں لے لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ شخص زبردستی حفاظتی حصار توڑ کر آگے بڑھ رہا تھا۔ پولیس اس شخص کو حراست میں لینے کے بعد مزید کارروائی کر رہی ہے۔

قبل ازیں، جون کے شروع میں صبح کی سیر کے دوران دو موٹر سائیکل سوار حفاظتی حصار توڑ کر ان کے پاس پہنچ گئے تھے۔ دونوں موٹر سائیکل سوار بہت تیزی سے آئے تھے اور وزیر اعلیٰ سے ٹکر لگنے سے بال بال بچ گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے تیزی سے فٹ پاتھ پر چڑھ کر بائیک سواروں سے خود کو بچایا تھا۔

پچھلے سال مارچ میں بھی پٹنہ کے بختیار پور علاقے میں ایک پروگرام کے دوران ایک نوجوان وزیر اعلیٰ کے بہت قریب آ گیا تھا اور پیچھے سے انہیں گھونسا مار دیا تھا۔

جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے مسلسل کریں گے جدوجہد: کھڑگے

0
جمہوریت-اور-آئین-کو-بچانے-کے-لیے-مسلسل-کریں-گے-جدوجہد:-کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت پر آمرانہ انداز میں کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور آئین ملک کی روح ہیں، اس لیے یوم آزادی پر سب کو قومی یکجہتی، سالمیت، محبت، بھائی چارہ، ہم آہنگی جمہوریت اور آئین کے جذبے کو بچائے رکھنے کا کا عزم کرنا ہے۔ یہاں جاری ایک ویڈیو پیغام میں ملک کے عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ قومی تحریک کے دوران بے شمار ہندوستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ہم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سمیت دیگر تمام وزرائے اعظم کے کام کو یاد کیا اور کہا کہ ان کی شراکت نے ہندوستان کی ترقی کے سفر کو آگے بڑھایا ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں تکلیف ہے کہ آج ملک کی جمہوریت، آئین اور ادارے تینوں بہت بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، الیکشن کمیشن جیسے اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو معطل کرکے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کھڑکے نے مودی حکومت پر نام بدل کر پرانی اسکیموں کو آگے بڑھانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ عظیم لوگ نئی تاریخ لکھنے کے لیے پرانی تاریخ کو نہیں مٹاتے۔ وہ اپنی لکیر بڑی کھینچتے ہیں، وہ پہلے سے کھینچی ہوئی لکیر کو کاٹ کر یا مٹا کر چھوٹا نہیں کرتے۔ جو حکومت ہمیشہ نام بدل کر پچھلی حکومتوں کے کاموں کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی ہے، ان سے زیادہ توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ اب پرانے قوانین کو جس نے ملک کو استحکام اور امن فراہم کیا، امن فراہم کیا، ان کا نام بدل کر نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا ’’منی پور ہو، ہریانہ ہو، یوپی ہو – چاہے ملک کا کوئی بھی کونا ہو- جہاں بھی ناانصافی ہوگی، کانگریس پارٹی انصافکے لئے لڑے گی اور آواز اٹھائے گی۔ کانگریس نوجوانوں کے حقوق، کسانوں کی فلاح و بہبود، خواتین کی عزت، سماج کے پسماندہ لوگوں کے انصاف کے لیے، چھوٹے تاجروں کی کمائی کے لیے کھڑی ہے۔‘‘

منی پور واقعہ بھیڑ تنتر کے سامنے ملک، سماج، حکومتیں اور عدلیہ بے معنی ہونے کا پیش خیمہ

0
manipui-violence-women-tribe
منی پور واقعہ بھیڑ تنتر کے سامنے ملک، سماج، حکومتیں اور عدلیہ بے معنی ہونے کا پیش خیمہ

منی پور کے شرمناک واقعات اور وائرل ویڈیو پر بحث سے زیادہ ضرورت اس بات پر غور کرنے کی ہے کہ آخر ہم نے کیسا سماج بنایا ہے

منی پور کے ویڈیو نے پورے ملک میں ایک ہیجان کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ریاست کی آدی واسی خواتین کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز واقعہ پر پورا ملک شرمندہ ہے، لوگوں میں غم و غصہ ہے۔ جس نے بھی اس ویڈیو کو دیکھاہے، شرم اور غصہ سے بھر گیا۔ ہر کوئی سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر ہمارا سماج کہاں پہنچ چکا ہے۔

اس ملک میں پچھلے کچھ برسوں کے دوران جو بھیڑ اور جو ذہنیت تیار ہوئی ہے یا کی گئی ہے، وہ اس حد تک جا سکتی ہے۔ اس واقعہ نے ملک ہی نہیں پوری دنیا کو جھنجھلا کر رکھ دیا ہے۔ منی پور پچھلے تقریباً تین ماہ سے جل رہا ہے، آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، عورتوں کی عصمت تار تار کی جا رہی ہے، گھروں کو جلایا جا رہا ہے، سڑکوں پر قتل و غارت گری کا ننگا ناچ ہو رہا ہے۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے سے پہلے تک ہر طرف سناٹا تھا، سیاسی گلیاروں سے لے کر سرکاری ایوانوں تک، عدلیہ سے لے کر میڈیا تک سب پر سکوت طاری تھا، ہر طرف خاموشی تھی۔ یہ ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے، نہ جانے کتنے ویڈیو ہوں گے اور نہ جانے کتنے ایسے واقعات ہوں گے، جو ہمارا سر شرم سے جھکا دیں گے۔ بظاہر تو سر تو ملک کے وزیر اعظم کا بھی شرم سے جھک گیا، مگر واقعہ کے 77 دنوں کےبعد۔

عام طور پر اس طرح کے واقعات پر خاموشی اختیار کر لینے والے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی اپنی خاموشی توڑنے پر مجبور کر دیا۔ وہ بھی تب جب ملک و بیرون ملک سے اٹھنے والی آوازیں ان کے کانوں میں پڑیں۔ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئےحکومت کی سخت سرزنش کی اور کارروائی کا انتباہ دیا۔

ماضی کے واقعات معاشرہ کے لئے دعوت فکر

منی پور کے شرمناک واقعات اور وائرل ویڈیو پر بحث کرنے سےزیادہ ضرورت اس بات پر غور و فکر کرنے کی ہے کہ آخر ہم نے کیسا سماج بنایا ہے، جہاں انسانیت مرچکی ہے، ضمیر کو گروی رکھ دیا گیا ہے اور ہمدردی و رواداری دم توڑ رہی ہے۔ اگرایسا ہے تو کیسا سماج، کیسا ملک اور کیسی حکومتیں اور عدلیہ، سب بے معنی ہیں۔ منی پور میں خواتین کے وائرل ویڈیوز دیکھ کرایسا ہی محسوس ہورہا ہے۔ ایک سماج کے طور پرہم نے ماضی کے واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ نہ تو مذہبی تعصب کو ختم کیا اور نہ ہی ذات برادری کے چشمہ کو اتارا۔

کٹھوعہ کی آصفہ کے ساتھ کیا ہوااور پھر گنہگاروں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا گیا، ہم سب نے دیکھا۔ اناؤ میں دلت بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، سب کو یاد ہوگا۔ 2002 کے بد ترین گجرات فساد کی متاثرہ بلقیس بانو کے ساتھ پہلے کیا گیا اور پھر آج 20 سال کے بعد اس کے گنہگاروں کو کس طرح اعزازو اکرام سے نوازا جا رہا ہے، وہ بھی سب دیکھ رہے ہیں۔

منی پور کا تازہ واقعہ ہی لے لیں۔ حکمراں جماعت کے بڑے بڑے لیڈران اور ان کی ’ٹرول آرمی تک کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ منی پور کی خواتین کے ساتھ یہ شرمناک سلوک کیوں کیا گیا، بلکہ فکر اس بات کی ہے کہ آخر یہ ویڈیو منظر عام پر کیوں اور کیسے آیا؟

یہ سب اسی سماج میں ہو رہا ہے اور ایک خاص ذہنیت کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ایسے میں ہم کیسے امید کر سکتے ہیں مظلومین کو انصاف ملے گا اور گنہگاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

خواتین نشانۂ تشدد

فسادات، جنگ یا کسی بھی قسم کے تنازعات و تشدد میں خواتین کو اس طرح نشانہ بنانا معمول کا حصہ رہا ہے اور تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ بعض اوقات انصاف کی مشینری اس کو تحفظ فراہم کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تبھی تو منی پور کا موازنہ دوسری ریاستوں سے کر دیا گیا۔ منی پور کے انسانیت سوز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دیگر ریاستوں کا نام بھی لیا گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ منی پور پچھلے تین ماہ سے جل رہا ہے، وہیں دیگر ریاستوں میں اس قسم کے ایک دو واقعات ہی ہوئے ہیں، جو نہیں ہونے چاہئے۔

منی پور میں بیشتر مقامات پر انٹرنیٹ خدمات بند ہیں، جبکہ دوسری ریاستوں میں تو ایسا نہیں ہے۔ منی پور میں تو اضافی فورس اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی کے باوجود تشدد نہیں رکا، جبکہ دوسری جگہوں پر ایسا نہیں ہے۔ منی پور کے وزیر اعلیٰ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ خواتین کے ساتھ ایسے سیکڑوں واقعات ہوئے ہیں۔ کیا دوسری ریاستوں میں بھی ایسا ہی ہے؟ منی پور میں واقعہ کی بمشکل ایف آئی آر درج ہوئی۔ ایف آئی آر ہوئی تو کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جب تقریباً ڈھائی ماہ کے بعد ویڈیو منظر عام پر آیا تب کچھ گرفتاریاں ہوئیں۔ کیا دوسری ریاستوں میں بھی ایسا ہی ہے؟

دیگر ریاستوں کے واقعات سے موازنہ

منی پور میں اب تک تقریباً ڈیڑھ سو لوگ مارے گئے ہیں، سیکڑوں زخمی ہیں، ہزاروں افراد بے گھر ہیں، کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ بڑی تعداد میں گھر جلائے گئے، مذہبی مقامات جلائے گئے، دوسری ریاستوں میں تو ایسا نہیں ہے۔ پھر آخر دوسری ریاستوں سے منی ور کا موازنہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ کہیں یہ اپنی ناکامی اور گناہوں سے چشم پوشی تو نہیں ہے۔

منی پورتشدد کے پس پشت جتنے سیاسی عوامل کار فرما ہیں، اتنی ہی یہاں کی جغرافیائی صورت حال، ذات برادری اورقبائل آبادی، معدنیات کی دولت وغیرہ بھی اس قضیہ کی بڑی وجہ ہے۔ ایسا صرف منی پور کے ساتھ ہی نہیں ہے، بلکہ مختلف ملکوں اور ریاستوں میں بھی ایسا ہوتاہے۔ جہاں بھی قبائلی اور غریب آبادی والے علاقوں میں قدرتی دولت موجود ہے، وہاں اس کے حصول کے لئے تمام حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔

ایک سروے کے مطابق منی پور کے جنگلات میں تانبے اور پلاٹینم موجود ہے۔ منی پور میں 3 مئی کو تشدد کی شروعات اس وقت ہوئی جب پہاڑی اضلاع میں مئیتی برادری کے درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے درجہ کے خلاف احتجاج کے لیے ’قبائلی یکجہتی مارچ‘ کا انعقاد کیا گیا۔

قبائلی اختلافات

کوکی اور ناگا کمیونٹی کے لوگ اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کوکی اور ناگا برادریوں کو ملک کی آزادی کے بعد سے قبائلی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ’سرکاری لینڈ سروے‘ بھی بڑی وجہ مانی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے یہاں ایک مہم شروع کی ہے، جس میں قبائل سے’ریزروجنگلاتی علاقہ‘ خالی کرنے کو کہا گیا ہے۔ جس کی کوکی برادری کے لوگ شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

مئیتی کو منی پور کی سب سے بڑی برادری کہا جاتا ہے۔ دارالحکومت امپھال میں بھی ان کی بڑی آبادی ہے۔ انہیں عرف عام میں منی پوری کہا جاتا ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق یہ لوگ ریاست کی کل آبادی کا64.6   فیصد ہیں۔ یہ لوگ منی پور کےدس فیصد علاقے میں آباد ہیں۔ ان میئتیوں میں سے زیادہ تر ہندو ہیں اورآٹھ فیصد مسلمان ہیں۔

اس کے علاوہ منی پور قانون ساز اسمبلی میں مئیتی برادری کی نمائندگی بھی زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ منی پور کی 60 اسمبلی سیٹوں میں سے 40 امپھال وادی سے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں زیادہ تر مئیتی لوگ رہتے ہیں۔ دوسری طرف منی پور کی آبادی میں کوکی اور ناگا قبائلی بھی ہیں۔ یہاں ان کی آبادی تقریباً 40 فیصد ہے۔ جن 33 برادریوں کو قبائل کا درجہ ملا ہے۔ ان کا تعلق ناگا اور کوکی-جومی قبائل سے ہے اور یہ زیادہ تر عیسائی ہیں۔

2011 کی مردم شماری کے مطابق منی پور میں ہندوؤں اور عیسائیوں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ منی پور کی بی جے پی حکومت چاہتی ہے کہ میدانی علاقوں میں رہنے والی میئتی برادری کوایس ٹی کا درجہ دے کر پہاڑوں پر بھی آباد کیا جائے۔ چار مئی کو فسادات بھڑکانے کے لیے ایک فرضی ویڈیو شیئر کیا گیا تھا، جس میں کسی دوسری جگہ کے قتل کے واقعہ کو منی پور کی مئیتی برادری کی خاتون کا بتایا گیا۔ نتیجتاً سیکڑوں مئیتی مردوں نے دوکوکی خواتین کو سرعام برہنہ کیا اور ان کی اجتماعی عصمت دری کی۔

بہر حال، ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ جیسےنعرے بولنے میں تو اچھے لگتے ہیں، خواتین کی فلاح و بہبود اور تحفظ کےلئے زبانی جمع خرچ بھی خوب ہوتا ہے، نئے نئے قوانین بھی بنائے جاتے ہیں، مگر اُس ذہنیت کو تبدیل کرنے کی سنجیدہ ا ور مخلصانہ کوشش نہیں کی جاتی جس کے سبب ایسی گھناؤنی وارداتیں سامنے آتی ہیں۔ انھیں روکنے کے لئے قانون سازوں، قانون کے رکھوالوں اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو جوابدہ بنانا ہوگا۔

اس مضمون میں پیش کئے گئے افکار وخیالات مضمون نگار کے ذاتی ہیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں)

[email protected]