بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 175

ای ڈی تحقیقات کے خوف سے این سی پی کے ایم ایل اے بی جے پی حکومت میں شامل ہوئے: شرد پوار

0
ای-ڈی-تحقیقات-کے-خوف-سے-این-سی-پی-کے-ایم-ایل-اے-بی-جے-پی-حکومت-میں-شامل-ہوئے:-شرد-پوار

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے کہا ہے کہ حال ہی میں ہماری ان کی  کے کچھ لوگ ایجنسیوں کی تحقیقات کے خوف سے این ڈی اے میں شامل ہوئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے رہنما انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی نظر میں تھے اور وہ تحقیقات کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اپنے بھتیجے اجیت پوار کا نام لیے بغیر، سینئر پوار نے کہا، "حال ہی میں ہمارے کچھ لوگ حکومت میں شامل ہوئے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ ترقی کے لیے حکومت میں شامل ہو رہے ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ حکومت میں شامل ہوئے ہیں کیونکہ وہ  ای ڈی اور تحقیقات کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

سوشل میڈیا پر پارٹی کی طرف سے منعقدہ میٹنگ میں این سی پی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پوار نے کہا، "کچھ لوگ جیسے انل دیشمکھ نے تحقیقات کا سامنا کیا اور جیل جانا قبول کر لیا۔ انہوں نے 14 مہینے جیل میں گزارے۔ انہیں اس پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے اپنا نظریہ ترک نہیں کیا اور این سی پی نہ چھوڑنے کے اپنے فیصلے پر قائم رہے۔

پوار نے کہا کہ اس نے (انل دیشمکھ) کوئی جرم نہیں کیا ہے اور اس نے قانون کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو مہاراشٹر کے لوگوں کے مسائل پر توجہ دینی چاہئے۔ ریاست کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ عوام کو بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی کسانوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔

واضح رہے  کہ حال ہی میں اجیت پوار اپنے حمایتی ایم ایل اے کے ساتھ مہاراشٹر حکومت میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے بعد، انہوں نے نائب وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا، جب کہ آٹھ دیگر این سی پی ایم ایل اے نے بھی جولائی میں وزیر کے طور پر حلف لیا۔

چھتیس گڑھ میں کانگریس ایم ایل اے پر جان لیوا حملہ، نشے میں دھت ملزم نے چاقو سے کیا حملہ

0
چھتیس-گڑھ-میں-کانگریس-ایم-ایل-اے-پر-جان-لیوا-حملہ،-نشے-میں-دھت-ملزم-نے-چاقو-سے-کیا-حملہ

چھتیس گڑھ میں کانگریس ایم ایل اے چھنی ساہو پر ایک نوجوان نے چاقو سے حملہ کیا۔ یہ حملہ راج ناندگاؤں ضلع میں ہوا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم کی شناخت کھلیشور کے طور پر کی گئی ہے اور اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ  یہ واقعہ کل شام ڈونگرگاؤں تھانہ علاقے کے تحت جودھرا گاؤں میں پیش آیا، جب کھوجی کی رکن اسمبلی  چھنی ساہو ایک عوامی تقریب میں شریک تھیں۔ ملزمان نے ایم ایل اے  ساہو  پر چاقو سے حملہ کیا۔ جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو گئیں۔

اس حملے کے پیچھے کیا وجہ ہے، یہ بات سامنے نہیں آئی ہے۔ پولیس نے ملزم کو ڈونگر گاؤں تھانے میں رکھا ہوا ہے۔حکمران پارٹی کے ایم ایل اے پر اس حملے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔

خبر کے مطابق ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ایم ایل اے ساہو ڈائس پر تھیں  جب ایک نشے میں دھت شخص نے ان پر چاقو سے حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ساہو کی کلائی پر معمولی چوٹیں آئی ہیں، جس کے بعد انہیں کمیونٹی ہیلتھ سینٹر چوریا لے جایا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

واضح رہے  کہ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی چھنی ساہو نے چھتیس گڑھ کی کھوجی سیٹ پر بی جے پی کے ہیریندر کمار ساہو کو شکست دی تھی۔ اس الیکشن میں انہیں  کو 71,733 ووٹ ملے اور ہیریندر کمار ساہو کو 44,236 ووٹ ملے تھے۔

علیحدگی پسندی اور نفرت کو آج اقتدار کی حمایت حاصل ہے: سونیا گاندھی

0
علیحدگی-پسندی-اور-نفرت-کو-آج-اقتدار-کی-حمایت-حاصل-ہے:-سونیا-گاندھی

سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر کانگریس نے راجیو گاندھی نیشنل سدبھاونا ایوارڈ پروگرام کا اہتمام کیا۔ اس دوران کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے کہا کہ راجیو گاندھی نے ملک کی خدمت کرنے کے لیے کم وقت میں  انھوں نے ان گنت کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ ہندوستان میں موجود پولیمورفیزم  یعنی کئی طرح کے لوگوں کے حامی تھے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ وہ اس حقیقت کے بارے میں بہت حساس تھے کہ ہندوستان کے اتحاد کو صرف مذہبی، نسلی، زبانوں اور ثقافت کو منا کر ہی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ ایوارڈ ان لوگوں اور اداروں کو دیئے گئے ہیں جنہوں نے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو آگے بڑھانے میں خصوصی تعاون کیا ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ ایک ایسے وقت میں اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب علیحدگی پسندی، نفرت، تعصب اور فرقہ واریت کو فروغ دینے والی طاقتیں زیادہ فعال ہوں اور انہیں اقتدار کی حمایت حاصل ہو۔ پرانے وقتوں کو یاد کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ راجیو گاندھی کی سیاسی زندگی کا خاتمہ انتہائی ظالمانہ طریقے سے ہوا تھا۔ لیکن مختصر وقت میں ملک کی خدمت کرنے کے لیے انہوں نے بے شمار کامیابیاں حاصل کیں۔

پروگرام میں سونیا گاندھی نے کہا کہ راجیو گاندھی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم تھے۔ راجیو جی نے پنچایتوں اور میونسپلٹیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کے لیے جدوجہد کی۔ 1989 کے پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار 18 سال کی عمر کے افراد کو ووٹ کا حق دیا گیا جن میں نصف خواتین تھیں۔

سونیا گاندھی نے کہا کہ جب خواتین تعلیم یافتہ ہوں گی، تب ہی وہ اپنا بہتر مستقبل بنا سکتی ہیں۔ وہ خاندان، معاشرے اور ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ آج ہم بن استھلی یونیورسٹی کو عزت دیتے ہیں، جو راجیو جی کے اصولوں اور نظریات پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بن استھلی یونیورسٹی خواتین کو تعلیم دینے میں ایک ممتاز تاریخ رکھتی ہے۔ آج ہم یونیورسٹی کے کام، کامیابیوں اور عزم کا احترام کرتے ہیں۔ راجیو گاندھی نیشنل سدبھاونا ایوارڈ کے لیے بن استھلی یونیورسٹی کا انتخاب خوش آئند ہے۔ میں اس ادارے سے وابستہ تمام لوگوں کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

وہیں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بتایا کہ راجیو جی نے قبائلیوں کے درمیان جاکر ان کے مسائل دیکھے اور زمینی صورتحال کے مطابق منصوبہ بنایا۔ وہ ہر قسم کی فرقہ واریت کے خلاف تھے۔ جب آندھرا پردیش میں فسادات ہوئے تو انہوں نے اپنے  وزیر اعلی سے اخلاقی طور پر استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ راجیو جی نے یونیورسل ویکسینیشن شروع کی۔ کئی قسم کی ویکسین نے لاکھوں لوگوں کو نئی زندگی دی تھی۔

کانگریس صدر کھڑگے نے کہا کہ راجیو گاندھی نے گنگا کی صفائی کے لیے گنگا ایکشن پلان شروع کیا تھا۔ نیشنل بنجر لینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے جامع قوانین بنائے گئے تھے جنہیں آج کمزور کیا جا رہا ہے۔ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ظلم کے خلاف ڈٹ جاتے تھے۔ انہوں نے دنیا کے تمام ممالک کو بغیر تشہیر کے انسانی امداد دی تھی۔

مجلس مشاورت ملی وقار اور ملی حقوق کے حصولیابی کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم: ابو ذر کمال الدین

0
مجلس-مشاورت-ملی-وقار-اور-ملی-حقوق-کے-حصولیابی-کا-ایک-مشترکہ-پلیٹ-فارم:-ابو-ذر-کمال-الدین

مجلس مشاورت قائدین کو عوام سے جوڑنے کی ایک کوشش، ملی تشخص، ملی وقار اور ملی حقوق کے حصولیابی کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور وفاق، اتحاد میں یقین رکھتی ہے۔یہ بات آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، بہار کے زیر اہتمام آل بہار کانفرنس میں بہار کے ریاستی صدر ڈاکٹر سید ابو ذر کمال الدین نے کہی۔

آج جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہاکہ ملت میں جو بھی بڑی بڑی جماعتیں ہیں، ادارے ہیں ان سب کو جوڑکر ایک ایسی قوت بنانے کی ضرورت  ہے جس کا وژن ہماری سیاسی اور سماجی زندگی میں محسوس کیا جائے اور جس کی رائے، مشورے اور ضروریات کو کوئی کوئی نظر انداز نہیں کرسکے۔ اس کیلئے مشاورت نے پرانی بنیاد پر ایک نئی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نومبر کے مہینے میں 15 نومبر سے 30 نومبر تک فرقہ وارانہ خیرسگالی کی غرض سے ایک پندرہ روزہ مہم نیبر ہڈ مہم برائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نام سے مشاورت کے بینر تلے پورے بہار میں شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ ہم جس محلہ، وارڈ، بستی،پنچایت، بلاک شہر اور ضلع میں رہتے ہیں وہاں ہمارے پڑوس میں جو غیر مسلم آبادی ہے اس سے رابطہ پیدا کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کا ایک ماحول بنائیں۔

انہوں نے مزید بتا یا کہ مشاورت، بہار کا پہلا ایجنڈا ملت کے جان و مال کا تحفظ، ان کے شہری حقوق کی حٖفاظت، ان کو خوف و ہراس کے ماحول سے باہر نکالنا۔ ان کے اندر ہمت اور حوصلے کی بحالی، انکی ریلیف و بازآباد کاری ہے۔ دوسرے ایجنڈا انکی تعلیم، معاش، صحت، روزگار اور زبان و تہذیب اور ملی اداروں کا تحفظ ہے۔ تیسرا ایجنڈا ملت کی صحیح سیاسی تربیت، اپنے ووٹ کی قوت کو پہنچاننا، ووٹر لسٹ میں اپنے نام کا اندراج یقینی بنانا اور اس کے  لئےمحلہ اور وارڈ کی سطح پر مہم چلانا اور الیکشن کے وقت اپنے حق رائے دہندگی کا سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہے۔ چوتھا یجنڈا آپسی بھائی چارے کو مضبوط کرنا، ملت میں انتشار اور افتراق کو کم کرنا، ایک دوسرے سے ربط ضبط بڑھانا، اور اپنے آپسی مسائل کو باہم بیٹھ کر حلا کرنا۔ ہمیں دوسروں کے ہاتھ کا کھلونابننے سے ہر حال میں بچنا ہے۔ پانچواں ایجنڈا اپنی خواتین کی تعلیم اور تربیت پر زور دینا اور ان کو ہر طرح سے طاقتوربنانا۔ خواتین کی حصہ داری کے بغیر ملت کا کام ادھورا رہے گا۔ چھٹا ایجنڈا سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ یہ کا م وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمارے لئے یہ خوشی اور قدرے اطمینان کی بات ہے حکومت بہار اس معاملہ میں حساس ہے اور اس نے بہت حد تک انتظامی سطح پر حالات کو بگڑنے سے روکا ہے اور ایسی مستعدی آگے بھی برقرار رہنی چاہیئے۔

جموں وکشمیر میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے :غلام نبی آزاد

0
جموں-وکشمیر-میں-غربت-اور-بے-روزگاری-میں-اضافہ-ہوا-ہے-:غلام-نبی-آزاد

ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد نے اتوار کے روز کہاکہ جموں وکشمیر میں بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے کام کریں گے ۔انہوں نے بتایا کہ نئے جموں وکشمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی خاطر ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان باتوں کا اظہار موصوف نے ڈورو اننت ناگ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہاکہ اگر ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو جموں وکشمیر میں بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے کام کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ میں تمام تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے نوکریوں کا وعدہ نہیں کر سکتا لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان کے لئے روزی روٹی کے مواقع پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ آزاد نے کہاکہ جموں وکشمیر میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں اس وقت تین قسم کے بے روزگار ہیں تعلیم یافتہ ، ہنر مند اور غیر ہنر مند تینوں کو روزگار فراہم کرنے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ بطور وزیرا علیٰ ٹیولیپ گارڈن بنایا جو آج سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بطور وزیراعلیٰ بہت ساری اسکیموں کو لاگو کیا اور ان اسکیموں سے بے روزگار نوجوان مستفید ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بطور وزیرا علیٰ ہاتھ میں لئے گئے پروجیکٹوں کووقت مقررہ کے اندرا ندر مکمل کیا اور ٹرپل شفٹ کا نظام متعارف کرایا۔

غیرمعمولی جغرافیائی محل وقوع کے نظریئے سے دیا جائے خصوصی ریلیف پیکج: سکھو

0
غیرمعمولی-جغرافیائی-محل-وقوع-کے-نظریئے-سے-دیا-جائے-خصوصی-ریلیف-پیکج:-سکھو

آفت کی وجہ سے ہوئے بھاری نقصان پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ ٹھاکر سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ ریاست میں کافی نقصان ہوا ہے۔انہوں نے ریاست میں حالات معمول پر لانے کے لیے ریاستی حکومت کی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے کیدارناتھ اور بھوج سانحات کی طرز پر مالی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی۔

 وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرکاری اور نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے موجودہ ریلیف قوانین کے مطابق ہماچل پردیش میں ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے مالیاتی التزام ناکافی ہے۔ انہوں نے ریاست کے جغرافیائی حالات اور آفات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خصوصی امدادی پیکیج پر زور دیا۔

مسٹر سکھو نے مرکزی حکومت کی طرف سے عبوری ریلیف کی پہلی قسط کے تاخیر سے جاری ہونے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جگت پرکاش نڈا اور مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر سے اپیل کی کہ وہ مالی امداد فراہم کرنے کے عمل کو تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ مانسون کے دوران شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی قدرتی آفت سے ریاست کو 10,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اسسمنٹ ٹیمیں بھیجنے کے باوجود عبوری ریلیف ابھی تک زیر التوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے لیے اپنے محدود وسائل کا استعمال کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت 360 کروڑ روپے جاری کیے ہیں جو دو سالانہ قسطوں میں دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ اعتراضات کو دور کرنے کی ریاستی حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں زیر التواء 315 کروڑ روپے میں سے 189 کروڑ روپے مرکزی حکومت نے جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے بقیہ 126 کروڑ روپے جلد سے جلد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 اگست 2023 تک ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کو ریاست میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھیج کر 6,700 کروڑ روپے کا دعویٰ کیا ہے۔ مرکزی وزیر انوراگ سنگھ ٹھاکر اور اپوزیشن لیڈر جئے رام ٹھاکر نے بھی میٹنگ کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ممبران پارلیمنٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو خراج عقیدت پیش کی

0
ممبران-پارلیمنٹ-نے-سابق-وزیر-اعظم-راجیو-گاندھی-کو-خراج-عقیدت-پیش-کی

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے، مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم و امور خارجہ ڈاکٹر راج کمار رنجن سنگھ، لوک سبھا کی رکن محترمہ سونیا گاندھی نے آج پارلیمنٹ ہاؤس کے سنٹرل ہال میں ہندوستان کے سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی کو ان کی یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔

ممبران پارلیمنٹ، سابق ممبران پارلیمنٹ، لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اُتپل کمار سنگھ، راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی اور دیگر معززین نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے سنٹرل ہال میں مسٹر راجیو گاندھی کو گلہائے عقیدت پیش کئے۔

مسٹر راجیو گاندھی ہندوستان کے چھٹے وزیر اعظم تھے جنہوں نے 31 اکتوبر 1984 سے 2 دسمبر 1989 تک بطور وزیراعظم خدمات انجام دیں۔ 20 اگست 1993 کو اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر شنکر دیال شرما نےپارلیمنٹ ہاؤس کے سینٹرل ہال میں آنجہانی راجیو گاندھی کی تصویر کی نقاب کشائی تھی۔

 جھارکھنڈ ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر راجیش ٹھاکر کی صدارت میں آج ریاستی کانگریس ہیڈ کوارٹر، کانگریس بھون، رانچی میں بھارت رتن سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا 79 ویں یوم پیدائش منایا گیا۔ اس موقع پر کانگریسیوں نے راجیو گاندھی کی تصویر پر گلہائے عقیدت نذر کرکے خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر اور وزیر عالمگیر عالم، ریاستی ورکنگ صدر بندھو ترکی، سابق مرکزی وزیر سبودھ کانت سہائے، ایم ایل اے شلپی نیہا ترکی موجود تھے۔

اس سے قبل چیشائر ہوم، بریاتو میں، ریاستی کانگریس کے صدر راجیش ٹھاکر نے رانچی ضلع کے پارٹی عہدیداروں کے ساتھ معذوروں سے ملاقات کی اور آنجہانی راجیو گاندھی کے یوم پیدائش کے موقع پر ان کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہوئے ضروری سامان وغیرہ تحفہ کے طور پر دیا۔
اس موقع پر جھارکھنڈ ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ آنجہانی راجیو گاندھی جدید ہندوستان کی تخلیق کے ساتھ مواصلاتی انقلاب کے بانی تھے۔ خود ایک طرف، گاندھی نے مواصلاتی انقلاب کے ذریعے ہندوستان کو جدید بنانے کی پہل کی، وہیں دوسری طرف گاؤں کو پنچایتی راج دے کر ہندوستان کی روح کو مضبوط کرنے کا کام کیا۔ دیہی ہندوستان کو پنچایتی راج کے ذریعے بااختیار بنایا گیا۔

آنجہانی گاندھی نے ملک کے نوجوانوں کو مرکزی دھارے سے جوڑنے کے لیے ووٹ کے حق کو 21 سال سے کم کرکے 18 سال کرنے کا کام کیا۔ راجیو گاندھی کے پنجاب کے مسائل کے حل، انسداد ڈیفیکشن قانون پر کنٹرول، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی اہم شراکت کو ملک کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ مسٹر گاندھی کی ہر کوشش ہندوستان کو دنیا کے سامنے مضبوط بنانے کی رہی ہے۔

کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر اور وزیر عالمگیر عالم نے کہا کہ یہ راجیو گاندھی ہی تھے جو ہندوستان میں ٹیلی کام انقلاب لائے تھے۔ ڈیجیٹل انڈیا کا تصور جس پر آج بحث ہو رہی ہے اس کا تصور راجیو گاندھی نے اپنے وقت میں پیش کیا تھا۔ راجیو گاندھی کی ایک بڑی کامیابی نوودیا ودیالیہ کا قیام بھی ہے۔ اس وقت ملک میں کھولے گئے 551 نوودیا ودیالیوں میں 1.80 لاکھ سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

ٹماٹر کے بعد حکومت پیاز بھی سستے داموں پر فروخت کرے گی،مہنگائی سے حکومت پریشان

0
ٹماٹر-کے-بعد-حکومت-پیاز-بھی-سستے-داموں-پر-فروخت-کرے-گی،مہنگائی-سے-حکومت-پریشان

حکومت عوام کو مہنگائی سے راحت  دینے کے لیے مسلسل مداخلت کر رہی ہے کیونکہ اس سال چار صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہیں جن کو اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کے لئے سیمی فائنل قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے تقریباً ایک ماہ سے عام لوگوں کو ٹماٹر سستے داموں دستیاب ہو رہے ہیں۔ اب حکومت پیاز بھی سستے داموں  پر دستیاب کرنے جا رہی ہے۔ اس کے تحت لوگوں کو 25 روپے فی کلو کے حساب سے پیاز ملے گا۔

پیاز کی رعایتی قیمت پر فروخت پیر 21 اگست یعنی کال  سے شروع ہوگی۔ سستی قیمت پر پیاز کی یہ فروخت کوآپریٹو ایجنسی نیشنل کوآپریٹو کنزیومر فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این سی سی ایف) کرے گی۔

ایک سرکاری ریلیز میں بتایا گیا کہ پیر سے این سی سی ایف پیاز 25 روپے فی کلو کی رعایتی شرح پر فروخت کرے گا۔ اس سے پہلے ہفتے کے روز حکومت نے پیاز کی برآمد پر پابندی لگانے کی اطلاع دی تھی۔ مرکزی حکومت نے ملک سے پیاز کی برآمد پر 40 فیصد کی بھاری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برآمدات پر یہ پابندی 31 دسمبر 2023 تک نافذ رہے گی۔

مرکزی حکومت کے اس قدم کو پیاز کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے کو دور کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ ٹماٹر کے بعد پیاز بھی عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے اور ستمبر سے اس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے پہلے سے ہی تیاریوں کو تیز کر دیا ہے، تاکہ آنے والے مہینوں میں تہواروں کے موسم میں مہنگائی لوگوں کو زیادہ پریشان نہ کرے۔

پیاز کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، حکومت نے اپنے بفر اسٹاک کی حد میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل پیاز کے لیے بفر کی حد 3 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کی گئی تھی۔ مقررہ ہدف کے مطابق خریداری مکمل ہونے کے بعد حکومت نے اب اسے بڑھا کر 5 لاکھ ٹن کر دیا ہے۔ حکومت نے دونوں کوآپریٹو ایجنسیوں این سی سی اف اور نیفڈ سے کہا ہے کہ وہ اضافی 1 لاکھ ٹن خریدیں۔

دوسری جانب حکومت نے بفر اسٹاک سے پیاز کو منڈی میں بھیجنا شروع کردیا ہے۔ اب تک ریزرو سے تقریباً 1400 ٹن پیاز مارکیٹ میں لایا جا چکا ہے۔ یہ گھریلو مارکیٹ میں پیاز کی مانگ کو پورا کرنے اور مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہے، تاکہ مقامی مارکیٹ میں پیاز کی قیمتیں ٹماٹروں کی طرح آسمان کو نہ چھو سکیں۔

اس سے قبل ٹماٹر کی قیمتوں نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں ایک وقت میں ٹماٹر کی قیمت 200 سے 250 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔ ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جولائی میں خوردہ مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔

کرناٹک حکومت نے مندروں کو دی جانے والی گرانٹ روکنے کا حکم واپس لیا

0
کرناٹک-حکومت-نے-مندروں-کو-دی-جانے-والی-گرانٹ-روکنے-کا-حکم-واپس-لیا

کرناٹک کی کانگریس حکومت نے سرکاری ہندو مندروں کے ترقیاتی کاموں کے لیے گرانٹ روکنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔کرناٹک کے مجرئی کے وزیر راملنگا ریڈی نے حکم سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ کی طرف سے جاری کردہ سرکلر گمراہ کن تھا اور حکومت مندروں کو دی جانے والی کسی بھی گرانٹ کو روکنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔

مسٹر ریڈی نے کہا کہ کمشنر اور پرنسپل سکریٹری سمیت مجرئی محکمہ کے عہدیداروں سے حکم واپس لینے کے لئے کہا گیا ہے۔یہ فیصلہ سرکاری ہندو مندروں کو ملنے والی گرانٹ کے خلاف حکم پر عوامی غصے کا سامنا کرنے کے بعد کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ مئی میں کانگریس کی حکومت بننے کے بعد سے اسے اپنے ہندو مخالف موقف کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چیف منسٹر سدارامیا کو اُڈپی کی فلم بندی سے نمٹنے اور مویشیوں کے ذبیحہ کو مجرمانہ قرار دینے کے منصوبے جیسے مسائل پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مجرتی کمشنر نے 14 اگست کو ایک سرکلر جاری کیا تھا جس میں تمام ضلعی منتظمین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سرکاری مندروں کو دی جانے والی گرانٹس کو روک دیں۔

یہ رقم مندروں کی مرمت اور ترقیاتی کاموں کے لیے دی جاتی تھی۔ یہ ان مندروں پر نافذ ہوتا ہے جہاں 50 فیصد فنڈز فراہم کیے گئے تھے یا فنڈز منظور کیے گئے تھے، لیکن کام آگے نہیں بڑھا تھا۔کرناٹک میں تقریباً 34,000 اوقافی مندر ہیں جنہیں سالانہ حاصل ہونے والی آمدنی کی مقدار کے لحاظ سے اے، بی اور سی زمروں میں درجہ بندی کی گئی ہے۔

25 لاکھ روپے سے زیادہ کی سالانہ آمدنی والے مندروں کی اے زمرہ کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے، جبکہ 5 لاکھ سے 25 لاکھ روپے کے درمیان سالانہ آمدنی والے مندروں کو بی اور 5 لاکھ روپے سے کم آمدنہ والے مندروں کی سی کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ ریاست کے 34,000 بندوبستی مندروں میں سے 175 زمرہ اے کے مندر، 158 کیٹیگری بی اور باقی کیٹیگری سی کے ہیں۔

بے قصوروں کی قانونی لڑائی لڑنے والے گلزار احمد اعظمی نہیں رہے

0
بے-قصوروں-کی-قانونی-لڑائی-لڑنے-والے-گلزار-احمد-اعظمی-نہیں-رہے

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری گلزار احمد اعظمی آج صبح انتقال کرگئے، چندروز قبل انہیں ممبئی کے مسینا اسپتال میں علاج کے لیے داخل کیاگیا اور اتوار کو انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

گلزار اعظمی 89 سال کے تھے،ان۔کے پسماندگان میں چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،گلزار اعظمی 1954ءسے جمعیت سے وابستہ رہے اور 69سال تک خدمت انجام دی،ملک اور خصوصاً فرقہ وارانہ فسادات اور قدرتی آفات کے دوراثراحتی کاموں میں بڑھ چڑھ حصہ لیتے رہے،خصوصی طورپرسری کرشناکمشن کی کارروائی اور متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرانے میں ان کا اہم رول رہا،پھر قانونی امدادی کمیٹی کے ذریعے فسادات کے بعد گرفتار بے قصوروں کی رہائی اور بم دھماکوں کے ملازمین کی باعزت رہائی کے لیے تین دہائیوں سے کوشاں رہے بلکہ سینکڑوں نوجوانوں کو باعزت بری کرانے میں بھی ہر طرح کی قانونی کوشش میں مصروف رہے۔بلکہ جوانوں کی طرح جمعیۃ علماء کے لئے آخری دم تک خدمات انجام دیتے رہے۔

جمعیتہ علماء ہند کی تقسیم کے وقت انہوں نے ارشد مدنی گروپ میں شمولیت اختیار کر لی اور قانونی امداد کمیٹی کے سکریٹری مقرر کیے گئے ۔کئی بے قصور ان کی کوشش کے نتیجے میں دو دہائی بعد باعزت بری ہوگئے،جن کی کفالت بھی تنظیم کے ذریعے کی گئی۔

آج مرحوم گلزار اعظمی کی رہائش گاہ پیرو لین بھنڈی بازار پہنچنے والوں میں سابق ریاستی وزیر اور ایم پی سی سی کے کارگزار صدر عارف نسیم خان،سماج وادی پارٹی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی ،مقامی ایم ایل اے امین پٹیل ،کارپوریٹر جاوید جونیجو اور جمعیت علماء کے کارکن اور دیگر تنظیموں کے لیڈروں اور رضاکاروں نے دورہ کیااور تعزیت پیش کی۔تدفین اتوار کی شب بعد نماز عشاء بڑے قبرستان میں کی جائے گی۔