منگل, مئی 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 189

کرناٹک اسمبلی انتخابات: جے بجرنگ بلی کے نعروں کے درمیان مودی نے بنگلورو میں دوسرے دن بھی بڑا روڈ شو کیا

0
کرناٹک اسمبلی انتخابات: جے بجرنگ بلی کے نعروں کے درمیان مودی نے بنگلورو میں دوسرے دن بھی بڑا روڈ شو کیا
کرناٹک اسمبلی انتخابات: جے بجرنگ بلی کے نعروں کے درمیان مودی نے بنگلورو میں دوسرے دن بھی بڑا روڈ شو کیا

مسٹر مودی کی آٹھ کلومیٹر طویل روڈ شو کو ان کے حامیوں کا زبردست ردعمل ملا اور لوگوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، کرناٹک اسمبلی انتخابات 10 مئی کو ہونے ہیں

بنگلورو: وزیر اعظم نریندر مودی نے جے شری رام اور جے بجرنگ بلی کے نعروں کے درمیان کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مہم کے آخری دن اتوار کو یہاں دو گھنٹے کا زبردست روڈ شو کیا۔ ریاست میں 10 مئی کو اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔

مسٹر مودی کی آٹھ کلومیٹر طویل روڈ شو کو ان کے حامیوں کا زبردست ردعمل ملا اور لوگوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ ان کا قافلہ بنگلورو شہر کے مشرقی اور وسطی حصوں میں 13 اسمبلی حلقوں سے گزرا۔

مسٹر مودی نے تھیپاسندرا میں کیمپے گوڑا کے مجسمے پر پھول چڑھا کر خراج عقیدت پیش کرکے روڈ شو کا آغاز کیا اور ٹرینیٹی سرکل کا دورہ کرکے روڈ شو کا اختتام کیا۔

وزیر اعظم کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہر عمر کے لوگ سڑک کے دونوں طرف دو گھنٹے سے زیادہ قطار میں کھڑے رہے۔ انہیں دیکھ کر لوگوں میں جوش و خروش پیدا ہوگیا۔

مسٹر مودی کے مداحوں نے اپنے چہروں پر بجرنگ بلی کے ماسک پہن رکھے تھے۔ انہوں نے ڈھول کی تھاپ پر گایا اور رقص کیا اور ہنومان چلیسہ کا ورد کیا۔ کچھ مداحوں نے بھگوان ہنومان کا لباس پہنا ہوا تھا اور اپنے ہاتھوں میں گدا اٹھائے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے جے شری رام اور جے مودی کے نعرے لگائے۔

بی جے پی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ یہ کسی بھی ہندوستانی سیاستدان کا اب تک کا دوسرا طویل ترین روڈ شو ہے۔ اس طرح کا پہلا روڈ شو 2022 کے گجرات اسمبلی انتخابات سے پہلے احمد آباد شہر میں مسٹر مودی نے منعقد کیا تھا۔

پہلوانوں کی ہڑتال: کسانوں اور کھاپوں کا دہلی مارچ

0
پہلوانوں کی ہڑتال: کسانوں اور کھاپوں کا دہلی مارچ
پہلوانوں کی ہڑتال: کسانوں اور کھاپوں کا دہلی مارچ

دہلی روانہ ہونے سے پہلے کھیڑا کھاپ کے سربراہ ستبیر پہلوان نے کہا کہ پہلوان ملک کا فخر ہیں

جند: کھٹکر ٹول پلازہ کمیٹی اور کھیڑا کھاپ، کسان تنظیموں سے وابستہ لوگ اتوار کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے پہلوانوں کی حمایت میں دہلی کے لیے روانہ ہوئے۔

دریں اثنا، پنجاب سے تعلق رکھنے والی خواتین کا ایک گروپ جو گرودوارے میں ٹھہرا ہوا تھا، بھی بسوں کے ذریعے دہلی روانہ ہوا۔

دہلی روانہ ہونے سے پہلے کھیڑا کھاپ کے سربراہ ستبیر پہلوان نے کہا کہ پہلوان ملک کا فخر ہیں۔ انہوں نے کھیلوں کے ذریعے دنیا میں ملک کی پہچان بنائی۔ وہی پہلوان آج انصاف کے لیے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن کے خلاف الزامات سنگین ہیں۔

بجرنگ دل پر پابندی لگانے کا کانگریس کا فیصلہ درست: نسیم خان

0
بجرنگ دل پر پابندی لگانے کا کانگریس کا فیصلہ درست: نسیم خان
بجرنگ دل پر پابندی لگانے کا کانگریس کا فیصلہ درست: نسیم خان

کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس پارٹی کے جاری کردہ انتخابی منشور میں بجرنگ دل پر پابندی لگانے کا فیصلہ بالکل درست ہے اور پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدے پر قائم رہے گی

بنگلور: کرناٹک کے اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس پارٹی کے جاری کئے گئے انتخابی منشور میں بجرنگ دل پر پابندی عائد کرنے والا جو فیصلہ لیا گیا ہے وہ بالکل درست ہے اور بر سر اقتدار آنے کے بعد پارٹی اپنے وعدے پر قائم رہے گی۔ یہ باتیں آج یہاں بنگلور دورے کے دوران مہاراشٹر کانگریس کمیٹی کے نائب صدر و سابق وزیر نسیم خان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔


نسیم خان جنہیں آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے انتخابات کے دوران کرناٹک کا مشاہد (آبزرور) مقرر کیا ہے، وہ جنوبی ہند کی اس ریاست میں پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ماب لنچنگ؛ گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی بجرنگ دل ایک مذہبی تشدد پسند اور عسکریت پسند تنظیم ہےجو کہ وشو ہندو پریشد کی یوتھ ونگ ہے اور اس کا تعلق سنگھ پریوار سے ہے۔ نیز اس پر پابندی عائد کئے جانے کے اعلان سے آخر بی جے پی کیوں واویلا مچارہی ہے ۔


انہوں نے مزید کہا کہ بجرنگ دل کوئی سماجی تنظیم تو نہیں ہے بلکہ یہ غنڈوں اور دہشت گردوں کی ایک تنظیم ہے جو ملک میں بدامنی پھیلا کر زعفرانی پارِٹیوں کو اقتدار حاصل کرانا جاہتی ہے۔


واضح رہے کہ کرناٹک میں رواں ماہ کی دس تاریخ کو اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں اور کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں بجرنگ دل اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) جیسی جماعتوں پر پابندی کا وعدہ کیا ہے۔

راجوری مڈبھیڑ: دارجلنگ کے جوان کی شہادت پر بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا کا اظہار تعزیت

0
راجوری مڈبھیڑ: دارجلنگ کے جوان کی شہادت پر بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا کا اظہار تعزیت
راجوری مڈبھیڑ: دارجلنگ کے جوان کی شہادت پر بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا کا اظہار تعزیت

بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے راجوری مڈبھیڑ میں شہید ہونے والے جوان سدھانت چھتری کے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا

کولکاتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز جموں و کشمیر کے راجوری کے کھانڈی علاقے میں دہشت گردوں کے ساتھ مڈبھیڑ کے دوران شہید ہونے والے جوان سدھانت چھتری کے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔


جموں و کشمیر کے راجوری میں جمعہ کو ایک خصوصی آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں ہندوستانی فوج کے پانچ بہادر جوان شہید ہو گئے تھے۔


محترمہ بنرجی نے ٹویٹ کیا، "یہ جان کر گہرا صدمہ ہوا کہ بیجن باڑی، دارجلنگ کے 25 سالہ جوان سدھانت چھتری ہندوستانی فوج کے ان پانچ بہادر جوانوں میں شامل ہیں، جنہوں نے کل راجوری، جموں و کشمیر میں ایک خصوصی آپریشن میں دہشت گردوں کے ساتھ ہونے والی مڈبھیڑ میں اپنی جان گنوادی۔


انہوں نے کہا کہ ہمارے محب وطن جوانوں نے دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کی عظیم قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ میں سدھانت چھتری کے سوگوار خاندان اور کل اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے دیگر محب وطن کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔

چھتیس گڑھ میں ٹرک اور بولیرو کی ٹکر میں 5 خواتین سمیت 11 افراد کی موت

0
چھتیس گڑھ میں ٹرک اور بولیرو کی ٹکر میں 5 خواتین سمیت 11 افراد کی موت
چھتیس گڑھ میں ٹرک اور بولیرو کی ٹکر میں 5 خواتین سمیت 11 افراد کی موت

ٹرک اور بولیرو کے درمیان ٹکر میں گیارہ افراد کی موت ہو گئی، بولیرو میں سوار ساہو خاندان کے تمام افراد کانکیر ضلع کے چراما مارکاٹولا میں ایک شادی میں شرکت کے بعد دھمتری ضلع کے سورم بھٹگاؤں واپس آرہے تھے کہ یہ حادثہ پیش آیا

رائے پور: چھتیس گڑھ کے بالود ضلع میں کل رات ٹرک اور بولیرو کے درمیان ٹکر میں پانچ خواتین سمیت گیارہ افراد کی موت ہو گئی۔


پولیس سے موصولہ اطلاع کے مطابق دیر رات قومی شاہراہ پر ایک تیز رفتار ٹرک نے بالود اور چراما کے درمیان بالودگہن کے قریب سامنے سے آنے والی بولیرو کو ٹکر ماردی جس سے کار کے پرخچے اڑگئے اور اس میں سوار پانچ خواتین اور ایک بچے سمیت 10 افراد کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ ایک زخمی بچہ علاج کے دوران اسپتال میں دم توڑ گیا۔


بولیرو میں سوار ساہو خاندان کے تمام افراد کانکیر ضلع کے چراما مارکاٹولا میں ایک شادی میں شرکت کے بعد دھمتری ضلع کے سورم بھٹگاؤں واپس آرہے تھے کہ یہ حادثہ پیش آیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور پولیس حکام موقع پر پہنچ گئے۔ موقع پر پہنچ کر راحت اور بچاؤ کا کام شروع کرایا۔


وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے ٹویٹ کرکے اس واقعہ پر گہرے دکھ اور سوگوار خاندانوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

یوپی: بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ شروع

0
یوپی: بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ شروع
یوپی: بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ شروع

سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ صبح سات بجے شروع ہوئی جو شام چھ بجے تک جاری رہے گی

لکھنؤ: اتر پردیش میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان جمعرات کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ شروع ہوگئی۔ اس مرحلے میں نو بلاکوں کے 37 اضلاع میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

پولنگ صبح سات بجے شروع ہوئی جو شام چھ بجے تک جاری رہے گی۔ پہلے مرحلے میں 10 میونسپل کارپوریشنوں میں میئر کے عہدے کے لیے ای وی ایم کے ذریعے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جب کہ 104 میونسپل کونسل کے صدور اور 276 نگر پنچایت صدور، 830 کارپوریٹر، 2776 میونسپل کونسلر اور 3682 نگر پنچایت ممبران کے لیے بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔

پہلے مرحلے میں دس کارپوریٹر، ایک ضلع پنچایت اور ایک میونسپلٹی صدر اور 73 ممبران پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

اس مرحلے میں شامل نو بلاکوں میں سہارنپور، مراد آباد، آگرہ، جھانسی، پریاگ راج، لکھنؤ، گورکھپور، وارانسی اور دیوی پٹن شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں شاملی، مظفر نگر، سہارنپور، بجنور، امروہہ، مرادآباد، رام پور، سنبھل، آگرہ، فیروز آباد، متھرا، مین پوری، جھانسی، جالون، للت پور کوشامبی، پریاگ راج، فتح پور، پرتاپ گڑھ، اناؤ، ہردوئی، لکھنؤ، بریلی، سیتا پور، لکھیم پور کھیری، گونڈہ، بہرائچ، بلرام پور شراوستی، گورکھپور، دیوریا، مہاراج گنج کشی نگر، غازی پور، وارانسی، چندولی اور جونپور میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔

بہار آئی بینک ٹرسٹ کی میٹنگ راج بھون میں جھارکھنڈ کے گورنر کی صدارت میں اختتام پذیر

0
بہار آئی بینک ٹرسٹ کی میٹنگ راج بھون میں جھارکھنڈ کے گورنر کی صدارت میں اختتام پذیر
بہار آئی بینک ٹرسٹ کی میٹنگ راج بھون میں جھارکھنڈ کے گورنر کی صدارت میں اختتام پذیر

بہار آئی بینک ٹرسٹ کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اسے مزید موثر بنانے کے لیے لگن سے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کو عوام کے مفاد میں پوری وابستگی کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ یہ آئی بینک اپنے کاموں سے غریبوں کے لیے باعثِ رحمت ثابت ہو

رانچی: بہار آئی بینک ٹرسٹ کی میٹنگ آج راج بھون میں جھارکھنڈ کے گورنر سی پی رادھا کرشنن کی صدارت میں منعقد ہوئی۔


بہار آئی بینک ٹرسٹ کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اسے مزید موثر بنانے کے لیے لگن سے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ کو عوام کے مفاد میں پوری وابستگی کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ یہ آئی بینک اپنے کاموں سے غریبوں کے لیے باعثِ رحمت ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹرسٹیز کو اس آئی بینک پر لوگوں کا اعتماد برقرار رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ گورنر نے تمام ٹرسٹیوں سے کہا کہ وہ ویژن کے ساتھ کام کریں۔


اس موقع پر ڈیولپمنٹ کمشنر کم ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ صحت ارون کمار سنگھ، گورنر کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر نتن کلکرنی، محکمہ خزانہ کے پرنسپل سکریٹری اجے کمار سنگھ، بہار آئی بینک ٹرسٹ کی سکریٹری ڈاکٹر پرنتی سنہا اور ٹرسٹ کے دیگر ممبران موجود تھے۔

کرناٹک انتخابات: مودی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر پریانک کھڑگے کو الیکشن کمیشن کا نوٹس

0
کرناٹک انتخابات: مودی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر پریانک کھڑگے کو الیکشن کمیشن کا نوٹس
کرناٹک انتخابات: مودی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر پریانک کھڑگے کو الیکشن کمیشن کا نوٹس

کمیشن نے چتا پور اسمبلی سیٹ کے امیدوار پریانک کھڑگے کو جمعرات کی شام 5 بجے تک نوٹس کا جواب دینے کا وقت دیا ہے

نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر کرناٹک میں کانگریس کے امیدوار اور پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کے بیٹے پریانک کھڑگے کوبدھ کے روز وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا۔

کمیشن نے چتا پور اسمبلی سیٹ کے امیدوار پریانک کھڑگے کو جمعرات کی شام 5 بجے تک نوٹس کا جواب دینے کا وقت دیا ہے۔


بھارتیہ جنتا پارٹی نے پریانک کھڑگے کے خلاف کمیشن سے شکایت کی ہے کہ انہوں نے مسٹر مودی پر قابل اعتراض تبصرہ کیا ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ پریانک کھڑگے نے 30 اپریل کو کلبرگی میں ایک انتخابی ریلی میں وزیر اعظم کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔


کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پہلی نظر میں یہ تبصرہ ماڈل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے، تبصرہ کرنے والے سے جواب طلب کیا گیا ہے۔


بیان کے مطابق پریانک کھڑگے سے کہا گیا ہے کہ وہ 4 مئی کی شام 17:00 بجے تک اس نوٹس کا جواب دیں اور بتائیں کہ ان کے خلاف ماڈل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر مناسب کارروائی کیوں نہ کی جائے۔


نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر پریانک کھڑگے مقررہ وقت کے اندر نوٹس کا جواب نہیں دیتے ہیں تو یہ سمجھا جائے گا کہ ان کے پاس اس بارے میں کہنے کو کچھ نہیں ہے اور ایسی صورتحال میں اس معاملے میں مناسب کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔


کرناٹک میں 224 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات 10 مئی کو ہوں گے۔ ووٹوں کی گنتی 13 مئی کو ہوگی۔

ایک ظالم ماں نے اپنے کمسن بچہ کا قتل کرکے پکا کر کھالیا

0
ایک ظالم ماں نے اپنے کمسن بچہ کا قتل کرکے پکا کر کھالیا
ایک ظالم ماں نے اپنے کمسن بچہ کا قتل کرکے پکا کر کھالیا

عینی شاہدین کے مطابق ظالم ماں نے اپنے 5 سالہ بچے کو قتل کر کے اس کی لاش کے نہ صرف ٹکڑے کیے بلکہ اسے پکا کر کھا بھی لیا

قاہرہ: مصر میں اپنا ہی 5 سالہ بیٹے کو قتل کرنے کے بعد اسے پکا کر کھانے والی سفاک ماں سے متعلق اس کے سابق شوہر اور بچے کے والد نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔


مصری میڈیا کے مطابق مقتول بچے کے والد کا اپنے بیٹے کے سفاکانہ قتل کے بعد بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا شادی کے 3 سال بعد پیدا ہوا تھا اور ان کی سابق بیوی ذہنی لحاظ سے بالکل ٹھیک ہے جو اپنے بیٹے کو قتل کرتے وقت مکمل ہوش و حواس میں تھی۔


مقتول بچے کے والد نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے درمیان 4 سال قبل اس بات پر علیحدگی ہوگئی تھی کہ خاتون چاہتی تھی کہ میں اپنا گھر اور خاندان کو چھوڑ کر اس کے ساتھ اس کی والد کی زمین پر رہوں، لیکن میں اس پر راضی نہیں تھا۔


غمزدہ باپ نے بتایا کہ ہمارے درمیان تعلقات اس کی رضامندی سے ختم ہوئے اور میں نے علیحدگی کے بعد اسے واپس لانے کی کوشش کی تاہم اس نے انکار کر دیا جس کے بعد ہمارے درمیان طلاق ہوگئی تھی۔


بچے کے والد یہ بھی بتایا کہ اس کی سابقہ بیوی کافی عرصے سے اسے اپنے بیٹے سے ملنے نہیں دے رہی تھی اور وہ اس سلسلے میں خاندان سے بات چیت جاری رکھے ہوئے تھے لیکن اس نے مجھے سے بدلہ لینے کے لیے میرے پانچ سالہ بیٹا کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔


دوسری جانب مقتول بچے کے والد کے وکیل ڈاکٹر سمیر محمد صالح کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ ’’میں نے سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا کیوں کہ میں اس کے والد سے بدلہ لینا چاہتی تھی جو اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔‘‘ جب کہ ملزمہ نے اس واقعے پر کسی پچھتاوے کا بھی اظہار نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذہنی مسائل کے امکان کے تحت ملزمہ کا طبی معائنے کیا جارہا ہے۔


واضح رہے کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ مصر کی شرقیہ گورنری کے فاقوس پولیس سینٹر سے منسلک ابو شلبی گاؤں میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سفاک ماں نے اپنے 5 سالہ بچے کو قتل کر کے اس کی لاش کے نہ صرف ٹکڑے کیے بلکہ اسے پکا کر کھا بھی لیا۔

نفرت انگیز تقریر پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم: جماعت اسلامی ہند

0
نفرت انگیز تقریر پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم: جماعت اسلامی ہند
نفرت انگیز تقریر پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم: جماعت اسلامی ہند

نفرت انگیز تقریر پر دیئے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم کے مطابق کام کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا تاخیر کو توہین عدالت کے طور پر دیکھا جائے گا اور غلطی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی

نئی دہلی: "ہم سپریم کورٹ کے جسٹس کے ایم جوزف اور بی وی آئی ناگ رتنا کے ذریعہ نفرت انگیز تقریر پر دیئے گئے فیصلے کا نوٹس لیتے ہیں۔ ملک میں نفرت پھیلانے، ووٹ حاصل کرنے اور اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جان بوجھ کر نفرت انگیز تقاریر کرنا کچھ لوگوں کی عادت بن گئی ہے، جس کی وجہ سے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ یہ باتیں نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر سلیم انجینئر نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہیں۔


انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نفرت انگیز تقاریر اور بیانات پر قابو پانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی اور کوتاہیوں کے پیش نظر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جماعت اسلامی ہند اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ نفرت کو بھڑکانے والی تقریر یا ملک کے امن کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی بیان ایک سنگین جرم ہے جو ملک کے سیکولر تشخص اور اتحاد کے تانے بانے کو متاثر کرتا ہے۔ فیصلے میں درست کہا گیا ہے کہ عدالت کے حکم کے مطابق کام کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا تاخیر کو توہین عدالت کے طور پر دیکھا جائے گا اور غلطی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔


پروفیسر سلیم نے کہا کہ "جماعت اسلامی ہند کو امید ہے کہ ریاستیں نفرت انگیز تقریر کے واقعات پر ایف آئی آر درج کریں گی اور کسی کی شکایت درج کرنے کا انتظار کیے بغیر قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں گی۔” اگر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تمام ریاستوں میں نافذ کر دیا جائے تو ملک نفرت انگیز تقاریر کی لعنت سے چھٹکارا پا سکتا ہے۔