بدھ, مئی 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 173

راہل گاندھی کے لیہ بازار پہنچتے ہی امنڈا جمِ غفیر، سبزیاں اور پھل خریدے، دکانداروں اور لوگوں سے کی ملاقات

0
راہل-گاندھی-کے-لیہ-بازار-پہنچتے-ہی-امنڈا-جمِ-غفیر،-سبزیاں-اور-پھل-خریدے،-دکانداروں-اور-لوگوں-سے-کی-ملاقات

لیہ (لداخ): کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی ان دنوں لداخ کے دورے پر ہیں اور گزشتہ شام انہوں نے لیہ کے مرکزی بازار کا دورہ کیا۔ یہاں پہنچتے ہی نوجوانوں اور لوگوں کا جمِ غفیر امنڈ پڑا۔ نوجوانوں میں راہل گاندھی کے ساتھ سیلفی لینے کی ہوڑ مچ گئی۔

ہجوم میں سے ایک بچہ راہل گاندھی کا آٹو گراف لینے کے لیے سیکورٹی کے دائرے کو بھی عبور کر گیا۔ راہل گاندھی نے پیار بھری مسکراہٹ کے ساتھ بچے کو آٹوگراف بھی دیا اور اس کے ساتھ تصویر بھی کھنچوائی۔ راہل گاندھی پورے وقت لوگوں کے ہجوم سے گھرے رہے اور لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے چاروں طرف سے جمع ہوتے رہے۔ اس دوران راہل گاندھی لیہ لداخ کی وادیوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ راہل گاندھی موٹر سائیکل پر لداخ کی سیر کر رہے ہیں۔

لیہ بازار میں مقامی لوگوں سے ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے پھلوں اور سبزیوں کی دکان پر خریداری بھی کی۔ اس دوران بازار کو روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔

قبل ازیں، راہل گاندھی نے ہفتہ کو لداخ کے پینگونگ تسو کا بائیک سے سفر کیا تھا۔ اتوار کی صبح لداخ میں پینگونگ جھیل کے کنارے انہوں نے اپنے والد اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو ان کی 79 ویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔ راہل گاندھی جمعرات کو لیہ پہنچے ہیں، وہ لداخ میں 25 اگست تک موجود رہیں گے۔

کورونا سے شفایاب ہونے والے 6.5 فیصد مریض ایک سال کے اندر فوت ہو گئے! رپورٹ

0
کورونا-سے-شفایاب-ہونے-والے-6.5-فیصد-مریض-ایک-سال-کے-اندر-فوت-ہو-گئے!-رپورٹ

نئی دہلی: کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے اپنی جان گنوا دی۔ اب ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی بہت سے لوگ جلد ہی فوت ہو گئے! اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 6.5 فیصد مریض اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک سال کے اندر فوت ہو گئے۔ فوت ہونے والے مریضوں میں سے تقریباً 73.3 فیصد لوگ ایک یا زیادہ بیماریوں میں مبتلا تھے۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے یہ مطالعہ ان مریضوں پر کیا ہے جو 14 دن یا اس سے زیادہ عرصے سے اسپتال میں داخل تھے۔ نیشنل کلینیکل رجسٹری برائے کوویڈ 19 (این سی آر سی) کے محققین نے ایک سال تک ملک کے مختلف علاقوں کے 31 اسپتالوں میں داخل سنگین مریضوں کو ڈسچارج ہونے کے بعد ان کی نگرانی کی۔

فروری 2023 تک اس مانیٹرنگ کے دوران ہر 3 ماہ بعد 14419 مریضوں سے رابطہ کیا گیا۔ اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان میں سے 952 افراد ایک سال کے اندر ہی مر گئے یعنی 6.5 فیصد لوگ ایک سال سے زیادہ زندہ نہیں رہے۔

انڈین جرنل آف میڈیکل ریسرچ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ مردوں کی اموات کی شرح خواتین کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو ڈسچارج ہونے کے 10 دن کے اندر فوت ہو گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں کی اموات کی شرح کم اور بڑی عمر کے لوگوں کی موت زیادہ رہی۔ اسی تحقیق کے مطابق 17.1 فیصد لوگ ایسے تھے جن میں 4 سے 8 ہفتوں کے اندر ضمنی اثرات ظاہر ہونے لگے۔ باقی 73.3 فیصد ایسے لوگ تھے جو کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا تھے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے کووِڈ سے متاثر ہونے سے پہلے ویکسین لی تھی، وہ شدید بیمار ہونے کے بعد اسپتال میں داخل ہوئے لیکن ڈسچارج ہونے کے بعد انہیں موت سے 60 فیصد تک تحفظ حاصل ہوا۔ مرنے والوں میں کم از کم 197 افراد ایسے تھے جنہوں نے ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لی تھی۔

स्टडी का कहना है कि जिन लोगों ने कोविड संक्रमित होने से पहले वैक्सीन ली थी, वे भले ही गंभीर रूप से बीमार होकर अस्पताल में भर्ती हुए लेकिन डिस्चार्ज होने के बाद से उन्हें मृत्यु से 60 फीसदी तक सुरक्षा प्राप्त हुई. मरने वालों में कम से कम 197 लोग ऐसे थे जिन्होंने वैक्सीन के कम से एक डोज जरूर लिए थे.

ایم سی ڈی ملازمین کو 13 سال بعد مہینے کی پہلی تاریخ کو ملی تنخواہ: کیجریوال

0
ایم-سی-ڈی-ملازمین-کو-13-سال-بعد-مہینے-کی-پہلی-تاریخ-کو-ملی-تنخواہ:-کیجریوال

نئی دہلی: وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پیر کو تیاگ راج اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک پروگرام میں صفائی ملازمین سے ملاقات کی اور 317 کارکنوں کو مستقل ملازمت کے سرٹیفکیٹ پیش کیے۔ پروگرام کے دوران کیجریوال نے کہا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ملازمین کو 13 سال بعد مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ مل گئی۔

انہوں نے کہا ’’میں نے تمام ملازمین سے ملاقات کی اور سب بہت خوش ہیں۔ اس سے قبل 2010 میں ملازمین کو مقررہ تاریخ پر تنخواہ دی گئی تھی۔ ہم اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ باقی ملازمین کو بھی مستقل کیا جائے۔‘‘

کیجریوال نے کہا، "یہ میری گارنٹی ہے۔ ہم ہر وعدہ کو پورا کریں گے۔ ساتھ مل کر ہم دہلی کو نہ صرف ملک کا بلکہ دنیا کا سب سے صاف ستھرا شہر بنائیں گے۔ ہم اس پہل میں دہلی کے لوگوں کو بھی شامل کریں گے۔

اس تقریب میں شہری ترقی کے وزیر سوربھ بھاردواج، ایم سی ڈی کی میئر شیلی اوبرائے اور میونسپل کارپوریشن کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

وزیر اعظم مودی جنوبی افریقہ کے لیے روانہ، برکس اجلاس میں کریں گے شرکت

0
وزیر-اعظم-مودی-جنوبی-افریقہ-کے-لیے-روانہ،-برکس-اجلاس-میں-کریں-گے-شرکت

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی جوہانسبرگ میں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے جنوبی افریقہ روانہ ہو گئے ہیں۔ برکس کے اس اجلاس میں کئی ممالک کے سربراہان وزیر اعظم مودی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کر سکتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اور پی ایم مودی کی جوہانسبرگ میں آمنے سامنے ملاقات ہو سکتی ہے، حالانکہ وزارت خارجہ کی طرف سے جن پنگ سے ملاقات کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے بعد پی ایم مودی یونان کے دورے پر روانہ ہوں گے، جس کی جانکاری خود پی ایم او نے دی ہے۔

برکس سربراہی اجلاس کے لیے روانگی سے قبل وزیر اعظم کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا۔ اس میں پی ایم مودی نے اپنے دورے کی جانکاری دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "میں جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کی دعوت پر 22 سے 24 اگست 2023 تک جمہوریہ جنوبی افریقہ کا دورہ کر رہا ہوں، تاکہ جنوبی افریقہ کی صدارت میں جوہانسبرگ میں ہونے والے 15ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی جا سکے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا ’’میں جوہانسبرگ میں موجود کچھ رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں کا بھی منتظر ہوں۔ یونانی وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس کی دعوت پر میں 25 اگست 2023 کو جنوبی افریقہ سے ایتھنز، یونان کا سفر کروں گا۔اس قدیمی سرزمین کا یہ میرا پہلا دورہ ہوگا۔ مجھے 40 سال بعد یونان کا دورہ کرنے والا پہلا ہندوستانی وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی 22 سے 24 اگست تک جنوبی افریقہ کے جوہانسبرگ میں منعقد ہونے والی 15ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے پی ایم مودی کو برکس اجلاس میں مدعو کیا تھا۔ یہ کورونا کے دور کے بعد برکس (برازیل-روس-بھارت-چین-جنوبی افریقہ) رہنماؤں کا پہلا جسمانی اجلاس ہے، جس میں تمام ممالک کے رہنما پہنچ رہے ہیں۔

وزارت خارجہ کی جانب سے پی ایم مودی کے دورے کے حوالے سے معلومات دی گئی، اس دوران جب سکریٹری خارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا اس کانفرنس کے دوران مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان کوئی بات چیت ہوگی؟ اس پر سیکرٹری خارجہ کویترا نے کہا کہ وزیراعظم کی دو طرفہ ملاقاتوں کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اگر جنوبی افریقہ میں جن پنگ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ مئی 2020 میں مشرقی لداخ میں سرحدی تعطل کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی ملاقات ہوگی۔ مودی اور شی جن پنگ نے آخری بار بالی میں گزشتہ سال نومبر میں جی-20 سربراہی اجلاس میں ایک مختصر آمنے سامنے ملاقات کی تھی۔

بھارت اور پاکستان کی خواتین کے لیے بریسٹ کینسر کی پیشگی تشخیص میں اے آئی مددگار

0
بھارت-اور-پاکستان-کی-خواتین-کے-لیے-بریسٹ-کینسر-کی-پیشگی-تشخیص-میں-اے-آئی-مددگار

ہر سال 20 لاکھ سے زائد خواتین پر چھاتی کے سرطان کا حملہ ہوتا ہے۔ اے آئی یا مصنوعی ذہانت کے ساتھ ابتدائی تشخیص اور خطرے کی پیشین گوئی بھارت اورپاکستان کی مدد کر رہی ہے۔

بریسٹ کینسر: سارہ ( فرضی نام) کبھی سوچا بھی نہ تھا اور نہ ہی وہ یہ الفاظ سننا گوارہ کر سکتی تھی تاہم 31 سال کی عمر میں جب وہ نئی نئی شادی کے بعد ماں بننے کے خواب دیکھ رہی تھی اُس وقت اُسے پتا چلا کہ وہ بریسٹ کینسر کے عارضے میں مبتلا ہے۔

سارہ کے لیے یہ انتہائی مشکل مرحلہ تھا کیونکہ بریسٹ کینسر کا عموماً علاج چھ سالوں پر مبنی ہوتا ہے۔ ایک سال کیموتھراپی کے اور پانچ سال ہورمونل یا اینڈوکرائن تھراپی کے۔ یہ ہورمونل تھراپی حمل کے عمل میں نا صرف رکاوٹ کا سبب بنتی ہے بلکہ اکثر خواتین اس تھراپی کے سائیڈ ایفکٹس یا ضمنی اثرات کی وجہ سے حمل یا تولیدی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں۔ ماں بننے کی اپنی خواہش پورا کرنے کے لیے سارہ کے پاس ایک رستہ یہ تھا کہ وہ اپنے بیضہ کو منجمد کروا دیتی اور پھر چھ سال کی تھراپی کے بعد جب وہ 37 برس کی ہو جاتی تب ”ان وٹرو فرٹیلائزیشن آئی وی ایف ‘‘ یا مصنوعی طور پر حمل ٹھہرانے کی کوشش کرتی۔ مگر خوش قسمتی سے ڈاکٹروں نے سارہ کا کینسر ٹیسٹ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا اے آئی کی مدد سے کیا۔ اُس وقت جب انہیں سارہ کے اندر ‘ہارمون ریسیپٹر کی حساسیت سے ابتدائی مرحلے کے کینسر‘ کے اشارے مل رہے تھے۔ اسی مرحلے پر ڈاکٹروں نے اُس کا مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایک ٹیسٹ کیا۔ اس ٹیسٹ سے سارہ کے اندر بریسٹ کینسر کی تشخیص تو ہوئی مگر ساتھ ہی یہ بھی پتا چل گیا کہ اُس کے بریسٹ کا ٹیومر ”جارحانہ قسم‘‘ کا نہیں ہے اور اس طرح آئندہ پانچ سالوں میں اس کی چھاتی کے کینسر کے دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔

بھارت میں OncoStem Diagnostics کے ذریعہ بنائے گئے AI پر مبنی پروگنوسٹک ٹیسٹ کی مدد سے کیموتھراپی سے بچنے والے ڈھائی ہزار مریضوں میں سارہ بھی شامل ہے۔ سارہ آج ایک پانچ سالہ بچے کی خوشحال ماں ہے اور اب وہ اپنی ہارمونل تھراپی کروا رہی ہے۔ OncoStem Diagnostics جنوبی ایشیا میں AI ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے والی چند کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ نومبر 2022ء میں Open AI کے ChatGPT کے آغاز کے بعد سے مصنوعی ذہانت نے عوامی بیداری میں تیزی دیکھی، لیکن AI صحت کے شعبے میں کی جانے والی تحقیق میں کچھ عرصے سے موجود ہے اور اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ طبی امیجز کا تجزیہ کرنے کے لیے مشین لرننگ کا استعمال 1980ء کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ ان دنوں، محققین کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کی ایک خاص سطح موجود ہے جو ان مشینوں کو 40 سال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ترقی یافتہ بنا رہی ہے۔ لہذا، وہ ایسی چیزیں دیکھ رہے ہیں جو انسان بطور ڈاکٹر ضروری طور پر نہیں دیکھتے، یا نہیں دیکھ سکتے۔

بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کی اسکریننگ کے لیے اب تک ڈاکٹرز میموگرام ٹیسٹ کیا کرتے تھے جو چھاتی کے ایکس رے امیجز ہوتے ہیں۔ تاہم نت نئے تجربے بتاتے ہیں کہ میموگرافی کی تشخیص ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ خواتین کی چھاتی کے اندر کی کثافت سمیت دیگر عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ چھاتی کی کثافت کا تعین فیٹی ٹشو کی مقدار کے مقابلے میں عورت کے سینوں میں ریشے دار اور غدود کے ٹشو کی مقدار سے ہوتا ہے۔

سینوں میں پائی جانے والی کثافت گھنی ہونے اور امیجنگ یا اسکریننگ کرنے والی تکنیک کمزور یا ناقص ہو تو میموگرام میں ٹیومر کا پتا لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور یہ خاص طور پر اہم ہے جیسا کہ ‘یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘ کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ اگر آپ کی چھاتی گھنی ہے، تو آپ کو چھاتی کاکینسر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

ایک مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ 10 تا 30 فیصد تک چھاتی کے کینسر کی تشخیص میموگرافی سے نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں چھاتی کے کینسر کا پتا لگانے والے اسٹارٹ اپ RŌZ کی بانی، مہر النساء کیچلو، ایک AI محقق اورمائیکروسافٹ ایپک چیلنج 2022ء جیتنے والی رسرچر ہیں ، ان کا کہنا ہے،” AI کا استعمال کینسر کا جلد پتہ لگانے اور اس سے بچاؤ میں سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔‘‘

مہر النساء کیچلو کا کہنا ہے کہ بشمول روبوٹک سرجری AI کے امکانات لامتناہی ہیں۔ تاہم OncoStem Diagnostics کی سی ای او اور بانی، منجیری بیکر کا کہنا ہے کہ انسانی ڈاکٹر ابھی تک غیرضروری نہیں ہوئے ہیں۔ بیکر نے کہا، ”اب بھی انسانی مداخلت کی ضرورت ہے کیونکہ AI کے استعمال میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ سارہ اے آئی کی بدولت کینسر کے بعد بھی اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرنے کے قابل رہی تاہم دوسری خواتین شاید اتنی خوش قسمت نہ ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان کا چھاتی کا کینسر زیادہ جارحانہ نوعیت کا ہو اور اس قسم کے کینسر کے لیے AI ماڈل تیار ہونا ابھی باقی ہے۔

آخر یہ ثابت ہو ہی گیا کہ کسانوں کے لیے لائے گئے تینوں زرعی قوانین امیروں کے حق میں تھے: کانگریس

0
آخر-یہ-ثابت-ہو-ہی-گیا-کہ-کسانوں-کے-لیے-لائے-گئے-تینوں-زرعی-قوانین-امیروں-کے-حق-میں-تھے:-کانگریس

کانگریس نے آج مرکز کی مودی حکومت پر کسانوں سے دھوکہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کورونا کی آڑ میں جس طرح سے تین زرعی قوانین کو نافذ کیا گیا تھا، اس سے تبھی ملک کے کسان کو سازش کی بو آ گئی تھی، اور اب تو ‘دی رپورٹرس کلیکٹیو’ کی رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ تینوں سیاہ قوانین کسانوں کے نہیں بلکہ امیروں کے حق میں تھے۔

یہ بیان کانگریس رکن پارلیمنٹ اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن دیپیندر ہڈا نے نئی دہلی واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے دیا۔ انھوں نے کہا کہ "مشہور جرنلسٹ پلیٹ فارم ویب سائٹ ‘دی رپورٹرس کلیکٹیو’ کے انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ بی جے پی حکومت کی سوٹ بوٹ کے لیے لوٹ کی سنک نے 750 کسانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس انکشاف سے پتہ چلتا ہے کہ مودی حکومت نے کسانوں کو ‘آندولن جیوی’ کیوں بولا، کیوں کسان ان کی ناانصافی اور لوٹ کے خلاف تحریک کر رہے تھے۔”

دیپیندر ہڈا نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا کسانوں اور جوانوں کے مفادات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ حکومت نہ کسان کی ہے اور نہ جوان کی۔ یہ حکومت صرف امیروں کی ہے۔ انھوں نے زرعی قوانین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بار بار کہتی رہی کہ ان تین زرعی قوانین کے فائدے کسانوں کو سمجھا نہیں پائی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسان ان قوانین سے ہونے والی زبردست تباہی کو وقت رہتے سمجھ گئے تھے۔

دیپیندر ہڈا کا کہنا ہے کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی آڑ میں بی جے پی کے قریبی این آر آئی صنعت کار شرد مراٹھے کے ذریعہ نیتی آیوگ کو ارسال کردہ ایک تجویز میں زرعی سیکٹر کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کا قدم اٹھایا گیا، جبکہ 1960 سے امریکہ میں رہ رہے شرد مراٹھے کا زرعی سیکٹر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہڈا نے مزید کہا کہ حکومت نے دلوئی کمیٹی کی رپورٹ کو نہ مان کر شرد مراٹھے والی ٹاسک فورس کے ذریعہ جمع خوری پر لگام لگانے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے والے ضروری اشیاء ایکٹ کو ختم کرنے کی سفارش کو فوراً مان لیا، جس میں تین قوانین میں سے ایک کے طور پر بچولیوں کو جمع خوری کی اجازت دینے اور ایم ایس پی پر خریدنے کی لازمیت نہیں ہونے کی سفارش شامل ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ کے مطابق حکومت نے اس بل کو پارلیمنٹ میں لانے کی جگہ آرڈیننس جاری کر نافذ کر دیا۔ حکومت کا کسانوں کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا تھا، وہ بھی دھوکہ ثابت ہوا۔ حکومت نے کسانوں کو فصل کی لاگت میں 50 فیصد منافع جوڑ کر ایم ایس پی ابھی تک نہیں دیا۔ کسان تحریک کے دوران مرنے والے 750 کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ بھی نہیں ملا، نہ ہی انھیں شہید کا درجہ دیا اور نہ ہی ان کے اہل خانہ میں سے کسی کو ملازمت دی۔ پارلیمنٹ میں بھی ایک منٹ کی خاموشی نہیں رکھی گئی، حتیٰ کہ ان کے خلاف درج کیس بھی واپس نہیں ہوئے۔

وزیر اعلیٰ کیجریوال نے ایم سی ڈی ملازمین کی تنخواہ کا جشن منایا، لیکن وقف بورڈ کے اماموں کی تنخواہ پر اب تک خاموش

0
وزیر-اعلیٰ-کیجریوال-نے-ایم-سی-ڈی-ملازمین-کی-تنخواہ-کا-جشن-منایا،-لیکن-وقف-بورڈ-کے-اماموں-کی-تنخواہ-پر-اب-تک-خاموش

نئی دہلی: دہلی وقف بورڈ کے اماموں اور موذنین کو پچھلے 16 مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ اس کیلئے وہ کئی مرتبہ وقف کے دفتر کے باہر اپنی جائز تنخواہوں کو لے کر احتجاج بھی کر چکے ہیں، حالانکہ اس کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ امام اور موذن قرض کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں لیکن اپنے آپ کو کٹر ایماندار پارٹی کہنے والی عام آدمی پارٹی (عآپ) اماموں کو تنخواہ دینے کا مسئلہ حل نہیں کر پائی ہے۔

ذرائع کے مطابق چار دن بعد 26 اگست کو وقف بورڈ کی پانچ سالہ مدت ختم ہو جائیگی۔ اگلے بورڈ میں کون آئے گا، اگلا بورڈ کب تشکیل دیا جائے گا، یہ بھی نہیں معلوم۔ دہلی میں انتخابات کے دوران عام آدمی پارٹی کے مسلم لیڈران کیجریوال حکومت کے کاموں کو بیان کرتے کرتے نہیں تھکتے اور ‘جھاڑو’ کی لہر بتاتے ہوئے ایک ایماندار پارٹی کو ووٹ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن جب بات اماموں کی تنخواہ کی آتی ہے تو یہی مسلم لیڈران اپنے منہ میں دہی جما کر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکالتے۔

آج اماموں کا کیا حال ہے، ان کی روز مرہ کی زندگی کس طرح گزر رہی ہے اس کو ہر کس و ناکس اچھی طرح جانتا ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے۔ ایم سی ڈی ملازمین کو پہلی تاریخ کو ملی تنخواہ پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پیر کے روز دہلی تیاگ راج اسٹیڈیم میں ایک بڑا اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں وزیر اعلی نے اپنی فطرت کے مطابق اپنی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھے اور اس کام کو تاریخی دن بتایا۔ اس دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ 13 سال بعد ایم سی ڈی کے ملازمین کو ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ مل رہی ہے۔ یہ اس لیے ہوا کہ اب ایک ایماندار حکومت آئی ہے۔

کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ میں نے تمام ملازمین سے ملاقات کی۔ سب کے چہروں پر خوشی ہے، سب بہت خوش ہیں۔ اس سے قبل 2010 میں ملازمین کو ایک تاریخ کو تنخواہ ملتی تھی۔ ہم باقی ملازمین کو بھی اسی طرح تنخواہ ملنے کو یقینی بنائیں گے۔ یہ میری ضمانت ہے۔ ہم ہر وعدہ پورا کریں گے۔ اب ہم سب مل کر دہلی کو نہ صرف ملک میں بلکہ دنیا میں بھی صاف ستھرا شہر بنائیں گے۔ ہم دہلی کے لوگوں کو بھی اس مہم میں شامل کریں گے۔ کیجریوال مزید کہتے ہیں کہ جب ایماندار حکومت آتی ہے تو ماحول بدل جاتا ہے۔ ملازمین کو تنخواہ وقت پر مل جائے تو وہ اپنے کام میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس دوران دہلی کے شہری ترقی کے وزیر سوربھ بھاردواج، ایم سی ڈی میئر ڈاکٹر شیلی اوبرائے سمیت ایم سی ڈی کے سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔

اب وقف بورڈ کے اماموں اور موذنین کی تنخواہ کے بارے میں سوچیں تو فکر لازمی ہے۔ واضح رہے کہ 2019 میں جب دہلی وقف بورڈ کے اماموں اور موذنین کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا تھا، اس دوران دہلی کے ماتا سندری روڈ پر واقع ایوان غالب میں بڑا پروگرام منعقد ہوا تھا اور دہلی وقف بورڈ کے امام و موذنین سمیت دہلی کی مختلف مساجد کے اماموں کا جم غفیر ایوان غالب کے آڈیٹوریم میں دکھائی دیا تھا۔ پروگرام میں وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بڑے ہی جوش بھرے انداز میں یہ کلمات اپنے زبان سے کہے تھے کہ "تن من دھن سے کیجریوال بھی اور دہلی سرکار بھی دہلی وقف بورڈ کے ساتھ ہے۔”

آج کیجریوال کو اپنے ان کلمات کو یاد کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اماموں کی تنخواہ کا جو مسئلہ ہے اس کو فوری حل کرانا چاہئے۔ 16 مہینوں کا وقت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس درمیان وقف اماموں نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال سے ملاقات کیلئے وقت بھی مانگا لیکن کیجریوال نے اماموں سے ملاقات تو دور ان سے بات تک کرنا گوارا نہ سمجھا اور امام الٹے پیر وزیر اعلی کے گھر کے دروازے سے لوٹ کر آگئے۔

واضح رہے کہ دہلی وقف بورڈ کے تحت آنے والی مساجد میں تقریبا 280 ائمہ کرام اور موذنین شامل ہیں۔ امام کو 18 ہزار روپے اور موذن کو 16 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے۔ اسی تنخواہ سے ائمہ کرام اپنا گھر اور سارے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ تنخواہ کے تعلق سے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بات نہیں ہو سکی۔

چندریان-3: اگر 23 اگست کو نہیں ہوئی لینڈنگ تو پھر اس کے لیے 27 اگست تک کرنا پڑے گا انتظار!

0
چندریان-3:-اگر-23-اگست-کو-نہیں-ہوئی-لینڈنگ-تو-پھر-اس-کے-لیے-27-اگست-تک-کرنا-پڑے-گا-انتظار!

ہندوستان کا چندریان-3 کامیابی سے محض دو دن دور ہے۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ وکرم لینڈر چاند کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اِسرو نے سافٹ لینڈنگ کے لیے 23 اگست کی شام تقریباً 6 بجے کا وقت بھی مقرر کر رکھا ہے، لیکن اِسرو کی طرف سے یہ جانکاری بھی دی گئی ہے کہ لینڈنگ کی تاریخ میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ اس تعلق سے اِسرو کے ایک سینئر افسر نے خود جانکاری مہیا کی ہے۔

دراصل چندریان-3 کی لینڈنگ چاند کے جس حصے میں ہونی ہے، وہاں اسپیس کرافٹ کو اتارنے کے لیے ایسی زمین کی تلاش کرنی ہے جہاں نہ تو زیادہ پہاڑ ہوں اور نہ ہی زیادہ گڈھے۔ یعنی برابر سطح والے حصے کی تلاش ہے جو ایک مشکل امر ہے۔ لینڈر ماڈیول میں لگے خاص کیمروں کے ذریعہ کھینچی گئی کچھ تصویروں کو شیئر کیا گیا ہے جس پر اِسرو کے سائنسدانوں کی گہری نظر ہے۔ اِسرو کے افسران کیمرے کے ذریعہ ہی لینڈنگ کے لیے زمین تلاش کر رہے ہیں۔ اگر لینڈنگ کے لیے زمین کی تلاش وقت مقررہ پر کر لی جاتی ہے تب تو 23 اگست کو یہ عمل انجام دیا جائے گا، ورنہ کسی دوسری تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

گجرات کے احمد آباد واقع اِسرو کے اسپیس ایپلی کیشن سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش ایم دیسائی نے تاریخ بدلنے کو لے کر ایک اہم جانکاری دی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چندریان کو چاند پر اتارنے سے دو گھنٹے پہلے لینڈر اور چاند کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا۔ سبھی حالات پر نظر رکھنے کے بعد ہی لینڈر کو چاند پر لینڈ کرانے کا فیصلہ ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر اِسرو کو لگتا ہے کہ لینڈر یا چاند کی حالت لینڈنگ کے لیے مناسب نہیں ہے، تو چاند پر لینڈنگ کی تاریخ 27 اگست تک کے لیے آگے بڑھا دی جائے گی۔

منی پور اسمبلی اجلاس پر تذبذب والی حالت، ابھی تک راج بھون سے جاری نہیں ہوا نوٹیفکیشن

0
منی-پور-اسمبلی-اجلاس-پر-تذبذب-والی-حالت،-ابھی-تک-راج-بھون-سے-جاری-نہیں-ہوا-نوٹیفکیشن

منی پور کی گورنر انوسوئیا اوئیکے سے منی پور کابینہ کے ذریعہ سفارش کی گئی تھی کہ 21 اگست سے اسمبلی اجلاس بلایا جائے، لیکن اس کے باوجود پیر کے روز ایوان کی میٹنگ نہیں ہوئی۔ یعنی منی پور اسمبلی اجلاس پر تذبذب والی حالت پیدا ہو گئی ہے۔ افسران کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق راج بھون کی طرف سے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے تذبذب والی حالت بن گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ منی پور میں حالات اس وقت کشیدہ ہیں۔ اس شمال مشرقی ریاست میں جاری تشدد کے درمیان مختلف پارٹیوں سے منسلک کوکی طبقہ کے دس اراکین اسمبلی نے اسمبلی اجلاس میں شامل نہ ہونے کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔ ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ "ایک عام اسمبلی اجلاس کے لیے اجلاس کی شروعات سے 15 دن پہلے نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گورنر کے دفتر کی طرف سے فی الحال ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔”

واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے رواں ماہ کے شروع میں ہوئی کابینہ کی میٹنگ کے بعد گورنر سے اسمبلی اجلاس بلانے کی سفارش کی تھی۔ 4 اگست کو جاری ایک آفیشیل بیان میں کہا گیا تھا کہ "ریاستی کابینہ نے منی پور کی عزت مآب گورنر سے 21 اگست 2023 سے منی پور کی بارہویں اسمبلی کا چوتھا اجلاس بلانے کی سفارش کی ہے۔” منی پور میں گزشتہ اسمبلی اجلاس مارچ میں منعقد کیا گیا تھا، اور مئی میں نسلی تشدد کی آگ پھیلنی شروع ہوئی تھی۔

ایک افسر کا منی پور اسمبلی اجلاس کے تعلق سے کہنا ہے کہ "گزشتہ اسمبلی اجلاس مارچ میں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ یہ آئینی مجبوری ہے کہ اگلا اجلاس 2 ستمبر سے پہلے منعقد کیا جائے۔” اس پورے معاملے پر کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر ایبوبی سنگھ نے کہا کہ "ریاستی کابینہ کے ذریعہ اسمبلی اجلاس منعقد کرنے کے فیصلہ کے باوجود اجلاس نہیں بلایا گیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے لیے ہر چھ مہینے پر ایک اجلاس منعقد کرنا لازمی ہے۔”

پٹنہ لاٹھی چارج معاملے پر لوک سبھا اسپیکر نے اوم برلا اٹھایا سخت قدم، ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو کیا طلب

0
پٹنہ-لاٹھی-چارج-معاملے-پر-لوک-سبھا-اسپیکر-نے-اوم-برلا-اٹھایا-سخت-قدم،-ضلع-مجسٹریٹ-اور-ایس-ایس-پی-کو-کیا-طلب

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں بی جے پی لیڈران پر پولیس لاٹھی چارج کا معاملہ اب دہلی پہنچ گیا ہے۔ لاٹھی چارج کو لے کر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ چندرشیکھر سنگھ اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) راجیو مشرا کو طلب کیا ہے۔

دراصل رواں سال 13 جولائی کو ریاست میں ٹیچرس کی تقرری کو لے کر بہار حکومت کے خلاف بی جے پی لیڈران و کارکنان نے مظاہرہ کیا تھا۔ اس مظاہرہ کے دوران پٹنہ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کر دیا تھا۔ بہار کے سارن سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ جناردن سگریوال نے اس معاملے میں لوک سبھا اسپیکر کے پاس شکایت درج کرائی تھی اور کہا تھا کہ عوامی نمائندہ ہونے کے باوجود سازش کے تحت انھیں لاٹھیوں سے بری طرح پیٹا گیا۔ اسپیکر اوم برلا کو دی گئی شکایت میں سگریوال نے بتایا تھا کہ لاٹھی چارج کے دوران انھیں مارنے کی سازش ہوئی تھی۔ اس حادثہ میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے تھے اور انھیں کئی دنوں تک اسپتال میں علاج کرانا پڑا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے 30 اگست کو دہلی طلب کیا ہے۔ سگریوال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے خود اس تاریخ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ انھیں لوک سبھا اسپیکر کے پاس جواب دینا ہوگا۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر کہیں بھی خصوصی استحقاق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کا جواب دینا ہوگا۔