Join our community of SUBSCRIBERS and be part of the conversation.
To subscribe, simply enter your email address on our website or click the subscribe button below. Don't worry, we respect your privacy and won't spam your inbox. Your information is safe with us.
لکھنؤ کی ایک عدالت کے اندر مختار انصاری کے قریبی سنجیو جیوا کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا، تین دیگر لوگوں کو بھی لگی گولی
لکھنؤ: مغربی اترپردیش کے شاطر بدمعاش سنجیو مہیشور عرف جیوا پر لکھنؤ کی ضلع عدالت احاطے میں گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ اسے مردہ حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ وکیل کے لباس میں آئے حملہ آوروں نے جیوا پر پیچھے سے ایک کے بعد ایک کئی گولیاں اس وقت چلائی گئیں جب وہ کسی معاملے میں پیشی پر آیا تھا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پانچ سے چھ راونڈ فائرنگ کی۔ جیوا کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پولیس افسر کچھ بھی کہنے سے پرہیز کررہے ہیں لیکن مصدقہ ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے جیوا کو مردہ قرار دے دیا ہے۔
حملہ آوروں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اس گولی باری میں ایک بچی کو بھی گولی لگنے کی اطلاع ہے۔ اس واردات کے بعد عدالتی احاطے میں افراتفری مچ گئی۔ کچہری احاطے میں موجود وکیلوں نے واقعہ کے تئیں احتجاج کرتے ہوئے خود کی سیکورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جیوا کا مختار انصاری سے کافی نزیکی تعلقات تھے۔
کچھ عرب ملکوں میں 2010 میں ’جمہوریت اور آزادی‘ کے نام پر شروع ہوئی ناکام ’بَہارِ عرب‘ کی خونچکاںداستان کا باب بند ہونے کو ہے
ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کے بعد عرب دنیاایک بار پھر تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ خطہ کے دو سخت حریفوں سعودی عرب اور ایران کے درمیان رشتے استوار ہو چکے ہیں۔سفارتی تعلقات میں مزید بہتری آ رہی ہے۔ سربراہان کی آمد و رفت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان شام کے صدر بشار الاسد کا استقبال کر رہے ہیں۔
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سعودی عرب کے شاہ سلمان کو تہران آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔مصر کے وزیر خارجہ دمشق کا دورہ کر رہے ہیں۔دونوں ملکوں کے سربراہان فون پر گفتگو کر رہے ہیں۔ترکی اور مصر کے درمیان جمی برف پگھل رہی ہے۔یمن اور شام میں جنگ بندی کے خاتمے اور بحالی امن کی کوششوں کو عملیجامہ پہنایا جا رہا ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ ’بہار عرب‘ کا خواب اب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آ رہا ہے۔
یوں تو 2010 کے اواخر میںمختلف عرب ملکوں میں بے روزگاری، رشوت ستانی، بدعنوانی، جابرانہ اوراستحصالی نظام حکومت کے خلاف شروع ہوئے عوامی احتجاج کو ’بہار عرب‘ کا نام دیا گیا تھا۔ مگر اس کی ناکامی نے کئی ملکوں کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا، کئی ملکوں میں بَہار کے نام پر خونچکاں داستان لکھی گئی۔اس داستان میںکئی حکمرانوں کے اقتدار کا خاتمہ اور کئی کی زندگی کا خاتمہ درج ہو گیا۔
لاکھوں بزرگوں، بچوں، نوجوانوں اور عورتوں کے خون سے لکھی گئی اس داستان میں کئی ممالک کی تباہی کے مناظر اورنشانات مل جائیں گے۔اپنے گھر بار چھوڑ کر در در بھٹکتے کروڑوں لوگوں کی کہانیاں مل جائیں گی۔ یہ سب پچھلے دس بارہ سال میں ہوا ہے۔تیونس، مصر، لیبیا، اردن، شام،الجزائر، لبنان، عراق اور بعض دوسرے ممالک اس کے گواہ ہیں۔ 2010 کے اواخر میں ایک معمولی واقعہ نے ’بہار عرب‘ کی بنیاد ڈالی۔
2010 سے 2012 تک عرب دنیا میں احتجاج، مظاہروں، جلسے اور جلوسوں کی ایسی سونامی آئی کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً پوری عرب دنیا کو اپنی زد میں لے لیا۔ کہیں در پردہ اور کہیں براہ راست تبدیلی کی اس لہر کو ’بَہارِعرب‘ کا نام دیا گیا۔
بہار عرب کا واقعہ
واقعہ یہ ہے کہ بحیرہ روم کے کنارے پر واقع خوبصورت ملک تیونس کا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان محمد بو عزیزی تمام کوششوں کے باوجود سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکا۔ حالات کی مجبوری نے اسےسبزی فروش بنا دیا۔ایک پولیس افسر نے اس نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بو عزیزی نے سرعام اپنی بےعزتی سے دل برداشتہ ہو کر خود سوزی کر لی۔ اس کے جسم سے نکلنے والی آگ کی لپٹوں نے بہت جلد پورے مشرق وسطیٰ کو جھلسا کر رکھ دیا۔ تیونس کے مختلف شہروں میں عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔
تین دہائیوں سے اقتدار پر قابض علی زین العابدین کی حکومت عوام کی طاقت کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ صدر زین العابدین کو فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینی پڑی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ عرصہ کے بعد الجزائر، اردن اور عمان کی حکومتوں نے اعلان کیا کہ وہ بھی اپنے یہاں اصلاحات کرنے جا رہی ہیں، بلکہ اگر ضرورت پڑی تو حکومتیں بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مصر کی حسنی مبارک حکومت کے خلاف اسی نوعیت کی تحریک شروع ہو گئی۔بالآخر 11فروری2011 کو تین دہائیوں پر محیط حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا۔ اسی سال20 اکتوبر کو تین دہائی سے زائد عرصہ تک حکمرانی کرنے والے لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کوانہی کے عوام نے قتل کر دیا۔ فروری 2012 میں یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کو بھی دو دہائی سے زیادہ عرصہ کے بعد ایوان اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔انہیں 4 دسمبر 2017 کو قتل کر دیا گیا۔اس طرح ایک سے دو برس کے اندر چار اہم عرب ملکوں کے طاقتور حکمرانوں کی حکمرانی قصہ پارینہ بن گئی۔
آج ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اگر ہم بہار عرب کے نتائج پر نظر ڈالیں تو پورے خطہ عرب کے لئے یہ خزاں ثابت ہوئی۔ تیونس سے لے کر لیبیا تک اور مصر سے لے کر یمن تک آمریت، جمہوریت، بدعنوانی، بے روزگاری اور آزادی کے نام پر شروع ہونے والی اس تحریک نے ناکامی کی ایک لمبی داستان لکھ دی ہے۔ لیبیا اور یمن بدترین خانہ جنگی کے سبب تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی جمہوری حکومت کے خاتمہ کے بعد عبدالفتاح السیسی سابقہ حکمرانوں کی طرح مضبوطی سے مسند اقتدار پر قابض ہیں۔ شام میں حکومت مخالف احتجاج خونریز خانہ جنگی اور پھر دنیا بھر کی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کے سبب کھنڈہر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ’بہار عرب ‘ کی ناکامی کی سب سے بڑی قیمت شام کے باشندوں نے ہی ادا کی ہے۔ غرض یہ کہ جن ملکوں میں ’بہار عرب‘ کے نام پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، وہاں جمہوریت تو پروان نہیں چڑھ سکی، بلکہ انتشار اور افراتفری کا ماحول یہاں کے باشندوں کا مقدر بن گیا۔
عرب کے حالات میں مثبت تبدیلی
اب جبکہ حالات ایک بار پھر کورٹ لے رہے ہیں اورایک مثبت تبدیلی نظر آ رہی تو امید کی جا سکتی ہے کہ بہار عرب کی ناکامی کی داستان ماضی کا حصہ بن جائے گی اور پوری دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی جائے گی۔ حال ہی میں ایک بڑی پیش رفت عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کی شکل میں ہوئی ہے۔خطہ کی دو بڑی طاقتوں ایران اور سعودی عرب نے یقیناً حالات کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نےجدہ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے افتتاحی کلمات میں دیگر عرب رہنماؤںکے ساتھ جب شامی صدر بشار الاسد کا خیرمقدم کیا تو یہ عرب میں ایک نئی بہارکا پیش خیمہ تھا۔حالانکہ عرب لیگ میں شام کی واپسی پر سعودی قیادت کو کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے،مگران لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ جب حالات ایک مثبت تبدیلی کی طرف کروٹ لے رہے ہیں تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ اگرچہ ماضی میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی قیادت میں اقدامات کئے جاتے تھے اور امریکی مفادات سب پر حاوی رہتے تھے۔ لیکن عرب لیگ کا حالیہ سربراہی اجلاس باہری اور دیگر عالمی طاقتوں کے مفادات سے پاک نظر آیا اور اس عرب طاقتوں نے اتحاد کی طرف ایک اور قدم بڑھایا۔
سعودی عرب نے گزشتہ دس ماہ میں تین بڑے سربراہی اجلاسوں کی میزبانی کی ہے۔ پہلےجدہ میں سلامتی اور ترقی سربراہ اجلاس منعقد ہواتھا۔اس میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ رکن ممالک کے علاوہ مصر، اردن اور عراق اور امریکی صدر جو بائیڈن نے شرکت کی تھی۔ دوسرا ریاض میں چینی صدر شی جِن پنگ کے عرب لیڈروں کے ساتھ سربراہی اجلاس کے دو دور ہوئے تھے۔ پہلے ان کا خلیجی ممالک کے ساتھ ایک دور ہواتھا اور پھر عرب ممالک کے ساتھ سربراہی اجلاس کا دوسرا دور ہوا تھا۔ اوراب تیسرا،جدہ میں عرب لیگ کا حالیہ سربراہ اجلاس ہے۔
حالیہ برسوں میں یہ اجلاس اپنی نوعیت کا اہم اجلاس تھا۔ اسی لئے یہاںکافی گرمجوشی نظر آئی اور سرخیوں میں بھی رہا۔ عرب لیگ میں شام کی واپسی، اسرائیل کے مقابلے میں فلسطین کی حمایت اور صہیونی حکومت کے حالیہ مظالم کی مذمت مقررین کی گفتگو کا مرکزی محور رہا۔ عرب لیگ کے 32 ویںسربراہی اجلاس میں شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے کہا کہ شامی صدرکی شرکت شام کیلئے امن اور استحکام کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔وہیں شام کے صدر بشار الاسد نے کہا کہ ہمیں مستقبل میں درپیش چیلنجز کے بارے میں ابھی سے ہی غور کرنا چاہئے، تاکہ مستقبل کی نسلوں کو کوئی خطرہ پیش نہ آئے۔ ہم بیرونی مداخلت کے بغیر باہمی گفتگو و شنید کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان دونوں سربراہان کا یہ بیان عرب لیگ اجلاس کا حاصل کہا جا سکتا ہے۔ یقیناً اگر عرب حکمراں باہری مداخلت اور بیرونی طاقتوں کے حصار سے خود کو آزاد کر لیتے ہیں تو یہ ان کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
کرناٹک میں وقف بورڈ نے مسلم اراکین اسمبلی کے لیے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کے ساتھ پانچ وزارتی عہدوں کا مطالبہ کیا
وقف بورڈ کے سربراہ شفیع سعدی نے نامہ نگاروں کو بتایا، مسلم کمیونٹی ایک مسلم نائب وزیر اعلیٰ اور پانچ اچھے وزیر کے طور پر داخلہ، محصول اور تعلیم قلمدان چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارا شکریہ ادا کرے
بنگلورو: کرناٹک اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹروں کے بھاری اکثریت سے کانگریس کے حق میں ووٹ دینے کے پیش نظر وقف بورڈ نے پیر کو مسلم اراکین اسمبلی کے لیے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کے ساتھ پانچ اہم وزارتی عہدوں کا مطالبہ کیا۔
بورڈ نے نو منتخب مسلم قانون سازوں کے لیے گھر، ریونیو اور تعلیم جیسے اہم محکموں کا مطالبہ کیا۔
وقف بورڈ کے سربراہ شفیع سعدی نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’’ہمیں مقابلہ کرنے کے لیے 15 سیٹیں ملیں، جن میں سے نو مسلم امیدواروں نے جیتی ہیں۔ تقریباً 72 حلقوں میں کانگریس پوری طرح مسلمانوں کی وجہ سے جیتی۔ ہمیں بدلے میں کچھ ملنا چاہیے۔ مسلم کمیونٹی ایک مسلم نائب وزیر اعلیٰ اور پانچ اچھے وزیر کے طور پر داخلہ، محصول اور تعلیم قلمدان چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارا شکریہ ادا کرے۔
دریں اثناء جنتا دل سیکولر کے لیڈر تنویر احمد نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا اور امید ظاہر کی کہ کانگریس مسلمانوں کو انعام دے گی کیونکہ کمیونٹی نے بھاری اکثریت سے پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔
کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج کو کیا جمہوریت کی فتح قرار دیا جائے یا نفرت کی شکست؟
تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری
کرناٹک کے انتخابی نتائج نے کئی پیغام دئے ہیں۔ یہ پیغام پورے ملک کے لئے بھی ہے، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے لئے بھی ہے۔ اس جماعت کے لئے بھی جو اقتدار سے بے دخل ہوئی ہے اور اس جماعت کے لئے بھی جو فتحیاب ہوئی ہے۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات پر پورے ملک کی نظریں مرکوز تھیں۔ یوں بھی 2024ء کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے کرناٹک کے انتخابات کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ اگرچہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے کئی دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات بھی ہوں گے، مگر یہ نتیجے صرف کرناٹک ہی نہیں، پورے ملک کی سیاست پر اثر انداز ہونے والے ہیں۔ سب سے پہلے اس کا اثر راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور پھر تلنگانہ جیسی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات پر ہوگا۔
ان ریاستوں میں اسی سال انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی سیاسی جماعتوں نے کرناٹک میں اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ ایک طرف کانگریس نے روایت سے ہٹ کر بہت ہی جارحانہ انداز میں اپنی انتخابی مہم چلائی۔ یہاں تک کہ ہندوتوا کے محاذ پر بھی اس نے بی جے پی کا زبردست مقابلہ کیا، جب کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں بجرنگ دل جیسی شدت پسند تنظیم پر پابندی کا وعدہ کیا۔ ایک ایسے دور میں جب بی جے پی کے پاس انتخاب جیتنے کا ہندوتوا اور مذہب ہی ایک سہارا ہو۔ پھر بھی کانگریس نے بجرنگ دل پر پابندی کا وعدہ کرکے کرناٹک کے ساتھ ملک کے عوام کو بھی ایک پیغام دے دیا۔
وہیں دوسری جانب بی جے پی نے پورا الیکشن نریندر مودی کے سہارے لڑا۔ انھوں نے بھی اپنے عہدے کے وقار کا خیال نہ رکھتے ہوئے ہر وہ حربہ اپنایا جس کے لئے مودی اور بی جے پی مشہور ہیں۔ وہی مذہبی نعرے، وہی عوام کے جذبات سے کھیلنا اور بنیادی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کا سلسلہ کرناٹک میں بھی جاری رہا۔ کرناٹک کے عوام چاہتے تھے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی پر بات ہو، مگر بی جے پی نے صرف ہندو مسلمان، حجاب، بیف پر پابندی، حلال فوڈ، بجرنگ بلی، یکساں سول کوڈ، مبینہ لو جہاد، پروپیگنڈہ پر بنی فلم ’دی کیرالہ اسٹوری‘ تک کو پولرائزنگ کے لئے خوب استعمال کیا۔
مودی اور امت شاہ کی جوڑی نے بجرنگ دل جیسی فرقہ پرست تنظیم کو بجرنگ بلی یعنی ہنومان جی سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ایک شدت پسند اور متنازعہ تنظیم کو ہنومان کے مترادف قرار دینے پر الیکشن کمیشن میں شکایت بھی کی گئی۔ لیکن کمیشن نے اس کے لیے نہ تو بی جے پی لیڈروں کے خلاف کوئی کارروائی کی اور نہ ہی انہیں مذکورہ مہم سے روکا۔ صرف آخری دن ہنومان چالیسہ پڑھنے کی اپیل پر روک لگا کر خانہ پری کردی گئی۔ کرناٹک کے عوام کو یہ پسند نہیں آیا، نتیجہ سامنے ہے۔ کرناٹک کے علاوہ بی جے پی جنوبی ہندوستان کی دیگر ریاستوں تلنگانہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ میں طویل عرصہ سے ہاتھ پیر مار رہی ہے، مگر ابھی تک اسے کامیابی نہیں ملی ہے۔ پچھلی مرتبہ خرید و فروخت کرکے کرناٹک میں حکومت بنا لی تھی۔ اس مرتبہ ریاست کے عوام نے اس کا جواب بھی کانگریس کی شاندار جیت کی شکل میں دے دیا ہے۔ اس طرح جنوبی ہندوستان میں ’نفرت کی دکان‘ بند ہو گئی ہے۔
کرناٹک کے اسمبلی انتخاب کانگریس کے نقطہ نظر سے بہت اہم مانے جا رہے تھے۔ کرناٹک کا اقتدار کانگریس کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ اس وقت ملک کی سطح پر دیکھیں تو مجموعی طور پر کانگریس کی صورت حال انتہائی قابل رحم ہے۔ یقیناً کرناٹک سے ملنے والی طاقت کانگریس میں ایک نئی جان پھونک دے گی۔ کانگریس کے لئے گزشتہ ایک دہائی کے دوران شاید یہ پہلا انتخاب ہوگا جو اس نے پورے جوش و خروش، منصوبہ بندی اور دانشمندی کے ساتھ لڑا۔ کانگریس نے اپنی پوری انتخابی مہم میں ریاست کے بنیادی مسائل کو ہی پیش پیش رکھا۔ پہلی بار ایسا محسوس ہوا کہ کانگریس اقتدار مخالف لہر کا فائدہ اٹھانے اور الیکشن جیتنے کیلئے ہی میدان میں اُتری ہے۔
پارٹی لیڈران نے رائے دہندگان کو اعتماد میں لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، سدارمیا اور ڈی کے شیو کمار ایک جنگجو کی طرح میدان میں ڈٹے رہے۔ سونیا گاندھی نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ویسے انتخابی سیاست میں کانگریس کے لیے پچھلی دہائی بہت مایوس کن رہی ہے۔ اس دوران کانگریس کو پے در پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑاہے۔ 2014ء اور2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی بہت خراب رہی۔ اس کے ساتھ ہی ہماچل اور راجستھان کو چھوڑ کر کئی ریاستوں میں اسے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔
2014 کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے اب تک کی سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اسے صرف 44؍ سیٹیں مل سکیں۔ کانگریس کا ووٹ شیئر بھی پہلی بار 20؍ فیصد سے نیچے آگیا۔ کانگریس اتنی سیٹیں بھی حاصل نہیں کر سکی کہ وہ لوک سبھا میں اہم اپوزیشن پارٹی کا درجہ حاصل کر سکے۔ 2019ء میں بھی کانگریس کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں آئی اور اسے صرف 52؍ سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ اسے اپنا ووٹ شیئر بڑھانے میں بھی کامیابی نہیں ملی۔ ان 10؍ برسوں میں ایک ایک کرکے کئی ریاستوں میں کانگریس کے ہاتھ سے اقتدار چلا گیا۔
اب صرف ہماچل پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس کی حکومت ہے۔ اس میں بھی اسی سال چھتیس گڑھ اور راجستھان میں انتخابات ہونے والے ہیں، جہاں پارٹی کو داخلی انتشار کا بھی سامنا ہے۔ مسلسل شکستوں کی وجہ سے کانگریس کے کارکنوں اور حامیوں میں بھی مایوسی کا ماحول تھا۔ ایسے میں کرناٹک کے نتیجے کانگریس کا مستقبل طے کرنے والے ہیں۔ کیوں کہ کانگریس کی خستہ حالی کے سبب آہستہ آہستہ باقی اپوزیشن پارٹیاں پہلے کی طرح کھل کر کانگریس پر اپنے اعتماد کا اظہار نہیں کر پا رہی ہیں۔ 2024ء کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو اپوزیشن کی قیادت سونپنے سے بھی کترا رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر علاقائی لیڈران محسوس کرتے ہیں کہ کانگریس سے ہاتھ ملانے سے کہیں نہ کہیں ان کا نقصان ہو گا۔ ظاہر ہے اب کرناٹک کے نتائج کے بعد اس صورت حال میں یقیناً بڑی تبدیلی آئے گی۔
کرناٹک کے انتخابی نتائج نے بی جے پی کو بھی واضح پیغام دے دیا ہے۔ مودی، اَمت شاہ، نڈا اور پارٹی کے دیگر لیڈران کو اب سمجھ لینا چاہئے کہ ہندوتوا کا سکہ ہر جگہ اور ہر وقت نہیں چلتا۔ ہمیں یاد ہے کہ کرناٹک میں ہندوتوا طاقتوں کے ذریعہ بہت پہلے سے ایسا ماحول بنایا جارہا تھا کہ یہ انتخاب ہندو مسلم کی بنیاد پر ہی لڑا جائے گا۔ کبھی حجاب اور حلال کا مسئلہ کھڑا کیا گیا، کبھی مسلم تاجروں اور دُکانداروں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی، کبھی ٹیپو سلطان کی شہادت پر سوال اُٹھایا گیا اور تاریخی حقائق کو جھٹلاتے ہوئے کہا گیا کہ ٹیپو سلطان انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید نہیں ہوئے، بلکہ اُنہیں کرناٹک کی مشہور برادری ’ووکالیگا‘ کے دو جوانوں نے شہید کیا تھا۔ حالانکہ تاریخ دانوں نے اس دعوے کو غلط قرار دیا، مگر بی جے پی لیڈران کو لگتا تھا کہ وہ اس طرح ووکالیگا طبقے کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بجرنگ بلی سے بجرنگ دَل کو جوڑنے کی کوشش کو بھی عوام نے مسترد کر دیا۔
عوام کو سمجھ میں آگیا کہ بی جے پی کو فرقہ واریت کے علاوہ بنیادی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کرناٹک کے نتیجوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ ’نفرت کی دکان‘ شمالی ہند کے علاقوں میں تو چل سکتی ہے، مگر جنوبی ہند میں نہیں چلے گی۔ یعنی کانگریس نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے میں کامیاب ہو گئی۔ بی جے پی اور اس کے لیڈران کو اب سوچنا ہوگا کہ نفرت کے بازار کو یونہی سجاتے رہیں گے یا پھر عوام کے بنیادی مسائل پر بھی بات کریںگے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں نفرت کے بازار کو لمبے عرصہ تک نہیں سجایا جا سکتا۔ ملک کے سمجھدار عوام کو بہت دنوں تک نفرت انگیزی، فرقہ پرستی، ذات پات اور غیر ضروری مسائل میں الجھا کر نہیں رکھا جا سکتا۔
بلدیاتی انتخابات: امیٹھی میں کانگریس کی واپسی، لیکن بی جے پی کو سبقت
امیٹھی بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی رجحانات میں ہی بی جے پی نے سبقت حاصل کرلی تھی جو کہ حقیقی نتیجے میں تبدیل ہوگیا
امیٹھی: گاندھی کنبہ کا رسوخ والا ضلع سمجھے جانے والے امیٹھی میں بلدیاتی انتخابات میں کانگریس نے نگر پالیکا کی ایک سیٹ پر کامیابی درج کر کے لمبے وقت کے بعد واپسی کی ہے۔ وہیں بی جے پی نے تین سیٹوں پر جیت درج کی ہے جبکہ سماج وادی پارٹی (ایس پی) اپنی موجودہ سیٹ ہار گئی۔
امیٹھی بلدیاتی انتخابات کے ابتدائی رجحانات میں ہی بی جے پی نے سبقت حاصل کرلی تھی جو کہ حقیقی نتیجے میں تبدیل ہوگیا۔ 4 بلدیاتی نششتوں والے ضلع امیٹھی میں بی جے پی دو نگر پنچایت اور ایک نگر پالیکا پر اپنا قبضہ کیا ہے۔ وہیں کانگریس نے لمبے وقفے کے بعد جائس نگر پالیکا سیٹ پر جیت درج کر کے واپسی کا اشارہ دیا ہے۔ اس الیکشن میں سماج وادی پارٹی کو اپنی گوری گنج سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔
نگر پنچایت امیٹھی سے بی جے پی امیدوار انجو کسودھان نے جیت درج کی ہے۔ انہوں نے یہاں سے عام آدمی پارٹی امیدوار رینا جیسوال کو شکست دی ہے۔ جبکہ نگر پالیکا گوری گنج سیٹ پر بی جے پی امیدوار نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) سے چھین لیا۔ سماج وادی پارٹی نے تارا دیوی کو میدان میں اتارا تھا۔ جبکہ بی جے پی سے رشمی سنگھ انتخابی میدان میں تھیں۔ رشمی سنگھ کو 7105 جبکہ ایس پی امیدوار کو 4988 ووٹ موصول ہوئے۔
وہیں نگر پالیکا جائس میں ایک دہائی کے بعد کانگریس نے دوبارہ واپسی کی ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ تھا۔ اس بار کانگریس نے منیشا چوہان کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔ کانگریس امیدوار کو 10132 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی کے موجودہ چیئرمین مہیش سونکر کی بیوی بینا سونکر کو6552ووٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ جبکہ نگر پنچایت مسافر خانہ میں بی جے پی امیدوار برجیش گپتا نے آزاد امیدوار فیروز کو شکست دی ہے۔
کرناٹک میں غریبوں کی جیت، سرمایہ داروں کی کراری شکست: راہل
راہل گاندھی نے کہا کہ کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوگیا اور محبت کی دکان کھل گئی، یہ کرناٹک کی جیت ہے، ہمارے پانچ وعدے ہیں، پہلی کابینہ میں پورے کریں گے
نئی دہلی: کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کو کرناٹک اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شاندار جیت کو غریب عوام کی جیت اور سرمایہ دار طاقتوں کی کراری شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں نفرت کی دکانیں بند ہو گئیں اور محبت کی دکانیں کھل گئیں۔
مسٹر گاندھی نے کرناٹک کی جیت کے جشن کے درمیان کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو بتایا کہ کانگریس غریبوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مقصد کے لیے لڑی ہے، جس میں سرمایہ داری کو شکست ہوئی ہے۔ ایسے ہی نتائج آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھی آنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کرناٹک کے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا کام ریاست میں حکومت کی تشکیل کے بعد کابینہ کی پہلی میٹنگ میں شروع کیا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے کہا ’’ہم نے یہ جنگ پیار اور محبت سے لڑی اور کرناٹک کے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ملک محبت سے پیار کرتا ہے۔ کرناٹک میں نفرت کا بازار بند ہوگیا اور محبت کی دکان کھل گئی۔ یہ کرناٹک کی جیت ہے۔ ہمارے پانچ وعدے ہیں، پہلی کابینہ میں پورے کریں گے۔
عمران خان کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ: برطانوی وزیراعظم
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف امریکہ میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ نیویارک میں ٹائمز اسکوائر پر پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جب کہ ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر مظاہرہ کیا گیا
لندن: برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کا چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور برطانیہ پاکستان کی صورتحال کو مانیٹر کر رہا ہے۔
سابق پاکستانی وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے خلاف ملک کے اندر تو احتجاج جاری ہے تاہم امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف امریکہ میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ نیویارک میں ٹائمز اسکوائر پر پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جب کہ ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے پارٹی چیئرمین سے اظہار یکجہتی کے لیے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس کے علاوہ پی ٹی آئی کارکنوں نے نواز شریف کی رہائشگاہ ایون فیلڈ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جو بارش کے باوجود کئی گھنٹے جاری رہا۔
ترجمان یورپی یونین خارجہ اُمور نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین زور دیتی ہے کہ ایسے مشکل اور کشیدہ وقت میں تحمل کی ضرورت ہے، پاکستان کو درپیش چیلنجز سے صرف پاکستانی خود نمٹ سکتے ہیں۔ یورپی یونین نے کہا کہ چیلنجز سے مخلصانہ بات چیت اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے نمٹا جا سکتا ہے۔
کرناٹک میں متنازعہ مسلم ریزرویشن پر شاہ کے بیان سے سپریم کورٹ ناراض
بتایا جا رہا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے مسلم ریزرویشن کو آئین کی روح کے خلاف قرار دیا تھا
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کرناٹک میں ملازمتوں اور تعلیم میں مسلمانوں کے لیے چار فیصد ریزرویشن کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے مبینہ عوامی بیان پر منگل کو اعتراض کیا۔
جسٹس کے ایم جوزف، بی وی ناگارتنا اور احسان الدین امان اللہ کی بنچ نے معاملہ زیر سماعت ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم اس معاملے کی سماعت کے لیے تیار ہیں تو ہم اس طرح کی سیاست کی اجازت نہیں دے سکتے۔
سپریم کورٹ نے مرکزی وزیر داخلہ شاہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے عرضی گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل دشینت دوے کے زبانی ریمارکس کے دوران اپنا اعتراض ظاہر کیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ نے مسلم ریزرویشن کو آئین کی روح کے خلاف قرار دیا تھا۔
بنچ نے کہا کہ جب معاملہ زیر سماعت ہے تو عدالت کے فیصلے سے پہلے اس طرح کے بیانات نہیں دیے جانے چاہئیں۔
اس پر کرناٹک حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس طرح کے کسی بھی بیان کو معلومات ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن غیر آئینی ہے۔
بنچ نے کہا، ‘اس پر (مسلم ریزرویشن پر) عوامی بیان نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔”
دوسری جانب مسٹر دوے نے کہا کہ وہ عدالت کے سامنے وزیر کے بیان کو ریکارڈ پر رکھ سکتے ہیں۔
سنٹرل مسلم ایسوسی ایشن نے اپنی درخواست میں عدالت سے درخواست کی کہ وہ پریس کو ایسی تقاریر شائع کرنے سے روکے۔
عدالت نے سالیسٹر جنرل کا یہ بیان بھی ریکارڈ کیا کہ ریاستی حکومت کے 27 مارچ کو مسلمانوں کے لیے چار فیصد ریزرویشن کو ختم کرنے کے فیصلے پر اگلے احکامات تک کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
بلقیس کیس کے مجرموں کو نوٹس اخبارات میں شائع کرنے کی سپریم کورٹ نے دی ہدایت
جسٹس جوزف کی سربراہی میں بنچ نے ان مجرموں کو نئے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی جو اس سے باہر رہ گئے تھے
جسٹس جوزف کی سربراہی میں بنچ نے ان مجرموں کو نئے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی جو اس سے باہر رہ گئے تھے
جسٹس کے ایم جوزف، جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس احسان الدین امان اللہ کی بنچ نے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت 11 جولائی کو مقرر کردی۔
جسٹس جوزف کی سربراہی میں بنچ نے ان مجرموں کو نئے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی جو اس سے باہر رہ گئے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے خصوصی طور پر ہدایت کی کہ اگلی سماعت کی تاریخ 11 جولائی کی تاریخ اخبارات میں (نوٹس میں) شائع کی جائے۔
بنچ نے کہا کہ اس عمل سے عدالت کا مزید وقت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔حکومت کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ 11 مجرموں میں سے کچھ کو نوٹس نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ اپنے گھروں پر موجود نہیں تھے اور نہ ہی موبائل فون پر دستیاب ہوئے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بنچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس جوزف 16 جون کو ریٹائر ہو جائیں گے اور 20 مئی سے 2 جولائی تک گرمیوں کی تعطیلات کے پیش نظر 19 مئی ان کے کام کا آخری دن ہو گا۔
اس دل دہلا دینے والے کیس میں سزا یافتہ 11 لوگوں کو گجرات حکومت نے اپنی معافی پالیسی کے تحت 15 اگست 2022 کو رہا کیا تھا۔ ان تمام مجرموں نے جیل میں 15 سال مکمل کر لیے تھے۔
نتیش کی ہدایت پر منی پور میں زیر تعلیم بہاری طلباء کو انڈیگو فلائٹ سے لایا جائے گا پٹنہ
چیف منسٹر نتیش کمار منی پور میں زیر تعلیم بہاری طلباء کی حفاظت کو لے کر فکر مند
پٹنہ: وزیر اعلیٰ نتیش کمار منی پور میں زیر تعلیم بہاری طلباء کی حفاظت کے تعلق سے فکر مند ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ وہاں مقیم طلباء کی مکمل سیکیورٹی اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے مکمل انتظامات کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے ریزیڈنٹ کمشنر نئی دہلی کو منی پور میں پھنسے ہوئے بہاری طلباء کو بحفاظت بہار واپس لانے کے لیے مناسب انتظامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وزیر اعلی کی ہدایت پر منی پور کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بہاری طلباء کو پہلے بسوں کے ذریعے امپھال ہوائی اڈے پر لایا جائے گا۔ اس کے بعد امپھاِل ایئرپورٹ سے طلباء کو کل صبح 6 بجے انڈیگو فلائٹ سے پٹنہ لایا جائے گا۔